مزید خبریں

کشتواڑ میں بھی 2 علاقے بندش والے زون قرار

عاصف بٹ 
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ میں کورونا کے مثبت معاملات مزید بڑھتے جارہے ہیںجسکے بعد ضلع کے اندر مزید علاقوں کوبندش والے زون قرار دیاگیا ہے۔ امسال جنوری میں ضلع کے اندر کورونا کے سبب سے زیادہ مثبت معاملے درج کئے گئے۔جسکے بعد انتظامیہ نے وارڈ نمبر 10 و وارڈ نمبر 4 میں کنٹینمنٹ زون بنادیا۔ وارڈ 10 کے اندر علاقہ شکتی نگر میں شام پرشاد کے مکام سے لیکر ن گپتا کے مکان تک علاقہ کو کنٹینمنٹ زون بنایا گیا ہے جبکہ وارڈ نمبر 4 میں غلام قادر کے مکان سے غلام حسین کے مکان تک علاقہ کو کنٹینمنٹ زون قراردیا گیا ہے ۔نایب تحصیلدار کشتواڑ کو انچارج تعینات کیا گیا اورعلاقہ میں سخت پابندیاں ہو نگیں اورکسی کو بھی آنے وجانے کی اجازت نہ ہوگی جبکہ علاقہ میں صد فیصد ٹیسٹنگ و ٹیکہ کاری کرنے کی ہدائت جاری کی گئی ہے۔
 
 
 

رام بن میں 626 ٹیکے لگائے گئے، 3848 نمونے جمع

کووڈ رہنما خطوط کی خلاف ورزی پر40ہزار روپے کا جرمانہ وصول

 رام بن//ضلع امیونائزیشن آفیسر رام بن ڈاکٹر سریش کے مطابق، محکمہ صحت نے پیر کو ضلع میں 15-17 سال کی عمر کے گروپ کے 298 بچوں سمیت 626 لوگوں کو کووڈ ویکسین کی خوراکیں دیں۔پورے ضلع رام بن میں کووڈ پروٹوکول کو نافذ کرنے کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک پہنے بغیر گھومنے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر جرمانہ عائد کیا۔انفورسمنٹ ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ کار میں معائنہ کے دوران 5000 39,600 جرمانے کی رقم وصول کی۔ انفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کے علاوہ کووڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں اپنے قریبی CVC پر لیں۔چیف میڈیکل آفیسررام بن کے ذریعہ جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 3848 نمونے اکٹھے کیے ہیں جن میں 752آر ٹی پی سی آراور 3096آر اے ٹی نمونے شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ ضلع کے مختلف ویکسی نیشن مراکز میں 626 افراد کو کووِڈ ویکسین پلائی گئی ہے۔
 
 
 
 

 جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن جموں و کشمیر کی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے ایک انقلابی پروجیکٹ 

جموں //اودھمپور ۔ سرینگر ۔ بارہمولہ ریلوے لائن ہندوستانی حکومت کے سب سے قابل ذکر پروجیکٹوں میں سے ایک ہے ۔ یہ پروجیکٹ مکمل ہو جانے کے بعد یو ٹی کیلئے انقلابی ثابت ہو گا کیونکہ یہ یہاں کے اقتصادی منظر نامے کو بدل دے گا ۔ ریلوے لائن نہ صرف وادی کشمیر کو ہمہ موسمی رابطہ فراہم کرے گی بلکہ نقل و حمل کے اخراجات کو بھی کافی حد تک کم کرے گی اور جموں و کشمیر کی نقل و حمل کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھے گی ۔ ریلوے ٹریک کی لاجسٹکس کو بہت سے قدرتی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انتہائی درجہ حرارت اور پہاڑی علاقوں سے لڑتے ہوئے اسے بڑے زلزلے والے زون کے ذریعے تعمیر کیا جانا تھا ۔ اگرچہ جموں سے کٹڑہ اور بانہال سے بارہمولہ تک کے حصے بنائے گئے ہیں اور چل رہے ہیں ، کٹڑہ سے بانہال تک کا ٹریک ابھی مکمل ہونا باقی ہے ۔مزید یہ کہ ریلوے لائن کی کپواڑہ تک توسیع کو بھی منظوری دی گئی ہے ۔ ماضی کی تاریخوں میں واپس آتے ہوئے سابقہ ریاست میں پہلا ریلوے ٹریک 1897 میں اس وقت کی نوآبادیاتی حکومت نے سیالکوٹ ( پاکستان ) سے جموں تک بچھایا تھا ۔ 1947 میں تقسیم ہند کے ساتھ ہی سیالکوٹ کے پاکستان جانے کے بعد سے جموں سیالکوٹ لائن بند ہو گئی ۔ نتیجے کے طور پر جموں کشمیر کی پوری ریاست ہندوستانی ریل نیٹ ورک سے منقطع ہو گئی اور ریاست پنجاب کا پٹھان کوٹ قریب ترین ریلوے ہیڈ بنا رہا ۔ اس کے بعد 1975 میں پٹھان کوٹ اور جموں کے درمیان ایک ریل رابطہ قائم کیا گیا اور ایک مرمت شدہ جموں توی ریلوے اسٹیشن کھولا گیا ۔ یہ اگلے 30 برسوں تک ریلوے لائن کے شمالی سرے پر رہی جب تک کہ جموں تا اودھمپور لائن 2005 میںنہیں کھولی گئی تھی ۔ جموں ۔ اودھمپور کے حصے میں 20 سرنگیں ہیں ، سب سے لمبی سرنگ 2.5 کلو میٹر لمبی ہے جبکہ سب سے اونچے پُل کی لمبائی 77 میٹر ہے ۔ وادی کشمیر کو شمالی ریلوے گرڈ سے جوڑنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت ہند نے 2002 میں جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن کو ایک قومی منصوبہ قرار دیا ۔ اAپریشنل طور پر جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن کی ایک اہم کامیابی 11 کلو میٹر لمبی پیر پنچال ریلوے ٹنل کی تکمیل تھی جسے بانہال ۔ قاضی گنڈ ٹنل بھی کہا جاتاہے ۔ یہ ٹنل انتہائی چیلنجنگ تھی اور اس کی تکمیل کو ایک شاندار کامیابی کے طور پر سراہا گیا کیونکہ یہ ہندوستان کی سب سے طویل ریل ٹنل تھی اس کی اوسط بلندی 1760 میٹر ہے اور جواہر ٹنل سے 440 میٹر نیچے ہے ۔ یہ ٹنل وادی کشمیر کو باقی ملک کے ساتھ تمام موسمی رابطہ فراہم کرتی ہے ۔ ابھی تک کٹڑہ ۔ بانہال سٹریٹ کی تعمیر پوری رفتار کے ساتھ چل رہی ہے یہ سٹریچ  111 کلو میٹر ہے لیکن اس حصے کا تقریباً 98کلو میٹر حصہ پُل اور ٹنل پر مشتمل ہے ۔ ان پلوں میں سلال ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم کے قریب دریائے چناب کی گہری کھائی پر تعمیر ہونے والا پُل بھی ہو گا۔ فولاری محرابوں کا یہ پُل 1315 میٹر لمبا اور زمین سے 359 میٹر کی بلندی پر ہے ۔ یہ انجینئرنگ کا کمال ہے جو ایفل ٹاور کی اونچائی سے 35 میٹر زیادہ ہے ۔ ٹریک کیلئے مستقبل میں بجلی کی فراہمی کیلئے بھی انتظامات کئے جائیںگے ، حالانکہ ریل لائن ابتدائی طور پر ڈیزل انجنوں کا استعمال کرے گی ۔ مسافر ٹرینوں کو ہائی پاور ڈیزل ایک سے زیادہ یونٹ اور گرم ائر کنڈیشنڈ کوچز فراہم کی جائیں گی جن میں چوڑی کھڑکیاں ، سلائیڈنگ دروازے اور ٹیک لگائے ہوئے سیٹیں ہوں گی ۔ مختصراً یہ بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن ایک بار مکمل ہو جانے کے بعد جموں و کشمیر یوٹی کی معیشت ،کنکٹوٹی ، سیکورٹی اور ترقی کو بہت بڑا فائدہ دے گی ۔ 
 
