مزید خبریں

پہلگام میں بندروں کی ہڑبونگ , لوگ مشکلات سے دوچار

سرینگر// پہلگام علاقے میں بندروں اور ریچھوں کی موجودگی سے لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ وائلڈ لائف ان بندروں کو قابو کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کررہا ہے۔ بندروں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں میں گھس کر وہاں موجود سامان کو تہس نہس کرکے جو چیز پسند آئے اس کو اپنے ساتھ اْٹھاکے لے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق بندرو ں اور دیگر جنگلی جانوروں کی ہڑبونگ کی وجہ سے لوگ اب ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لوگوں نے محکمہ وائلڈ لائف سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اس سلسلے میں اقدامات کئے جائیں۔سی این آئی
 
 
 
 

 اننت ناگ میں ملٹی لیول کار پارکنگ کا افتتاح 

اننت ناگ//اننت ناگ کے ضلع ترقیاتی کمشنرڈاکٹر پیوش سنگلا نے پیر کوجنگلات منڈی میں ملٹی لیول کار پارکنگ کا افتتاح کیا۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ شہر کی سڑکوں پر بھیڑ کو کم کرنے کیلئے کار پارکنگ کی بے حد ضرورت ہے اور ملٹی لیول کار پارکنگ سڑک کے کنارے پارکنگ کے مسئلے کو کم کرے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت کو کم کرنے کے لیے اس سہولت سے استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹریفک کو سڑک کنارے پارکنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں کیونکہ متبادل دستیاب ہے۔ڈاکٹر سنگلا نے کہا کہ پارکنگ کی سہولت معمولی معاوضے پر دستیاب ہے لہٰذا خلاف ورزی کرنے والوں اور غلط پارکنگ کرنے والوں کے ساتھ قانون کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا کیونکہ گنجان سڑک جی ایم سی اننت ناگ کو شہر کے باقی حصوں سے جوڑنے والا ایک اہم راستہ ہے۔اس موقع پر میونسپل کونسل اننت ناگ کے صدرہلال احمد نے کہا کہ یہ ضلع کا دورہ کرنے والے کار مالکان کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اس اقدام سے عوام کو راحت کی سانس ضرور ملے گی۔دریں اثنا ایم ایل سی پی کی تعمیر آر اینڈ بی نے 16.02 کروڑ روپے کی لاگت سے کی ہے۔اس پارکنگ میں 200گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ ہے۔پارکنگ چارجز 30روپے فی کار یومیہ ہوں گے۔اس دوران ایس ایس پی اننت ناگ نے عوام سے بات چیت کی اور کہا کہ اس سہولت سے ٹریفک جام کے مناظر اب دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔
 
 

 پلوامہ ضلع میں جموں کشمیر بینک کے2اے ٹی ایم نصب

ڈپٹی کمشنر بصیر الحق چودھری نے افتتاح کیا

سرینگر//جموں کشمیر بنک نے پلوامہ میں دو آٹومیٹڈ ٹیلر مشینیں عوام کیلئے وقف کیں۔ بینک نے ترال میں بزنس یونٹ آیری پل کے قریب ایک اے ٹی ایم اور پلوامہ ضلع میں وشہ بگ بزنس یونٹ کے قریب ایسی ہی ایک اور مشین شروع کی جس سے بینک کے اے ٹی ایم کی کل تعداد 1393ہوگئی۔ ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ بصیر الحق چودھری نے زونل ہیڈ جنوبی کشمیرپلوامہ تصدق احمد ڈار، اے ڈی سی ترال ایس اے اور ایس ایس پی اونتی پورہ محمد یوسف کی موجودگی میں آری پل ترال میں آن سائٹ اے ٹی ایم کا افتتاح کیاجبکہ ڈپٹی کمشنر پلوامہ بصیر الحق چودھری اور ایس ایس پی پلوامہ غلام جیلانی نے زونل ہیڈ تصدق احمد ڈار کی موجودگی میں وشہ بگ میں نصب اے ٹی ایم کا افتتاح کیا ۔دونوں افتتاحی تقریب میں صارفین، بزرگ شہریوں، مقامی تاجروں اور ضلعی انتظامیہ اور بینک کے دیگر عہدیداروں کی ایک اچھی تعداد بھی موجود تھی۔دونوں مواقع پر بات کرتے ہوئے ڈی سی نے عوام دوست اقدام کے طور پر اے ٹی ایم کے شروع کرنے کو سراہا اور ان علاقوں کے لوگوں کو یہ سہولت فراہم کرنے پر بینک کی تعریف کی۔ انہوں نے دونوں علاقوں کے باشندوں کو ان کا مطالبہ پورا ہونے پر مبارکباد دی۔زونل ہیڈ نے جموں و کشمیر میں اپنے صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پریشانی سے پاک اور جدید ترین بینکنگ خدمات اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے بینک کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ ان سہولیات کا بہترین استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ترال شہر سے تقریبا 15 کلومیٹر دور دور افتادہ علاقے میں اے ٹی ایم کی تنصیب جموں اینڈ کشمیر بینک کی انتظامیہ کی اپنے لوگوں کی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے ۔
 
 
 

