مزید خبریں

ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی کااجلاس 

ساتویں تنخواہ کمیشن کاریکنرجاری کرنے اورایس آراو525واپس لینے کامطالبہ 

جموں//ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت سے پبلک سیکٹراورریاستی سیکٹرملازمین کے حق میں ساتویں تنخواہ کمیشن کاریکنر(Recnor)جاری کرنے اورپبلک سیکٹروں، لوکل باڈیزاورمیونسپل کارپوریشن کے کیجول ملازمین اورکنٹی جنٹ ملازمین کوایس آراو520 کے تحت لانے کاپرزورمطالبہ کیاہے۔یہاں ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی کااجلاس ایجک صدرعبدالقیوم وانی کی صدارت میں منعقدہواجس میں صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے تمام عہدیداروں، محکمانہ تنظیموں کے سربراہوں کے علاوہ مرکزی قائدین کی بڑی تعدادنے شرکت کی ۔ اجلاس میں اپریل سے ساتویں تنخواہ کمیشن کے اطلاق ، پبلک سیکٹرملازمین کے مسائل، ایس آراو520 کاپبلک سیکٹر،میونسپل کارپوریشن ،لوکل باڈیز ،کیجول لیبرز اورمحکمہ تعلیم میں کام کررہے کنٹی جنٹ پیڈملازمین پراطلاق ،میڈیکل الانس میں اضافہ ،عارضی ملازمین کی منتقلی میں تیزی لانے کامعاملہ، میڈیکل انشورنس سکیم کافوری اطلاق، ایس آراو220 اور ایس آراو 525 کافوری خاتمہ جیسے معاملات پرتفصیلی بحث مباحثہ ہوا۔اجلاس میں تمام مقررین نے عارضی ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے سرکاری اعلان اورساتویں تنخواہ کمیشن کااپریل سے لاگوکرنے کے سرکاری اعلان کاخیرمقدم کیالیکن ساتھ ہی ملازمین کے مسائل کے حوالے سے چندخدشات کوفوری طور پردورکرنے پربھی زوردیاگیا تاکہ مخاصمت کاراستہ اپنانے پرملازمین کومجبورنہ کیاجائے ۔اجلاس میں پبلک سیکٹر ملازمین میونسپل کارپوریشن اورلوکل باڈیزکے ملازمین پرساتویں پے کمیشن کے اطلاق کازوردارمطالبہ کیا اورکسی بھی قسم کے دوہرے معیارکو ہرسطح پرمستردکرنے کافیصلہ لیااورساتھ ہی عارضی ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے ایس آراو520 میں پبلک سیکٹراداروں سے وابستہ عارضی ،لوکل باڈیز اورمیونسپل کارپوریشن کے عارضی ملازمین اورکنٹی جنٹ پیڈملازمین کوفوری طور شامل کرنے کامطالبہ کیاگیااوران غریب ملازمین کوایس آراو 520 میں شامل نہ کرنے کوسراسرناانصافی قراردیاگیاجس کوکسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائے گااور ساتھ ہی سرکارکوحسبِ روایت تمام پے اناملیز کواپریل سے پہلے دورکرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے پرزوردیاگیا۔اجلاس میں میڈیکل الائونس میں اضافے کے معاملے کے ساتھ میڈیکل انشورنس کوفوری طورپرریاستی ملازمین کے حق میں لاگوکرنے پرزوردیاگیا۔اجلاس میں سوشل میڈیاپرپابندی (ایس آراو525) اورنئی بھرتی شدہ ملازمین پرایس آراو202کوفوری طورختم کرنے کامطالبہ کیا۔اجلاس میں این پی ایس سکیم کے تحت ملازمین کونئے سرے سے جی پی فنڈس کھاتے کھولنے پرمجبورکرنے کی سخت مذمت کی گئی اورجی پی فنڈشرح سود میں کمی کے فیصلے پرسرکارکی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں انچارج آفیسرس کوفوری طورریگولرکرنے کابھی مطالبہ کیاگیا۔اجلاس کے اختتام پرایک قرارداد پاس کی گئی جس میں فروری کے آخری ہفتے میں جموں میں ایجک کاریاست گیرکنونشن بلانے کافیصلہ لیاگیا جس میں ریاست کے تینوں خطوں سے ضلعی صوبائی اورمرکزی زعمائوں کے ساتھ ساتھ ڈیلی گیٹ حضرات کی شرکت کویقینی بنایاجائے گااوراسی ریاست گیرکنونشن میں ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی ملازم مسائل کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی مرتب کرے گی اورتنظیم کوریاستی سطح پرمزیدوسعت دے گی ۔اجلاس مین رہنماایجک عبدالقیوم وانی نے ریاستی ملازمین کومتحدہوکرملازمین کے معاملات حل کرنے کے حوالے سے ہرصورت میں تیاررہنے کی پرزوراپیل کی۔
 