 
 
 
 

مندیب کور نے جموں ضلع میں دیہی ترقی سکیموں کا جائزہ لیا

 جموں// کمشنر دیہی ترقی و پنچایتی راج مندیپ کور نے چیئرمین ، ترقیاتی کونسل جموں بھارت بھوشن کے ساتھ مختلف دیہی ترقی و پنچایتی راج کے تحت جاری سکیموں کا جائزہ لیاتاکہ رواں مالی برس-22 2021ء کے دوران جموں ضلع میں مناسب طریقے سے درآمد کیا جاسکے۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر اِنشل گرگ نے شرکت کی اور مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم ڈاکٹر سیّد سحرش اصغر، ڈائریکٹر دیہی ترقی محکمہ جموں محمد ممتاز علی،ڈی ڈی سی ممبران جموں ، بی ڈی سی چیئرمین جموں ضلع ، جموں ضلع کے بی ڈی اوزاور دیگر متعلقہ اَفسران میٹنگ میں موجود تھے۔دورانِ میٹنگ اِنسانی وسائل کی صورتحال ، یوٹی کیپکس بجٹ ، پی ایم اے وائی ( جی ) ، منریگا ، سوچھ بھارت مشن ( جی) ، آر جی ایس اے ، چودھویں مالی کمیشن، آریو آر بی اے این وغیرہ سے متعلق اَمور پر تبادلہ خیال ہوا۔کمشنر سیکرٹری مندیپ کور نے کہا کہ کچھ سکیموں میں کام کی رفتار سست ہے اور اُنہوں نے تمام متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ مقامی عوامی فائدے کے لئے ترقیاتی کاموں کی رفتار میں سرعت لائیں۔اُنہوں نے کہا کہ مکمل  کاموں کی تفصیلات بھی متعلقہ اَفراد کی معلومات کے لئے پورٹل پر اَپ لوڈ کی جائیں۔اُنہوں نے سکیموں کے بہتر عمل آور ی کے لئے صرف ٹینڈرنگ سسٹم اور تین لاکھ سے کم کاموں کے ٹینڈروں کو الاٹ کرنے پر بھی زور دیا۔پورٹل میں اَفسران کی فہرست شامل کی جائے تاکہ لوگ اَپنے علاقے کے اَفسران کے بارے میں جاسکیں۔اُنہوں نے بلاک وائز فنڈس کی دستیابی کے بارے میں بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ۔ اُنہون نے بی ڈی اوز کو ہدایت دی کہ وہ کاموں کی الاٹمنٹ کے مناسب طریقے پر عمل کریں تاکہ ترقیاتی کاموں کو نقصان نہ پہنچے اور کاموں کی نشاندہی کے لئے تمام بی ڈی سیز ، ڈی ڈی سیز اور پی آر آئیز سے صلاح و مشورہ کریں۔اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ اَپنے متعلقہ علاقوں میں دو ورثے کاموں کی نشاندہی کریں تاکہ اِس علاقے کی ایک منفرد شناخت حاصل ہوسکے۔اُنہوں نے محکمہ کی مختلف سکیموں کے تحت مکمل ہونے والے والے کاموں کی جیوٹیگنگ کرنے کی بھی ہدایت دی۔اُنہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نریگا ایک ایکٹ پر مبنی سکیم ہے جسے زیادہ سنجیدگی سے لیا جانا چاہیئے اور پروگرام سبھا پلان میں پنچایتی نمائندوں کا اہم کردا ر ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت کام کو تیز کیا جائے اور منظور شدہ کاموں کی پہلی قسط کی ادائیگی 10؍ فروری تک یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت، ہر گاؤں میں ایک سوچھتا منصوبہ ہے جسے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 14ویں مالی کمیشن کے تمام کام 31 ؍مارچ سے قبل مکمل کئے جائیں۔کمشنر سیکرٹر ی دیہی ترقی و پنچایتی راج مندیپ کور نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ہر سکیم کا سالانہ ایکشن پلان 15 ؍ فروری سے قبل پیش کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ بی اے ڈی پی سے متعلق کام کی بھی منصوبہ بندی کی جائے ، یہ کام محکمہ منصوبہ بندی کرتا ہے لیکن یہ دیہی علاقوں میں ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے گول گجرال روربن مشن کا بھی جائزہ لیا اور اُسے جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔دورانِ میٹنگ متعلقہ اَفسران نے جانب سے ایک پاور پوائنٹ پرزنٹیشن بھی پیش کی گئی جس میں سکیموں پر تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔ جس میں مالیاتی حصولیابیوں ، طبعی حصولیابیوں ، فنڈس کی دستیابی ، نان کنورجنس کام ، کنورجنسی کام ، زیراِلتوأ ذمہ داری ، ڈی سی سی اور بی ڈی سی دَفتری عمارتوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ ، راشٹریہ گرام سوراج اَبھیان ، منریگا وغیرہ پر تفصیلی بحث و تمحیص ہوئی۔اِس دوران کمشنر سیکرٹری نے ڈی ڈی سیز ، بی ڈی سیز اور پی آر آئی کی شکایات بھی سماعت کیں جنہوں نے ان کے حل کے لئے اَپنے مطالبات پیش کئے ۔ کمشنر سیکرٹر ی نے اُنہیں یقین دِلایا کہ ان کے جائز مطالبات کو جلد اَز جلد پورا کرنے پر غور کیا جائے گا۔اِس موقعہ پر ڈی ڈی سی چیئرپرسن جموں بھارت بھوشن نے کمشنر سیکرٹری مندیپ کور کا شکریہ اَدا کیا اور اُنہون نے کہا کہ ایسی میٹنگیں باقاعدگی سے ہونی چاہئیں ۔اُنہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مل کر کام کرنے کی پور کوشش کریں گے۔
 
