مزید خبریں

پولیس اہلکاروں کے ہونہار بچوں کیلئے1.50لاکھ کے وظائف منظور
جموں //پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے سبکدوش ہوئے پولیس اہلکاروں اور کام کررہے ایس پی اوزکے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے کے وظائف کو منظوری دیدی۔دسویں اور بارہویں جماعت میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 30 ہونہاربچوں کو یہ وظائف دیئے جائیں گے۔ایک حکم کے مطابق 7200 روپے سات بچوں جنہوں نے 12ویں جماعت میں نوے فیصد سے زائدنمبرات حاصل کئے تھے ،کودیئے جائیں گے اور6000روپے پانچ بچوں کو دیئے جائیں گے جنہوں نے12ویں جماعت میںاسی فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کئے ہیں اسی طرح 6000روپے ایک ایس پی او کے بچے کو دیئے گئے جس نے میٹرک میں نوے فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کئے تھے۔اسی طرح4000روپے کی رقم 12بچوں کو دی جائے گی جنہوں نے میٹرک میں اسی فیصدسے زیادہ نمبرات حاصل کئے ہیں۔
 
 

آفات سماوی کا مقابلہ،کشمیر یونیورسٹی میں تربیتی پروگرام

ہمالیائی خطے میں تباہیوں کا زیادہ خطرہ:پروفیسرطلعت 

سرینگر//کشمیریونیورسٹی میں پیر کو آفات سماوی کا مقابلہ کرنے سے متعلق ایک ہفتہ طویل تربیتی پروگرام کا یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر طلعت احمد نے افتتاح کیا۔اس موقعہ پر پروفیسر طلعت احمدنے کہا کہ ہمالیائی خطے میں ملک کے دیگرحصوں کے مقابلے میں مختلف قسموں کی تباہیاں آنے کے خطرات زیادہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لازمی ہے کہ ڈئزاسٹرمنیجمنٹ کے طلاب کیلئے فیلڈ دوروں کازیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے تاکہ وہ زمینی سطح پرحالات کا مشاہد ہ کرکے سیکھ لیں اورمختلف قسم کی آفات کوسمجھ لیں اوران کے وجوہات کو بھی جان لیں ۔ پروفیسر طلعت نے کہا کہ ڈئزاسٹرمنجمنٹ ایک کثیرڈسپلنری مضمون ہے جس میں نازک شعبے جیسے سماجی سائنس،جیولوجی،سائسمولوجی وغیرہ شامل ہیں۔اس لئے طلاب کیلئے لازمی ہے کہ وہ فیلڈ میں جاکر وقت گزارنے کے بعد مختلف قسم کی تباہی کاجائزہ لیں اوران کی تیاری سے متعلق جانکاری حاصل کریں۔  
 

