مزید خبریں

نیوز ڈیسک
 حکام کی جانب سے نماز عید پر رکاوٹیں اور غیرمعقول شرائط افسوسناک:انجمن اوقاف 

سرینگر//انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے انہیں یہ پیغام دینے کیلئے طلب کیا ہے کہ عیدگاہ سرینگر میں مسلمانوںکو نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور صرف صبح سات بجے سے پہلے ہی مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز عید ادا کی جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں حکام نے انجمن اوقاف کے سامنے کئی شرائط رکھیں جن کی تحریری طور پر انجمن کو انہیں ضمانت دینی تھی ۔بیان کے مطابق انجمن اوقاف نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ عید کی نماز تاریخی عیدگاہ میں 9:30ادا کی جائے گی اور موسم خراب یا بارش ہونے کی صورت میں جامع مسجد میں وقت مقررہ پر ادا کی جائیگی۔انجمن کے ارکان نے اس امر پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ جامع مسجد سرینگر میںوادی کے مسلمانوں کو جمعتہ الوداع اور شب قدر جیسی عظیم تقریبات کے مواقع پرنمازیں ادا کرنے کی حکام نے اجازت نہیں دی اور اسی طرح عیدگاہ میں بھی عید کی نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جارہی ہے حالانکہ یہ رسول رحمتؐکی عظیم روایت اور مقدس سنت ہے۔اس دوران انجمن اوقاف نے وقف بورڈ کو عیدگاہ میں نماز عید کے تئیںانتظامات کے حوالے سے مکتوب ارسال کیا تھا۔ اسکے جواب میں وقف بورڈ نے کہاکہ جب تک حکام عیدگاہ میں نماز ادا کرنے کی باضابطہ اجازت نہیں دیتے وہ نماز عید کے انتظامات کے تئیں کچھ نہیں کرسکتے۔بیان میںیہ بات واضح کی گئی کہ مرکزی جامع مسجد کشمیر کی سب سے بڑی عبادتگاہ ہے اور یہ کوئی مقامی مسجد نہیں ہے بلکہ یہاں مسلمان بھاری تعداد میں جمع ہوکر ملت کے اجتماعی وحدت کا جو تصور ہے اسے اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ذہنی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں ۔ اسی طرح عیدگاہ میں عیدین کی نماز میں بھاری تعداد میں مسلمان نماز عیدادا کرنے کیلئے جمع ہوکرملی وحدت اور اجتماعیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چنانچہ وادی بھر کے عوام کو ان مرکزی مقامات تک بہ سہولت پہنچنے کی خاطر پیشگی نمازوں کے اوقات طے اور مشتہر کئے جاتے ہیںجیسا کہ خود وقف بورڈ نے درگاہ حضرت بل میں عید کی نماز کیلئے 10:30بجے کا وقت مقرر کیا ہے۔ انجمن اوقاف نے بھی صبح9:30 بجے نماز عید ادا کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔بیان میں اس امر پر تعجب کا اظہار کیا گیا کہ اگر دیگر مقامات پر 10:30بجے نماز عید ادا کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو مرکزی جامع مسجد میں کیوں نہیں؟اور انجمن اوقاف کیلئے تحریری طور پر غیر معقول شرائط کیوں وضع کی جارہی ہیں۔بیان میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جس طرح شب قدر ، جمعتہ الوداع کے مواقع پر حکام نے جامع مسجد میں رکاوٹیں ڈالی اسی طرح عوام میں فرضی خوف و ہراس کا ہوا کھڑا کرکے عیدگاہ میں نماز عید کی اجازت نہ دینے کے بعد جامع مسجد کے اجتماع میں بھی رکاوٹیں ڈالنا ہے ۔انجمن نے حکام کے اس طرز عمل جس کے تحت عیدگاہ کے ساتھ ساتھ جامع مسجد میں بھی نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے جموںوکشمیر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نہ صرف شدید دھچکا لگا ہے بلکہ اس طرح کا رویہ ان کیلئے باعث دکھ اور صدمہ ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ اسی طرح اگست 2019 سے جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فارو ق کی طویل نظر بندی عوام کیلئے سخت تشویش اورباعث اضطراب ہے کیونکہ موصوف نماز عید سے قبل ہمیشہ فلسفہ عیدپروعظ و تبلیغ کے ذریعے عوام تک عید کے اصل پیغام اور تعلیمات کو پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔

 

