مزید خبریں

مہلوک پولیس اہلکاروں کے لواحقین

پولیس سربراہ نے 1.52کروڑ روپے منظور کئے

سرینگر // جاں بحق پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کرنے کے مقصد سے چلائی جانے والی فلاحی امدادی سکیم کے تحت ڈائریکٹر جنرل پولیس شری دلباغ سنگھ نے 1.52 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کو منظوری دی ہے۔ملٹی ٹنٹوں کے حملوں میں جان بحق ہونے والے سارجنٹ صفی اللہ قادری کے لواحقین  کے حق میں PHQ کی خصوصی فلاحی ریلیف سکیم کے تحت 22 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔اسی طرح متوفی اے ایس آئی محمد حسین، جاوید احمد ایس جی سی ٹیز آمنہ اختر، دربیش کمار، پیروکار غلام قادر کے زیر کفالت افراد کے حق میں 22 لاکھ روپے کی خصوصی فلاحی ریلیف کی منظوری دی گئی ہے۔ایس جی سی ٹی محمد روشن اور پیروکار پون کمار کے زیر کفالت افراد/ قانونی ورثاء کے حق میں 20 لاکھ روپے کی خصوصی فلاحی ریلیف کومنظور ی دی گئی ہے۔ مرنے والے اہلکار سروس کے دوران بیماری/ قدرتی موت کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ان متوفی پولیس اہلکاروں کو ان کے متعلقہ یونٹوں کے ذریعے آخری رسومات ادا کرنے کے لیے ایک ایک لاکھ روپے پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔ پولیس ہیڈ کوارٹر اپنے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سی اسکیمیں چلا رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں اور ایس پی اوز کے اہل خانہ کیلئے بھی اسکیمیں ہیں۔

 

سوپور میں 27سالہ نوجوان کاانتہائی اقدام

غلام محمد

 

سوپور// سوپور قصبہ کے محلہ حجامہ میں ہفتہ کی شام ایک 27 سالہ نوجوان نے مبینہ طور پر اپنے گھر میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ 27 سالہ نوجوان غلام حمزہ ولد مرحوم عبدالخالق محلہ حجامہ سوپور نے مبینہ طور پر اپنے گھر میں پھانسی لگا لی۔نوجوان کے اہل خانہ نے اپنے بیٹے کو کمرے میں لٹکتے ہوئے دیکھ کر فوراً اسے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

 

 

بڈگام ، بارہمولہ اور ہمہامہ میں سڑک حادثے

۔2شہری لقمۂ اجل، فوجی سمیت 3زخمی

ارشاد احمد+فیاض بخاری

 

بڈگام+  بارہمولہ // بڈگام اور بارہمولہ میں سٹرک حادثات کے دوران 2افراد لقمہ اجل جبکہ ایک فوجی اہلکار سمیت 3افراد زخمی ہوئے۔خانصاحب بڈگام میں بعددوپہر آئی پی ٹی ایس اسکول کے قریب گاڑی زیر نمبر JK04G/7288 سڑک پر الٹ گئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 30 سالہ شبیر احمد بٹ ولد عبدالاحد ساکن کنورہ خانصاحب کی موت ہوگئی جبکہ مزید دوافراد زخمی ہوگئے ۔معاملے کی نسبت کیس زیر نمبر 92/2022 درج کیا گیا۔ادھر ہفتہ کی سہ پہر وترگام رفیع آباد کے مقام پرایک نجی گاڑی زیر نمبرJK05E-3778نے ایک شخص کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ لاش کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔ پولیس حادثے کاموجب بننے والی نجی کارضبط کی اوراسکے ڈرائیور کوگرفتار کرلیا ۔ادھر سرینگر ائر پورٹ روڑ پر فوج کی ایک کیسپر گاڑی جے کے پبلک سکول کے نزدیک الٹ گئی  جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔

 

 

 