کشمیرکی قالین بافی میں نئی جان نوازشاہ کی نئی تیکنیک نے ڈالدی 

خلیجی اور یورپی ممالک میں نئے ڈیزاین مقبول عام ، دھڑادھڑ آرڈر ملنے لگے

سری نگر//یواین آئی// میوزک اور فنون لطیفہ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے ایک کشمیری نوجوان نے ایک نئی تکنیک کو استعمال میں لا کر کشمیری قالینوں کو بین الاقوامی بازاروں میں نہ صرف جاذب نظر بلکہ گاہکوں کی خریداری کی پہلی پسند بھی بنا دیا ہے ۔سری نگر سے تعلق رکھنے والے نواز شاہ صوفی نے ہاتھوں سے بننے والے قالینوں میں ’زری‘ کا پہلی بار استعمال کیا جس کی مدد سے دھاتی دھاگوں اور کثیر رنگوں کو استعمال کر کے ہاتھوں سے قالین بنائے جاتے ہیں۔نواز شاہ کی اس منفرد تکنیک کے استعمال سے کشمیری قالینوں کی تجارت کی جان میں نئی جان آگئی ہے جس کی حالت انتہائی نا گفتہ بہہ تھی۔یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ قالین بافی ایک زمانے میں کشمیرکی بہت بڑی صنعت تھی اور خاص طور پر دیہی علاقے کے لوگوں کے لئے روز گار کا ایک اہم ذریعہ تھا۔نواز شاہ’زری‘ کا استعمال کر کے دھاگوں کے پرکشش رنگوں سے دیواروں پر آویزاں رکھنے کے لئے قالین بناتے ہیں جن پر قران پاک کی خطاطی آیات، قدرتی و ثقافتی ورثے کی نقش و نگاری کی گئی ہوتی ہے اور ان قالینوں کی دوبئی میں منعقدہ عالمی نمائش میں نماش کی گئی۔نواز شاہ نے صرف کشمیری قالینوں کے بُنائی کے طرز کو تبدیل نہیں کیا بلک مشہور’کانی‘ شال کو بھی دوبارہ ڈیزائن کیا جس کو قالین کے طرز پر ہی تیار کیا جاتا ہے ۔نواز شاہ صوفی نے اپنے اس منفرد ہنر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا،’’میرے والد غلام محمد صوفی اور میرے بھائی محمد رفیق صوفی قالین بافی کا کام کرتے ہیں اور جموں و کشمیر حکومت نے انہیں بالترتیب سال 2012 اور2013 میں اعزازات سے بھی نوازا تھا اور جس ڈیزائن پر انہیں اعزازات سے نوازا گیا وہ میں نے ہی ڈیزائن کیا تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی سے میوزک اور فنون لطیفہ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں نے اپنے والد کو دیواروں پر آویزاں رکھنے کے لئے مختلف قسم کے قالین بنانے پر راضی کیا جن میں قرآن پاک کی خطاطی آیات اور کشمیر کی ثقافتی ورثے و قدرتی نظاروں کی نقش نگاری کی گئی ہو۔ان کا کہنا تھا،’’والد نے میری بات مانی اور مجھے کچھ نمونے لانے کو کہا‘‘۔نواز شاہ صوفی نے کہا کہ مجھے اس طرز کے قالین بننے کے لئے ایک خاص قسم کے ’قالین بننے کے کوڈ‘ زبان تیار کرنے میں کچھ وقت لگ گیا تاکہ قالین باف اس زبان کو آسانی سے سمجھ سکیں اور قالین تیار کر سکیں۔انہوں نے کہا،’’جب اس طرز کے قالین تیار ہوئے اور ہم نے ان کو مقامی بیوپاریوں کو بطور نمونہ بیجا تو ان کو بہت پسند کیا گیا اور ہمیں ان کے آرڈرس آنے لگے‘‘۔ان کا کہنا تھا،’’گریجویشن مکمل کرنے کے بعد میں بھی دوسرے فنکاروں کی طرح کینواس پر مصوری کرتا رہتا تھا لیکن میرے ذہن میں ہمیشہ یہ بات قبضہ کئے ہوئے تھی کہ میں قالین بنانے کے ڈیزائن کو کیسے بدل سکوں گا تاکہ ان کو بین الاقوامی بازاروں میں ایک اچھی قیمت پر بیچا جا سکے‘‘۔نواز شاہ نے کہا کہ اس طرز کے قالینوں کی مانگ دوبئی کے بازاروں میں کافی بڑھ گئی ہے ۔انہوں نے کہا،’’ہمارے قالینوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر پسند کیا جا رہا ہے اور ان کی مانگ میں روز افزوں اضافہ درج ہو رہا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قالین بالکل الگ طرز کے ہیں اور کافی دلکش اور دلربا ہیں۔نواز شاہ نے کہا کہ قطرکے ’الثانی گروپ‘ نے ہمارے قالینوں کو ممبئی میں ایک شو روم پر دیکھا تھا تو وہ ان کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں اس گروپ نے ہمیں کافی بڑا آرڈر دیا جس کو پورا کر کے ہم نے اچھا پیسہ کمایا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قالینوں کو خلیجی ممالک میں کافی پسند کیا جاتا ہے ان ممالک میں ان کی مانگ کافی بڑھ رہی ہے ۔نواز شاہ صوفی نے کہا کہ میں نے کشمیر کی قدیم روایتی و تہذیبی پینٹنگس کو بھی تیار کیا ہے جن کی یہاں کافی مانگ ہے ۔انہوں نے کہا کہ قالین خریدنے کے متعلق بھی اب لوگوں کا رجحان بدل گیا ہے اور لوگ اب نئی قسم کی نقش نگاری کے قالین خریدنا پسند کرتے ہیں۔موصوف فنکار نے کہا کہ کشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات پر اپنے قالینوں کی نمائش لگانا میرا ایک خواب ہے لیکن حکومت اس سلسلے میری کوئی معاونت نہیں کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قالینوں کے ذریعے کشمیر کی ثقافت کو زندہ رکھنا میرا مقصد بھی ہے اور شوق و جذبہ بھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے زائد از 50 قالین بافی کے کارخانے چل رہے ہیں جن میں چالیس ماہر فن کام کر رہے ہیں۔نوز شاہ نے کہا کہ کشمیر کے پرانے قسم کے قالینوں کی بین الاقوامی بازاروں میں اب کوئی مانگ نہیں ہے لیکن اس نئی تکنیک اور ڈیزائن پر تیار کئے جا رہے قالینوں کی مانگ خلیجی ممالک میں ہی نہیں بلکہ یورپی ممالک میں بھی بڑھنے لگی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس نئی تکنیک سے بنے قالینوں کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا میرا مشن ہے تاکہ ہمارا یہ فن ہر جگہ پہنچ سکے۔
 