سوچھ کرال سوسائٹی کے اہتمام سے محفل مشاعرہ

سرینگر//سوچھ کرال سوسائٹی کے زیر اہتمام پلوامہ میں محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی شعراء کے علاوہ بڈگام،بارہمولہ اور شوپیان سے آئے ہوئے شعراء نے شرکت کی۔مشاعرے کی صدارت ماہر تعلیم غلام حسن طالب نے کی۔اس موقع پر یونس وحید مہمان خصوصی اور اشہر اشرف مہمان ذی وقار کی حیثیت سے موجود تھے۔مشاعرے میں جن شعرا نے شرکت کی ان میں شفیع شاداب، سکندر ارشاد، یونس وحید،اشہر اشرف،محمد شاد شجاد،یوسف مسبوق ،خورشید باسم، مرغوب شاہین، فقیر اعظم آفتاب،سعید گلزار احمد وانی اورشاہد شاد قابل ذکر ہیں۔تقریب میں سوچھ کرال سوسائٹی سے وابستہ ڈاکٹر گلزار احمد،امتیاز عبداللہ،محمد یاسین،شاد سجاد اور مشتاق عالم کے علاوہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد موجود تھے۔تقریب کے دوران امتیاز عبداللہ کے ناول’’ دلیل‘‘ کی رسم رونمائی بھی انجام دی گئی۔مشاعرے میں جن شعرا نے شرکت کی اُن کو اسناد سے نوازا گیا۔تقریب کے آخر پر غلام حسن طالب نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ادبی انجمن سوچھ کرال سوسائٹی حال ہی میں منظر عام پر آئی اور پیر کو پہلے مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔
 
 

 اننت ناگ میں امتحانی مراکز کے ارد گرددفعہ144نافذ

اننت ناگ//ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اننت ناگ نے ضلع میں مختلف اسامیوں کے لیے کمپیوٹر پر مبنی تحریری امتحان (CBT) کے پیش نظر 7دسمبرسے 11دسمبرتک ویلی اسکل ڈیولپمنٹ، BOSCHکمپلیکس، پی ڈی ڈی دفتر اوردیگر امتحانی مراکزکے اردگردمقررہ تاریخوں پر 200میٹر کے دائرے میںدفعہ144 نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ امتحانی مراکز کے 200میٹر کے دائرے میں صرف امتحانی، نگران عملہ، امتحانی ڈیوٹی کے لیے تعینات سکیورٹی فورس کے اہلکار اور متعلقہ حکام کو داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔یہ قدم بیرونی مداخلت کو روکنے اور امتحانی مراکز کے ارد گرد عوامی امن کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ایس ایس پی اننت ناگ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکم نامے کو مکمل طور پر نافذ کریں اور اس مقصد کیلئے مناسب پولیس اہلکار تعینات کریں۔ 
 
 

اے ڈی سی ترال نے دسویں جماعت کے

 مختلف امتحانی مراکز کا معائنہ کیا

سید اعجاز
پلوامہ//ضلع پلوامہ میں 10ویں جماعت کے امتحانات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ترال نے پیر کو  مختلف امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول ترال میں قائم امتحانی مراکز کے اپنے معائنہ کے دوران اے ڈی سی نے تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلبا کو امتحانات کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کووڈ19 کے تمامرہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر اے ڈی سی نے طلبا کے سیٹنگ پلان کو چیک کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے پاس کوئی ایسی چیزتو نہیں جو امتحانات میں غیر منصفانہ طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔انہوں نے سنٹروں میںعملے کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا۔اے ڈی سی نے متعلقہ افراد کو ہدایت کی کہ امتحانی پرچوں کی تقسیم کے دوران انتہائی احتیاط کو یقینی بنایا جائے اور امتحانات کے انعقاد کے دوران تمام ضروری ہدایات پر عمل کیا جائے۔
 
 
 
 

چیف سیکریٹری کی صدارت میں میٹنگ،مختلف اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ 

