مزید خبریں

۔ 5اگست کے فیصلے واپس لئے جائیں: حکیم 

سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ حکیم یاسین نے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد ایسے تمام یکطرفہ لیے گیے فیصلوں کو بھی منسوخ کریں جن کی وجہ سے جموں وکشمیر کے آئینی حقوق سلب ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا جموں وکشمیر میں پائی جا رہی سماجی وسیاسی غیریقینی صورتحال میں بہتری لانے کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔بدھ کو بڈگام زون کے پی ڈی ایف ورکروں کے ایک روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکیم یاسین نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگ چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت  دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے یکطرفہ طور سلب کیے گئے آئینی حقوق کو بحال کرے جس طرح کسان قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جرت مندانہ قدم سے جموں وکشمیر کے لوگوں میں مرکز کے تئیںپائی جا رہی بد اعتمادی اور شکوک وشبہات کو دور کرنے کے علاوہ دل کی دوریوں کو کم کرنے میں کافی مدد مل سکے گی ۔
 
 
 

 دفعہ370کی تنسیخ سے عوام ناراض:سوز

سرینگر//سابق مرکزی وزیراورکانگریس رہنماپروفیسرسیف الدین سوز نے مرکزی وزیرخزانہ نرملاسیتارمن کے اُس بیان جس میں انہوں نے دعویٰ کیاتھا کہ دفعہ370کی تنسیخ کے بعدجموں کشمیر انتظامیہ میں شفافیت اورافادیت میں اضافہ ہواہے،اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر موصوف اس کی کوئی مثال پیش کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔پروفیسر سوزنے ایک بیان میں کہا،’’ہندوستان کی وزیر خزانہ نرملا سیتھا رمن نے اپنی سطحی عالمانہ رائے میں فتویٰ دیا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموںوکشمیر یونین ٹریٹری انتظامیہ میں شفافیت اور افادیت بڑھ گئی ہے اور انتظامی عمل میں بہتری آئی ہے۔وزیر موصوف کو یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ وہ اس سلسلے میں کوئی مثال پیش کرتی۔سیتھارمن نے جو کچھ کہا ہے، وہ مخض سیاسی پروپگنڈا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ دراصل وزیراعظم  نریندرمودی مودی اور سیتھا رمن جیسے لوگ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد حالات پر اپنے آپ کو تسلی دے رہے ہیں،ورنہ اُن کو معلوم ہیں کہ 5 اگست 2019کو آئین کی دفعہ 370 کو یکطرفہ طور منسوخ کرنے کے بعد جموںو کشمیر کے لوگ زبردست ناراض ہیں اور ریاست کے سیاسی اور سماجی حالات ابتر ہو گئے ہیں، جو جموںوکشمیر اور ہند یونین کے درمیان تعلقات کیلئے اچھی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پس منظر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ مودی جی اور اس کے ساتھیوں کو سوچنا چاہئے کہ جموںوکشمیر کے لوگ یہ بہتر جانتے ہیں کہ اُن کیلئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔پروفیسرسوزنے مزیدکہاکہ جموںو کشمیر کے لوگ اس راہ عمل پر ثابت قدم رہیںگے کہ وہ دفعہ 370 یعنی اندرونی داخلی مختار ی کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھیںگے۔ دراصل موجودہ حکمران طبقہ آئین ہند میں حقوق کی پاسداری کے سلسلے میں دی گئی ضمانتوں سے بے خبر ہیں اور اُن کو یہ بھی اچھی طرح معلوم نہیں ہے کہ قوموں کی زندگی میں حقوق کیلئے جدوجہد سب سے اہم چیز ہوتی ہے اور جموںوکشمیر کے لوگ حقوق کی بحالی کیلئے جمہوری طریقے سے سرگرم عمل رہیںگے۔ ‘‘
 
 
 

