مزید خبریں

لداخ میں چین نے ہندوستان کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کیا ہے   | پینگونگ جھیل پر بنا چین کا پل’غیر قانونی قبضے‘ والے علاقوں میں ہے: مرکزی حکومت

نیوز ڈیسک
نئی دہلی//لداخ میں چین نے پینگونگ جھیل پر جو پُل تعمیر کیا ہے یہ پُل بھارت کی سرزمین پر بنایا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے اس بات کا انکشاف پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کیا ہے ۔ پینگونگ جھیل ایک مشہور جھیل ہے جو مشرقی لداخ سے مغربی تبت تک پھیلی ہوئی ہے۔ آج اس کا 50 فیصد تبت، چین اور 40 فیصد حصہ ہندوستان میں آتا ہے۔یہ پل پیپلز لبریشن آرمی کی پوزیشن کے جنوب میں بنایا گیا ہے۔ یہ پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ہے اور اس جگہ پر بنایا جا رہا ہے جہاں جھیل کے دونوں کنارے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر الگ ہو گئے ہیں۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد، یہ پل شمالی کنارے پر چینی فوجیوں کی پوزیشنوں کے درمیان روتوگ میں PLA کے ایک بڑے اڈے تک تقریباً 150 کلومیٹر کی دوری کو کم کر دے گا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق حکومت ہندنے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ مشرقی لداخ میں پینگونگ جھیل پر ایک پل چین کے غیر قانونی طور پر قابض علاقے میں بنایا جا رہا ہے۔ حکومت نے کہا کہ وہ دوسرے ممالک سے ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ لداخ سیکٹر میں اسٹریٹجک جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں کو جوڑنے والے اس پل پر حکومت کی پوزیشن کی وضاحت وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی مرلی دھرن نے لوک سبھا میں کئی ممبران پارلیمنٹ کے سوالوں کے تحریری جواب میں کی۔اس حوالے سے گزشتہ ماہ امریکی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی میکسار کی جانب سے پل کی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر منظر عام پر آئی تھیں۔ دکھایا گیا کہ یہ ڈھانچہ آٹھ میٹر چوڑا اور 400 میٹر سے زیادہ لمبا ہے۔ تصویر میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ چینی کارکن ٹرمیک بچھانے سے پہلے ستونوں کے درمیان کنکریٹ کی سلیب ڈالنے کے لیے بھاری کرینوں کا استعمال کررہے ہیں۔ امور خارجہ کے وزیر مملکت وی مرلیدھرن نے کہا کہ یہ پل ان علاقوں میں تعمیر کیا جا رہا ہے جو 1962 سے غیر قانونی چینیوں کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے اس غیر قانونی قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا۔حکومت نے کئی مواقع پر یہ واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں اور ہم دوسرے ممالک سے ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ پل پیپلز لبریشن آرمی کی پوزیشن کے جنوب میں بنایا گیا ہے۔ یہ پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ہے اور اس جگہ پر بنایا جا رہا ہے جہاں جھیل کے دونوں کنارے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر الگ ہو گئے ہیں۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد، یہ پل شمالی کنارے پر چینی فوجیوں کی پوزیشنوں کے درمیان روتوگ میں PLA کے ایک بڑے اڈے تک تقریباً 150 کلومیٹر کی دوری کو کم کر دے گا۔ اس سے قبل 6 جنوری کو وزارت خارجہ نے چینی فریق پر ایک ایسے علاقے میں پل تعمیر کرنے کا الزام بھی لگایا تھا جس پر اس نے 60 سال سے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے اس وقت کہا تھا کہ حکومت ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے کہ ہمارے سیکورٹی مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے‘۔
 
 
 
 
 
 