زیرو برج سے چھلانگ لگانے والے کی تلاش جاری

یواین آئی
سری نگر// جموں وکشمیر کے گرمائی دارلخلافہ سری نگر میں زیرو برج سے دریائے جہلم میں چھلانگ لگانے والے نامعلوم شخص کی تلاش دوسرے روز بھی جاری رہی۔پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا ،’’اتوار کے روز شام پانچ بجے کے قریب اُنہیں اطلاع موصول ہوئی کہ زیرو برج سے ایک شخص نے دریائے جہلم میں چھلانگ لگائی ہے چنانچہ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم جائے موقع پر پہنچی اور وہاں اس کی تلاش کی تاہم اندھیرا چھا جانے کے بعد امدادی کارروائی کو پیر کی صبح تک روک دیا گیا‘‘۔مذکورہ پولیس آفیسر نے بتایا کہ آج صبح پولیس نے ماہر غوط خوروں کی خدمات حاصل کرکے مذکورہ شخص کو تلاش کرنے کا کام دوبارہ شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ لاش کو دریا سے برآمد کرنے کیلئے تمام طرح کی کارروائیاں جاری ہیں۔واضح رہے کہ سری نگر میں چھلانگ لگانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لئے اگر چہ انتظامیہ نے شہر کے متعدد پلوں کی فینسنگ کر رکھی ہے تاہم زیرو برج نامی پُل کو ابھی تک لوہے کی سلاخوں سے باندھا نہیں گیا ہے ۔
 

شیخ جنیدانچارج ڈی آئی جی لداخ مقرر

سرینگر//بلال فرقانی// لداخ انتظامیہ نے آئی پی ایس افسر اور ایس ایس پی شیخ جنید کو لیہہ کرگل رینج کا انچارج ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس تعینات کیاہے۔ اٰیڈیشنل سیکریٹری داخلہ تاشی ڈولما کی جانب سے پیرکو جاری ایک حکم نامہ میں کہا گیا کہ انتظامیہ کے مفاد میں آئی پی ایس افسر اور ایس ایس پی شیخ جنید کو اپنی ہی تنخواہ اور گریڈ میں لیہہ کرگل پولیس رینج کا انچارج ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیا جاتا ہے۔
 
 

دستکاریوں اور ہینڈ لوم محکمہ کے10افسروں کو ترقی

سرینگر// ہینڈی کرافٹس اورہینڈ لوم محکمہ کی محکمہ جاتی ترقیاتی کمیٹی نے دس افسروں کی ترقی کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔محکمہ جاتی ترقیاتی کمیٹی کی میٹنگ ڈائریکٹرہینڈی کرافٹس وہینڈلوم کی صدارت میں منعد ہوئی اوراس میں ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس وہینڈلوم جموں۔جوائنٹ ڈائریکٹرجموں،جوائنٹ ڈائریکٹر کشمیر،ڈپٹی ڈائریکٹر جموں اورڈپٹی سیکریٹری انڈسٹریزوکامرس نے شرکت کی۔ترقی پانے والے افسراں کو مبارکباد دیتے ہوئے ڈائریکٹر نے انہیں مزیدلگن اور تندہی سے کام کرنے کی تلقین کی ۔
 

