مزید خبریں

پی ایم کیئر فنڈ کے سپلائی کئے گئے وینٹی لیٹر | صدرہسپتال سرینگر میں 165اور جی ایم سی جموں میں 13خراب پائے گئے

سید امجد شاہ
جموں//ایس ایم ایچ ایس سری نگر میں کم از کم 165 وینٹی لیٹرز اور جی ایم سی جموں میں 13 وینٹی لیٹرز جنہیں پی ایم کیئرز کے تحت فراہم کیا گیا تھا، ان میں خرابی پائی گئی تھی۔یہ انکشاف ایک آر ٹی آئی کے جواب میں کیا گیا ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے آر ٹی آئی کارکن بلویندر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ اس نے پرنسپل کمشنر، ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے دفتر میں ایک آر ٹی آئی دائر کی تھی تاکہ پی ایم کیئر کے تحت جموں و کشمیر کو سپلائی کیے گئے مختلف بینڈوں کے وینٹی لیٹرز کے کام کے بارے میں جان سکیں۔ معروف آر ٹی آئی کارکن ایس بلویندر سنگھ نے کہا کہ جواب میں تسلیم کیا گیا کہ سپلائی کیے گئے وینٹی لیٹرز اچھے معیار کے نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ جموں ڈویژن میں ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جی ایم سی جموں نے اعتراف کیا ہے کہ کل 179 وینٹی لیٹرز میں سے 13 وینٹی لیٹرز خراب ہیں اور وہ کام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو اندیشہ ہے کہ اگر وینٹی لیٹرز کے خراب ہونے کے بارے میں کچھ ظاہر ہوتا ہے تو مسئلہ ہوگا اور اس وجہ سے جی ایم سی جموں نے مزید انکشاف نہیں کیا۔ انہوں نے آر ٹی آئی کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تاہم جی ایم سی سری نگر میں معاملہ مختلف تھا کیونکہ اہلکار نے کوئی حقیقت چھپائے بغیر جواب دیا۔انہوں نے کہا "جی ایم سی سری نگر بالخصوص ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ اینستھیسیولوجی اینڈ کریٹیکل کیئر میڈیسن (جی ایم سی سری نگر) کسی دباؤ یا کسی مجبوری میں نہیں آئے اور انہوں نے واضح طور پر تین مختلف میک اور برانڈ کے ناقص وینٹی لیٹرز کے بارے میں معلومات شیئر کیں جو پی ایم کیئر کے تحت انہیں مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے فراہم کیے گئے تھے"۔ایچ او ڈی ڈپارٹمنٹ آف اینستھیسیولوجی کے آر ٹی آئی جواب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا "شعبوںکو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سے بھارت وینٹی لیٹر ملے اور انہیں آزمائشی طور پر چلایا گیا ہے تاہم یہ تمام وینٹی لیٹرز کمپریسر/ہیٹ اپ کے مسائل کی وجہ سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ SMHS ہسپتال واپس آ گئے، جس کے نتیجے میں یہ وینٹی لیٹرز اچانک بند ہو گئے‘‘۔لہٰذا انہوں نے کہاکہ یہ وینٹی لیٹر مریضوں کی دیکھ بھال کے انتظام کی حمایت نہیں کرتے تھے۔اپنے جواب میں ایچ او ڈی نے مزید کہا کہ صدر ہسپتال میں نصب تین Agva وینٹی لیٹرز کچھ مسائل جیسے ڈسپلے کے ٹھیک سے کام نہ کرنا، اور سمندری حجم پیدا کرنے میں مسائل کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔آر ٹی آئی کارکن نے متعلقہ ایچ او ڈی کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔"دھامن III کے 125 وینٹی لیٹر ڈی آر ڈی او ہسپتال کھنموہ سری نگر میں نصب ہیں۔ 125 وینٹی لیٹرز میں سے 2 ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں آزمائشی طور پر چل رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ وینٹی لیٹرز مطلوبہ سمندری حجم پیدا کرتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا "تاہم آزمائشی دوڑ کے بعد یہ دیکھا گیا کہ سمندری حجم پیدا نہیں ہوا تھا۔ مطلوبہ Fi02 مریضوں کو نہیں پہنچایا جا سکا۔ اس طرح مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال میں لانا ممکن نہیں ہے کیونکہ وینٹی لیٹرز خود بخود بند ہو جاتے ہیں لہٰذ مریضوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ڈی آر ڈی او میں 22 مزید اگوا وینٹی لیٹر زیر سماعت ہیں۔آر ٹی آئی کارکن نے مشاہدہ کیا کہ "جموں ڈویژن جموں کے صحت کے اداروں میں خراب وینٹی لیٹرز کی تنصیب جموں ڈویژن میں کشمیر کے مقابلے میں سب سے زیادہ کوویڈ 198 اموات کی شرح کے لئے ذمہ دار بڑی وجوہات میں سے ایک ہو سکتی ہے"۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور UT کے باشندوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے چونکہ تیسری کوویڈ 19 لہر کے آنے کا ہر اندیشہ ہے، ہم جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے اپیل کرتے ہیںکہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیںاور چیف سکریٹری جموں و کشمیر کو ہدایات دیں کہ وہ پی ایم کیئرز کے تحت فراہم کردہ جے کے یو ٹی کے مختلف صحت اداروں میں نصب تمام وینٹی لیٹرز کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دیں۔
 
 
 

جموں و کشمیر کاریاستی درجہ فوری طوربحال کیاجائے | ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے سمینار میںاپوزیشن جماعتوں کامطالبہ 