حد بندی کمیشن کی رپورٹ غیر منصفانہ و عوام مخالف:زرگر 

خطہ چناب کو پارلیمانی حلقہ و بھلیسہ کے نام سے اسمبلی حلقہ قائم کرنے کا مطالبہ 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //حد بندی کمیشن کی جانب سے اسمبلی حلقوں کی تشکیل نو کے سلسلے میں پیش کی گئی عبوری رپورٹ کو عوام مخالف قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر ریاض احمد زرگر نے کہا کہ اس فیصلے سے ہر خطہ کی عوام کو صدمہ پہنچا ہے۔گندوہ میں پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں حد بندی کمیشن ایک آزاد ادارہ ہوتا ہے جو منصفانہ و غیر جانبدار طریقے سے ہر خطہ، ذات و فرقہ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ کمیشن نے یکطرفہ فیصلہ کرکے لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹ فرقہ پرستی پر تیار کی گئی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔زرگر نے حدبندی کمیشن کے دوروں کو فضول مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے بلکہ اس کے برعکس خاکہ تیار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطہ چناب جغرافیائی اعتبار سے بھی باالکل مختلف ہے اور اس کو پارلیمانی حلقہ بنانا یہاں کے لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی۔زرگر نے کہا کہ اسی طرح بھلیسہ، ٹھاٹھری و دیگر علاقوں کو تقسیم کر کے غیر منصفانہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ زرگر نے کہا کہ ستر کی دہائی میں بھلیسہ و بونجواہ علیحدہ اسمبلی حلقہ ہوا کرتا تھا لیکن اس وقت کچھ حکمرانوں نے پانے سیاسی مقاصد کے لئے اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جسے موجودہ حکومت نے پھر دہراکر ایک تاریخی غلطی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی حکومت نے ایک خاص ایجنڈا ہے تحت فیصلہ کیا ہے جو کہ نا قابل قبول ہے۔نیشنل کانفرنس لیڈر نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کمیشن سے غیر جانبدار طریقہ سے منصفانہ فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 
 

حد بندی کمیشن کی رپورٹ سے گجر بکروال طبقہ ناخوش | خطہ چناب میں مخصوص اسمبلی حلقہ قائم کرنے کا مطالبہ 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ//خطہ چناب کے گوجر و بکروال طبقہ کو نظر انداز کرنے پر گجر برادری سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی شخصیات نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بی جے پی حکومت اس طبقہ کی فلاح و بہبود کیلئے بلند بانگ دعوے کرتی ہے تو دوسری طرف ایک لاکھ سے زائد آبادی والے خطہ کو نظر انداز کیا گیا۔معروف گجر لیڈر چوہدری سلام دین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وادی چناب میں گوجر بکروال طبقہ کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے لیکن بدقسمتی سے حد بندی کمیشن نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اس طبقہ کی شناخت کو ختم کر کے کئی حلقوں میں تقسیم کیا۔انہوں نے کہا کہ بھلیسہ، گندوہ، چلی ،کاہرہ ،بونجواہ ،چھاترو بلاکوں گجر آبادی زیادہ ہے اور بیشتر بلاکوں میں اسی طبقہ کے بی ڈی سی و ڈی ڈی سی کونسلر بھی منتخب ہو کر آئے ہیں لیکن اس کے باوجود اس طبقہ کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے خطہ چناب میں کسی ایک اسمبلی حلقہ کو گجر بکروال طبقہ کے لئے مخصوص رکھنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر سیاسی و سماجی کارکن چوہدری فاروق شکاری نے حدبندی کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سرکار سب کا ساتھ، سب کا وکاس و سب کا وشواس کا نعرہ لگا کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک منصوبہ بند طریقے سے اسمبلی حلقوں کی تشکیل عمل میں لائی۔شکاری نے کہا کہ وادی چناب کے گجر و بکروال طبقہ کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے یوٹی و مرکزی قیادت سے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 
 

