مزید خبریں

بھارت کو درپیش سیکورٹی چیلنجز |  اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی4 روزہ کانفرنس شروع، حالات کا جائزہ لیا جائیگا

نیوز ڈیسک
 نئی دہلی//ہندوستانی فوج کے اعلی کمانڈروں نے پیر کو ملک کے سیکورٹی چیلنجوں کا ایک جامع جائزہ لیا، بشمول مشرقی لداخ اور چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ دیگر حساس علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کمانڈروں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے پیش نظر جموں و کشمیر کے سیکورٹی منظر نامے پر بھی غور کیا۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ایم ایم نروانے کی صدارت میں یہ کانفرنس قومی دارالحکومت میں ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اعلی کمانڈروں نے مشرقی لداخ میں ہندوستان کی جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا ،جہاں ہندوستانی اور چینی فوجی 17 ماہ سے تلخ کشمکش میں ہیں ، حالانکہ دونوں فریقوں نے کئی متنازعہ فی مقامات سے واپسی کی ہے۔توقع ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بدھ کو کمانڈروں سے خطاب کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کمانڈروں نے 1.3 ملین مضبوط فورس میں انسانی وسائل اور اصلاحاتی اقدامات سے متعلق امور پر بھی غور کیا۔یہ کانفرنس تصوراتی سطح پر بات چیت کے لیے ایک ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے، جس کا اختتام ہندوستانی فوج کے لیے اہم پالیسی فیصلے کرنے پر ہوتا ہے۔چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت ، نیوی چیف ایڈمرل کرمبیر سنگھ اور چیف آف ائیر سٹاف ایئر چیف مارشل وی آر چودھری بھی سہ فریقی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے بھارتی فوج کی سینئر قیادت سے خطاب کریں گے۔فوجی کمانڈروں الگ الگ داخلی کمیٹیوں کی طرف سے تجویز کردہ مختلف اصلاحاتی اقدامات پر غور و فکر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مشرقی لداخ کی صورتحال اور خطے میں ہندوستان کی فوجی تیاریوں کو مزید تقویت دینے کے طریقوں پر بات چیت اگلے تین دنوں میں ہونے والی کانفرنس میں غالب آنے کا امکان ہے۔کمانڈر مشرقی لداخ کے ساتھ ساتھ ایل اے سی کے دیگر شعبوں میں مجموعی فوجی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔
 
 
 
 
 

دلی کی عدالت کا فیصلہ | 2کو10اور2کو12سال قید کی سزاسنائی

نئی دہلی//جنگجوسرگرمیاں انجام دینے کیلئے سازش بنانے اور ان کے لئے درکاررقومات کابندوبست کرنے کیلئے دہلی کی ایک عدالت نے حزب المجاہدین کے دوجنگجوئوں کو 12سال ، جبکہ تنظیم کے دیگردواراکین کو 10برس قیدکی سزا سنائی ہے۔سپیشل جج پروین سنگھ نے محمدشفیع شاہ اورمظفراحمدڈار کو12سال قیدکی سزاسنائی جبکہ طالب لالی اور مشتاق احمد لون کو دس برس قید کی سزادی ۔چاروں نے ان کے خلاف 27ستمبرکوعائدکئے گئے تمام الزامات کااعتراف کیااوراس کے بعد انہیں 4اکتوبر کو سزادی گئی ۔شاہ اورلالی بانڈی پورہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ڈاراورلون بالترتیب بڈگام اور اننت ناگ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ کیس قومی تحقیقاتی ایجنسی نے دائر کیاتھااورالزام عائد کیاتھا کہ حزب ہمسایہ ملک سے باضابطہ رقومات حاصل کررہا ہے تاکہ ملک میں جنگجو سرگرمیاں انجام دی جاسکیں۔
 
 
 

