مزید خبریں

اڑائی ملکاں کی عوام رابطہ پل کی تعمیر کولیکر انتظامیہ سے نالاں

عشرت حسین بٹ
منڈی //تحصیل منڈی کے گاوں اڑائی ملکاں کی عوام گزشتہ کافی عرصہ سے ایک رابطہ پل کو ترس رہے ہیں جبکہ اس جدید دور میں بھی سرکار کی جانب سے مکینوں کےلئے بنیادی سہولیات ہی دستیاب ہی نہیں رکھی گئی ہے ۔پنچائیت اڑائی ملکاں میں اگر چہ تین کلو میٹر سڑک کی تعمیر ہو رہی ہے مگر سڑک کی تعمیر سے قبل اس علاقہ کو مین سڑک سے جوڑ نے کےلئے ایک پل کی تعمیردرکار تھی لیکن حکام کی جانب سے اس طرف ابھی تک دھیان نہیں دیا گیا ہے ۔سرپنچ حلقہ محمد اسلم ملک نے بتایاکہ تب تک سڑک تعمیر کرنے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہے جب تک کہ اس علاقہ کو سڑک سے جوڑنے کے لئے پل کی تعمیر نہ ہو ۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنرپونچھ کے ساتھ ساتھ محکمہ تعمیرات عامہ کے آفیسران کا بھی شکریہ اداکیا کہ انہوں نے سڑک کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا۔ انہوں نے کہاکہ اس سڑک کا اس وقت تک اس عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب تک کہ اڑائی گاوں کے درمیان بہنے والے نالے پر پل تعمیر نہ کیا جاے گا۔ ان کا کہنا تھا چونکہ سڑک ابھی بھی دریا سے گزر کر آتی ہے۔ جہاں ہر وقت طغیانی سے کوئی بھی گاڑی موٹرسائیکل ایمبولنس یاپھر کسی بھی دوسری گاڑی کو یہاں سے گزرنا سخت دشوار ہے۔ ان کے علاوہ گاوں کے متعدد لوگوں نے بھی کہاکہ اگر چہ ستتر سال بعد اس علاقہ میں سڑک کی تعمیر ہو رہے ہے مگر تب تک اس سڑک کا عوام کو ئی فائدہ نہیں ہے جب تک کہ اس نالہ پر پل تعمیر نہ کیا جائے ۔انہوں نے جموں وکشمیر لیفٹنٹ گورنر کے ساتھ ساتھ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محکمہ تعمیرات عامہ کے اعلی آفیسران سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد اس عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوے رابطہ پل کی تعمیر کو یقینی بنایں تاکہ یہاں کہ عوام بھی سڑک کی سہولیات سے فیضیاب ہوسکے۔
 
 
  

رہبر تعلیم ٹیچر فورم اراکین کا تھنہ منڈی میں استقبال 

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی // جموں و کشمیر رہبرِ تعلیم ٹیچر فورم نے تھنہ منڈی میں اس کی مرکزی باڈی کے چیئرمین فاروق احمد تانترے، جنرل سکریٹری جہانگیر عالم خان اور وی سی ظہور الدین بیگ کا پرتپاک استقبال کیا۔ چیئرمین فاروق احمد تانترے نے بتایا کہ وہ جموں و کشمیر رہبرِ تعلیم ٹیچر فورم کے دیرینہ مطالبات کو پورا کرنے کے سلسلے میں ایک خاص مشن پر ہیں۔ انہوں نے یو ٹی انتظامیہ سے رہبرِ تعلیم اساتذہ کے حق میں ٹرانسفر پالیسی کے لئے زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر رہبرِ تعلیم ٹیچر فورم کے زیر التواءمطالبات کو پورا کرنے کے لئے طویل عرصے سے جدو جہد جاری ہے۔ موصوف نے مناسب تعلیم اور کمیونٹی کلاسوں کےلئے تدریسی برادری پر زور دیا جس کےلئے انہیں حکومت کی طرف سے اجرتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ فاروق احمد تانترے نے کہا کہ تمام کاروباری مراکز اور بازار کھلے ہیں لیکن تعلیمی ادارے ابھی تک بند ہیں۔ انھوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر سکول کھولے جائیں کیونکہ ہمارے بچوں کا بہت بڑا تعلیمی نقصان ہو چکا ہے اور اگر مزید اسکول بند رہیں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔
 
 
 