کشتواڑ قصبہ میں غیرقانونی تجاوزات کے خلاف مہم 

 عاصف بٹ 
کشتواڑ//کشتواڑ انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر کشتواڑ اشوک شرما کی ہدایت پر تحصیلدار کشتواڑ پرمود کمار کی نگرانی میں میونسپلٹی میں انسداد تجاوزات اور کوڈ مناسب برتاؤ کے نفاذ کیلئے مہم چلائی گئی۔ٹیکس انسپکٹر بہار احمد گری کی سربراہی میں میونسپل افسران کی ایک ٹیم نے پولیس پارٹی کے ساتھ تحصیل دفتر سے مالی پیٹھ تک میونسپل ایریا کا مشترکہ دورہ کیا اورقومی شاہراہ کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھوں پرکھڑی تجاوزات کو ہٹایا گیاجو ہموار راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی تھیں۔غیر قانونی تجاوزات کے علاوہ آرٹیکل ریگ و سائن بورڈ وغیرہ کو بھی ضبط کر کے میونسپلٹی  کشتواڑ کی تحویل میں رکھا گیا۔دکانداروں اور عوام پر بغیر ماسک پہننے کے علاوہ کھانے پینے کی غیر صحت بخش اشیاء برآمد کرکے گوشت ، چکن و سبزیوں کی دکانوں پر سے تباہ کر دیا گیا۔تجاوزات کرنے والوں کو متنبہ کیا گیا کہ اگر انہوں نے سرکاری اراضی پر تجاوزات کے حوالے سے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کی مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جا رہا ہے۔
 
 
 
 

۔5 لیٹر دیسی شراب ضبط، ایک شخص گرفتار 

 عاصف بٹ 
کشتواڑ// پولیس تھانہ چھاترونے وتنہ لہویدھارسے 15 لیٹر دیسی شراب ضبط کی۔پولیس تھانہ چھاترو کی پولیس پارٹی نے چھاترو کے وتنہ۔لہویدھار علاقے میں دیسی غیر قانونی شراب کی فروخت اور بنانے کی ایک مخصوص اطلاع پر تیزی سے کاروائی عمل میں لاتے ہوئے مشتبہ مقام پر چھاپہ مار کر 15 لیٹر دیسی شراب برآمد کر کے ملزم کو موقع سے گرفتار کر لیا۔گرفتار شخص کی شناخت پیارے لال ولد بھوپ چند ساکنہ وتنہ لہویدھار کے طور پر ہوئی ہے۔اس کے مطابق ایک کیس زیر نمبر 15/2022 زیردفعہ A 48  ایکسائز ایکٹ پولیس تھانہ چھاترو میں درج کرلیا اور مزید تفتیش شروع کردی گئی۔
 
 
 
 
 

غیر قانونی کان کنی کے الزام میں3گرفتار،3ٹپر ضبط

 عاصف بٹ 
کشتواڑ//کشتواڑ پولیس نے دریائوں اور ضلع کے دیگر نالوں سے ریت و پتھر کے غیرقانونی اخراج کے خلاف ایک خصوصی مہم شروع کی ہے۔اس سلسلے میں کشتواڑ کے مختلف مقامات پر ناکے لگائے گئے اور پولیس سٹیشن کشتواڑ کے دائرہ اختیار میں موقع سے 3 ٹپر ضبط جبکہ 3 ٹپر ڈرائیوروں کو گرفتار کیاگیا۔ گرفتار افراد کی شناخت طارق حسین ولد غلام قادر بٹ بیرواڑ کشتواڑ،سمیر احمد بٹ غلام قادر بٹ ساکنہ کڑیہ کشتواڑ و غلام مصطفی وانی ولد عبدالعزیز وانی ساکنہ گری نگر کشتواڑکے طور ہوئی ہے۔اس سلسلے میںتین ایف آئی آرزیر نمبر 18،19،20/2022 قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت پولیس سٹیشن کشتواڑ میں درج کی گئی اور اس کے مطابق تحقیقات شروع کی گئی۔
 
 
 

