مزید خبریں

سرحدی متاثرین سیاسی لیڈران سے نالاں 

’چنائو میں استحصال کرکے حالات کے رحم و کرم پر چھورڑ دیا ‘

سمت بھارگو
 
راجوری//ایک ایسے وقت میں جب سرحدوں پر کشیدگی عروج پر ہے ، متاثرین نے سیاسی لیڈران کی مبینہ خاموشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیاہے کہ انہیں زمینی صورتحال کا مشاہدہ ہونے کے باوجود ان کی کوئی فکر نہیں ۔ان کاکہناہے کہ انہیں سیاسی طور پر استعمال کیاجاتاہے اور الیکشن کے دنوں میں ان کا استحصال کیاجاتاہے ۔راجوری سیکٹر کے محمد عمران کاکہناہے کہ حدمتارکہ پر حالات انتہائی خراب ہیں اور فائرنگ اور گولہ باری میں زندگی میں گزارنا بہت ہی کٹھن ہورہاہے ۔ان کاکہناہے کہ وہ مزید خون نہیں دیکھ سکتے ۔عمران نے کہاکہ سیاسی لیڈران نے اس پر خاموشی افسوسناک ہے ۔ ترکنڈی علاقے کے رہائشی قیوم احمد کاکہناہے کہ سیاسی لیڈران دونوں ممالک پر بات چیت شروع کرنے کیلئے دبائو بناسکتے تھے لیکن انہوںنے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے اور وہ ایسا کرناہی نہیں چاہتے ۔ان کاکہناتھاکہ اگر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران متحد ہوکر بات چیت کی حمایت کریں اور اس سلسلے میں دبائو بنایاجائے تو کیا ممکن نہیں ۔ ان کاکہناہے کہ حکومت بھی مجبور ہوجائے گی مگر کوئی ایسا کرنے کوتیار نہیں ۔بالاکوٹ کے جاوید احمد کاکہناہے کہ بھمبر گلی سے کرشنا گھاٹی تک کئی گائوں روزانہ فائرنگ اور گولہ باری کی زد میں رہتے ہیں اور زخمی ہونا ، گھروں کی تباہی اور دیگر املاک نقصان ان کیلئے معمول بن گیاہے ۔جاوید نے کہاکہ راجوری پونچھ کے تمام سیاسی لیڈران کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اس کشیدگی کے خاتمے کیلئے دبائو بڑھاناچاہئے ۔پونچھ کے ساحل کمار اور راجوری کے راج کمار کاکہناہے کہ انہوںنے سیاسی لیڈران کو ووٹ اپنی فلاح و بہبود کیلئے دیئے مگر انہوںنے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ سبھی نے ان کا استحصال کیا اور مشکل میں کوئی کام نہیں آتا۔انہوںنے کہاکہ سیاسی لیڈران پر یہ لازم ہے کہ وہ جموں میں بیٹھنے کے بجائے یہاں آکر حالات کا مشاہدہ کریں اور اس کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حد متارکہ پر پچھلے کئی عرصہ سے فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجہ میں کئی شہری اور فوجی ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں اور املاک کی تباہی بھی ہورہی ہے۔
 

پونچھ میں ٹھیکیداروں کا احتجاج

حسین محتشم
پونچھ //پونچھ کے ٹھیکیداروں نے کنٹریکٹر ایسوسی ایشن پونچھ کے بینر تلے سنیچر کو بھی احتجاج کیا ۔ وہ ٹریجری کے نئے نظام پر پچھلے پانچ روز سے احتجاج کررہے ہیں ۔ ٹھیکیداروں کا کہناہے کہ وہ تین سو کلو میٹر دور جا کر اپنے بل کیسے نکلوائیں گے اور اس کیلئے انہیں روزانہ جموں کے چکر کاٹنے ہیں ۔ سنیچر کوانہوںنے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کے دفتر کے باہر دھرنادیااور پھر ایک ریلی نکالی ۔اس دوران ٹھیکیداروں نے کئی دفاتر کو مقفل کردیا جس کی وجہ سے ان دفاتر کا کام کاج ٹھپ رہا۔انہوںنے  پونچھ ٹریجری کو بھی مقفل کر دیا۔تنظیم کے ضلع صدر آصف میر، چوہدری اکبر، سرپنچ معشوق احمد اور دیگر ٹھیکیداروں نے کہا کہ انہیں بلا وجہ پریشان کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ان کے واجبات بقایا ہیں اور مزدور ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن حکومت انہیں پریشان کرتی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وہ اپنے اس احتجاج میں مزید شدت لائیںگے ۔
 

