مزید خبریں

حبک میں ڈل سے بژھ پورہ کے شہری کی لاش برآمد

ارشاداحمد

 

سرینگر//سرینگر کے علاقہ حبک میں جھیل ڈل میں شہری کی لاش برآمد کی گئی۔مقامی لوگوں کو حبک علاقہ سے گزرنے والی شاہراہ فور شور روڑ کنارے پر واقع جھیل ڈل میں شہری کی لاش ملی۔ اس موقع پر پولیس کو اطلاع دی گئی پولیس کی ٹیم نے وہاں پہنچ کرنعش کواپنی تحویل میں لے لیا۔اس بارے میں پولیس نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ پراسرارحالت جھیل ڈل میں پائی جانے والی لاش کی شناخت خورشید احمد طوطاولدمرحوم غلام نبی ساکنہ الہی باغ بژھ پورہ سرینگر کے بطورہوئی ۔پولیس کی ٹیم نے نعش  ڈسٹرکٹ اسپتال حبک منتقل کی جہاں نعش کاپوسٹ مارٹم کرکے قانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد لاش لواحقین کے سپرد کردی گئی۔پولیس نے اس سلسلے میں 174کے تحت معاملہ درج کرکے مزیدتحقیقات شروع کردی ۔  

 

 

محکمہ اقتصادیات وشماریات کے افسروں کی تربیت کا تعین

’گڈگورننس انڈکس‘میٹنگ میں تبادلہ خیال 

 سرینگر// ڈائریکٹر جنرل، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (IMPARD) سوربھ بھگت نے ’’ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس ڈیش بورڈ (ڈیش بورڈ)‘‘ کے حوالے سے ایک آن لائن میٹنگ کی صدارت کی جسے محکمہ انتظامی اصلاحات نے امپارڈ کے تعاون سے تشکیل دیا  تھا۔ میٹنگ میں جموں و کشمیر کے محکمہ اقتصادیات اور شماریات کے مختلف عہدیداروں کی تربیت کی ضروریات کے تعین پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جموں اور سری نگر دونوں میں محکمہ اقتصادیات اور شماریات کے علاقائی ڈائریکٹر ڈیجیٹل ڈیش بورڈ پر ڈیٹا انٹری کا عمل شروع کریں گے اور اسٹیک ہولڈرز کے سوالات کو راغب کرنے کے لیے ایک عمومی سوالنامہ تیار کریں گے۔  انہوں نے بتایا کہ پچھلا ڈی جی جی آئی ڈیش بورڈ سالانہ ویلیو پیش کرتا تھا لیکن نیا شروع کیا گیا ڈی جی جی آئی ڈیش بورڈ ماہانہ ویلیوز دے گا۔  انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز، چیف پلاننگ آفیسرز اور ضلع شماریات کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ڈیش بورڈ کو کامیاب بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔ سوربھ بھگت نے کہا کہ موجودہ ڈیش بورڈ دو مہینوں کی قدروں کا موازنہ کرنے میں بھی مدد کرے گا اور مزید کہا کہ اگر ڈیٹا انٹری مارک تک نہیں ہے تو یہ منفی اقدار کی تخلیق کا باعث بن سکتا ہے۔  لہذا، یہ اس بیک ڈراپ میں ہے کہ ایک تربیتی کورس اسٹیک ہولڈرز کو تربیت دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ڈی جی جی آئی ڈیش بورڈ پر ڈیٹا کا صحیح اندراج کیسے کیا جائے۔ بعد ازاں میٹنگ میں، NIC/DARPG کے افسران نے J&K کے افسران کے ساتھ ایک بات چیت کا سیشن منعقد کیا جس میں انہوں نے DGGI ڈیش بورڈ کے مختلف پہلوں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے۔

 

 