 پنچایت کانفرنس کا افسروں پر پنچایتی ایکٹ کی دھجیاں بکھیرنے کا الزام

 کہا افسر شاہی ، رشوت خوری اور من مرضی عروج پر،پنچایتی نمائندوں کی شنوائی ندارد

محمد تسکین
بانہال// آل جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس کے ضلع صدر رام بن نے الزام لگایا کہ ریاست جموں و کشمیر میں پنچایت راج کٹھ پتلی راج بن کر رہ گیا ہے اور محکمہ دیہی ترقی کے اہلکاروں کی طرف سے پنچایتی راج ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے اور لیفٹیننٹ گورنر اور انکی انتظامیہ اس صورتحال سے ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔ آل جموں و کشمیر پنچائتی کانفرنس کے ضلع صدر برائے رام بن محمد اقبال کٹوچ نے بیان میں الزام لگایا کہ سرکاری محکمہ جات میں بابو گیری اور من مرضی عروج پر پہنچ گئی ہے اور رشوت کے بغیر لوگوں کے کوئی کام نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج کی کسی بھی اکائی کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے اور منریگا سمیت دیگر کاموں کے کروڑوں روپئے کی رقم محکمہ سے دیہی ترقی سے واجب ا لادا ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی غربت سے تباہ حال لوگ غریبی کی مزید دلدل میں پوری طرح سے دھکیلے گئے ہیں اور عام دیہی لوگوں کی زندگی دشوار بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ افسر شاہی کا دور دورہ ہے اور پنچایتی راج کی کامیابی کی خبریں ریڈیو اور ٹیلی ویژن تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہیں اور سرکاری بیانات اور زمینی صورتحال میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت ایکٹ کے مطابق زیادہ مالیات کے کاموں کے ٹینڈر کئے جانے چاہئیںلیکن گورنر انتظامیہ نے سب ہی کاموں کو ٹینڈروں کے ذریعے کرنے کا حکم صادر کیا ہے، جس کی وجہ سے برفباری سے متاثر رہنے والے جموں و کشمیر کے علاقوں میں کام تعمیراتی کام متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقی کی ٹیکنیکل ونگ کی طرف سے الاٹمینٹس اور تخمینہ لگانے میں بلاوجہ تاخیر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے دیہی ترقی کے کاموںکی انجام دہی وقت کے اندر اندر ناممکن ہو کر رہ گئی ہے جبکہ کچھ کاموں میں ٹھیکیداران نے پنچایتوں کے منتخب نمائندوں ، سرپنچوں اور جونئیر انجینئروں کی نشاندہی اور سیکرٹری پنچایت کو مطلع کئے بغیر ہی کاموں کو شروع کر رکھا ہے اور پنچایتی راج کو مذاق بنا کر رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز ویڈیو کانفرنسنگ میں شامل رام بن اور ریاسی اضلاع کے سرپنچوں نے عہد کیا کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو اس زیادتی کے خلاف جموں و کشمیر پنچائتی کانفرنس انصاف کیلئے لڑائی لڑے گی تاکہ پنچائتی اداروں اور دیہی لوگوں کو انصاف مل سکے۔
 
 
 
 
 
 
 
 

جموں صوبہ کے سکولوں میں بسنت پنچمی کا تہوار منایا گیا

ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن نے سلسلہ وار تقریبات کا اہتمام کیا

