مزید خبریں

صوبائی کمشنرنے رگھو ناتھ مندر سے پریکرما یاترا کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا 

 جموں//جموں کے ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر راگھو لنگر نے اتوار کو یہاں کے تاریخی رگھوناتھ مندر سے جموں کے مختلف تاریخی مندروں کی پرکرما یاترا کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔یاترا جموں و کشمیر مذہبی، سیاحت، ثقافت اور ورثہ کی طرف سے جموں ڈویژن کے اضلاع میں مذہبی سیاحتی سرکٹس کو فروغ دینے اور عوام میں روحانیت کو ابھارنے کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی۔ اس موقع پرپرتیک اور مانک گپتا کی طرف سے لکھی گئی ایک کتاب، جس میں ان مندروں کی تاریخ کے بارے میں بریفنگ دی گئی، یاترا کے آغاز پر بھی جاری کیا گیا۔اس موقع پرصوبائی کمشنر نے کہا کہ حکومت نے جموں خطہ میں مذہبی، ہیریٹیج ایڈونچر اور دیگر سیاحت کے فروغ کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ڈاکٹر لنگر نے کہا"ڈویژن کے اضلاع میں روایتی اور ثقافتی تہواروں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ سیاحوں کو نئے مقامات کی طرف راغب کیا جا سکے۔ ہم نے تمام سٹیک ہولڈروں کے ساتھ یاترا کے سیاحتی سرکٹس کی ترقی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور یہ یاترا اس کے لیے ایک اچھی شروعات ہے۔خطے میں سیاحتی سرکٹس کی ترقی کے ساتھ، مقامی معیشت کو یقینی طور پر فروغ ملے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ یاتریوں کے سیاحتی سرکٹس کی ترقی سے شری امرناتھ اور شری ماتا ویشنو دیوی کی زیارت کرنے والے یاتریوں کو جموں کے شناخت شدہ سرکٹس میں شامل دیگر مذہبی اور ورثہ مقامات کی سیر کرنے کا موقع ملے گا۔یاترا کی تفصیلات بتاتے ہوئے مہنت راجیش بٹو نے بتایا کہ پرکرما یاترا کا انعقاد مذہبی سیاحت کو فروغ دینے اور جموں میں ہمارے تاریخی مندروں کے تحفظ اور فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رگھوناتھ مندر سے شروع ہونے والی یاترا پیر کھو کے راستے شری کرشنا رکمانی مندر، شری چنت پورنی مندر، شری بلرام جی مندر، شری بلو جی مندر، شری گدھادھری مندر، مبارک منڈی، شری رنویرشور جی مندر سمیت دیگر تاریخی مندروں کا دورہ کرے گی۔ ہنومان جی مندر گمٹ بازار میں اختتام پذیر ہوا۔بعد ازاں صوبائی کمشنر نے گوردوارہ ڈگیانہ آشرم کا دورہ کیا اور شری گرو تیگ بہادر جی کے پرکاش اتسو کو منانے کے لیے منعقدہ سماگم میں حصہ لیا۔انہوں نے گوردوارہ میں سجدہ کیا۔   
 

