مزید خبریں

۔45 سال سے کم عمر کے لوگ  کووڈ ویکسین کی دوسری خوراک لیں:ڈی سی کپوارہ 

 
 
کپواڑہ//ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ اِمام الدین نے ایک بار پھر ضلع کپواڑہ کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ وادی کے دیگر اَضلاع میں کووِد معاملات میں اِضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے کووِڈ مناسب طرزِ عمل( سی اے بی) پر عمل کریں۔اِن باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنر نے یہاں ڈی سی آفس میں میڈیا اَفراد سے بریفنگ دینے کے دوران کیا۔اِس موقعہ پر ایس ایس پی کپوارہ یوگل منہاس بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ضلع میں صرف 25کووِڈ مثبت معاملات سرگرم ہیں جن میں سے 22گھریلو قرنطین میں ہیں اور تین اِنتظامی قرنطین میں ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ صحت یابی کی شرح 98.67فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ہفتہ وار مثبت شرح 0.22 فیصد ہے جوکہ ضلع کے لئے تسلی بخش ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے ٹیکہ کاری کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ 18برس عمرسے 45برس عمر کے86.85فیصد آبادی کو کووِڈ حفاظتی ٹیکے کا پہلا ٹیکہ لگایا جاچکا ہے جبکہ ٹیکے کا دوسری خوراک 38.32 فیصد کو دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ اہل اَفراد کو دوسری خوراک کا عمل تیز کیا جائے۔اُنہوں نے ایک بار پھر 45برس سے کم عمر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور خود کو قریبی ٹیکہ کاری مرکز میں جا کر کووڈ حفاظتی ٹیکہ لگائیں تاکہ ان کی حفاظت کووِڈ سے بچ سکے۔ اُنہوں نے ان لوگوں سے بھی اپیل کی جن کو کووڈ ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے اور وہ ٹیکے کا دوسرا ڈوز وقت پر لگائیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ مناسب طرزِ عمل ( سی اے بی) کو اَپنی زندگی میں عادت کا حصہ بنائیں تاکہ ضلع کو وبائی مرض سے بچایا جاسکے۔قارئین ڈی سی کپواڑہ کے آفیشل ٹوئیٹر اکائونٹ @dckupwaraاور ڈی آئی سی کپواڑہ کا آفیشل ٹویٹر اکائونٹ @infokupwaraپر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔
 
 
 

بی ڈی او آفس ڈاڈسرہ کے باہر مشکوک شئے ؔ | تار سے باندھی گئی بوتل ثابت ہوئی

 
سرینگر// بلاک ڈیولپمنٹ آفس ڈاڈسرہ ترال کے باہر مشکوک شئے کی موجودگی سے سنسنی پھیل گئی تاہم بعد میں وہ خالی بوتلوں کے سوا کچھ نہیں نکلا ۔ سی این آئی کے مطابق بی ڈی او آفس ڈاڈسرہ ترال کے نزدیک سوموار کی صبح اس وقت افرا تفری پھیل گئی جب وہاں ایک مشوک شئے دیکھی گئی ۔ مشکوک چیز کی موجودگی کے بعد پولیس نے موقعہ پر پہنچ کربم ڈسپوزل اسکارڈ کو طلب کیا جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہاںایک بوتل تھی جس کو تار سے باندھا گیا تھا ۔ پولیس کے ایک سینئرافسر نے ا سکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مشکوک چیز کی موجودگی کے بعد بم ڈسپوزل اسکارڈ کو طلب کیا گیا جس نے وہاںمشکوک چیز کی جانچ کی اور یہ بات سامنے آئی کہ وہاں ایک خالی بوتل تھی ۔ 
 
 
 
 
 

ہینڈی کرافٹ اور سیاحت محکموں کی معائنہ مہم | پولو ویو اور ریذیڈسنی روڈ پر قصور وار

ڈیلروںسے جرمانہ وصول
سرینگر// ہینڈی کرافٹ اور سیاحت کے محکموں کی طرف سے کل پولو ویو ، ریذیڈنسی روڈ اور اس سے ملحقہ بازاروں میں ایک مشترکہ معائنہ مہم چلائی گئی تاکہ جموں و کشمیر ٹورسٹ ٹریڈ ایکٹ کے نفاذ کو چیک کیا جاسکے۔  معائنہ کے دوران کچھ دستکاری ڈیلر مذکورہ بالا کاموں کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے اور انہیں موقع پر ہی سزا دی گئی۔ غلطی کرنے والے ڈیلروں سے 5000 روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ ڈیلروں کو سختی سے خبردار کیا گیا تھا کہ وہ جعلی مشین سے بنی کشمیر آرٹ مصنوعات کی فروخت سے باز رہیں اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ فروخت کے لیے دکھائی جانے والی ہر چیز پر قیمت اور کمپوزیشن کے ٹیگ لگائیں۔ڈیلرز کو نوٹیفائیڈ کشمیر کرافٹس پر جی آئی ٹیگنگ کے فوائد سے بھی آگاہ کیا گیا۔
 

مچھلیوں کے1کروڑ30لاکھ تخم دریائوں کی نذر | رواں سال کے آخر تک مزید60لاکھ تخم ندی نالوں میں ڈالے جارہے ہیں  