ماسٹر نور احمد کی اچانک وفات 

کئی سیاسی و سماجی شخصیات کا اظہار دکھ 

جا وید اقبال 
مینڈھر //مینڈھر کی سرحدی تحصیل منکوٹ کے رام کنڈ چھجلہ علاقہ کے رہائشی ماسٹر نور احمد کی ہوئی اچانک وفات پر مینڈھر کی کئی سیاسی ،سماجی و مذہبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کےساتھ تعزیت کا اظہارکیا ہے ۔اہل خانہ نے بتایا کہ موصوف مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں ۔اس کے علاقہ بالاکوٹ کے دھراٹی علاقہ کے رہائشی قدرت اللہ خان کا بھی انتقال ہو گیا ہے ۔دونوں معززین کی وفات پر سابقہ وزیر نثار احمد خان ،سابقہ ایم ایل سی مرتضی خان ،رشید قریشی ،رحیم داد ،ڈی ڈی سی ممبر انجینئر واجد بشیر خان ،وائس چیئر مین اشفاق چوہدری ،عمران ظفر ،بی ڈی سی ممبر طاہرہ جبین ،امان اللہ چوہدری ،ایڈوکیٹ معروف خان ،پروین سرور خان ،ایڈوکیٹ جاوید خان ،محمد عظم فانی،محمد صادق چوہدری ،شوکت چوہدر ی کےساتھ ساتھ ٹیچر ایسوسی ایشن مینڈھر کے ماسٹر نو ر احمد کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کےلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔
 
 

سرنکوٹ میں شجر کاری مہم کاآغاز کردیا گیا 

بختیار کاظمی
سرنکوٹ// سرنکوٹ کے مختلف مقامات پر شجر کاری مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔تحصیل لیگل سروس کمیٹی چیرمین سرنکوٹ منظور خان نے رینج آفیسر سرنکوٹ کے دفتر کے قریب شجر کاری مہم کا افتتاح کیا ۔اس مہم کو شروع کر تے ہوئے کئی پودے لگائے گئے ۔اس دوران بولتے ہوئے تحصیل لیگل سروس کمیٹی کے چیئر مین نے کہاکہ قدرتی ما حولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کےلئے پودے ایک اہم رول ادا کرتے ہیں جبکہ سماج کے ہرایک شخص کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں پورے لگا کر قدرتی ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں اپنا رول ادا کرئے ۔ اس موقعہ پرپی ایل وی افراز احمد اور سوشل فاریسٹری آفسران سرنکوٹ کے ملازمین بھی شامل تھے۔
 
 
 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نمایاں کارکردگی

پونچھ کے غریب طالب علم کی سراہنا کی گئی 

حسین محتشم
 پونچھ//محمود علی ولد مرحوم انصار حسین سوگی سکنہ منڈی جو کہ ایک یتیم نوجوان ہے، نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلے کے لئے سرینگر مرکز سے نہایت اعلی نمبروں سے امتحان پاس کر کے امتیازی پوزیشن حاصل کی ہے جس کے لئے پونچھ ضلع کے سیاسی و سماجی شخصیات خصوصی طور پر ان کے رشتہ دار اور برادری کے لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔امام و خطیب مسجد اہلبیت مصطفےٰ نگر پونچھ مولانا کرار حسین جعفری نے محمود علی کے بہترین اکر کردگی پر ان کی والدہ اور دیگر تمام رشتہ داروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نوجوان طالب علم مستقبل میں بھی علم وعمل میں اپنا لوہا منواتا رہے گا۔انجمن جعفریہ پونچھ کے سابق صدر زکی حیدر کاظمی نے بھی محمد علی کو مبارک باد پیش کی ہے۔ماسٹر لیاقت علی صفوی اور نزاکت علی باگن منڈی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہا کہ حالیہ نتائج طالب علم محمود علی کی محنت لگن کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جنہوں نے ریاستی سطح پر اچھے نمبرات حاصل کر کے نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نوجوان یتم بچہ ہے اور کئی طرح کی پریشانیوں اور مسائیل کے باوجود ہمت سے کام کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کر رہا ہے ۔انھوں نے محمود علی اور ان کی والدہ کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنے تعلیمی سفر کو یونہی جاری رکھتے ہوئے اپنے ہر امتحان میں بہتر کارکردگی دیکھائیں گے۔
 
 