ہیتاچی انرجی کی بھارت کے سب کیلئے قابل اعتباربجلی فراہمی مشن کوتقویت

جموں کشمیر کے سب سے بڑے پن بجلی پروجیکٹ  پکل ڈول کی تعمیر جاری 

سرینگر// ماروسُدر ندی16,404فٹ سے زائد کی بلندی سے شروع ہونے والی دریائے چناب کی سب سے بڑی معاون ندی ہے۔ گلیشروں سے گھری یہ ندی شمال سے جنوب تک اونچی ڈھلوانوں، بھاری بھرکم چٹانوں اور انتہائی مشکل موڑوں سے ہوتے ہوئے پنکھے کی شکل کا ایک آب گیرہ بناتی ہے۔یہ ندی اپنے راستے میں انتہائی تیز رفتار اختیار کرتی ہے جس سے ایک لاکھ لوگوں کیلئے صاف بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔مارو سُدر ندی پر زیر تعمیرپکل دُل بجلی پروجیکٹ جموں کشمیر میں ممکنہ طور سب سے بڑا پن بجلی پروجیکٹ ہے۔اُمید کی جارہی ہے کہ548فٹ اونچی کنکریٹ دیوار اور پتھروں سے بھرا ڈیم قدرتی سخاوت کے ذریعے خطے میں بجلی کی پیداوارکو مزید تقویت بخشے گا۔اس بہت بڑے پروجیکٹ کے نیچے زیر زمین پائور ہائوس تعمیر کیا گیا ہے جو 1000میگاواٹ گرین بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پروجیکٹ کی دیکھ ریکھ کرنے والی جرمن کمپنی وویتھ ہائیڈرو(Voith Hydro)نے اس پروجیکٹ سے بلا خلل، موثر اور ہائی وولٹیج بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے جنریٹر ٹرانسفارمروں ، کنٹرول اور حفاظتی نظام کیلئے تکنیکی سرخیل کا انتخاب کیا ہے۔پہاڑی راستوںسے وہاں بحفاظت پہنچانے کیلئے ٹرانسفارمروں کو ڈیزائن کرتے وقت وزن اور پیمائش کے سخت پیمانوں کا خیال رکھا گیا۔کسی بھی بجلی پروجیکٹ کیلئے انتہائی نازک کنٹرول اور پروٹیکشن سولیوشن کا انتخاب اسکی اعتباریت اورلچک کیلئے صارف کی طرف سے کیا گیا۔یہ جدیدترین مواصلاتی پروٹوکولز سے پر مبنی ہے اور بجلی نظام کیلئے سائبر سیکورٹی کے معیار کے عین مطابق ہے۔ہیتا چی انرجی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او برائے بھارت جنوبی ایشیاء این وینو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’یہ بھارت میں ہیتا چی انر جی کیلئے ایک اور سنگ میل ہے اور ہمارے طویل مدتی کاربن نیوٹرل ویژن کا حصہ ہے جس کے ذریعے ہم ماحول اور سماج کو ڈی کاربونائز کرنے میں مدد دے رہے ہیں، ہم اس طرح کی تعمیرات کی کوششیںجاری رکھیں گے تاکہ ملک میں صاف اور سستی بجلی کو یقینی بنایا جاسکے‘‘۔بھارت آنے والے دس برس میں کلین انرجی کے حصول کو موجودہ40فیصد سے60فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔فی الوقت پن بجلی کا حصہ قریب 12فیصد یا46,209میگا واٹ ہے ۔اندازوں کے مطابق ملک میں 60فیصد پلانٹ لوڈ فیکٹر پر 145,000میگاواٹ کی گنجائش موجود ہے۔پکل دُل بجلی پروجیکٹ 2025میں مکمل ہونے کی امید ہے اور اس کی تکمیل سے نہ صرف اپنے ہدف کے وعدے بلکہ پیرس ایگریمنٹ اور پائیدار ترقی سے متعلق اہداف کے قریب جائے گا، یہ ہر ایک کیلئے پائیدار توانائی سے بھرپور مستقبل کے حوالے سے ہیتا چی انر جی کی ایک اور مثال ہے۔
 
 

 12ویں جماعت کے امتحانات

اننت ناگ میںدفعہ144نافذ

 
نیوذ ڈیسک
اننت ناگ //بارہویں جماعات کے امتحانات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرانے کیلئے ضلع انتظامیہ اننت ناگ نے 9نومبر سے 4دستمبر تک امتحانی مراکز کے اردگرد دفعہ 144کا نفاذ عمل میں لایا ہے۔ ڈی سی اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلہ نے امتحانی مراکز کے ارد گرد 144کے نفاز کے احکامات صاد رکئے۔ ایس ایس پی اننت ناگ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سے احکامات کو سختی سے لاگو کرائے۔ امتحانی مراکز کے ارد گرد 4 یا 4سے زیادہ لوگوں کے اجماع پر پابندی عائد ہوگی اور اس  کا  اعلان لائوڈ سپیکروں پر بھی کیا جائے گا۔ 
 