نیوز ڈیسک
 جموں//کئی سرکردہ افراد بشمول تین سابق وزراء ، جو مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں اور ایک آزاد ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی) رکن نے پیر کو ں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبات کے درمیان جموں صوبے کے مفادات کا تحفظ کرنے کا عہد کیا۔ سابق وزیر لال سنگھ کے ہاتھوں بننے والی ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن (ڈی ایس ایس) کے ذریعہ "جموں کو سمجھنا: چیلنجز اور آگے کا راستہ" کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا اور اس میں جموں و کشمیر کانگریس کے نائب صدر رمن بھلا اور نیشنل پینتھرس پارٹی (این پی پی) کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم کسی "مذہب یا علاقے" کے خلاف نہیں ہے بلکہ جموں خطے کے لوگوں کو بی جے پی کے خلاف متحد کرنے کی ایک مشق ہے جس نے مبینہ طور پر اپنے "کھوکھلے وعدوں اور گمراہ کن بیانات" کے ذریعہ انہیں دھوکہ دیا ہے۔بھلا نے کہا"سابق ریاست جموں و کشمیر، جس کی بنیاد ڈوگرہ حکمرانوں نے رکھی تھی، کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا تھا اور جموں خطے کے لوگوں سے وعدے کیے گئے تھے کہ دہائیوں سے جاری امتیازی سلوک کو ختم کر دیا جائے گا۔انہوں نے عوام کو گمراہ کیا ہے اور ان کے تمام وعدے جھوٹ ثابت ہوئے ہیں"۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد یہ پہلی بار تھا جب جموں خطے میں مختلف اپوزیشن جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم کا اشتراک کیا۔کانگریس لیڈر نے ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظات اور مقامی لوگوں کے لیے زمین اور روزگار کے تحفظ کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا"جموں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم یہاں کشمیریوں کے حقوق چھیننے کے لیے نہیں ہیں لیکن ہم کسی کو بھی ہمارے حقوق چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے" ۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے لیے بی جے پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وادی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کی وجہ سے سرحدی آبادی کو برسوں کے دوران بے حد نقصان اٹھانا پڑا ہے۔سوبھیمان سنگٹھن کے بانی نے کہا کہ انہوں نے جموں کو عوام کے مفادات پر حکمران جماعت کے مبینہ حملے کے خلاف متحد کرنے کا عہد کیا ہے۔جولائی 2018 میں بی جے پی سے علیحدگی کے بعدلال سنگھ ایک 21 نکاتی وژن دستاویز کے ساتھ سامنے آئے ہیں جس میں مختلف مطالبات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جن میں باری باری چیف منسٹر، روزگار کے مساوی مواقع، قدرتی وسائل کا تحفظ اور استعمال اور ڈوگرہ سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔تاہم اگست 2019 میں سابقہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد، سنگھ جموں خطے کے لیے علیحدہ ریاست کا پرچار کر رہے ہیں۔انہوں نے ان کے 21 نکاتی ایجنڈے اور ریاست کی بحالی اور عمل درآمد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے کہا"ابتدائی طور پر بی جے پی جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کی بات کر رہی تھی لیکن آخر میں ریاست کو تقسیم کر دیا۔ ہمارے پاس (جموں و کشمیر کا) ایک خوبصورت آئین ہے جو قانونی تھا لیکن اسے غیر قانونی طور پر ہم سے چھین لیا گیا"۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت "لولی پاپ کے ذریعے عوام کو دھوکہ دے رہی ہے" لیکن لوگوں نے اس کا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے کیونکہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے اور یہ ملک میں ترقی کے ساتھ سب سے زیادہ ہے، خاص طور پر جموں کے پورے خطہ میں ترقی پیچھے ہے۔این پی پی کے چیئرمین اور سابق وزیر ہرش دیو سنگھ نے جموں کی سول سوسائٹی، طلباء، نوجوانوں، تاجروں اور کسانوں کو خطہ کے مقصد کے لیے متحد ہونے کی واضح کال دیتے ہوئے کہا کہ "اب وقت آگیا ہے کہ جموں کی حامی ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملائیں اور ان لوگوں کو معزول کریںجنہوں نے ڈوگرہ زمین سے غداری کی ہے"۔انہوں نے کہا"جن لیڈروں میں جموں نے اس کا عقیدہ ظاہر کیا تھا، انہوں نے ہی اس کے ساتھ غداری کی اور اسے دوسرے درجے کے درجہ سے بھی بدتر کر دیا۔ موجودہ نظام میں جموں کے لوگوں کا ایمان مکمل طور پر متزلزل ہو چکا تھا، اس بے مثال تعصب کے پیش نظر جس کا خطے کو نشانہ بنایا گیا‘‘۔سنگھ نے کہا کہ اس لیے موقع پرست لیڈروں کو مسترد کر کے نظام میں تبدیلی لانا اور قیادت کے ایک ایسے طبقے کو فروغ دینا ضروری ہے جو ڈوگروں کی قید زمین کی صحیح معنوں میں حمایت کر سکے۔اگست 2019 کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے گورنر راج کا آغاز کیا اور پھر تاریخی ڈوگرہ ریاست کو ختم کرنے اور اسے UT کی سطح پر گرانے کے لیے گورنر کی رضامندی کا استعمال کیا۔سنگھ نے کہا "آئیے ان لوگوں کے مذموم عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوں جو ہماری ثقافت کو تباہ کرنے اور ہماری قدیم شان کو تباہ کرنے کے لیے بے چین ہیں"۔ڈی سی سی ممبر ایس ترنجیت سنگھ ٹونی نے بھی بی جے پی پر اس کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ حکمران پارٹی کے خلاف بولنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انکاکہناتھا"ہمیں اپنی بقا کے لیے جموں و کشمیر 'مکت بھارت' کے بجائے بی جے پی 'مکت بھارت' کی ضرورت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں خطہ بی جے پی کے مقابلے کشمیری لیڈروں کی حکمرانی میں کہیں بہتر تھا۔ٹونی، جنہوں نے جموں کے ڈی ڈی سی حلقہ سوچیت گڑھ سے بی جے پی کے سابق وزیر کو شکست دی، نے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیااور لوگوں سے کہا کہ وہ نعرے پر عمل کریں کہ "جب تک ریاست نہیں، بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے"۔
 
 
 

دیویندر سنگھ رانا کی لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات | عوامی اہمیت کے مسائل پرمشتمل ضخیم یاداشت پیش کی