ترقیاتی رقومات لیپس ہونے کی وجہ تعمیراتی مواد کی عدم دستیابی

زیرالتواء بلیں واگزار نہ کرنے پر احتجاج ہوگا:پُرزا

سرینگر//جے کے کنٹریکٹرس کارڈنیشن کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر سرکار نے ان کے مسائل کی طرف فوری توجہ نہیں دی تو ماہ صیام کے بعد احتجاج کی راہ اپنائی جائے گی ۔ کارڈنیشن کمیٹی کے سربراہ غلام جیلانی پُرزا نے بتایا ہے کہ ترقیاتی کاموں کیلئے مختص رکھی گئی رقومات منجمد ہوئی ہیں تاہم اس کیلئے سرکار ہی ذمہ دار ہے ۔سی این آئی کے مطابق ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کنٹریکٹرس کارڈنیشن کمیٹی کے سربراہ غلام جیلانی پُرزا نے و ادی میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص رکھی گئیں رقومات لیپس ہونے کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ سرکار نے جو نئے نئے قوانین نکالے ہیں یہ بھی ایک وجہ ہے جبکہ تعمیراتی مواد کی عدم دستیابی کے علاوہ ڈویژنوں میں انجینئروں کی جو تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے یہ بھی ایک وجہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑی وجہ  تعمیراتی مواد کی عدم دستیابی ہے کیوں کہ سرکار نے ریت اور بجری نکالنے پر پابندی لگائی ہے تو ہم تعمیراتی مواد کہاں سے حاصل کرسکتے ہیں اور کام کس طرح چل سکتا ہے ۔ فنڈس لیپس ہونے کی دوسری وجہ انہوںنے بتائی کہ سرکار نے بڑے بڑے ڈویژنوںمیںایگزیکٹیو انجینئروں کی تعیناتی عمل میں لائی ہے جن کو زمینی سطح پر کام کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ یہ کہ کنسٹریکشن کیلئے جو نئے نئے قوانین اور قواعد و ضوابط وضع کئے جارہے ہیں ان سے کام میں دشواریاں پیش آرہی ہیں اور جب کام ہی نہیں ہوگا تو فنڈس کا استعمال بھی نہیں ہوسکتا ہے ۔ غلام جیلانی پُرزا نے کہا کہ ایک طرف سرکار یہاں پر تعمیر و ترقی میں تیزی لانے کی باتیں کرتی ہیں تو دوسری طرف کئی ایسے اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن سے یہاں پر ڈیولپمنٹ کا کام رُک گیا ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ افسران سیکریٹریٹ میں بیٹھ کر جو حکم پر حکم نکالتے ہیں اس طرح سے کام نہیں چلنے والا ہے کیوں کہ زمینی سطح پر کام کس طرح سے ہورہا ہے ان افسروں کو معلوم نہیں ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ انجینئر تعمیراتی کاموں کا تخمینہ تین برس پُرانے ریٹ کے حساب سے لگارہے ہیں جبکہ گزشتہ تین برسوں سے مٹی، ریت اور بجری کی ریٹ دوگنی ہوچکی ہے ۔ پُرزا نے ایل جی انتظامیہ اور مرکزی سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹھیکیداروں کو درپیش مسائل کے ازالہ کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اُٹھائیں ۔ انہوںنے بتایا کہ سب سے پہلے سرکار کو چاہئے کہ ٹھیکیدروں کی جو واجب الادا بلیں ہیں ،جو کئی برسوں سے التوا ء میں پڑی ہیں ان کو فوری طور پر واگزار کیاجائے اور اگر سرکار کنٹریکٹرس کی واجب الادا رقومات واگزار نہیں کرتی تو ماہ صیام کے بعد احتجاج کی راہ اپنائی جائے گی ۔ 

 

 

پردھان منتری آواس یوجنا 

بانڈی پورہ میں مختلف شکایات پر تبادلہ خیال

عازم جان

 