 
 

سرینگر میں ای شرام کے تحت 21ہزار سے زیادہ غیر منظم کارکنان رجسٹر

سرینگر//ضلع انتظامیہ سرینگر نے پیر کو یہاں ای شرام پورٹل پر زرعی کارکنوں کے غیر منظم کارکنوں، ڈیلی ریٹیڈ ورکروں (DRWs) اور پارٹ ٹائم ملازمین وغیرہ کی بیداری اور رجسٹریشن کے لیے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا۔اس پروگرام کا انعقاد ڈپٹی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے اسسٹنٹ لیبر کمشنر کے دفتر اور محکمہ زراعت کے مشترکہ اشتراک سے محکمہ زراعت لال منڈی کے ڈائریکٹوریٹ کے میٹنگ ہال میں کیا تھا۔جوائنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) کشمیر شاہد اقبال، ڈسٹرکٹ ایگریکلچرل ایکسٹینشن آفیسر آصفہ نبی، اے ای اوز اور دیگر افسران موجود تھے، جبکہ محکمہ زراعت کے غیر منظم ورکرز، ڈی آر ڈبلیوز، پارٹ ٹائم ملازمین نے بھی آگاہی کم رجسٹریشن پروگرام میں حصہ لیا۔اس موقع پر جوائنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) نے کہا کہ محکمہ کے ہر زون میں فیسیلیٹیشن کاؤنٹر قائم کیا جائے گا تاکہ ای-شرام پورٹل پر زیادہ سے زیادہ زرعی ورکرز رجسٹرڈ ہوں۔پروگرام کے دوران، اسسٹنٹ لیبر کمشنر (ALC)، ارشد قادر نے شرکاء کو ای-شرام پورٹل پر رجسٹر ہونے کے عمل اور فوائد کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں محکمہ زراعت کے غیر منظم کارکنوں، DRWs اور پارٹ ٹائم ملازمین شامل تھے۔اے ایل سی نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ضلع سرینگر میں کامن سروس سینٹر (سی ایس سی) کے ذریعے خصوصی کیمپ اور بیداری پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای-شرام پورٹل پر رجسٹریشن کے لیے آدھار کی تفصیلات، آدھار کارڈ سے منسلک بینک اکاؤنٹ نمبر اور 16 سے 59 سال کی عمر کی حد ضروری ہے۔انہوں نے شرکاء کو مزید بتایا کہ یہ غیر منظم کارکنوں کا پہلا قومی ڈیٹا بیس ہے جو محنت اور روزگار کی وزارت نے غیر منظم کارکنوں کو رجسٹر کرنے کے لئے بنایا ہے جس میں مہاجر مزدوروں، تعمیراتی کارکنوں، گھریلو ملازموں، آشا اور آنگن واڑی کارکنان، اسٹریٹ شامل ہیں۔ دکاندار، رکشہ چلانے والے، کسان، زرعی مزدور، مویشی پالنے والے، نائی، بْنکر، بڑھئی، اینٹوں کے بھٹے والے، کان میں کام کرنے والے، آرا مل کے مزدور، سبزی خورble اور پھل فروشوں، اخبار فروشوں، آٹو ڈرائیوروں، ریشم کا کام کرنے والے کارکن، گھریلو ملازمہ اور اس طرح کے دیگر کارکنوں کو سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے۔اس موقع پر، اے ایل سی نے بتایا کہ اب تک ضلع سرینگر میں 21000 سے زیادہ غیر منظم مزدوروں کو رجسٹر کیا گیا ہے اور مزید رجسٹریشن جاری ہے تاکہ وہ سرکاری مراعات کا احاطہ کر سکیں۔
 
 
 
 