منریگا کے تحت 170.87لاکھ اَیام کار پیدا،12لاکھ41ہزارجاب کارڈ جاری

جموں// چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے ایک میٹنگ کی صدرات کی جس میں دیہی ترقی محکمہ کی طرف سے مرکزی معاونت والی مختلف سکیموں کی حصولیابیوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ نے منریگا کے تحت جاری کردہ رقم کے مقابلے 98فیصد اخراجات کا اِندراج کیا ہے جس سے رواں مالی سال میں 12.41 لاکھ جاب کارڈ جاری کرکے 170.87 لاکھ ایام کار پید ا کئے گئے ہیں۔ محکمہ نے 44,509 کام مکمل کئے ہیں اور مرحلہ اوّل کے تحت 98.67 فیصد کام او رمرحلہ دوم کے تحت 84فیصد کاموں کی جیو ٹیگنگ کو یقینی بنایا ہے۔محکمہ نے راشٹریہ گرام سوراج ابھیان ( آر جی ایس اے) کے تحت 41 پنچایت بھون کی تعمیر اور تزئین و آرائش ،37,500 پی آر آئی ممبران اور 3,500 سیکٹر ایبلروں کے لئے کپسٹی بلڈنگ ٹریننگ کا اِنعقاد کیا ہے۔مزید برآں 450 منتخب نمائندوں کو جموںوکشمیر سے باہر نمائشی دوروں پر بھیجا گیا تاکہ دیگر ریاستوں او ریوٹیوں کے پی آر آئیز میں نافذ کئے جانے والے بہترین طریقوں کا مطالعہ کیا جاسکے۔آر جی ایس اے پروگرام کا مقصد دیہی لوکل گورننس کے لئے پنچایتی راج اِداروں کی صلاحیتوں کو ترقی دینا او رمضبوط کرنا ہے تاکہ مقامی ترقی کی ضروریات کے لئے زیادہ ذمہ دار بن سکے۔محکمہ نے پردھان منتری آواس یوجنا( گرامین) کے تحت پکے رہائشی مکانات کی تعمیر میں 26,113 گھرانوں کی مدد کی ہے اور 319.42 کروڑ روپے جاری کی گئی رقم کے مقابلے میں 60فیصد اخراجات درج کئے ہیں۔دیہی ترقی محکمہ نے سوچھ بھارت مشن ( گرامین ) کے تحت 10,230 اِنفرادی گھریلو بیت الخلاء اور 212کمیونٹی بیت الخلاء تعمیر کئے ہیں ۔ اِس کے علاوہ گائوں کی سطح کے سالڈ ،لیکوڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں کی تیاری پر توجہ مرکوز کی ہے۔میٹنگ کو مزید جانکاری دی گئی کہ جموںوکشمیر رورل لائیولی ہڈ مشن نے 6,345 سیلف ہیلپ گروپس( ایس ایچ جیز) کو مالیاتی اِداروں سے متحرک اور منسلک کیا ہے اور4,244 ایس ایچ جیزکے حق میں 35.97 کروڑروپے جاری کئے ہیں۔اُمید کے تحت زرعی ماحولیاتی پروگرام (اے ای پی ) کے تحت 976 مہیلا کسانوں کا احاطہ کیا ہے۔ 292 مہیلا کسانوں نے مویشیوں کی مدد کے تحت اور 1,443 گھرانوں کو ایگری نیوٹری باغات فراہم کئے ہیں۔ اِس کے بعد سٹارٹ اَپ وِلیج اَنٹرپرینیورشپ پروگرام کے تحت راجوری اور اننت ناگ اَضلاع میں فوائد کے لئے سروے جاری ہے۔مزید برآں اِنٹگریٹیڈ واٹر شیڈ مینجمنٹ پروگرام کے تحت محکمہ بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور واٹر شیڈوں میں پانی کی فراہمی کو بڑھانے کے لئے 41 منصوبوں کو IVاور V کے مراحل میں نافذ کر رہا ہے۔چیف سیکرٹری نے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ منریگا او رپی ایم اے وائی ( جی) کے تحت بنائے جانے والے تمام اثاثوں کی صد فیصد جیو ٹیگنگ کو یقینی بنائیں ۔اِس کے علاوہ سکیموں کے تحت پیش رفت اور ترقی کو ٹریک کرنے کے لئے ٹائم سیریز ڈیٹا تیار کیا جائے۔محکمہ کو پی ایم اے وائی ( جی ) کے تحت نااہل استفادہ کنندگان کی جڑی بوٹیوں کو ختم کرنے اور دسمبر 2021ء تک سکیم کو بند کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔چیف سکریٹری نے متعلقہ افراد کو ہدایت دی کہ وہ تمام ترقیاتی کاموں کی فہرستیں ظاہر کریں جو موجودہ مالی سال میں پنچایت گھر میں شروع کئے گئے ہیں جن میں میٹریل اور لیبر کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ڈاکٹرارون کمار مہتا نے پی آر آئی ممبران کی ضروری معلومات حاصل کرنے والے ڈیٹا بیس اور اپنے اپنے دائرہ اختیار میں مکمل ہونے والے کاموں کے بارے میں ان کی رائے جمع کرنے کے لئے ایک طریقہ کار کی تشکیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا،’’پی آر آئی کے متعلقہ منتخب نمائندے کی طرف سے کام کی تصدیق مختلف ترقیاتی کاموں کی مناسب نگرانی کو یقینی بنائے گی اور بنیادی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔چیف سیکرٹری موصوف نے محکمہ کو مزید ہدایت دی کہ وہ 15 دسمبر 2021ء تک گائوں کی سطح پر صفائی کے تمام منصوبے تیار کریں اور سائنٹفک سالڈ اور واٹر ویسٹ مینجمنٹ اور اس سے منسلک بائیو گیس کی پیداوار کے لئے بنیادی ڈھانچے تیار کرکے منریگا سکیم کے ساتھ ان کی عمل آوری کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے ’’ حمایت سکیم ‘‘ کے تحت کم کوریج کا جائزہ لیتے ہوئے شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد اُمید واروں کی تعیناتی کے بعد ٹریننگ کو فروغ دینے کے لئے فوری مداخلت کی ہدایت دی۔
 
 
 
 

چین ہو یا پاکستان، بھارت تیار 

ملک کی سالمیت اور سیکورٹی پر سمجھوتہ نا ممکن:جنرل بپن راوت 

نیوز ڈیسک
نئی دہلی// چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ موجودہ موسم لائن آف کنٹرول پر دراندازی کیلئے موزون ہے تاہم فوج کسی بھی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے تیار ہے اور کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی اہل ہے ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی لداخ میں بھی بھارتی فوج چین کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے متحرک اور چوکس ہے اور ملک کو یقین دلانا چاہتے ہیںکہ ہماری سالمیت اور سیکورٹی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی ۔ جنرل بپن روات نے ایک نیوز چینل کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حدمتارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر صورتحال قابو میں اور بہتر ہے تاہم خفیہ اطلاعات ہیں کہ سرحدوں پر دراندازی کی کوششیں بڑھ جائیں گی کیوںکہ پہاڑی علاقوں میں اس وقت جو موسمی صورتحال ہے وہ دراندازی کیلئے موزون ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہم اس بات کے وعدہ بند ہیں کہ سرحدوں پر کسی طرح کی دراندازی کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اگرچہ سرحدوں پر کشیدگی بنی ہوئی ہے تاہم ہمارے جوان اس کا بہاردی کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں ۔
 
 
 

گلگت بلتستان میں سیاچن کے قریب پاکستانی ہیلی کاپٹر تباہ،2پائلٹ ہلاک

سرینگر//پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیاچن میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار میجر راجا ذیشان جہانزیب اور میجر عرفان برچا ہلاک ہوئے۔پاک فوج نے ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے اور فوجی دستے جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے مطابق حادثہ ضلع گانچھے میں پیش آیا جس میں پاک فوج کے دو پائلٹ ہلاک ہوئے۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے میجر عرفان اور میجر ذیشان کے خاندان سے تعزیت کرتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں بھی گلگت بلتستان کے ضلع استور کے علاقے منی مرگ میں پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے سے 4 فوجی جوان ہلاک ہوگئے تھے۔رواں سال پاک فضائیہ کا لڑاکا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گرکر تباہ ہو گیاتھا تاہم طیارے میں سوار دونوں پائلٹ باحفاظت اترنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
 
 
 

