مزید خبریں

جموں وکشمیر پولیس سٹیٹ: صحرائی

سرینگر//تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے لیڈر امیرِ حمزہ شاہ کو پھر سے ایک اور فرضی کیس کے تحت بانڈی پورہ پولیس اسٹیشن سے کپواڑہ ڈسٹرکٹ جیل منتقل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی انتظامیہ نے مُنتقامہ پالیسی کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے اور ان نظربندوں کو سالہاسال سے جیلوں میں بند رکھنے کے لیے نت نئے اور من گھڑت الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ امیرِ حمزہ شاہ گزشتہ ڈھائی سالوں سے مختلف فرضی الزامات کے تحت نظربند ہیں اور کل پھر ان فرضی الزامات کے تحت کپواڑہ ڈسٹرکٹ جیل منتقل کیا گیا۔ اسی طرح محمد یوسف فلاحی، عبدالسبحان وانی اور میر حفیظ اللہ وغیرہ بھی گزشتہ ڈھائی برسوں سے جیلوں کی زینت بنائے گئے ہیں۔ صحرائی نے کہا کہ جموں کشمیر محض ایک پولیس اسٹیٹ ہے جہاں صرف پولیس کی من مرضی کے مطابق طاقت اور زور آزمائی کی پالیسی پر عمل ہورہا ہے۔
 
 

گلمرگ میںسیاح کی حرکت قلب بند

ٹنگمرگ//سیاحتی مقام گلمرگ میں 45 سالہ سیاح حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوا ۔ فرید آباد ہریانہ کا  45 سالہ سیاح اچانک غش کھا کر زمین پر گر گیا۔اگرچہ گلمرگ پولیس نے مقامی لوگوں کے مدد سے مذکورہ سیاح کو فوری طور اسپتال پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ آج تک  رواں سیاحتی سیزن کے دوران گلمرگ میں بیرون ریاست کے چھ سیاح فوت ہوگئے ہیں۔ (مشتاق الحسن)
 
 

بارہمولہ اوراسلام آباد میں شبانہ نقب زنی 

سرینگر//بارہمولہ اوراسلام آبادمیں شبانہ نقب زنی کی وارداتوں کے دوران چوروں نے لاکھوں روپے مالیت کے کمپیوٹر،لیپ ٹاپ اورموبائل فونوںکے علاوہ ایک لاکھ روپے کی رقم بھی اُڑالی۔کے این این کے مطابق شمالی قصبہ بارہمولہ کے مین چوک میں سنیچراوراتوارکی درمیانی شب نامعلوم نقب زنوں نے ایک الیکٹرانک سازو سامان سے لیس دکان کامکمل صفایاکرتے ہوئے یہاں سے لاکھوں روپے مالیت کے کمپیوٹراورلیپ ٹاپ اُڑالئے۔کمپیوٹرگیلری نامی دکان جو بارہمولہ مین چوک میں قائم ایک شاپنگ کمپلیکس میں ہے ،کے مالک سلیم الدین وانی نے کہا’’اتوارکی صبح مجھے یہ اطلاع ملی کہ اس کی دوکان کولوٹ لیاگیاہے‘‘ ۔انہوں نے کہا’’ جب ہم دکان پرپہنچے توہم نے تمام سامان غائب پایاجس میں کئی کمپیوٹر اورلیپ ٹاپ بھی شامل ہیں‘‘ ۔ادھرجنوبی ضلع اسلام آبادکے لالچوک میںدوران شب موبائل فون دوکان کولوٹ لیاگیا۔معلوم ہواکہ لالچوک اسلام آبادمیں اتواراورسوموارکی درمیانی رات نامعلوم نقب زنوں نے ’موبائل پوائنٹ‘نامی ایک دکان کولوٹ کریہاں سے موبائل فون کے ساتھ ساتھ دکان میں رکھے گئے ایک لاکھ 10ہزارروپے بھی اُڑالئے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ ہائی سیکورٹی والے لالچوک علاقہ میں دوران شب نقب زنی کی واردات رونماہوناحیران کن ہے۔دکان کے مالک قاضی سعیدنے بتایاکہ وہ کچھ رقم دکان میں ہی بھول گئے تھے ۔ 
 