لفافے بنانے والی فیکٹری پر پابندی لگانے کا مطالبہ 

حسین محتشم
پونچھ//بار ایسو سی ایشن پونچھ کے صدر ایڈوکیٹ محمد معروف خان نے پولی تھین پر زمینی سطح پر پابندی نہ لگانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہو انہوں نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ پولی تھین سے انسانی زندگیوں اور نباتات کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا اس پر پابندی کی سپریم کورٹ نے بھی سخت ہدایت کی ہے لیکن اس پر عمل اس وقت ہی ممکن ہوگا جب پولی تھین بنانے والی فیکٹریاں بند ہوں گی۔ انہوں نے بہت سے ممالک کے بارے میں مختصراً حوالے دیئے جہاں پولی تھین کا استعمال ایک سنگین جرم ہے لیکن ہم اپنی ریاست میں دیکھتے ہیں کہ پولی تھین کے مضر اثرات سے کوئی واقف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا نکاس آب کو روکنے کے علاوہ گائے اور دوسرے جانور ان زہریلے مواد کو کھا کر مر جاتے۔ انتہائی اہم مسئلے کی سنگینی کے بارے میں سوچنے کی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پونچھ میں بھی اس سلسلے کو رکنے کے لئے کارروائی کرنی چاہیے۔ یہ عمل تب ہی رک سکتا ہے جب فیکٹریاں پولی تھین کی پیداوار بند کر دیں۔ انہوں نے ایل جی حکومت سے ماحولیات، انسانوں اور جانوروں کی زندگی کو بچانے کےلئے پولی تھین پر پابندی لگانے کی اپیل کی۔
 
 

پہاڑی قبائل کا ڈاک بنگلہ پونچھ میں اجلاس

حسین محتشم
پونچھ// پہاڑی ویلفیئر فورم کی جانب سے’پہاڑی قبیلے کےلئے مساوات اور سماجی انصاف" کے موضوع پر ایک انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر مقررین نے بغیر کسی تاخیر کے پہاڑی قبیلے کو ایس ٹی کا درجہ دینے پر زور دیا اور پہاڑی قبیلے نے مرکزی وزیر داخلہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی جی نے پہاڑی کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دینے کے لیے ریزرویشن کے اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر موجود پہاڑیوں نے ایک آواز میں اپنی پست حال حالت پر تشویش کا اظہار کیا اور مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ST کا درجہ حاصل کرنے کے ان کے طویل عرصے سے زیر التواءمطالبات کو پورا کریں۔ مقررین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس بار مرکز کی قیادت ایک مکمل اکثریت رکھنے والی حکومت کر رہی ہے اور پختہ یقین کے ساتھ ایک وزیر اعظم ہے جو انتہائی محروم قبیلے کے اس حقیقی مطالبے کو پورا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیوں نے پہاڑی کو پسماندہ نسل قرار دیا۔ سال 2013 میں جب مرکزی حکومت نے ڈاکٹر پیرزادہ محمد آمین کی سربراہی میں ایک سماجی نسلی کمیٹی کا تقرر کیا۔ ، کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پہاڑی نسل ہندوستان کے آئین میں بیان کردہ تمام پیرامیٹرز سے ST کا درجہ رکھتی ہے۔ اس اجلاس میں افتخار احمد بزمی ایڈووکیٹ، سنجیو شرما، ڈاکٹر نتن شرما، سید نصرت شاہ ،سرفراز احمد میر ،سہیل شہزاد ملک ڈی ڈی سی ممبر حلقہ،ایڈوکیٹ احسن مرزا ، وکرانت شرما، گرودیو سنگھ ، سرپنچ منیر مرزا ، سنیل شرما صدر ایم سی پونچھ، ایڈوکیٹ سید تاج حسین شاہ، محمد زمان، مہندر پیاسا، تاج میر، عبدالمجید خان، عرفان خان، سابق ڈپٹی چیر مین لیجس لیٹیو کونسل جہانگیر میر، ایم اہل سی۔پردیپ شرما، سید شوکت کاظمی،سید نازک حسین شاہ، سدرشن شرما، سید ذکی حیدر، پرویز آفریدی، زمرد مغل، آصف اقبال میر، نشول شرما، ایس کمل جیت سنگھ، امان ڈبر، ایس کمل جیت سنگھ، شازیہ میر، روزیہ کاظمی، شہناز خان، ضمیر شیخ، شاہ خالد نے خطاب کی۔