مزید خبریں

پیر پنچال میں کووڈ کے 64نئے کیس سامنے آئے 

ملازمین کے ٹیسٹ مثبت آنے پر 4 بینک شاخیں بھی بند ہو گئیں

سمت بھارگو+جاوید اقبال 
 
راجوری//خطہ پیر پنچال کے جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میں بدھ کے روز 64 نئے کورونا وائرس کیس درج کئے گئے جبکہ 23مریض صحت یاب ہونے کے ساتھ فعال کیسوں کی کل تعداد 257تک پہنچ گئی ہے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز پونچھ ضلع میں کورونا وائرس کے 22 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 20 مقامی اور دو مسافر شامل ہیں۔دوسری جانب ضلع پونچھ میں بھی کورونا وائرس کے 18 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد ضلع میں اس وقت کورونا وائرس کے فعال کیسوں کی تعداد 129 تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح راجوری میں  42 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں پانچ مسافر اور 37 مقامی افراد شامل ہیں۔اس کے علاوہ پانچ مریضوں کے صحت یاب ہونے کے بعد ضلع میں اس وقت ایکٹو کیسوں کی تعداد 128 ہے۔دریں اثنا،خطہ میں قائم کر دہ مختلف بینک شاخوں کے ملازمین میں کووڈ کی تشخیص کے بعد حکام نے 4بینک شاخوں کو بند کرنے کا حکم جاری کردیا ہے ۔ان برانچوں میں جموں و کشمیر بینک کی مین برانچ راجوری کے علاوہ پونچھ ضلع کی میں 3بینک شاخیں بند کی گئی ہیں جن میں جموں وکشمیر بینک شاخ مینڈھر ،جموں وکشمیر بینک شاخ سنگالہ مینڈھر اور ایچ ڈی ایس سی بینک شاخ مینڈھر شامل ہیں ۔بلاک میڈیکل آفیسر مینڈھر نے بتایا کہ مذکورہ بینک شاخوں میں تعینات ملازمین میں کووڈ کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ان شاخوں کو بند کر دیا گیا ہے ۔
 
 

پونچھ میں فوج کی امدادی مہم جاری 

پونچھ //برفباری کے بعد پیدا ہوئی صورتحال کے دوران فوج نے سرحدی ضلع پونچھ میں مکینوں کیلئے امدادی مہم مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے ۔اس مہم کے دوران بدھ کو پونچھ کے شاہپور علاقہ میں غریبوں کو کمبل ودیگر ساز و سامان تقسیم کیا گیا ۔فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مہم کے دوران 22کنبوں میں ضروری اشیاء تقسیم کی گئی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں بنائی گئی ٹیم نے علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے غریبوں کی مدد کی ۔مقامی لوگوں نے فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہر ایک مشکل کے دوران فوج لوگوں کی مدد کیلئے آگے آتی ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اس مہم کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا ۔
 
 
 

مینڈھر میں 2افراد سے 62ہزار روپے چوری 

جاوید اقبال 
مینڈھر // مینڈھر قصبہ میں چوری کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے عام لوگ شدید پریشان ہیں ۔گزشتہ روز مینڈھر میں قائم جموں وکشمیر بینک کی شاخ سے ضروریات کیلئے پیسے نکلوانے والے 2افراد سے چوروں نے مجموعی طورپر 62ہزار روپے چوری کرلئے ۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ سرحدی علاقہ سندوٹ کے رہائشی ایک مقامی شخص نے مینڈھر کی جموں وکشمیر بینک شاخ سے 49ہزار روپے نکلوائے تاہم کچھ ہی عرصہ کے بعد اس کے پیسے چوری ہوگئے ۔اسی طرح کسبلاڑی کے رہائشی ایک شخص کے 13ہزار روپے چوری ہوگئے ہیں ۔جموں و کشمیر پولیس نے اس سلسلہ میں کیس درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔مقامی معززین نے بتایا کہ مینڈھر قصبہ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے چوری کی وارداتو ں میں اضافہ ہو ا ہے تاہم مقامی انتظامیہ بالخصوص پولیس چوروں کیساتھ نمٹنے میںپو ری طرح سے ناکام رہی ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ چوروں سے غریبوں کو بچانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔
 
 