پاکستان کیلئے جاسوسی کاالزام | گجرا ت میں راجوری کا بی ایس ایف اہلکار گرفتار

بھوج//سرحدی حفاظتی فورس کے ایک اہلکار جو بھوج گجرات بٹالین میں تعینات تھا،کو پاکستان کیلئے مبینہ جاسوسی کرنے الزام میں انسداددہشت گردی اسکارڈ نے گرفتار کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی اسکارڈ کے مطابق وہ وٹس ایپ پرخفیہ جانکاری پاکستان کوفراہم کررہاتھا۔ راجوری کے سرولاضلع کے محمدسجاد کے طورگرفتار بی ایس ایف اہلکار کی شناخت ہوئی ہے،جوبی ایس ایف کی74ویں بٹالین کے ساتھ گجرات کے بھوج میں2021سے تعینات تھا۔سجاد کوبی ایس ایف ہیڈ کوارٹربھوج سے گرفتار کیاگیا۔وہ2012میں بی ایس ایف میں بھرتی ہواتھا۔سجاد کاپاسپورٹ ریجنل پاسپورٹ دفتر جموں سے جاری ہواہے اور اس نے دسمبر2011اورجنوری2012میں 46روز کیلئے پاکستان کاسفر کیا۔اُس نے اٹاری سے سمجھوتہ ایکسپریس میں سفر کیاتھا۔انسداددہشت گردی اسکارڈ کے مطابق سجاد سے دوموبائل فون معہ دوسم اور دواضافی سم برآمد کئے گئے۔کیس کی مزیدتحقیقات جاری ہے۔
 
 
 

پنجاب کے2نجی تعلیمی اداروںمیں 10کشمیری طا لب علموں کی مارپیٹ

سرینگر//ٹی 20ورلڈ کپ کرکٹ میچ میں اتوار کوپاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ہار پر پنجاب میں 2نجی تعلیمی اداروںمیں 10کشمیری طالب علموں پر حملہ کرکے ہوسٹل کمروں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور ڈرایادھمکایاگیا۔ کے این ایس کے مطابق پنجاب کے سنگور قصبہ میں بھائی گرداس انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور کھارر موہالی میں رایت بھارت یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباء پر حملہ کیاگیا جس کے بعد پولیس نے شکایت ملنے پر تحقیقات شروع کی ہے۔  بھائی گرداس انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالج میں زیر تعلیم 6کشمیری طالب علموں کاکہنا ہے کہ اترپردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے طلباء اُن کے کمرے میں داخل ہوگئے اور ان پر حملہ کیا جبکہ شکایت کرنے کے باوجود ہوسٹل عملہ نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ کشمیری طلباء کاکہنا ہے کہ جب اُنہیں آہنی سلاخوں اور ڈنڈوں سے مارا جارہا تھا، تو ایک طالب علم نے حملہ کرنے کی ویڈیو فیس بک پر براہ راست چلائی ۔ ایک کشمیری طالب علم نے پولیس کو فون پر بتایاکہ مقامی پنجابی طالب علم ہمارے بچائو کیلئے پہنچے اور ہمیں حملہ سے بچایا۔ کشمیری طالب علموںنے الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ہوسٹل کمروں میں بیٹھے تھے جب ملزم ان کے کمروںمیں داخل ہوئے اور کرکٹ میچ ہارنے کا بدلہ لیتے ہوئے ان پر حملہ کیا۔ اس دوران ایک اور حملہ میں رایت بھارت یونیورسٹی میںزیر تعلیم4کشمیری طالب علموں پر بھی حملہ کیا گیا۔ سنگور اور کھارر موہالی میں کشمیری طالب علموں کاکہنا ہے کہ جب ان پر حملے کئے گئے تو مقامی اور دیگر پنجابی طالب علموںنے انہیں بچایالیا۔ جموںوکشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی ترجمان ناصر کھویہہامی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ بہار، اترپردیش اور ہریانہ کے طالب علم کشمیریوں کے کمروںمیں گھس گئے ، انہیں مارا پیٹا اور توڑ پھوڑ کی۔ انہوںنے کہاکہ ایسے واقعات میں اضافہ سے کشمیری زیر تعلیم طالب علموں اور باہر کام کررہے لوگوںمیں عدم تحفظ اور پریشانی ہوئی ہے جس کے سبب ان کے والدین اور رشتہ داروں کو ان کی سلامتی کی فکر لاحق ہورہی ہے۔ کھویہامی نے مزید لکھا کہ بھارت اور پاکستان میچ کے بعد چار کشمیری طلبہ کو مارا گیا ہے۔ یہ سب رایت بھارت یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں۔ناصر کا پنجاب پولیس سے مطالبہ ہے کہ  پنجاب میں تعلیم حاصل کر رہے تمام کشمیری طلبہ کے تحفظ کو پنجاب پولیس کی جانب سے یقینی بنایا جائے۔ میں نے بھائی گروداس انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالج کے متعدد طلبا سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ بہار کے بچوں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی ہے اور ان کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی ہے۔
 