بانڈی پورہ// ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر بانڈی پورہ افسر علی خان نے جمعرات کو پردھان منتری آواس یوجنا (PMAY)گرامین کے ضلع سطح کی کمیٹی کے اراکین کی ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں اسسٹنٹ کمشنر ریونیو بانڈی پورہ پرویز رحیم، اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ بانڈی پورہ عبدالرشید داس، اسسٹنٹ کمشنر پنچایت سید الطاف حسین موسوی، ڈی ایس ڈبلیو او بانڈی پورہ اور مختلف بلاکوں کے بی ڈی اوز نے شرکت کی۔ میٹنگ میں پی ایم اے وائی گرامین کمیٹی کے سامنے پیش کی جانے والی مختلف شکایات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے ڈی ڈی سی نے متعلقہ افراد سے کہا کہ وہ تمام زیر التوا کیسز جلد از جلد اہلیت کی سفارشات کے ساتھ اے سی ڈی دفتر میں جمع کرائیں۔ انہوں نے متعلقہ ریونیو افسران سے کہا کہ وہ تصدیق کے لیے اے سی آر بانڈی پورہ کو بھیجے گئے اراضی کیسوں کے سلسلے میں رپورٹ پیش کریں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام پی ایم اے وائی کیسز جہاں متعلقہ بی ڈی اوز سے رپورٹ زیر التوا ہیں ، کی اہلیت کی سفارشات کے ساتھ اے سی ڈی دفتر میں جمع کرائی جائے گی اور انہیں مزید ضروری کارروائی کیلئے 8اپریل کو حتمی رپورٹ کے ساتھ ایک جامع شکل میں پیش کیا جائے گا۔ اے سی آر بانڈی پورہ سے بھی کہا گیا کہ وہ اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ بانڈی پورہ کے ذریعہ اس دفتر کو بھیجے گئے معاملات میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔ 

 

 

 

آجر بانڈی پورہ میں غیر قانوی لکڑی برآمد

عازم جان

 

بانڈی پورہ //محکمہ جنگلات کی ٹیم نے آجر بانڈی بورہ میں بینڈسا پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران 33 مکعب فٹ غیرقانونی لکڑی ضبط کی جو سمگلروں نے یہاںڈالی تھی ۔رینج افسر کھویہامہ مشتاق احمد نے کہا کہ کمپارٹمنٹ نمبر108میں دوران شب سمگلروں نے درخت کاٹ کر بینڈسا مشین میں پہنچادیا لیکن مصدقہ اطلاع ملنے پر فوری طور پر صبح سویرے چھاپہ مارااور غیر قانونی لکڑی کو برآمد کرکے چترنار فارسٹ ڈیپو میں پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ کیس درج کرنے کے لئے تحقیقات شروع کردی گئی ۔

 

جموں کشمیر میں دلی کے تئیں عوام میں ناراضگی:مصطفی کمال

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت گزشتہ3سال سے جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوششوں میںمصروف ہے اور اس کیلئے مرکزی اور مقامی سطح پر زر کثیر خرچ کیا جارہا ہے لیکن تینوں خطوں کے عوام میں پائی جارہی ناراضگی، غم وغصہ اور احساسِ بیگانگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ لوگوں میں نئی دلی کو لیکر بداعتمادی بڑھتی ہی جارہی ہے۔موصولہ بیان کے مطابق ڈاکٹر کمال پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیرمیں 5اگست 2019 سے لیکر آج تک اس غیر یقینیت کے ماحول میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوئی ہے بلکہ اس میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہاہے۔ پوری وادی کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیاہے ، ہر سڑک، ہر چوراہے ، ہر گلی اور نکڑ پر فورسز کی تعیناتی، ناکے اور بنکر قائم کئے گئے ۔ یہاں کی سیکورٹی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ملی ٹنسی کے ایک دو واقعات روز کا معمول بن گیا ہے جبکہ حکومتی سطح حالات میں سدھار کے آئے روز دعوے ذرائع ابلاغ میں پڑھنے ، دیکھنے اور سننے میں ملتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے دفعہ370اور 35اے کا خاتمہ کرکے جموںوکشمیر کو اندھیروں میں دھکیل دیاہے۔ نہ جمہوریت ہے نہ اظہارِ رائے کی آزادی، نہ تعمیر و ترقی ہے نہ ہی خوشحالی،نہ امن و امان اور نہ ہی سیکورٹی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ کمال نے کہاکہ مرکزی حکومت جتنا جلد جموںو کشمیر سے متعلق اپنی غیر سنجیدہ پالیسی کوترک کرے گی اُتنا ہی بہتر ہوگا۔ 