8سال قبل سیلف ایمپلائمنٹ سکیم کے تحت قرضے کا’’مارجن منی ‘‘واپس کرنے کاحکم

نوجوانوںنے کیااحتجاج ،کہاسرکاربیروزگاری کونہیں بیروزگاروں کوماررہی ہے

زاہدبشیر
رام بن //قریباًآٹھ سال قبل جن بیروزگارنوجوانوںنے روزگارکیلئے خودروزگارکمارنے کے لئے سیلف ایمپلائمنٹ سکیم کے تحت سرکارسے معاوضہ لیاہے ،آج سرکار ان بیروزگارنوجوانوں سے اس سکیم کے تحت جوفائدہ حاصل کیاہے وہ مانگ رہی ہے۔ سنگلدان سے تعلق رکھنے والے شبیراحمد کاکہناہے کہ قریباً آٹھ سال قبل سیلف ایمپلائمنٹ سکیم کے تحت انہوںنے کچھ قرضہ لیاتھا جس کاانہوں نے تجارت کیااوروہ قرضہ واپس بھی کیااوراْن سے این او سی بھی لی ہے لیکن آج تحصیلدارکی جانب سے ایک نوٹس آئی ہوئی ہے جس میں انہوںنے 6اپریل کو تحصیل دفتربلایاہے اورنوٹس میں لکھا گیا ہے کہ سیلف ایمپلائمنٹ کی جانب سے جو قرضہ لیاہے اس سے جوMargin Moneyہے اس کوجلدازجلدواپس کیاجائے بصورت دیگر آپ کیخلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔یہ نوٹس نہ صرف ایک نوجوان کوبلکہ دیگر بہت سارے نوجوانوں جن میںمحمدایوب ولدعبدالعزیزساکنہ سیری پورہ،عبدالحمیدشاہ ولدغلام شاہ ساکنہ مولکوٹ وغیرہ شامل ہیں۔ان تمام نوجوانوںنے احتجاج کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ سرکارکی طرف سے بیروزگاری کودورکرنا نہیں بلکہ بیروزگاروں کوہی ختم کرنے کی پالیسی ہے۔انہوںنے کہاکہ جوجوحکم نامہ قرضہ لیتے وقت جاری کیاگیاتھا وہ تمام لوازمات ہم نے پورے کئے ہیں اورتمام نے قرضہ جولیاتھا وہ بھی واپس کیاہے جس طرح سے ہم سے کہاگیاتھا۔ اس سلسلے میں تحصیلدارگول سے بات کی توانہوںنے کہاکہ جو قرضہ انہوںنے سیلف ایمپلائمنٹ اسکیم سے لی ہیں تواس سے جو فائدہ حاصل کیاہے اس کاکچھ حصہ انہوںنے جن سے قرضہ لیاہے ان کودینا تھاجوانہوںنے ابھی تک نہیں دیاہے۔ جس وجہ سے ان کونوٹس کے ذریعے سے دفتربلایاگیاہے۔وہیں بنک کے کچھ ماہرین سے جب بات کی اور اْس وقت کے سنگلدان میں تعینات بنک منجیرسے بات کی توانہوںنے کہاکہ یہ حیرانگی کی بات ہے کہ اس طرح کی بات ہو رہی ہے اور جس وقت یہ قرضہ ہم نے نوجوانوں دیاتواس وقت اس طرح کاکوئی حکم نامہ جاری نہیں ہواتھا اور جب کوئی نوجوان سیلف ایمپلائمنٹ بنک سے دولاکھ قرض لیتاتھا تو پچاس ہزار روپے اس قرضے لینے والے کومعاف تھا اور قرضدارکو صرڈیڑھ لاکھ واپس کرنا تھا لیکن آج اس طرح سے نوجوانوںکوستانا اچھانہیںہے۔انہوںنے کہاکہ سیلف ایمپلائمنٹ نے اس طرح سے جموںوکشمیرمیں کروڑوں روپے نوجوانوں کوقرضہ دیاہے جس میں بیروزگارنوجوانوںکوفائدہ پہنچانے کے لیلئے سرکارنے کافی رعایتیں دیں تھیں۔سابق بنک منیجرکاکہناہے کہ پہلے چھ مہینے میں کوئی سودنہیں لیاجاتاتھا اور اس طرح کے فائدے نوجوانوںکودیاجاتاتھاتاکہ وہ اپناروزگارکما سکیں۔
 

33 سالہ شخص نے چناب میں لگائی چھلانگ

فوج و ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں بچاو کاروائی میں مصروف 

عاصف بٹ
کشتواڑ// ایتوار کی صبح نوبجے کے قریب ایک شخص نے کشتواڑ سے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر واقع کڑیا پل سے دریائے چناب میں چھلانگ لگادی ۔مذکورہ شخص کی شناخت جودھ نگر پلماڑ کے 33 سالہ فروز چند ولد راکیش کمار کے طور ہوئی۔ حادثے کی خبر سنتے ہی فوج، پولیس و ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے بچائو کاروائی عمل میں لائی اور دریائے چناب کے کناروں پر دن بھر تلاش کی گئی تاہم دیرگئے تک کوئی کامیابی نہ ملی۔
 