 
 

 خواتین کیخلاف جرائم پرحکومت کی عدم توجہی پراظہارتشویش 

ڈوگرہ صدرسبھاکی جانب سے علامتی نشان کااجراء 

جموں//سابق وزیراورڈوگرہ صدرسبھاکے صدر گل چین سنگھ چاڑک نے حکومت پرخواب غفلت سے بیدارہونے اورنوشتہ دیوارپڑھنے کیلئے زوردیاہے۔یہاں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مبارک منڈی ہیری ٹیج کمپلیکس، آرکائیوزکے قدیم ریکارڈکوغیرمحفوظ عمارت میں منتقل کرنے ،سیکریٹریٹ کے سامنے سردیوں کے دنوں میں سڑک کوبندکرنے سے زنانہ پارک جانے والی خواتین کی پریشانیوں کے تئیں متعلقہ حکام کے رویے پرتشویش کااظہارکیا۔انہوں نے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے تئیں حکومت کی عدم توجہی کوبھی برہمی کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ کٹھوعہ میں ایک نابالغ بچی کی عصمت ریزی کرکے قتل کرنے والے درندوں کوگرفتارکرنے کی بھی مانگ کی۔اس دوران ڈوگرہ صدرسبھانے اپنالوگو(علامتی نشان) بھی جاری کیا۔انہوں نے کہاکہ ڈوگرہ صدرسبھاایک سیکولر تنظیم ہے جوریاست کی تعمیروترقی کی خواہاں ہے۔اس موقعہ پر ’’دھیاں ڈوگریں دیاں‘‘عنوان کے تحت ڈوگرہ خطے کی مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے والی خواتین کی فہرست کابھی اجراء کیاگیااوران کی عزت افزائی کی گئی جن میں وجے کوتوال، میجرجنرل سنیتاکپور، وی ایس ایم، شیتل نندا، سیما انل سہگل، شیتل راجپوت،پروفیسرپوش چاڑک، سیماسہکار، ببیتارکوال، انجلی شرما، ریتاجتندر، ویناراجپوت، ڈاکٹرسونندا رینہ، سویتابخشی،آشاکیسروغیرہ شامل تھیں۔
 
 

گریجویٹ سطح پرچوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم کااطلاق

جموں یونیورسٹی میں کالج پرنسپلوں کیلئے ورکشاپ کااہتمام

جموں//جموں یونیورسٹی کے اگزیمی نیشن ونگ کی جانب سے ’’انشیٹیو اِن دی نیویلی انٹروڈیوسڈ چوائس بیسڈکریڈٹ سسٹم ایٹ دا گریجویٹ لیول ‘‘کے عنوان سے یک روزہ سیمینارکم ورکشاپ کاانعقاد کیاجس کامقصد کالج پرنسپلوں کوچوائس بیسڈکریڈٹ سسٹم سے متعلق جانکاری دیناتھا۔ورکشاپ میں جموں یونیورسٹی سے منسلک مختلف کالجوں کے پرنسپلوں نے شرکت کی ۔اس دوران چوائس بیسڈکریڈٹ سسٹم سے متعلق امتحانی امورات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔پہلے سیشن کی صدارت ڈین اکیڈمک افیئرس پروفیسرکیشوشرمانے کی اوراس دوران پینل میں پروفیسررجنی کانت، پروفیسرجے پی ایس جورول اورپروفیسرراہل گپتااورسنجیومہاجن کنٹرولرآف ایگزیمی نیشن شامل تھے۔بعدازاں انٹریکشن سیشن کی صدارت ڈین ریسرچ اسٹڈیز پروفیسرجگرمحمدنے کی۔
 