سرینگر/ /محکمہ فشریز نے اب تک جموں کشمیر کے مختلف دریائوں میں ایک کروڑ  30 لاکھ سے زائد مچھلیوں کے بیج ڈالے ہیں جبکہ رواں برس کے آخر تک مزید 60 لاکھ تخم دریائوں میں ڈالے جائیں گے۔ اس دوران محکمہ نے بتایا ہے کہ جو لوگ دریائوں میں بلیچنگ پاوڈر یا بجلی کرنٹ لگاکر مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں وہ گناہ عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس سے مچھلیوں کے تخم کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ سی این آئی کے مطابق محکمہ فشریز کی جانب سے جموں کشمیر کے مختلف دریائوں میں اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد مچھلیوں کے بیج ڈالے گئے ہیں جبکہ یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔ اس ضمن میں محکمہ فشریز کے ڈائریکٹر  بشیر احمد بٹ نے بتایا  کہ محکمہ کی جانب سے یکم مارچ سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد مچھلیوں کے بیج مختلف دریاوں میں ڈال دئے گئے ہیں جن میں ڈول ہستی جموں ڈویژن، وسطی کشمیر میں جھیل ڈل، نگین جھیل، ولر اور مانسبل لیک میں ٹرائوٹ اور کراپ مچھلیوں کے بیج ڈالے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی کشمیر میں لدر ، لام ، رمبی نالہ ، ہر پورہ شوپیاں میں ان انڈوں کو ڈال دیا گیا ہے اور یہ عمل ہنوز جاری ہے اور رواں برس کے آخر تک مزید 60 لاکھ انڈے دریائوں میں ڈالے جارہے ہیں۔ ڈائریکٹر فشریز نے مزید بتایا کہ محکمہ یہ عمل لوگوں کے مفاد کیلئے ہی عملارہا ہے کیوںکہ اس صنعت سے ہزاروں افراد جڑے ہوئے ہیں جن کا روز گار اس پر منحصر ہے البتہ کچھ خود غرض عناصر مچھلیوں کے شکار کیلئے ندی نالوں اور دریائوں میں بلیچنگ اور دیگر زہریلی پاوڈر ڈال کر مچھلیوں کو مار دیتے ہیں جس کے نتیجے میں مچھلیوں کا بیج بھی ختم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک گناہ عظیم ہے کیونکہ جو مچھلیاں ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی ہوتی ہیں ان کی ہلاکت کابھی یہ طریقہ موجب بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی اس کارروائی میں پکڑا جائے گا، وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ اس دوران بشیر احمدبٹ نے بتایا کہ اس کے علاوہ ندی نالوں سے ریت اور بجری نکالنے والے بھی ان انڈوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریت اور بجری نکالنے کیلئے سرکار نے جو جگہیں مخصوص رکھی ہیں صرف ان ہی جگہوں سے تعمیراتی مواد حاصل کیا جانا چاہئے۔
 
 

خواجہ محمد شفیع اوڑی کی والدہ فوت | ڈاکٹر فاروق ، عمر عبداللہ سمیت پارٹی لیڈران اور الطاف بخاری کا اظہارِ تعزیت

 
ظفر اقبال
 
اوڑی//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خواجہ محمد شفیع اوڑی کی والدہ مختصر علالت کے بعد انتقال کرگیں۔ محمد شفیع اوڑی کی والدہ زیبہ بیگم اتوار اور پیر کی درمیانی شب سرینگر رہاش گاہ پر اس دار فانی سے رحلت کر گئیں۔مرحومہ کو اتوار کی صبح گھر کوٹ اوڑی میں آبائی مقبرہ میں سپرد خاک کیا گیااور نمازجنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واضح رہے کی زیبہ بیگم نیشنل کانفرس کے ضلع صدر بارہمولہ ڈاکٹر سجاد شفیع کی دادی تھی۔ادھر اتوار کو دن بھر سیاسی،سماجی تنظیموں سے وابستہ سینکڑوں لوگوں نے محمد شفیع اوڑی اور ڈاکٹر سجاد شفیع کے ساتھ گھر کوٹ اور اوڑی ٹاون رہاش گاہ پر تعزیت پرسی کی۔ خاندانی ذرائع نے بتایا کہ تعزیت جمعرات 14 اکتوبر 2021 تک اوڑی ٹاون میں رہاش گاہ میں جاری رہے گی۔ اس دوران مرحومہ  کا چہارم  جمعرات 14 اکتوبر 2021  کو انجام دیا جائیگا۔ ادھر  نیشنل کا نفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ  اور نائب صدر عمر عبداللہ نے پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے اوڑی محمد شفیع اوڑی کی والدہ محترمہ (اہلیہ پیر بابا عمرالدین ساکن گر کوٹ اوڑی)کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں لیڈران نے اس سانحہ ارتحال پر مرحومہ کے جملہ سوگوران خصوصاً محمد شفیع اوڑی اور ڈاکٹر سجاد شفیع اوڑی کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومہ کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔ دونوں لیڈران نے مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت اور کلمات ادا کئے۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، پیرزادہ احمد شاہ، چودھری محمد رمضان، ،مبارک گل، عرفان احمد شاہ، حسنین مسعودی،شمیمہ فردوس، سکینہ ایتو، آغا سید روح اللہ مہدی، ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، محمد سعید آخون، خالد نجیب سہروردی، آغا سید محمود، علی محمد ڈار، جاوید احمد رانا، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، سجاد احمد کچلو، اجھے سدھوترا، رتن لعل گپتا، عرفان احمد شاہ، میر سیف اللہ، قمر علی آخون، فیروز احمد شاہ، قیصر جمشید لون، جاوید احمد ڈار، تنویر صادق، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، پیر آفاق احمد، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، الطاف احمد کلو، غلام محی الدین میر، محمد خلیل بندھ، شیخ محمد رفیع، پیر محمد حسین، اعجاز جان، سجاد شاہین، میر غلام رسول ناز، ایڈوکیٹ نذیر ملک، ایڈوکیٹ شوکت احمد گنائی، ایڈوکیٹ بشیر احمد، جگدیش سنگھ آزاد، منظور احمد وانی، ترجمان عمران نبی ڈار، عبدالاحد ڈار، یوتھ صوبائی صدر سلمان علی ساگر، احسان پردیسی صبیہ قادری، سارا حیات شاہ، فاروق احمد شاہ، ریاض احمد بیدار،ڈاکٹر محمد شفیع،غلام نبی بٹ، ارشاد رسول کار، سیف الدین بٹ، سید توقیر احمد، شفقت وٹالی، مدثر شاہ میری، عفرا جان اور دیگر لیڈران نے بھی محمد شفیع اوڑی اور ڈاکٹر سجاد شفیع کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مرحومہ کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی ہے۔ اس دوران اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے محمد شفیع اوڑی کی والدہ کے سانحہ ارتحال پر گہرے دکھ وار صدمے کا اظہار کیا ہے۔الطاف بخاری نے مرحومہ کو نیک سیرت، خوش اخلاق، غریب پرور ، عاجز وانکسار خاتون قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوگوار کنبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’میں غمزدگان خاص طور سے محمد شفیع اوڑی صاحب اور ڈاکٹر سجاد شفیع کے ساتھ دکھ کی اس گھڑی میں دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، دعا گوہوں کہ پورے کنبہ کو یہ صدمہ بردداشت کرنے کی ہمت عطاہو‘‘۔ الطاف بخاری کے علاوہ اپنی پارٹی کی دیگر قیادت نے بھی غمزدہ کنبہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثناء جموں کشمیر پردیش کانگریس کے نائب صدراور سابق ممبرقانون سازکونسل جی این مونگا نے نیشنل کانفرنس رہنما اور سابق وزیر محمدشفیع اوڑی کی والدہ کے انتقال پردکھ کااظہار کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے غمزدہ کنبے کے ساتھ اظہار یکجہتی کیااور مرحومہ کے روح کے ابدی سکون کی دعاکی۔
 
