مزید خبریں

نیوز ڈیسک
ہسپلوٹ ڈنہ کے مقام پر کچرے کے ڈھیرجمع 

عظمیٰ یاسمین

 تھنہ منڈی // تھنہ منڈی کے ہسپلوٹ ڈنہ کے مقام پر میونسپل کارپوریشن تھنہ منڈی کی جانب سے کچرا ڈالنے سے سخت ترین بدبو پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے عام راہگیروں کو چلنے میں دقتوں کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی کی جانب سے بازار اور گلی کوچوں کا کچرا جمع کر کے اس مقام پر ڈالا جا رہاہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں اتنی سخت بدبو آتی ہے کہ گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ جگہ گندگی اور کوڑا کرکٹ کی آماجگاہ بن گئی ہے جس کی وجہ عوام کو مزید پریشانیاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے شکایت کی ہے کہ اس جگہ سے وہاں موجود بستی میں بیماریوں کے پھیلنے کا امکان ہے جس کے متعلق انتظامیہ کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ڈالی جانے والی گندگی اور کوڑے کی وجہ دور دور تک اس کی بدبو پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں سے پیدل چلنا دشوار ہوگیا ہے. انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد یہ چاہتے ہیں کہ متعلقہ محکمہ کوڑے کرکٹ کیلئے متبادل جگہ کا انتخاب کرے جو سڑک سے دور ہو اور عام راہگیروں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ انھوں نے تحصیل انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ضروری انتظامات کیے جائیں تاکہ عوام کو اس طرح کی مشکلات سے نجات حاصل ہو سکے۔

 

 

ہسپلوٹ ۔ منگوٹہ روڈ پر پلی تعمیر نہ ہوسکی 

عظمیٰ یاسمین

 تھنہ منڈی // تھنہ منڈی۔منگوٹہ روڈ پر ہسپلوٹ ڈنہ کے مقام پر ایک نالے سے مذکورہ سڑک تین مرتبہ گزرتی ہے جہاں پر تین میں سے دو جگہوں پر نالے کے اوپر پلیاں تعمیر کی گئی ہیں جن کے نیچے سے پانی گزرتا ہے جبکہ تیسرے مقام پر جان بوجھ کر پلی نہیں بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے عام راہگیروں اور مسافروں کو بالخصوص برسات کے موسم میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مقام پر سیمنٹ اور سلیب وغیرہ ڈالا گیا ہے جس کے اوپر سے پانی گزرتا ہے اور یہ پانی برسات کے موسم میں بطور خاص مسافروں اور راہگیروں کیلئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ اس سلسلے میں مکینوں نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سڑک پر جان بوجھ کر اس پلی کو تعمیر نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ انھوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری وکاس کنڈل سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے نام ضروی احکامات جاری کریں تاکہ عوام کی اس پریشانی کا ازالہ کیا جا سکے۔

 

 

 