 حکام کی جانب سے نماز عید پر رکاوٹیں |  غیرمعقول شرائط افسوسناک:انجمن اوقاف 

سرینگر//انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے انہیں یہ پیغام دینے کیلئے طلب کیا ہے کہ عیدگاہ سرینگر میں مسلمانوںکو نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور صرف صبح سات بجے سے پہلے ہی مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز عید ادا کی جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں حکام نے انجمن اوقاف کے سامنے کئی شرائط رکھیں جن کی تحریری طور پر انجمن کو انہیں ضمانت دینی تھی ۔بیان کے مطابق انجمن اوقاف نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ عید کی نماز تاریخی عیدگاہ میں 9:30ادا کی جائے گی اور موسم خراب یا بارش ہونے کی صورت میں جامع مسجد میں وقت مقررہ پر ادا کی جائیگی۔انجمن کے ارکان نے اس امر پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ جامع مسجد سرینگر میںوادی کے مسلمانوں کو جمعتہ الوداع اور شب قدر جیسی عظیم تقریبات کے مواقع پرنمازیں ادا کرنے کی حکام نے اجازت نہیں دی اور اسی طرح عیدگاہ میں بھی عید کی نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جارہی ہے حالانکہ یہ رسول رحمتؐکی عظیم روایت اور مقدس سنت ہے۔اس دوران انجمن اوقاف نے وقف بورڈ کو عیدگاہ میں نماز عید کے تئیںانتظامات کے حوالے سے مکتوب ارسال کیا تھا۔ اسکے جواب میں وقف بورڈ نے کہاکہ جب تک حکام عیدگاہ میں نماز ادا کرنے کی باضابطہ اجازت نہیں دیتے وہ نماز عید کے انتظامات کے تئیں کچھ نہیں کرسکتے۔بیان میںیہ بات واضح کی گئی کہ مرکزی جامع مسجد کشمیر کی سب سے بڑی عبادتگاہ ہے اور یہ کوئی مقامی مسجد نہیں ہے بلکہ یہاں مسلمان بھاری تعداد میں جمع ہوکر ملت کے اجتماعی وحدت کا جو تصور ہے اسے اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ذہنی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں ۔ اسی طرح عیدگاہ میں عیدین کی نماز میں بھاری تعداد میں مسلمان نماز عیدادا کرنے کیلئے جمع ہوکرملی وحدت اور اجتماعیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چنانچہ وادی بھر کے عوام کو ان مرکزی مقامات تک بہ سہولت پہنچنے کی خاطر پیشگی نمازوں کے اوقات طے اور مشتہر کئے جاتے ہیںجیسا کہ خود وقف بورڈ نے درگاہ حضرت بل میں عید کی نماز کیلئے 10:30بجے کا وقت مقرر کیا ہے۔ انجمن اوقاف نے بھی صبح9:30 بجے نماز عید ادا کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔بیان میں اس امر پر تعجب کا اظہار کیا گیا کہ اگر دیگر مقامات پر 10:30بجے نماز عید ادا کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو مرکزی جامع مسجد میں کیوں نہیں؟اور انجمن اوقاف کیلئے تحریری طور پر غیر معقول شرائط کیوں وضع کی جارہی ہیں۔بیان میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جس طرح شب قدر ، جمعتہ الوداع کے مواقع پر حکام نے جامع مسجد میں رکاوٹیں ڈالی اسی طرح عوام میں فرضی خوف و ہراس کا ہوا کھڑا کرکے عیدگاہ میں نماز عید کی اجازت نہ دینے کے بعد جامع مسجد کے اجتماع میں بھی رکاوٹیں ڈالنا ہے ۔انجمن نے حکام کے اس طرز عمل جس کے تحت عیدگاہ کے ساتھ ساتھ جامع مسجد میں بھی نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے جموںوکشمیر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نہ صرف شدید دھچکا لگا ہے بلکہ اس طرح کا رویہ ان کیلئے باعث دکھ اور صدمہ ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ اسی طرح اگست 2019 سے جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فارو ق کی طویل نظر بندی عوام کیلئے سخت تشویش اورباعث اضطراب ہے کیونکہ موصوف نماز عید سے قبل ہمیشہ فلسفہ عیدپروعظ و تبلیغ کے ذریعے عوام تک عید کے اصل پیغام اور تعلیمات کو پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔

 

 

 

 

 

 