 
 
 

ڈاکٹر فیصل خان کے حق میں ایصال ثواب کی مجلس | ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت متعدد لیڈران کی شمولیت 

سرینگر//مرحوم ڈاکٹر فیصل خان کی یاد میں راج باغ میں ایک تعزیتی اور ایصال ثواب کی مجلس منعقد ہوئی جس کی صدارت نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی۔ اس موقعے پر مرحوم ڈاکٹر فیصل خان کے نیک اوصاف اور اُن کی طبی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ مرحوم ڈاکٹر فیصل کی یہ خواہش تھی میں اپنے والدین کیساتھ ہی رہوں اور امریکہ چھوڑ کر اپنے ماں باپ کی خدمت کرتا رہوں گا اور وہ جلد ہی اپنے وطن واپس آنے والے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کی کچھ اور ہی مرضی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پود کو ہمیشہ اپنے والدین، بزرگوں کی عزت اور اطاعت کرنی چاہئے، جس میں اُن کی کامیابی و کامرانی کا راز مضمر ہے۔ اس موقعہ پر پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، پارٹی لیڈر تنویر صادق، ممتاز تاجر اور معزز شہری بھی موجود تھے۔ مرحوم کے حق میں غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی ۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر فیصل خان سابق وائس چانسلر سکاسٹ حشمت اللہ خان کے فرزند تھے اور مرحوم ڈاکٹر علی محمد متو اور بیگم ثریا متو کے داماد تھے، اُن کا انتقال امریکہ میں ہوا تھا۔ 
 
 

اپنی پارٹی میں عہدیداران کا تقرر

سرینگر//اپنی پارٹی نے پیر کے روز عہدیدران میں تقرریاں عمل میں لائی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے اِن کا اعلان کیا جن میں سید اصغر علی کو پارٹی جنرل سیکریٹری، ایڈووکیٹ نرمل کوتوال کو ایڈیشنل ترجمان اور وپل بالی کو انچارج یوتھ صدر جموں صوبہ بنایاگیاہے۔
 
 

نو پورہ ترال میں مفت طبی کیمپ آج 

سری نگر//محکمہ آیوش پلوامہ کی جانب سے نو پورہ ترال میں آج یعنی 12 اکتوبر کو ایک روزہ مفت طبی کیمپ کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔ جنوبی ضلع پلوامہ کے نو پورہ ترال علاقے میںیعنی 12 اکتوبر کو محکمہ آیوش پلوامہ،احسن فاؤنڈیشن جے اینڈ کے، سول ڈیفنس اونتی پورہ اور این وائی کے پلوامہ کے باہمی اشتراک سے مفت طبی کیمپ کا انعقاد ہو رہا ہے۔ کیمپ کے دوران مریضوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور ان میں مفت آیوش ادویات بھی فراہم کی جائیں گی۔
 
 

شہریوں کی ہلاکتوں کیخلاف کپوارہ میں بھاجپا کا احتجاج

سرینگر//بھاجپا نے شہریوں کی ہلاکتوں کیخلاف کپوارہ میں احتجاج کیا اور ریلی نکالی۔ کے این ایس کے مطابق سوموار کو شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے بھاجپا انچارج محمد انور خان کی قیادت میں کارکنوںنے احتجاج کیا ۔ احتجاجی کارکنوںنے سروں پر کالی پٹیاں باندھی تھیں اور سیاہ جھڈے اٹھا رکھے تھے۔ ریلی میں شامل کارکن ’’ہندو مسلم سکھ عیسائی بھائی بھائی‘‘، ’’قاتلوں کو سزا دو ‘‘کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محمد انور خان نے کہاکہ وادی میں جواقلیتی برادری رہائش پذیر ہیں ان کا تحفظ کرنا اکثریتی فرقہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوںنے کہاکہ وہ مسلمان ہی نہیں ہوسکتا ہے جو کسی بے گناہ کو مارے ، یہ اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسلمانوں پہ کچھ لوگوں کی وجہ سے دھبہ لگا ہے۔ انہوںنے کہا کہ دفعہ370کے بعد یہاں حالات ٹھیک تھے ، اب اُن  (جنگجوئوں) کو اپنا کام کرنا ہے لیکن ہماری فورسزعسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ 
 