ایس ڈی ایچ ترال میں مریض کی موت کیخلاف احتجاج 

ترال //سید اعجاز //سب ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایک مریض کو دوران شب ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جس دوران مریض کی علاج ومعالجہ کے دوران ہی موت واقع ہوئی ہے ۔ لواحقین نے اس حوالے سے احتجاج کیا اور ہسپتال انتظامیہ نے ان پر ہسپتال میں توڑ پھوڑ کا الزام عائد کیا ہے۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو ترال کے مندورہ سے تعلق رکھنے والے محکمہ فوڈ اینڈ سپلائز کے سابق ڈارئیور غلام محی الدین شیخ ساکن مندورہ ترال کو ایس ڈی ایچ ترال میں بیمار ہونے کے بعد داخل کیا گیا اور علاج ومعالجے کے دوران ہی اس کی موت واقع ہوئی جس کے بعد ہسپتال میں ہنگامہ اور توڑ پھوڑ ہوئی ہے جہاں بعد میںدوران شب پولیس کو بلانا پڑا ہے ۔واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بلاک میڈیکل افسر ترال ڈاکٹر ورندر سنگھ نے بتایا کہ مزکورہ شخص کو سینے میں درد محسوس  ہونے کے بعد ہسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کا علاج بھی کیا گیا ۔انہوں نے بتایا اس دوران وہ گھر جانے کے لئے تیار بھی ہوئے ،تاہم یہاں موجود ایک ڈاکٹر نے انہیں ECGکرنے کے بعد گھر جانے کا مشوہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں مزکورہ شہری دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوا ۔بلاک میڈیکل افسر نے الزام لگایا کہ شہری کے فوت ہونے کے بعد لواحقین نے توڑ پھوڑ کی اور عملے کو ہراساں کیا گیا۔انہوں نے بتایا اس حوالے سے ایک کیس درج کیا گیا ہے ۔مزکورہ شہری کے بیٹے شمیم احمد نے بتایا ہم رات کے وقت ہسپتال میں داخل ہوئے  تاہم یہاں موجود داکٹر نے اُن کے والد کو بچانے کی کوشش کی ۔ انہوں نے بتایا ہم چھوٹے ہیں، جب ہم نے اپنے والد کو مرتے ہوئے دیکھا اور ہسپتال کا نیم طبی عملہ یہاں نظر نہیں آیا، اوراُن کا کام بھی ایک ڈاکٹر کر رہا تھا تو ہم آپے سے باہر ہو گئے اور پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر گھومتے رہے ۔انہوں نے کہا ہسپتال کے شیشوں کا نقصان ہم ادا کریں گے جو غلطی ہم سے غیر دانستہ طور ہوئی ہے وہ غلطی ہے۔ادھر عوامی حلقوں نے الزام لگایا کہ ایس ڈی ایچ ترال میں دوران شب اکثر وبیشتر بی یو ایم ایس ڈاکٹر نائٹ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے رات کے دوران اکثر مریضوں کو سرینگر یا دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے ۔لوگوں نے توڑ پھوڑ کی مذمت کی ہے، تاہم انہوں نے مریض کی موت کن حالات میں ہوئی ہے ،اسکی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ 

 

 

 