بلڈوزرمسلمانوں کیخلاف ریاستی دہشت کی علامت

فرقے کاصبر اورہمت اسلام کے ابتدائی ایام کی یاد دلاتا ہے:محبوبہ مفتی

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے عید الفطر کے موقعہ پر کشمیر اورملک میں مسلمان فرقے کے صبر اورہمت کوسلام پیش کیا ہے اوراِسے اسلامی روایات کے عین مطابق قراردیا۔اپنے عید پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک میں مسلمان فرقے نے اس سال حقیقی طور رمضان کی روح  اورتقدس برقراررکھا اور بھاجپاحکومت  اوراس کے مسلح سیاسی بازوکی طرف سے اس فرقے پر حملوں کامقابلہ کیااور اس دوران ہمت اور صبر سے کام لیاجواسلام کے ابتدائی دنوں کی شان رہا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ بلڈوزرجہاں اس فرقے کے خلاف ریاستی دہشت کی علامت بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرمیں ہم ہرطرح کے ظلم سہہ رہے ہیں جن میں آبادی کااجتماعی قیدسے لیکر ہلاکتیں جن کی کوئی جوابدہی نہیں ہورہی ہے، شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے لوگوں نے اپنی خواہشات پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیران کے وجود پرحملوں کو صبراورحوصلے سے مقابلہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جدوجہد کو جمہوری اورپرامن طریقوں سے جاری رکھیں گے لیکن ہم اس عید پراپنے جوان اور عمررسیدہ قیدیوں کی کمی محسوس کرتے ہیں جو کشمیر اورکشمیر سے باہر کی جیلوں میں بغیر کسی جرم کے نظربندہیں ۔محبوبہ نے کہا کہ میرادل ان لوگوں کیلئے تڑپ رہا ہے جن کے عزیزفرضی تصادموں میں ہلاک کئے گئے اورجنہیں ان کے سیاسی نظریات یامذہبی وابستگی کی بناپرماراگیا۔انہوں نے کہاکہ حیدرپورہ جھڑپ میں مارے گئے لوگوں کے لواحقین کی چیخیں جو انصاف کے بجائے صرف اپنے پیاروں کی لاشیں واپس کرنے کا مطالبہ کررہے تھے،دل کو چیررہی ہیں۔محبوبہ نے کہا کہ اس عید پرہم ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ان جوانوں اور جموں کشمیر پولیس کے اہلکاروں جوہماری قیادت کی سیاسی مسائل کو حل کرنے میںناکامی کی وجہ سے مارے جارہے ہیں ،کیلئے بھی غمناک ہیں ۔ پی ڈی پی صدرنے کہا کہ ہماری جامع مسجدعید پربھی مسلمانوں کیلئے عید نمازکی ادائیگی کیلئے بندہے جس کی وجہ سے جموں کشمیر کے مسلمانوں کے دل مجروح ہورہے ہیں۔ محبوبہ نے صحافی فہدشاہ،عاصف سلطان اورسجاد گل کو بھی خراج پیش کیا جواپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے حکمرانوں کے غضب کاشکار ہوئے۔انہوں نے انسانی حقوق کارکنوں جیسے خرم پرویز کے ساتھ بھی یکجہتی کااظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ وادی  خاص طور سے شہرمیں پراسرارآگ کی وارداتوں نے بیسیوں کنبوں کوسرراہ کھڑاکیاہے اور وہ بے گھر ہوگئے ہیں۔ انہوں نے غیرسرکاری تنظیموں جیسے اتھروٹ کوبھی خراج پیش کیا۔

 

 

 

 

 

 

عید کے موقع پر وحیدپرہ کورہاکیاجائے

عارف لائیگرو کامطالبہ

سری نگر// پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ریاستی سکریٹری یوتھ عارف لائیگرو نے ہفتہ کو انتظامیہ اور ایل جی منوج سنہا جی پر زور دیا کہ وہ وحید پرا کو عید کے پیش نظر رہا کریں۔ایک بیان میں لائیگرو نے کہا کہ مرکزی حکومت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے یوتھ ونگ کے صدر وحید پرا کو رہا کرے کیونکہ مقدس تہوار عیدالفطر قریب آرہی ہے۔لائیگرو نے کہا کہ عید الفطر، مسلمانوں کے مقدس تہواروں میں سے ایک ہے، بھی قریب آ رہی ہے، عید کے موقع پر ہر کوئی اپنے خاندان میں شامل ہونے کا مستحق ہے۔انتظامیہ کو وحید پرا کو رہا کرنا چاہیے، جو نومبر 2020 سے جیل میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے عدالت میں ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں۔لائیگرو نے مختلف جیلوں میں بند جموں کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

 

 

 