بانڈی پورہ میں 8مقامات کو سیاحتی نقشے پر لایا جارہا ہے 

عازم جان 
بانڈی پورہ//ضلع بانڈی پورہ کے آٹھ گائوں کوماڈل سیاحتی مقامات کے طور پرترقی دی جارہی ہے۔اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر علی افسر خان کی صدارت میںایک جائزہ میٹنگ ہوئی ۔میٹنگ میں جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ امتیاز احمد نے بتایا کہ بانڈی پورہ ضلع میں آٹھوتو ،زُرمنز، صدر کوٹ پائین ،سریندر، آلوسہ کٹسن، تلیل ،شیخ پورہ، اجس ،ژِرون اور بگتور کو سیاحتی مقامات کے بطور ترقی دی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ان مقامات پر ہورہے کام کا معائنہ کرنے کیلئے افسران کی ایک ٹیم کو تشکیل دیا گیا ہے جو ان مقامات کو جاذب نظر بنانے کیلئے کام کریں گے تاکہ ان علاقوں کی طرف سیاحوں کی دلچسپی بڑے گی اور مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔
 
 
 
 

 گرام سبھائیں ایک مذاق 

دودھ مرگ ترال پروگرام میں اکثر سرکاری محکمے غائب

سید اعجاز
ترال// ترال کے بیشتر دیہی علاقوں میں اب گرام سبھا ئیںایک مذاق بن گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں اور دہی نمائندوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق پیر کے روز ترال کے پنچائیت حلقہ لالپورہ بی دودھ مرگ گوجر بستی میں گرام سبھا منعقد ہوئی جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اگلے سال کے منصوبے کے لئے جمع ہوئی تھی جس کے حوالے سے قریب ایک ہفتے قبل ہی علاقے میں تمام محکموں کے ملازمین کو آگاہ کیا گیا تھا ۔اس دوران دیہی نمائندوں جس میں مقامی سرپنچ اور بھاجپا کے ایس ٹی مورچہ کے ضلع جنرل سیکریٹری عبد الرشید گوجر نے بتایا کہ گرام سبھا میں 21محکموں کے ملازمین میں چند ایک محکموں کے ملازمین ہی موجود تھے اور باقی غیر حاضر تھے جس پردیہی نمائندوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔انہوں نے بتایا کہ اب یہ گرام سبھائیں ملازمین کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں ایک مذاق بن گئی ہیں ۔انہوں نے انتظامیہ سے اس حوالے سے کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ادھرپنچائیت یونین ضلع پلوامہ کے صدر یار محمد نے بتایا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ترال میں آج تک گوجر بکروالوں کو فارسٹ رائٹس ایکٹ کے حوالے سے کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے ۔
 
 
 

 ڈپٹی کمشنر سرینگر کا بازاروں کا معائنہ

کئی تاجروں پر جرمانہ عائد،ناقص اشیائے خوردونوش اور سبزیاں ضائع

سرینگر// ڈپٹی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد کی طرف سے پہلے سے جاری کردہ ہدایات کی تعمیل کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کی خصوصی ٹیموں نے پیر کو شہر میں کئی بازاروں کا معائنہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام اشیائے ضروریہ پہلے سے مقررہ قیمتوں پر فروخت ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار اور شہر کے بازاروں میں دستیابی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔متعلقہ تحصیلداروں نے پولیس، لیگل میٹرولوجی، ایف سی ایس اینڈ سی اے اور دیگر محکموں کے ساتھ مل کر چھانہ پورہ، راولپورہ، صنعت نگر اور دیگر بازاروں میں سردیوں کے موسم کے پیش نظر بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری کو روکنے کے لیے معائنہ کیا اور متعدد غلط دکانداروں کو گرفتار کیا۔یہ دکاندار اشیائے خوردونوش کے معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام، اشیائے ضروریہ کی ریٹ لسٹیں آویزاں نہ کرنے، ایکسپائری مصنوعات فروخت کرنے کے علاوہ ناجائز منافع خوری اور کم وزن کی مصنوعات کی فروخت میں ملوث پائے گئے۔بازاروں کی چیکنگ کے دوران کوتاہی کرنے والے دکانداروں پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھاری مقدار میں معیاد ختم ہونے والی اشیائے خوردونوش اور بوسیدہ سبزیاں موقع پر ہی ضائع کی گئیں۔چیکنگ کے دوران، انفورسمنٹ ٹیموں نے تاجروں اور دکانداروں سے کہا کہ وہ کووڈ19 کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام صارفین خریداری کرتے وقت ماسک پہن رہے ہیں۔
 
 