 

’ندھی آپ کے نکھٹ‘ | پراوڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کی تقریب

جموں//’’ندھی آپ کے نکھٹ‘‘ اکتوبرمہینے کیلئے ایمپلائز پرائوڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن جموں میں پیر کو منعقد ہوئی ۔ای پی ایف اوجموں،جموں کشمیراورلداخ کے متعلقین کے دعوئوں کانپٹاراکرنے کیلئے علاوہ ان کودرپیش مشکلات کودور کرتی ہے۔شکایات کی کثیرتعداد کو مدنظررکھتے ہوئے اورمتعلقین کو گھر کی دہلیز پرسہولیات بہم رکھنے کیلئے ای پی ایف او نے متعدد آن لائن اقدام کئے ہیں جیسے بقایا کی جانکاری،دعوئوں کی آن لائن داخلی وغیرہ شامل ہیں ۔ریجنل پرائوڈنٹ فنڈ کمشنر کے بیان کے مطابق گرجندرسنگھ کادعویٰ بھی نپٹایا گیا جس کی کے وائی سی غلط ہواتھا۔
 
 
 
 
 

حکومت اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں پُرعزم:منوج سنہا

سکھ وَفد نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی

سری نگر//صد ر دہلی سکھ گورد وارہ مینجمنٹ کمیٹی ( ڈی ایس جی ایم سی ) ایس مجندر سنگھ سر سا کی قیادت میں ایک سکھ وفد نے  یہاں راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا سے ملاقات کی۔ڈی ایس جی ایم سی کے عہدیداروں اور کشمیر کے سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹیوں کے اراکین پر مشتمل وفد نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ یو ٹی میں اقلیتوں کے مسائل بشمول ان کی حفاظت اور سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے وَفد کے اَرکان کو بغور سنا اوراُنہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں پر حملوں کے واقعات آئندہ ہونے نہیں دئیے جائیں گے اور ان گھنائونی حملوں کے مجرموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی کی اقلیتی آبادی کے لئے سیکورٹی کے بہتر اِنتظامات کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اُنہوں نے اس بات کو دہرایا کہ حکومت جموںوکشمیر میں اقلیتوں کے تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔ادھر خبررساں ایجنسی یواین آئی کے مطابق سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی دلی کے صدر اور اکالی دل کے قومی ترجمان منجندر سنگھ سرسا کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اقلیتی فرقے کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا سرکار سے زیادہ اکثریتی فرقے کے لوگوں کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے دیرینہ آپسی بھائی چارے کو توڑنے اور اقلیتی فرقے کے لوگوں کو ڈرا کر بھگانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔موصوف صدر یہاں چند روز قبل نا معلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی اسکول پرنسپل سپندر کور کے اہلخانہ کے ساتھ تعزیت پرسی کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے ۔غمزدہ اہلخانہ سے ملنے کے بعد انہوں نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کے ساتھ ساتھ اکثریتی فرقے کے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتی فرقے کے لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ان کا کہنا تھا،’’سرکار سے زیادہ اکثریتی فرقے کے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتی فرقے کے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں‘‘۔ سرسا نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اکثریتی فرقے کے لوگ اقلیتی فرقے کے لوگوں پر ہونے والے حملوں کو بر داشت نہیں کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا،’’یہاں کے آپسی بھائی چارے کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ اقلیتی فرقے کے لوگوں میں ڈر پیدا کیا جائے تاکہ وہ یہاں سے بھاگ جائیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو مل کر ایسی سازشوں کو ناکام بنا دینا چاہئے ۔
 
 
 