مظفر شاہ کانظربندی کیخلاف عدالت کا رخ 

حکومت سے 10کروڑ روپے حرجانہ دینے کیلئے مقدمہ درج کیا

 سرینگر //جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کے سنیئر نائب صدر اورگپکار الانس کے سرکردہ عہدیدار مظفر شاہ کی طرف سے باضابطہ طور آنریبل پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈشیشن جج سرینگر کی عدالت میں موجودہ ارباب اقتدار اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدید داروں اور ان کے ماتحت دیگر اہلکاروں کیخلاف 10کروڈ روپے بطور تاوان؍ ہرجانہ ادا کرنے کیلئے مقدمہ درج کیا ہے ۔اپنے ایک بیان میں مظفر شاہ نے کہا کہ  دفعہ 370  اور 35-A  جس کو آئین کے تحت ایک بنیادی دفعہ کی حثیت کے طور جگہ دی گئی تھی کو مرکز میں برسر اقتدار BJP کی جماعت نے ختم کیا اوریہاں کے عوام کاجینا دوبر کردیا ۔عام لوگوں اور یہاں کے سیاسی اور سماجی لیڈروں کو بلا کسی قانونی جواز کے خانہ نظر بند رکھا ۔جیل خانون میں دھکیلا گیا۔اسی دوراں اے این سی کے سنیئر نائب صدر مظفر شاہ اِن کی والدہ محترمہ بیگم خالدہ شاہ و ڈاکٹر مصطفٰے کمال کو زور زبردستی اور غیر قانونی طور 8 ماہ تک اپنے ہی گھروں میں نظر بند رکھا۔اے این سی کی طر ف سے عدالت عالیہ آنریبل جموں کشمیر ہائی کورٹ میںحبس بیجاکی ایک رٹ دائر کی گئی ۔حکومت کے ذمہ داروں نے عدالت عالیہ میں سرکار کی طرف سے تحریری طور بیان دائر کردیا کہ درخواست گزاراں Petitioners  خود آپنی مرضی سے آپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔اِن کے خلاف کوئی کیس نہ ہے اور نا ہی اِن کے قانونی حقوق کو پامال کیا گیا۔بلاخر پیٹیشنرس کی طرف سے عدالت عالیہ میں  LPAدائر ہوئی اور آنریبل ڈیوژن بینچ پر مشتمل جج صاحبان نے  پیٹیشنرس کو فوری طور گھروں سے باہر آنے  دینے کا حکم صادر کیا اور سیکورٹی حصار ہٹانے کا بھی حکم صادر کیا  ۔فیصلہ میں یہ واضح کیا گیا۔ کہ پیٹیشنرس عدالتِ مجاز میں اپنا کیس دائر کر کے ثابت کر سکتے ہے ۔کہ اْن کی نظر بندی غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں ۔اسی بنا پر پیٹیشنر نے عدالتِ مجاز آنریبل پرنسپل ڈسٹرکٹ جج سرینگر میں باضبطہ طور ہرجانہ کا مقدمہ  10  کروڑ  روپیہ دائر کیا گیا۔اس وقت مقدمہ آنریبل فسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سرینگر میں زیر سماعت ہے  ۔آنریبل عدالت نے مدعالم کے نام باضبطہ طورعدالت میں حاضر ہونے کے لئے احکامات جاری کئے اوراگلی پیشی مورخہ 24 جون 2022 کو مقرر ہوئی ہے۔واضع رہے دعواے میں نہ صرفs Defendant کے خلاف بطوری سرکاری عہدہ داراںقصور وار اور ذمہ دارگردانہ ہے  بلکہ انفرادی اور ذاتی طوراس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام اور سرزنی پر بھی حرجانہ مدعی کی طرف ادا کرنے کی درخواست کئی گئی ہے۔ 

 

 

