مزید خبریں

رومیو فورس نے طبی کیمپ لگایا 

راجوری// ’آپریشن سدبھاونا‘ کے تحت فوج کی جانب سے پونچھ ضلع کے سلوتری گاؤں میں مقامی آبادی اور ان کے مویشیوںکیلئے ایک طبی ڈینٹل وویٹرنری کیمپ کا اہتمام کیاگیا۔فوج نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں محدود سڑک رابطوں کی وجہ سے چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بنیادی طبی اور ویٹرنری سہولیات حاصل کرنے کیلئے لمبی دوری کاطے کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مکینوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے فوج اور سیول ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے 13 ڈاکٹروں اور معاون عملے کی ایک مشترکہ ٹیم بشمول ماہر پریکٹیشنر نے سرحدی علاقوں کے غریبوں کیساتھ ساتھ ان کے مویشیوں کیلئے کیمپ کا اہتمام کیا ۔اس طبی کیمپ کے دوران دور دراز علاقوں کے کل 557 شہریوں اور 985 مویشیوں کا طبی معائینہ کرنے کیساتھ ساتھ ان کو مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں ۔
 

لاپتہ ہوئی خاتون مردہ پائی گئی 

سمت بھارگو
راجوری//گزشتہ چار دنوں سے لاپتہ ایک معمر خاتون راجوری کے ایک گاؤں میں مردہ حالت میں پائی گئی جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔مرنے والی خاتون کی شناخت جمنا دیوی (70) بیوی لیفٹیننٹ پرم آنندسکنہ تتہ پانی کالاکوٹ کے طور پر کی گئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ خاتون 09 جنوری سے لاپتہ تھی جس کے بعد پولیس اسٹیشن کالاکوٹ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی اور اس کا سراغ لگانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اب اس کی لاش برآمد ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو خاتون کی لاش تتہ پانی کے ایک نالے سے لاش برآمد ہوئی ہے جس کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر معاملہ کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔
 
  
  

پولیس نے الوداعی تقریب کا اہتمام کیا 

جاوید اقبال 
مینڈھر //جموں وکشمیر پولیس کی جانب سے مینڈھر میں ایس ڈی پی او سید ظہیر عباس جعفری کی تبدیلی کے سلسلہ میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا جس میں سیاسی لیڈران ،سیول انتظامیہ کے آفیسران کیساتھ ساتھ معززین اور پنچایتی اراکین نے بھی شرکت کی ۔اس دوران مقررین نے آفیسر موصوف کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اپنے آبائی علاقہ میں تعیناتی کے دوران مکینوں کی مدد کرنے کیساتھ ساتھ سماجی برائیوں بالخصوص منشیات مخالف ایک منظم مہم چلائی اور بڑی تعداد میں مقامی نوجوانوں کو نشہ سے دور رکھنے کیلئے اپنا رول ادا کیا ہے ۔انہوں نے آفیسر موصوف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ۔اس دوران سابقہ ڈی ایس پی نے مقررین و پولیس یونٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کے تعاون کی وجہ سے وہ مینڈھر میں کام کرسکے ہیں ۔انہوں نے لوگوں و پولیس اہلکاروں کی جانب سے کی گئی حوصلہ افزائی کا شکریہ ادا بھی کیا ۔اس پروگرام میں بی ڈی سی چیئر مین منکوٹ امان اللہ چوہدری ،پی ڈی پی زونل صدر خرشید احمد خان ،چوہدری میر محمد ،ستیش کما ،بلرام شرما ،چوہدری غلام نبی ،نائب تحصیلدار محمد اشفاق فانی اور بی ایم او مینڈھر ڈاکٹر پرویز احمد خان ،سبکدوش نائب تحصیلدار افتاب حسین شاہ ،سبکدوش سب انسپکٹر بغداد حسین شاہ،ایس ایچ او مینڈھر کیساتھ ساتھ چوکی آفیسر بالاکوٹ بھی موجود تھے ۔
 
 
 

سبکدوش لیکچر و نائب سرپنچ ہرمتہ غضنفرعلی خان کا انتقال 

کئی سیاسی ،سماجی و مذہبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا 

جاوید اقبال 
مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کی نامور شخصیت سبکدوش لیکچر اور نائب سرپنچ ہرمتہ غضنفرعلی خان حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انتقال کر گئے ۔ان کے اچانک انتقال پر مینڈھر کی کئی سیاسی ،سماجی و مذہبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت او ر اہل خانہ کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ان کے نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ مرحوم کو پُر نم آنکھوں کیساتھ آبائی گائو ں ہرمتہ گورسائی میں سپردخاک کر دیا گیا ۔ان کی اچانک وفات پر سابقہ وزیر نثار احمد خان ،سابقہ ایم ایل سی مرتضیٰ خان ،رشید قریشی ،اخلاق خان ،رحیم داد ،کانگریس لیڈر پروین سرور خان ،پی ڈی پی سنیئر لیڈر ایڈوکیٹ معروف خان ،حاجی محمد عظم ساگر ،جاوید گلشن ،پی ڈی پی زونل صدر خرشید احمد خان ،ڈاکٹر شہزاد ملک ،شوکت چوہدری ،محمد صادق چوہدری ،محمد عظم فانی ،ماسٹر عنایت اللہ خان ،ڈی ڈی سی ممبر باجی محمد فاروق ،عمران ظفر ،مسرت جبین ،بی ڈی سی چیئر مین امان اللہ چوہدری ،طاہرہ جبین ،شمیم اختر ودیگران نے گہرا دکھ ظاہر کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔
 