ایس آر او 520کے تحت 21ملازمین کی باقاعدگی کو منظور ی 

سرینگر//محکمہ خزانہ کے پرنسپل سیکریٹری نوین کے چودھری کی صدارت میں ایس آر او 520 کے تحت تشکیل دی گئی بااختیار کمیٹی کی پہلی میٹنگ کی صدارت کی تاکہ کیجول / سیزنل / نیڈ بیسڈ اور دیگر ورکروں کی ملازمتوں کو باقاعدہ بنانے کے معاملے پر غور کیا جاسکے۔کمیٹی نے مختلف محکموں کے 50کیسوں پر سیر حاصل بحث کی اور ان میں سے 21کیسوں کی باقاعدگی کے لئے منظوری دی ۔ان میں پی ڈبلیو ڈی کے پانچ ،محکمہ داخلہ کے 2 ، محکمہ خزانہ کے تین ، صحت عامہ / آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے 10 اور مکانات و شہری ترقی محکمہ کا ایک کیس شامل ہیں۔محکمہ صنعت و حرفت کے 9، محکمہ تکنیکی تعلیم کے 2کیسوں کو کئی دستاویزات کی کمی کی وجہ سے واپس کیا گیا ۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 6؍ جولائی 2018ء کو منعقد ہوگی۔
 

منشیات مخالف مہم

بڈگام میں 15گرفتار ،3کوینٹل خشخاش برآمد 

سرینگر //منشیات مخالف مہم کے دوران بڈگام پولیس نے انٹر سٹیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے 15افراد کو حراست میں لے کر اْن کے قبضے سے تین سو کلو گرام خشخاش برآمدکیا۔ ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر بڈگام فیروز یحی ٰاور ایس ایچ او بڈگام رفیع احمد کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے ایچھ گام بڈگام شاہراہ پر ناکہ لگایا۔چنانچہ پولیس اہلکار گاڑیوں کی تلاشی لینے کی کارروائی میں مصروف تھے کہ اس دوران نجی گاڑیوں ہونڈائی ورنا اور دو انوا گاڑیوںکو روکنے کا اشارہ کیا گیا۔ناکہ پارٹی نے تینوں گاڑیوں کی تلاشی لی جس دوران گاڑیوں میں موجود سبز رنگ کے پالتھین لفافوں میں ایک ایک کلو خشخاش کو برآمدکیا گیاجو آٹھ سوٹ کیسوں میں بھراہوا تھا اور جس کی مقدار 323کلو گرام ہے۔ گرفتار شدہ افراد میں سات مرد اور آٹھ خواتین شامل ہیں۔ پوچھ تاچھ کے دوران معلوم ہوا کہ گرفتار شدگان پنجاب اور ریاست جموں وکشمیرمیں منشیات کا کاروبارچلا رہے تھے۔ گرفتار گروہ سے وابستہ افراد خواتین کو اس مقصد کیلئے اپنے ساتھ گاڑیوں میں بٹھا دیتے تھے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ یہاں سیر تفریح پر آئے ہیں۔ ضبط شدہ خشخاش کو پنجاب میں فی کلو 25سو روپیہ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ پولیس کی جانب سے اتنی بڑی مقدار میں خشخاش برآمد کرکے تین قیمتی گاڑیاں برآمد کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مذکورہ افراد ایک بڑے منشیات کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر زیر نمبر 168/2018زیردفعہ 8/18این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔
 

جہلم کے پیسے کہاں گئے:وکیل

سرینگر// جموں وکشمیر بچاؤ تحریک کے صدر عبدالغنی وکیل نے وادی میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے جہلم کے لئے مرکزی سرکار کی طرف سے جو4سو کروڑ روپئے کھدائی کے لئے  واگزا رکئے تھے ،وہ کہا ں گئے کیونکہ زمینی سطح پر دریائے جہلم کی کھدائی کا کام کہیں پر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر دریائے جہلم کی کھدائی کا کام انجام دیا گیا ہوتا تو آج عوام ایک بار پھر سیلابی صورت حال سے خوفزدہ نہیں ہوتے 
 

