مزید خبریں

سولکی سکول میں چوری کی واردات 

سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے گور نمنٹ ہائر سکینڈری سکول سولکی میں ہوئی چوری کی ایک واردات کے دوران چوروں نے لاکھوں روپے کا ساز وسامان و دیگر املاک لوٹ لی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر اسکول میں 4 اور 5 جنوری کی درمیانی رات میں چوری کی گئی تھی۔اسکول کی انتظامیہ نے دھرمسال پولیس سٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی ہے جس کے بعد پولیس نے ایک معاملہ در ج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔حکام کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب نامعلوم چور اسکول میں گھس آئے جس کے بعد اسکول میں پڑا قیمتی سامان غائب ہوگیا۔ قیمتی سامان میں چھ بیٹریاں، چار کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ اور چاریو پی ایس شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
 
 

بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی

کوٹرنکہ کی کئی پنچائتیں متاثر 

محمد بشارت 
کوٹرنکہ //راجوری ضلع کے سب ڈویژن کوٹرنکہ میں جہاں خراب موسم کی وجہ سے پہلے سے ہی لوگ پریشان ہیں وہائیں بجلی میں ہورہی غیر اعلانیہ کٹوتی کی وجہ سے سب ڈویژن کے کئی پسماندہ دیہات کی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے محکمہ بجلی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ دیہات میں بجلی کی کٹوتی کا کوئی شیڈول ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے روزانہ گھنٹوں بجلی کی سپلائی بند رہتی ہے جس کی وجہ سے معمولات زندگی بُری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کے ملازمین صرف دیہات میں لوگوں تک بجلی کے ماہانہ بل ارسال کردیتے ہیں جبکہ سپلائی لائنوں میں آئی خرابی کو دور کرنے کیساتھ ساتھ معیاری سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے کوئی دھیان ہی نہیں دیاجارہا ہے ۔صارفین نے بتایا کہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے بدھل کے دراج موڑا جگلانوں لڑکوتی درمن سموٹ ترگایں کنتھول مڑہوتہ بینمبل سڈا میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے ۔انہوں نے متعلقہ محکمہ کیساتھ ساتھ ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بجلی سپلائی کا کوئی شیڈول جاری کیا جائے تاکہ صارفین کی مشکلات کم ہو سکیں ۔
 
 

دنہ اوڑی پورہ کی عوام راشن ڈپوسے محروم

صارفین دس کلو میٹر سفر کر کے راشن لینے پر مجبور 

عشرت حسین بٹ
منڈی//ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ دنہ اوڑی پورہ کی عوام اس ترقی یافتہ دور میں بھی راشن ڈپو سے محروم ہیں۔ ان علاقہ جات میں عوام کیلئے راشن ڈپونہ ہونے کی وجہ سے صارفین ہر مرتبہ دس کلو میٹر تک کا سفر کر کے ساوجیاں میں آکر راشن لینے پر مجبور ہیں ۔صارفین نے بتایا کہ منڈی تحصیل کے سرحدی علاقہ ساوجیاں سے سے دس کلو میٹر دوری پر واقع دنہ اوڑی پورہ کے لوگوں کو سرکاری راشن لینے کیلئے ساوجیاںجانے پر مجبور ہیں ۔مکینوں کے مطابق ان علاقوں میں رہنے والے سینکڑوں غریب کنبوںکو دس کلو میٹر سفر کر کے ساوجیاں میں آکردر بدر ہورہے ہیں لیکن کئی مرتبہ اعلیٰ حکام سے رجوع کر چکے ہیں تاہم ابھی تک مذکورہ علاقہ میں سہولیات دستیاب نہیں کی جاسکی ہیں ۔محمد شفیع ڈار نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ دنہ اوڑی پورہ جو کہ تحصیل منڈی کے ساوجیاں بلاک کا دور دراز علاقہ ہے ۔اس علاقہ میں درجنوں کنبے آبادہیں لیکن اس ترقی یافتہ دور میں بھی مکینوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاسکی ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ متعدد بار انتظامیہ سے اس علاقہ میں راشن ڈپو کھولنے کی اپیل کی مگر آج تک اس علاقہ میں راشن ڈپو نہیں کھولا گیا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔مکینوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ صارفین کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے علاقہ میں راشن ڈپو قائم کیا جائے ۔
 
 
 