جموں//سابق ایم ایل اے اور بی جے پی کے سینئر لیڈردیویندر سنگھ رانا نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور عوامی اہمیت کے مختلف مسائل کو اٹھایا۔رانا نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی، جس میں انہوں نے یومیہ اجرت والوں، آئی ٹی آئی کے تربیت یافتہ، آرام دہ مزدوروں، زمین کے عطیہ دہندگان اور سی پی کارکنوں کو ریگولرائز کرنے سے متعلق کئی مطالبات اور مسائل پیش کئے جبکہ منریگا کے تحت زیر التواء ادائیگی کی واگزاری، جموں و کشمیر پولیس میں سب انسپکٹروںکے امیدواروں کے لیے عمر میں نرمی،نان گزیٹیڈ پولیس اہلکاروں کی بے ضابطگیوں کا خاتمہ،جموں/سرینگر کے میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات کو باقاعدہ بنانا،صارفین کے لیے کان کنی کے معدنی نرخ، جنگلات کے حقوق کے قانون کا نفاذ،پٹنی ٹاپ، سناسر، سورنسر، مانسر، پورمنڈل اور اس طرح کے دیگر سیاحتی ممکنہ علاقوں کی ترقی کے مسائل بھی اٹھائے۔ بی جے پی رہنما نے مختلف روزگار اور نوجوانوں پر مبنی مسائل بھی اٹھائے جن میں پیرا میڈکس کی خالی اسامیوں کو پر کرنے کے دوران ایمرجنسی کوویڈ ریسپانس پیکیج کے تحت مصروف پیرامیڈک اسٹاف کو ترجیح دینا، امیدواروں کی امیدواری پر غور کرنا جن کے پاس اعلیٰ اہلیت ہے اور جنہوں نے جے کے ایس ایس بی کے ذریعہ منعقدہ کلاس چہارم کا امتحان پاس کیا ہو، یونانی اور آیورویدک مضامین کی مشابہت پر ہومیوپیتھک گریجویٹس کے لیے اسامیاں پیدا کرنا، سرحدی علاقوں میں پولیس/ نیم فوجی/ فوج کی خصوصی بھرتی مہم کے علاوہ انجینئرنگ، میڈیکل، تعلیم اور متعلقہ خدمات کے لیے خصوصی کیڈرتشکیل دیناشامل ہیں۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی توجہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور ٹرانسپورٹرز کے کئی مسائل کے علاوہ گاندھی نگر ہاؤسنگ کالونی کے مکینوں کے گھروں کے سامنے والے علاقے کی چھٹیوں سے متعلق مسائل کی طرف بھی مبذول کرائی۔لیفٹیننٹ گورنر نے سابق ایم ایل اے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کی ضروریات اور امنگوں کی عکاسی کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبے اور پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم UT کی مساوی اور تیز رفتار ترقی اور اس کے لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے رانا کو یقین دلایا کہ ان کے پیش کردہ حقیقی مسائل پر مناسب غور کیا جائے گا اور ان پر زور دیا کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔
 
 
 
 

جموں کے سرمائی زون میں بارھویں جماعت کے امتحانات آج سے

ضلع رام بن کے امتحانی مراکز کے سو میٹر کے دائرے میں امتناعی احکامات جاری 

محمد تسکین
بانہال// بارھویں اور دسویں جماعتوں کے امتحانات کے پیش نظرضلع مجسٹریٹ رام بن مسرت الاسلام نے امتحانی مراکز کے ایک سو میٹر کے دائرے میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔ پیر کو جاری کئے گئے ایک حکم میں ضلع مجسٹریٹ رام بن مسرت الاسلام نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی طرف سے بارھویں اور دسویں جماعت کے امتحانات شروع ہونے کے پیش نظر ضلع رام بن کے امتحانی سینٹروں کے ایک سو میٹر کے دائرے میں دفعہ 144 نافذ رہے گا۔ حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ احکامات 09 نومبر منگل سے امتحانوں اختتام تک نافذ العمل رہیںگے۔ حکمنامے میں امتحانی مراکز کے احاطوں میں لاؤڈ سپیکروں، پبلک ایڈرس چلانے اور سگریٹ پینے بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ صوبہ جموں کے سرمائی زون کے علاقوں خصوصاً خطہ چناب اور پیر پنچال کے علاقوں میں وادی کشمیر کے بچوں نے ساتھ بارھویں جماعت کے امتحانات آج یعنی منگل سے شروع ہو رہے ہیں جبکہ دسویں جماعت کے امتحانات آئندہ چند ایک ہفتوں میں متوقع ہیں۔ 
 
 
 

رام بن موٹر سائیکل حادثے میں ایک بچے کی موت |  دس سال سے کم عمر کے چھ بچوں سمیت7 زخمی، جموں منتقل 

محمد تسکین
بانہال // رام بن کے قریب کوہ باغ لنک روڈ پر پیر کی شام ایک موٹر بائیک جس کے ساتھ ایک کیرئیر لگا ہوا تھا ، کے حادثے میں چھ بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس حادثے میں ایک بچے کی موت موقع پر ہی واقع ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ موٹر سائیکل کیرئیر کوہ باغ سے رام بن کی طرف جانے کے دوران کوہ باغ رابط سڑک سے نیچے لڑھک گیا جس کے نتیجے میں ایک بچے کی موت واقع ہوگئی ہے جبکہ ایک بالغ اور دس سال سے کم عمر کے چھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے وقت اس پر سات بچے اور ایک بالغ سوار تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والے اور زخمیوں کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ یہاں رام بن میں کام کاج کی غرض سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ضلع ہسپتال رام بن ڈاکٹر عبدالحمید زرگر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس حادثے میں ایک بچے کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا جبکہ بالغ ڈرائیور اور دس سال سے کم عمر کے چھ بچے اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ہسپتال رام بن میں زخمیوں کے سی ٹی سکین اور چسٹ وغیرہ کے ایکس رے سمیت تمام ممکنہ ٹیسٹ کئے گئے ہیں لیکن بیشتر زخمیوں کو متعدد زخم آئے ہیں اور اسی کے کے پیش نظر تمام زخمیوں کو مزید علاج و معالجہ کیلئے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں منتقل کیا جارہا ہے۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی لوگوں، پولیس اور مقامی رضاکاروں نے بچاؤ کاروائیوں کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔پولیس نے ضابطے کی کارروائی شروع کی ہے اور قانونی لوازمات کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔
 
 

مشیرراجیو رائے بھٹناگر نے جل شکتی محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا 