 ریاستی درجہ عنقریب بحال کیا جائیگا: اشوک کول

اننت ناگ //عارف بلوچ//بھارتیہ جنتاپارٹی کے تنظیمی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کاریاستی درجہ عنقریب کسی بھی وقت بحال کیا جائے گا۔کھنہ بل اننت ناگ میں پارٹی رہنمائوں کی ایک میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں مرکزی حکومت جموں کشمیرکی کلہم ترقی کیلئے تمام اقدام کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اوروزیرداخلہ نے پہلے ہی یہ اعلان کیا ہے کہ جموں کشمیر کاریاستی درجہ بحال کیا جائے گااوروہ دن دور نہیں جب جموں کشمیرکاریاستی درجہ بحال کیا جائے گا کیوں کہ جموں کشمیرمیں حالات دوبارہ پٹری پر آرہے ہیں۔اشوک کول نے کہا کہ ملک میں کانگریس کا وجود لگ بھگ ختم ہوچکا ہے اور غلام نبی آزادجیسے قدآوررہنماکوبھی اپنے مستقبل کافیصلہ کرناچاہیے۔ اس سے پہلے کول نے پارٹی لیڈران سے تفصیلی بات چیت کی اور آیندہ کے پروگرام کو حتمی شکل دی۔انہوں نے تنظیمی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کی اور مستقبل کے پروگراموں پر بھی بات کی جو مختلف سطحوں پر لوگوں کے قریب جانے کے لیے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے نچلی سطح کے کارکنوں کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتوں اور بات چیت کی اہمیت پر بھی بات کی۔کول نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ وہ لوگوں تک پہنچیں اور انہیں ترقیاتی پروجیکٹوں اور فلاحی اسکیموں کے بارے میں آگاہ کریں ۔
 
 
 

5,43,408 غیرمنظم کارکنوں کا اندراج | سرکاری شعبے میں عارضی کارکنان کی رجسٹریشن کی ہدایت 

جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے مرکزی حکومت کے اِی ۔ شرم پورٹل پر جموں وکشمیر میں تمام غیر منظم کارکنوں کے رجسٹریشن کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محنت و روزگار محکمہ ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے اینڈ کے بلڈنگ اینڈ اَدرس کنسٹرکشن ورکرس ویلفیئر بورڈ،لیبر کمشنر اور محکمہ دیگر اَفسران شرکت کی۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ محکمہ نے اَب تک 5,43,408 کارکنوں کو رجسٹرکیا ہے جن میں 2,01,508 خواتین اور 3,41,900 مرد کارکنان غیر منظم شعبے سے وابستہ ہیں۔میٹنگ میںمزید بتایا گیا کہ زراعت ، تعمیرات ، صحت دیکھ ریکھ ، ٹرانسپورٹ اور دستکاری شعبوں کا کل رجسٹریشنوں میں تقریباً 20فیصد حصہ ہے ۔ اعلیٰ رجسٹریشن والے دوسرے شعبے سیاحت ، رٹیل ، گھریلومدد ، مینو فیکچرنگ وغیرہ ہیں۔تعمیراتی کارکنوں کے لئے سماجی تحفظی سکیموں کے تحت فوائد تک آسانی سے رَسائی کے بارے میں جانکاری دی گئی کہ اِی۔شرم پورٹل پر تیار کردہ منفرد آئی ڈی کے ذریعے رجسٹریشن کی معلومات تک متعدد محکموں اور ایجنسیوں سے رَسائی حاصل کی جاسکتی ہے تاکہ استفادہ کرنے والے تصدیق شدہ اَفراد کو فوائد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا نے محکمہ سے کہا کہ وہ تمام اہل کارکنوں کو رجسٹر کریں جن میں سرکاری شعبے میں عارضی طور پر کام کرنے والے کارکنان شامل ہیں۔ چیف سیکرٹری نے محکمہ سے مزید کہا کہ وہ منریگا سکیم کے ساتھ مختلف سیلف ہیلپ گروپوں کے تحت کا م کرنے والے غیر منظم کارکنوں کو رجسٹر کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔اِی شرم پورٹل پر رجسٹریشن کو آسان بنانے کے لئے محکمہ سے کہا گیا ہے کہ وہ محنت کے ضلعی دفاتر کے علاوہ جموںوکشمیر کے تمام کامن سروس سینٹروں میں رجسٹریشن کی سہولیات کا بندوبست کرے۔
 
 
 

