مزید خبریں

 

۔24اپریل کووزیر اعظم کا پلی پنچایت سانبہ دورہ

پلی پنچایت میں 10 بستروں والا آئی سی یو، جنرل وارڈقائم

سید امجد شاہ

جموں//سانبہ ضلع کی پلی پنچایت میں ایک جنرل وارڈ کے ساتھ دس بستروں پر مشتمل انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا جا رہا ہے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی 24 اپریل کو قومی پنچایتی راج دن کے موقع پر دورہ کرنے والے ہیں۔ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اگرچہ سیکورٹی ایجنسیوں نے وزیر اعظم کے طے شدہ دورے سے پہلے ہی علاقے کو محفوظ کر لیا ہے لیکن محکمہ صحت نے بھی مذکورہ پنچایت میں وسیع انتظامات کیے ہیں۔محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ “ایک دس بستروں والا آئی سی یو اور 10 بستروں والا جنرل وارڈ قائم کیا جائے گا اور یہ کل تک ان پنچایتوں میں مکمل ہو جائے گا جہاں وزیر اعظم ایک پروٹوکول کے مطابق دورہ کرنے والے ہیں”۔انہوںنے کہا کہ ’’خصوصی طور پر بنایا گیا ڈھانچہ اس وقت تک موجود رہے گا جب تک کہ وزیر اعظم اپنا دورہ مکمل نہیں کر لیتے اور پھر اسے ہٹا دیا جائے گا۔ عملے اور آلات کو ڈی آر ڈی او جموں میں منتقل کر دیا جائے گا کیونکہ یہ ابھی کام نہیں کر رہا ہے‘‘۔عہدیدارنے مزید کہا کہ ڈی آر ڈی او جموں کام نہیں کر رہا ہے اور اس کے عملے کے ارکان کو ان کی متعلقہ جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔افرادی قوت اور آلات کو پلی پنچایت میں منتقل کیا جا رہا ہے”۔انکاکہناتھا”ہم نے وزیر اعظم کے طے شدہ دورے کے لئے پنچایت میں خصوصی ڈاکٹروں کو تعینات کیا ہے اور ہسپتال کی فیکلٹی 16 اپریل 2022 سے کام کرے گی‘‘۔

 

کٹھوعہ میں خانہ بدوش کنبہ تیز رفتار بس کی زد میں آگیا

خانہ بدوش خاتون اور اسکا گھوڑالقمہ اجل ، 2 نابالغوں سمیت 4 زخمی

 جموں//کٹھوعہ میں بالائی علاقوں میں موسمی نقل مکانی کے دوران سڑک حادثے میں ایک خانہ بدوش خاتون ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئیں جب ایک تیز رفتار بس نے انہیں ٹکر مار دی۔پولیس کے مطابق، بینا (27) اپنے کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں اور مویشیوں اور گھوڑوں کے ساتھ کٹھوعہ کے بالائی علاقوں کی طرف جارہی تھی کہ لنڈی موڑ میں صبح 5 بجے بسوہلی (کٹھوعہ) کی طرف جارہی تیز رفتار بس نے انہیں کچل دیا۔ پولیس نے کہا کہ اس سڑک حادثے میں بینا، اس کا گھوڑا اور ایک بھیڑ کا بچہ ہلاک ہو گیا اور اس کے خاندان کے چار دیگر افراد/رشتہ دار زخمی ہو گئے جن میں دو نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ تمام متاثرین سانبہ کے چپر موڑ کے رہائشی تھے۔زخمیوں کی شناخت صدام حسین (2 سالہ)، نصرت (6 سالہ)، قریشیان (45) اور محمود (47) کے طور پر کی گئی ہے اور انہیں ہیرا نگر میں ابتدائی طبی امداد کے بعد جی ایم سی جموں ریفر کردیا گیا ہے۔ سڑک حادثہ کے فوراً بعد غمزدہ لواحقین نے متوفی خاتون کی نعش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی۔فوری طور پر سول انتظامیہ کے افسران اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور خانہ بدوش خاندان کے افراد کو سمجھانے کی کوشش کی کہ سڑک حادثے کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔عینی شاہدین نے مظاہرین کے حوالے سے بتایا کہ مظاہرین نے الزام لگایا کہ موسم گرما شروع ہونے کے باوجود انہیں ہجرت کی اجازت نہیں دی گئی اور اس لیے وہ حالات کی وجہ سے ونٹر زونز میں منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔ان کی شکایات سننے کے بعد، عہدیداروں نے یقین دلایا کہ ان کے مطالبے پر غور کیا جائے گا کیونکہ خانہ بدوشوں کی موسمی ہجرت کے لیے موسمی ہجرت کے لیے ایک کمیٹی پہلے ہی قائم کی جا چکی ہے جو گرمیوں کے علاقوں سے بالائی علاقوں میں سرمائی علاقوں میں منتقل ہو چکی ہے۔اس دوران پولیس نے بس کو قبضے میں لے لیا ہے حالانکہ اس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ریڈ کراس فنڈز کے تحت 1 لاکھ روپے کی فوری طور پر منظور شدہ ریلیف اور متاثرہ خاندان کے افراد کو 50000 روپے نقد کے طور پر بھی جاری کیے ہیں۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے سڑک حادثے کے متاثرین کے فنڈ کے تحت مقدمے کو ترجیحی بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔

 

 

اقلیتی طبقہ کی ہراسانی پر یونائٹیڈ پیس الائنس برہم

جموں //یونائٹیڈ پیس الائنس نے کہا ہے کہ فرقہ پرستوں کی جارحیت کے چلتے ملک میں مسلمانوں کے لئے سر زمین تنگ ہو رہی ہے۔ جموں میں جلیاں والا باغ قتلِ عام کی برسی پر منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونائٹد پیس الائینس زعماء نے کہا چند روز قبل رام نومی کے تہوار کے موقع پرآٹھ ریاستوں جن میں مدھیہ پردیش، بنگال، گجرات، دلی، کرناٹک، جھارکھنڈ، بہار اور گوا شامل ہیں میںکئی مساجد اور مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا 2014کے بعد بھارتی مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کے اکثریتی طبقہ کو برین واش کر کے یہ باور کروایا گیا ہے کہ مسلم سماج ان کی بقاء اور سلامتی کے لئے خطرہ اور انہیں بھارت میں امن و سکون سے رہنا کے لئے مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا اس طرح سے پورے ملک میں مسلم دشمنی کا ماحول تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے سول سائٹی پر زور دیا کہ وہ ملک میں ہو رہے مسلم کش فسادات کو نوٹس لے کر انہیں روکنے کے عملی اقدامات کروائیں۔

 

 

سابق ایم ایل سی کی اہلیہ کا انتقال

 ڈاکٹر فاروق وعمر عبداللہ کا اظہارِ رنج

جموں//صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے پارٹی کے راجوری سے تعلق رکھنے والے سابق ایم ایل سی مرحوم بشیر لون کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے اس سانحہ ارتحال پر مرحومہ کے جملہ سوگواران خصوصاً مرحومہ فرزند افطار لون (صدرِ بلاک راجوری) کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعاکی ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر جموںایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، سینئر لیڈران اجھے سدھوترا، خالد نجیب سہروردی، سجاد احمد کچلو، جاوید رانا، اعجاز جان، سجاد شاہین، شیخ بشیر احمد اور بھوشن لعل بھٹ نے بھی تعزیت کااظہار کیاہے۔ 

 

 

ادھم پور میں دو فائر فائٹر ، ڈرائیور زخمی

جموں// ادھم پور ضلع کے چنانی علاقے میں آگ پر قابو پانے کے لیے فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے کم از کم دو فائر فائٹرز اور ڈرائیور آج اس وقت زخمی ہو گئے۔پولیس نے بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی فائر ٹینڈر گاڑی آگ بجھانے والے عملے کو لے کر کڈ کے علاقے کی طرف جا رہی تھی کہ ڈرائیور گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھا اور وہ کھائی میں جا گری۔پولیس نے بتایا کہ اس سڑک حادثہ میں دو فائر فائٹرز اور فائر اینڈ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کے ڈرائیور زخمی ہوئے اور سڑک حادثہ کے فوراً بعد پولیس نے مقامی لوگوں کی مدد سے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔زخمیوں کو نکال کر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کی حالت خطرے سے باہر اور مستحکم بتائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں تھانہ چنانی میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