محنت کش معاشرے کا نا قابلِ تنسیخ حصہ: الطاف بخاری

 حقوق کے تحفظ کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا

سرینگر// اپنی پارٹی کے صدر محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ ’یوم مزدور‘ ہر سال ہمیں محنت کش طبقے کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ہمیں اس طبقے کی فلاح اور اسے حقوق فراہم کرانے کے لئے جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورکرس ہمارے سماج کا ایک نا قابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں۔یوم مئی پر اپنے پیغام میں اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان کی پارٹی محنت کش طبقہ کے ساتھ کھڑی ہے اور اس طبقہ کی فلاح کے لئے کام کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا،  ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم محنت کشوں، بالخصوص حاشیے پر لاکھڑا ہوئے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ محنت کش طبقہ ہر سماج کیلئے ریڈ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اسلئے یہ ضروری ہے کہ اس طبقے کو کام کرنے کا بہتر ماحول، روزگار کا تحفظ، ہیلتھ انشورنس وغیر جیسی بنیادی چیزیں فراہم ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن ہمیں ورکنگ کلاس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اور ہمیں اس طبقے کے حقوق کی حفاظت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ الطاف بخاری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محنت کش طبقے کے حقوق کی مکمل بحالی اور انہیں درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے منظم اور موثر اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ محنت کش طبقے کی زندگیاں بہتر ہوجائیں اور وہ تمام حقوق میسر ہوں، جو کسی بھی متمدن معاشرے کے محنت کشوں کو میسر ہیں۔

 

 

 

بھاجپاکی مزدور مخالف پالیسیاں

 مقابلہ کرنے کیلئے متحدہ جدوجہد لازمی: تاریگامی

 سری نگر//یوم مئی کے موقعہ پرسینٹرآف انڈین ٹریڈ یونینزنے سرینگرمیں ایک ریلی برآمد کی۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے CITUکے ریاستی صدریوسف تاریگامی نے محنت کشوں کوانقلابی سلام پیش کیا جو اپنے حقوق ،معاش کے دفاع کیلئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔تاریگامی نے1886کے شکاگو شہداء کو زبردست خراج پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقے نے جو بھی کچھ حقوق حاصل کئے ہیں، بی جے پی حکومت انہیںختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔  جو کچھ رہ گیا ہے وہ ان سے چھینا جا رہا ہے۔  ملک بھر میں محنت کش طبقے کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔  بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی آئی ہے اور عام لوگوں کی روزی روٹی پر حملے بڑھ گئے ہیں۔  انہوں نے کہاحکومت ایسے مسائل کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے جس سے لوگوں میں فرقہ وارانہ تقسیم پیدا ہو۔  محنت کش طبقے کے پاس اس مشکل وقت میں اپنے قدرتی وسائل اور قومی اثاثوں کے دفاع کے لیے وسیع تر ممکنہ اتحاداہم کام ہیں۔  بہت سے اداروںمیں ملازمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور ٹیکنالوجی بھی بہت سی ملازمتیں کھا رہی ہے۔  لیبر کوڈ پارلیمنٹ میں بغیر بحث کے اس وقت منظور کر لیے گئے جب پوری اپوزیشن واک آٹ پر تھی۔ ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔  لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔  غریب بستیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بلڈوزر سیاست کا نیا معمول بنایا جا رہا ہے۔ 1865 کے ذالڈگر شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، تاریگامی نے کہا کہ انہوں نے محنت کش طبقے کے ایک ممتاز طبقے، کاریگروں پر استحصال اور مظالم کے خلاف جدوجہد کی بنیاد رکھی۔  اس شال باف احتجاج نے محنت کش طبقے کی متعدد تحریکوں کو ہوا دی ہے۔  روایتی کاریگراپنی محنت کا بہت کم فائدہ اٹھاتے ہیں۔  انہوں نے ان کاریگروں کے لیے کنسٹرکشن ویلفیئر بورڈ کی طرز پر سوشل سیکیورٹی بورڈ بنانے اور ان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقعہ پر محمد افضل پیر سی پی آئی ایم لیڈر نے کہا کہ NHM کے تحت آنے والے عملے بشمول ASHAs جو فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر کام کر رہی ہیں کو معمولی مراعات مل رہی ہیں۔  آشا کارکنان بہتر معاوضے یا مقررہ تنخواہ کے لیے لڑ رہی ہیں، یہ مطالبہ اب تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔  مڈ ڈے میل ورکرز، CPWs، MGNREGA ملازمین، HDF، تعمیراتی کارکن، ضرورت پر مبنی، موسمی مزدور، ڈیلی ویجروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کے دیرینہ مطالبات کو پورا نہیں کیا جاتا ہے۔  یومیہ اجرت پر کام کرنے والیمزدور اپنے ریگولرائزیشن کے منتظر ہیں جو کہ مایوس کن ہے۔