کشتواڑ میں مارکیٹ چیکنگ،ناجائزمنافع خوری سے پرہیزکی تلقین

 عاصف بٹ
 کشتواڑ//ماہ رمضان کا متبرک مہینہ شروع ہوتے ہی ضلع انتظامیہ کشتواڑ بھی متحرک ہوئی اور ضلع ترقیاتی کمشنر کی ہدایت پر ٹیم نے بازاروں کا معائنہ کیا اور چیکنگ کی۔ اے سی آر کشتواڑ کی سربراہی میں تحصیلدار ، نایب تحصیلدار ، محکمہ فوڈ و دیگرمحکموں کی ایک ٹیم نے قصبہ میں متعدد دوکانوں کامعاینہ کیا۔ اے سی آر کشتواڑ اختر قاضی نے  دوکانداراوں سے ناجایز منافع خوری سے باز رہنے کو کہا اور خلاف ورز ی کرنے پرقانون کے تحت سخت کاروائی کا انتباہ دیاجبکہ انھوں نے لوگوں سے آگے آنے کی اپیل کی تاکہ خلافورزی کرنے والوں پر سخت کاروائی ہوسکے۔
 

ایس ایس پی کشتواڑ کا سرکوٹ مندر و جامع مسجد کشتواڑ کا تفصیلی دورہ 

عاصف بٹ
کشتواڑ// نوراترا اور مقدس رمضان کے آغاز کے پیش نظر ایس ایس پی کشتواڑ شفقت حسین بٹ نے دیگر افسران کے ہمراہ سرکوٹ مندر و جامع مسجد کشتواڑ کا دورہ کیا جس دوران انھوں نے دونوں انتظامی کمیٹی کے ممبران کے ساتھ میٹنگ کی۔میٹنگ کے دوران انہوںنے یقین دلایا کہ پولیس سے متعلقہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا اور سول انتظامیہ سے متعلق معاملات کو متعلقہ محکمے کے ساتھ جلد از جلد ازالے کیلئے بات ہو گی۔ایس ایس پی کشتواڑ نے کشتواڑ میں کووڈ19 وبائی امراض پر قابو پانے کے لیے عام لوگوں سے تعاون طلب کیا۔ ایس ایس پی نے کشتواڑ پولیس کی فیلڈ فارمیشنز کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس مقدس مہینے رمضان اور نوراتری کے دوران نئے جوش اور سماجی بہبود کے احساس کے ساتھ کام کریں تاکہ شہری اس مقدس مہینے کو آسانی سے منا سکیں۔
 