 جموں //لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے سول سیکرٹریٹ میں محکمہ جل شکتی کی کارکردگی کا جائیزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی ۔ میٹنگ کے دوران مشیر نے جموں و کشمیر یو ٹی میں جل جیون مشن کے نفاذ اور اس کے نظر ثانی شدہ طریقوں پر پیش رفت کا بھی جائیزہ لیا ۔جل شکتی محکمہ کے کام کاج کا جائیزہ لیتے ہوئے مشیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ محکمہ کو مقامی آبادی کو پانی کی بنیادی ضرورت فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کاشتکار برادری کو آبپاشی کی سہولیات فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے تا کہ یہاں کی زراعت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور اسے برقرار رکھا جا سکے ۔ مشیر بھٹناگر نے مزید کہا کہ محکمے کا مینڈیٹ پالیسیاں تیار کرنا ، پروگراموں اور طریقوں پر عمل درآمد کرنا بھی ہے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کی فعال شمولیت کے ساتھ یو ٹی کے آبی وسائل کے منصفانہ اور پائیدار طریقے سے موثر استعمال کے قابل بنائے گا ۔ مشیر راجیو رائو بھٹناگر نے جے جے ایم کے نفاذ پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ جل شکتی محکمہ جل جیون مشن کے تحت اگست 2022 ء تک معیاری پینے کا پانی فراہم کرنے کے قابل گھریلو نل کنیکشن فراہم کرنے کا تصور کرتا ہے ۔ مشیر موصوف نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ جل جیون مشن کی سکیموں /پروجیکٹوں میں معیار اور مقدار دونوں یکساں طور پر اہم ہیں ۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے پی آر آئی اور دیگر عوامی نمائندوں کو بھی اس اسکیم کے آسانی سے نفاذ کیلئے شامل کرنے کو کہا ۔ کمشنر سیکرٹری جل شکتی محکمہ ایم راجو نے میٹنگ کے دوران مشیر کو مطلع کیا کہ مشن کے تحت کوریج اگست 2019 میں 35 فیصد سے بڑھ کر مارچ 2020 ء کے اختتام تک 43 فیصد تک بڑھ کر 56 فیصد ہو گئی ہے ۔ کمشنر سیکرٹری نے جل شکتی محکمہ کی کامیابیوں کے بارے میں بھی جانکاری دی ۔ مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن ( جے جے ایم ) ڈاکٹر سید عابد رشید شاہ نے اجلاس کو جل جیون مشن کے تحت جاری کاموں کی صورتحال سے آگاہ کیا ۔ اجلاس میں دیگر کے علاوہ ڈائریکٹر فائنانس جے ایس ڈی ، چیف انجینئر جل شکتی ( پی ایچ ای ) محکمہ جموں ، چیف انجینئر آئی اینڈ ایف سی جموں ، چیف انجینئر آر ٹی آئی سی جموں نے شرکت کی اس کے علاوہ چیف انجینئر جے ایس ڈی کشمیر ، چیف انجینئر آئی اینڈ ایف سی کشمیر ، ایس ایز کشمیر ڈویژن کے ایکسینز نے سرینگر سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میںحصہ لیا۔ 
 
 

مشیر فاروق خان نے عازمین حج کی سہولیات کا جائزہ لینے کیلئے حج ہائوس کا دورہ کیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے بمنہ سری نگر میں حج ہائوس کا دورہ کیا تاکہ حج 2022ء سے قبل وہاں دستیاب تمام سہولیات کا جائزہ لیا جاسکے۔اِس موقعہ پر مشیر موصوف نے نئے تعمیر شدہ ڈارمیٹری بلاک کا دورہ کیااور ایگزیکٹیو ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ بزرگ اور کمزور عازمین کی آسانی کے لئے وہاں لفٹ کی سہولیت نصب کریں ۔ اُنہوں نے اِنجینئران سے کہا کہ وہ اِس عمارت کو فیس لفٹ دیں جو پہلے کووِڈ ویلنس سینٹر کے طور پر اِستعمال ہو تی رہی ہے۔مشیر فاروق خان نے سی اِی او ، جموںوکشمیر حج کمیٹی عبدالسلام میر سے کہا کہ وہ اِس حج سہولیت کے لان کو خوبصورت بنائیں ۔ اُنہوں نے اُنہیں مشورہ دیا کہ زمین کے ایک حصے کو باغات اور دوسرے حصے کو خوبصورت باغ کے طور پر تیار کیا جائے تاکہ اس کے گرد و نواح کی کشش کو بڑھا یا جاسکے۔اُنہو ںنے حج کمیٹی کے اَفسران سے کہا کہ وہ حج کے دِنوں میں واچ اینڈ وارڈ اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال  رکھیں۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ مستقبل میں سرمائی موسم میں حج عمارت میں ہیٹنگ اِنتظامات کرنے کے امکانات تلاش کریں۔ اُنہوں نے عازمین حج کو آنے والے حج میں بہترین سہولیات فراہم کرنے کا بھی مشور ہ دیا۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ اِس سہولیت میں ان کے قیام کو آرام دہ بنائیں اور انہیں ہر ممکن سہولیت فراہم کریں تاکہ یہ زندگی بھر کا موقعہ ان کے لئے یاد گار بن جائے۔
 Advisor Khan visits Rahat Manzil orphanage-8-1.jpg
 
 