بدھل کالج کی اراضی 

ڈی۔نوٹیفکیشن کا طریقہ کار غیر قانونی تھا:اے ڈی سی 

سمت بھارگو
راجوری //گورنمنٹ ڈگری کالج بدھل کی اراضی کی ڈی ۔نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ شفیق چوہدری نے کہاہے کہ اس سلسلے میں قواعد و ضوابط کاپاس نہیں رکھاگیا ۔ بدھل کے مقامی لوگوں اور اے ڈی سی کی سماجی روابط کی ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو کے مطابق انہوںنے کہاکہ کالج کی اراضی کو ڈی۔نوٹیفکیشن کرنے کا طریقہ کار غیر قانونی تھا ۔وہ بدھل میں عوامی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوںنے کہاکہ یہ طریقہ کار غیر قانونی تھا اور اس میں قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھاگیا ۔ انہوںنے بتایاکہ انہوںنے اس سلسلے میں پوری فائل دیکھی ہے ۔موصوف کی یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے اور مقامی لوگوںنے مانگ کی ہے کہ اب اس سلسلے میں حکام کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔بدھل کے نوجوان محمد وقار کاکہناہے کہ وہ پوچھناچاہتے ہیں کہ اگر یہ طریقہ کار غیر قانونی تھا توپھر کیوں کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک بہت بڑا سکینڈل ہے جس پر ڈپٹی کمشنر کو کارروائی کرناچاہئے ۔
 

موبائل مجسٹریٹ راجوری نے مہاجر کیمپوں کاجائزہ لیا 

رمیش کیسر
نوشہرہ //ڈسٹرکٹ موبائل مجسٹریٹ راجوری نے نوشہرہ میں سرحدی مہاجرین کے کیمپوں کا اچانک دورہ کرکے ان کے مسائل سنے ۔موبائل مجسٹریٹ ضلع راجوری تبریز قاضی نے مہاجر کیمپوں کا اچانک معائنہ کیا اور وہاں رہ رہے لوگوں سے بات چیت کرکے ان کے مسائل سنے ۔ ان کیمپوں میں رہ رہے لوگوںنے انہیں بتایاکہ انہیں ماسوائے راشن کے کچھ بھی نہیں دیاجارہا۔ ان کاکہناتھاکہ یہاں صفائی کرمچاری بھی نہیں آتے ۔ موبائل مجسٹریٹ نے موقعہ پر موجود ایس ڈی ایم و تحصیلدار نوشہرہ کو ہدایت دی کہ وہ سرحدی مہاجرین کے مسائل حل کریں اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ اس موقعہ پر سب جج نوشہرہ بھی موجود تھیں ۔
 

ایم ایل اے کرگل سے اظہار ہمدردی 

منڈی//منڈی میں مقامی لوگوں کا ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہواجس میں ممبر اسمبلی کرگل اصغر کربلائی کی بیٹی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیاگیا ۔واضح رہے کہ اصغر علی کربلائی کی بیٹی کی وفات حال ہی میں جھلس جانے کے بعد بمبئی کے ایک اسپتال میں ہوئی تھی ۔تعزیتی اجلاس کے دوران مقررین نے کہا کہ وہ اصغر علی کربلائی کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اس موقعہ پر مرحومہ کی روح کی تسکین کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی ۔تعزیتی اجلاس میںکفایت حسین باگن، نثار حسین بانڈے، شبیہ الحسن وار، فدا حسین بانڈے، عارف علی بٹ ،علی رضا بانڈے ،شاہد حسین باگن، فدا حسین باگن، اعجاز حسین ،عرفان علی، وسیم احمد، آفتاب علی، کامران علی بٹ، اظہر حسین بٹ، افضل حسین شاہ ،سید عابد حسین صفوی، نثار حسین باگن، ابن حسن ، فیروز احمد اورمشتاق حسین مخل نے بھی شرکت کی۔
 

کربلائی سے اظہار تعزیت 

مینڈھر// ایم ایل اے کرگل و کانگریس لیڈراصغر علی کربلائی کی صاحبزادی کی وفات پر کا نگریس کی ریا ستی سیکریٹری پر وین سرور خان نے گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی پیغام میں انہوں نے مرحومہ کوخراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ اپنی کم سنی میں ہی صوم و صلوٰاۃ کی پابند تھیں۔ انہو ںنے کہا کہ چند روز قبل گیس اخراج کے پیش آئے حادثے کے وقت بھی مرحومہ نفلی روزے کی سحری کھانے کا اہتمام کر رہی تھیں کہ وہ حادثے کا شکار ہو گئیں۔ اُنہوں نے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اِن دُکھ بھرے لمحات میں اُن کے ساتھ برابر شریک ہیں۔ 
 