 
 
 

 مصنوعی تخم ریزی پروگرام،فروری تک 75فیصد ہدف حاصل کیاجائے

نوین چودھری نے ایس آئی اے کی 33 ویں میٹنگ کی صدارت کی

 جموں//پرنسپل سیکرٹری بھیڑ و پشو پالن اور ماہی پروری محکمے نوین کمار چودھری ، جو جموںوکشمیر سٹیٹ امپلمنٹنگ ایجنسی کے چیئرمین بھی ہیں،نے اَپنے دَفتر میں سٹیٹ امپل منٹنگ ایجنسی ( ایس آئی اے )کی 33ویں میٹنگ کی صدارت کی۔ایڈیشنل سیکرٹری ( سی اینڈ ڈی ڈی ) ، محکمہ اینمل ہسبنڈری اور ڈیری ، ماہی پروری ، مرکزی وزارتِ اینمل ہسبنڈری اور ڈیری بھی بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں شرکت کی۔چیئرمین نے نیشنل اینمل ڈیزیز کنٹرول پروگرام ( این اے ڈی سی پی ) کے تحت مویشیوں لگائی جانے والی ٹیکہ کاری کی تفصیلات طلب کیںاور پنچایت کے حساب سے اعداد و شمار کے ساتھ کراس چیکنگ اور ٹیلنگ کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ اِس سکیم کے فوائد جموںوکشمیر یوٹی کے دُور اَفتادہ علاقوں تک پہنچائے جائیں اور اِس لئے ٹیکہ کاری ترجیجی بنیاد وں پر لگائے جائے۔چیئرمین نے ملک گیر مصنوعی تخم ریزی پروگرام مرحلہ سوم کے حوالے سے مشترکہ کوششوں پر زور دیا اور ہدایت دی کہ اِس برس فروری کے وسط تک 75 فیصد ہدف حاصل کیا جائے ۔اُنہوں نے جموںوکشمیر لایو سٹاک ڈیولپمنٹ بورڈوں کے ڈائریکٹران سے بات کرتے ہوئے جموںوکشمیر لیکوڈ نائٹروجن پلانٹس کے کام کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ پلانٹس کو ان کی زیادہ سے زیادہ استعداد کے مطابق بڑھایا جائے ۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو مختص بجٹ کے مؤثر اخراجات اور زیرِ اِلتوأ واجبات کی ادائیگی کی ہدایت دی۔جموںوکشمیر کے کچھ اَضلاع کی طر فسے زائد دودھ کی پیداوار کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا کہ محکمہ بڑے پیمانے پر دودھ کی پروسسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ اَفزائی اور فروغ دے گا۔چیئرمین اینمل ہسبنڈری کے ڈائریکٹروں کے ساتھ مربوط ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم ( آئی ڈی ڈی ایس) پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے سکیم کا مکمل جائزہ لینے پر زور دیا ۔ اُنہون نے ویلیو ایڈیشن اور دودھ پروسسنگ میں شامل کاروباری اِداروں کو فروغ دینے پر زور دیا۔اُنہوں نے تجویز دی کہ اِس سکیم میں ایسے یونٹوں کو جدید بنانے پر بھی توجہ دی جائے ۔ پرنسپل سیکرٹری نے سکیم کے تحت ڈیری یونٹوں میں ورمی کمپوسٹ کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی زور دیا۔چیئرمین نے ڈیری اور پشوپالن شعبوں کے بارے میں دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے عوام کی وسیع پیمانے پر فلاح و بہبود کے لیے ’مرکزی حکومت کی مختلف سکیموں سے اِستفادہ ‘ پر زور دیا۔ ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری جموں ڈاکٹر ساگر ڈی ڈائی فوڈ ، ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری کشمیر پورنیم متل،ڈائریکٹر فائنانس امتیاز احمد وانی ، ڈائریکٹر پلاننگ سی اِی او لائیو سٹاک ڈیولپمنٹ بورڈ جموں ڈاکٹر مطلوب ٹاک، سی اِی او ایل ڈی بی کشمیر ڈاکٹر انیل گپتا ، دیگر تکنیکی اَفسران ، کشمیر سے ان کے ہم منصبوں نے بذریعہ ورچیول موڈ میٹنگ میں شرکت کی۔
 