 راحت منزل یتیم خانہ کا بھی دورہ کیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے بٹہ مالو میں واقع راحت منزل یتیم خانہ کا دورہ کیا اور وہاں انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔مشیر موصوف نے یتیم خانہ کے زیر اِنتظام سکول کا معائینہ کیا اور طلاب سے بات چیت کرنے کے لئے کئی کلاسوں میںگئے ۔ اُنہوں نے طلاب سے کہا کہ وہ خود کو پسماندہ محسوس نہ کریں اور مرکزی معیار کے سکولوں کے طلباء کے ساتھ ہر انداز میں مقابلہ کریں۔اُنہوں نے کہا کہ وہ قوم کا اثاثہ ہیں اور پوری قوم ان کے مقاصدکے حصول میں ان کے ساتھ ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ان کے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے ان کی زندگی او رمستقبل کو مزید روشن بنانے کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا ۔ اُنہوں نے جموںوکشمیر کے طول و عرض سے اس سہولیت میں سینکڑوں یتیموں کی اچھی دیکھ بھال کرنے پر یتیم خانہ کی اِنتظامیہ کی تعریف کی۔مشیر موصوف نے منتظمین سے کہا کہ وہ اِن طلباء کے لئے تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اَپنے نمائشی دوروں ، پکنک اور دیگر سیرو تفریح کا منصوبہ بنائیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت طلباء کو دی جانے والی تعلیمی اور دیگر سہولیات کے علاوہ اس طرح کی کوششوں میں انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کر ے گی۔اِس موقعہ پر مشیر فاروق خان نے یتیم خانہ کے ہوسٹل ، ڈائننگ ہال او ردیگر سہولیات کا بھی دورہ کیا ۔اُنہوں نے اِنتظامیہ سے کہا کہ بچوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں کیوں کہ یہ ایک قابل قدر کام ہے ۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر کشمیر بشیر احمد ڈار اور دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔
 
 

جموںوکشمیر کو فلم شوٹنگ کا ایک بہتر مقام بنانے کا عزم 

بالی ووڈ جموں وکشمیر کے ساتھ اپنے رِشتوں کو مستحکم کرے:سرمدحفیظ

ممبئی//سیکرٹری سیاحت و ثقافت سرمد حفیظ نے ملک کی فلمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جموںوکشمیرکے ساتھ اَپنے رِشتوں کو مستحکم کریںاوراُنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی کو ہندوستان میں فلم شوٹنگ کا ایک بہترمقام بنانے کا عزم کیا۔سکرٹری سیاحت نے وزارتِ سیاحت اور اطلاعات و نشریات کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقدہ قومی سطح کے فلم ٹوراِزم سمپوزیم میں شرکت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے بالی ووڈ اور ملک کے دیگر فلمی پلیٹ فارموں کے ساتھ دیرینہ اور پرانے تعلقات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔اُنہوں نے فلم اِنڈسٹری کو جموں و کشمیر کے ساتھ پیار بھرے تعلقات کی یاد دلائی جسے جموں وکشمیر کے لوگ بہت پیار سے یاد کرتے ہیں۔ اُنہوں نے فلمی دنیا کے ممبران سے اپیل کی کہ وہ اِس دھاگے کو آگے بڑھائیں اور فلم شوٹنگ کے لئے اچھی تعداد میں جموں و کشمیر کا دورہ کریں۔سرمد حفیظ نے فلم برادری سے جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ کے ساتھ شراکت داری کے لئے کہا اور اِس سلسلے میں حکومت نے حال ہی میں ایک جامع فلم پالیسی بنائی ہے جس کے ذریعے جموںوکشمیر میں فلم شوٹنگ اور پروڈکشن کو ادارہ جاتی اور ترغیب دی گئی ہے ۔اُنہوں نے فلم پالیسی کے بارے میں ایک تفصیلی پرزنٹیشن میںجموں وکشمیر میں فلمی پروجیکٹس پر کام کرنے کے لئے اہم علاقوں اور گنجائش کا خاکہ پیش کیا ۔ اُنہوں نے کہاکہ پہلی بارجموںوکشمیر یوٹی میں شوٹنگ کی ترغیب دی گئی ہے اور اِس کے لئے ضروری اِنفراسٹرکچر دستیاب کیاجارہا ہے ۔اِس موقعہ پر بالی ووڈ کے کئی ستاروں نے کشمیر کے بارے میں اَپنے تجربات شیئر کئے اور کہا کہ اُنہیں اِس جگہ سے خصوصی محبت ہے ۔ اُنہوں نے دوبارہ شوٹنگ کے لئے یوٹی کا رُخ کرنے میں اَپنے تعاون کا یقین دِلایا۔اِس سے پہلے دن میں سیکرٹری سیاحت نے یہاں مقیم کئی سیاحتی تجارتی اِداروں کے نمائندوں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔ٹریول ایجنٹس فیڈریشن آف اِنڈیا کے ممبران کے ایک وفد نے جموں وکشمیر ٹوراِزم کی طرف سے پیش کی جانے والی متعدد مصنوعات بشمول ایم آئی سی اِی اور کارپوریٹ ٹوراِزم میں گہری دِلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔ متعدد دیگر وفود نے بھی سرمد حفیظ سے ملاقات کی او رمختلف شعبوں جیسے مہم جوئی سیاحت ، سرمائی کھیلوں ، بہار فیسٹولوں وغیرہ کے اِمکانات کے بارے میں دریافت کیا۔
 
 
 
 

سردیاں شروع ہوتے ہی بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے صارفین پریشان