پربودھ جموال کی والدہ کے انتقال پر

وزیر اعلیٰ ،نائب وزیراعلیٰ ،ذوالفقاراورمحکمہ اطلاعات کااظہار تعزیت 

جموں /وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر اِن چیف پربودھ جموال کی والدہ کے انتقال پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے جموال اور انورادھا بھسین جموال کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دعاکی۔علاوہ ازیںنائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر اِن چیف پربودھ جموال کی والدہ کے انتقال پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔نائب وزیر اعلیٰ نے جموال کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دعا کی ۔علاوہ ازیںمحکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ نے کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر اِن چیف پربودھ جموال کی والدہ کے انتقال پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔ا س سلسلے میں آج ناظم اطلاعات منیر الاسلام کی صدارت میں ایک تعزیتی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں محکمہ کے تمام افسروں اور ملازمین نے شرکت کی۔اس موقعہ پر آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دعا کی گئی اور سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔دریں اثناخوراک، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امو رکے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر اِن چیف پربودھ جموال کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔وزیرنے آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دعا کی اور سوگوار کنبے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
 

 امرناتھ جی یاترا۔ 2018

  گورنر نے انتظامات کا جائزہ لیا

جموں /گورنر این این ووہر ا جو شری امرناتھ جی شرائین بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں نے اس سال 28جون سے شروع ہونے والے امرناتھ یاترا کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولہ ،چیف ایگزیکٹیو آفیسر بوپندر کمار ، ایڈیشنل سی ای او آر کے پنڈتا کے علاوہ شرائین بورڈ کے دیگر افسروں نے بھی شرکت کی۔اس موقعہ پر گورنر کو جانکاری دی گئی کہ یاتریوں کی رجسٹریشن کا عمل یکم مارچ2018ء سے ملک بھر کے 440بینک شاخوں میں شروع ہوگا۔ گورنر نے ا س موقعہ پر سی ای او کو ہدایت دی کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر ہر ایک بینک شاخ سے رجسٹریشن کی تفصیلات جمع کرنے کے علاوہ رجسٹریشن کرنے والے بینکوں پر یہ باآور کرائیں کہ کسی دِن کے لئے کوٹا سے زیادہ یاتری رجسٹر نہ ہوجائیں ۔انہوںنے کہاکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے کہ 13 برس سے کم اور 75برس سے زیادہ عمر کے کسی بھی یاترا کا اندراج عمل میں نہ لایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ درج کئے گئے یاتریوں کو ایک لازمی ہیلتھ سر  ٹیفکیٹ جمع کرانی ہوگی۔گورنر نے پہلگام اور بال تل روٹوں پر مختلف قسم کے انتظامات جائزہ لیا۔ انہوں نے گھوڑے مالکان ، ڈانڈی والوں اور پالکی والوں کی بروقت رجسٹریشن کے علاوہ یاتریوں اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں کو انشورنس کور فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سی ای او امنگ نرولہ نے گورنر کو جانکاری دی کہ یاتریوں کے لئے پانی ، بجلی ،صفائی ستھرائی ، طبی نگہداشت اور سلامتی کے تمام انتظامات مکمل کئے جائیں گے ۔گورنر کو نون ون بنیادی کیمپ پر ایس ٹی پی میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی ۔این این ووہر انے یاترا کے انتظامات کا متواتر طور جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یاترا سے متعلق ہر جانکاری شرائین بورڈ کی ویب سائٹwww.shriamarnathjishrine.com پر اَپ ڈیٹ کی جانی چاہئیں تاکہ مجوزہ یاتریوں کو کسی قسم کی دِقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 
 
 

کامن سروسز سینٹرس سکیم 

ذوالفقارکی عمل آوری میں سرعت لانے کی ہدایت

جموں /خوراک، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امو رکے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے متعلقہ افسران پر زور دیا ہے کہ کامن سروسز سینٹر س سکیم کی ریاست میں عمل آوری میں تیزی لائی جائے۔وزیر یہاں کامن سروسز سینٹرس کی عمل آوری کے سلسلے میں منعقدہ ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے۔میٹنگ میں سی اے پی ڈی جموں ، فائنانشل ایڈوائزر، ڈپٹی سیکرٹری سی اے پی ڈی ، جوائنٹ ڈائریکٹر فائنانس و دیگر افسران موجود تھے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ایس سی سی سی سکیم کو ڈیجیٹل انڈیا انشیٹیو کے تحت ملک بھر میں عملایا جارہا ہے تاکہ شہریوں کو ای۔ گورننس سروسز کے تحت ڈیجیٹل ایکسس فراہم کی جاسکے۔وزیر نے اس موقعہ پر کہا کہ یہ سہولیات ریاست کے عام لوگوںمیں شفافیت ، جواب دہی اور اعتبار کو یقینی بنانے کے لئے عملائی جارہی ہے۔
 