 
 

’ کسانوں کے ٹریننگ سینٹر‘کا سنگ بنیاد رَکھا

جموں//پرنسپل سیکرٹری باغبانی ، زرعی پیداوار اور بہبود کساناں نوین کمار چودھری نے مرالیان ، آر ایس پورہ میں ’’ کسانوں کے ٹریننگ سینٹر ‘‘ کے قیام کا سنگ بنیاد رَکھا۔ڈائریکٹر ہارٹی کلچر نے پرنسپل سیکرٹری کو محکمہ کی مختلف سکیموں کے تحت اَب کی پیش رفت سے متعلق جانکاری دی۔ اُنہوں نے کاشت کاروں کو محکمہ کی مرکزی اور یوٹی معاونت والی سکیموں کے تحت دستیاب مراعات کے بارے میں آگاہ کیا۔ڈائریکٹر زراعت نے علاقے کے کسانوں کو محکمہ کی مختلف سکیموں کے تحت ملنے والی مراعات کے بارے میں آگاہ کیا ۔اُنہوں نے اُن پر زور دیا کہ وہ اَپنے کھیتوں میں فصلوں میں تنوع پیدا کریں۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے نوین چودھری نے کہا کہ یہ ٹریننگ سینٹر جموں ڈویژن میں اَپنی نوعیت کا پہلا تربیتی مرکز ہوگا جو کسانوں اور دیگر شراکت داروں کوذیلی پھلوں کی فصلوں کی تجارتی کاشت کے حوالے سے تربیت فراہم کرے گا۔یہ سینٹر 98 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے اور توقع ہے یہ مارچ 2022ء کے آخیر تک مکمل ہوجائے گا۔اُنہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ پولی ہائوسز میں آف سیزن فصلوں کی کاشت کے لئے جائیں جو محکمہ کی جانب سے رعایتی نرخوں پر فراہم کئے جارے ہیںتاکہ انہیں اَپنی پیداوار کی اچھی قیمت مل سکے ۔اُنہوں نے ایف پی اوز کی تشکیل کے لئے بھی کہا تاکہ 3-2برس بعد کا شت کار اَپنی پیداوار کی مناسب قیمت میں اِضافہ کر کے اَثھا منافع حاصل کرسکیں۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ مختلف فصلوں بالخصوص چاول کے حوالے سے جی آئی ٹیگنگ اس سال کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی۔پرنسپل سیکرٹرینے باغبانی محکمہ سکیم کے تحت سوہنجنا بلاک میں پھلوں کے پودوں کی نرسری کے قیام کے لئے کسانوں نہال سنگھ کی تعریف کی۔اُنہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ ای کامرس کے ذریعے اپنی پیداوار فروخت کریں جس سے دلالوں کے استحصال سے چھٹکارا حاصل ہو گا اور بالآخر ان کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے کسانوں کو محکمہ سے سبسڈی پر ٹریکٹر کی خریداری پر ترجیح دی جائے گی۔
 
 
 

مطالبے پورے نہیں کئے گئے تو ایجی ٹیشن شروع کرینگے: سکھ پروگرسیو فرنٹ

جموں//سکھ پروگرسیو فرنٹ (ایس پی ایف) کے سربراہ ایس بلوندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر سکھوں کے مطالبوں کو پورا نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں جموں وکشمیر میں ایک بڑا ایجی ٹیشن شروع کیا جائے گا۔ان کا الزام تھا کہ یونین ٹریٹری میں سکھوں کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے اور ان کے مطالبوں کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے۔موصوف سربراہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’ہمارا ایک وفد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا صاحب سے ملا اور انہیں دس مطالبوں پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا جن میں سے بعض مطالبوں کو انہوں نے پورا کرنے کی یقین دہانی کی‘۔ان کا کہنا تھا ’ہمیں وعدہ کیا گیا کہ اب یہاں اقلیتی کمیشن ایکٹ بھی لاگو کیا جائے گا اور موصوف ایل جی صاحب نے ہم سے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ پنجابی زبان کو جموں و کشمیر میں فروغ دینے کی کوشش کریں گے‘۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ نان مائیگرنٹ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے پہلے کچھ پوسٹس نکالی گئیں لیکن سکھ کمیونٹی سے وابستہ نوجوان ان کے لئے درخواست جمع نہیں کر سکے کیونکہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس کے لئے صرف پنڈت کمیونٹی کے نوجوان ہی فارم جمع کرسکتے تھے۔انہوں نے کہا’ہمیں اس کے بعد یقین دہانی کرائی گئی کہ سکھ نوجوانوں کے لئے بھی نان مائگرنٹ پوسٹس نکالی جائیں گی‘۔ان کا کہنا تھا ’لیکن جب 22 جنوری 2022 کو ایس ایس آر بی کی طرف سے نان مائیگرنٹ بچوں کے لئے 89 اسامیوں کو پورا کرنے کا اشتہار جاری کیا گیا تو اس میں بھی سکھ بچے فارم جمع نہیں کر سکتے ہیں‘۔موصوف سربراہ نے الزام لگایا کہ یہاں سکھ کمیونٹی کو کبھی حقوق نہیں ملے ہیں۔انہوں نے کہا ’اگر ہمارے مطالبوں کو آنے والے دنوں میں پورا نہیں کیا گیا تو ہم جموں وکشمیر میں بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن شروع کریں گے‘۔
 
 
 
 
 
 
 