جموں// ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن جموں نے جموں صوبہ کے تمام دس اضلاع میں مختلف سطحوں پر تقریبات کا اہتمام کرکے بسنت پنچمی کا تہوار منایا۔ان پروگراموں میں ثقافتی ورائٹی شو، روایتی گانوں، کلاسیکی رقص، شاعری کی تلاوت، تقریریں، دستکاری، ڈرائنگ اور پوسٹر سازی کے مقابلے جموں صوبہ کے سکولوں اور دفاتر میں طلباء کے درمیان مکس موڈ کے ذریعے منعقد کیے گئے حالانکہ زیادہ تر شرکت آن لائن موڈ کے ذریعے تھی۔ میڈیا شیئرنگ پلیٹ فارمز جیسے زوم اور فیس بک کو پریزنٹیشنز اور لائیو فنکشنز کے لیے استعمال کیا گیا۔صوبائی سطح پر، کلچرل اینڈ ایجوکیشنل سیل، ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن جموں نے ایک ورچوئل کلچرل پروگرام کا انعقاد کیا جسے ڈائریکٹوریٹ کے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہ راست نشر کیا گیا اور حقیقی وقت میں ہزاروں ناظرین نے اس میں شرکت کی۔ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں ڈاکٹر روی شنکر شرما نے مہمان خصوصی کے طور پر اپنی موجودگی کے ساتھ اس موقع کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے بسنت پنچمی کی اہمیت اور طالب علم کی زندگی میں ثقافت اور ورثے کے بارے میں سیکھنے کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ڈائریکٹر نے اس بات کا اشتراک کیا کہ بسنت پنچمی نہ صرف خوشحالی اور خوشی سے منسلک ہے، بلکہ یہ موسم میں تبدیلی اور منفی سے مثبتیت کی طرف تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ 
 
 

ریاسی میںمحکمہ صحت کے 9 غیر حاضر ملازمین معطل

ریاسی// ڈپٹی کمشنر ریاسی چرندیپ سنگھ نے اتوار کومحکمہ صحت کے 9 ملازمین کو ڈیوٹی سے غیر مجاز غیر حاضری پر معطل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے ساتھ عوامی شکایت موصول ہونے پر، ڈی سی نے پبلک ہیلتھ سنٹر گوٹہ میں ڈاکٹروں سمیت ملازمین کی اپنی ڈیوٹی سے غیر مجاز غیر حاضری کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور انہیں معطل کرنے کے علاوہ بی ایم او مہورے کے دفتر میں منسلک کردیا۔ان کی غیر مجاز غیر حاضری کے حقائق اور وجہ جاننے کے لیے بھی انکوائری شروع کر دی گئی ہے جس سے مرکز صحت میں ضروری خدمات کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔معطل کیے گئے اہلکاروں میں ڈاکٹر راجیو سلاریا میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر وکاس بھارتی میڈیکل آفیسر، اونکار سنگھ سینئر آپتھلمک ٹیک ، پروین کمار آئی ایس ایم فارماسسٹ، راجندر کور جے ایس این، لاجو دیوی جے ایس این، چمل سنگھ نمبر، راج کور نمبر اور ہرویندر سنگھ شامل ہیں۔یہ کارروائی جموں و کشمیر سول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) رولز، 1956 کے رول 31 کے تحت کی گئی تھی۔
 
 
 

انجینئرنگ کالج جموں میں تربیتی پروگرام اختتام پذیر

جموں// "الیکٹریکل انجینئرنگ میں حالیہ ابھرتے ہوئے رجحانات" (آر ای ٹی ای ای -2022) پر ایک ہفتہ کا آن لائن فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، جموں نے مختلف فیکلٹی اور ریسرچ اسکالرز کے لیے منعقد کیا۔ اس پروگرام میں ملک کے انجینئرنگ اداروں نے شرکت کی۔ پروگرام گزشتہ روز اختتام پذیر ہوا۔ یہ تقریب ڈاکٹر سمیرو شرما، پرنسپل، جی سی ای ٹی، جموں کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ایک ہفتہ کے پروگرام کے دوران، مختلف اداروں/تنظیموں کے ممتاز مقررین اور ماہرین تعلیم جنہوں نے تحقیق کے اپنے اپنے شعبوں میں ماہرانہ گفتگو کی۔ اس پروگرام میں ملک کے بڑے انجینئرنگ اداروں کے سربراہان اورتدریسی عملہ نے شرکت کی۔ مذکورہ ایونٹ میں ملک کے مختلف اداروں سے 60 کے قریب شرکاء نے شرکت کی۔ تربیتی پروگرام کے آخر میں مونیکا مٹر نے محکمہ کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔پروگرام کے تحت آنے والے شعبوں میں قابل تجدید توانائی، سمارٹ گرڈ، مائیکرو گرڈ کے پہلو اور چیلنجز، توانائی، آڈٹ اور انتظام، الیکٹرک وہیکلز، دفاعی تناظر، شمسی توانائی پر مبنی جدید براہ راست توانائی کی تبدیلی کی ٹیکنالوجیز بجلی کی پیداوار کے لیے، ماڈلنگ کا تعارف اور برقی نظام کی نقل او پی اے ایل-آر ٹی سمیلیٹر، پی وی ایپلی کیشنز میں مستقبل کے رجحانات اور کنٹرول سسٹمز کے متعلق تفصیلی جانکاری دی گئی۔ پرنسپل جی سی ای ٹی جموں نے تقریب کے انعقاد پر محکمہ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا پروگرام نہ صرف فیکلٹی اور ریسرچ اسکالرز کے ذہنوں کو تقویت دیتا ہے بلکہ انہیں کام کرنے کے لیے نئے افق بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس قسم کی تقریبات کے باقاعدگی سے انعقاد پر زور دیا۔
 