 
 

 طلباکے تحفظ کو یقینی بنایا جائے |  عمر عبداللہ کی پنجاب حکومت سے اپیل

سری نگر//یواین آئی// نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پنجاب کے ایک کالج میں اتوار کی شام کشمیری طلبا کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے پنجاب کے وزیر داخلہ سے پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ اتوار کی شام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹی ٹونٹی میچ کے بعد پنجاب کے ایک کالج میں زیر تعلیم کچھ کشمیری طلبا کو زد کوب کیا گیا۔عمر عبداللہ نے اس واقعے کے رد عمل میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہا،’’یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ گذشہ شب پنجاب کے ایک کالج میں کچھ کشمیری طلبا کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ میں چرن جیت چھنی (وزیر داخلہ پنجاب)  سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ  پنجاب پولیس کو اس معاملے کا نوٹس لینے کی ہدایت دیں اور پنجاب میں پڑھ رہے کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنائے‘‘۔دریں اثنا جموں وکشمیر سٹو ڈنٹس ایسو سی ایشن کے ترجمان ناصر کھویہامی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم نے یہ معاملہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی نوٹس میں لایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے ایک اعلیٰ پولیس افسرنے اس معاملے پر پنجاب پولیس کے سربراہ کے ساتھ بات کی ہے اور انہوں نے پنجاب میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کی ہے۔
 
 
 

حملہ آوروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے:جگموہن رینہ

سرینگر/کل جماعتی سکھ کارڈنیشن کمیٹی نے حکومت پنجاب پرزوردیا ہے کہ وہ دبئی میں ہندپاک کرکٹ میچ کے اختتام پر کشمیری طلباء پرحملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ایک بیان میں کل جماعتی سکھ کارڈنیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینہ نے کہاکہ یہ بدقسمتی ہے کہ کشمیری طلاب جو بھائی گوروداس انسٹی ٹیوٹ پنجاب میں زیرتعلیم ہیں،پر اترپردیش اوربہار کے طلباء نے حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ طلاب کو چاہیے تھاکہ وہ بھارتی ٹیم کی پاکستان کے ہاتھوں شکست صحیح اسپرٹ میں لیتے اورکشمیری طلاب پرحملہ آورنہ ہوتے۔  انہوں نے ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونمانہ ہو۔
 
 

ہارون میں ریچھ کی موجودگی سے خوف ہراس

ارشاداحمد
سرینگر//ہارون سرینگر کے متعدد علاقوں میں پچھلے کئی روز سے ایک ریچھ گھوم رہا ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ریچھ کی موجودگی کے خوف سے انہوں نے کھیتوں اورباغات میں جانابند کیا ہے۔ ہارون، نیوتھید، بارجی،داراسمیت مضافات میں پچھلے کئی روزسے ایک بھاری بھرکم ریچھ گھوم رہا ہے۔نیوتھید کے عبدالصمد نامی شہری نے بتایا کہ گزشتہ چارروز سے ہارون اورملحقہ علاقوں میں ایک ریچھ نظرآرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے محکمہ جنگلی حیات کی توجہ اگرچہ اس جانب مبذول کرائی لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ دی۔انہوں نے ریچھ کو فوری طور پکڑنے کا مطالبہ کیا۔
 