 1241 آشاورکراین آئی او ایس سر ٹیفکیشن اِمتحان میں شامل

جموں//این ایچ ایم جموں وکشمیر کے کُل1241 اے ایس ایچ ایز نے این آئی او ایس تھیوری اِمتحان برائے سرٹیفکیشن میں شرکت کی جو آل اِنڈیا لیول پر منعقد کیا گیا ہے۔ تھوری اِمتحان نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف اوپن سکولنگ ( این آئی او ایس )کے ذریعے جموںوکشمیر کے تمام اَضلاع میں مقرر کردہ مراکز میں منعقد کیا گیا۔جموںوکشمیر میں 25فیصد نان سرٹیفائیڈ اہل اہل اے ایس ایچ ایز نے آج آل اِنڈیا سطح کے این آئی او ایس اِمتحان میں شرکت کی ۔ آج تک جموںوکشمیر کے 51 اے ایس ایچ ایز کو این آئی او ایس کے ذریعے تصدیق شدہ ہے جو کہ ملک میں تناسب کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم یاسین چودھری نے تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اے ایس ایچ ایز کے سرٹیفکیشن کا تصور ایک قانونی اور اِنتظامی فریم ورک فراہم کرنے کے لئے کیا گیا ہے جس کے اندر اے ایس ایچ اے مختلف بیماریوں کے لئے کمیونٹی کی سطح پر دیکھ ریکھ فراہم کرنے کے لئے اہل اور ذمہ دار ہوگی ۔اس سے اے ایس ایچ ایز کی قابلیت اور پیشہ ورانہ ساکھ بڑھے گی ، اسے ادویات کا ایک سیٹ اور دیکھ ریکھ کے اس سطح کے لئے مناسب تشخیصی پوائنٹس کا استعمال کرنے کی اجازت ملے گی اور آشا کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار پر کمیونٹی کو یقین دہانی بھی ملے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑھ کریہ آشاکے اندر خود کو پہچاننے اور قدر کے احساس کو فروغ دے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 11,263 اے ایس ایچ ایز کو تمام ماڈیولز اور مختلف سکیموں میں تربیت دی گئی ہے اور ان میں سے تقریباً 60 فیصد اے ایس ایچ اے  این آئی او ایس سے تصدیق شدہ ہیں۔ جموں و کشمیر یوٹی  میں مصروف تمام  اے ایس ایچ ایز کو تمام تربیتی ماڈیولز میں تربیت حاصل کرنے کے بعد دوبرس کی مدت میں این آئی او ایس کے ذریعے مرحلہ وار تصدیق کی جائے گی۔ چونکہ این آئی او ایس نے ہربرس 4 سیشن شروع کئے ہیں۔اس لئے محکمہ کا ہدف ہے کہ ہر سیشن کے دوران 1000-1500 اے ایس ایچ ایز کو تربیت دی جائے تاکہ نیشنل انسٹی چیوٹ آف اوپن سکولنگ سے آل انڈیا لیول آشا سرٹیفیکیشن امتحان میں شرکت کے لئے صحت کارکنوں کی تعداد بڑھایا جاسکے ۔ جموں و کشمیرکی توجہ یہ ہے کہ 2024 ء کے بعد جموںوکشمیر یوٹی میں کوئی بھی اے ایس ایچ اے غیر تصدیق شدہ نہ رہ گیاہو۔این ایچ ایم جموںوکشمیر کی طرف سے لگائی جانے والی اے ایس ایچ ایز محکمہ صحت اور کمیونٹی کے درمیان این  رابطے کا کام کررہی ہیں ۔ آشا ایک ایسی کڑی ہے جس کے ذریعے لوگوں کی صحت دیکھ ریکھ کی ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے۔این ایچ ایم نے زمینی سطح پر صحت دیکھ ریکھ کی فراہمی کے لئے ان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے تما آشاز کے سرٹیفیکیشن کا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔آشا سرٹیفیکیشن پروجیکٹ حکومت کا ہے۔ آشا اور ان کے کیڈروں میں معیاری سطح کو مستحکم کرنے کے لئے ہندوستان کی پہل اور تیسرے فریق کی منظوری کیونکہ وہ حاملہ خواتین کے لئے تمام قومی صحت پروگراموں، ویکسی نیشن، متعدی امراض، تپ دق، جذام وغیرہ سے نمٹتے ہیں۔ وزارت صحت اور خاندانی بہبود، نیشنل ہیلتھ سسٹمز ریسورس سینٹر  اور نیشنل انسٹی چیوٹ آف اوپن سکولنگ ریاستی اور ضلعی ٹرینروں، ریاستی اور ضلعی تربیتی مقامات اورآشاز کی خاطر سرٹیفیکیشن کے عمل کو انجام دینے کے لئے سہ فریقی انتظامات ہیں۔آشاز کو ضلعی تربیتی مقامات پر دس دن کے سخت رہائشی تربیتی شیڈول کے ساتھ ساتھ آل انڈیا سطح پر سرٹیفیکیشن کے آخری تھیوری امتحان میں شرکت کے لئے عملی اور مہارت کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔اس فلیگ شپ پروجیکٹ کی بہت قریب سے نگرانی کی جاتی ہے اور وقتاً فوقتاً ایڈیشنل چیف سکریٹری، صحت اور طبی تعلیم وویک بھردواج اور ایم ڈی  این ایچ ایمچودھری محمد یاسین کی طرف سے اس کا جائزہ لیا جاتا ہے، اور اسے چیئرپرسن این آئی او ایس پروفیسر سروج شرما، ڈائریکٹرایوالویشن این آئی او ایس  ایس کے پرساد اور ریجنل ڈائریکٹر این آئی او ایس ڈاکٹر ترون پونیا کا براہ راست اور فعال تعاون حاصل ہے۔
 