’ٹنگڈار میں 80فیصد جنگلاتی آگ پر قابو پایا گیا ‘

سرینگر //اشفاق سعید // ٹنگڈار جنگلات کے کمپارٹمنٹ نمبر 34میں لگی بھیانک آگ پر قابو پانے کیلئے کپوارہ کے رامحال رینج اور ترہگام رینج سے قریب 100ملامین کو بدھ کو کرناہ روانہ کیا گیا اور دن بھر اس جنگل میں آگ بجھانے کی کوششیں جاری رہیں ،تاہم محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ آگ پر 70فیصد قابو پایا جا چکا ہے ۔کرناہ کے جنگلات میں گذشتہ چار دنوں سے بھیانک آگ لگی ہوئی ہے جس کی زد میں ٹنگڈار ناڑ سے لیکر کلسوری کے جنگلات آئے ہیں۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کے شعلے دور دور تک دکھائی دے رہے ہیںجبکہ پورا کرناہ دھواں ہی دھواں تھا۔ آگ کی وجہ سے جنگل میں متعدد سرسبز درختان کو نقصان ہوا ہے جبکہ گھاس اور جھاڑیاں بھی جل گئی ہیں ۔محکمہ کا عملہ آگ بجھانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے ۔کرناہ میں بدھ صبح سے ہی فارسٹ پروٹیکشن فورس ، فائر اینڈ ایمرجنسی سروس اورمقامی لوگوں نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، جبکہ ترہگام سے رینج آفسر ظہور احمد خان اور رامحال سے رینج افسر بشیر احمد کی قیات میں ایک سو افراد پر مشتمل محکمہ جنگلات کا عملہ کرناہ پہنچا اور دن بھر آگ بجھانے کی کوشش کی ۔محکمہ کے ملازمین کا کہنا تھا کہ خشک موسم اور تیز ہوا چلنے کی وجہ سے آگ بجھانے میں دقتیں پیش آرہی تھیں،تاہم اس کے باوجود بھی متعلقہ محکمہ جات کے قریب 200ملازمین آگ پر قابو پانے کی کوشش میں دن بھر لگے ہوئے تھے۔ مقامی پنچایتی اراکین نے بھی لوگوں سے ایپل کی تھی کہ مزید جنگل کوبچانے کیلئے محکمہ جنگلات کے ساتھ تعاون کریں ۔مقامی سرپنچوں نے اس دوران مساجد میں بھی اعلان کرائے اور لوگوں سے کہا کہ جنگل کو بچانا سب کا فرض ہے اس لئے سب محکمہ جنگلات کے ساتھ تعاون کریں، تاہم صبح مقامی لوگوں کے ساتھ آرمی گڈ وِل سکول کا عملہ بھی پرنسپل کی قیادت میں وہاں پہنچا اور ڈنڈوں اور دیگر اوزاروں سے آگ بجھانے کی کوشش کی ۔رینج افسر کرناہ شمس الرحمان اور ترہگام ظہور احمد خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سوموار کو بعد دوپہر قریب اڑھائی بجے کمپارٹمنٹ نمبر 34میں اچانک آگ نمودار ہوئی اور محکمہ کا قلیل عملہ اس آگ پر قابو نہ پا سکا ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے اعلیٰ حکام کی مداخلت سے آج قریب100ملازمین کپوارہ سے کرناہ پہنچے جنہوں نے آگ بجھانے کی کوششیں شروع کیں ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک 80فیصد جنگلات میں آگ بجھائی جا چکی ہے اور شام تک آگ پر قابو پایا جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ موسم خشک رہنے اور تیز ہوائیں چلنے سے آگ زیادہ بھڑک چکی تھی ۔
 
 
 

پکڑ دھکڑ اور امن و قانون کی بدحالی | نورآباد میں نیشنل کانفرنس کی احتجاجی ریلی

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے اہتمام سے نورآباد کولگام میں حکمرانوں کی غفلت شعاری، لوگوں کے مسائل و مشکلات ، ریکارڈ توڑ بے روزگاری، پکڑ دھکڑ اور امن و قانون کی بگڑتی ہوئی صورتحال کیخلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ریلی کی قیادت پارٹی کی سٹیٹ سکریٹری اور سابق وزیر سکینہ ایتو کررہی تھیں۔ ریلی کے شرکاء نے بجلی، پانی، راشن اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی کیخلاف نعرے بازی کی۔ اس سے قبل دمحال ہانجی پورہ نورآباد میں ایک ورکرس کنونشن کا انعقاد ہوا۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ تینوں خطوں کے لوگوں کو اس وقت جدید تاریخ کے مشکل ترین چیلنج درپیش ہیں ۔گذشتہ27ماہ سے غیر یقینیت اور بے چینی کی فضاء قائم ہے، حکومت ہند کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے ہمیں ایسی صورتحال میں دھکیل دیا جہاں اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، زمینی سطح پر انتظامیہ یا حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ حکمران صرف کاغذی گھوڑے دوڑانے میں مصروف ہے جبکہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
 