پی ایچ ای ملازم کی والدہ کا انتقال 

مینڈھر//محکمہ پی ایچ ای کے سپر وائزر محمد معشو ق خان کی والدہ اپنے آبائی گاو ں کیری گلہوتہ میں انتقال کر گئیں۔ وہ کچھ عرصہ سے بیما ر تھیں ۔ خر اب موسم کے با وجود بڑی تعداد میں لو گو ں نے نما ز جنا زہ میں شرکت کی ۔ ان کی مو ت پر سیا سی و سماجی لو گو ں نے دکھ کا اظہار کرتے ہو ئے غمزدہ کنبہ کے ساتھ اظہار ہمد ری کی ۔ انہو ں نے کہا کہ مر حو مہ ایک نیک سیرت خاتون تھی جن کی کی مو ت کا انہیں بھی دکھ ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ مر حو مہ کو اللہ تعالی جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کر ے اورلو احقین کو صبر جمیل ملے ۔
 
 

سرنکوٹ میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی 

بختیارحسین 
 
سرنکوٹ// سرنکوٹ سب ڈیویژن کے متعدد علاقوں میں بجلی کی سپلائی کا براحال ہے۔محمد سمیر نامی ایک نوجوان طالب علم نے بتایا کہ وہ سیالاں کے رہنے والے ہیں جہاں بجلی کا کوئی شیڈیول ہی نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر بجلی آبھی جائے تو آدھے گھنٹے بعد اسے کاٹ دیاجاتاہے اور غیر اعلانیہ کٹوتی کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اسی طرح سے بفلیاز کے لوگوںنے بھی شکایت کی ہے کہ بجلی سپلائی کا کوئی شیڈیول نہیں ۔وہیںشیندرہ کے ایک نوجوان محمد طارق مغل نے بتایا کہ بجلی غیر اعلانیہ کاٹی جاتی ہے اور بل لے کر محکمہ کے ملازم ہر مہینے گھر پہنچے جاتے ہیں۔پھاگلہ کے ایک شخص نے بتایا کہ جب دھندک ،سنئی ،پھاگلہ ،مرہوٹ ،ہاڑی اورموہڑا بچھائی کی بجلی کٹوتی کی جاتی ہے تو اس وقت ایک لسانہ میں بجلی چل رہی ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ نہ جانے یہ فالٹ کیسے آتے ہیں اور کیوں بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔
 

راجوری میں پالی تھین کے استعمال پر پابندی کا اعلان 

سمت بھارگو
 
راجوری //ضلع انتظامیہ راجوری نے ضلع میں پالی تھین کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کیاہے ۔ اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایک حکمنامہ جاری کیاگیاہے جس میں بتایاگیاہے کہ چیف ایگزیکٹو افسر راجوری ڈیولپمنٹ اتھارٹی اپنی قیادت میں ایک خصوصی ویجی لینس کمیٹی تشکیل دیںگے جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ضلع میں پالی تھین کا کوئی بھی استعمال نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کی خریدوفروخت کی جائے گی ۔حکمنامہ میں مزید کہاگیاہے کہ ضلع و سیکٹورل افسران اس بات کو یقینی بنائیںگے کہ ضلع میں کسی بھی جگہ پالی تھین کی سپلائی ، فروخت اور اس کی تیاری نہ ہو اور نہ ہی پلاسٹک کی دیگر اشیاء استعمال کی جائیں ۔ 
 

اے ڈی سی کوٹرنکہ کا عوامی دربار 

کوٹرنکہ // کوٹرنکہ سب ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چوہدری شفیق احمد نے بدھل میں عوامی دربار لگاکر لوگوں کے مسائل سنے ۔اس موقعہ پر کنگوٹہ کے لوگوں نے بتایاکہ کنگوٹہ ہسپتال میں ڈاکٹر وں کی قلت ہے جس وجہ سے انہیں مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے ۔ان کاکہناتھاکہ علاقے میں بجلی اور پانی کی سپلائی کا براحال ہے اور پانی کی پائیپں خراب پڑی ہوئی ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ سکولوں میں تدریسی عملے کی قلت پائی جارہی ہے ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ محکمہ آبپاشی کی طرف سے تعمیر کی گئی راج نگر بدھل سے کیول تک ہزار کنال اراضی کو سیراب کرنے والی نہر پانی نہ ہونے کی وجہ زمین بنجر بن گئی ہے اور اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔انہوںنے کہاکہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو مڈ ڈے میل کے کام سے چھٹکارا دلایاجائے ۔انہوںنے مزید کہاکہ لوگوں کو پنشن نہیں ملتی ۔مقامی لوگوںنے الزام لگایاکہ محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے منظور نظر افراد کو کام دیئے جاتے ہیں ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے تمام مسائل سننے کے بعد کہا کہ وہ ان کو حل کرنے کی کوشش کریںگے ۔ انہوںنے محکمہ جات کے افسران پر زور دیاکہ وہ بغیر کسی شکایت کے کام کریں ۔انہوںنے کہاکہ ڈگری کالج کو زمین دینے والوں کو ان کا حق دیاجائے گا۔
 