خانہ بدوش کنبوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے:میاں الطاف

سرینگر // نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر وممبراسمبلی کنگن میاں الطاف احمدنے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سانبہ کے خانہ بدوش کنبوں کو مناسب معاوضہ فراہم کریں جن کی زمین جموں میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے قیام کے تحت لائی جا رہی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وجے پور سانبہ میں جہاں ایمز کی تعمیر عمل میں لائی جا رہی ہے وہاں 200خانہ بدوش کنبے رہائش پذیر ہیں اور اُ ن سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زمینیوں کو خالی کریں ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا ہے کہ اگر علاقے میں سرکار کے پاس بہت ساری زمین دستیاب ہے جس کو استعمال میں لایا جاسکتا تھا تاکہ رہائشی علاقے اس سے متاثر نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ایمز کی تعمیر کے خلاف کوئی نہیں ہے مگر ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ زمین سے بے دخل کر کے لوگوں کوبے گھر کیا جائے ۔میاں الطاف نے گورنر این این ووہرا سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ کنبوں کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی مناسب بازآبادی کاری کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ ان غریب اور پسماندہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے 
 

سرکاری رہائشی کوارٹروں پر غیر متعلقہ افسران براجمان

ضلع انتظامیہ کپوارہ نے خالی کرانے کیلئے کارروائی شروع کی

کپوارہ//ضلع انتظامیہ کپوارہ نے ضلع کے اُن ملازمین اورافسران کو سرکاری اقامتی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے ہیں جنہیں اب تک یہ سہولیات بہم نہیں ہیں کیونکہ ان رہائشی کوارٹروں پر ایسے ملازمین اورآفیسران کا قبضہ ہے جنہیں پہلے ہی ضلع سے تبدیل کیا جاچکا ہے۔ضلع انتظامیہ نے ایک سرکیولر میں کہا ہے کہ ایسے کئی ملازمین اورافسران نے اپنے زیر قبضہ سرکاری رہائشی سہولیات رکھی ہیں جن کا پہلے ہی تبادلہ عمل میں لایا گیا ہے۔جبکہ ضلع مجسٹریٹ کے دفترمیں یہ اطلاع بھی دی گئی ہے کئی سرکاری ملازمین اور افسران نے غیر ضروری طور پر سرکار ی اقامتی سہولیات حاصل کی ہیں جس سے ضلع میں باقی ملازمین اورآفیسران کو رہائشی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے غیر قانونی طور سرکاری رہائشی سہولیت حاصل کرچکے آفیسران اورملازمین سے کہا ہے کہ ان اقامتی سہولیات کو خالی کریں اوردو دن کے اندر اندر ڈی سی آفس کے دفتر کو کوارٹروں کی چابیاں سونپیں۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں انتظامیہ خو دہی سرکاری کوارٹروں کو خالی کروائے گی۔اس کے علاوہ اس سلسلے میں لازمی قانون کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔دریںاثنأ ایگزیکٹیو انجینئر آر اینڈ بی ڈویژن کو کپوارہ اور ہندوارہ میں غیر قانونی طور براجمان ہونے والے آفیسران اورملازمین کے کوارٹروں کے دروازوں پر اس سرکیولر کی کاپی چسپاں کروانے کی ہدایت دی ہے۔
 

سکل کورسوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع

تربیتی پروگراموں کی خاطر82تربیتی ادارے شارٹ لسٹ

سرینگر//جے کے سکل ڈیولپمنٹ مشن نے پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا سکیم کے تحت اُمیدواروں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا ہے۔ جے کے ایس ڈی ایم نے پی ایم کے وی وائی کے تحت تربیتی پروگراموں کی خاطر82 تربیتی اداروں کی شارٹ لسٹنگ کی ہے اور یہ ادارے ریاست کے غیر ہُنر مند ، سیمی ہُنر مند اور بے روز گار نوجوانوں کو مختلف ہُنروں کی تربیت دیں گے۔پی ایم کے وی وائی، ایم ایس ڈی ای کی سکل پر مبنی تربیتی سکیم ہے جس کے تحت اُمیدواروں کی تربیت کے علاوہ پیلس منٹ بھی کی جاتی ہے۔اس سکیم کے تحت اُمیدواروں کا سارا خرچہ سرکار برداشت کرتی ہے۔ جے کے ایس ڈی ایم22 سیکٹروں میں رواں سال کے دوران 14900 اُمیدواروں جبکہ2019-20 کے دوران لگ بھگ32 ہزار اُمیدواروں کو تربیت دے گا۔یہ تربیتی پروگرام این ایس کیو ایف کے رہنما خطوط کے مطابق منعقد کئے جائیں گے۔ہر ایک ہُنر میں اُمید واروں کو150 سے600 گھنٹے کی تربیت دی جائے گی ۔علاوہ ازیں تربیت پانے کے بعد اُمیدواروں کی پلیس منٹ میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔ اُمیدوار جسٹریشن کی خاطر جے کے ایس ڈی ایم کی ویب سائٹwww.jkssdm.org پر لاگ آن کرسکتے ہیں۔اس حوالے سے درخواست فارم جے کے ایس ڈی ایم کے دفتر جموں / سرینگر میں بھی دستیاب ہوں گے۔
 