لداخ میں مزید 31 افراد میں کورونا کی تشخیص

یواین آئی
سری نگر//مرکزی زیرانتظام خطہ لداخ کے لہیہ ضلع میں پیر کے روز مزید 31 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ لیہیہ میں 31 افراد میں کورونا کی تشخیص کے بعد ضلع میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 295 تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی خاطر احتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق پیر کے روز مزید 34 مریضوں کو ہسپتال سے رخصت کیا گیا ہے ۔اُن کا مزید کہنا ہے کہ ہسپتالوں سے رخصت ہونے والوں کی تعداد 21 ہزار 204 ہو گئی ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران لداخ یونین ٹریٹری میں 1144افراد کی رپورٹ منفی آئی ہے ۔بتادیں کہ یونین ٹریٹری لداخ میں گزشتہ سال سے ابتک 215 افراد کورونا سے اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔
 
 
 

ساتویں جماعت کی’ ہسٹری وسیوکس ‘ کتاب میں متنازعہ مواد پر سماجی ومذہبی تنظیمیں برہم

ناشر کیخلاف مقدمہ دائر کیاجائے:مفتی اعظم

نصابی کتابوں کی جانچ کی جائے:قیوم وانی،اصل محرکات کا پتہ لگایاجائے:علماء

سرینگر//نئی دہلی کے ایک اشاعتی ادارے کی جانب سے ساتویں جماعت کی ’ہسٹری اینڈ سیوکس‘ مضمون کی کتاب میں قابل اعتراض مطالعاتی مواد جس میں پیغمبرا سلام ؐ کی تصویر کشی کی گئی تھی اور جس سے کہ مسلمانوں کے دینی جذبات مجروح ہوئے تھے،پرمفتی اعظم سمیت مذہبی اور سماجی تنظیموں نے مذمت کی ہے اورجموں کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے مذکورہ کتاب پرپابندی لگانے کے فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے اشاعتی ادارے کی معافی طلب کرنے کو معاملے کو دفن کرنے کے مترادف قراردیا۔  سی این ایس کے مطابق مفتی اعظم اور چیئرمین مسلم پرسنل لا بورڈ مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ اسلام کی مقدس ترین شخصیت حضرت محمد ؐ کی توہین ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ کے احکام کی طرف سے قبول شدہ عقیدہ یہ ہے کہ نبی محمدؐ اور دیگر تمام انبیاء ؑ کی تصویر کشی  نہیں  کی جاسکتی، لہذا کسی بھی صورت میں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو کسی بھی طریقے سے پیش کیا جائے جو ظاہری طور پر یا ڈھکے چھپے ہو۔ انہوںنے کہا کہ اسلام کی توہین کا عروج کچھ پبلشرز کا تازہ ترین اقدام ہے جس نے پرائمری سطح کے تعلیمی نصاب/نصاب میں پیغمبر اسلام ؐاور فرشتہ جبرائیل ؑ کی ایسی خیالی تصاویر کو ممکنہ طور پر متاثر کرنے کے مذموم اور ناپاک ارادے کے ساتھ شامل کیاہے۔ انہوںنے کہا کہ ناشر کو فرقہ وارانہ بدامنی اور انتشار پھیلانے کے لیے مقدمہ درج کیا جائے اور دوسری طرف اس مواد پر مشتمل ہر انفرادی کتاب کو بازار سے اور ہر اسکول/کالج سے ہٹا نے کی ضرورت ہے۔ادھرسول سوسائٹی فورم نے بھی ساتویں جماعت کی ہسٹری اورسوکس کی کتاب میں قابل اعتراض موادشامل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نصابی کتابوں کی نگرانی اور جانچ کیلئے ایک ریگولیٹری بورڈ قائم کیا جائے۔فورم کے صدر عبدالقیوم وانی نے ایک بیان میں کہا کہ جموں کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے جموں وکشمیراور لداخ کے اسکولوں کو مذکورہ کتاب نہ پڑھانے کی ہدایت دینے اور اس کتاب پر پابندی عاید کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ اس کتاب میں موجودقابل اعتراض مواد سے مسلمانو ں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ناشر کی طرف سے اس کیلئے معافی طلب کرنا ،ایسے افراد اور اداروں کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے مذکورہ کتاب کے ناشر کے خلاف کیس درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس دوران علما کرام وائمہ مساجد کے متحدہ فورم انجمن علما وائمہ مساجدجموں وکشمیر کے امیر حافظ عبد الرحمن اشرفی اور سرپرست اعلی مفتی محمد قاسم قاسمی  نے نئی دہلی کی ایک پبلی کیشن کی طرف سے ساتویں جماعت کی تاریخ کی کتاب میں پیغمبر اسلام ؐ اور حضرت جبرائیل ؑ کی تصویر شائع کرنے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کومسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا۔ انجمن علما کے ترجمان  کے بیان  کے مطابق علما کرام نے کہاکہ اسلام میں مجسمہ سازی اور تصویر کشی کی اجازت نہیں اور ایسے اقدامات ماضی میں بھی مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا سبب بنے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی تحقیق کی جانی چاہیے کہ مذکورہ کتاب میں اس تصویر کو شائع کرنے کے پیچھے اصل محرکات کیاہیں۔ علما ء نے سکول منتظمین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کتاب کو شامل نصاب ہرگزنہ کریں، اگر کسی سکول  نے یہ کتاب شامل نصاب کی ہے تواس کو واپس کریں۔
 
 
 

