مزید خبریں

زیارت دستگیر صاحبؒ کراوہ بانہال میں | درود و اذکار اور ختمات العمعظمات کی مجالس کا آغاز

محمد تسکین
بانہال//زیارت پیر دستگیر صاحبؒ کراوہ بانہال میں سالانہ عرس کے سلسلے میں درود و اذکار اور کی محفلوں کا آغازا اتوار یکم ربیع الثانی سے شروع کیا گیا ہے اور درود و اذکار اور ختمات العمعظمات کا یہ سلسلہ 11ربیع الثانی تک جاری رہے گا ۔ بانہال کے ساتھ ہی مضافاتی گائوں کراوہ میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ عرس گیارہ ربیع الثانی مطابق 17 نومبر بروز بدھ منعقد کیا جائیگا اور اس دن شیخ عبد القادر جیلانی سے منسوب تبرکات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔اتوار سے شروع ہوئی درود و اذکار اور ختمات العمعظمات کی مجالس میں بانہال  ، کسکوٹ، لامبر ، عشر ، کراوہ کے مقامی لوگوں کے علاہ وادی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے عقیدت مند اور علما گیارہ روز تک جاری رہنے والی ان مجالس میں شرکت کرتے ہیں جبکہ عرس کے روز وادی چناب اور وادی کشمیر کے علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ زیارت دستگیر صاحبؒ کراوہ کے مقامی لوگ ہرسال اس عرس کے موقع پر یہاں دور دور سے پہنچنے والے زائرین کی دل کھول کر مہمان نوازی کرتے ہیں اور یہ سلسلہ دہائیوں سے یوں ہی چلتا آرہا ہے۔ 
 

گول:موئلہ سے سلبلہ تک روڈکی حالت ابتر | محکمہ تعمیرات عامہ کی لاپروائی پر عوام برہم،انتظامیہ سے کی اپیل

زاہد بشیر
گول//سب ڈویژن گول میں اکثر پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے تعمیر ہوئی سڑکوںکی حالت نہایت ہی ابتر ہے ۔ گول بازار سے لے کر زلس تک سڑک کی حالت دگر گوں ہے وہیں موئلہ سے سلبلہ تک کی حالت نہایت ہی خستہ ہے جس وجہ سے یہاں گاڑیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو چلنے میں کافی دشواریوں کا سامناکرنا پڑ رہا ہے ۔ موئلہ سے سلبلہ تک سڑک پر ٹنل کی مک کو بچھا کر رکھا گیا جس پر کوئی رولنگ نہیں کی گئی جس وجہ سے پھروں کے بیچ گاڑیوں کو چلنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہاں بڑے بڑے گڈھے ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں کو پیدل چلنے اور گاڑیوں کو چلنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس طرح سے گول بازار سے زلس تک کی حالت بھی نہایت ہی خستہ ہے ۔ عبدالرحیم نامی ایک سماجی کار کن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گول بازار سے سلبلہ تک روڈ کی حالت نہایت ہی خستہ ہے بیچ میں کوئی ایک کلو میٹر حال ہی میں میکڈم بچھایا گیا اور باقی تمام سڑک کی حالت نہایت ہی ابتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گول بازار سے سلبلہ تک پوری سڑک پر نالیوں کا نام و نشان نہیں ہے تمام نالی ملبے سے بھری پڑی ہے جس وجہ سے بارشوں کا پانی سڑک پر گزرتا ہے اور یہ سڑک تالاب کی شکل اختیار کر جاتی ہے اور لوگوں کو چلنے میں اس دوران کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں سڑکوں کی تعمیر میں بہت زیادہ غیر معیاری میٹریل استعمال ہو رہا ہے جس وجہ سے چند ہی دنوں میں سڑک کی حالت ابتر ہو جاتی ہے اور بیچ سڑک میں دو دو فٹ کے کھڈے پڑ جاتے ہیں یہ غیر معیاری میٹریل کی وجہ سے ہی ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹنلوں سے نکلنے والی مک جس کو غیر معیاری قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے با وجود یہاں اس کو تعمیر میںبلا روک ٹوک لگایا جا رہا ہے جس پر انتظامیہ کو جاگنے کی ضرورت ہے ۔ وہیں موئلہ سے سلبلہ تک سڑک کی حالت بھی نہایت ہی خستہ ہے ۔ اگر چہ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس کے با وجود سڑک کی حالت جوں کی توں ہے محکمہ تعمیرات عامہ کی لا پروائی سے جہاں لوگ پریشان ہیں وہیں زمیندار اور رہائش پذیر لوگ بھی کافی زیادہ پریشان ہیں ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ محکمہ تعمیرات عامہ کی جانچ پڑتال کی جائے کہ آیا جو رقم وہ خزانہ عامرہ سے نکالتے ہیں وہ کہاں جاتی ہے اور سڑکوں کی حالت سالہا سال سے کیوں خراب ہے ۔
 