ٹھیکیدار ایسو سی ایش پونچھ سراپااحتجاج

کارڈ کی تجدیدکاری کیلئے ہراساں کرنے کاالزام 

حسین محتشم

پونچھ//ٹھیکیدار ایسو سی ایشن پونچھ کی جانب سے پونچھ میں ٹھیکیدار معشوق احمد کی قیادت میں ایک زبردست احتجا ج کیاگیا۔ اس دوران ٹھیکیداروں نے لیفٹیننٹ گورنر جموں کشمیر کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان کو ٹھیکیداری کارڈ کی تجدیدکاری کے سلسلے میں آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ٹھیکیداروں کا کہنا تھا کہ تجدید کاری کے معاملے میں جو لوازمات ان سے طلب کی جا رہی ہیں ان کو تیار کرنے میں ان کو کئی کئی ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے دوسری طرف ٹینڈرنگ کی جا رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگرٹھیکیداری کارڈوں کی تجدید کاری ہونی ہے تو ٹینڈرنگ کا سلسلہ تب تک بند کر دیا جائے جب تک ٹھیک دار لوازمات پورے کرکے اپنے نئے کارڈ حاصل نہیں کر لیتے ہیں۔ ٹھیکیدار معشوق احمد اور دوسرے ٹھیکے داروں کا کہنا تھا کہ لوازمات میں ان سے کریکٹر سرٹیفکیٹ طلب کیا جا رہا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پچیس پچیس سالوں سے ٹھیکے داری کر رہے ہیں اب ان کے کریکٹر پر شک کیوں کیا جا رہا ہے۔ ٹھیکے داروں کا کہنا تھا کہ وہ ایک ذمہ دار طبقہ ہے اور ہمیشہ ملک و قوم کی عزت اور آبرو اور ترقی کے لئے کام کرتا رہا ہے، اب ان پر شک کر کے ان کو مایوس کیا جا رہا ہے۔ ٹھیکیداروں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاا سے اپیل کی کہ ٹھیکیداروں کو ان کا حق دیا جائے۔ایسوسی ایشن کے صدر نے حکومت سے مانگ کی کہ اگر ٹھیکیداروں کو جلد از جلد انصاف نہ ملا تو ٹھیکیدار اپنے مزدوروں کے ہمراہ سڑکوں پہ اتر کر احتجاج شروع کریں گے۔

 

 

 

خواجہ بشارت محمود نے اے آر ٹی او پونچھ کا عہدہ سنبھالا

حسین محتشم

پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے سپوت کے اے ایس آفیسر خواجہ بشارت محمود نے اے آر ٹی او پونچھ کا عہدہ سنبھالا۔ان کی اپنے آبائی ضلع میں واپسی پر مقامی شہری خوشی اور فخر کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر یاسین شاہ بخاری ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر نے بشارت محمود کی گھر واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ دراز تک کشمیر میں تعینات رہنے کے بعد ان کا اپنے آبائی ضلع میں تبادلہ کیا گیا اس کے لئے وہ انتظامیہ کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ پونچھ کے اے آر ٹی او تعینات کئے گئے ہیں جہاں عرصہ دراز سے لوگوں کی فائیلیں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی وہ مقامی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات اور مسائیل کو سمجھتے ہوئے ان کو حل کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ بشارت محمود کی صحت کے لئے دعاگو ہیں اور ان کی پوسٹنگ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اوران کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

 

 

 

ہاکی کے کھیل کو فروغ دینے کیلئے انتظامیہ متحرک

پونچھ میں اعلیٰ معیار کے ٹرف بچھانے کا عمل تیز 

حسین محتشم

پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ کی تاریخی و قدیمی علمی درسگاہ گورنمنٹ ماڈل ہائرسکینڈری اسکول بوائز کے گراؤنڈ میں کروڑ روپے کی لاگت سے آسٹروٹرف بچھانے کے کام میں تیزی لائی گئی جس جو لیکر نوجوان کھلاڑیوں نے انتظامیہ کی سراہنا کی ہے۔واضح رہے کہ گورنمنٹ ماڈل بوائز ہائرسکنڈری سکول پونچھ کا شمار ضلع کے قدیم ترین سکولوں میں ہوتا ہے جہاں کرکٹ، فٹبال اور ہاکی کھیلنے کی سہولیات موجود ہیں۔اب وہاں حکومت نے کروڑروں روپے کی لاگت سے آسٹروٹرف بچھانے کا کام شروع کر دیا ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد ضلع پونچھ میں اس طرح کا پہلا ہاکی گراونڈ بن جائے گا۔اس تعمیراتی کام کو کروانے والے ایک ذمہ دار شخص نے بتایاکہ جلد ہی یہ ٹرف بچھا دی جائے گی، جس کے بعد پونچھ میں کھلاڑیوں کے لئے ٹرف  میسر آسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی کھیل کا کھویا ہوا مقام واپس لینے کے لئے کھلاڑیوں کی تربیت پرخصوصی توجہ دی جارہی ہیں مقامی سطح پر ٹرف پر کھیلنے سے ہاکی کے بہترین کھلاڑی سامنے آئیں گے۔

 

 

 