 گاندربل پولیس و انتظامیہ کی جانب سے کنگن میں ماسک تقسیم 

سرینگر// کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ضلع گاندربل کی پولیس اور سول انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ضلع میں عام لوگوں میں فیس ماسک تقسیم کئے۔یہ مہم ایس ایس پی گاندربل نکھل بورکر کی ہدایت پر شروع کی گئی۔اس موقع پر عام لوگوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ کووِڈایس او پیز پر باقاعدگی سے عمل کریں تاکہ کووِڈ کیسز میں اضافہ نہ ہو۔ ضلع گاندربل کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر پولیس انتظامیہ نے عام لوگوں کو کووڈ19رہنما خطوط کے بارے میں آگاہ کیا۔ لوگوں کو مناسب حفظان صحت برقرار رکھنے، سماجی دوری اور ماسک پہننے کے بارے میں بھی آگاہی دی گئی۔
 
 
 

منشیات مخالف مہم

پلوامہ اور کولگام میں 4افراد گرفتار

سرینگر//پلوامہ اور کولگام پولیس نے منشیات مخالف مہم کے دوران 4 افراد کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے ممنوعہ نشیلی اشیاء کو برآمد کرلیا ہے۔پلوامہ پولیس نے گڈورہ پل نیوا کے قریب ناکہ چیکنگ کے دوران ایک تویرا گاڑی زیر رجسٹریشن نمبرJK01J-7350کوتلاشی کیلئے روکا گیا جس میں ڈرائیور کے ساتھ دو افراد سوار تھے۔تلاشی کے دوران گاڑی سے4.45گرام براؤن شوگر اور61کلو گرام فکی  برآمد ہوئی۔اس موقع پر تینوں ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا اور گاڑی کو بھی قبضے میں لیا گیا۔تینوں ملزمان کی شناخت رفیق شیخ ساکن نیوا، عمر منظور ،سہیل اندرابی ساکن نٹی پورہ سرینگر کے بطور ہوئی ہے ۔ پلوامہ تھانے میں اس سلسلے میں کیس زیر ایف آئی آر نمبر 305/2021 درج کیا گیا ۔اس دوران قاضی گنڈ تھانہ کی پولیس ٹیم نے لیوڈورہ نامی گائو ں میںایک مشتبہ رہائشی مکان پرچھاپہ مار کارروائی میں منظور احمد گنائی نامی شہری کے قبضے سے خشخاش پوست برآمد کرلیا ۔قاضی گنڈ تھانہ نے ا س سلسلے میں کیس زیر ایف آئی آرنمبر262/2021 درج کرلیا۔
 

 ایڈیٹرس فورم کے تنظیمی انتخابات منعقد 

 کے این ایس کے مدیر اعلیٰ محمداسلم بٹ صدرمنتخب

سرینگر//جے اینڈکے ایڈیٹرس فورم کے تنظیمی انتخابات سوموار کومنعقد ہوئے۔ فورم کے ترجمان اعلیٰ رشیدراہل نے ایک بیان میں بتایاکہ جے اینڈکے ایڈیٹرس فورم کے سبھی مستندممبران نے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ خبررساں ایجنسی کے این ایس کے مدیر اعلیٰ محمداسلم بٹ کوصدر،روزنامہ برائٹر کشمیرکے مدیراعلیٰ فاروق احمدوانی اورایڈیٹر اسکین چسفیدہ شاہ کونائب صدور، روزنامہ گھڑیال کے مدیراعلیٰ ارشدرسول کوجنرل سیکریٹری،ایڈیٹر گلوبل پوسٹ محمدشفیع خان کوسیکریٹری ،ایڈیٹر نیوز کشمیر فرزانہ ممتازکو خزانچی اورمدیراعلیٰ روزنامہ ایشین میل رشیدراہل کو فورم کاترجمان اعلیٰ منتخب کیاگیا۔ اس موقع پرفورم کے سبھی ممبران بشمول ظہورگلزار(ایڈیٹر کشمیرلیڈر)،اعجاز احمدکائوسہ (ایڈیٹر ایشین ایکسپریس)،معراج الدین(ایڈیٹر ندائے کشمیر)اورپیرزادہ نثار (ایڈیٹرکشمیر ٹراولر)بھی موجودتھے ۔ ترجمان اعلیٰ نے کہاکہ جے اینڈکے ایڈیٹرس فورم کے تنظیمی انتخابات کے تنظیمی انتخابات آزادانہ اورشفاف بنیادوں پرخفیہ بیلٹ کے ذریعے عمل میں لائے گئے۔
 
 