 

 

 

عارضی ملازمین کا انتباہ  

مسائل حل نہیں کئے گئے،توسڑکوں پراحتجاج ہوگا

سرینگر//بلال فرقانی// یوم مئی کے موقع پر سرکاری محکموں میں تعینات عارضی ملازمین نے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر انکے مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تو وہ اہل و عیال سمیت سڑکوں پر احتجاج کریںگے۔ سرینگر کے واٹر ورکس ڈیپارٹمنٹ میں یوم مئی پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کیجول،ڈیلی ویجرس فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے عارضی ملازمین کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو بھونڈا مذاق قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی محنت کش طبقے کا استحصال جاری ہیںاور وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ صرف چہرے تبدیل ہوگئے ہیں۔ پرے نے حال ہی میں کم از کم تنخواہ قانون کے تحت عارضی ملازمین  کی یومیہ اجرت میں75روپے کے ا ضافے کو زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عبوری  مرہم کے نام پر یومیہ  اجرتوں پر کام کرنے والے ملازمین کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ سجاد احمد پرے نے کہا’’ مشاہرے میں75روپے یومیہ اضافہ ملازمین کی ان قربانیوں کو سرد خانے کی نذر کرنا ہے جنہوں نے نامساعد حالات،کووِڈ اور دگر گوں موسمی صورتحال میں صف اول پر کام کر کے نہ صرف خود بلکہ اپنے اہل عیال کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف کئی محکموں اور اسکیموں کے تحت کام کرنے والے عارضی ملازمین کو اس عارضی ریلیف سے بھی محروم کیاگیا،بلکہ درجنوں سرکاری محکموں کے ملازمین کو عید پر تنخواہوں سے ہی محروم رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو عید کے بعد لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا اور عارضی ملازمین اہل و عیال سمیت سڑکوں پر احتجاج کرینگے۔

 

 

حقوق کیلئے آواز اُٹھانا فرض:ٹریڈ یونین

سری نگر// ٹریڈ یونین لیڈر اشیاق بیگ نے کہا ہے کہ عالمی یوم مزدور منانے کا مطلب مزدوروں کے حقوق کیلئے آواز کو بلند کرنا ہے اور انہیں حق دلانا ہے جو اداروں میں کام کرنے کے باجود استحصال کاشکار ہورہے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق  انہوں نے جموں کشمیر انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مختلف محکموں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین جو کہ کئی دہائیوں سے معمولی اْجرت پر کام کررہے ہیں کو مستقل کریں۔ معروف ٹریڈ یونین لیڈر اور نگوا سکمز کے صدر اشتیاق بیگ نے عالمی یوم مزدور کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ دن ہمیں مزدوروں کے حقوق کے حق میں آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کررہا ہے۔ اشتیاق بیگ نے کہا کہ یہ دن 1889سے دنیا بھر میں منایا جارہا ہے۔ اس دن کو ان مزدوروں کی قربانیوں کے یادمیں منایا جاتا ہے جنہوں نے1886میں شکاگو میںاپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے اپنی جان دی تھی۔ بیگ نے بتایا کہ جموں کشمیر میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ورکروں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای، پی ڈی ڈی، ہیلتھ اور دیگر اہم شعبوں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین ہر صورت اور ہر حال میں ڈیوٹی پر آتے ہیں اور ہر کسی سے بھی زیادہ کام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان کے کام کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اشتیاق بیگ نے بتایا کہ مختلف محکموں میں60ہزار سے زائد عارضی ملازمین کام کررہے ہیں جو بیس پندرہ سالوں سے عارضی ہیں جبکہ سرکاری اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان عارضی ملازمین کو فوری طور پر مستقل کیا جائے کیوں کہ یہی انصاف کا تقاضہ بھی ہے۔

 

 

 

 