جے سی پبلیکشنز کی متنازعہ کتاب

پولیس کو پبلشر اور ڈسٹری بیوٹر کیخلاف کیس درج کرنے کی ہدایت

یواین آئی
سری نگر// دلی نشین جے سی پبلشرز کی ساتویں جماعت کی’ہسٹری اینڈ سویکس‘ کی متنازعہ درسی کتاب پر عوامی حلقوں میں پائے جانے والے غم و غصے کے بیچ جہاں سری نگر انتظامیہ نے پولیس کو پبلشر اور کتاب کے سری نگر ڈسٹری بیوٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے مکتوب روانہ کیا ہے، وہیں جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کو یہ کتاب استعمال کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔دریں اثنا جے سی پبلیکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ دلی س اس ضمن میں معافی نامہ جاری کرتے ہوئے اس کو ایک غیر ارادی غلطی قرار دیا ہے ۔بتادیں کہ جے سی پبلیکشنز دلی کی طرف سے چھاپی گئی ساتویں جماعت کی اس’ہسٹری اینڈ سویکس‘کی درسی کتاب میں پیمبر اسلام حضرت محمد ؐ اور حضرت جبرئیل ؑ کا عکس چھاپا گیا ہے ۔اس متنازع کتاب کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سری نگر سید حنیف بلخی نے ایس ایس پی سری نگر کو مذکورہ پبلشنگ ہاؤس اور سری نگر میں قائم اس کے اسٹاکسٹ کے خلاف ایف آئی درج کرنے کو کہا ہے ۔موصوف ضلع مجسٹریٹ نے ایس ایس پی کے نام اپنے مکتوب میں لکھا ہے ،’’چیف ایجوکیشن افسر سری نگر نے ہمیں اطلاع دی کہ جے سے پبلشرز نامی ایک دلی نشین پبلشنگ ہاؤس نے ساتویں جماعت کے طلبا کے لئے ایک کتاب چھاپی ہے جس میں کچھ حساس مواد چھاپا گیا ہے اور یہ کتاب پرے پورہ سری نگر میں قائم ’پیرا ڈائز بک شاپ‘پر دستیاب ہے‘‘۔مکتوب میں کہا گیا،’’اس معاملے کے پیش نظر استدعا ہے کہ اس کتاب کے پبلشر اور ڈسٹری بیوٹر کے خلاف تحت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے ‘‘۔دریں اثنا جموں وکشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام اسکولوں کو یہ کتاب استعمال نہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔بورڈ کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہا گیا ہے ،’’جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری کے تمام سرکاری ونجی اسکولوں خواہ وہ سی بی ایس ای سے منسلک ہوں، جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن سے یا ملک کے کسی بھی بورڈ سے منسلک ہوں کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ جے سی پبلیکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ نئی دہلی کی ساتویں جماعت کی ’ہسٹری اینڈ سویکس‘کی درسی کتاب ایڈیشن 2020 کو استعمال نہ کریں‘‘۔حکمنامے میں کہا گیا کہ اگر کسی اسکول نے یہ کتاب استعمال کی ہے تو وہ اس کو فوری طور بند کرے بصورت دیگر اس کے خلاف تحت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھر جے سی پبلیکشنز دلی نے اس ضمن میں ایک معافی نامہ جاری کیا ہے ۔معافی نامے میں کہا گیا ہے ،’’اسلام میں عکس چھاپنے پر ممانعت ہونے کے بارے میں علم نہ ہونے کے باعث ہم نے ساتویں جماعت کی’ہسٹری اینڈ سویکس‘کتاب ایڈیشن 2020 میں سبق نمبر 02 کے صفحہ نمبر 033 پر ایک غیر ارادی غلطی کی ہے جس سے ہمارے بھائیوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں‘‘۔معافی نامے میں کہا گیا،’’ہم جے سی پبلیکشنز کی پوری ٹیم اس کے لئے معافی کے خواستگار ہیں اور یہ یقین دہانی کرتے ہیں کہ اگلے ایڈیشن میں اس غلطی کو نہیں دہرایا جائے گا‘‘۔
 
 
 

اسلامک فریٹرنٹی کا ناشر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

سری نگر//بلال فرقانی//جموں و کشمیر اسلامک فرٹنٹی نے پیر کو کہا کہ 7ویں جماعت کی تاریخ اور سیوکس کے ایڈیشن 2020 میں قابل اعتراض مواد شائع کرنا مسلم معاشرے کے خلاف ایک سازش ہے۔اسلامک فرٹنٹی کے صدر، محمد عامر نے کہا’’یہ ایک سازش تھی جو دہلی کی جے اے سی ای پبلی کیشنز نے مسلم معاشرے کے خلاف رچی تھی جو وقت سے پہلے ہی بے نقاب ہو گئی۔‘‘ایوان صحافت کشمیر میں پیر کو ایک پریس کانفرنس میں عامر نے کہا کہ ہمارے نبیؐکے خلاف قابل اعتراض مواد شائع کرنے کا عمل قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے لائسنس کی منسوخی اور ناشرکے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ عامر کا کہنا تھا’’اس طرح کی کارروائیاں تواتر سے ہوتی رہی ہیں لیکن وادی کشمیر میں ایسا پہلی بار ہوا ہے اور ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔ اس درسی کتاب میں، ناشرنے ہمارے نبی ؐ کی ایک بار بھی عزت نہیں کی۔‘‘عامر نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ مجرم کھلے عام جو چاہیں کر رہے ہیں اور لوگوں بالخصوص مسلم کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔انہوںنے کشمیر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ دہلی کی جے اے سی ای پبلی کیشنز کی طرف سے شائع ہونے والی کتابوں کا بائیکاٹ کریں خاص طور پر 7ویں جماعت کے ایڈیشن 2020 کی تاریخ اور سیوکس کورد کریں‘‘۔اسلامک فرٹنٹی کے سربراہ نے کہا’’ہم کتب فروشوں سے پبلشر کی کتابیں واپس کرنے کی اپیل کرتے ہیں جبکہ پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن اور والدین سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ’جے سی ای پبلی کیشنز‘ کی طرف سے شائع کی جانے والی کتابوں کو بلیک لسٹ کر دیا جائے۔‘‘انہوںنے ہندوستان کے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ’جے سی پبلی کیشنز‘ کی طرف سے شائع ہونے والی تمام کتابوں کا بائیکاٹ کریں۔اسلامی برادری نے مبلغین سے اپیل کی کہ وہ آئندہ جمعے کی نماز باجماعت کے دوران اس مسئلے پر بات کریں۔اس دوران  اسلامک فرٹنٹ نے سری نگر ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے میں بروقت مداخلت کرنے اور کیس درج کرنے کا خیر مقدم کیا۔
 