 بفلیاز کا وفد ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے ملاقی

حسین محتشم

پونچھ//حلقہ پنچایت سنگلانی بلاک بفلیاز کے شہریوں کا ایک وفد نائب سرپنچ حاجی نتھیا کی قیادت میں ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اندرجیت سے ان کے دفتر چیمبرمیں ملاقی ہوا۔ وفد میں پیچ باغ حسین، وزیر محمد، پنچ یعقوب خان، پنچ محمد رفیق کے علاوہ دیگر شہری بھی موجود تھے۔ضلع ترقیاتی کمشنر سے اس ملاقات کے دوران وفد میں شامل افراد نے پنچایت سنگلانی کے سرپنچ ہر الزام لگایا کہ وہ پنچایت میں عوام اور منتخب ممبران کی رضامندی کے بغیر ترقیاتی کام کروارہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کام وہ اپنے قبول نظر افراد کو دے رہے ہیں اور تمام کاموں میں ہیراپھیری کی جا رہی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے وفد میں شامل تمام افراد کو بغور سننے کے بعد موقع پر ہی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کوتحقیقات کرنے کی ہدایات دی۔

 

 

پونچھ میں’گرام سوراج ابھیان‘ 

100 نکاتی پروگرام کے نفاذ کا جائزہ لیاگیا

حسین محتشم

پونچھ// ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اندر جیت نے ڈی سی آفس کمپلیکس پونچھ کے کانفرنس ہال میں متعلقہ افسران کی میٹنگ میں جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے گرام سوراج ابھیان کے تحت شروع کئے گئے 100 نکاتی پروگرام (انڈیکیٹرز) کے نفاذ کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں ضلع میں گرام سوراج ابھیان کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے دوران، ڈی ڈی سی نے متعلقہ افسران سے ضلع میں پروگرام کے ایک حصے کے طور پر اپنے محکموں کی طرف سے کی جانے والی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی جنہوں نے اس کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ میٹنگ میں ہیلتھ اینڈ ویلنس سنٹر، پی ایم کیئرز، پوشن واٹیکا، ہر پنچایت ایک پنچایت گھر، تمام پنچایتوں کی ویب سائٹ، آدھار، پنچایت سطح کے عہدیداروں کی ماہانہ پیشرفت رپورٹ، این ڈی ایچ ایم، پٹوارخانہ، وی ایل ڈبلیو دفاتر، ون نیشن کے تحت 100 فیصد سیچوریشن، ایک راشن کارڈ، نشا مکت پنچایت، کپوشن مکت پنچایت، ٹی بی مکت پنچایت، جذام مکت پنچایت، پنچایت ہیریٹیج پلان، سمگرا شکشا، اجرت کا روزگار، ہر کام پر نام، سال لگت، پنچایت ٹرانسپرنسی فریم ورک، آنگن واری راشن/ریشن کی اصلاح آف بیٹ منزلیں، اولڈ ایج پنشن اسکیم، سیلف ہیلپ گروپ، نئی فصل، دو سیزن دو فصلیں، سوائل ہیلتھ کارڈ، کاریگر کریڈٹ کارڈ، پی ایم کسان، ای شرم، پردھان منتری متسیا سمپدا یوجناوغیرہ کے سلسلہ میں بتایاگیا۔ڈپٹی کمشنر نے سی ایم او کو ہدایت کی کہ گولڈن ہیلتھ کارڈز کے اجراء کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ اے ڈی فوڈ اینڈ سول سپلائیز کو ہدایت کی گئی کہ وہ “ایک ملک ایک راشن کارڈ” کے تحت ہدف کو جلد از جلد حاصل کریں۔ محکمہ زراعت اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر کے سی سی کارڈ کے مشترکہ اعداد و شمار سے کام لیں۔ ڈپٹی کمشنر نے سی ای او ایجوکیشن سے کہا کہ وہ ان اسکولوں کی فہرست کو شیئر کریں جہاں پانی کا کنکشن محکمہ جل شکتی کے ساتھ دستیاب نہیں ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ایگزیکٹیو انجینئرز سے کہا کہ وہ سرٹیفکیٹ جمع کرائیں کہ ’’ہر کام پر نام، سال لگت‘‘ کے تحت 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ تمام متعلقہ افسر کو ہدایت دی گئی کہ وہ JSBY/JJBY/JDY اور اٹل پنشن یوجنا کے تحت پیش رفت کو بہتر بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اے سی پی سے کہا کہ وہ 21 اپریل کو دوپہر 2:00 بجے تک ان تمام 100 پوائنٹس کا تفصیلی سرٹیفکیٹ پیش کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے ACD اور چیف ایگزیکٹو آفیسر میونسپل کونسل پونچھ سے PMAY (U/G) کے تحت ہدف کے بارے میں فوری طور پر تفصیل جمع کرنے کو کہا۔ ڈپٹی کمشنر نے پنچایت سطح کے سرکاری عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ نئے قائم شدہ پنچایت سیکرٹریٹ میں ہفتہ کے مقررہ دنوں میں بغیر کسی ناکامی کے موجود رہیں۔ میٹنگ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیو لپمنٹ کمشنر عبدالستار، اسسٹنٹ کمشنر ڈیو لپمنٹ عابد حسین شاہ، جنرل منیجر ڈی آئی سی ڈاکٹر ذاکر حسین، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ظہیر احمد کیفی، ڈویڑنل فاریسٹ آفیسر سریش منڈا، ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو وشالدیپ نے شرکت کی۔