باغبانی محکمہ کی SLECمیٹنگ

مربوط ترقی کے مشن کے تحت8معاملات کی جانچ پڑتال

سرینگر //ڈائریکٹر جنرل ہارٹیکلچراعجاز احمد بٹ کی صدارت میں ریاستی سطح کی ایگزیکٹو کمیٹی (SLEC) کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔کمیٹی نے باغبانی کشمیر کی مربوط ترقی کے مشن کے تحت CA اسٹورز/کولڈ اسٹورز/فوڈ پروسیسنگ یونٹس سے متعلق ڈی پی آرز کی اچھی طرح جانچ پرتال کی ۔ڈی پی آر اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ کرنے کے بعدمتفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ذیلی کمیٹی کے سامنے رکھے گئے تمام 8 معاملات کو منظوری کیلئے ریاستی سطح کی ایگزیکٹو کمیٹی (SLEC) کے سامنے رکھا جائے گا۔بعد ازاں مرکزی ہاٹیکلچر کمشنر ڈاکٹر ایس کے ملہوترا نے ڈائریکٹوریٹ آف ہارٹیکلچر کشمیر میں مرکزی اسپانسرڈ اسکیموں (CSS) کا جائزہ اجلاس اجلاس طلب کیا جس میں ڈی جی نے کمشنر کو مختلف اسکیموں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ کمشنر نے یقین دلایا کہ اسکیموں کے تحت اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ضروری فنڈز جلد جاری کر دئے جائیں گے۔اجلاس میں جنرل منیجر سڈکو، جے ٹی نے بھی شرکت کی۔
 
 

صحافی شاہد مسعود کے انتقال پر تعزیت پرسی جاری  

ڈاکٹر فاروق سمیت کئی لوگوں کااظہاررنج

مشتاق الحسن
ٹنگمرگ// صحافی شاہد مسعود بخاری کے انتقال پر سماج کے مختلفطبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے تعزیت کرنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔موصوف اتوار کو حرکت قلب بند ہونیانتقال کرگئے۔اس سلسلے میں پیر کو ان کے پسماندگان سے تعزیت کرنے کیلئے لوگوں کی کثیر تعداد اُن کے گھر قاضی پورہ ٹنگمرگ پہنچی ۔جنہوں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ۔اس دوران نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے صحافی شاہد بخاری ساکن ٹنگمرگ کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔انہوںنے مرحوم کے جملہ سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، شمالی زون صدر جاوید احمد ڈار، سینئر پارٹی لیڈران ایڈوکیٹ شوکت احمد میر ،فاروق احمد شاہ اور ترجمان عمران نبی ڈار نے بھی تعزیت کا اظہار کیاہے۔ ادھر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے معروف امراض چشم ڈاکٹر محمد یونس رفیقی ساکن بوٹینگو سوپور کے انتقال پربھی گہرے صدمے کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔ انہوںنے مرحوم کے ہم زلف رفیق مسعودی کے ساتھ بھی تعزیت کا اظہار کیا۔
 
 

پلوامہ میں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد 

سرینگر// ست ریشی والنٹری سوسائٹی کشمیر کے زیر اہتمام سنٹرل ہائی سکول پلوامہ میں ایک نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں وادی کے کئی سرکردہ شاعروں، ادیبوں اور قلمکاروں نے شرکت کی۔مشاعرے کی صدارت ڈاکٹر غلام نبی حکیم نے کی۔ بشیر احمد نینگرو نے خطبہ استقبالیہ میں مہمانوں کا استقبال کیا۔شہزادہ رفیق، بشیر احمد پروانہ، بشیر احمد نینگرو ایوان صدارت میں موجود تھے۔نعتیہ مشاعرے میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے درجنوںشعراء نے شرکت کی۔نعتیہ مشاعرے کے میڈیا پارٹنرہفتہ روزہ ندائے کشمیر، شہربین اور مشعل ٹائمز تھے۔ مشاعرے میں جن شعرا نے شرکت کی اُن میں غلام محمد نوسوز، محمد یوسف دلدار،سید شبنم ،جاوید جمیل ،سکندر ارشاد ،شہزادہ رفیق ،عبدالرحمان فدا، میرے مجاہد ،اشرف راوی ،محمد عباس بل پوری ،رشید راشد ،نادر احسن، فیاض احمد فیاض عبدالرحمان وانی اورفیاض دلگیر شامل ہیں۔