ڈوڈہ کی پنچائت ناندنہ گجر بستی میں پانی کی قلت | مقامی لوگ جل شکتی سے نالاں، پانی بحال کیا گیا :اے ای 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں جہاں پینے کے صاف پانی کی کمی کے باعث مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں سب ٹھاٹھری کی تحصیل فیگسو واقع پنچائت ناندنہ کی گجر بستی ناگنی میں پچھلے تین ہفتوں سے پانی کی عدم دستیابی کو لے کر محکمہ جل شکتی کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاجی مظاہرہ میں شامل مرد و زن نے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ ہاتھوں میں برتن اٹھائے نعرہ بازی کی اور کہا کہ پچھلے تین ہفتوں سے ناندنہ کے وارڈ نمبر 3 گجر بستی میں پانی متاثر ہوا ہے تاہم محکمہ جل شکتی سے رجوع کرنے کے بعد بھی پانی بحال نہیں کیا گیا۔چوہدری عبدالحمید نامی ایک شخص نے کہا کہ نلوں میں کورا لگنے کی وجہ سے پانی تین ہفتوں سے غائب ہے جس کی وجہ سے کچھ عرصہ تک برف پگلا کر پانی کا استعمال کیا اور اب انہیں کوسوں دور جا کر زمین کے نیچے دبے چشمے سے پانی لانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو چوکیدار یہاں تعینات تھا متعلقہ محکمہ نے اس کا تبادلہ کیا اور اسکی جگہ کسی کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ سکیم کے لئے منظور کردہ پلاسٹک پائپ کو متعلقہ محکمہ نے غائب کیا۔سماجی کارکن و نائب سرپنچ ہلارن چوہدری محمد شریف نے پانی کی عدم دستیابی و محکمہ جل شکتی کی عدم توجہی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدید برفباری کے دوران عورتوں و بچوں کو دشوار راستوں سے گذرتے ہوئے پانی لانا پڑتا ہے اور متعلقہ حکام خاموش ہیں۔انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر پانی کی بحالی و چوکیدار کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے محکمہ جل شکتی کے اسسٹنٹ انجینئر شفقت حسین سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ پانی بحال کیا گیا ہے اور چوکیدار کو بھی واپس بھیجا گیا ہے۔
 
 
 
 

بانہال کے گاؤں میںآتشزدگی، دکان خاکستر

محمد تسکین
بانہال// اتوار اور پیر کی درمیانی رات بانہال کے پہل پورہ پنچایت ناگم میں آگ کی ایک واردات میں ایک دکان کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے تاہم فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز بانہال کے عملے کی بروقت کاروائی سے آگ کو مزید پھیلنے اور تباہی مچانے سے پہلے ہی قابو کیا گیا۔ پولیس اور بانہال والنٹیرز کے رضاکار بھی فائر سروسز کے تعاون کیلئے موقع واردات پر موجود تھے اور انہوں نے آگ پر قابو کرنے کیلئے بچاؤ کاروائیوں میں حصہ لیا۔ آگ کی یہ واردات پیر کی علی الصبح قرب دو بجے پیش آئی اور دکان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔پولیس نے آگ کی اس واردات میں نقصان سے دوچار ہوئے دکاندار کی شناخت مدثر احمد شیخ ساکنہ پہل پورہ ناگم کے طور کی ہے۔ پولیس نے آتشزدگی کی ایک رپورٹ درج کی ہے۔
 
 
 
 

شفا پانی بانہال حادثہ میں دوافراد زخمی

محمد تسکین
بانہال // پیر کی صبح قریب ساڑھے سات بجے جموں سرینگرقومی شاہراہ پر بانہال کے نزدیک شفا پانی کے مقام پر ایک بولیرو لوڈ کیرئر کے حادثے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم ان کی حالت بہتر ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ لوڈ کیریئر نمبر JK20B/2818 وادی کشمیر سے جموں کی طرف آرہاتھاکہ شفاپانی بانہال کے قریب تیز رفتاری کی وجہ سے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر نیچے نالہ بشلڑی کے کنارے جاگرا۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں گاڑی میں سوار دو افراد معمولی زخم آئے اور انہیں ایمرجنسی ہسپتال بانہال منتقل کیا گیا ہے۔پولیس نے زخمیوں کی شناخت ڈرائیور موہن سنگھ عمر 22 سال ولد رام کرشن اور کلدیپ سنگھ عمر 27 سال ساکنان ریاسی ضلع کے طور کی ہے۔ 
 
 
 

گاگرہ روڈ کو محکمہ پی ایم جی ایس وائی بحال کرنے میں ناکام | ابھی روڈ بھی نا مکمل ہے ، سڑک پربرف جمع ہونے کی وجہ سے عوام پریشان

زاہد بشیر
گول//علاقہ گاگرہ کو گول سب ڈویژن کے ساتھ ملانے والے واحد سڑک رابطہ کو بحال کرنے میں پی ایم جی ایس وائی مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اگر چہ اس سڑک پرآمد و رفت بحال کرنے میں پہلے محکمہ نے لیت و لعل سے کام لیا اور سالوں لوگوں کو انتظار کرنا پڑا اور خود لوگوں نے قریباً پانچ کلو میٹر روڈ کو قابل آمد ورفت بنایا تھا لیکن گزشتہ شدید برف باری کے بعد اس سڑک پر محکمہ نے برف ہٹانے میں بھی کنجوسی اختیار کی جس وجہ سے لوگوں کو پھر سے پیدل چلنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اگر چہ لوگوں نے کلی مستا سے گاگرہ تک سڑک پر برف ہٹانے کے لئے انتظامیہ اور محکمہ سے بھی اپیل کی تھی لیکن کسی نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ اس روڈ پر چند ایک کلو میٹر پر برف جمع ہوئی ہے اور باقی آگے سے روڈ مکمل طور پر صاف ہے لیکن عوام کو اس مصیبت سے کون نکالے گا اس کے لئے عوام بھی سخت پریشان ہے ۔اس روڈ کو مکمل ہونے میں ابھی مزید اراضی کی کٹائی کرانی مطلوب ہے لیکن محکمہ پی ایم جی ایس وائی اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ۔ مقامی لوگوں نے گول اور ضلع رام بن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم جہاں تک پچھلے دنوں گاڑی جاتی تھی وہاں تک کئی ایک دو جگہوں پر سڑک پر سے برف ہٹائی جائے تا کہ لوگوں کو کسی حد تک راحت محسوس ہو اور وہاں سے آگے بھی جلد اراضی کی کٹائی کر کے روڈ کو مکمل کیاجائے کیونکہ جہاں آخری پوائنٹ ہے وہاں پیدل چلنے کے لئے بھی راستہ نہیں ہے چھ انچ راستے پر لوگ اپنی جانوں کو کھیل کر یہ آدھ ایک کلو میٹر سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔
 