 
 

جراثیم سے پاک پانی کی ترسیل | جموں کشمیر10ریاستوں میں شامل

سرینگر//بلال فرقانی//جموں کشمیر بھارت کی ان 10ریاستوں میں اپنا نام شامل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے،جہاں پر لوگوں کو جراثیم و آلودگی سے پاک پانی کی ترسیل کی جاتی ہے،جبکہ پانی کے معیار کی جانچ کرنے کیلئے لیبارٹریوں کے قیام میں7ویں پائیدان پر ہے ۔جل جیون مشن کے تحت حکومت جموں و کشمیر میں ہر گھر میں پانی کی رسائی کا ہدف مرکزی سطح میں2024کے مقابلے میں آئندہ برس مقرر کیا گیا ہے،وہی معیاری،معقول اور متواتر پانی کے ساتھ جموں کشمیر آلودہ اور غلاظت سے پاک صاف پانی کی رسائی میں7ویں پائیدان پر ہے۔ اس فہرست میں ہریانہ اور منی پور سر فہرست ہے،جہاں پر حاصل شدہ پانی کے نمونوں میں صفر غلاظت تھی،جبکہ دوسرے پائیدان پر ہماچل پردیش0.1فیصد کے ساتھ دوسرے0.02کے ساتھ اترا کھنڈ تیسرے،0.05کے ساتھ گواہ چوتھے،0.23کے ساتھ اروناچل پردیش پانچویں،0.27فیصد کے ساتھ تلنگانہ چھٹے اور0.46فیصد کے ساتھ جموں کشمیر ساتویں پائیدان پر ہے۔جموں کشمیر  کے بعد مدھیہ پردیش0.82فیصد کے ساتھ ا ٓٹھویں نمبر پر ہے۔ پانی کے نمونوں کی جانچ کیلئے جموں کشمیر میں مجموعی طور پر97لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،تاکہ پانی کے معیار کی جانچ کی جاسکے،اور لوگوں تک جراثیم سے پاک پانی کی سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ جل جیون مشن سے حاصل اعداد شمار کے مطابق جموں کشمیر بھارت بھر میں لیبارٹریوں کے قیام میں بھی7ویں پائیدان پر ہے،جبکہ سب سے زیادہ لیبارٹریاں مغربی بنگال میں قائم کی گئی ہے جن کی تعداد220ہے۔اس فہرست میں177لیبارٹریوں کے ساتھ مہاراشٹرا دوسرے نمبر پر جبکہ155لیبارٹریوں کے ساتھ مدھیہ پردیش تیسرے نمبر پر ہے۔ دستیاب اعداد شمار کے مطابق بہار میں122جبکہ تامل ناڈوں میں113اور اندھرا پردیش میں112 لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں جو بالترتیب چوتھے،پانچوں اور چھٹے پائیدان پر ہے۔ جموں کشمیر97لیبارٹریوں کے ساتھ اس فہرست میں 7ویں نمبر پر ہے،جبکہ جموں کشمیر کے بعد اتر پردیش میں83،آسام میں 80اور کرناٹکا میں79لیبارٹریاں قائم کی گئی ہے۔ دستیاب اعداد شمار کے مطابق نل سے پانی کی رسائی کی فہرست میںن جموں کشمیر14ویں پائیدان پر ہے،جہاں56.46فیصد لوگوں کو نل سے پانی کی ترسیل کی گئی ہے اور انکی مجموعی تعداد10لاکھ36ہزار65کنبوں پر مشتمل ہے،تاہم ابھی بھی43.54فیصد لوگوں کو نل سے پانی کی رسائی ابھی تک حاصل نہیں ہے،اور انکی تعداد7لاکھ99ہزار125ہے۔اس مشن کے آغاز سے سب سے زیادہ نل سے کنکشن فراہم کرنے کی فہرست میں جموں کشمیر17ویں نمبر پر ہے،جہاں ابھی تک 25.10فیصد کی شرح سے4لاکھ60ہزار599کنکشن فراہم کئے گئے ہیں۔فہرست میں اندھرا پردیش،لداخ،مدھیہ پردیش،گوا،گجرات اور آسام جیسی ریاستیں جموں کشمیر کے نیچے ہیں۔
 
 
 