تجدید کے بعدآل انڈیا ریڈیوسرینگر کے آڈیٹوریم کاافتتاح

 ماہی پروری کے مرکزی وزیر مملکت کا داچھی گام ٹرائوٹ فارم کا معائنہ کیا

سری نگر// مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات ، ماہی و بھیڑ پالن ڈاکٹر ایل موروگن نے  آل اِنڈیا ریڈیو سری نگر سٹیشن کا دورہ کیا۔اِس موقعہ پر مرکزی وزیر مملکت نے آکاش وانی سری نگر میں پرسار بھارتی آڈیٹیوریم کا اِفتتاح کیا ۔وزیر موصوف کو جانکاری دی گئی کہ آڈیٹیوریم کو 2014 کے تباہ کن سیلاب میں نقصان پہنچا تھا اور اِس کی آڈیو اور ویڈیو میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کر کے مرمت کی گئی ۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہا رکرتے ہوئے ڈاکٹر ایل موروگن نے کہا کہ اے آئی آر سری نگر نے کشمیر کو بقیہ ہندوستان کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار اَدا کیا ہے ۔ اِس کے معیار اور مختلف زبانوں میں بے شمار پروگرام پیش کئے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ سٹیشن جموںوکشمیر کی بھرپور ثقافت ، فن اور روایت کو دنیا اور ہندوستان میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ تزئین و آرائش شدہ آڈیٹوریم کا افتتاح کرتے ہوئے تاریخ کا حصہ بننے پر خوش ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ آڈیٹوریم کی تزئین و آرائش نے کشمیر ، اے آئی آر اور اِنڈیا کو یکسان طور پر ظا ہر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم تمام مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے دوبارہ کھڑے ہوں گے۔اُنہوں نے آل اِنڈیا ریڈیو کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اورکہا کہ ا س نے جموںوکشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اہم کردار اَدا کیا ہے ۔اِس موقعہ پراے ڈی جی ۔ اِی ، زونل ہیڈ ( ایڈمنسٹریشن نارتھ زون ) اے آئی آر ایم ایس اَنصاری ، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پرسار بھارتی آدتیہ چتر ویدی ، اے آئی آر سری نگر کے اَفسران ، ڈی ڈی سری نگر اور دیگر ملازمین بھی موجود تھے۔بعدمیں مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات ، ماہی پالن ، بھیڑ پالن اور ڈیری ڈاکٹر ایل موروگن نے اے آئی آر سری نگر کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا او رریڈیو سٹیشن کے عملے سے بات چیت کرتے ہوئے آکاش وانی ریڈیو سٹیشن پر ان کے کام کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔دریں اثنا ،مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات ، ماہی پالن ، بھیڑ پالن اور ڈیری ڈاکٹر ایل موروگن نے یہاں ٹرائوٹ کلچر فارم لار ی بل داچھی گام کا دورہ کیا ۔وزیرموصوف نے فارم میں دستیاب ماہی پالن یونٹوں ، مشینری او ردیگر سہولیات کا معائینہ کیا اور ماہی پروروں سے تبادلہ خیال کیا۔ اُنہوں نے پردھان منتری ماتیساسمپا ڈا یوجنا( پی ایم ایم ایس وائی) ٹرائونٹ یونٹ الاٹمنٹ مستحقین کے حوالے کئے۔مرکزی وزیر مملکت نے کسانوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے پُر عزم ہے اور وزیر اعظم کی قیادت میں کئی اِقدامات کئے ہیں۔اُنہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں او رقومی کی تعمیر کا حصہ اور کاروباری بنیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹرائوٹ فارمنگ آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بن کر اُبھری ہے اور لوگوں کو اِس سے فائدہ اُٹھا نا چاہیئے۔مرکزی وزیر مملکت کو فارم لار ی بل میں ٹرائوٹ کلچر کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ اُنہیں بتایا گیا کہ فشریز ڈیپارٹمنٹ نے تمام اَضلاع میں ہیچر یز قائم کی ہیں او رکسانوں کو فنگلنگ مچھلی فراہم کر رہی ہے ۔ وزیرمملکت موصوف کو یہ بھی جانکاری دی گئی کہ ٹرائوٹ مارکیٹ کی دستیابی کو بڑھانے کے لئے مختلف مقامات پر سیل سینٹر قائم کئے گئے ہیں۔
 
 
 
 

18اکتوبر سے گھرگھر سے کچراجمع کرنے کی چیف سیکریٹری کی ہدایت

سرینگر //چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے مکانات و شہری ترقی کی مرکزی معاونت والی سکیموں یعنی امروت ، سوچھ بھارت مشن اور پی ایم سوانیدھی کا جائیزہ لیا  ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ امروت سکیم سال 2015 میں پانی کی فراہمی ، سیوریج ، شہری ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی خدمات کی فراہمی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے سہولیات کی فراہمی کیلئے شروع کی گئی تھی ۔ میٹنگ میںمزیدبتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ریاست جموں و کشمیر کے 5 شہروں جموں ، سرینگر ، اننت ناگ ، لہیہ اور کرگل کیلئے 93 منصوبوں کیلئے 593 کروڑ روپے مختص کرنے کو منظوری دی گئی ۔ سابقہ ریاست جموں و کشمیر کی تنظیم نو کے بعد جموں و کشمیر کیلئے 83 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے اور ان منصوبوں میں سے جموں و کشمیر یو ٹی کیلئے کُل مختص 74 منصوبوں کیلئے 513.13 کروڑ روپے ہیں جبکہ 9 منصوبے ریاستی حصہ اور اصلاحات میں بچت کے تحت لئے گئے ہیں ۔ جموں و کشمیر کے منظور شدہ 83 منصوبوں میں سے 62 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 21 منصوبے مختلف مراحل میں ہیں ۔ پرنسپل سیکرٹری ایچ اینڈ یو ڈی نے بتایا کہ 62 منصوبوں کو مجموعی طور پر 394.55 کروڑ روپے کے اخراجات سے مکمل کیا گیا ہے ۔ اننت ناگ میں مکمل اور نافذ دونوں منصوبوں کا جائیزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے اننت ناگ قصبے کے لوگوں پر ان منصوبوں کے اثرات کے بارے میں دریافت کیا ۔ ڈاکٹر مہتا نے ہدایت دی کہ تمام جاری 21 پروجیکٹس مارچ 2022 تک مکمل کئے جائیں ۔ ڈاکٹر مہتا نے دونوں میونسپل کارپوریشنز کے کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ سیپٹک منیجمنٹ کیلئے ایس او پی لگائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نالوں کی سالانہ صفائی ہو ۔ ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز جموں و کشمیر نے بتایا کہ چھوٹے بلدیاتی اداروں میں ڈور ٹو ڈور کلیکشن شروع ہو چکا ہے اور یہ عمل تمام 78 بلدیاتی اداروں کو کوور کرنے کیلئے بڑھایا جائے گا ۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ ہفتے  میں کم از کم دو بار گھر گھر کچرا اکٹھا کرنے کا عمل تمام 78 بلدیاتی اداروں میں اس ماہ 18 تاریخ سے شروع ہونا چاہئیے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 18 اکتوبر 2021 کو تمام یو ایل بی کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے رابطہ قائم کریں گے ۔ ڈاکٹر مہتا نے افسران کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سڑکوں /گلیوں /نالوں کے اطراف میں پائے جانے والے پلاسٹک کے ڈھیر ہٹائے جائیں اور مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائے جائیں ۔ 
 
 
 