سپریم کورٹ کا تاریجی فیصلہ

صحافیوں کو کورٹ رومز میں موبائیل فون لے جانے کی اجازت

نئی دہلی //ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ میں تمام تسلیم شدہ اور غیر تسلیم شدہ صحافیوں کو کورٹ رومز میں موبائیل فون اندر لانے کی اجازت دی گئی تاہم موبائیل فونز کو سائلنٹ موڑ پر رکھنے کی ہدایت دی گئی ۔اجازت ملنے کے ساتھ ہی اس بات کی وارننگ بھی جاری کی گئی کہ اگر موبائیل فون سے عدالت میں کسی قسم کی خلل ہوئی تو موبائیل فون ضبط کئے جائیں گے۔ اس سے پہلے ایک سرکیولر جاری کیا گیا تھا جس میں لکھا تھا کہ عزمآب چیف جسٹس آف انڈیا کو اس بات کی خوشی ہے کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور صحافیوں ، جن کو چھ مہینوں کے لئے پاس فراہم کئے گئے ہیں، کو کورٹ روموں میں موبائیل فون ساتھ لانے کی اجازت دی گئی ہے بشرطیکہ فون کو سائیلنٹ موڑ پر رکھا جائے۔مگر ساتھ ہی یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا کہ اگر کسی کے موبائیل فون سے کورٹ روم کے اندر کھلبلی مچتی ہے تو کورٹ ماسٹر اُس کا موبائیل فون ضبط کرکے ایڈیشل رجسٹرار سیکورٹی کے حوالے کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس سے پہلے مئی کے مہینے میں ایک سرکیولر جاری کیا گیا تھا جس میں صرف تسلیم شدہ صحافیوں کو ہی کورٹ خانہ میں موبائیل فون لانے کی اجازت ملی تھی، تاہم بعد میں چند صحافیوں کی طرف سے یہ معاملہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی نوٹس میں لانے کے بعد تمام میڈیا سے منسلک افراد ،جن کے پاس چھ مہینوں کے لئے رجسٹری کی طرف سے پاس اجرا کئے گئے ہیں ،وہ کورٹ خانہ میں موبائیل فون ساتھ لے جاسکتے ہیں۔عدالتی کاروائی کی کورنگ کرنے والے صحافیوں نے  اس فیصلے کی سراہنا کرتے ہوئے اسے ایک اچھی خبر قرار دیا ہے۔ 
 

حکیم یٰسین گورنر سے ملاقی 

 خانصاحب میںتعمیراتی سرگرمیوں میں سرعت لانے کی مانگ

 سرینگر// پی ڈی ایف چیرمین حکیم یٰسین نے کل بڈگام ضلع ہیڈکوارٹر پر گورنر این این ووہرا سے مُلاقات کی اور اُنہیں ضلع بڈگام خاصکر حلقہ انتخاب خانصاحب میں تعمیر و ترقی کے بارے میں ضروری جانکاری دلائی۔ انہوں نے گورنر کا خوش آمدید کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اُن کے دورہ بڈگام سے ضلع کے مُختلف علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں میں سُرعت آئے گی اور لوگوں کے مصائل کا ازالہ ہوگا۔حکیم یاسین نے گورنر کو حلقہ انتخاب خانصاحب میں تعمیر و ترقی کے کاموںمیں سُرعت لانے کیلئے ایک عرضداشت پیش کی جن میں مُختلف ترقیاتی کاموں کو فوری طور مُکمل کرنے کیلئے رقومات واگزار کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ 
 

