مزید خبریں

راجوری حد متارکہ پر 5.8کلو ہیروئن برآمد 

سمت بھارگو

راجوری//سیکورٹی فورسز نے راجوری ضلع کی حدمتارکہ پر منشیات کو ضبط کر کے مزید تحقیقاتی عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے لام میں ایل او سی کراس اسمگل کی گئی ہیروئن کی کھیپ برآمد کر لی۔ایک سرکاری بیان میں ایس ایس پی راجوری محمد اسلم نے کہا کہ جمعہ کو فوج کی لام بٹالین ایس آف سپیڈس ڈویژن نے ان کے علاقے میں کچھ مشکوک نقل و حرکت دیکھی۔ایس ایس پی نے کہاکہ مشکوک نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کر دی جس کے دوران ہیروئن کے پیکٹ ضبط کر لئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ اس معلومات پر مقدمہ ایف آئی آر نمبر 69/2022 u/s 8/21 این ڈی پی ایس ایکٹ پولیس سٹیشن نوشہرہ میں درج کیاگیا ہے۔ایس ایس پی نے مزید کہا کہ معاملے کی مزید تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میں ایل او سی کراس اسمگلنگ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، گزشتہ چند مہینوں میں لائن آف کنٹرول کے ذریعے اسمگل کی جانے والی تقریباً نصف درجن کے قریب وارداتیں انجام دی گئی ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز نے مذکورہ منشیات کو ضبط کرلیا جس کی مالیت کئی سو کروڑ بنتی ہے ۔

 

منجا کوٹ میں بجلی وپانی کاحال بے حال 

عام لوگ قصبہ میں پھیلی گندگی سے بھی پریشان 

پرویز خان

منجا کوٹ //منجا کوٹ تحصیل میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات رمضان میں بھی دستیاب نہیں رکھی جاسکی جس کی وجہ سے صارفین کی ایک وسیع تعداد کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ رمضان جیسے پاک مہینے میں بھی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاسکی ہیں ۔اس سلسلہ میں مرکزی جامع مسجد عید گاہ منجا کوٹ کے اانتظامیہ کمیٹی کے صدر نیز تحریکِ امن واصلاح تحصیل منجا کوٹ کے صدر مولانا گلزار حسین نے جمعہ کو دوران خطاب تروایح و افطار کے وقت بجلی کی انکھ مچولی،پانی کی عدمِ دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ رمضان میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاہم اس کے بعد بھی صورتحال جوں کی توں ہی ہے ۔دوسری جانب لوگوں نے محکمہ دیہی ترقی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ منجا کوٹ قصبہ میں گندگی کو ٹھکا نے لگانے کیلئے کام نہیں کیا جارہاہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو جہاں مشکل کا سامنا ہے وہائیں بیماریاں پھیلنے کاخدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ عید سے قبل مارکیٹ میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں ۔

 

 

بدھل میں نائب تحصیلدار کی کرسی خالی 

لوگوں کی سہولیت کیلئے آفیسر کی تعیناتی کا مطالبہ 

محمد بشارت 

کوٹرنکہ //راجوری ضلع کے دور افتادہ علاقہ بدھل کی عوام نائب تحصیلدار کا عہدہ خالی ہونے وسرکاری بے حسی کی وجہ سے بدستور پریشانی کا شکار ہیں اور علاقے میں خالی آسامی کو پر کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر راجوری سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ بدھل کے لوگ سرپنچ گرام پنچایت کیول محمد فاروق انقلابی کی قیادت میں نیابت آفس بدھل کے سامنے جمع ہوئے اور نائب تحصیلدار کے تبادلے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔اس دوران مقامی سرپنچ نے علاقے کے لوگوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ راجوری ضلع کا نیابت بدھل جموں و کشمیر کا سب سے پسماندہ اور خشکی سے گھرا ہوا علاقہ ہے جس میں بہت محدود وسائل ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔فاروق انقلابی نے کہا کہ نیابت بدھل میں سرکاری دفاتر صرف ناموں کے لئے ہیں کیونکہ زیادہ تر اہلکار ضلع ہیڈکوارٹر سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر راجوری کی طرف سے تقریباً تمام محکموں کے سیکٹرل سربراہوں کو بار بار ہدایات جاری کرنے کے باوجود وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بدھل میں دفاتر زیادہ تر بند رہتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی باشندوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر تک پہنچنے کے لئے 25 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نائب تحصیلدار اور کچھ پٹواریوں کی آسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے مقامی باشندوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ فاروق انقلابی نے مطالبہ کیا کہ نیابت بدھل میں تمام خالی آسامیوں بشمول نائب تحصیلدار کی پوسٹ کو بغیر کسی تاخیر کے پرکیا جائے۔

 