سب ڈویژن بانہال اور رامسو میںفیس میںاضافہ کے باوجود د بجلی کانظام توجہ طلب

محمد تسکین
بانہال// سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی بانہال اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کا سلسلہ شروع ہوگیاہے اور پچھلے کئی ہفتوں سے بجلی من مرضی سے آتی جاتی ہے جس کی وجہ سے صارفین میں محکمہ بجلی کے تئیں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے رامسو رسیونگ سٹیشن کے تحت آنے والے نیل ، مکرکوٹ ، چکہ ، سربگھنی اور اہمہ درداہی ،بانہال کے کھڑی مہو منگت ، سرن ، سراچی ، بنکوٹ ، چاپناڑی، چملواس، شابن باس ، ڈولیگام ، چنجلو ، درشی پورہ ، لامبر ، عشر اور کراوہ وغیرہ کے علاقوں میں بجلی کے شیڈول پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے اور من مرضی سے بجلی چھوڑی اور بند کی جاتی ہے۔ صارفین بجلی کا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی کی طرف سے اگرچہ رسیونگ سٹیشن بانہال میں اضافی ٹرانسفارمر لگا کر اس کی صلاحیت میں حال ہی میں اضافی کیا گیا ہے لیکن بجلی کی بلاوجہ اور غیر اعلانیہ کٹوتی کا سلسلہ جوں کا توں ہے اور نومبر کامہینہ شروع ہوتے ہی بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی صارفین سے 110 روپئے ماہانہ کی بجلی فیس کے بجائے اب چار سو روپئے تک کی رقم ماہانہ بجلی فیس کے طور بلا ناغہ وصولی جاتی ہے لیکن بجلی سپلائی کا نظام دن بہ دن ابتر ہی ہورہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی بار ضروری سروسز کے فیڈر بھی غیر اعلانیہ طور بند کئے جاتے تھے جس کی وجہ سے سب ضلع ہسپتال بانہال میں آپریشن ، ایکسرے اور دیگر ٹیسٹوں کا سلسلہ اثرا انداز ہوجاتا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ رام بن اور ایکسیئن محکمہ بجلی ڈویژن بٹوت سے اپیل کی ہے کہ و ہ اس طرف خصوصی توجہ دیں اور عوامی مشکلات کا ازالہ کریں۔ اس سلسلے میں محکمہ بجلی کے ایک عہدیدار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رامسو ، بانہال اور اکڑال پوگل پرستان کے علاقوں میں بجلی کا نظام بہتر ڈھنگ سے چل رہا ہے اور گرڈ سٹیشن سے بجلی بند ہونے کی صورت میں ہی بجلی کی سپلائی غیر اعلانیہ شیڈول میں بھی بند ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن میں بجلی کی ترسیل لائنیں سینکڑوں کلومیٹر دور پہاڑی سلسلوں سے ہوکر جاتی ہیں اور لائین مینوں اور دیگر ملازمین کی شدید قلت کی وجہ سے ان علاقوں میں بجلی ترسیلی لائنوں میں فالٹ کو دور کرنے میں کبھی کبھار تھوڑا سا وقت درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ڈویژن بٹوٹ کے زیر کنٹرول دور افتادہ علاقوں میں سات سات پنچائتوں کو ایک ایک مستقل لائین مین کے سپرد رکھا گیا ہے اور آج حالات میں دور علاقوں میں بجلی کا نظام متاثر بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں علاقوں کے حساب سے بجلی کا شیڈول جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے عام صارفین سے اپیل کی ہیکہ وہ بجلی کا مناسب استعمال کریں اور ہیٹر اور بوائلر کا استعمال ترک کریں۔ 
 
 
 

خطہ چناب کو صوبائی درجہ دینے کی مہم تیز 

پی ڈی پی اکائی ڈوڈہ نے کیا مکمل حمایت کا اعلان 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //پی ڈی پی اکائی ڈوڈہ نے خطہ چناب کو صوبائی درجہ دینے کے لئے شروع کی گئی مہم کی مکمل حمائت کرتے ہوئے خطہ کی سیاسی، سماجی و مذہبی جماعتوں سے لسانی، علاقائی، سیاسی و مذہبی بنیادوں سے بالا تر ہو کر اس جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ نائب صدر ضلع طالب حسین بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وادی چناب میں قدرتی وسائل وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور مرکزی و یوٹی سرکار کو کروڑوں روپے آمدن ان سے حاصل ہوتی ہے لیکن چناب ویلی کو اس سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔بٹ نے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے و خطہ سے وابستہ سبھی سماجی تنظیموں و عوام کو اس کی حمائت میں آگے آنے کی اپیل کی ہے۔نائب صدر ضلع نے کہا کہ خطہ چناب کی پسماندگی کو دور کرنے کا واحد حل اس خطہ کو صوبائی درجہ دینے میں ہی مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ و پارٹی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ دورہ کے دوران بھی ان کے سامنے یہ مطالبہ رکھا گیا تھا جس نے اپنا ہر ممکن تعاون دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے 14 نومبر کو ڈاک بنگلہ ٹھاٹھری میں ہونے جارہی میٹنگ میں شرکت کرنے کی لوگوں سے اپیل کی ہے۔
 
 
 

پردیش کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میںتبدیلیاں

 جموں// پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی سیل نے پیر کو ریاست، صوبے کے ساتھ ساتھ ضلعی سطحوں پر دو نئے ریاستی کوآرڈینیٹر، ایک صوبائی کوآرڈینیٹر اور ایک چیئرمین جموں شہری کا تقرر کرتے ہوئے بڑی تنظیمی تبدیلیاں کی ہیں۔ایس گرودرشن وائس چیئرمین اقلیتی محکمہ جے کے پی سی سی نے نئے تعینات ہونے والے ریاستی کوآرڈینیٹروں، صوبائی کوآرڈینیٹروں کے ساتھ ساتھ نئے ضلع جموں شہری چیئرمین کو تقرری کے احکامات جاری کیے۔گرودرشن سنگھ کے وائس چیئرمین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تمام اقلیتی برادریوں کو مناسب نمائندگی کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی تمام کوششیں کی گئی ہیں۔ بہت سے نوجوان کارکنوں نے محسوس کیا کہ ان کے پاس پارٹی میں مواقع کی کمی ہے، لہذا یہ ترقی کانگریس پارٹی کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے کے اقدام کے طور پر آئی۔جگجیت سنگھ اور چودھری محمد طارق کو جموں ضلع سے ترقی دے کر ریاستی کمیٹی کے ریاستی کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع دیا گیا ہے جبکہ ایس بلویندر سنگھ رنکو کو صوبائی کوآرڈینیٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے اور بلدیو سنگھ ضلع جموں اربن کے سربراہ ہوں گے۔ مائیکل وزیر، اسٹیٹ کوآرڈینیٹر نے نئی تعینات ہونے والی ٹیم کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ اس قدم سے اقلیتی محکمہ کو مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔
 
 
 
 

این سی خواتین ونگ کا جموں میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج 

جموں// سابق ایم ایل اے اور نائب صدر ویمن ونگ،نیشنل کانفرنس بملا لوتھرا نے شیر کشمیر بھون سے مندر چوک جموں تک مہنگائی اور یونین میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ریلی میں خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن پر مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف بینرز آویزاں تھے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بملا لوتھرا نے لوگوں کے مسائل کو کم کرنے اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں ناکامی پر بی جے پی کی قیادت والی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام بالخصوص خواتین کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔بی جے پی کی قیادت والی حکومت مہنگائی پر قابو پانے اور UT میں بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
 
 