سرحدپارسرجیکل اسٹرائیک فسانہ نہیں حقیقت:ہوڈا

سری نگر//فوج کی شمالی کمان کے سابق سربراہ ریٹائرڈجنرل ڈی ایس ہوڈانے سرجیکل اسٹرائیک کوفسانہ نہیں حقیقت قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اگراُس وقت ضرورت پڑتی توہندوستان مزید فوجی جوان ایل او سی پار بھیجنے کیلئے تیار تھا۔ایک انٹرویومیں سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ تیارکرنے والی فوج کی شمالی کمان کے سابق جنرل کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ڈی ایس ہوڈا نے کہاہے کہ ہم نے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد سبھی ممکنہ نتائج کے بارے میں غور کیا تھا، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ اگر پاکستان جوابی کارروائی کرتا ہے تو ہم کیا کریں گے؟۔انہوںنے مزید کہاکہ ہم نے الگ الگ حالات پرغوروخوض کیا تھا اور ان حالات میں اُٹھائے جانے والے اقدامات پر منصوبہ تیار کیا تھا۔تاہم ریٹائرڈ  لیفٹیننٹ جنرل نے واضح کیا’میں تفصیل میں نہیں جائوں گا، لیکن یقینی طور پر ہماری توجہ اس پر تھی‘۔سرجیکل اسٹرائیک کے پالیسی ساز ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈاکامانناہے کہ وہ اس بات کو لے کر مطمئن تھے کہ اگر پاکستان جوابی کارروائی بھی کرے گا تو وہ بہت محدود ایکشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلے میں محدود فوجی صلاحیت کی وجہ سے پاکستان اتنے بڑے اقدامات نہیں اُٹھائے گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوجائے۔ہوڈانے اس بات کا اعتراف کیا کہ فوج اس سے پہلے بھی کئی بار سرجیکل اسٹرائیک کوانجام دے چکی تھی ۔انہوں نے کہا کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک بہت بڑے پیمانے پرکیا گیا تھا اور دوسری بات پہلی بارحکومت نے کھل کراعتراف کیا تھا کہ ہم نے سرحدکے اس طرف جاکر سرجیکل اسٹرائیک کو انجام دیا ہے۔واضح رہے کہ2016 میں28اور29 ستمبر کو فوج نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیرمیں مبینہ طورپرایل ائوسی کے نزدیک قائم جنگجوئوں کے ایک کیمپ یالانچنگ پیڈپر سرجیکل اسٹرائیک کرنے کادعویٰ کیاتھاتاہم پاکستانی فوج اوروہاں کی حکومت نے ایساکوئی حملہ ہونے کی سختی کیساتھ تردیدکی تھی۔
 

موجودہ اور نئے سیاحتی یونٹوں کا اندراج

محکمہ سیاحت قواعد وضوابط میں شفافیت کو یقینی بنارہا ہے

سرینگر//ریاستی میں موجودہ اورنئے سیاحتی یونٹوں کے اندراج کے عمل کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ سیاحت وضع کردہ قواعد وضوابط پر سختی سے عملدر آمد کررہاہے۔محکمے کی طرف سے جاری کئے گئے نئے حکمنامے کے تحت ثبوت کے لئے فوٹو گرافس ،علاقے میں موجود ماسٹرپلان پر عمل آوری،بلڈنگ کوڈ پر عملدر آمد اورپارکنگ جگہ کی نشاندہی اب لازمی قراردی گئی ہے۔سیکریٹری سیاحت آر سمپھل کی طرف سے 29جون 2018کو جاری کئے گئے ایک حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ بااختیار آفیسران اس بات کی پوری جانچ کریں گے کہ آیا ماسٹر پلان کی شقوں پر پوری طرح عملد رآمد ہورہا ہے یا نہیں۔اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ علاقے میں کسی بھی طرح بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی تو نہیں ہوتی ۔اب سے آگے نیا اندراج جگہ کے فوٹو گراف شواہد کی بنیاد پر ہی کیاجائے گا۔یہ فوٹو گراف ہوٹل اور گیسٹ ہائوس کے اندراج کے لئے نامزد با اختیار دفتر/اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹورازم میںایک اہم دستاویز کے طور پر جمع کئے جائیں گے۔
 