سناتن دھرم سبھا کا اجلاس منعقد 

نوشہرہ کو ضلع کا درجہ دینے کی مانگ  

رمیش کیسر 

نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر پر سناتن دھرم سبھاکے اراکین کا ایک اجلاس سبھا کے صدر جگدیش چندر کی قیادت میں منعقد ہوا جس کے دوران اراکین نے لیفٹیننٹ گورنر سے نوشہرہ سب ڈسٹرکٹ کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جگدیش چندر سوامی نے کہا کہ نوشہرہ کو 1968 میں سب ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا گیا تھا اس کے بعد سے یہاں کے لوگ مسلسل نوشہرہ کو مکمل ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی عوام کا یہ جائز مطالبہ پورا کیا گیا۔ساہنی نے یہ بھی کہا کہ 1967 میں نوشہرہ کو مکمل ضلع کا درجہ دیا گیا تھا اس وقت اعلیٰ آفیسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی تھی لیکن راتوں رات اس وقت کی حکومت کی گہری سازش کے باعث مذکورہ افسر کو نوشہرہ سے تبدیل کر دیا گیا اور اس طرح نوشہرہ کو سب ڈسٹرکٹ کا درجہ دے دیا گیا جبکہ راجوری کو مکمل درجہ دے دیا گیا۔جگدیش چندر سوامی نے یہ کہا کہ نوشہرہ جس کی اکثریتی آبادی سرحد میں رہتی ہے۔ سرحدی علاقوں اور یہاں کے لوگوں کو اپنے ضلع سے متعلق کام کے لئے 150 سے 200 کلو میٹر کا سفر کرکے راجوری جانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ضلع کے لگ بھگ تمام بڑے دفاتر کا قیام راجوری ضلع ہیڈ کوارٹر پر ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو تا جارہا ہے ۔اراکین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ نوشہرہ کو ضلع کا درجہ دے کر عوام کو سہولیات میسر کی جائیں ۔

 

 

 

منجاکوٹ میں فوج کا بیداری پروگرا م 

راجوری//بچوں کو ہندوستانی فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دینے اور انہیں ایلیٹ فورس میں شامل ہونے کا راستہ بتانے کے مقصد کے ساتھ فوج نے راجوری ضلع کے منجاکوٹ علاقہ میںایک پروگرام کا اہتمام کیا ۔  مقامی تعلیمی اداروں کے طلباء نے بڑے جوش و خروش اور جستجو کے ساتھ اس تقریب میںحصہ لیا۔اس تقریب کے دوران فوجی آفیسران نے نوجوانوں کو فوج میں شامل ہونے کے سلسلہ میں بنیادی اہلیت اور ضروری لورزامات کے سلسلہ میں بیدار کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلہ میں جذبہ پیدا کر کے ملک کی خدمت کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ خواتین طالبات کی مسلح افواج میں بڑی تعداد میں اور مختلف سطحوں پر خواتین کی شمولیت سے دیہاتوں میں خواتین کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔انہوں نے بچوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ فوج میں شمولیت کیلئے جہاں محنت کی ضرورت ہے وہائیں نظم و ضبط کو بھی سیکھ لیا جائے ۔

 

 

مینڈھر میں مارکیٹ کا معائینہ کیا گیا 

جاوید اقبال

مینڈھر //عید سے قبل مینڈھر سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر پر انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹ کا معائینہ کیا گیا ۔اعلیٰ حکام کی ہدایت پر نائب تحصیلدار مینڈھر کی قیادت میں آفیسران کی ایک ٹیم نے مارکیٹ کا معائینہ کرتے ہوئے دکانداروں کو ہدایت جاری کیں کہ وہ قاعدہ کے تحت کام کریں جبکہ غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اس دوران تحصیل سپلائی آفیسر مینڈھر ،ایس ایچ او ودیگر آفیسران اور پولیس اہلکاروں کی ٹیم بھی موجود تھی ۔دکانداروںکو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ عید کے دوران مناسبت ریٹ سے ہی ساز و سامان فروخت کریں جبکہ ریٹ لسٹیں سامنے چسپاں رکھی جائیں ۔

 

 

 

حد متارکہ کے نزدیکی جنگلات آگ کی لپیٹ میں 

مقامی لوگ محکمہ جنگلات کی لاپرواہی سے ناراض 

پرویز خان 

منجا کوٹ //منجا کوٹ تحصیل کے سرحدی جنگلا ت میں گزشتہ شام لگی آگ کی وجہ سے ایک وسیع جنگلات کے تباہ ہو نے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مقامی لوگوں نے محکمہ جنگلات کے فیلڈ ملازمین و آفیسران پر لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آگ نمو دار ہونے کیساتھ ہی محکمہ سے رابطہ کر دیا گیا تھا تاکہ اس پر جلدازجلد قابو پا لیا جائے لیکن محکمہ کے ملازمین و آفیسران نے مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے حد متارکہ کی نزدیکی پنچایت راجدھانی اپر کے کھوڑی ناڑ اور چور گلی علاقوں میں وسیع جنگلا ت کیساتھ ساتھ فوجی پوسٹیں اور رہائشی مکانات کے آگ کی زد میں آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ آگ کی وجہ سے آخری اطلاع موصول ہونے تک کئی سبز درختوں کو نقصان پہنچ چکا تھا تاہم دوسری جانب محکمہ کے ایک آفیسر نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کیلئے ٹیم روانہ کردی گئی ہے لیکن مقامی لوگوں نے محکمہ پر لاپرواہ رہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ملازمین اپنی ڈیوٹی کو لے کر سنجیدہ ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ نوعیت کے معاملات پر قابو پانے کیلئے ہمیشہ تاخیر سے قدم اٹھائے جاتے ہیں ۔