 کولگام میں شہری درخت سے گرکرلقمۂ اجل

کولگام// کولگام ضلع کے شورت گاؤں میں بدھ کی دوپہر ایک58 سالہ شخص سیب کے درخت سے گرنے کے بعد ہلاک ہوگیا۔جے کے این ایس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ایک شخص جس کی شناخت علی محمد راتھر ولد غلام رسول ساکن شورت کولگام کے طور پر ہوئی ہے، سیب کے درخت سے گرگیا۔پولیس کے مطابق درخت سے گرنے کے بعدمذکورہ شخص نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔پولیس نے مزید کہا کہ لاش کو آخری رسومات کے لئے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے گا،تاہم کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی۔
 
 
 

 کپوارہ میں محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین کا احتجاج 

کپوارہ//اشرف چراغ //کپوارہ میں محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین نے اپنی اجرتوں کی واگزاری کے حق میں احتجاج کیا۔احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ ان کی کئی ماہ کی تنخواہ رُکی پڑی ہے،جس بناپرانہیں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جو عارضی ملازم اپنی جانیں گنوابیٹھے ہیں،ان کے افراد خانہ کوخصوصی مالی مدد اور نوکری فراہم کی جائے۔
 
 

سنگرونی پلوامہ کااستاد 4روزسے لاپتہ

 پلوامہ//سید اعجاز // پلوامہ کے مضافات سنگرونی کا ایک جواں سال سرکاری استاد پچھلے 4 روز سے پراسرار طور لاپتہ ہوا ہے۔ اس کی سلامتی کولیکر اس کے لواحقین میں تشویش کی لہردوڑ گئی ہے۔اس دوران پولیس نے لاپتہ شخص کا سراغ لگانے کے لیے فون نمبرات جاری کر کے عام لوگوں سے تعاون طلب کیا ہے۔ پلوامہ کے آڑی تراغ سنگرونی سے تعلق رکھنے والا ایک 35سالہ سرکاری استاد شوکت احمد ولدنذیر احمد دیڈڑ چار روز قبل اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلا،لیکن ابھی تک واپس نہیں لوٹا،گھروالوں نے اُسے بسیار تلاش کیا تاہم اس کاکوئی سراغ نہیں ملا جس کے بعد انہوں نے پولیس میں ایک گمشد گی رپورٹ بھی درج کرائی۔اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انہیں شوکت کی گمشدگی کے بعد اس کی سلامتی کو لیکر  خدشات لاحق ہو ئے ہیں اور وہ اس سلسلے میں ذہنی کوفت کے شکار ہوئے ہیں۔ادھر پولیس نے بتایا پولیس سٹیشن راجپورہ کو محمد اشرف ولد نذیر احمد دیدڈ ساکن ادیتراگ سنگروانی کی طرف سے تحریری شکایت موصول ہوئی ہے کہ اس کا بھائی شوکت احمد ولد نذیر احمد دیدڈ21نومبر سے لاپتہ ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کا بھائی ذہنی طور پر پریشان ہے اور زیر علاج ہے۔ وہ نماز کے لیے گھر سے نکلا اور آج تک گھر واپس نہیں آیا۔اس اطلاع کے بعد پولیس تھانہ راج پورہ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے اور لاپتہ شخص کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ کسی کو بھی لاپتہ شخص کے بارے میں کوئی معلومات ہو تو وہ پولیس اسٹیشن راجپورہ کو 9541915030، 9541915019 اور PCR پلوامہ کو 01933-241986، 9541915035 پر اطلاع دے سکتا ہے۔
 
 
 

آری پل ترال میں عوامی دربارکا انعقاد

ترال//سید اعجاز//سب ضلع ترال کے دور افتادہ تحصیل آری پل میں بدھ کو عوامی مسائل کو حل کرنے کی غرض سے ایک عوامی دربار مقامی ڈی ڈی سی ممبر منظور احمد گنائی کی صدارت میں منعقد ہو ا، جس میں مختلف محکموں کے ملازمین ،افسران اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔اس دوران دربار میں موجود لوگوں نے مذکورہ تحصیل میں پینے کے صاف پانی اور بجلی کی عدم دستیابی اورسرکاری راشن گھاٹوں پر راشن کی قلت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔لوگوں نے یہاں تعمیر و ترقی اور باقی مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے ۔انہوں نے ایل جی انتظامیہ ،ڈپٹی کمشنر پلوامہ اوراے ڈی سی ترال سے اس حوالے سے مداخلت کی اپیل کی ۔در بار میں محکمہ بجلی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر محمد مقبول،بی ڈی آری پل فاروق احمد میر کے علاوہ باقی محکموں کے ملازمین اور افسران موجود تھے ۔
 
