مزید خبریں

کشمیر کے لوگوں کی سیکولر تاریخ کو نہیں بھولنا چاہئے : بھیم 

۔1947سے کشمیر کے لوگ سرحد پار سے ہورہے حملوں کو جھیل رہے ہیں

جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی ٰپروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے تمام لوگوں سے ان کے مذہب اور سیاسی وابستگی سے متحد ہونے کی اپیل کی جس سے پوری جموں وکشمیر ریاست کو ترقی کا موقع ملے گااور ریاست میں امن بحال ہوسکے ۔ انہوں نے پورے ملک کے لوگوں کو جموںوکشمیر کے لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا جو 1947میں ہندستان کی تقسیم کے وقت سے سیکولرزم پر اعتماد کرتے ہوئے حکومت ہند کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ وادی کشمیر کے لوگوں کی سیکولر تاریخ کو نہیں بھولنا چاہئے جو 1947سے وادی کشمیر میں سرحد پار سے ہورہے حملوں کو جھیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ شر پسند عناصر امن کی زمین پر ماحول کو خراب کرنے کے لئے ریاست کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں پردیش کی نئی نسل سے 1846میں دستخط کئے گئے امرتسر معاہدہ سے قبل کی جموں وکشمیر کی تاریخ اور ڈوگرہ حکمراں کی قیادت میں 1846کے بعد کی رقم کی گئی تاریخ کا مشاہدہ کرنے کی اپیل کی جب مہاراجہ گلاب سنگھ نے جموں وکشمیر کے مہاراجہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔مہاراجہ گلاب سنگھ نے خو د ڈوگرہ فوجیوں کے ساتھ کشمیرکی جامع مسجد کی صفائی کی تھی جس سے مقامی مسلمان آسانی سے عبادت کرسکیں۔ انہوں نے ادھم پور اور رام نگر کے لوگوں کا سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے خیالات ظاہر کرنے پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ نئی نسل انہیں سمجھنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے  کہا کہ1982میں جس مشن کے تحت انہوں نے پنتھرس پارٹی قائم کی تھی وہ آج بھی میرے ذہن میں قائم ہے کہ جمہوریت کی روح سیکولرزم ہے جو ملک اور ریاست کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنتھرس پارٹی ایک مشن کے ساتھ جموں وکشمیر کی تشکیل نو کے لئے کھڑی ہے۔انہوں نے پنتھر س پارٹی کے تمام رضاکاروں او ر ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ  صرف اپنی ریاست کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے بارے  میں سوچیں جس میں تمام مذاہب اور تمام طبقات کے لوگ رہتے ہیں۔ 
 

لو پیڈ ایمپلائز فیڈریشن کی سرکار سے میڈیکل الائونس بڑھانے کی مانگ 

جموں // جموں کشمیر لو پیڈ امپلائزفیڈریشن کی صوبائی کمیٹی نے کابلا سنگھ کی سربرائی میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا۔اس دوران انہوں نے سرکار سے میڈیکل الائونس 300سے 1000تک بڑھانے کی مانگ کی اور کہا کہ دور حاضر میں طبی خرچہ بہت بڑھ گیا ہے اس لئے میڈیکل الائونس کو بڑھایا جانا چاہئے۔انہوں نے سرکار سے یہ بھی مانگ کی کہ ڈیلی ویجروں کی بحالی جلد از جلد یقینی بنائی جائے جو سابق حکومت کا اٹھایا ہواقدم ہے اُسے پائے تکمیل تک پہنچایا جائے۔میٹنگ کے دوران تنطیم کے صدر عبدالمجید خان نے کہا کہ کئی لو پیڈ ملازمین نے اپنی جائز مانگیں پوری کرنے کے لئے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے ریاست میں دھرنے بھی دئے لیکن ان مطالبات پر غور نہیں کیا گیا اسلئے سرکار سے اپیل کی جاتی ہے کہ فوری طور پر سروشکشا ابھیان ،رمسا،روسااور آئی سی دی ایس محکموں کے ملازمین جن کو نئی پنشن سکیم کے تحت  تعینات کیا گیا ہے ان کو وقت پر تنخواہیں فراہم کی جائیں۔انہوں نے سرکار سے مانگ کی کہ 2009تا2016تک کے پنشن والے ملازمین کو باقی بچا ایریر دیا جائے ۔میٹنگ میں عبدلمجید خان کے علاوہ صوبائی صدر جگدیش راج شرما،کرشن سنگھ اور اوم پرکاش کے وغیرہ موجود تھے۔
 
 