شمالی کمان کاجی او سی لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی کوالوداع

ادھم پور//لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے 1فروری 2020 کو ادھم پور میں جی او سی شمالی کمان کی تقرری سنبھالی اور انہوں نے 31 جنوری 2022 کو کمان چھوڑ دی۔لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی کو 12 جون 1982 کو 13جے اے کے رائفلزمیں کمیشن دیا گیا اور بعد میں اسی یونٹ کی کمانڈ کی۔ جنرل آفیسر نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، کھڑکواسلا کے سابق طالب علم اور ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج، ویلنگٹن سے پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے نئی دہلی میں نیشنل ڈیفنس کالج کے باوقار کورس میں بھی شرکت کی۔جنرل آفیسر کو تمام تھیٹروں کا احاطہ کرتے ہوئے پورے موزیک پر پھیلا ہوا کمانڈ کا تجربہ ہے۔ انہوں نے آپریشن وجے اور پراکرم میں 13جے اے کے رائفلزکی کمانڈ کی۔ جنرل آفیسر نے کرگل جنگ کے دوران اپنی قیادت سے قوم کی توجہ حاصل کی اور اپنی یونٹ کو بے مثال کامیابی سے ہمکنار کیا۔ آپریشن وجے میں ان کی کمان میں یونٹ کو کل 37 بہادری کے اعزازات سے نوازا گیا جن میں دو پرم ویر چکر، آٹھ ویر چکر اور چودہ سینا میڈل شامل ہیں۔ یونٹ کو چیف آف آرمی سٹاف یونٹ حوالہ اور "بہادری کا بہادر" ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ آپریشنز میں 13جے اے کے رائفلزکی کمانڈ کے دوران جنرل افسر کو خود ویر چکر سے نوازا گیا۔ جنرل آفیسر نے تانگتسے میں انفنٹری بریگیڈ، کارو میں انفنٹری ڈویژن اور لیہہ میں کور کی کمانڈ کی ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل انفنٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں اور انفنٹری کی جدید کاری کی مہم کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آرمی کمانڈر کے طور پر شمالی کمان کے دور اقتدار سنبھالنے سے پہلے وہ شمالی کمان کے چیف آف اسٹاف تھے۔ جنرل آفیسر نے انفنٹری اسکول، مہو میں انسٹرکٹر کے طور پر کام کیا ہے اور مختلف عملے کی نمائش، بشمول ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں عملے کی تقرری اور بیجنگ (چین) میں دفاعی اتاشی کے طور پر۔ وہ اقوام متحدہ، انگولا میں ملٹری آبزرور کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔قومی سطح پر ملٹری آپریشنز کی منصوبہ بندی اور انتظام، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ہندوستانی فوج کی میکرو سطح کی تربیت اور جموں و کشمیر میں روایتی اور ذیلی روایتی تنازعات کے انتظام کے میدان میں چار دہائیوں تک فوجی قیادت کے ساتھ ایک تجربہ کار پیشہ ور۔ اور لداخ ہائی اونچائی کے ساتھ ساتھ انتہائی اونچائی والے خطوں کے حالات۔ لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی فوجی افسروں کی آنے والی نسلوں کو ان کی بہترین خصوصیات کی تقلید، ہر حال میں صالح راستے پر چلنے کے پختہ عزم، ایک جنرل اور سیاستدان کے طور پر انصاف کا احساس اور حکمت عملی کی سوچ کی ترغیب دیتے رہیں گے۔ جنرل آفیسر کو ناردرن کمانڈ نے ایک سادہ الوداعی تقریب کے ذریعے جذباتی رخصت کیا۔ تقریب کے ایک حصے کے طور پر انہوں نے 30 جنوری 2022 کو شمالی کمان کے ان تمام فوجیوں کی یاد میں دھروا وار میموریل پر پھولوں کی چادر چڑھائی جنہوں نے مختلف آپریشنز میں اپنی جانیں قربان کیں۔ لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی آنے والے وقتوں میں ہندوستانی فوج کے افسران کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔
 
 

بھاجپا کی پالیسیوں سے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کا سب سے زیادہ استحصال ہوا:میر

 جموں// جموں وکشمیر پردیش کانگریس صدرجی اے میر نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کا سب سے زیادہ استحصال ہوا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ کانگریس کی تمام شمولیتی پالیسیوں کو مضبوط کریں۔جے کے پلازہ ہال جموں میں جموں صوبے کے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے منتخب نمائندوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جی اے میر نے انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آگے آنے کی تلقین کی، کیونکہ کانگریس ایک قومی پلیٹ فارم ہے، جو مظلوموں کے لیے دستیاب ہے اور کمزور طبقات کے لیے کھلا ہے۔کنونشن کا اہتمام ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی نے کیا تھا۔میر نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ان کمزور طبقات کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا ہے جس میں سیاسی، اقتصادی، پیشہ ورانہ کورسز، ملازمتیں اور ترقیاتی پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی سے لے کر آج تک خدمات، نوکریوں، سیاسی نمائندگیوں بشمول پی آر آئی میں ان کے حقوق کے تحفظات کو کانگریس نے یقینی بنایا ہے تاکہ انہیں ان کا حصہ دیا جائے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ اپنے حقوق، مفادات اور آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے کانگریس کو مضبوط کریں۔ ورکنگ صدررمن بھلا نے اپنے خطاب میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کے نمائندوں سے کہا کہ وہ بوتھ کی سطح سے ہی نچلی سطح پر کانگریس کو مضبوط کریں۔ کانگریس ملک کی واحد سیاسی قوت ہے جو حقیقی معنوں میں سیکولر ہے اور ہر طبقے خصوصاً کمزور طبقات کے لیے جامع پالیسیاں رکھتی ہے۔انہوں نے ان سے کہا کہ وہ سیاسی میدان میں اپنا حصہ لینے کے لیے آگے آئیں اور ہر پلیٹ فارم پر اپنے عوام کی آواز کی نمائندگی کریں۔ کانگریس نے ہمیشہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا ہے لیکن دوسری پارٹیوں نے صرف اپنے سیاسی مفادات کے لیے ووٹ بینک کی سیاست کے لیے ان کا استحصال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اکیلی کانگریس ہے جو ہمیشہ پرعزم رہی ہے اور ان کے لیے کئی آئینی اور قانونی تحفظات لائے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں کانگریس اتحاد کے دوران تحفظات کے لیے قانون کے نفاذ کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ان سے اپنے تحفظات کے لیے کانگریس کے حق میں سیاسی نظام میں تبدیلی لانے کو کہا۔
 