 
 

تلنگانہ میںکشمیری زعفران کی کامیاب کاشت |  20گنازیادہ معیاری ہونے کادعویٰ

سرینگر//تلنگانہ پہلی بار کشمیری زعفران اُگانے میں کامیاب ہوگیا ہے اور بڑے پیمانے پر پائلٹ فارمنگ نے بہترین نتائج دکھائے ہیں۔ کے این ایس کے مطابق ریاست تلنگانہ میں حیدرآباد نشین سٹارٹ اپ ’’اربن کسان‘‘(UrbanKissan) نے کامیابی کے ساتھ کشمیری زعفران کو اگایاہے۔ ’اربن کسان‘ کے معاون بانی نے ڈاکٹر سائی رام ریڈی پالیچرا کاکہنا ہے ، ’’کشمیر میں زعفران اُگانے کیلئے مخصوص موسمی حالات کی ضرورت ہوتی ہے ، ہم نے خطہ میں چند کسانوں سے اس بارے بات کی اور اگست میں وہاں سے بیج حاصل کئے‘‘۔ انہوںنے کہا ، ’’ہم نے کشمیر کے مخصوص موسمی اور کاربن ڈآئی آکسائڈ حالات بنائے جو بالکل کشمیرمیں زعفران کے پھولوں کو اگانے کیلئے لازمی ہوتے ہیں اور ہم نے اعلیٰ معیار (A grade)کا زعفران اپنے کھیتوںمیں اگایا‘‘۔ اخبار تلنگانہ ٹوڈے میں شائع خبر میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے مقابلے میں انہوںنے اپنی اختراعی نشوونما کے ذریعہ زعفران 40گنا کم جگہ اور 20گنا بہترین معیار کا اُگایا ہے۔ ڈاکٹر سائی رام ریڈی پالیچرا کاکہنا ہے کہ عام طور پر زعفران سال میں صرف ایک مہینہ میں اُگتا ہے اور باقی وقت غیر فعال اور مٹی کے نیچے رہتا ہے اور ہم اس سلسلہ کوتوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سال میں 2بار زعفران کو اگایا جائے گا۔ زعفران کی کاشت کانہا شانتی ونم حیدرآباد میں کی جارہی ہے۔ عمودی کاشتکاری کا آغاز ہائیڈروپونک کا استعمال کرتا ہے اور اس طریقہ کار میں مٹی کا استعمال نہیں ہوتا ہے اور اس تکنیک سے سبزیاں اور پھل اگائے جاتے ہیں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

ناظم دیہی ترقی کا بڈگام میں ترقیاتی سکیموںکی بروقت تکمیل پر زور 

بڈگام//ناظم دیہی ترقی کشمیر طارق احمد زرگر نے بڈگام ضلع میں دیہی ترقیاتی سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی اور ضلع میں زیر تکمیل مختلف کاموں کا موقعہ پر جائزہ لیا۔انہوں نے فلیگ شپ پروگراموں بشمول منریگا، پی ایم اے وائی۔جی اور 14ویں ایف سی اے ، کیپکس بجٹ ( سی ڈی  اینڈ پی وائی ٹی سیکٹر) کے تحت کاموں کی پیش رفت ، آر جی ایس اے کے تحت پنچایت گھروں کی تزئین و آرائش اور دیگر اَمور کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ بڈگام نے منریگا کے تحت پید اکئے گئے ایام کار کے سلسلے میں صد فیصد ہدف حاصل کیا ہے ۔نومبر 2021ء کو ختم ہونے والے 6.24 لاکھ ایام کار کے ہدف کے مقابلے میں آج تک 7.85 لاکھ ایام کار (126%) پہلے ہی پید اہوچکے ہیں۔ مزید برآں منریگا جاب کارڈ ہولڈروں میں منریگا کی اُجرت وقت پر واگذار کی جاتی ہے اور آج تک 16.72 کروڑ روپے اُجرت ادا کی جاچکی ہیں۔اِس کے علاوہ اثاثوں کی صدفیصد جیو ٹیگنگ او رجاب کارڈ ہولڈروں کی زائد از 95فیصد آدھار سیڈنگ مکمل ہوچکی ہے ۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ مالی سال 2021-22 میں منریگا کے تحت کُل 1,690 کام ہاتھ میں لئے گئے ہیں جن میں 220 مکمل ہوچکے ہیں اور باقی تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں ۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ پی ایم اے وائی ۔ جی کے تحت 96 فیصد ہدف حاصل کیا گیا ہے۔ 360 ہاؤسنگ یونٹس کے ہدف کے مقابلے میں 346 یونٹ بروقت مکمل ہو چکے ہیں۔ اِسی طرح آر جی ایس اے کے تحت اٹھائے گئے 3 پنچایت گھروں کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا جاچکا ہے اور 8 مزید پرتزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔
 