 
 

پیلٹ بندوق کو بند کرنے کی ضرورت:تاریگامی

اعتماد کی باتیں تو کی جاتی ہیں ،لیکن کوششیں نہیں ہوتی

اشفاق سعید 
 
جموں //پیلٹ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی ایم لیڈر وممبر اسمبلی کولگام نے کہا کہ جس کے ہاتھ میں پیلٹ بندوق دی گئی ہے وہ یہ نہیں دیکھتا ہے کہ آنکھیں کہاں ہیں اور جسم کے دوسرے نازک حصہ کہاں ہیں ۔انہوں نے ریاست سے افپسا کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ۔قانون ساز اسمبلی وزیر اعلیٰ کے ماتحت محکموں کے مطالبات زر پر بحث کے دوران یوسف تاریگامی نے کہا کہ لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت پر باتیں کی جاتی ہیں لیکن اُس کیلئے کوششیں نہیں کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کے بارے میں سب جماعتوں کو سیاست سے بالا تر ہو کر ایک ساتھ ہونا چاہئے ۔تاریگامی نے کہا کہ پچھلے 25برسوں سے ہم نے تشدد مار دھاڑ کے سوا کچھ نہیں دیکھا ۔انہوں نے کہا آج تک صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے سرکار کے پاس کوئی بھی پالیسی نہیں رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کرانے کی باتیں کی جا رہی ہیں اُس کیلئے حالات سازگار ہیں یا نہیں یہ حکومت کو معلوم ہو گا ۔پیلٹ گن پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے یوسف تاریگامی نے کہا کہ جس کے ہاتھ میں پیلٹ گن دی گئی ہے وہ کیا دیکھے گا کہ آنکھیں کہاں ہے جسم کے نازک حصہ کہاں ،انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بہت سارے لوگ پہلے بھی گولیوں سے مرے ہیں لیکن کشمیر میں سب سے زیادہ اگر کوئی چیز زیادہ بدنام بن چکی ہے وہ پیلٹ گن ہے جس کو بند کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس کا جائزہ ٹھنڈے دماغ سے لیں اور یہ یقین دہانیکرائیں کہ آئندہ اُس کا استعمال نہیں ہو گا ۔تاریگامی نے افسپا کے حوالے سے کہا کہ اُس کو فوری طور پر ہٹانے کی ضرورت ہے ،تاریگامی نے کہا انہیں نے سرکار سے یہ جواب مانگا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کتنی شکایات مرکز کو بھیجی گئی ہیں سرکار نے جواب دیا ہے کہ 50ایک پر بھی اگر کارروائی نہیں ہوئی ہے تو پھروزیر داخلہ آپ کی تجوویز پر غور نہیں کرتے تو پھر نئے آیف آئی ار درج کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ افسپا کو منسوح کیا جائے ۔
 

۔35چھوٹے پن بجلی پروجیکٹ تکمیل کے مراحل میں : سجاد لون

جموں //سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر سجاد غنی لون نے قانون ساز اسمبلی میں دلیپ سنگھ پریہا ر کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت ریاست میں انتہائی چھوٹے اور چھوٹے پروجیکٹوں کی بدولت پن بجلی کے تمام وسائل کو بروئے کا ر لانے کے لئے وعدہ بند ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے 35پروجیکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہیں ہائیڈل پالیسی 2011کے تحت مختلف کمپنیوں کو ایوارڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروجیکٹ تکمیل کے مختلف مراحل سے گزررہے ہیں ۔وزیر نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ 13 مزید پروجیکٹ پی ایم ڈی پی کے تحت تعمیر کئے جارہے ہیں اور توقع ہے کہ یہ پروجیکٹ 2021-22تک مکمل کئے جائیں گے۔