شہریوں نے تاریخی ’’آپکی زمین آپکی نگرانی‘‘اقدام کو سراہا

لوگ ایک بٹن کے کلک سے زمینی ریکارڈ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں

نیوز ڈیسک
جموں//اِی ۔ گورننس آج کی دُنیا میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جوشہریوں کی تمام معلومات تک قابلِ اعتماد رَسائی کے لحاظ سے حکومتی عمل میں شفافیت ، جواب دہی ، کارکردگی اور جامعیت کو بڑھاتی ہے۔جموںوکشمیر حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی قیادت میں جدت طراز ی کو آگے بڑھاتے ہوئے لوگوں کو لینڈریکارڈ سسٹم تک بغیر کسی پریشانی کے آن لائن رَسائی کو بڑھانے کی ایک تاریخی پہل شروع کی ۔جموںوکشمیر کے لوگوں نے اِنتظامیہ کے اِس اقدام کو شہری دوست اقدام کے طور پر سراہا ہے جس سے یقینی طور پر لینڈ ریکارڈ سسٹم میں شفافیت اور جواب دہی میں اِضافہ ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم ’’ آپ کی زمین آپکی نگرانی ‘‘ کا آغاز کیا تاکہ عوامی صارفین کو سی آئی ایس پورٹل http://landrecords.jk.gov.in/پر آن لائن سکین شدہ ڈیٹا کی کاپیاں تلاش اور دیکھنے کی اِجازت دی جاسکے۔یہ اِقدام زمینی معاملات میں ریونیو ملازمین کی مداخلت کو کم کرنے اور لوگوں کو ایک بٹن کے کلک پر اَپنے زمینی ریکارڈ تک رسائی کا حق دینے کے لئے متعارف کیا گیا ہے ۔ اِس طرح مینی پولیشن کو کم کیا جائے گااور ریونیو دفاترکی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتر ی آئے گی۔’یہ ڈیجیٹل اِنڈیا لینڈ ریکارڈ ماڈرنائزیشن پروگرام ( ڈی آئی ایل آر ایم ) کے قومی پروگرام کا نتیجہ ہے جس میں زمینی معاملات میں عام لوگوں کو بہتر خدمات فراہم کی جاتی ہیں‘۔ڈیجیٹل اِنڈیا لینڈ ریکارڈ ماڈرنائزیشن پروگرام(ڈی آئی ایل آر ایم پی )کا باضابطہ طور پر اپریل 2016ء میں جموںوکشمیر یوٹی میں لینڈ ریکارڈ سسٹم تک آن لائن رَسائی کی بہتربنانے کے لئے شروع کیا گیا تھا جس سے بد عنوان طریقوں کا خاتمہ ہوا تھا اور او ر اِس طرح سب رجسٹرار اور تحصیل دفاتر میں معیاری خدمات کو یقینی بنایا گیا تھا۔لیفٹیننٹ گورنر کی اِنتظامیہ نے اِس بات کو یقینی بنایا کہ اراضی ریکارڈ پروگرام جس سست رفتاری سے عمل کیا جارہا ہے ، اسے عام لوگوں کے فائدے کے لئے تیز اور مکمل کیا جائے۔جموںوکشمیر یوٹی میں پروگرام کی عمل آوری کے حصے کے طور پر 3,895 گرائونڈ کنٹرول پوائنٹس کے قیام کے علاوہ ریونیو ریکارڈ کے 7.70 کروڑ صفحات اور 55,216 موسوی( نقشے) کو سکین کیا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ ویب پر مبنی اِس پہل کے تحت انٹر پرائز جیو اِنفارمیشن سسٹم ( جی آئی ایس ) تیار گیا گیا ہے۔