 
 

اعلیٰ سائنسدانوں کی فہرست |  کشمیر یونیورسٹی کے 9ماہرتعلیم جگہ پانے میں کامیاب

سرینگر//کشمیریونیورسٹی کے کم ازکم نوسائنسدانوں نے اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے عالمی سطح کے اعلی سائنسدانوں کی فہرست میں جگہ پائی ہے۔سائنسدانوں کی کچھ کلیدی اشاریوں جیسے اشاعات اور حوالہ جات کی بنیاد پردرجہ بندی کی جاتی ہیں۔فہرست میں جگہ پانے والے کشمیر یونیورسٹی کے سائنسدانوں میں ارضیاتی سائنس شعبے کے پروفیسر شکیل رومشواورپروفیسرغلام جیلانی اورشعبہ فوڈ سائنس اینڈٹیکنالوجی کے پروفیسر ایف اے مسعودی،ڈاکٹرعادل غنی اورا دریس احمد وانی شامل ہیں۔دیگر ماہرین تعلیم میں ڈاکٹر امتیازاحمد،ڈاکٹر شبیراحمد پرہ،ڈاکٹراخلاق حسین اورڈاکٹررئوف احمدراتھر(ریسرچ اسسٹنٹ) بالترتیب شعبہ زولوجی،الیکٹرانکس اینڈ انسٹرو مینٹیشن ،انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی ،زکورہ کیمپس شامل ہیں۔متعلقہ شعبوں میں دوفیصداعلی سائنسدانوںکی ڈاٹا بیس میں جموں کشمیرکے25سائنسدان شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیرمیںنو سائنسدانوں کے فہرست میں جگہ پانے والا واحدادارہ کشمیر یونیورسٹی ہے۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرطلعت احمد نے فہرست میں جگہ پانے والے ماہرین تعلیم کو مبارکباد دیتے ہوئے فیکلٹی ممبران پرزوردیا کہ وہ مایہ نازجریدوں میں اپنی مقالے شائع کریںاورمزید پرپوزلزکوتحقیقی کرانٹس کیلئے بھیج دیں۔
 
 
 

زینہ پورہ ہلاکت |  معیاد بند تحقیقات کرائی جائے: نیشنل کانفرنس 

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے زینہ پورہ میں 20سالہ نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات اور اصل حقائق کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئے روزبے گناہوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ اب معمول بن کر رہ گیا ہے اور حکومتی سطح پر اس بارے میں لب کشائی تک نہیں کی جارہی ہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار اور ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 8اکتوبرکو ایک نوجوان ڈرائیور کوہلاک کر ڈالا گیا اور اس کی وجہ چیک پوائنٹ پر گاڑی نہ روکنا بتایا گیا۔ فورسز نے گاڑی کو روکنے کیلئے پہیوں پر گولی چلانے کے بجائے ڈرائیور کو نشانہ بنا ڈالا۔ اسی طرح کل زینہ پورہ شوپیان میں نوپورہ ہوم شالی بُگ کے ایک نوجوان کو ابدی نیند سلا دیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ نوجوان کراس فائرنگ میں مارا گیا جبکہ مقامی لوگ اور اُس کے اہل خانہ کراس فائرنگ کے دعوے کو سرے سے ہی مسترد کررہے ہیں۔ دونوںلیڈران نے کہا کہ ان بے گناہوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات ہونی چاہئے اور خاطیوں کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے۔ ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی نے اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام کیساتھ بھی رابط کیا اور انہیں نوجوان کی ہلاکت کی آزادانہ ، منصفانہ اور معیاد بند تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
 
 

 حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت:حریت(ع)