لداخ میں مسلسل چوتھے روز بھی کوئی کیس نہیں

سرینگر //لداخ میںکووِڈ کی وبائی بیماری ختم ہونے کے قریب ہے اور گزشتہ 24گھنٹوں میںکوئی نیا کیس سامنے نہیںآیا جس کے ساتھ ہی متاثرین کی تعداد میںکوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ سی این آئی کے مطابق جموںکشمیر کے ساتھ ساتھ لداخ میں بھی کووڈ کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور گزشتہ 24گھنٹوں میںکوئی بھی نیا کیس سامنے نہیںا ٓیا ۔ جس کے ساتھ ہی متاثرین کی تعداد 28246پر ہی رہ گئی ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں میں ایک اور مریض شفایاب ہو گیا ہے جس کے ساتھ ہی فعال معاملات اب 3ہی رہ گئے ہیں ۔ تمام تینوں فعال معاملات لہہ میں ہے اور کرگل مکمل طور پر کووڈ سے پاک ہو گیا ہے ۔ ساتھ ہی صوبے لداخ میںکوئی تازہ موت نہ ہونے کے بعد وبائی بیماری سے مرنے والوںکی تعداد 228پر بھی رہی ہے جس میں سے 168اموات لہہ میںہوئیں جبکہ60مریضوں کی موت کرگل میںہوئی ۔ لداخ میںابھی تک شفا یاب ہونے والے مریضوںکی تعداد 28015ہے ۔ 

 

 

 

لائوڈاسپیکرکااستعمال چوبیسوں گھنٹے ممنوع 

صرف اذان یاجمعہ خطبات کیلئے نہیں:الطاف ٹھاکر

سری نگر//بھارتیہ جنتا پارٹی نے لائوڈ اسپیکروں کے استعمال سے متعلق عمرعبداللہ کے بیان کوغلط قرار دیتے ہوئے کہاکہ لائوڈاسپیکرکااستعمال 24 گھنٹے ممنوع ہے، صرف اذان یاجمعہ کے خطبات کیلئے نہیں۔جے کے این ایس کے مطابق بی جے پی کی جموں وکشمیرشاخ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ پر محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر سیاست کرنے پر تنقید کی۔الطاف ٹھاکر نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر چوبیس گھنٹے پابندی عائد کی گئی ہے، نہ کہ اتر پردیش، گجرات اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں اذان اور جمعہ کی تقریر کے لئے جیسا کہ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے۔ بھاجپا لیڈر نے کہا کہ مختلف فرقے جیسے وہابی، دیوبندی اور دیگر پہلے ہی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو بدعت (غیر اسلامی) قرار دے چکے ہیں اور عمرعبداللہ کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ آیا وہ ان فرقوں کو مسلمان مانتے ہیں۔الطاف ٹھاکر نے کہا کہ صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور خبروں میں رہنے کے لیے عمرعبداللہ اس قدر حقائق کو غلط طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذہبی خطبہ دینے سے پہلے، عمرعبداللہ کو یاد کی گلی میں چلنا چاہیے اور یاد کرنا چاہیے کہ کس طرح 4 اپریل 1979 کو اس کے لوگوں نے اسلامی اسکولوں کو جلایا، قرآن پاک کو نذر آتش کیا اور لوگوں کی داڑھیاں منڈوا دیں۔ بی جے پی لیڈر نے عمرعبداللہ کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے بارے میں صحیح علم نہیں رکھتے ہیںاورانہیںمذہبی معاملات میں دخل نہیں دیناچاہیے۔

 

 

پرائمری ہیلتھ سینٹر سونہ مرگ میں طبی عملے کی کمی

مریضوں کو مشکلات،لاکھوں روپے مالیت کی مشینری بے کار

غلام نبی رینہ

کنگن//سونہ مرگ کاپرائمری ہیلتھ سینٹرسہولیات کے فقدان کی وجہ سے لوگوںکی خدمات انجام دینے سے قاصر ہے۔ہیلتھ سینٹر میں لاکھوں روپے کی مالیت کی مشینری تربیتی طبی عملہ نہ ہونے کی وجہ سے زنگ آلودہ ہورہی ہیں ۔ سونہ مرگ میں تجارت سے وابستہ افراد اور مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اگرچہ سونہ مرگ پرائمری ہیلتھ سینٹر ضلع کا آخری  طبی ادارہ ہے اور یہاں مریضوں کا کافی دبا ئورہتا ہے اور اس کو مد نظر رکھ کر سرکار نے ہسپتال میں لاکھوں روپے مالیت کی مشینری  دستیاب رکھی ہیں تاکہ یہاں آنے والے مریضوں کوسہولیات بہم ہو۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ طبی مرکزمیںجدید مشینری کو دسیتاب رکھا گیا ہے لیکن اس کیلئے آج تک تربیت یافتہ عملہ تعینات نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پر آنے والے مریضوں کو ایکسرے یا ٹیسٹ کرنے کے لئے کنگن یا گنڈ جانا پڑتاہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کو بھی وقت پر مریض کاعلاج کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زچگی میں مبتلا ء خواتین کو ہسپتال میں ماہر امراض خواتین نہ ہونے کی وجہ سے کنگن ریفر کیا جاتا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ گذشتہ برس ایک لیڈی ڈاکٹر کو سونہ مرگ طبی مرکزمیںتعینات کیا گیا تھا مگر پہلے ہی روز لیڈی ڈاکٹر نے بتایا کہ اُسے یہاںآنے کیلئے کافی سفر کرنا پڑے گا اور تب سے لیکر آج تک یہاں کسی لیڈی ڈاکٹر کو تعینات نہیں کیا گیا ۔ معلوم ہواہے کہ اگر کسی مریض کو ایکسرے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کو ایکسرے کرنے کے لئے کنگن ریفر کیا جاتا ہے۔ تجارت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سونہ مرگ میں روزانہ سینکڑوں سیاحوں کا آناجانا رہتا ہے لیکن ہسپتال میں ہر قسم کی سہولیات بھی رکھنا ضروری ہے۔انہوںنے نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طبی مرکز میں طبی اورتربیت یافتہ  نیم طبی عملہ کو تعینات کرنے کیلئے ذاتی مداخلت کرے تاکہ سیاحوں اور عام لوگوں کو بہتر طبی سہولیات مہیا ہو۔