حدبندی میں پوگل تحصیل کے حصے بکھرے کرنے کی مذمت

بانہال// نیشنل ہیومن رائٹس اینڈ سوشل جسٹس کونسل کے ضلع سیکرٹری نوید انجم نے حد بندی کمیشن کی مجوزہ رپورٹ میں ضلع رام بن کے تحصیل پوگل پرستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن کے دو اسمبلی حلقے بانہال اور رام بن کی کی آبادی تین لاکھ سے زائد ہے اور جہان ان اسمبلی حلقوں میں ایک اضافی اسمبلی حلقے کا وجود ممکن تھا وہیں اسے مزید تقسیم کرنے کی پالیسی افسناک اور سراسر زیادتی ہے۔ نوید انجم نے حد بندی کمیشن کی رپورٹ میں تحصیل پوگل پرستان کے ساتھ ناانصافی کو نا قابل قبول کرتے ہوئے حد بندی کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ اس پہاڑی تحصیل کو دو حصوں میں بانٹنے کی تجویز سے گریز کرے اور یہاں کے غریب لوگوں کو انصاف دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال اور رام بن کے لوگ اس ناانصافی اور زبردستی کی تقسیم کو کسی بھی صورت برداشت اور منظور نہیں کرینگے اور ا کے خلاف ہیومین رائٹس اینڈ سوشل جسٹس آواز بلند کرے گی۔
 
 
 
 

 سدھرا جموں میں'یکجہتی ہواور کاروان امن بھی' عنوان پر سمینار

جموں//جے کے پیپلز جسٹس فرنٹ نے سدھرا جموں میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا'یکجہتی ہو اور کاروان امن بھی'۔ سیمینار کی صدارت فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی نے کی۔ سیمینار میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی اور ساتھ ہی بہت سارے علماء ، سیاسی و سماجی کارکن بھی شریک سیمینار تھے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید عباس رضوی نے کہا کہ تعلیم وہ واحد ذریعہ ہے جس سے لوگوں کو یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کی کلید بھی تعلیم ہے اور ہمیں چاہیے کہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے بچوں کو تہذیبی درس اور سماجی برائیوں سے دوری بھی سکھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ نوجوان قوم کو نشہ آور ادویات سے لاحق ہے اور اس وبا کو دبانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سماجی کارکن علی محمد پرے نے اپنے خطاب میں کہاکہ ماں کا گہوارہ بچے کی بنیادی درسگاہ ہے اور یہ والدین کی ذمیداری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھائی چارے کا درس دیں اور سماجی برائیوں کے خلاف ان کو تیار کریں۔ایک اور سماجی رہنما محمد عمر نے اساتذہ کے رول کی وضاحت کی۔
 
 
 