سرینگر// حریت کانفرنس(ع) نے آرونی بجبہاڑہ کے ایک خاندان کے واحد کمائو شاہد اعجاز کے شوپیان میں قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ایک بیان میںحریت نے کہا کہ خاندانی ذرائع کے مطابق فورسز نے براہ راست نشانہ بنا کر شاہد کو قتل کیا ہے جو حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔حریت نے کہا کہ حکام کی جانب سے آئے روز جموںوکشمیر کے عوام پر جور و ستم کے نئے نئے حربے استعمال کئے جارہے ہیں اور قتل و غارت کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے اور عوام کو آئے دن خوفزدہ اور دہشت زدہ کرنے کے نت نئے طریقے سامنے آرہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ایک  منصوبے کے تحت کشمیری عوام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور زرعی زمین کو تجارتی مقاصد کیلئے فروخت کرنے سے متعلق نیا قانون اسی سمت میں قدم ہے ۔بیان میںکہا گیا کہ وادی کے چپے چپے میں بھاری تعداد میں فورسز تعینات ہیں اور شہر سرینگر سمیت مضافات میں مزید نئے بنکر بن رہے ہیں ۔حریت کانفرنس نے  شاہد اعجاز کے تباہ حال اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات زور دیکر کہی کہ امن اور سلامتی کی فضا زور زبردستی سے قائم نہیں کی جاسکتی ہے بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول بنانے کی ضرورت ہے اس لئے بین الاقوامی برادری اور بھارتی عوام سے بھی حریت کانفرنس اپیل کرتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے امنگوں اور خواہشات کے مطابق تنازع کشمیر کے حل کیلئے ان کی حمایت کریں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

میوہ باغات کو ہوا نقصان | صحیح تخمینہ لگانے کیلئے کوئی ٹیم نہیں گئی:محبوبہ مفتی

سرینگر// پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ حالیہ برف باری سے میوہ باغات کو ہونے والے نقصان کا صحیح تخمینہ نہیں لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ باغبانی کا عملہ سڑکوں کے ساتھ واقع باغات کا ہی معائنہ کرتا ہے جبکہ اندرونی علاقوں کے باغوں کا معائنہ کرنے کیلئے کوئی بھی ٹیم نہیں بھیجی جا رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے متاثرین کو بھر پور معاوضہ دینے کی اپیل کی۔موصوفہ نے یہ باتیں پیر کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیں۔ان کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا ’غیر متوقع برفباری سے وادی کشمیر بالخصوص جنوبی کشمیر میں میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ باغبانی کے عملہ نے صرف سڑکوں کے ساتھ واقع باغات کا ہی معائنہ کیا ہے اور ابھی تک شوپیاں کے اندرونی علاقوں میں کوئی بھی ٹیم نہیں پہنچی‘۔انہوں نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا ’اس لئے نقصان کا سرکاری طور جو تخمینہ بتایا جا رہا ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سرکار سے مطالبہ ہے کہ وہ ان علاقوں میں فوری طور پر نقصان کا صحیح تخمینہ لگائیں اور متاثرین مالکان باغات کو معاوضہ فراہم کریں‘۔
 
 
 

محکمہ بجلی کے ملازم کی دوران ڈیوٹی ہلاکت |  الیکٹرک ایمپلائز یونین برہم،سرکار سے پالیسی ترتیب دینے کی اپیل

سرینگر//بارہمولہ میں محکمہ بجلی کے ایک اور ملازم کی دوران ڈیوٹی موت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر الیکٹرک ایمپلائز یونین نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ ڈیلی ویجروں کیلئے کوئی پالیسی ترتیب دیں۔ یونین کے صدر مشتاق احمد نجار نے کہا کہ گزشتہ برسوں سے محکمہ بجلی کے ڈیلی ویجروں کا دوران ڈیوٹی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بعد میں انتظامیہ اور محکمہ انہیں فراموش کرتا ہے اور انکے کنبے دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔نجار نے کہا کہ ابھی تک سرکار نے محکمہ کے ڈیلی ویجروں کیلئے کوئی ٹھوس پالیسی ترتیب نہیں دی ہے جس کے نتیجے میں ڈیلی ویجروں کو مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے کنبے بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں۔یونین صدر نے کہا کہ آئے دن کی ہلاکتوں نے ان ملازمین کو جہاں خوفزدہ کیا ہے،وہی انکے اہل خانہ بھی ان کیلئے فکرمند ہوتے ہیں۔ نجار نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین کیلئے ٹھوس پالیسی ترتیب دیں۔
 