 

 

 

 معدنیات کی غیر قانونی کھدائی 

 بڈگام میں2 ٹپر اور ایک جی سی بی ضبط

بڈگام//بڈگام پولیس نے غیر قانونی کھدائی، معدنیات کی نقل و حمل کے لیے 2ٹپر اورایک جے سی بی ضبط کیا۔ پولیس تھانہ خانصاحب کی پولیس پارٹی نے کارروائی کرتے ہوئے معدنیات سے لدے2ٹپر اور ایک جے سی بی کو قبضے میں لے لیا جو معدنیات کی غیر قانونی نکالنے اور نقل و حمل میں ملوث تھے۔ ملزم ڈرائیوروں کی شناخت کے طور بلال احمد گنائی ساکن شولی پورہ بڈگام،شاہد احمد گنائی ساکن شولی پورہ بڈگام اور منیر احمد بٹ ساکنہ پیرس آباد کے بطو ر ہوئی ہے۔تاہم مذکورہ ڈرائیور گاڑیاں چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔تھانہ پولیس خانصاحب نے اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر51/2022درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔جے کے این ایس

 

 

 

خوشحال جموں و کشمیر

1500دیہات کوسرسبزبنانے کی پہل، ’  وَن بیٹ گارڈ، وَن وِلیج  ‘ پروگرام

  لوگوں کی لکڑی ، بالن اور غیر جنگلاتی زمینوں سے گھاس کی ضروریات بھی پوراکرنامقصد 

سری نگر//حکومت جموںوکشمیر 2022-23ء میں ’’ وَن بیٹ گارڈ، وَن وِلیج‘‘ پروگرام کے تحت جنگلات سے باہر کی زمینوں کو سبز کرنے کے لئے 1,500 گائوںکو دردست لے گی تاکہ گائوں کی مشترکہ زمین ، کاہچرائی اور دیگر بنجر زمینوں پر پودے لگانے کے لئے مفت پودے ، سیڈ بالز اور گھاس سلپس گائوں کی پنچایتوں کو فراہم کی جائیں۔’’ وَن بیٹ گارڈ، وَن وِلیج‘‘ تمام شراکت داروں بالخصوص پنچایتوں ، بی ایم سی ، جے ایف ایم ، این جی اوز اور دیگر سماجی اور سرکاری اِداروں اور محکموں کی شمولیت سے سبز کرنے کا کم لاگت والا اِخترعی طریقہ ہے ۔ اِس پروگرام میں مقامی کمیونٹیوں اور ان کے مقامی گورننگ اِداروں کی شمولیت کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کم لاگت والے سبز ہ زار  مداخلتوں کے تحت دیہات کا تصور اور احاطہ کیا جاسکے۔ایک بیٹ گارڈ مطلوبہ اور منصوبہ بند ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ذمہ دار ہے جواِس علاقے کوسرسبز بنانے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک ریونیو گاؤں کا احاطہ کرے گااور متعلقہ گاؤں پنچایتوں،بی ایم سی وغیرہ کے اشتراک اور تعاون سے انجام دیا جائے گاجو اگلے 3 سے 5 برس تک اس کی نگرانی کریں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کی ایک حالیہ جائزہ میٹنگ میں ’’ وَن بیٹ گارڈ۔وَن وِلیج‘‘کے نئے اِقدام کی تعریف کی ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ پہل گرین کور میں اِضافہ کرنے اور جل شکتی ابھیان کو ’’ بارش جمع کرو :کہاں گرتی ہے، جب گرتی ہے‘‘ کی حمایت کرنے میں بہت آگے جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کے ذریعہ شہری سبز جگہوں کی ترقی کے بارے میں کہا کہ شراکت داروں جیسے اربن لوکل باڈیز دیگرلائن دیپارٹمنٹوں ، تعلیمی اِدارے ، این جی اوز اور سول سوسائٹی کی پہل شہری علاقوں میں فضائی اور صوتی آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار اَدا کرے گی۔