 

سنجواں اور چوادی فاریسٹ علاقوں کے روینو ریکارڈ غائب ہونا تشویشناک :انکور شرما

جموں// اک جٹ جموں کے چیئرمین ایڈوکیٹ انکور شرما کا کہنا ہے کہ سنجواں اور چوادی جنگلی علاقوں کے روینو ریکارڈ غائب ہونا کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ یہ ملک کی سیکورٹی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار اتوار کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’جموں صوبہ کے فاریسٹ ایریا سنجواں اور چوادی کے رونیو ریکارڈ گم یا مبینہ طورپر تباہ کئے گئے ہیں جو تشویشناک بات ہے اور اس مسئلے پر خاموش رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔ان کا کہنا تھا: جس وقت روشنی اسکیم پر عدالت کا فیصلہ آیا تو سرکار پر دباو بڑھنے لگا اور  یہ کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے بیچ سرکار نے عدالت عالیہ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی۔ انکور شرما کا کہنا کہ سرکار نے روشنی اسکیم میں ملوث افراد کو بچانے کی خاطر عدالت عالیہ میں نظر ثانی کی درخواست جمع کی اور اانتظامیہ کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ حکومت ملوثین کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی  کیونکہ عدالت میں ابھی بھی یہ کیس چل رہا ہے۔انہوں نے کہا: روشنی اسکیم پر آئے عدالت عالیہ کے فیصلے پر سرکار کی جانب سے طوالت کی پالیسی اختیار کرنے کے بعد اب سنجواں اور چوادی فاریسٹ ایریا کے کاغذات گم ہونا اس بات کی اور اشارہ کررہا ہے کہ سرکار کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔انکورشرما نے مزید کہا:’سنجواں اور چوادی کے رونیو کاغذات گم ہونے کے پیچھے بہت بڑی سازش کار فرما ہے کیونکہ جیسے جیسے سرکار پر روشنی اسکیم پر عدالت کے فیصلے کو عملانے کا دباو بڑھا تو اسی دوران سنجواں اور چوادی کے رونیو کاغذات گم ہو گئے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جموں صوبے کے ساتھ بہت بڑی سازش رچائی جارہی ہیں‘۔ایڈوکیٹ شرما کے مطابق یہ مسئلہ صرف جموں صوبے سے جڑا ہوا نہیں بلکہ پورے ملک کی سیکورٹی کا معاملہ ہے جس پر ہم سبھی کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔انکور شرما نے الزام لگایا کہ سرکار لینڈ جہاد میں ملوث افراد کو بچانے میں لگی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’اب اس معاملے پر ایف آئی آر درج ہوگی جس سے یہ مسئلہ مزید طول پکڑے گا ، ثبوت مٹائے جائیں گے ، اْس وقت کے پٹواری اور محکمہ مال کے دوسرے آفیسران سے پوچھ گچھ ہوگی اور اس طرح سے معاملہ ٹھنڈے بستے میں ڈال کر جموں کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا جائے گا‘۔
 
 

معمولی معدنیات کے نرخوں کے تعین کا خیرمقدم

پنچایت کانفرنس نے حکومتی حکم کی سختی سے تعمیل کا مطالبہ کیا

  جموں// منبع اور پروسیس شدہ مواد پر معمولی معدنیات کی قیمتیں مقرر کرنے کے ضلع انتظامیہ جموں کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آل جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس نے درخواست کی ہے کہ لوگوں کو مطلوبہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی احکامات کی سختی سے تعمیل کی جائے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، AJKPC کے UT صدر انیل شرما نے ڈپٹی کمشنر جموں کا شکریہ ادا کیا۔ انشول گرگ نے گزشتہ دو مہینوں سے اے جے کے پی سی کی طرف سے اوور چارجنگ کے مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور سٹون کرشروں کے ذریعے بھونڈے لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا تھا کیونکہ وہ پروسیس شدہ تعمیراتی مواد کے لیے حد سے زیادہ قیمت وصول کرتے تھے۔انہوںنے کہا"ہم ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ انہوں نے آخر کار سٹون کرشرز پر معمولی معدنیات کے منبع اور پروسیس شدہ مواد کے نرخ مقرر کر دیے ہیں۔ سٹون کرشر آپریٹرز حد سے زیادہ قیمت وصول کر رہے تھے اور اپنی بداعمالیوں کو چھپانے کے لیے، وہ اس کے لیے مناسب بلوں سے انکار نہیں کرتے تھے"۔ شرما نے کہا "ہم گزشتہ دو ماہ سے مسلسل اس مسئلے کو اٹھا رہے تھے اور ہم نے انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنا چاہیے کہ سٹون کرشرز کو معمولی معدنیات کی ریٹ لسٹیں دکھائی جائیں‘‘۔شرمانے کہا کہ انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ متعلقہ تحصیلدار اور ایس ایچ اوز سمیت افسران ان سٹون کرشروں کا باقاعدہ معائنہ کریں تاکہ حکومت کی طرف سے شائع کردہ ریٹ لسٹوں کی سختی سے تعمیل ہو سکے،اس کے علاوہ، انتظامیہ کو حکومتی حکم کی سختی سے تعمیل کے لیے متعلقہ منتخب پی آر آئی ممبران سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچے۔
 