 
 

نجی اسکولوں کی انجمن نے کتب کی جانچ کیلئے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی

تعلیمی ادارے کوئی بھی نئی کتاب کمیٹی کی منظوری کے بغیر متعارف نہ کریں

سرینگر//نجی اسکولوں کی انجمن کشمیر پرائیویٹ اسکولزایسوسی ایشن نے نئی دہلی کے ایک پبلشر کی طرف سے ایک کتاب میں قابل اعتراض مواد شائع کرنے کی مذمت کرتے ہوئے پیر کو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جوتمام کتابوں کی جانچ کرے گی اور نجی اسکولوں سے کہا کہ وہ کسی بھی نئی کتاب کو متعارف کرنے سے قبل ماہرین کی کمیٹی سے منظور کرائیں۔انجمن نے تمام معروف پبلشرز کے ساتھ میٹنگ کی جس دوران سبھی کوصلاح دی گئی کہ کسی بھی کتاب کو جاری کرنے سے قبل اس کی مکمل جانچ کی جائے۔پیراڈائر بک ہاوس کے مالک جوجے سی پبلشرزکاایک ڈیلر بھی ہے ،نے مذکورہ کتاب میں شامل مواد کی مذمت کرتے ہوئے کہ انہوں نے یہ کتاب نہیں لائی تھی اور نہ ہی کسی کو سپلائی کی تھی۔اُس نے کہا کہ کمپنی نے ازخودکتاب کے کچھ نمونے کئی اسکولوں کو بھیجے تھے ۔اس دروان جے سی پبلیکیشنز نے بھی اس غلطی کیلئے بلاشرط معافی طلب کی ہے۔ تاہم انجمن نے کہا کہ صورتحال کاتقاضا ہے کہ معافی طلب کرنے کے علاوہ مزیدکارروائی کی ضرورت ہے۔انجمن نے انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرڈاکٹر سید حنیف بلخی کی طرف سے کیس درج کرنے کی ہدایت دینے اورجموں کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن اور ناظم تعلیم کے اقدامات کی سراہنا کی۔انجمن کے صدر جی این وار نے کہا،’’کتابوں اور تحریری مواد کا جب معاملہ ہو،تواس میں کسی لاپرواہی کی گنجائش نہیں ہے۔تمام متعلقین کو ہرایک لفظ کو پہلے پرکھنا چاہیے اور اس کے بعد ہی اِسے متعارف کرکے بچوں کو پڑھنے کیلئے دینا چاہیے۔ اس دوران انجمن نے سات رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں جموں کے دو،کشمیر کے تین ،پیرپنچال اور خطہ چناب کے ایک ایک ممبر ہوں گے،جوکتابوں کے معیارا وران کے مواد کی جانچ کریں گے۔انجمن نے کہا کہ کسی اسکول کو کوئی نئی کتاب کمیٹی کی منظوری کے بغیر متعارف کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔انجمن نے اس دوران بورڈ سے اپیل کی ہے کہ وہ اکیڈمک کمیٹی کی میٹنگ طلب کرے ،جو جموں اور سرینگر میں منعقد ہونی چاہیے جس میں کتابوں کے معاملے پر سیرحاصل بحث ہو۔پرائیویٹ اسکولوں کو بھی اس میٹنگ میں مدعو کیا جانا چاہیے۔
 
 
 

کتب فروش کااظہار مذمت 

سرینگر// ساتویں جماعت کی تاریخ کی نصابی کتاب میں پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں غیرشائستہ مواد کی موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے’پراڈئز بک ہاوس‘ نے کہا ہے کہ جے سی پبلکیشنز نئی دہلی کی جانب سے چھاپی گئی کتاب میں غیر دانستہ طور پر جو اسلام کے خلاف کچھ قابل اعتراض مواد چھپا ہے،اس پر ان کی کمپنی مذمت کرتی ہے،جبکہ ناشر سے معافی بھی طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کے ایک سپلائرکے طور پر انہوں نے اس کتاب کا کوئی آرڈر نہیں دیا تھااور نا ہی کسی اسکول نے اس طرح کا کوئی آرڈر دیا تھا،جبکہ اس کمپنی نے از خود جائزہ لینے کیلئے کچھ کتابوں کے نمونے بھیجیں تھے۔ کمپنی کے سربراہ شاہد حسین نے کہا کہ مسلم ہونے کے ناطے وہ بھی اس مواد،جو کہ سماجی میڈیا کی وساطت سے سامنے آیا ہے،کی مذمت کرتا ہو،اور ناشر کو اپنی سخت ناراضگی سے بھی آگاہ کیا۔
 
 
 
 

 ٹرائبل ایڈوائزری کونسل کی تشکیل

جموں و کشمیر کے قبائلی عوام کو بھی فائدہ ملے گا:مرکزی وزیر

یو این آئی
نئی دہلی // قبائلی امور کے وزیر ارجن منڈا نے کہا  ہے کہ ٹرائبل ایڈوائزری کونسل (ٹی اے سی) کی تشکیل کا فائدہ پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے قبائلی عوام کو بھی ملے گا۔پیر کو لوک سبھا میں منڈے نے کہا کہ ٹی اے سی ایک اہم ادارہ ہے اور اس کے ذریعے قبائلیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک مرکز کے قوانین کا فائدہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو نہیں ملتا تھا لیکن وہاں سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اب یہ قانون جموں و کشمیر میں بھی نافذ ہو گا اور وہاں کے شہریوں کو فائدہ حاصل ملے گا۔انہوں نے کہا کہ گورنر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ کونسل صحیح طریقے سے کام کرے اور یہ قوانین بنائے اور بدلتے وقت کے مطابق قبائل کے لوگوں کو فائدہ پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قبائلیوں کے مفادات کے لیے کام کرنے والی ایک اہم تنظیم ہے لیکن کونسل حکومت کی سفارش کے بغیر کوئی کام نہیں کرے گی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ گورنر کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کونسل کی جائزہ میٹنگ سال میں دو بار منعقد کی جائے اور اس میٹنگ میں نقل مکانی، روزگار، پانی، جنگل، زمین اور دیگر مسائل کو حل کرنے کی سمت میں اقدامات کئے جائیں۔
 