 
 

 حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے عرس پرمبارک باد

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے سالانہ عرس پر مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے ایک پیغام میں کہا کہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ ان اولیاء میں سے ہیں جنہوں نے زندگی کا ہر لمحہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت، انسانیت کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت میں صرف کیا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ خواجہ نظام الدین اولیاءؒ قرآن و حدیث کے جید عالم دین تھے۔ انہوں نے دین اسلام کے تئیں جو خدمات انجام دی ہیں وہ سرزمین ہند پر خدا کا عظیم احسان ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈران محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد، محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔
 
 
 
 

مراز ادبی سنگم کی اننت ناگ میں تقریب

علی شیدا اور شبیر حسین کی کتابوں کی رسم رونمائی

سرینگر//گورنمنٹ ڈگری کالج بائز اننت ناگ میں بدھ کو مراز ادبی سنگم کے اشتراک سے علی شیدا کے شعری مجموعہ’’لا بہ لا‘‘اور شبیر حسین شبیر کی وادی چناب کی تاریخ پر مبنی کتاب’’وادی چناب تہذیب و ثقافت‘‘کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔اس موقع پر حال ہی میں انتقال کرچکے معروف ادیب ناجی منور اور غلام مصطفی امید کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔ پروفیسر مصروفہ قادر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ علی شیدا کے شعری مجموعہ ’لا بہ لا‘کی رسم رونمائی کالج کے پرنسپل پروفیسر مظفر احمد بٹ نے انجام دی۔ اس کتاب پر یوسف جہانگیر اور ایس معشوق نے تبصرہ پیش کیا۔ شبیر حسین شبیر کی تصنیف ’’وادی چناب تہذیب و ثقافت ‘‘کی رسم رونمائی ان کے استاد شبیر احمد میر نے انجام دی۔ اس کتاب پر شاکر شفیع کا تحریر کردہ تبصرہ پروفیسر مصروفہ قادر نے پیش کیا۔ وادی چناب کی تاریخ پر مبنی کتاب چناب کی تہذیب و ثقافت، جغرافیائی صورت، کلچر، رسم و رواج، ادبی منظر نامے، سیاسیات اور اقتصادیات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ تقریب میں علی شیدا اور شبیر حسین شبیر کو توصیفی سند بھی دی گئی۔تقریب میں نوجوان اور ہونہار شاعرہ مصروفہ قادر کی عزت افزائی کی گئی اور ان کو ایک توصیفی سند پیش کی گئی۔ تقریب کی صدارت غلام نبی آتش نے کی ۔ تقریب کے اختتام پر ایک محفل مشاعرہ ہوا جس میں پرویز گلشن، مصروفہ قادر، عمر فیاض اور ڈاکٹر شیدا حسین شیدا نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ 
 
 
 

جل شکتی مہم: نہرو یوا کیندر کی جانب سے مصوری مقابلہ

سرینگر// سرینگر میں نہرو یوا کیندرا (این وائی کے) اور احسن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے جل شکتی مہم کو کامیاب بنانے کے مقصد سے خمینی چوک بمنہ میں’کیچ دی رین‘ پروگرام کے تحت مصوری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں کیندر کے ڈپٹی ڈائریکٹر حکیم عبدالعزیز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور احسن فاؤنڈیشن کے چیئرمین راہی ریاض مہمان ذی وقار شامل ہوئے۔مختلف یوتھ کلبوں سے وابستہ لڑکوں اور لڑکیوں کے علاوہ کئی سکولوں کے طلباء نے ’کیچ دی رین ‘ موضوع پر مصوری مقابلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔تقریب کے دوران پانی کو بچانے کا حلف بھی لیا گیا۔تقریب کے آخر پر پینٹنگ مقابلے میں حصہ لینے والی بچوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔کے این ایس
 