سرینگر کرافٹ سفاری نے اپنا 9 واں ایڈیشن مکمل کیا 

سرینگر //دستکاری اور ہینڈ لوم کشمیر کے محکمہ نے کرافٹ سفاری کے بعد سرینگر کو 9 ویں ایڈیشن میں دستکاری اور لوک فن کے میدان میں یونیسکو کے تخلیقی شہر کے طور پر تسلیم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ محکمہ دستکاری اور ہینڈ لوم کے افسران کی ٹیم ، دانشوروں ، تعلیمی اسکالرز، صحافیوں ، ٹور اپریٹرز ، طلباء اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے آج کی سفاری کو سرینگر شہر کے زڈیبل علاقے میں بارش سے بچاتے ہوئے مکمل کیا ۔ سفاری کا آغاز جلالی ہاوس ڈونی پارک زڈی بل سے ہوا ۔ ٹیم نے بشیر احمد جان ، شوکت علی ، سہیل عباس ، الطاف حسین ، محمد شفیع ڈار ، محمد افضل بٹو ، عبدالمجید ڈار اور محمد اکٹر میر کے کام کی جگہوں پر انتہائی متوقع سفاری کے 9 ویں ایڈیشن کو جاری رکھا جو بالترتیب سرینگر کے زڈی بل کے ملحقہ علاقوں میں پشمینہ ویونگ ، قالین کی دھلائی ، قالین رفو گاری ، سوزنی ایمبرائیڈری ، قالین کی بُنائی ، کاغذ کا گودا اور کاغذی مشین سوزنی کے یونٹ چلاتے ہیں ۔تیز بارش کے درمیان گلیوں اور راستوں سے گزرنے کے بعد ٹیم نے امام باردہ کا دورہ کر کے سفاری کا اختتام کیا تا کہ اس پر کاغذی مشینی کام کے ساتھ کہاتمابند کا شاندار امتزاج دیکھا جا سکے ۔ سفاری کے دائرہ کار پر بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس ، ہینڈ لوم کشمیر طارق احمد زرگر نے کشمیر کے کاریگروں کو متنوع مہارتوں کے ساتھ ورسٹائل قرار دیا اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ سرینگر شہر اپنے ثقافتی ورثے اور فنون لطیفہ کی ابدی درجہ بندی کیلئے جانا جاتا ہے اور اس میں دستکاری کے نوادرات کا خزانہ موجود ہے جو شہر کے ورثے کی علامت ہونے کے فخر میں اضافہ کرتے ہیں ۔ 

 

 

 

 

شیرپورہ اننت ناگ میں آگ

4رہائشی مکانات خاکستر

عارف بلوچ 

اننت ناگ // اننت ناگ شیر پورہ علاقے میں جمعہ کی شام آگ کی ایک ہولناک واردات میں 4رہائشی مکانات خاکستر ہو گئے جس کی وجہ سے کروڑوں روپئے مالیت کا نقصان ہوا اور کئی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ۔شام دیر گئے شیر پورہ علاقے میں ایک رہائشی مکان سے اچانک آگ نمودار ہوئی جس نے ارد گرد کے مزید تعمیرات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اگرچہ یہاں مقامی نوجوانوں اور فائر سروس عملہ نے کافی مشقت کے بعد آگ پر قابو پالیا جاتاتاہم اس دوران 4رہائشی مکانات مکمل طور پر خاکستر ہوگئے اور ان میں موجود لاکھوں روپے کا مال واسباب تباہ ہوگیا۔پولیس نے معاملہ کی نسبت کیس درج کرلیا ہے ۔

 

 

 

ترال میں دو طبی کیمپوں کا انعقاد

سرینگر//جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کی جانب سے آج ترال قصبہ میں 2 طبی کیمپوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ کیمپوں کے انعقاد کیلئے تمام تیاریاں مکمل کی گئی ہیں۔چھترگام میں کیمپ صبح دس بجے شروع ہوگا جس میں ڈی ڈی سی چیئرمین ڈاکٹر ہر بخش سنگھ مہمان خصوصی کے بطور شریک رہیں گے جبکہ لام میں ایک بجے کے بعد کیمپ منعقد کیا جارہا ہے۔اس موقع پر سکمز کے ایڈیشنل ڈائریکٹر مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہونگے۔ان طبی کیمپوں میں وادی کے ایک درجن سے زائد معروف ڈاکٹر مریضوں کا علاج و معالجہ کریں گے اور مریضوں کو اپنے مفید مشوروں سے نوازیں گے۔طبی کیمپوں کا انعقاد لام اور چھترگام میں معروف سماجی کارکن مرحوم ایس کے عظیم الدین کی یاد میں منعقد کیا جارہا ہے۔ان طبی کیمپوں کو گردوارہ پربندھک کمیٹی چھترگام کے اشتراک سے منعقد کیا جارہا ہے۔کے این ایس