جموں ویسٹ اسمبلی مومنٹ کی اسمبلی و کونسل کو تحلیل کرنے کی اپیل

جموں // جموں ویسٹ اسمبلی مومنٹ کے صدر سنیل ڈمپل نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ فوری طورپر ریاستی قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کو تحلیل کر ے۔پریس کے نام جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ریاست میں جب گورنر راج نافذ ہو چکا ہے اب یہ سیاست دان کام کاج میں رکاوٹ نہ ڈالیںجب کہ نیشنل کانفرنس ،کانگرس اور پی ڈی پی تینوں جماعتوں نے بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے سے مکمل طور پر انکار کر دیا ہے ۔ انہوں نے گورنر سے یہ بھی مانگ کی ہے کہ وہ تمام وزراء اور اسمبلی ممبران کو جلد از جلد ان کو سرکاری کواٹر خالی کرنے کی ہدایت دیں۔انہوں نے بھاتیہ جنتا پارٹی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت گورنر ہاوس کا نا جائز استعمال کر رہی ہے اس لئے گورنر کو ان کے خلاف ٹھوس اقدامات آٹھانے چاہئے۔ڈمپل نے گورنر سے مانگ کی کہ وہ اپنے ایک ایڈوائزرکوجموں سیول سیکرٹریٹ میں تعینات کرے تاکہ جموں کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے۔   
 

رام بن میں ٹرک نذر آتش کرنے کی شدید مذمت 

جموں//27جون کو مویشی لیجا رہا ٹرک کو کچھ شر پسند عناصروں نے رام بن کے کہو باغ کے مقام پر نذر آتش کیا گیا تھا ، کو پولیس کی ملی بھگت قرار دیتے ہوئے  جنرل سیکریٹری گوجر بکروال اصلاحی کمیٹی چوہدری اختر نے کہا کہ اگر پولیس ان شر پسند عناصر لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتی تو ایسا سانحہ کبھی پیچ نہیں آتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب سے بھاجپا پی ڈی پی حکومت وجود میں آئی تھی ، پی ڈی پی نے نا صرف شرپسندوں کو فرقہ پرستی کا کھیل کھیلنے کی کھلی چھوٹ دیدی تھی بلکہ پروین توگڑیا،آر ایس ایس کے موہن بھاگوت کو بھی جموں میں تین روز قیام اور بھاجپا و آر ایس ایس کے لوگ ہتھیاروں کولیکرکھلے عام فرقہ پرستی کا مظاہرہ مسلم بستیوں میں کرتے ہوئے مسلمانوں کو حراساں کر رہے تھے۔لیکن پی ڈی پی نے زباں بند کرنے کی قسم کھا رکھی تھی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں طاقت کا استعمال جاری ہے اور قبائلی خانہ بدوش صدیوں سے نقل امکانی کرتے چلے آرہے ہیں اور راجا مہاراجوں کے وقت سے لیکر ابھی تک سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جو دودھ خود مال مویشی پنجاب سے ریاست میں لایا جاتا ہے۔
 
 
 

بھارت درشن پر گئے طلباء کی واپسی پر شاندار استقبالیہ تقریب منعقد 

جموں// سیوک ایکشن پروگرام کے تحت 33 بٹالین سی آر پی ایف کی طرف سے صوبہ جموں سے ’بھارت درشن‘  پر گئے طلباء کے واپس لوٹنے پر جموں میں شاندار استقبال کیا گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال سی آر پی ایف کی طرف سے بھدرواہ  فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا تھا، کے جیت حاصل کرنے والے طلباء کو گوا بھارت درشن کیلئے بھیجا گیا تھا۔ سی آر پی ایف کےDIG اوپریشنز پی سی جھا استقبالیہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی تھے۔اس موقع پر پی سی جھا نے بھارت درشن پر گئے تمام طلباء کو مبارکباد پیش کی ۔انہوں نے کہا یہاں سے طلباء کے سمیت 18افراد27جون کو گوا کو روانہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جموں و کشمیر سے گئی فٹ بال ٹیم نے وہاں دوستانہ میچ بھی کھیلا۔اس موقع پر اے پدما کمار ، نیرج تیاگی، نیلم کنینوال، جیوتیش کمار منڈل، جوسپ ہریمائی موجود تھے۔
 
 
 
 

خانہ بدوش کنبوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے:میاں الطاف

سرینگر // نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر وممبراسمبلی کنگن میاں الطاف احمدنے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سانبہ کے خانہ بدوش کنبوں کو مناسب معاوضہ فراہم کریں جن کی زمین جموں میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے قیام کے تحت لائی جا رہی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وجے پور سانبہ میں جہاں ایمز کی تعمیر عمل میں لائی جا رہی ہے وہاں 200خانہ بدوش کنبے رہائش پذیر ہیں اور اُ ن سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زمینیوں کو خالی کریں ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا ہے کہ اگر علاقے میں سرکار کے پاس بہت ساری زمین دستیاب ہے جس کو استعمال میں لایا جاسکتا تھا تاکہ رہائشی علاقے اس سے متاثر نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ایمز کی تعمیر کے خلاف کوئی نہیں ہے مگر ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ زمین سے بے دخل کر کے لوگوں کوبے گھر کیا جائے ۔میاں الطاف نے گورنر این این ووہرا سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ کنبوں کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی مناسب بازآبادی کاری کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ ان غریب اور پسماندہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