 
 

آئینی غلطیوں کو جلدی سدھارنا جموںوکشمیر اور ملک کیلئے سودمند: حسنین مسعودی

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے پیرکو لوک سبھا میں وقفہ سفر کے دوران بھیم رائو امبیدکر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایوان کو یاد دلایا کہ آنجہانی نے ہی ملک کے آئین میں جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن دی تھی جو موجودہ حکومت نے غیر آئینی اور غیر جمہوری طور چھین لی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ3ریاست جموں وکشمیر کے بٹوارے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ان آئینی غلطیوں کو جتنی جلد سدھارا جائے اُتنا ہی اور ریاست جموں و کشمیر اور ملک کیلئے سود مند رہے گا۔ ناگالینڈ قتل عام میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر زبردست رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے حسنین مسعودی نے کہا کہ جموں وکشمیر کی ایک کروڑ25لاکھ آبادی آپ کے اس غم میں برابر شریک ہے کیونکہ جموں وکشمیر کے عوام اس کربناک درد کو بخوبی محسوس کرسکتے ہیں۔ قبائلی اور پسماندہ لوگوں کے مسائل و مشکلات کی طرف سے ایوان کی توجہ مرکوز کراتے ہوئے حسنین مسعودی نے سوال کیا کہ کیا جموں و کشمیر میں قبائلی مشاورتی کونسلیں قائم کی گئی ہیں جس سے یہ آبادی ترقی کی حصہ بن سکتی۔عارضی ملازمین کے اجرتوں اور مستقلی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے این سی رکن پارلیمان نے مطالبہ کیا کہ 61ہزار عارضی ملازمین کی کم از کم اجرتوں میں تفاوت ختم کی جائے اور ان کی مستقلی تک انہیں کم از کم اجرتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ساتھ ہی ان کی مستقلی کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔ مسعودی نے لوک سبھا میں جسمانی طور خاص افراد کی حالات زار کا معاملہ بھی اُٹھایا اور ان کی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا کہ جسمانی طور خاص افراد کو دیا جانے والا معاوضہ ایک ہزار سے بڑھاکر 5ہزار کیا جائے۔ 
 
 
 

ایکسپورٹ پرموشن کمیٹی کی میٹنگ

برآمدات کو مستحکم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال

جموں//صنعت و تجارت کے پرنسپل سیکرٹری رنجن پرکاش ٹھاکر نے  ایکسپورٹ کمشنر جموں و کشمیر کی حیثیت سے دوسری اعلیٰ سطح کی ایکسپورٹ پروموشن کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں برآمدی منظر نامے کو مستحکم کرنے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت جموں و کشمیر نے رآمدات کو بڑھانے کیلئے اعلیٰ سطح اور ضلعی سطح کی ایکسپورٹ پروموشن کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ۔ مذکورہ میٹنگ کا ایجنڈا ایکسپورٹ ہب پروگرام کے طور پر ضلع کے تحت مصنوعات کی ضلع وار فہرست ( ترجیح وار فہرست ) کو منظور کرنا تھا اور DLEPCs کی طرف سے حتمی شکل دی گئی مصنوعات کے مطابق تمام اضلاع کیلئے ڈرافٹ ڈسٹرکٹ ایکسپورٹ ایکشن پلان کو حتمی شکل دینا تھا ۔ میٹنگ کے دوران رنجن پرکاش نے برآمدات کیلئے بہتر سپلائی چین بنانے کیلئے جموں و کشمیر کی برآمدی منڈی کو ترقی دینے کیلئے نئے آئیڈیاز اور تکنیکوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ کمیٹی کی ممبر سیکرٹری محترمہ انکیتا کار ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ٹی پی او نے ضلعی سطح کی ایکسپورٹ پروموشن کمیٹی کی ذریعہ منتخب کردہ مصنوعات کی فہرست پر روشنی ڈالی ۔ مصنوعات زراعت کی پیداوار ، جانوروں ، بھیڑ پالنے اور ماہی پروری ، صنعت ، مینوفیکچرنگ ، ہینڈ لوم اور دستکاری ، باغبانی ، سیاحت ، ڈیری اور اون کی مصنوعات کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مزید برآں سویدھ شاہ جوائینٹ ڈی جی ایف ٹی نے ڈرافٹ ایکسپورٹ ایکشن پلان کے بارے میں بریفنگ دی اور اس عمل کے دوران درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کی حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی ۔ 
 
 
 
 