 

 

تین سال بعد رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کا اجلاس

انتظامی ڈھانچہ تشکیل، نئے اراکین کی تقرری

نظام تعلیم کو مزید معیاری بنانے کے اقدامات پر غور، مروجہ علوم کی تکمیل کرانے کی تدبیر

سرینگر// رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کا جمعرات کو جموں و کشمیر کے مدارس کا اجلاس دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کے تمام اضلاع سے مربوط مدارس کے 300 سے زائد نمائندے شریک ہوئے۔ دارالعلوم دیوبند سے مرکزی رابطہ دارالعلوم دیوبند کے ناظم عمومی مولانا شوکت علی قاسمی مہمان خصوصی تھے جبکہ دارالعلوم دیوبندکے نائب مہتمم مولانا مفتی محمد راشد کا نام اجلاس کی صدارت کے لئے رابطہ مدارس جموں کشمیر کے صدر مولانا محمد رحمت اللہ قاسمی ناظم دارالعلوم رحیمیہ نے تجویز کیا۔ اجلاس ان کی صدارت میں منعقد ہوا۔نظامت کے فرائض دارالعلوم رحیمیہ کے شیخ الحدیث مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی نے انجام دیئے۔ یہ اجلاس اس اعتبار سے بہت ہی اہمیت کا حامل تھا کہ یہ تین سال کے طویل وقفہ کے بعد منعقد ہوا۔ اجلاس میں رابطہ کے تنظیمی امور پر غور ہوا اور نئی مدت کے لئے انتظامیہ کا ڈھانچہ تشکیل دیاگیا ۔ کورونا کے دوران خالی شدہ نشستوں پر مجلس عاملہ کے لئے نئے اراکین مقرر ہوئے۔ مربوط مدارس کے نظام تعلیم و تربیت کے معیار کو مزید بلند کرنے کی تاکید کی گئی۔ نئی تعلیمی پالیسی کے پیش نظر مدارس میں ابتدائی درجات ناظرہ حفظ اور اعدادی میں حساب، انگریزی ،اردو اور دیگر مضامین کو آٹھویں دسویں اور بارہویں جماعت کے معیار تک مکمل کرانے کے بعد ان درجات کے امتحانات کو مکمل کرانے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مختلف نوع کے دینی ،تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر غور ہوا۔مدارس اور علماء کو اصلاح معاشرہ پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی گئی۔ خصوصاً نوجوانوںمیں بڑھتی ہوئی بے راہ روی ، منشیات کے پھیلاؤ اور اخلاقی قدروں کے کمزور ہونے پر خصوصی سدہار کی تجویز منظور کی گئی۔ ایک تجویز میں توہین رسالت کی بڑھتی ہوئی ناپسندیدہ کوششوں، کارٹونوں اور دیگر ذرائع سے کی جانے والی گستاخیوں خصوصاً کشمیر کے مسلم معاشرہ میں قائم سکولوں اور بک ڈپیو میں ایسی کتابوں کے پائے جانے پر اظہار ناراضگی نیز اسلامی تشخص اپنانے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششوں پر اسی طرح باطل طبقوں خصوصاً مرزائیوں اور قادیانیوں کی مختلف ناموں سے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس اعلان کا اعادہ کیا گیا کہ امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کے متفقہ فیصلہ کے مطابق خاتم النبیینؐکے تشریف لانے کے بعد کسی بھی مدعی نبوت یا اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔اس لئے ایسے لوگوں سے احتیاط لازمی ہے۔ اجلاس میں مدارس میں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ حسابات کی شفافیت، ان کے بروقت آڈٹ کرانے اور بچوں اور مدارس کی صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے تقاضوں کو بہتر سے بہتر طریقہ پر پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس میں گزشتہ تین سال کی تعلیمی، تربیتی، اصلاحی اور مالیات کی سرگرمیوں کی رپورٹیں پیش کی گئیں اور ان پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ صدر اجلاس کی دعا پر یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