آیوش مشن پر یک روزہ بیداری پروگرام 

راجوری //محکمہ انڈین سسٹم آف میڈیسن کی طرف سے قومی آیوش مشن کے تحت یک روزہ بیداری پروگرام منعقد کیاگیا جس کا مقصد لوگوںکو اس مشن کے بارے میں جانکاری فراہم کرنا اور ان کو آیورویدک دوائیوں استعمال کرنے کی تحریک دلاناتھا ۔اس پروگرام کا افتتاح ایڈیشن ڈپٹی کمشنر اے ایس چب نے کیا اور انہوںنے ہی پروگرام کی صدارت کے فرائض بھی انجام دیئے ۔ اس موقعہ پر چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر سریش گپتا، میڈیکل سپرانٹنڈنٹ راجوری ہسپتال ڈاکٹر محمود بجاڑ ، ایڈیشنل ڈی ایم او ڈاکٹر حیدر حسین شاہ ، آئی ایس ایم کے میڈیکل افسران ، نیم طبی عملہ ، سول سوسائٹی اراکین و دیگر لوگ بھی موجود تھے ۔اے ایس چب نے آئی ایس ایم محکمہ کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں آیورویدک دوائیوں کے بہت زیادہ ذخائر ہیں اور یہ ایسی دوائیاں ہیں جو بیماریوں کے علاج میں کافی موثر ثابت ہوتی ہیں اوران کاکوئی سائڈ ایفکٹ بھی نہیں ہوتا۔ان کاکہناتھاکہ یہ دوائی بہت زیادہ سستی بھی پڑتی ہے اس لئے اس سے استفادہ کرناچاہئے ۔سی ایم او اور میڈیکل سپرانٹنڈنٹ نے بھی محکمہ کی ستائش کی ۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر حیدر شاہ نے کہاکہ آیوش بین الااقوامی تسلیم شدہ نظام ہے جس سے بیماریوں کا معیاری طریقہ سے علاج ممکن ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں بننے والی دوائیوں کیلئے دنیا میں 20000پودے ہیں جن میں 2000جموں و کشمیر میں پائے جاتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جموں کشمیر میں اس نظام کو فروغ دینے کی بہت زیادہ گنجائش ہے ۔اس موقعہ پر ڈاکٹر ذاکر حسین ، ڈاکٹر راجن شرما، ڈاکٹر محمد معروف اور ڈاکٹر آر کے بجاج نے بطور ماہرین لیکچر دیئے۔
 

راجوری میں نقل کے 10کیس بنائے گئے 

راجوری //ڈائٹ راجوری کی ایک ٹیم نے ضلع کے مختلف امتحانات مراکز کا دورہ کرکے نقل کے 10کیس بنائے ۔ڈائٹ پرنسپل پردیپ شرما کے مطابق ٹیم نے اچانک سے راجوری کے کچھ مراکز کا معائنہ کیا جس دوران چل رہے بارہویں جماعت کے امتحانات میں طلباء کو نقل کرتے ہوئے پایاگیا ۔انہوںنے بتایاکہ ٹیم نے گورنمنٹ ہائراسکینڈری سکول چنگس کے سنٹر نمبر 4618اور ہائراسکینڈری سکول لمیڑی کے سنٹر 4812کا معائنہ کیا جہاں نقل کے دس کیس بنائے گئے ۔
 
 

ہڑتال حکمران اتحاد کی ناکامی کا نتیجہ :رچھپال 

کالاکوٹ//سابق ممبر اسمبلی کالاکوٹ و نیشنل کانفرنس سیکریٹری ٹھاکر رچھپال سنگھ نے کالاکوٹ ، سندر بنی اور نوشہرہ کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی عمل میں لانے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کو مقامی سطح پر خدمات فراہم کرنے کیلئے یہ اقدام لازمی ہے ۔اپنے ایک پریس بیان میں انہوںنے کہاکہ ان علاقوںکے لوگوں کی جائز مانگ پوری کی جائے اور انہیں امید ہے کہ بہت جلد اس سلسلے میں اقدامات کئے جائیںگے ۔ان کاکہناتھاکہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے ان علاقوں کو یکسر نظرانداز رکھا اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کا غم و غصہ بڑھ گیا ۔ ان کاکہناتھاکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات بھی نہیں مل رہی اور وہ بری طرح سے متاثر ہے ۔انہوںنے کہاکہ کئی علاقوں میں راشن کی قلت پائی جارہی ہے اور دیگر مسائل بھی درپیش ہیں ۔سابق ایم ایل اے نے کہاکہ مخلوط اتحاد ہر ایک محاذ پر ناکام ہوچکاہے اور اب اس کے پاس حکومت کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں۔