 

کشمیر یونیورسٹی میں CCPCنے بھرتی مہم کا انعقاد کیا

سرینگر// کشمیر یونیورسٹی کے سینٹر فار کیرئیر پلاننگ اینڈ کائونسلنگ (CCPC)نے جمعرات کو یونیورسٹی کے طلبا کے لیے کیمپس بھرتی مہم کا انعقاد کیا۔طلبا کو ایکسٹرا مارکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعہ بھرتی کیا جائے گا، جو ہندوستان کی ایک سرکردہ ایجوکیشن ٹیکنالوجی کمپنی ہے۔ڈائریکٹر سی سی پی سی پروفیسر گیر ایم اسحاق نے ان سرگرمیوں پر روشنی ڈالی جو مرکز نے کوچنگ اور پلیسمنٹ کے شعبوں میں شروع کی ہیں۔پروفیسر اسحاق نے کہا’’جیسے جیسے وبائی مرض کم ہو رہا ہے، ہم اپنے کوچنگ اور پلیسمنٹ کے پروگراموں کو تیز کر رہے ہیں اور ملازمت کی جگہوں کے لیے مزید کمپنیوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ ہم مستقبل میں مزید کیمپس ڈرائیوز کریں گے۔ IASکوچنگ پہلے ہی مرکز میں زوروں پر چل رہی ہے اور جلد ہی ہم NET/JRFکیلئے بھی کوچنگ شروع کریں گے‘‘۔سی سی پی سی کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر بلال احمد پانڈو، جنہوں نے تقریب کو آرڈی نیٹ کیا، نے کہا کہ 54طلبا نے اس پوزیشن کے لیے مرکز کے ساتھ رجسٹریشن کرائی ہے اور ایکسٹرا مارکس کے حکام نے تقریبا 10 سے 12 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا ہے۔ ڈاکٹر پانڈو نے مزید کہا’’ہم اس طرح کے مزید کیمپس پلیسمنٹ پروگراموں کے منتظر ہیں۔ عامر قریشی نے امیدواروں کو کمپنی کے بارے میں ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں انہوں نے تعلیمی ٹیکنالوجی کے شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ قریشی نے کہا ’’ہندوستان کی ایجوٹیک انڈسٹری اگلے دس سالوں میں 30 بلین ڈالر کا حجم بننے والی ہے۔‘‘کمپنی نئے دور کے ڈیجیٹل ایجوکیشن سلوشنز کے ذریعے سیکھنے والوں کو 360 ڈگری تعلیمی مدد فراہم کرتی ہے۔بزنس یونٹ ہیڈ جے اینڈ کے عمر مجید، ڈپٹی منیجر بی ٹو بی سیلز میر محمد توصیف اور ڈپٹی مینیجر بی ٹو جی سیلز غلام سبطان میر جو کہ ایکسٹرا مارکس ٹیم کے ساتھ تھے نے امیدواروں کا انٹرویو کیا۔ توصیف نے کہا’’منتخب افراد کو جلد ہی نوکری کی پیشکش کے خطوط فراہم کئے جائیں گے۔

 