 

بی ڈی سی کونسلر انتظامیہ کے مشکور

 بانہال// تحصیل رامسو کے نیل علاقے کے طبی مرکز کو محکمہ صحت کی طرف سے نئی ایمبولینس دیئے جانے پر کانگریس لیڈر اور بلاک ترقیاتی کونسلر نیل رامسو بشیر احمد نائیک نے ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام اور چیف میڈیکل افسر رام بن ڈاکٹر محمد فرید بٹ کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانہال اور رامسو تحصیل ہیڈکوارٹروں سے پندرہ سے بیس کلومیٹر دور نیل وادی کی ابادی کے مریضوں اور ایمرجنسی نوعیت کے کیسوں میں یہ ایمبولینس گاڑی  انسانی جانوں کو بچانے میں اہمیت کا حامل ہے۔ 
 

 کھری میں کریٹیکل کیئر ایمبولینس دستیاب رکھی جائے:شاہین

بانہال//نیشنل کانفرنس کے رہنما اور ضلع صدر رام بن سجاد احمد شاہین نے کھری تحصیل میں مریضوں کو دیہی صحت کی دیکھ بھال سے مرکزی اسپتالوں تک پہنچانے کے لیے ایک مکمل کریٹیکل کیئر ایمبولینس کا مطالبہ کیا۔شاہین نے کہا کہ شدید بیمار مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو دیہی ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد مرکزی ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے لیکن مکمل کریٹیکل کیئر ایمبولینس اور تربیت یافتہ طبی عملہ/تکنیکی معاونت نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی مرکزی ہسپتالوں میں منتقلی کے دوران قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔شاہین نے کہا کہ کھری اور اس کے مضافاتی علاقے انتہائی پہاڑی علاقے کے ساتھ دور دراز ہونے کی وجہ سے صحت کی بنیادی سہولتوں کے بغیر مناسب سڑکیں ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافے نے علاقے کے مکینوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جب کہ ہنگامی صورت حال میں انتہائی نازک مریض انہیں یا تو خصوصی طبی علاج کے لیے جموں یا سری نگر بھیجا جاتا ہے لہٰذا قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے لائف سپورٹ کی سہولت کے ساتھ طبی نقل و حمل کا ایسا طریقہ فراہم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ شاہین نے ایل جی کی قیادت میں انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے تحصیل کھاری کے لیے ایک کریٹیکل کیئر ایمبولینس کی منظوری دے کیونکہ اس سے قبل مقامی ڈی ڈی سیز، بی ڈی سیز اور علاقے کے منتخب سرپنچوں کی طرف سے بھی یہ مطالبہ اٹھایا جا چکا ہے تاکہ اس دوران قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
 
 

۔74ویں یوم شہدا پر محکمہ اطلاعات کی تصویری نمائش 

جموں//محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ نے میڈیا کمپلیکس میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کی برسی کی یاد میں منائے جانے والے 74ویں یوم شہداء کے موقع پر ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا۔نمائش کا افتتاح ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیڈ کوارٹر) ڈاکٹر ریحانہ اخترنے کیا۔مہاتما گاندھی کی زندگی کے مختلف رنگوں اور کامیابیوں کو ظاہر کرنے والی 50 سے زیادہ تصاویر جن میں ایک وکیل کے طور پر ان کی زندگی، ہندوستانی آزادی کی جدوجہد اور عوامی تحریکوں میں ان کی شرکت اور سابرمتی آشرم میں سرگرمیاں شامل ہیں۔نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر (HQR) نے کہا کہ ایسی نمائشوں اور پروگراموں کا انعقاد ہم وطنوں میں فخر کا احساس پیدا کرے گا اور ہندوستان کی شاندار تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی زندگی اور تعلیمات آنے والی صدیوں تک دنیا کو تحریک اور رہنمائی فراہم کرتی رہیں گی۔ڈاکٹر ریحانہ نے کہا کہ گاندھی جی کے ذریعہ امن اور عدم تشدد کے اصول ہر وقت کے لئے متعلقہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا ہمارے بابائے قوم کے سچائی، اتحاد اور ہم آہنگی کے فلسفے کی قدر کرتی ہے اور اس کی پیروی کرتی ہے۔انہوں نے باپو جی کی زندگی کے مختلف رنگوں کی عکاسی کرنے والی تصاویر کے ایک خوبصورت مجموعہ کی نمائش کے لیے محکمہ کے نمائشی ونگ کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن جموں گل حسین کریپک، کلچرل آفیسر پارول کھجوریہ، فیلڈ پبلسٹی آفیسر جموں مکیش کمار شرما اور محکمہ کے تمام افسران موجود تھے۔   
 
 

سول ڈیفنس جموں نے ایک روزہ بیداری پروگرام کا انعقاد کیا

جموں// سول ڈیفنس جموں کی جانب سے پریڈ چوک، سبزی منڈی، ہنومان مندر پرانی منڈی، راج تلک روڈ، سینٹر بیسک سکول اور سٹی چوک کنک منڈی جموں میں ایک روزہ بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ آگاہی پروگرام میں مقامی تاجروں، شہریوں، پیدل چلنے والوں اور سبزی فروشوں میں فیس ماسک اور سینیٹائزر تقسیم کیے گئے۔ پروگرام کے دوران ایس او پیز کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے حوالے سے جموں و کشمیر کی مناسب طریقے سے پیروی کی گئی۔ بیداری پروگرام کے دوران انیتا پوار نے لوگوں سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور فیس ماسک پہننے کی اپیل کی۔ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ کووڈ19 کو مزید پھیلانے کے لیے حکومت کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل کریں۔
 