 

 

کرنٹ لگنے سے نوجوان لقمہ اجل 

محمد بشارت 

کوٹرنکہ //کوٹرنکہ سب ڈویژن میں بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ سے ایک نوجوان لقمہ اجل بن گیا ۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ کوٹرنکہ کی پنچایت بے نمبل میں اس وقت قیامت برپا ہو گئی جبکہ بجلی کا ٹرانسفارمر شارٹ ہونے کی وجہ سے ایک 28سالہ نوجوان لقمہ اجل بن گیا ۔اس نوجوان کی شناخت طالب حسین ولد منیر حسین کے طورپر ہوئی ہے جو کہ بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ سے بُری طر ح سے جھلس گیا ۔مقامی لوگوں نے کوٹرنکہ اور بدھل میں بجلی کے بوسیدہ نظام پر انتظامیہ بالخصوص محکمہ بجلی کا شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کوٹرنکہ کے دیہا ت میں بجلی کا ترسیلی نظام بوسیدہ لکڑی کے کھمبوں و سبز درختوں کی وجہ سے ممکن بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے صورتحال میں ابتر ہوتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ علاقہ مکینوں نے متعدد مرتبہ بجلی میں آئی خرابی کو دور کرنے کی شکایت کی تاہم انہوں نے اس جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جسکی وجہ سے ایک نوجوان کی جان چلی گئی ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ملازمین پر کارروائی کرنے کیساتھ ساتھ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے ۔

 

 

BGSBUراجوری میں سمپوزیم کا انعقاد 

راجوری//عالمی ثقافتی ورثہ کے دن کی مناسبت سے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں سیاحت کے مرکز نے ’ثقافتی ورثے پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات‘ کے موضوع پر ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا۔بی جی ایس بی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اکبر مسعود نے تقریب کے انعقاد پر مرکز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی عالمی ورثے کے لئے سب سے اہم خطرہ بن گئی ہے۔سمپوزیم میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے پندرہ طلباء نے شرکت کی اور موضوع پر اپنے خیالات پیش کئے۔ایم بی اے ایچ ٹی ایم کے دوسرے سمسٹر کے ارسلان وانی نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ایم اے اسلامک اسٹڈیز کے طالب علم زاہد نے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ کچھ شرکاء نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے والے پوسٹرز بھی پیش کئے۔ڈاکٹر دانش اقبال رینہ ، ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹر برائے مہمان نوازی اور سیاحت نے اپنے کلمات میں ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کو کم کرنے کے لئے تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ عالمی ثقافتی ورثہ پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مؤثر اور پائیدار طریقے سے سنبھالنے کے لئے آگے آئیں۔اس موقع پر اردو کے نامور ادیب ڈاکٹر مشتاق احمد وانی،پرینکا کھجوریا ڈاکٹر شاہنواز اور ڈاکٹر شیراز فیکلٹی ممبران سنٹرودیگران بھی موجود تھے ۔