ہانجورہ  اور لائیگرو نے سپندرکور کے لواحقین کی ڈھارس بندھائی

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکریٹری اورسابق وزیرغلام نبی لون ہانجورہ نے دیگر پارٹی اراکین کے ہمراہ سنگم عیدگاہ میں قتل کی گئی اسکول پرنسپل سپندرکور کے لواحقین کی ڈھارس بندھائی ۔لون نے غمزدہ کنبے کی تعزیت پرسی کیلئے مقتول خاتون کے گھر میں داخل ہونے سے قبل ذرائع ابلاغ کو بتایاکہ حکومت کو عام کشمیریوں خصوصاًاقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہونے کوتسلیم کرناچاہیے۔اس موقعہ پروسطی کشمیر کے پارٹی کارڈنیٹرعارف لائیگرونے کہا کہ ان ہلاکتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے سرینگر،بانڈی پورہ اوراننت ناگ میں پیش آئی حالیہ ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
 
 

جموں میں نیشنل کانفرنس کو ایک اورجھٹکا | صوبائی سیکریٹری سمیت متعدد عہدیدارمستعفی

جموں //جموں میں نیشنل کانفرنس کو ایک دھچکا لگاہے اور سوموار کو جموں کے صوبائی سیکریٹری،دوضلع صدور ،دوکارپوریٹر متعدد کارکنوں سمیت پارٹی سے مستعفی ہوئے۔یہ استعفے نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندرسنگھ رانا اورسابق وزیر ایس ایس سلاتھیہ کے پارٹی سے مستعفی ہونے کے دوروز بعد سامنے آئے ہیں۔دویویندرسنگھ رانا کے دفترمیں کام کررہے ایک ماتحت نے کہا کہ جموں کے صوبائی سیکریٹری ،دوضلع صدور،دوکارپوریٹر،ایک بلاک صدراورمتعددضلع اور بلاک کمیٹی ممبران نے پارٹی سے استعفی دیکر دیویندر رانا کوحمایت دینے کااعلان کیاہے۔انہوں نے کہا کہ استعفی دینے والوں میں صوبائی سیکریٹری جموں ارشدچودھری،ضلع صدر شہری دھرم ویرسنگھ جموال،جموں دیہی صدرسوم ناتھ کھجوریہ،بلاک صدر بلاول اشوک سنگھ منہاس،میونسپل کارپوریٹر ایس سوچاسنگھ،اوربلاک صدرخواتین ونگ بلاک ماتھورریکھالنگیش شامل ہیں۔   
 
 
 
 

رتن لعل گپتا نے صوبائی صدر جموں کا عہدہ سنبھالا

سرینگر// نیشنل کانفرنس محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک کا نام ہے جس کی جڑیں تینوں خطوں میں پیوست ہیں، اس جماعت کے طفیل تینوں خطوں کے لوگوں کونہ صرف عزت اور وقار سے زندگی جینے کا موقع فراہم ہوا بلکہ تمام جمہوری اور آئینی حقوق بھی حاصل ہوئے۔ ان باتوں کا اظہار سینئر پارٹی لیڈر ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا نے شیر کشمیر بھون جموں میںپارٹی صدرِ صوبہ جموں کا عہدہ سنبھالتے ہوئے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے نہ صرف جموں وکشمیر میں مذہبی ہم آہنگی، آپسی بھائی چارے اور رواداری کی مشعل کو فروزاں رکھا بلکہ تعمیر و ترقی اور لوگوں کی خوشحالی میں کلیدی رول ادا کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومتوں کے دوران صوبہ جموں میں سب سے زیادہ تعمیر و ترقی کے کام ہوئے اور یہ سلسلہ شیخ محمد عبداللہ کے وقت سے جاری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ شیر کشمیر کے زرعی اصلاحات کے تاریخی اور انقلابی قدم سے کشمیر کے مقابلے جموں کے پشتینی باشندوں کو زیادہ فائدہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ تینوں خطوں کی یکساں ترقی کیلئے کام کیا اور ہر وقت مساوات کو قائم رکھا۔جموں وکشمیر کی تعمیر و ترقی میں نیشنل کانفرنس کے رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔  نیشنل کانفرنس ایک سیکولر جماعت رہی ہے اور وقت وقت پر اس کا برملا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔ رتن لعل گپتا نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں اور لوگوں کیساتھ قریبی رابطہ رکھیں ۔ اس موقعے پر پارٹی لیڈران شیخ بشیر احمد، اعجاز جان، برج موہن شرما، پردیپ بالی، قاضی جلال الدین، بملا لتھرا، ستونت کور ڈوگرا، ارشادہ ملک ، یوتھ اور خواتین ونگ کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ 
 
 
 
 

 راناکااستعفیٰ کسی بڑے منصوبے کا حصہ :سوز | آنے والے ایام میں زیادہ مشکلات حالات کا خدشہ

سرینگر//سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ کشمیرکی مین اسٹریم جماعتوں کو قابل عمل طور متحد ہوناچاہیے کیوں کہ آنے والے اَیام میں اورزیادہ مشکل حالات پیداہوسکتے ہیں ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا ،’’دہلی سے ایک جانکار دوست نے مجھے سمجھایا کہ دیویندر سنگھ رانا کے نیشنل کانفرنس سے اخراج کا معاملہ وزیر اعظم مودی کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے ،جس کے مطابق کشمیر کی صورت حال کی طرف مودی ایک منصوبہ بند طریقے سے متوجہ ہو گئے ہیں۔‘‘سوزنے بیان میں کہا کہ اس جانکار دوست نے مجھے مزید بتایا کہ اس بڑے منصوبے کا ایک سب پلان یہ بھی ہے جس کے مطابق سرحدی علاقوں مثلاً کرناہ، کیرن، گریز، تلیل، کرگل اور لداخ کی طرف خصوصی توجہ مبذول ہے اور اس سلسلے میں پی ایم او اور وزارت داخلہ میں خصوصی سیل قائم کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اُس نے مجھے سمجھایا کہ مثال کے طور بی جے پی نے گریز میں ایک سرکردہ سیاسی کارکن فقیر خان کی طرف خصوصی توجہ دی اور اُس کی اقتصادی زندگی میں خاطر خواہ بدلائو لایا اور اب وہ تن من سے گریز اور تُلیل کے علاقوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ بی جے پی کا پروگرام کامیابی سے چلارہا ہے۔اب یہی عمل کرناہ ، کیرن ، کرگل اور لداخ پر مکمل طور محیط ہوگا۔دہلی کے اس جانکار نے بتایا کہ دیوندرسنگھ رانا کی بی جے پی میں شمولیت ،ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے،جس کی طرف وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی توجہ براہ راست مبذول ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اگلے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ آیا کشمیر کی مین اسٹریم جماعتوں کا اتحاد اس طرف متوجہ ہوتا ہے یا نہیں یا وہ بیان بازی تک ہی محدود رہے گا۔ادھر دوسری طرف یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اگر ہم بُرے حالات میں گھرے ہوئے ہیں ،تو اگلے دنوں میں اور زیادہ مشکل حالات پیدا ہو سکتے ہیں! اسی لئے عوامی حلقوں میں یہ رائے پیدا ہو رہی ہے کہ کشمیر کی مین اسٹریم جماعتوں کو قابل عمل طریقے سے متحّد ہونا چاہئے۔
 