علامہ دل محمدکی برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی //فتح پور بڈین میں علامہ دل محمد کی برسی نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی جس میں کثیر تعداد میں علمائے کرام اور عوام نے بھی شرکت کی۔اس موقع علمائے کرام نے اپنے اپنے خطابات میں مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔مفتی عبدالرؤف نے اپنی تقریر کے دوران قائد اہل سنت کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حیات مبارکہ میں ان کی صدارت کے دوران علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا وہ ایک زبردست عالم دین تھے۔ان کے بعد مساجد ومجالس، امامت و خطابت میں بے شمار اختلافات پیدا ہوچکے ہیں جن کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مسلم اْمہ کو اتفاق و اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ اس پروگرام میں مقامی علماء خطباء و آئمہ کرام کے علاوہ مولانا قاری سخاوت حسین خصوصی مہمان کی حیثیت سے تشریف لائے جنھوں نے اپنے بیان میں اصلاح معاشرہ کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔
 
 

سینئر اسسٹنٹ کی سبکدوشی پر الوداعی تقریب 

حسین محتشم
پونچھ//بابو مختار سینئر اسسٹنٹ کی سبکدوشی پر ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی سرنکوٹ کی طرف سے ان کے اعزاز میں الوداعی پروگرام کا انعقاد کیا گیا یہ پروگرام گرلز مڈل سکول سموٹ میں منعقد کیا گیا جس کی سربراہی فورم کے ضلع صدر سید شاہنواز کاظمی کر رہے تھے۔اس موقع پر مقررین نے بابو مختار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا انہوں نے اپنی سروس کے دوران نہایت اچھا کام کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اپنی سروس کے دوران انھوں نے ہمیشہ اساتذہ کے تمام کاموں کو خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا ہے جس کے لئے تمام اساتذہ کا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کے ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایسے کلرک یا اچھے آفیسر جنہوں نے اچھا کام کیا ہو کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتی آرہی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح کرتی رہے گی جبکہ بابو مختار نے اس دوران تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ان کی عزت افزائی کی۔پروگرام میں بدردین راتھر تحصیل صدر سرنکوٹ ، سید محمد یوسف شاہ ذون صدر سرنکوٹ ، سید علی مرتضی سیکریٹری نشرواشاعت ،غلام محی الدین چیف ایڈوائزر ضلع،عبدالقوی سیکرٹری نشرواشاعت ،چوہدری نور احمد نائب صدر سرنکوٹ ، عارف بھٹی سیکرٹری نشرواشاعت ضلع  اور دیگر اساتذہ نے شرکت کی۔
 

بجلی کی بحالی پر ملازمین کا شکریہ ادا 

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی //سب ڈویژن تھنہ منڈی کے منگوٹہ گاؤں کے مکینوں نے گاؤں میں بجلی کی بحالی پر محکمہ پی ڈی ڈی کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں شدید برفباری کی وجہ سے خطہ پیر پنچال کے دونوں اضلاع میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا تھا۔ جہاں پر محکمہ کی جانب سے شد و مد سے بجلی کی مرمت اور بحالی کا کام جاری ہے وہیں گزشتہ کئی دنوں تک منگوٹہ گاؤں میں بھی بجلی کا نظام متاثر رہا جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا البتہ جونیئر انجینئر وقار احمد ڈار کی سربراہی میں بجلی ملازمین نے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے دن رات محنت کر کے گاؤں میں بجلی بحال کر دی ہے جس پر عوام نے راحت کی سانس لیتے ہوئے محکمہ پی ڈی ڈی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عوام نے نروتم کمار ایکس ای این راجوری اور جونیئر انجینئر وقار احمد ڈار ستائیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں محکمہ نے ان کی مشکلات کو حل کر دیا ہے جس پر وہ ان کے مشکور ہیں۔
 
 

درہال میں شعبہ صحت کیخلاف لوگوں کا احتجاج 

سمت بھارگو
راجوری//راجوری ضلع کے درہال علاقہ میں مکینوں نے جموں وکشمیر کے محکمہ صحت اور خاندانی بہبود کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے سب ڈسٹر کٹ ہسپتال درہال میں خراب صحت خدمات سے پریشان ہو کر احتجاج کیا ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ سابق سرپنچ محمد کرامت کو صحت میں آئی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر ان کو بنیاد ی سہولیات ہی فراہم نہیں کی گئی ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ہسپتال میں ڈاکٹر بھی موجود نہیں تھا ۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ہسپتال میں موجودہ عملے نے لواحقین سے کہا کہ وہ اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کریںجبکہ اس دوران ہسپتال میں کوئی ایمبولینس موجود نہیں تھی اور کئی گھنٹوں کی تاخیر کے بعد مریض کو ایک نجی کار میں منتقل کیا گیا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں علاج کے دوران مریض کی موت ہوگئی ۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مریض کی موت درہال ہسپتال میں ایمبو لینس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے سے ہوئی ہے ۔اطلاعات کے مطابق علاقہ کے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہسپتال پہنچ گئے جہاں پر انہوں نے متعلقہ محکمہ کیخلاف شدید احتجاج کیا ۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک احتجاج جاری تھا ۔