 اکنامک الائنس کا گوشت کی قلت پر تشویش

انتظامیہ سے افہام و تفہیم کے ساتھ مسئلہ حل کرنیکا مطالبہ

سرینگر// کشمیر اکنامک الائنس نے وادی میں ماہِ رمضان کے دوران گوشت کی مصنوعی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقین کو افہام و تفہیم کے ساتھ یہ معاملہ حل کرنے کا مشورہ دیا۔ سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ ماہِ رمضان میں لوگ گوشت کا زیادہ استعمال کرتے ہیں،تاہم گوشت کی قلت کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قصابوںکے ساتھ مسئلہ حل کریں اور انکے مطالبات پر ہمدردانہ غور کریں۔ انہوںنے مزید کہا کہ گزشتہ برس صوبائی انتظامیہ نے کشمیر بوچرس یونین کے ذمہ داروں اور کوٹھداروں سے گوشت کی قیمت فی کلو535روپے طے کی تھی جس کا اطلاق ایک برس کیلئے تھاتاہم قصابوں کا ماننا ہے کہ ایک سال گزر جانے کے بعد قیمتوں میں سر نو اضافہ نہیں کیا گیا۔ ڈار کا کہنا تھا کہ الائنس نے چونکہ گزشتہ برس اس معاملے میں ایک سہولت کار کی حیثیت سے فریقین میں معاملے کو طے کرایا تھا،اسلئے یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مرحلے پر بھی فریقین کے درمیان تعطل کو ختم کریںاور افہام و تفہیم کے ساتھ مسئلہ حل کریں تاکہ ما ہِ رمضان اور عید پر لوگوں کو گوشت کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ فاروق احمد ڈار نے انتظامیہ پر بھی زور دیا کہ 18مارچ کو جس نوٹیفکیشن میں6ماہ کی توسیع کی گئی ہے،اس کو واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایہ میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھ کر قصابوں کے مسائل حل کئے جائیںاور ضوابط کے تحت قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔

 

دویدی نے قومی یومِ پنچائت کے انتظامات کا جائزہ لیا 

جموں//پرنسپل سیکریٹری جی اے ڈی منوج کمار دویدی اور کمشنر سیکریٹری آر ڈی ڈی مندیپ کور نے لائین ڈیپارٹمنٹ کے تمام نوڈل افسران کی ایک مشترکہ میٹنگ منعقد کی جس میں 100 استفادہ کنندگان پر مبنی اسکیموں کے بارے میں حاصل کردہ کامیابیوں اور قومی پنچائت دن کا جائزہ لیا گیا ۔ پرنسپل سیکرٹری نے ہر نوڈل افسر سے اپنے محکمے کے مقررہ مقصد میں کی گئی موجودہ پیش رفت اور ہدف کو حاصل کرنے کیلئے آگے بڑھنے کے راستے کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے انہیں یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ مقررہ تاریخ کے اندر ہدف کو حاصل کرنے کے طریقہ کار پر کام کریں ۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیش رفت اپنے دفتر کو فراہم کریں ۔ دویدی نے مزید کہا کہ تمام درج ڈیلیورایبلز کی شناخت چیف سیکرٹری نے خود کی ہے اور وہ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اس ماہ کی 24 تاریخ کو قومی پنچائت دن کی تقریبات سے پہلے اہداف کو اچھی طرح سے مکمل کر لیں ۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اگلے چند دنوں میں فہرست میں سے ہر ایک کے بارے میں تفصیلی نوٹ بھیجیں ۔ کمشنر سیکرٹری آر ڈی ڈی نے میٹنگ کو بتایا کہ تمام ڈیلیور ایبلز نے اپنی شناخت کے بعد سے کافی پیش رفت درج کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یو ٹی کے ذریعہ کی گئی پیش رفت ان میں سے زیادہ تر اسکیموں کے بارے میں قومی اوسط سے بہت زیادہ ہے ۔ مندیپ کور نے میٹنگ میں یہ بھی بتایا کہ 100 نکاتی پروگرام حکومت کی طرف سے دیہی عوام کی بہتری کیلئے پچھلے کچھ سالوں میں شروع کی گئی چند بنیادی فائدہ مندوں پر مبنی اسکیموں کا مجموعہ ہے ۔ 

 

سوپور میں بنیادی سہولیات کافقدان : شعیب لون

سرینگر:پنی پارٹی ضلع صدر شعیب نبی لون نے قصبہ سوپور میں بنیادی سہولیات کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ سوپور قصبہ کو چھوٹا لندن کہاجاتا ہے لیکن یہاں صرف خستہ حال ڈھانچہ، خستہ حال سڑکیں اور بنیادی سہولیات بھی نہیںہیں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال عمارتوں کی حالت ناقص ہے، بیت الخلاء ناصاف ہیں، سرکاری دفاتر میں ٹوٹا پھوٹا فرنیچر ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پرزور دیاکہ قصبہ سوپور میں صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