 
  

سب ڈسٹر کٹ ہسپتال درہال میں احتجاج 

مریض کی منتقلی کے وقت ایمبو لینس کی عدم دستیابی کی تصدیق 

سمت بھارگو
راجوری//بدھ کی دیر شام سب ڈسٹرکٹ ہسپتال درہال میں ایک مریض کی موت ہونے کے بعد ہونے والے احتجاج کے تناظر میں ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ مریض کو ریفر کرنے کے وقت ہسپتال میں کوئی ایمبولینس موجود نہیں تھی۔اکرام الحق ولد محمد راشد سکنہ تھنہ منگ درہال نامی مریض کی موت کے بعد بدھ کی شام دیر گئے درہال کے لوگوں نے احتجاج کیا۔مقامی لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ بدھ کی شام مریض کو کچھ پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اسے ایس ڈی ایچ درہال لے جایا گیا جہاں سے اسے میڈیکل کالج راجوری ریفر کیا گیا لیکن ایمبولینس کی عدم موجودگی کی وجہ سے ریفرل میں تاخیر ہوئی اور مریض کو ایک نجی کار میں جی ایم سی راجوری منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت ہوگئی۔درہال سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں گھنٹوں تک احتجاج کیا گیا اور بدھ کی دیر رات تقریباً 10 بجے نائب تحصیلدار درہال اور ایس ایچ او درہال کی یقین دہانی کے بعد اسے ختم کر دیا گیا۔دریں اثنا، جمعرات کو، میڈیکل آفیسر جو مریض کو ریفر کرنے کے وقت ڈیوٹی پر تھا، نے ایک واقعہ کی رپورٹ شیئر کی جس میں تصدیق کی گئی کہ ریفرل کے وقت ہسپتال میں کوئی ایمبولینس موجود نہیں تھی۔مذکورہ ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایمبو لینس کو کووڈ ٹیسٹوں کے نمونوں کے سلسلہ میں راجوری میڈیکل کالج بھیجا گیا تھاجبکہ ایک ایمبولینس کو ڈپٹی کمشنر راجوری کے بلاک دیوس کی تقریب کے مقام پر بھیجا گیا تھا جس کی وجہ سے مریض کو منتقل کرنے کیلئے کوئی متبادل ایمبولینس دستیاب نہیں تھی ۔اس نے مزید دعویٰ کیا کہ مریض کو ایس ڈی ایچ درہال میں لانے کے فوراً بعد ضروری طبی امداد فراہم کی گئی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بدھ کی شام دیر گئے ایس ڈی ایچ درہال میںاحتجاج کے دوران لوگوں نے درہال ایس ڈی ایچ میں ڈاکٹروں کی تمام پوسٹوں کو فوری طور پر پر کرنے اور پورے واقعہ کی انکوائری کے علاوہ ایمبولینس کی مطلوبہ تعداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
 

سرنکوٹ میں شبانہ نقب زنی کا سلسلہ جاری

چوروں نے 10سے زائد سٹوروں کے تالے توڑے 

بختیار کاظمی
سرنکوٹ//سرنکوٹ قصبہ میں گزشتہ شب نقب زنی کے مختلف معاملات پیش آئے جس کے دوران چوروں نے لگ بھگ 10دکانوں کے تالے توڑ کر ساز وسامان چوری کرلیا ۔واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔شاہنواز ملک، سونیل کمار ،اکرام شاہ ودیگران نے بتایا کہ سرنکوٹ قصبہ میں اکثر مذکورہ نوعیت کی وارداتیں انجام دی جارہی ہیں لیکن حکام چوروں کیخلاف کارروائی کرنے میں ابھی تک پوری طرح سے ناکام رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سرنکوٹ کے دیہا ت کیساتھ ساتھ قصبہ میں دکانداروں کی دکانیں لوٹی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ہوئی ایک واردات کے دوران 10سے زائد سٹوروں کو لوٹنے کی کوششیں کی گئی ہیں ۔اس سلسلہ میں ایس ایچ او سرنکوٹ کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ایک ٹیم کو موقعہ پر بھیج کر صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ۔پولیس حکام نے بتایا کہ اس سلسلہ میں کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہاکہ مذکورہ نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو کبھی بھی بخشا نہیں جائے گا ۔