بانڈی پورہ میںتربیتی پروگرام 

سرینگر//ایس ایس پی بانڈی پورہ شیخ ذوالفقار آزاد نے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز بانڈی پورہ میں سیلاب سے ایک تربیتی کیمپ کا افتتاح کیا۔ اس پروگرام میں ڈسٹرکٹ پولیس بانڈی پورہ ، ایس ڈی آر ایف ، ہوم گارڈ رضا کار اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
 

غلام نبی سمجھی کا اظہار تعزیت

سرینگر// حریت (گ)جنرل سیکریٹری غلام نبی سمجھی نے نانی بُگ کولگام کے عبدالرحمان وانی کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تحریکی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ حریت رہنما نے کہا کہ مرحوم کو بزرگ مزاحمتی رہنماسید علی گیلانی کے ساتھ خاصی قربت تھی۔ ان کے ایصال وثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
 

ظفر اکبر کا جاں بحق افراد کو خراج عقیدت

سرینگر//سالویشن مومنٹ چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے بٹہ مالو اور گنگ بگ جاکر 2010 کے دوران جاں بحق کئے گئے مظفر احمد، یاسمینہ جان اور فیاض احمد کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ ’ہمارے جگر گوشوں کی قربانیوں کی بدولت ہی آج مسئلہ کشمیر عالمی ایوانوں میں گونج رہا ہے ‘۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نونہال قوم کے روشن مستقبل کی خاطر قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ 
 

زچلڈارہ کا سماجی کارکن فوت

کپوارہ/اشرف چراغ / زچلڈارہ ہندوارہ کا سماجی کارکن پرویز احمد خان دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوگیا۔اس موقع پر سماج کے مختلف طبقوں پسماندگان سے تعزیت کی اور مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کی۔
 

امتحانات کے احسن انعقاد،نظم و ضبط اورصاف و شفاف ماحول قائم کرنے کا جائزہ لیا گیا

سرینگر//محکمہ تعلیم کی طرف سے لیہہ اور کرگل سمیت کشمیر ڈویژن میںپانچویں سے آٹھویں جماعت تک کے ٹرم فسٹ امتحانات کا سلسلہ جار ی ہے اور امتحان کے احسن انعقاد کے لئے ایس آئی ای کشمیر اور مختلف ضلع ڈائٹ مراکز کی طرف سے خاطرخواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایس آئی ای کشمیر کے سربراہ اورامتحانی امور کے انچارج محبوب حسین نے کئی معائنہ ٹیموں کو مختلف اضلاع کے دوروں پر روانہ کیاجس دوران ٹیموں نے امتحانات کے احسن انعقاد، بچوں کو دی جارہی سہولیات ، نظم و ضبط اور امتحانی مراکز میںصاف و شفاف ماحول قائم کئے جانے کا جائزہ لیا۔ مختلف ٹیموں کو روانہ کرتے ہوئے محبوب حسین نے کہا کہ امتحانات کے دوران بچوں کو اچھا ماحول فراہم کرنا لازمی ہے تاکہ چھوٹے کلاسز کے امتحانات کے دوران بچوں کو حاصل موافق ماحول سے اُنہیں آگے کے امتحانات میں حصہ لینے کے لئے حوصلہ افزائی ہو۔ آج روانہ کی گئیں معائنہ ٹیموں میں محمد مصطفیٰ لیکچرر کی سربراہی میں معائنہ ٹیم کو بڈگام، محمد ابراہیم ماسٹر کی سربراہی میں ٹیم کو گاندربل جبکہ ڈاکٹر رابیہ لیکچررکی سربراہی میں معائنہ ٹیم کو پلوامہ کے لئے روانہ کیا گیا۔ معائنے کے دوران ان ٹیموں نے مختلف امتحانی مراکز کا معائنہ کرکے بچوں کو دی جارہی سہولیات کا جائزہ لیا۔بڈگام ٹیم نے ہائی سکول چھون، مڈل سکول رازوین، ہائر سیکنڈری سکول پارنیوا اور دیگر سکولوں کا معائنہ کیا۔ گاندربل ٹیم نے بائز ہائی سکول واکورہ ، ہائی سکول ڈب، مڈل سکول ربتار، ہائی سکول منی گام اوردیگر سکولوںمیں قائم کئے گئے امتحانی مراکز کا معائنہ کیا جبکہ پلوامہ ٹیم نے ہائی سکول کنہ بل، ہائی سکول کھریو، ہائی سکول لدو ، ہائی سکول ترال اور دیگرسکولوں میں قائم کردہ امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔ اس دوران مذکورہ ٹیموں نے امتحانات کے ساتھ ساتھ درس وتدریس سے متعلق دیگرکئی معاملات کابھی جائزہ لیا۔ 
 