 

دفعہ370کی بحالی کیلئے متحد جدوجہدلازمی:محبوبہ | ’بھاجپاووٹ بینک کے استحکام کیلئے مسلمان نشانے پر‘

جموں//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدرمحبوبہ مفتی نے پیر کودفعہ370کی بحالی اورمسئلہ کشمیر کے حل کیلئے متحدجدوجہد کرنے پرزوردیااور کہا کہ اُس کی آوازکمزور ہے اوروہ یہ اکیلے نہیں کرسکتیں۔محبوبہ جووادی چناب کے پانچ روزہ دورے پر ہیں ،ڈاک بنگلہ کشتوار میںپارٹی کنونشن سے خطاب کررہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمیں دفعہ370سودسمیت واپس دیاجائے گااورخطے میں خون خرابہ کوختم کرنے کیلئے مسئلہ کشمیر کاحل بھی ہوگا،تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ اکیلے نہیں کرسکتی کیوں کہ اُس کی آوازکمزور ہے اورآپ کواپنی آواز میری آوازکے ساتھ ملانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دفعہ370جموں کشمیر کے لوگوں سے چھینا گیا اور جو چیز چھین لی جائے وہ سودسمیت واپس کی جانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہماری عزت لی ہے ،ہمارے سرکی ٹوپی اوریہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان کے پاس انہیں رہنے دیں گے ۔ہم خون خرابہ ختم کرنے کیلئے متحد ہونا ہے جو ہماری جانیں اور ہمارے جوانوں کی جانیں لے رہاہیں۔ادھر خبررساں ایجنسی یواین آئی کے مطابق محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ بی جے پی کے ووٹ بینک کے استحکام کے لئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کے بیٹے جس پر چار کسانوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے ، کے بجائے مرکزی ایجنسیاں 23 سالہ نوجوان کے پیچھے پڑی ہیں کیونکہ اس کے نام کے ساتھ’خان‘ جڑا ہے ۔موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا،’’ ایک مرکزی وزیر کے بیٹے ، جس پر چار کسانوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے ، کی بجائے مرکزی ایجنسیاں ایک 23 نوجوان کے پیچھے پڑی ہیں کیونکہ اس کے نام کے ساتھ’خان‘ جڑا ہے‘‘۔انہوں نے اس ٹویٹ میں مزید کہا،’’ستم ظریفی یہ ہے کہ بی جے پی کے ووٹ بینک کو مستحکم کرنے کے لئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘‘۔
 
 
 
 

عوام کو جھوٹے خواب بیچے گئے: الطاف بخاری | سرنکوٹ میں فوجی جوانوں کی ہلاکت پرتشویش

جموں//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے ضلع پونچھ کے سرنکوٹ علاقہ میں جھڑپ کے دوران جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت 5فوجی جوانوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہم اِن اہلکاروں کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے جنگجوؤں کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اُن کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا‘‘۔ الطاف بخاری پارٹی دفتر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں ایڈووکیٹ وکرم راٹھور پانچ سے زائد دیگر افراد کے ہمراہ اپنی پارٹی میں شامل ہوئے۔ تعلیم یافتہ طبقہ اور منتخب پنچایتی ممبران کو اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے بخاری نے کہاکہ مختصر وقت میں جماعت جموں کے میدانی علاقوں میں اپنا مضبوط کیڈر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواندہ طبقہ کی شمولیت کا جماعت میں خیر مقدم ہے۔ لوگوں نے پارٹی کی پالیسیوں اور ایجنڈے پر اپنااعتماد ظاہر کیا ہے جوکہ دونوں خطوں کی یکساں ترقی اور اتحاد کی وکالت کرتاہے۔ انہوں نے مزید کہا،’’ہمار اماننا ہے کہ سیاسی جماعتیں لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی ہیں۔ اِنہوں نے لوگوں کو جوخوا ب بیچے ، وہ کبھی حقیقت نہ بن سکے، البتہ اپنی پارٹی لوگوں کو سچ بتانے پر یقین رکھتی ہے ۔ اس اثناء سرپنچوں ونائب سرپنچوں نے بھی اپنی پارٹی کا دامن تھاما جن میں سرپنچ کیسو منہاسہ کلدیپ ورما، سرپنچ خانپور چمپا دیوی، سرپنچ ننگا بملا دیوی، نائب سرپنچ اوتال  منجیت سنگھ، سنیئر سماجی کارکن ڈاکٹر جسبیر وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ ان پنچایتی ممبران کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی پارٹی صدر نے کہاکہ زمینی سطح پر پنچایتی راج نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور تھری ٹائر نظام میں منتخب ہوئے ممبران کو انتظامیہ کی طرف سے عزت دی جانی چاہئے۔ اس ضمن انہوں نے مزید کہاکہ ’’ یہ انتہائی قابل ِ مذمت ہے کہ ضلع رام بن میں انتظامیہ نے پنچایتی ممبران کو نظر انداز کیا جس سے وہ استعفے دینے پر مجبور ہوئے، منتخب پنچایتی اراکین جمہوری ڈھانچہ کی بنیاد ہیں اور اُنہیں نظر انداز کرنے کے لئے ذمہ دار افسران کو جوابدہ بنایاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پنچایتی ممبران زمینی سطح پر کام کرتے ہیں، اُنہیں مرکزی وزراء کے سامنے نمائندگی نہ کرنے دینا قابل ِ مذمت ہے۔انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی پنچایتی راج نظام کے ممبران کے حقوق کا تحفظ کرنے کی وعدہ بند ہے۔
 