 بھدرواہ اور گندوہ میں سکل ڈیولپمنٹ سینٹر قائم 

ڈوڈہ// فوج نے 29 جنوری 2022 سے بھدرواہ اور گندوہ میں مردوں اور عورتوں کے لیے ہنر مندی کا ایک مرکز شروع کیا۔ اس سینٹر میں کمپیوٹر ٹریننگ، ٹیلرنگ اور سلائی کا کورس، بیوٹیشن کورس اور اچار بنانے کا کورس جیسے مختلف کورسز چلائے جا رہے ہیں۔ 34 مرد اور 197 خواتین سمیت کل 231 افراد کو مطلوبہ تربیت دی جائے گی جس کا مقصد انہیں خود انحصار بنانا اور انہیں خود روزگار کی طرف راغب کرنا ہے۔ افتتاحی تقریب میں فوج اور مقامی دیہاتیوں نے شرکت کی۔ خواتین نے مستقبل میں سکل ڈیولپمنٹ کی مزید کلاسز کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں۔ فوج کی یہ کوشش علاقے کے بے روزگار نوجوانوں کو فائدہ مند روزگار تلاش کرنے اور اپنے خاندانوں کے لیے روٹی کمانے والے بننے میں مدد فراہم کرے گی۔
 
 
 

سوہنڈہ ڈوڈہ میں بھرتی سے پہلے کی تربیت کا اہتمام

ڈوڈہ// فوج نے سوہندا میں ایک پری ریکروٹمنٹ ٹریننگ منعقد کی جس نے مسلح افواج میں شامل ہونے کے خواہشمند نوجوانوں کو بھرتی سے پہلے کی تربیت فراہم کی۔ نوجوانوں کو ان کے خوابوں اور امیدوں کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے اس اقدام میں ڈوڈہ ضلع کے بھدرواہ، مرمت اور گندوہ علاقوں سے رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد دیکھنے میں آئی۔ تربیت کا انعقاد ابتدائی جسمانی اور طبی معائنے کے ساتھ کیا گیا۔ اس کے بعد بھرتی کے لیے درکار پہلوؤں کی ایک وسیع رینج پر تربیت فراہم کی گئی جیسے جسمانی ٹیسٹ، استدلال اور عمومی بیداری کے تحریری ٹیسٹ۔ یہ 45 دنوں کے تین مراحل میں منعقد کیا گیا تھا اور 31 جنوری 22 کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ 
 
 

دھرماڑی ریاسی میں قومی ایکتا میٹنگ کا انعقاد

 ریاسی// فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبے کو پروان چڑھانے اور تقویت دینے کے مقصد کے ساتھ، دھرماڑی میںفوج نے علاقے میں امن و سکون کو فروغ دینے کے لیے گاؤں دھرماڑی میں ایک قومی ایکتا میٹنگ کا اہتمام کیا۔ اس تقریب نے رائے سازوں اور عوام الناس کو خطے میں ترقی سے متعلق مختلف امور پر ایک دوسرے اور فوج کے اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ دیہاتیوں کی بڑی تعداد نے میٹنگ میں شرکت کی جن میں اساتذہ وارڈ ممبران اور مولوی شامل تھے۔ ان اقدامات سے علاقے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور فوج کو عوام کے ساتھ اپنے رابطے کو مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ 
 
 
 

فوج نے گیئی ڈوڈہ میں لیکچر کا انعقاد کیا

ڈوڈہ// فوج نے گیئی کے نوجوانوں کے لیے مسلح افواج میں شمولیت کے لیے ایک موٹیویشنل لیکچر کا اہتمام کیا۔ اس لیکچر کا مقصد ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا اور مسلح افواج کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔ لیکچر میں طلبا کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ لیکچر میں طلباء کو کیرئیر اورینٹڈ کورسز اور مختلف کے بارے میں رہنمائی کی گئی۔ طلباء نے مواقع اور سہولیات کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جن کا فوج کے نمائندوں نے تسلی بخش جواب دیا۔ یہ تقریب ضلع کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے گیئی میں واقع آرمی کیمپ کی طرف سے شروع کی گئی تھی جس سے فوج اور عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کیا گیا تھا۔