۔ 800 سکولوں میں جدید طرز کی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی:سیکریٹری تعلیم 

 سرینگر//ریاست جموں و کشمیرکے 800 سکولوں میںجدید طرز کی آئی سی ٹی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی تاکہ طلاب  بین الاقوامی سطح پر استفساری پروگراموں میں حصہ لے کر جدید دور کی تعلیمی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ان باتوں کا اظہار سیکریٹری تعلیم فاروق احمد شاہ نے کل ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن میں عالمی شہرت یافتہ رضاکار تنظیم (Tony Blair Institute for Global Change, US) کے تعاون سے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو عالمی سطح پر مختلف جدید ایجادات اور ٹیکنالوجی سمیت عالمی بدلاؤ سے متعلق آگاہ کرنا ضروری ہے۔ سیکریٹری تعلیم نے کہا کہ یہ سب تبھی ممکن ہے جب طالب علموں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے طلباء اور ماہرین سے تبادلہ خیال کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے۔ورکشاپ کے دوران ناظم تعلیم کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو نے کہا کہ طلباء کی شخصیت کو نکھارنے اور اُن کو عالمی سطح کی تعلیمی سہولیات سے باخبر کرناوقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عالمی شہرت یافتہ مذکورہ رضاکارتنظیم کے تعاون سے محکمہ تعلیم نے پچھلے کئی مہینوں میں ویڈیوکانفرنسوں کے ذریعے کئی اساتذہ کو تربیت فراہم کی۔
 

علی میاں پبلک سکول لولاب میں کانفرنس

مقتدر علماکی شرکت ،نئی پود میں اخلاقیات کی تعلیم دینے پر زور

اشرف چراغ 
 
کپوارہ//وادی لولاب کے واورہ میں علی میاں پبلک سکول کی جانب سے مولانا ابوالحسن علی ندوی ایجوکیشنل ویلفیئر نے ایک روز ہ تعلیمی کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں مقتدر علماء جن میں شیخ الحدیث و تفسیر دارلعلوم ندوۃالعلما ء مولانا محمد خالد حسین غازی ،مولانا الیاس ندوی اور مولانا قاری محمد ریاض نے شرکت کی جبکہ علاقہ بھر سے آئے ہوئے لوگو ں کی ایک بھاری تعداد کے علاوہ طلبہ کی ایک بڑی بھیڑ جمع تھی ۔تعلیمی کانفرنس میں وادی کے علاوہ بیرون ریاستو ں کے علما ء نے بھی شرکت کی ۔علی میا ں پبلک سکول کے چیئر مین محمود الحسن نے تعلیمی کانفرنس منعقد کرنے کے بنیادی اغراض و مقاصد کو اجاگر کیا اور مذکورہ سکول کا مختصر تعارف کیا ۔انہو ں نے کہا کہ اس سکول کو قائم کر نے کا بنیادی مقصد نئی پود کو مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی اور اخلاقی تعلیم سے آراستہ کرنا ہے تاکہ ہمارا سماج کی ایک بہتر تعمیر ہو سکے ۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ وادی لولاب کو قدرت نے حسن دینے کے ساتھ ساتھ علم کا ایک گہوارہ کے طور پیش کیا ہے اور اس زمین سے برصغیر کے ایک نامور عالم الدین حضرت مولانا انور شاہ کشمیری نے جنم لیا ۔اس موقع پر کہا گیا کہ والدین اپنے بچو ں کو دیناوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تعلیم دینے میں ایک اہم رول ادا کریں ۔