 

فوج نے "فٹ انڈیا مہم کے تحت یوگا ورکشاپ" کا اہتمام کیا

جموں// فٹنس کو ہمارے روزمرہ کے طرز زندگی کا لازمی حصہ بنانے کے مقصد سے 29 اگست 2019 کو فٹ انڈیا مومنٹ کا آغاز کیا گیا۔فٹ انڈیا مہم ایک ملک گیر لمحہ ہے جو لوگوں کو ان کی روزمرہ کی زندگی میں جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کو شامل کرکے صحت مند اور تندرست رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ فوج نے کریجو ڈاٹ فن کے تعاون سے حلیمیدان، اکھرال اور راج گڑھ میں آن لائن یوگا ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس کا مقصد فٹنس اور مختلف جسمانی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی پھیلانا تھا جو فوکسڈ مہمات کے ذریعے فٹنس کو فروغ دیتے ہیں۔ مہم کے دوران، جسم، دماغ اور روح کے پرامن انضمام کے لیے سوریانمسکر، مراقبہ اور سانس لینے کی مشقوں سمیت مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس سے طالب علم کو ان کی حراستی اور یادداشت کی طاقت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ 
 
 

جموں یونیورسٹی میں مختصر تقریب 

بھلیسہ کی تاریخ، ثقافت و تہذیب 'نامی کتاب کی رسم رونمائی کی گئی 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //'بھلیسہ کی تاریخ، ثقافت و تہذیب' کے عنوان سے لکھی گئی کتاب کی رسم رونمائی پروفیسر منوج کمار دھر وائس چانسلر جموں یونیورسٹی نے دیگر کئی سرکردہ شخصیات کی موجودگی میں کیا۔صدر بھلیسہ ثقافتی مرکز و قلمکار صداقت علی ملک کی طرف سے شائع کتاب میں جہاں بھلیسہ کی ادبی، تعلیمی، سیاسی و سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے وہیں ثقافت، تہذیب، معاشی و اقتصادی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کتاب میں اہم سیاحتی مقامات کے ساتھ خصوصی مذہبی تہواروں، علاقہ کی تعلیم و تربیت میں مدارس کا کردار کو بھی بیان کیا گیا ہے۔خطہ میں بولی جارہی ذیلی زبانوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔وائس چانسلر نے صداقت ملک کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا نوجوان قلمکار نے اپنے آبائی علاقہ کی تہذیب، ثقافت و تاریخ کو منظر عام پر لانے میں ایک مثبت پہل کی ہے۔تقریب میں نامور ادیب و قلمکار اسیر کشتواڑی، معروف صحافی سہیل کاظمی، ڈاکٹر عمران فاروق پی آر او وی سی، مشہور شاعرہ فوزیہ مغل، ڈاکٹر راہول کیت و ڈاکٹر عاشق حسین نے بھی شرکت کی اور کتاب کے مصنف کو مبارکباد پیش کی۔
 

ڈی ڈی سی چیئرپرسن کشتواڑ ڈویژنل کمشنرسے ملاقی  | کہا ہماری باتوں کو نہ سنا گیاتواحتجاج جاری رہے گا 

عاصف بٹ
 کشتواڑ//گزشتہ بارہ روز سے احتجاج کررہی ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسن پوجا ٹھاکر،ڈی ڈی سی ممبران ،سرپنچوں نے کشتواڑکے دورے پرآئے ڈویژنل کمشنر جموں راگھو لنگر ، اے ڈی جی پی جموں مکیش سنگھ و ضلع ترقیاتی کمشنر اشوک شرما کے ساتھ چناب بھون میں ملاقات کی۔میٹنگ ختم ہونے کے بعد چیئرپرسن روتے ہوئے باہر آئی اور انھوں نے کہا کہ جو مطالبات ان کی جانب سے پیش کئے گئے تھے ،اُن پر کوئی بات نہیں ہوئی اورانھیں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔انھوں نے بتایا کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی اور سبھی نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ انکا ساتھ دیں۔میٹنگ سے باہر نکلنے کے بعد ڈی ڈی سی پلماڑ نے بتایا کہ ڈھائی گھنٹے کی میٹنگ میں محض چند باتوں پر بات ہوئی  جبکہ انکی کسی بھی بات پر یقین دہانی نہ کی گئی۔
 

مقامی لوگوں کو نوکریوں سے انکار پراظہار تشویش

 کشتواڑ/ /سماجی کارکن اجیت بھگت نے پکل ڈول مسئلے کو حل کرنے اور اس کے نفاذ میں انتظامی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا۔ بھگت نے کہا کہ عمل درآمد کرنے والی ایجنسی کو اس منصوبے کی تعمیر میں مقامی افرادی قوت کو شامل کرنے کی ضرورت تھی لیکن وہ انتظامیہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر بہت کم توجہ دے رہی ہے۔ بھگت نے کہا کہ کم از کم انتظامیہ کو یہ معاملہ ایگزیکٹیو ایجنسی کے ساتھ اٹھانا چاہیے، وہ احتجاج کا نوٹس لینے کی زحمت نہیں کر رہے ہیں۔ بھگت نے کہا کہ ڈی ڈی سی کی چیئرپرسن نوجوانوں اور بے روزگاری سے متعلق مسائل کو اٹھا رہی جس کے بارے میں انتظامیہ کو بھی اتنا ہی فکر مند ہونا چاہیے تھا ۔بھگت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے لوگ ان کے ملازمتوں، زمین اور کاروبار کے حقوق کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کریں گے۔ اجیت بھگت نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پکل ڈول پروجیکٹ  سے جڑے مسائل پر بات چیت کریں اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