فاروق اور عمر کا ماسٹر بھولا رام کے انتقال پر دکھ کا اظہار

 جموں//نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے ماسٹر بھولا رام، ضلع سکریٹری این سی دیہی راجوری کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں نچلی سطح کا ایک سرشار رہنما قرار دیا جو ہمیشہ خدمت کرنے میں پیش پیش رہے۔  ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے سوگوار خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کو سکون کی دعا کی۔جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال ایڈیشنل جنرل سکریٹری اور صوبائی صدر رتن لال گپتا کے علاوہ جن سینئر لیڈروں نے بھولا رام کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور سوگوار خاندان سے تعزیت کی ان میں اجے کمار سدھوترہ، مشتاق احمد شاہ وغیرہ شامل تھے ۔سینئر رہنماؤں نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا بھی کی۔
 
 

کانگریس نے پلورہ میں بنگلہ دیش کی فتح کی 50 ویں سالگرہ منائی

جموں//بنگلہ دیش کی فتح کی 50 ویں سالگرہ کی تقریبات پلورا جموں دیہی میں جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ یادگاری کمیٹی کے اشتراک سے منعقد کیں جس کا اہتمام ڈی سی سی جموں دیہی نے جنگی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے اورآہنی خاتون اندرا گاندھی کی قیادت کو یاد کرنے کے لیے کیا تھا۔ اے آئی سی سی کنوینر بنگلہ دیش لبریشن وار یادگاری کمیٹی کیپٹن پراوین داوڑ مہمان خصوصی تھے، جے کے پی سی سی کے سربراہ جی اے میر نے صدارت کی۔تقریب میں 1971 کی جنگ کے سابق فوجیوں نے بھی بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔متاثر کن اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن داور نے جنگ کے واقعات کی ترتیب کو یاد کیا اور اندرا گاندھی کی مضبوط قیادت کو یاد کیا جن کی قیادت دنیا میں بے مثال تھی۔کیپٹن داور نے اندرا گاندھی کی قیادت کو بے مثال قرار دیا جس پر ہر ملک بالخصوص کانگریسیوں کو بہت فخر ہونا چاہیے۔دریں اثنا، جے کے پی سی سی کے صدر جی اے میر نے اپنے صدارتی خطاب میں جنگی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا اور فوجوں اور اندرا گاندھی کی قیادت کی تعریف کی جنہیں آئرن لیڈی کہا جاتا تھا۔انہوں نے موجودہ قیادت سے سوال کیا کہ ہماری سرزمین میں چین کے جارحانہ انداز اور دخل اندازی کو کون روک رہے ہیں اور کہا کہ صرف کانگریس ہی ملک کو ایک مضبوط اور پرعزم قیادت فراہم کر سکتی ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔میر نے کہا کہ اندرا گاندھی جیسی مضبوط قیادت وقت کی ضرورت ہے کہ ملک کی علاقائی سالمیت کا مضبوطی سے دفاع کیا جائے اور چین اور پاکستان جیسے پڑوسی دشمنوں سے نمٹنے کے لیے چین سے بڑھتے ہوئے خطرے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جائے۔
 

 سپورٹس پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے: چوہدری حمید

جموں// کشتی ان شعبوں میں سے ایک ہے جو نوجوانوں میں بہت مقبول ہے، جس نے کئی سالوں میں کئی معیارات بنائے ہیں۔یہ بات چوہدری عبدالحمید نائب صدر پی ڈی پی نے غنی مالیرکوٹلہ اور روزی کپورتھلہ کے پہلوانوں کو اعزاز سے نوازنے کے بعد کہی۔ ایک لاکھ روپے کا انعامی مقابلہ اہم شو تھا جس میں غنی مالیرکوٹلہ اور روزی کپورتھلہ کے درمیان ٹائی ہوا۔ دونوں پہلوانوں نے ایک لاکھ روپے کے نقد انعام میں حصہ لیا۔دنگل کا اہتمام دنگل کمیٹی سڈنی، سنجوان نے کیا تھا جس میں چوہدری عبدالحمید مہمان خصوصی تھے جبکہ چوہدری پرویز وفا، میڈیا کوآرڈینیٹر مہمان خصوصی تھے۔چوہدری عبدالحمید نے اپنے خطاب میں دنگل کمیٹی کو اس طرح کے میگا ایونٹ کے انعقاد پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دنگل نوجوانوں کو صحیح راستے پر رکھنے اور منشیات کے استعمال سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور انہوں نے ریسلنگ کو فروغ دینے کا مشورہ دیا تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوان کشتی کے مقابلوں میں جموں و کشمیر کا نام روشن کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں کھیلوں کی مناسب پالیسی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے نوجوان صلاحیت اور ٹیلنٹ کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر نے اس امید کا اظہار کیا کہ مقابلے کے دوران تجربہ کار پہلوانوں کے درمیان زبردست مقابلہ نوجوان پہلوانوں کی حوصلہ افزائی کرے گا، جو کشتی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے اپنی محنت لگا رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس کھیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور عزم کے ساتھ مختلف قومی اور بین الاقوامی ایونٹس کی تیاری کریں۔انہوں نے کہا’’کسی بھی دوسرے کھیل کی طرح، نوجوان کشتی کو بھی ایک پیشہ کے طور پر لے سکتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے لچک، لگن اور محنت کی ضرورت ہے۔پرویز وفا نے کہا کہ اس قسم کی تقریبات ہماری ثقافت کو زندہ کرتی ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ پیشہ ورانہ انداز میں اپنی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور ان میں نکھار پیدا کیا جائے، انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے قریبی علاقوں میں ہونے والے واقعات سے فائدہ اٹھائیں اور بڑے ایونٹس کی تیاری کریں۔
 