’اومی کرون‘ ٹیکہ لگائے افراد کو معمولی بیماربنادیتا ہے:ڈاک

سرینگر//ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کشمیر نے پیر کو کہا کہ کورونا وائرس کی ’اومی کران‘قسم اُن لوگوں جنہوں نے کورونا مخالف ٹیکہ کی دونوںخوراکیں لی ہو،کو معمولی بیمار کرتی ہے۔ڈاک صدرڈاکٹرنثارالحسن نے کہا کہ اگر آپ نے کووروناویکسین کی دونوں خوراکیں لی ہو،تو آپ کووِڈ- 19کی نئی قسم اومی کرون سے زیادہ بیمار ہونے کے کم ہی امکانات ہیں۔ڈاک صدر نے کہا کہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں نے ٹیکہ لیا ہو،انہیں اومی کورن سے پیچیدگیوں کا سامنا نہیں ہوتا۔انہوں نے مزیدکہا کہ جنوبی افریقہ میں جن لوگوں نے ویکسین لیا ہے ،وہ معمولی بیمار ہوتے ہیں ۔اکثر مریضوں کاعلاج گھر میں کیاجاتا ہے اور انہیں اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔جو لوگ اومی کورن سے بہت زیادہ بیمار ہوتے ہیں انہوں نے ویکسین نہیں لیاہوتا ہے۔ ڈاک صدر نے کہا کہ یورپ میں ابتدائی70معاملوں میں نصف مریضوں میں کوئی علامت نہیں تھی اورنصف مریضوں کو معمولی علامات تھیں۔وہاں کسی مریض کوسخت بیماری کا سامنا نہیں کرناپڑا،نہ ہی کسی کی موت ہوئی اور نہ کسی کو اسپتال میں داخل کرناپڑا۔ان میںاکثرمریض مکمل طور ویکسین لئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بھات میں ابھی تک اومی کوران کے 21معاملے رپورٹ ہوئے ہیں اور تمام معاملے ابھی تک بغیر علامات تھے یاان میں بیماری کی معمولی علامات تھیں۔ان میں سے اکثر نے ٹیکہ کی دونوں خوراکیں لی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اومی کورن ویکسین لئے لوگوں کو بھی اپناشکار بناتا ہے تاہم پھر بھی ویکسین شدید بیمار ہونے سے تحفظ فراہم کرتا ہے اورلوگوں کو اسپتال میں داخلے ،حتی کہ موت سے بھی بچاتا ہے۔ڈاکٹرنثار نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی رپورٹ حوصلہ افزاء ہیں لیکن ابھی تک مریضوں کی تعداد کم ہے اوران کی انفیکشن بھی تازہ تازہ ہے اس لئے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ اومی کرون معمولی بیمار کرتا ہے یاشدیدبیماری کو موجب بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ ابھی تک جوانوں میں یہ معاملات دیکھے گئے اور ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ بزرگوں اوردائمی بیماروںمیں اس وائرس کے کیااثرات ہوں گے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ ہمیں مزید اعدادوشمار چاہیے اور اس کیلئے کئی ہفتے درکار ہوں گے تاکہ ہم اومی کرون کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرسکیںاورجو اس انفیکشن کا شکار ہوتا ہے اس پراس کے کیا اثرات ہوں گے۔
 
 
 

چارسال قبل شروع کئے گئے ترقیاتی کام

کیرن کے دونالوں پرپلوں اوررابطہ سڑکوں کی تعمیر ہنوزتشنہ تکمیل

اشرف چراغ 
کپوارہ// کیرن میں دونالوں پرپل اورسڑک رابطوں کی تعمیر چار برس گزرجانے کے باوجود تشنہ تکمیل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ آج سے 4سال قبل اس وقت کے ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ نے کیرن علاقہ کا دورہ کیا اور لوگوں کے مسائل جاننے کیلئے ایک عوامی دربار منعقد کیا جسمیں لوگو ں نے ضلع انتظامیہ کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے ضلع انتظامیہ نے متعلقہ محکمو ں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور کیرن میں تعمیراتی کام ہاتھ میں لیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق کیرن کے دو نالو ںپر پل بنانے کے ساتھ ساتھ رابطہ سڑکو ں کا کام بھی ہاتھ میں لیا گیا جس پر لوگو ں نے خوشی کا اظہار کیا کہ اب کیرن علاقہ میں بہتر سڑک رابطو ں کے ساتھ ساتھ نالوں پر پل تعمیر کر کے لوگو ں کے مسائل کا ازالہ ہو گا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں ان پلو ں پر تیز رفتاری سے کام جاری تھا جبکہ سڑکو ں پر بھی کام شدو مد سے کیا گیا ۔مقامی لوگو ں کے مطابق 4سال گزر گئے ناہی  پل مکمل ہوتے ہیں اور ناہی بہتر سڑک رابطے مکمل کئے گئے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ نالو ں پر پلو ں کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگو ں کو عبور و مرور میں سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بہتر سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کیرن بازار سے پیدل سفر کر کے کیرن بالا اور کیرن پائین پہنچنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا کہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی گا ڑی کیرن بالا اور کیرن پائین تک نہیں آتی اور لوگو ں کو ضروری سامان کندھو ں پر اٹھا کر گھر پہنچانا پڑتا ہے جبکہ اگر کوئی بیمار ہو تو اس کو بھی چار پائی پر بٹھا کر کیرن بازار تک لانا پڑتا ہے ۔
 
 
 

ملک میں 8 ہزار سے زائد کیسز

211ہلاکتیں
یو این آئی
نئی دہلی// ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکت خیز کورونا وائرس کے 8,306 نئے کیسز سامنے آئے اور اس جان لیوا وباء کی وجہ سے 211 مریضوں کی موت ہوئی ۔پیر کی صبح جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایکٹیو کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے گھٹ کر 98,416 رہ گئی ہے ۔ کورونا کے مزید 8306 نئے کیسز کے ساتھ ہی متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 46 لاکھ 41 ہزار 561 ہو گئی ہے ۔اسی عرصہ کے دوران 8 ہزار 834 مریض صحت یاب ہونے کے بعد جان لیوا وبا سے شفایاب ہونے والے مریضوں کی تعداد تین کروڑ 40 لاکھ 69 ہزار 608 ہوگئی۔ مرنے والوں کی تعداد چار لاکھ 73 ہزار 537 ہو گئی ہے ۔وزارت صحت کے مطابق اسی مدت میں 24 لاکھ 55 ہزار 911 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی اور اب تک 127 کروڑ 93 لاکھ 9 ہزار 669 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی جا چکی ہیں۔