حکومت نے ’’ آپ کی زمین آپ کی نگرانی‘‘ کے حوالے سے اِنفارمیشن ، ایجوکیشن اور کمیونکیشن (آئی اِی سی ) کی سرگرمیوں کے تحت عوام کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے تحصیل اور بلاک سطح کے دفاتر ،نیابت، پٹوار خانوں اور پنچایت گھر میں خصوصی کیمپوں کا اِنعقاد کیا اور جس سے لوگ ایک بٹن کے کلک سے زمینی ریکارڈ تک رَسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ضلع صدر آل جموںوکشمیر پنچایت کانفرنس سکمندر نورانی نے اِس تاریخی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا،’’ہم مرکزی اورجموںوکشمیر یوٹی سطح کے موجودہ انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے ترقی کے تمام شعبوں میں اس طرح کی تکنیکی اختراعات شروع کیں جو لوگوں کی زندگیوں کو آرام دہ اور آسان بناتی ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہاکہ’’آپ کی زمین آپکی نگرانی‘‘ نے عام لوگوں کو اَپنے موبائل پر زمینی ریکارڈ چیک کرنے کا اِختیار دیا ہے اور ہماری زمینی حفاظت کی ہے۔ میں اس تاریخی قدم کے لئے ایل جی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔اِسی طرح بژھ پورہ کے جہانگیر کاکہنا ہے کہ ریونیو آفس جانا ایک وقت طلب عمل تھا اور کافی تکلیف ہوتی تھی لیکن اَب میں اَپنے گھر بیٹھ کر زمینی ریکارڈ چیک کرسکتا ہوں۔حکومت نے معلومات کے خلا کو پُر کرنے اور جموںاور سری نگراَضلاع میں ریونیو ریکارڈ تک لوگوں کی آسانی سے رَسائی کو فروغ دینے کے اقدام کے طورپر سہ زبانی زمینی پاس بکس جاری کرنے کا عمل بھی شروع کیا ہے ۔ اَپنی نوعیت کی پہلی زمینی پاس بُک جموںوکشمیر میں زمین کے قانونی مالکان کو اُردو ، انگریزی اور ہندی زبانوں میں جاری کی جارہی ہے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے عوامی معاملات میں شفافیت کو مزید فروغ دینے کے لئے اِصلاحات کے طورپر لوگوںکو ریونیو پاس بک جاری کرنے کا ایک طریقہ کار تیار کیا گیا ہے جس میں ان کی تمام قانونی اراضی کے بارے میں معلومات موجود ہیں اور حکومت نے اِس عمل کی تکمیل کے لئے  15؍ اگست 2022ء کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ٹینگہ پورہ سری نگر کے شوکت احمد راتھر نے حکومت کے اِس اقدام کی تعریف کی ہے ۔اُنہوں نے کہا ،’’ یہ واقعی ایک اچھا قدم ہے ، سب کو فائدہ ہوگا۔ پہلے ریونیو حاصل کرنے میں مہینوں لگتے تھے ۔ لینڈ پاس بک سے اَب سب کچھ عوام کے پاس ہے ۔ ہمیں ریونیو دفاتر کا دورہ کرنے کے بوجھل عمل اور ڈرائو نے خواب سے نجات ملی ہے۔‘‘ٹینگہ پورہ کے خورشید احمد ریشی کے لئے یہ اقدام ان لوگوں کو بے نقاب کرے گا جنہوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا اور سرکاری زمین پر بنیادی ڈھانچہ بنایاہے۔
 