1971 جنگ کے ہیروز کو کانگریس کاوالہانہ خراج عقیدت

 جموں//پردیش کانگریس کمیٹی نے شہیدی چوک میں ایک شاندار تقریب میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ 1971 کی 50 ویں سالگرہ منائی۔اے آئی سی سی کنوینر یادگاری کمیٹی اور کانگریس کے سینئر لیڈر کیپٹن پراوین داورمہمان خصوصی تھے اور پی سی سی صدر جی اے میر نے تقریب کی صدارت کی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں اور ریٹائرڈ فوجی جوانوں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔کیپٹن پراوین داور، جو بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کی یادگاری کمیٹی کے کنوینر ہیں، نے 1971 کی جنگ کی تاریخ کا حوال بیان کیا اور ان کے 40 منٹ کے زبردست خطاب کے دوران انہیں پوری توجہ سے سنا گیا۔انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلیں 50 سال قبل ایک آزاد اور خودمختار ملک کی تشکیل میں اندرا گاندھی کی یادگاری شراکت کو تشکر کے ساتھ یاد کریں گی ۔کیپٹن داور نے یاد دلایا کہ امریکہ اور چین کی ممکنہ مداخلت کے خلاف خود کو محفوظ بنانے کے لیے، ہندوستان نے 9 اگست 1971 کو، ایک 20 سالہ ہند-سوویت امن اور دوستی اور تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں فوری طور پر باہمی مشاورت اور کسی بھی ملک کو فوجی خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مناسب موثر اقدامات فراہم کیے گئے تھے۔کیپٹن داور نے 1971 کی جنگ کے 4000 شہیدوں اور 513 ویر چکر، 77 مہاویر چکر اور 4 پرم ویر چکر کے فاتحوں – میجر ہوشیار سنگھ، 2/ لیفٹیننٹ ارون کھیترپال، ایل این کے البرٹ ایکا اور فلائنگ آفیسر نرمل جیت سیکھون کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے کے پی سی سی کے سربراہ جی اے میر نے اندرا گاندھی کی مضبوط اور متحرک قیادت کو یاد کیا جن کی قیادت میں بہادر ہندوستانی فوج نے قوم کو دنیا کی تاریخ میں بے مثال فتح دلائی اور یہ منفرد فتح تھی جب پاکستان صرف 13 دنوں میں دو ملکوں میں تقسیم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی عظیم قیادت گاندھی اور بہادر مسلح افواج نے قوم کو تاریخ کی ایک عظیم فتح سے ہمکنار کر کے ملک کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جس پر ہر ملک کے آدمی کو فخر ہے۔
 
 
 

پاڈروالی بال چمپئن شپ پدھیارنا میں اختتام پذیر 

ناگسینی سٹرائیکرز نے فائنل میچ میں پاڈررائلز کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی

کشتواڑ //ناگسینی سٹرائیکرسزنے دوسرے دن پاڈر رائلز کو فائنل میچ میں شکست دے کر پاڈر والی بال چمپئن شپ جیت لی۔پاڈر والی بال چمپئن شپ کی میزبانی فوج نے کی تھی جس کا مقصد مقامی کھیلوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اور نوجوان ذہنوں کو تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینا تھا۔ فائنل میچ پدھیارنا ناگسینی میں کھیلا گیا۔ ٹورنامنٹ کا افتتاح کمانڈنگ آفیسر، 17 آر آر (مراٹھا ایل آئی) نے 20 اکتوبر 2021 کو گلاب گڑھ میں کیا۔ ٹورنامنٹ میں پاڈر اور ناگسینی بلاکس کی تمام پنچایتوں کی ٹیموں کی زبردست شرکت دیکھی گئی۔ناگسینی سٹرائیکرز کو بہترین بوسٹر کی ٹرافی اور پاڈر رائلز کے سوہن چوہان کو بہترین اسپائکر کی ٹرافی سے نوازا گیا۔ونر ٹیم، رنر اپ ٹیم، بیسٹ بوسٹر اور بیسٹ سپائیکر کو نقد انعام، ٹرافی اور میڈلز دئیے گئے۔
 