حکومت اِس پہل کے تحت جموںوکشمیر کے لئے ایک اَچھی طرح سے منصوبہ بند سبز مستقبل پر کام کر رہی ہے جس میں غیر جنگلاتی علاقوں کو سرسبز بنانے کے لئے کم لاگت والے ہریالی کے طریقے ہیں۔درختوں اور گھاس کی دیکھ ریکھ میں مقامی کمیونٹیاںاَپنے فائدے کے لئے کمیونٹی کی زمینوں پر سہولیت فراہم کرتی ہیں۔اِس اِقدام سے لوگوں کی لکڑی ، بالن اور غیر جنگلاتی زمینوں سے گھاس کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔اِس کے علاوہ جنگلاتی علاقے سے باہر گھاس اور چارے کی پیداوار میں اِضافہ کر کے چرنے کی وجہ سے جنگلات پر پڑنے والے دبائو کو کم کیا جاسکتا ہے۔اِس اقدام کا مقصد زرعی جنگلات کے اِستعمال کے اِنتظام کے نظام کو بھی فروغ دینا ہے جس میں درخت یا جھاڑیاں آس پاس یا فصلوں یا چراگاہوں کے درمیان اُگائی جاتی ہیں۔کسی بھی قوم کی طاقت بنیادی طور پر اِس کے قدرتی وسائل میں ہوتی ہے ۔ ہندوستان کا شمار دُنیا کے بارہ بڑے متنوع ممالک میں ہوتا ہے ۔ جموںوکشمیر اَپنی جغرافیائی اور اونچائی کی تبدیلی کی وجہ سے پودوں میں بہت بڑا تنوع رکھتا ہے ۔ یہ ملک میں جڑی بوٹیوں کا سب سے زیادہ تنوع بھی رکھتا ہے۔اِنڈیا سٹیٹ آف فارسٹ رپورٹ( آئی ایس ایف آر)2021ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  فارسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی)کی دو سالہ اشاعت جو وزارت ماحولیات، جنگلات اور کلائمنٹ چینج کے تحت ایک آرگنائزیشن ہے ، جموں و کشمیر ملک میں جنگلاتی علاقہ فی یونٹ کاربن کا سب سے زیادہ ذخیرہ رکھتا ہے۔محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق سال 2019-20ء میں 73.16لاکھ پودے لگائے گئے ، سال2020-21 ء میں 101.98 لاکھ پودے اور 2021-22ء میں 137.20 لاکھ پودے لگائے گئے ۔ جموںوکشمیر میں 42قسم کے جنگلات سے ملک میں سب سے زیادہ متنوع جنگلات ہیں جو جموںوکشمیریوٹی میں جنگلاتی ماحولیاتی نظام کے تنوع کو ظاہر کرتے ہیں اور 144.16مکعب میٹر فی یونٹ رقبہ پر لکڑی کے کھڑے ہونے کے لحاظ سے فہرست میں سرفہرست ہے ۔گذشتہ برس کے دوران جنگلاتی رقبے میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2019ء میں، جموں و کشمیر میں جنگلات کا کل رقبہ 10.46 فیصد تھا جو سال 2020ء میں بڑھ کر 39.66 فیصد ہو گیا ہے۔محکمہ جنگلات نے سال 2021ء میں جموںوکشمیر کے تمام اَضلاع میں پروگرام کے تحت 1000 گائوں کا احاطہ کیا۔ ہر علاقائی فارسٹ ڈویژن نے 0.01 لاکھ پودے لگانے کے لئے 35 ریونیو دیہات کو اپنایا جس میں 600 پودے اور 2000 سیڈ بالز شامل ہیں جن میں ہرگائوں میں گھاس کی 1000اقسام کی سیڈ بالز شامل ہیںجن کی پی آر آئیز، بی ایم سیز اور مقامی لوگوں نے دیکھ ریکھ اور حفاظت کی