 

 

جموں کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کی 225ویں نشست منعقد

تنظیم کی تشکیل نو، ڈاکٹر نذیر مشتاق نئے صدر منتخب، پہلی بار خواتین ونگ تشکیل 

سرینگر//جموں کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کی 225 ویں نشست سنیچر کو گلڈ کے صدر دفتر لالچوک میں منعقد ہوئی جس دوران گلڈ کی تشکیل نو عمل میں لائی گئی۔ اجلاس کی صدارت نامور فکشن نگار اور گلڈ کے سرپرست وحشی سعید نے انجام دی جبکہ ایوان صدارت میں اردو اور پنجابی کے نامور ادیب خالد حسین اور معروف فکشن نگار نور شاہ بھی موجود رہے۔ اجلاس کے آغاز میں گلڈ کے سابق صدر مرحوم شہزادہ بسمل کی خدمات کو شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہوئے انکے ایصال ثواب کے لئے دعا کی گئی جس کے بعد بہ اتفاق رائے گلڈ کی نئی نظم تشکیل دی گئی۔ مجلس مشاورت میں جسٹس بشیر احمد کرمانی (ر)  ،خالد حسین، نور شاہ اور پرفیسر شفیقہ پروین شامل ہونگی جبکہ وحشی سعید گلڈ کے تاحیات سرپرست اعلیٰ برقرار رہیں گے۔ ڈاکٹر نذیر مشتاق گلڈ کے نئے صدر منتخب جبکہ محی الدین ریشی اور مقبول فیروزی نائب صدور منتخب ہوئے۔ انگریزی اور کشمیری کے نامور ادیب شفیع احمد جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے جبکہ مشتاق برق اور سہیل سالم بطور کارڈی نیٹر کام کریں گے۔ زبیرقریشی میڈیا سیکریٹری منتخب ہوئے جبکہ اکاونٹس کی ذمہ داری غلام نبی شاہد اپنے دو معاونین جہانگیر احمد بٹ اور منظور کنٹھ سمیت سنبھالیں گے۔ اجلاس کے دوران یہ طے پایا گیا کہ گلڈ کی جانب سے کثیر السانی سالانہ مجلہ (فکشن)  نور شاہ کی نگرانی میں شائع کیا جائے گا۔ جس کے ادارتی بورڈ میں شعبہ اردو کے لئے غلام نبی شاہد، رافیعہ ولی اور ناصر ضمیر، شعبہ کشمیری کے لئے محی الدین رشی، نیلوفر ناز نحوی، محمد یوسف شاہین اور شکیل الرحمن، شعبہ انگریزی کے لئے شفیع احمد،ڈاکٹر شہزادسلیم، مشتاق برق اور مہپارہ جبکہ دیگر زبانوں کے لئے خالد حسین اور زبیرقریشی ادارتی بورڈ میں شامل رہیں گے۔ اس موقع پر پہلی بار گلڈ کی خواتین ونگ تشکیل دی گئی جس کی نگرانی ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی کریں گی جبکہ رافعہ ولی اور مہپارہ انکی معانت کریں گی۔ گلڈ کے سرپرست اعلیٰ وحشی سعید نے نو منتخب عہدے داران کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اْمید ظاہر کی کہ نو منتخب نظم تندہی سے اپنے فرائض انجام دے گی۔اس سے قبل گلڈ کے صدر دفتر لالچوک میں گلڈ کی 225 ویں نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت ڈاکٹر نذید مشتاق نے کی۔ اس موقع پر دو افسانے پیش کئے گئے۔ مشتاق برق نے انگریزی افسانہ جبکہ منظور کنٹھ نے اردو افسانہ پیش کیا جن پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی نے انجام دیئے۔