ساوجیاں کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم 

عشرت حسین بٹ
منڈی//ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ ساوجیاں کی عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔ساوجیاں علاقہ کے لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ساوجیاں میں عوام کو بجلی، پانی اور تیلِ خاکی پہنچانے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ خطہ میں خراب موسم کیساتھ ہی ساوجیاں کی عوام کیلئے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں اس وقت بجلی سپلائی بند پڑی ہوئی ہے جبکہ حکام کی جانب سے سردیوں کیساتھ نمٹنے کیلئے پہلے سے تیل خاکی کا بھی کوئی بندوبست نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ جل شکتی کی جانب سے کئی برس قبل بچھائی گئی پاپئیں اس وقت بوسیدہ ہو چکی ہیں جبکہ ان کی مرمت کیلئے محکمہ کی طرف سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جبکہ آب رسانی کا نظام خراب ہونے کی وجہ سے اب لوگ ندی نالوں و قدرتی چشموں سے کئی کلو میٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد پانے لانے پر مجبور ہیں ۔لوگوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ضلع و مقامی انتظامیہ کو متحرک کیا جائے ۔
 
 
 

سرکاری ہسپتال میں مریضوں کو نجی کلینکوں کا رخ کرنے کی صلاح

سرنکوٹ کی عوام و مریض تنگ ،طبی شعبہ کے نظام میں بہتری کا مطالبہ 

بختیار کاظمی 
سرنکوٹ //سرنکوٹ کے سرکاری ہسپتال میں مریضوں کو پرائیوٹ اپریشن کی صلاح دی جاتی ہے جبکہ مریضوں کے طبی معائینہ کے دوران ڈاکٹروں کی جانب سے جو ادویات لکھی جاتی ہیں وہ ہسپتال میں دستیاب ہی نہیں ہوتی جبکہ مریضوں کو مجبور ہو کر نجی کلینکوں و میڈیکل سٹوروں سے ادویات مہنگے داموں پر خریدنا پڑتی ہیں ۔مریضوں نے بتایا کہ سرنکوٹ کے سرکاری ہسپتال میں غیرتسلی بخش علاج کی وجہ سے 90  فیصد مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں کے بجائے نجی ہسپتالوں کا روح کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ نجی ہسپتالوں میں ہر بنیادی سہولیات فراہم جاتی ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں ہر قسم کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ہسپتالوں میں اپریشن کی سہولیات میسر نہیں یا اپریشن کے سامان دستیاب نہیں ہوتا جبکہ کئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا ۔اس خستہ حال نظام سے تنگ آکر مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں اپنا علاج معالجہ کروانا پڑتا ہے ۔مقامی معززین نے بتایا کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر ہی ایسی ادویات لکھتے ہیں جو نجی میڈیکل ہال پر دستیاب ہوتی ہیں یا ڈاکٹر ہی نجی کلینکوں میں علاج معالجہ کروانے کی ہدایت جاری کرتے ہیں تو پھر مریض خود بھی نجی کلینکوں کا رخ کرسکتے ہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر جہاں مریضوں کو نجی کلینکوں میں دیکھتے ہیں وہائیں میڈیکل ہال مالکان کیساتھ بھی ان کا اثر ورسوخ ہوتا ہے جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔سرنکوٹ کے معززین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے غریب طبقہ کی فلاح و بہبود کیلئے کئی طرح کی سکیمیں شروع کرنے واقدامات اٹھائے جانے کے دعوئے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر مذکورہ نظام خستہ حال ہو تا جارہا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سرنکوٹ میں محکمہ صحت کے نظام کو ٹھیک کیاجا ئے تاکہ غریب طبقہ متاثر نہ ہو۔
 
 
 
 

لورن کی سیب پنچایت میں پانی کی قلت 

مقامی لوگ پریشان ،محکمہ خاموش تماشائی 

حسین محتشم
پونچھ//گزشتہ ایک سال سے بلاک لورن کی حلقہ پنچایت سیب کی عوام پانی کی بوند بوند ترس رہے ہیںلیکن ابھی تک انتظامیہ کی جانب سے عوامی مشکل کو حل ہی نہیں کیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق بار بار انتظامیہ سے رجوع کرکر کے تنگ آگئے ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیںہے ۔لوگوں کے مطابق لورن ٹنگمرگ جانے والی سڑک کی تعمیرات کے دوران پانی کے قدرتی چشموں کو از حد نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی کی جانب سے بچھائی گئی پائپ لائن کے ذریعہ پانی عوام تک پہنچایا گیا تھا مگر گریف کی جانب سے سڑک کی تعمیرات کے لئے لگائی مشینوں کی وجہ سے وہ تمام پاپئیں ٹوٹ گئی جس کے بعد سے لگاتار مقامی خواتین کو گھر یلو استعمال کے لئے کئی کلو میٹر کی مسافت طے کر کے پینے کیلئے پانی لانے پر مجبور ہیں ۔لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ جل شکتی کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ مذکور ہ پنچایت میں پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جاسکیں ۔