پروفیسر کلبھوشن مہترا کی عزت افزائی 

جموں//بی جے پی کے لائبریری انچارج  پروفیسر کلبھوشن موہترا کو پارٹی ہیڈکوارٹر تریکوٹہ نگرجموں میں بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے عزت افزائی کی ۔ بی جے پی کے صدر رویندر رینا اور بی جے پی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) اشوک کول کے ساتھ بی جے پی کے سابق ریاستی صدر اور سابق نائب سی ایم ڈاکٹر نرمل سنگھ، بی جے پی کے سابق ریاستی صدر اور سابق ایم پی (راجیہ سبھا) شمشیر سنگھ منہاس اور بی جے پی کے سابق ریاستی صدر اور سابق وزیر ست شرما نے اس موقع پر پروفیسر کلبھوشن موہترا کو مبارکباد دی۔بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے کلبھوشن موہترا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن مہترا کی لکھی ہوئی کتاب "جموں و کشمیر میں قربانیوں کی کہانی- پرجا پریشد موومنٹ" کے نام کی کتاب کو وزیراعظم نریندر مودی نے خود دہلی میں بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ میںسراہا۔اس سے پہلے اپنی "من کی بات" میں وزیر اعظم نے بتایا تھا کہ "کمل پشپ" نامی پورٹل تشکیل دیا جائے گا جس سے ممتاز سماجی اور سیاسی شخصیات کی خدمات اور قربانیوں کو اجاگر کیا جائے گا جنہوں نے پورے ہندوستان سے قوم کے لیے بے لوث کام کیا۔ کلبھوشن موہترا نے اپنے کاموں میں ایسی 108 شخصیات کے نام اور کام مرتب کیے جو مذکورہ پورٹل میں شامل کیے جائیں تاکہ ان کے کام کو عام لوگوں کے سامنے لایا جا سکے۔کلبھوشن مہترا نے تالیاں بجانے پر پارٹی کی سینئر قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پارٹی اور سماج کی بے لوث خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
 

بی جے پی نے یک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا

جموں// بی جے پی نے جموں میں آئندہ ضلعی سطح کی تربیتی ورکشاپس سے قبل پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے لیے 1 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔بی جے پی کے صدر رویندر رینا اور بی جے پی جنرل سکریٹری (تنظیم) اشوک کول نے ورکشاپ سے خطاب کیا۔ٹریننگ ورکشاپ کا انتظام ریاستی انچارج ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر پرنیش مہاجن نے کیا اور ان کے ساتھ محکمہ کے شریک انچارج انیل بھگت بھی تھے۔رویندر رینا نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کی شخصیت کو پروان چڑھانے کے لیے تنظیمی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ہر قدآور لیڈر جسے ہم آج جانتے ہیں پارٹی کی طرف سے وقتاً فوقتاً منعقد کی جانے والی ان وسیع تربیتی ورکشاپس سے گزرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورکشاپس عوامی زندگی کے ہر عمل میں کارکنوں کی رہنمائی کے لیے ایک روشنی کا کام کرتی ہیں جو انہیں پارٹی کے بنیادی نظریے کی تعلیم دیتی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی پالیسیوں اور نظریات کو زمینی سطح کے کارکنوں تک لے جانے کے لیے ضلعی سطح کے تربیتی پروگراموں پر بھی ہمدردی کا اظہار کیا۔اشوک کول نے آنے والے ضلعی سطح کی تربیتی ورکشاپس میں شامل کیے جانے والے موضوعات پر مختلف رہنماؤں کی مکمل رہنمائی کی۔ انہوں نے تمام ٹرینرز سے کہا کہ وہ اپنے اپنے موضوعات کے تربیتی مواد سے خود کو مناسب طریقے سے لیس کریں اور اس بات پر زور دیا کہ تربیتی ورکشاپس کم از کم 3 دن کے لیے منعقد کی جائیں جس میں تمام ٹرینرز کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کارکنوں کا 2 رات قیام بھی شامل ہے۔
 

 ماتا ویشنو دیوی کے روایتی راستے کی بحالی کا شیو سینا کامطالبہ

 جموں// شیوسینا جموں و کشمیر یونٹ نے یاتریوں اور جموں خطے کے کاروبار کے مجموعی مفاد میں کول کنڈولی ماتا مندر میں پہلے درشن کے ساتھ روایتی شری ماتا ویشنو دیوی یاترا کے راستے کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی کے ریاستی صدر منیش ساہنی کی قیادت میں شیوسینک مہاراجہ ہری سنگھ مجسمہ پر جموں کے کاروبار کو بحال کرنے کے علاوہ شری ماتا کی روایتی یاترا کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سوریہ پٹری توی پل، جموں پر واقع ہے۔ کٹرہ کی طرف جانے والی ٹرینوں نے یاترا کے سفر کے پروگرام تاریخی رگھوناتھ مندر، شیوکھوڑی، باوے والی ماتا، کول کنڈولی، ما وشنو دیوی یاترا سے دوسرے دیوا مائی مندر کو نکال لیا ہے۔ بائی پاس روڈ اور ایکسپریس ہائی وے کئی اہم مقامات سے زائرین کو مزید روکے ہوئے ہیں۔ساہنی نے کہا کہ جموں کا کاروباری طبقہ جو زیادہ تر مذہبی یاترا پر منحصر ہے بری طرح متاثر ہوا ہے جسے آج بچانے کی ضرورت ہے۔ ساہنی نے کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی یاترا ہندوؤں کی سب سے زیادہ قابل احترام عبادت گاہوں میں سے ایک ہے اور ہندوستان اور بیرون ملک سے لاکھوں عقیدت مند ہر سال اس مقدس عبادت گاہ کا دورہ کرنے آتے ہیں اس طرح یہ جموں و کشمیر کی معیشت میں ایک بڑا حصہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ادھم پور اور کٹرا کو براہ راست ریل لنک فراہم کرنے کے بعد جموں کے کاروبار کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ساہنی نے مزید کہا کہ ہم ریل اور قومی شاہراہوں کی توسیع کے خلاف نہیں ہیں، لیکن نیم دل ماتا ویشنو دیوی یاترا کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ساہنی نے کہا کہ آج بی جے پی سمیت کئی لیڈروں نے اچانک ’’جموں جموں‘‘ کا نعرہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ ساہنی نے وزیر داخلہ امیت شاہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا کہ وہ کٹرہ جانے والی براہ راست ٹرینوں کی تعداد کو کم کریں، جموں میں ٹرینوں کے رکنے میں اضافہ کریں، ناگروٹہ اور کول کنڈولی کے ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ساتھ آسان روڈ لنک کے ساتھ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ یقینی طور پر اقتصادی بحالی کے لیے ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ زائرین سیاحوں کی آمد کو یقینی بنائے گا۔