 
 

5فوجیوں کی ہلاکت پر کانگریس غمزدہ

جموں //جموں کشمیر پردیش کانگریس نے پونچھ میں جنگجوئوں کے ساتھ تصادم آرائی میں پانچ فوجی جوانوں کی ہلاکت پرصدمے کااظہار کرتے ہوئے بھاجپاکی قیادت والی مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں کشمیرمیں پاکستان کی شہ پر جاری جنگجویت کوختم کرنے کیلئے موثراقدام کریں۔پارٹی نے مارے گئے فوجی اہلکاروں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔پردیش کانگریس صدر غلام احمدمیر اوردیگرنے جنگجوئوں کے فوج پر حملے کو ’’بزدلانہ حرکت‘‘ قراردیااورفوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیاجنہوں نے قوم کی خاطر اپنی جانیں نچھاورکیں۔پارٹی نے بیان میں جموں کشمیرمیں جنگجویت کے واقعات میں اضافے پرفکرمندی کابھی اظہار کیا۔ 
 
 
 

’ جموں کشمیرمیں بیروزگاری کی شرح بلندترین سطح پر‘

 سرینگر // سینٹرآف انڈین ٹریڈیونینزکی دوروزہ میٹنگ میں مرکزی اورجموں کشمیرحکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے  وادی میں حالیہ ہلاکتوں کی مذمت کی گئی۔ایک بیان کے مطابق میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سینٹرآف انڈین ٹریڈیونینزجموں کشمیرکے صدریوسف تاریگامی نے جموں کشمیرانتظامیہ کی ملازم اورمزدور مخالف پالیسیوں کی تنقیدکی۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرمیں بیروزگاری کی شرح بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے اورحکومت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے بجائے ان لوگوں کی روزی روٹی چھین رہی ہے جوپہلے ہی نوکریوں میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مختلف سرکاری ملازمین کو بغیر کسی انکوائری یا چارج شیٹ کے برطرف کر دیا گیا جس سے ملازمین میں خوف کا احساس پیدا ہوا ہے۔ انہیں برطرفی سے پہلے اپنے دفاع کا موقع ضرور دیا جانا چاہئے تھا۔ ان ملازمین کیلئے پہلے سے ہی قوانین اور طریقہ کار موجود تھے جن پر عمل نہیں کیا گیا۔ یہ فیصلے صوابدیدی اور سخت ہیں۔تاریگامی نے کہا کہ اسی طرح جموں و کشمیر انتظامیہ نے 918 آنگن واڈی ہیلپروں کو جو آئی سی ڈی ایس اسکیم میں کام کررہے تھے کو برطرف کر دیا گیا۔سی آئی ٹی یوکے نیشنل جنرل سکریٹری ڈاکٹر کشمیر سنگھ نے مرکزی حکومت کی قومی منیٹائزیشن پائپ لائن پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جو کہ ایک بھی روپیہ خرچ کیے بغیر پورے پبلک سیکٹر کو ملک کے اجارہ داری گھروں کے حوالے کردے گی۔ یہ ملک کے اثاثوں کی ننگی فروخت ہے ، جو عوامی پیسے کے بغیر تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے فوائد جیسے پنشن ، پروویڈنٹ فنڈ ، ہیلتھ انشورنس وغیرہ محنت کش طبقے کے حقوق ہیں جو کئی دہائیوں کی جدوجہد کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ فوائد اب پنشن فنڈز کی پرائیویٹائزیشن ، پروویڈنٹ فنڈز اور سبسڈی اور فلاحی مراعات میں کٹوتی کے ذریعے پلٹائے جا رہے ہیں اور اس طرح کے اقدامات جو آج پوری دنیا میں نافذ کیے جا رہے ہیں خاص طور پر سماجی تحفظ کے فوائد کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ محنت کش لوگوں پر بوجھ ڈالیں۔اوم پرکاش جنرل سکریٹری CITU نے جموں وکشمیر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ جموں و کشمیر میں دستکاری کی صنعت کو مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔ وادی کشمیر میں دستکاری  سے وابستہ ہزاروں مزدور ہیں اور حکومت کی دیوالیہ پالیسیوں کی وجہ سے ان مزدوروں کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے اور وہ فاقہ کشی پر ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ دستکاری صنعت کو بچانے کے لیے آگے آئے۔ سی آئی ٹی یو نے دوسکول اساتذہ ، ایک ممتاز کشمیری پنڈت ایم ایل بندرو اور ایک غیرمقامی مزدور کے حالیہ قتل کی مذمت میں قرارداد منظور کی۔ سی آئی ٹی یو نے 26 نومبر 2021 کو مرکزی حکومت کی محنت کش طبقہ مخالف پالیسیوں کے خلاف جموں و کشمیر میں ایک بڑا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 4 لیبر کوڈز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جائے گا جس میں ہزاروں مزدوروں کی شرکت متوقع ہے۔