 
 

 ٹنگمرگ میںسومو یونین کا احتجاج

ٹنگمرگ /مشتاق الحسن/ سومو یونین ٹنگمرگ نے احتجاج کرتے ہوئے گلمرگ اور دیگرروٹوں پر سروس معطل کرکے ٹنگمرگ بازار میں دھرنا دیکر ان کا روزگار بچانے کی مانگ کی ہے ۔ بوٹہ پتھری میں بارہمولہ کنڈی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بہکیں موجودہیں جہاں وہ موسم گرما میں مویشی چرانے کے علاوہ سیاحوں کو گھوڑے فراہم کرکے اپنا روزگار کماتے تھے تاہم اب انہوںنے کسی اجازت اور اسٹینڈ کے بغیر اپنی گاڑیاں چلانے کی شروعات کی ہے جس کی وجہ سے ٹنگمرگ گلمرگ اسٹینڈ کے ڈرائیور بے کار ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ٹنگمرگ سومو یونین کے صدر نے یہ معاملہ کئی بار چیف ایگزیکٹیو افسر گلمرگ ،ایس ڈی پی او ٹنگمرگ ،ایس ڈی ایم ٹنگمرگ اور ریجنل ٹرانسپورٹ افسر سوپور کی نوٹس میں بھی لایا تاہم حکام کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے ۔ سومو یونین کے مطابق انہوں نے بطور احتجاج اپنی سروس بند کردی ہے۔ انہوں نے ٹنگمرگ بازار میں اپنے حق میں نعرے بلند کئے۔ادھر سومو سروس بند ہونے کی وجہ سے مسافروں اور سیاحوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔
 
 
 
 

سیکرٹری سیاحت نے کپوارہ میں سرمائی تیاریوں کا جائزہ لیا

کپوارہ//سیکرٹری سیاحت و ثقافت سرمد حفیظ جو ضلع کپوارہ کے ترقیاتی کاموں اور دیگر متعلقہ اَمور کی نگرانی کے لئے اِنچارج سیکرٹری بھی ہیں ، نے ضلع میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا ۔انہوں نے کہا کہ ضلع کپوارہ کے دورے کا مقصد حکومت کی طرف سے زمینی سطح پر شروع کی گئی ترقیاتی سکیموں کی عمل آوری میں پی آر آئیز سے رائے طلب کرنا اور اِنتظامیہ اَفسران کے ساتھ پیش رفت کی رفتارکے بارے میں جائزہ لینا ہے۔سرمد حفیظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو بڑی حصولیابی درج کی گئی ہے وہ سہ درجے پنچایتی راج نظام کا قیام ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک بار جب سسٹم کو مکمل طور پر درست طریقے سے ریگولیٹ کیاجائے گا تو اس کے فوائد عوام تک آسانی سے پہنچ جائیں گے۔سیکریٹری نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمات کی فراہمی نظام میں متحرک رہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سیکرٹری نے نظام میں کارکردگی اور شفافیت لانے کے لئے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر اِمام الدین نے ضلع کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی پاور پوائنٹ پرزنٹیشن دی اور چیئرمین کو بتایا کہ رواںمالی سال کے کل منظور شدہ 77959.8 روپے میں سے 75فیصد فنڈس یعنی 16963.65لاکھ روپے واگذار کئے گئے ہیں۔جس میں سے 8875.70لاکھ روپے اِس سال اکتوبر کے آخیر تک خرچ ہوچکے ہیں۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ ڈی ڈی سیز ، بی ڈی سیزاور پی آر آئیز کے ائیر یا ڈیولپمنٹ فنڈ سمیت مختلف سکیموں کے تحت کل 2,158 کاموں کی منظور ی دی گئی ہے ۔مزید جانکاری دی گئی کہ رواں مالی سال کے دوران 1,633کام مکمل کرنے کا ہدف ہے۔سیکرٹری ثقافت و سیاحت نے ضلع میں آر اینڈ بی ، جل شکتی ( پی ایچ اِی اور آبپاشی ) ، صحت ، بجلی ، دیہی ترقی ، سماجی بہبود ، خوراک کی فراہمی اور تعلیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے اَفسران اور فیلڈ عملے کو ہدایت دی کہ وہ عوامی مسائل کو جلد نمٹانے کے لئے محنت اور لگن کا اِضافہ کریں۔