 
 
 
 

 پلوامہ میںمصوری کامقابلہ | ضلع کے کئی سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کی شرکت 

پلوامہ//ڈسڑکٹ پولیس لائنز پلوامہ میں شہداء کی یاد میں ایک مصوری مقابلے کا انعقاد کیاگیا۔ مقابلے میںضلع کے مختلف سکولوں سنٹرل ہائی سکول پلوامہ، گورنمنٹ مڈل سکول نیو کالونی پلوامہ، اپر پرائمری سکول بنڈزو،اپر پرائمری سکول درسو، گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول وشہ بگ اور لائی سئیم انٹرنیشنل اسکول پلوامہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے طلبا نے حصہ لیا۔ مصوری مقابلہ دو گروپوں یعنی14سال سے کم (جونیئر زمرہ)اور14سال سے اوپر (سینئر زمرہ) میں دونوں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان منعقد ہوا۔مقابلہ میں ان طلبا نے پہلی ، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔سینئر زمرہ میں سید جویرہ دختر پیرزادہ جاوید حسین اور سیم کنور دختردیو ناتھ سیم کنور نے لائی سئیم انٹرنیشنل پلوامہ اسکول کی 9ویں کلاس نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جونیئر زمرہ میںسحرش علی دختر علی محمد خان، لائی سئیم انٹرنیشنل اسکول پلوامہ کی چھٹے کلاس نے دوسری اور ابعہ قیوم دخترعبدالقیوم، اقبال میموریل سکول درسو پلوامہ چھوتے کلاس نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ڈی وائی ایس پی ڈی آر پلوامہ نے شرکاء سے اپنے خطاب میں طلباء کی کامیابی اور ذہانت کو سراہا۔ انہوں نے ضلع کے ابھرتے نوجوانوں اور فنکاروں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے فن کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کریں تاکہ مستقبل میں انِ کو آگے بڑھنے کیلئے ایک اچھاّ پلیٹ فارم مہیا ہوسکے ۔مصوری تقریب کے اختتام پر فاتحین میں ٹرافیاں تقسیم کی گئیں۔ تقسیم انعامات کی تقریب کی صدارت ڈی وائی ایس پی پلوامہ قاضی شمس نے اساتذہ کے ہمراہ کی اور انہوں نے ان طلبہ کی مستقبل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
 
 
 

پولیس ہیڈکواٹر کے فلاحی اقدامات | دلباغ سنگھ نے 242بچوں کے حق میں وظائف کو منظوری دی

 سرینگر//تعلیمی سیشن 2020-2021 کے دوران 12ویں جماعت کے سالانہ امتحان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے بچوںکی حوصلہ افزائی اور ان کی محنت کو سراہتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پولیس جموں و کشمیر دلباغ سنگھ نے 242 بچوں کے حق میں 16.11 لاکھ روپئے وظائف کی منظوری دی ہے۔پولیس ہیڈکواٹرکی طرف سے جاری 2021 کے آرڈر نمبر 33247 کے مطابق ڈی جی پی نے 90 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے 133 طلباء کے حق میں 7000 روپے کی منظوری دی ہے جبکہ 80 فیصد اور اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے 109 طلباء کے حق میں 6000 روپے منظور کئے ہیں۔یہ رقم مرکزی پولیس ویلفیئر فنڈ سے منظور کی گئی ہے۔رواں سال کے دوران اب تک 1.44 کروڑ روپے پولیس اہلکاروں کے 2362 بچوں کے حق میں منظور کیے گئے ہیں جنہوں نے دسویں اور بارہویں کے سالانہ امتحان میں 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے ہیں اور سیشن 2020-21 کے دوران گریجویشن میں کامیابی حاصل کی ہے۔