؎محمد ارشد ملک کی وفات پر الطاف بخاری کی تعزیت

اپنی پارٹی قیادت نے غمزدگان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا

جموں//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے واد ی چناب کے بزرگ سیاسی وسماجی شخصیت محمد ارشد ملک کی وفات پر گہرے دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔یہاں جاری تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ محمد ارشد ملک نے طویل عرصے تک سماجی خدمات انجام دی ہیں۔ ضلع رام بن اور بٹوت علاقہ کے لوگوں میں وہ کافی مقبول تھے۔ انہوں نے مرحوم کی جنت نشینی اور لواحقین کے لئے صبر وجمیل کی دُعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دُکھ کی اِس گھڑی میں سوگوار کنبہ، اُن کے رشتہ داروں اور دوست احباب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ پاک اُنہیں یہ صدمہ بردداشت کرنے کی ہمت عطافرمائے۔ اپنی پارٹی صوبائی لیڈرشپ بشمول جنرل سیکریٹری سید اصغر علی نے بھی محمد ارشد ملک کی وفات پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ 
 

113 سالہ قدیم ہائی سکول کے طلاب عارضی شیڈ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور 

200سے زائد طلباء کیلئے کوئی انتظام نہیں، سکولی عمارت پانچ سال قبل تعمیرتو ہوئی لیکن زمین مالک کا قبضہ نہ ہٹا

 عاصف بٹ 
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کی سب ڈویژن چھاترو کے علاقہ چنگام میں قایم ہائی سکول چنگام کی بنیاد 113 سال قبل 1909 میں رکھی گئی تھی لیکن آج تک سکول میں بچے عارضی شیڈوں میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے۔دورافتادہ علاقوںکے 200 سے زائد بچے اس وقت سکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیںجبکہ سکول میں محض 20طلبا کے بیٹھنے کی جگہ دستیاب ہے اور اسوقت بچے بیکن کے بنائے عارضی شیڈوں کے اندر تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں یہ شیڈ ٹوٹ چکے ہیں اوربیٹھنے کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے مرکزی سرکار و یوٹی سرکار پر الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سرکار تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے بلندبانگ دعوے تو کرتی ہے  لیکن زمینی سطح پر حالات ان سبھی دعوئوں کی پول کھولتے ہیں جہاں بچوں کو بیٹھنے کیلئے کوئی بھی انتظام نہیں ہے اور انگریزوں کے دور میں قایم سکول کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔15000سے زائد آبادی کیلئے علاقہ میں محض ایک ہائی سکول ہے جس میں دوردرازعلاقہ جات سے بچے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔سکول میں تعلیم حاصل کررہے بچوں نے بتایا کہ وہ مٹی پربیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ سکول کی عمارت ہی نہیں ہے۔ دسویں جماعت کی طالبہ رضینہ بانو نے بتایا کہ وہ چنگام سے سکول تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، ہمارے سکول میں کوئی بھی سہولیات نہیں ہے جبکہ ہم عارضی ٹوٹے شیڈوں میں بیٹھتے ہیں اور صرف ایک کمرہ دستیاب ہے،جب کبھی بارش ہوتی ہے تو سارا پانی اندر داخل ہوجاتا ہے ۔ان کا کہناتھا’’ ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں سکول کی عمارت فراہم کی جائے جہاں ہم تعلیم حاصل کرسکیں‘‘۔ آٹھویں جماعت کے طالب علم محمد سلطان نے بتایا کہ جب کبھی کوئی بچہ بیمار ہوتا ہے تو وہ سکول میں موجود مٹی سے ہوتاہے،سکول میں بیٹھنے کیلئے ڈیسک تک نہیں ہیں اور بچے مجبور ہوکر مٹی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ سکول کے انچارج ہیڈماسٹر نے بتایا کہ 211 بچوںکیلئے محض ایک کمرہ ہے اور بچے مجبور ہوکر ان شیڈوں میں بیٹھتے ہیں۔ان کا کہناتھا’’ اگرچہ سکول کی نئی عمارت مکمل ہے لیکن ہمیں بلڈنگ نہیں دی جارہی ہے۔ اگرچہ ہم نے کئی مرتبہ ا علیٰ حکام کو آگاہ بھی کیا لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی ‘‘۔ان کا مزید کہناتھا’’اگرچہ سکول کیلئے عمارت پانچ سال قبل تعمیر ہوئی ہے لیکن زمین مالک کا معاوضہ کو لیکر مسئلہ بنا ہوا ہے اور اس نے وہاں گھاس جمع رکھی ہے جبکہ وہ معاوضہ و نوکری کا مطالبہ کررہا ہے جس کی وجہ سے وہ عمارت کو دینے کیلئے تیار نہیں ہے جسکا خمیازہ ان غریب بچوں کو بھگتنا پڑرہا ہے‘‘۔معاملے کو لیکر جب کشمیر عظمیٰ نے زیڈ ای او اندروال سے فون پر رابطہ کرنا چاہا تو ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