 

رانا نے اجتماعی تقریبات کے انعقاد میں کمیونٹی  اقدامات کو سراہا

جموں//حقیقی مذہبی ثقافتی جذبے کے ساتھ کفایت شعاری کے ساتھ مختلف مذہبی ذمہ داریوں کو انجام دینے میں کمیونٹی کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے اور بی جے پی لیڈر دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ یہ اقدامات سماجی اصلاحات کی کامیاب تکمیل کے لیے انمٹ نشان اور دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ رانا نے یہاں سوامی مرزا کاک جی آشرم میں گلوبل سولیس سوسائٹی اور وشو کشمیری سماج کے زیر اہتمام سموہک یگنوپوت تقریب میں شرکت کرتے ہوئے کہا ’’اس طرح کی کوشش شائستگی اور اعلیٰ سطح کی آزادی کی عکاسی کرتی ہے‘‘۔ رانا نے کہا کہ اس طرح کی اجتماعی تقریبات سماجی نظم میں برابری لاتی ہیں اور فضول خرچی کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں جس نے معاشرے کے غریب طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ دولت مند لوگوں کی طرف سے رونق اور دکھاوا تقریباً ایک معمول بن گیا ہے جو آخر کار ایک سماجی برائی کے طور پر قائم رہتا ہے جس سے لڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پس منظر میں، نیک نیتی سے کی گئی کوشش انتہائی قابل تعریف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کی بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ان کاکہناتھا"ایک آزاد کمیونٹی سے آنے کے بعد، اجتماعی تقریبات دوسروں کو بھی اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دیں گی"۔ رانا نے والدین کو اجتماعی تقریبات میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے میں اعلیٰ درجے کی سمجھ بوجھ کا مشاہدہ کیا اور مبارکباد پیش کی جس نے اس طرح کی تقریب کے اختتام کو ممکن بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعی خوش کن ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جموں کے میئر چندر موہن گپتا نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک نیک مقصد قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی اجتماعی کوششیں نجات کے اشارے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "یہ کوششیں درحقیقت بہت زیادہ ضروری سماجی اصلاحات لانے میں بہت آگے جائیں گی۔" کنوینر کشمیری سماج کرن متل نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی تقریبات میں تیزی آرہی ہے، کیونکہ عام طور پر لوگ ایسے مواقع کو کفایت شعاری کے ساتھ انجام دینے کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے ماضی میں اس طرح کی تقریبات کے انعقاد اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو رضاکارانہ طور پر اس طرح کی تقریبات کے انعقاد میں شامل ہیں۔
 

 شاہ نواز آہنگر کو صدمہ، والدانتقال کر گئے

کشتواڑ//کشتواڑ کے معروف سیاسی و سماجی کارکن اور راشٹریہ اٹل سینا کے جنرل سیکرٹری شاہ نواز آہنگر کے والد غلام حیدر آہنگر کا حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ انکی موت پر ضلع و جموں کشمیر کی مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے بتائا کہ وہ شریف النفس اور ہمدرد انسان تھے اور ان کے جانے کی وجہ سے سماج میں ایک عظیم خلا پیدا ہوا ہے جسے پر کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے مرحوم کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہیں صبر کرنے کی تلقین کی اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے دعا بھی کی۔ 
 

بارہمولہ میں خون کے عطیہ کا کیمپ منعقد

سرینگر//
جموں و کشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہ مولا میں ایک خون کے عطیہ کا کیمپ منعقد کیا جس میں تقریبا ًدرجنوں رضاکاروں نے خون کا عطیہ پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر پارٹی چیئرمین جناب آغا سید عباس رضوی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیمپ زندگی بچانے کے بنیادی ڈھانچے ہیں اور آیندہ بھی وادی کے طول وعرض میں منعقد ہونگے۔
 

دوفوٹو پیج کے آخر میں ساتھ ساتھ لگا دینا۔کیپشن دونوںکا کٹھاہوگا

 
ایتوار بازار جموںمیں لوگوں کی بھاری بھیڑ کے بیچ کورونا خدشات کے پیش نظر ہیلتھ ورکر لوگوں کے کووڈ نمونے لیتے ہوئے…عکاسی میر عمران