مزید خبریں

چکھڑی بن کے لوگ 2برسوں سے بجلی سپلائی سے محروم 

ناکارہ ٹرانسفارمرمرمت کامنتظر، متعلقہ محکمہ کوعلم ہی نہیں

عشرت حسین بٹ
 
منڈی//تحصیل منڈی سے 15کلو میٹر دوری پر دو سو سے زائد نفوس پر بسا ہوا گاوں چکھڑی بن کے لوگ گزشتہ دو برس سے اپنے گھروں میں بجلی کے بلب میں روشنی دیکھنے کے منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق دو برس قبل علاقہ کا بجلی ٹرانسفرمر جل گیا تھا جو محکمہ بجلی کے ملازمین کی لاپرواہی کی وجہ سے دو سال سے تاحال مرمت نہیں کیاگیاہے۔علاقہ کے لوگ  گزشتہ دو سال سے رات کو چمنی جلا کر اپنا گزار ہ کر رہے ہیں ۔یہاں کے لوگوں کے مطابق وہ متعدد بار محکمہ کے افسران کے پاس ٹرانسفارمر کی مرمت کے حوالے سے چکر کاٹ چکے ہیں مگر ابھی تک اس علاقے کے ٹرنسفارمر کی مرمت نہیں کی گئی علاقہ کے ایک مقامی شخص محمد یوسف نے کشمیر عظمی کو جانکاری دیتے ہویے کہا کہ اس علاقہ ایک سو سے زاید گھر آباد ہیں جو دو سو سے زاید نفوس پر مشتمل ہیں مگر انہیں گزشتہ دو سال سے اندھیرے میں اپنی زندگی گزار نی پڑتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سائنس اینڈ ٹکنالوجی کی طرف سے گاوں میں سولر لایٹس بانٹی گئی تھیں جو رات کو محض ایک گھنٹہ چلتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ترقی یافتہ دور میں جہاں انسان چاند پر پہنچ گیا وہیں پر ان کا علاقہ گھپ اندھیرے میں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ علاقہ میں بجلی نہ ہونے کے کارن طلباء کا مستقبل بھی اندھیرے کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال سے اس علاقہ کی عوام محکمہ بجلی کے دفتروں میں جا کر افسران سے ٹرنسفارمر کی مرمت کے حوالے سے جا رہے ہیں مگر محکمہ کے آفسران ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ۔علاقہ کی عوام نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ محکمہ بجلی کے افسران کو ہدایات جاری کریں اور جلد از جلد علاقہ میں نیا ٹرانسفرمر یا اسی ٹرنسفارمر کی مرمت کروایں تاکہ علاقہ میں بجلی سپلائی بحال ہو سکے ۔لوگوں نے مزید کہا کہ اگر ایک ہفتہ کے اندر علاقہ میں بجلی بحال نہ کی گئی تو وہ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے۔ اس حوالے سے کشمیر عظمی نے محکمہ بجلی کے ایگزیکٹیو محمد مقبول نائیک سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کو اس حوالے سے کوئی علم نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو جلد ہی علاقے کا ٹرنسفارمر ٹھیک کیا جائے گا اور بجلی سپلائی کو بحال کیا جائے گا۔
 
 
 

اعلیٰ حکام کی ہدایات پرعمل نہ کرنے کامعاملہ

راجوری کے 12زیڈای اوزکووضاحتی نوٹس جاری

راجوری//محکمہ تعلیم نے روزانہ بنیادوں پر ملازمین کی حاضری کی تفصیلات جمع نہ کرنے کی پاداش میں 12 سینئر آفیسروں کونوٹس جاری کیے ہیں۔محکمہ تعلیم کے ایک عہدیدارنے کشمیرعظمیٰ کوبتایاکہ باربارہدایات دینے کے بعدروزانہ بنیادوں پرملازمین کی حاضری جمع نہ کرنے کے بعدراجوری ضلع کے 12 زونل ایجوکیشن افسران کونوٹس جاری کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کے پاس کوئی دوسراطریقہ نہیں بچاتھاکہ وہ تمام زیڈای اوزکونوٹس جاری کرتا۔انہوں نے کہاکہ صرف تین زیڈای اوزبشمول خواص، ڈنڈیسر اورڈونگی نے حاضری جمع کرنے کی ہدایات پرمن وعن عمل کیاہے جبکہ 12زیڈای اوزبشمول راجوری، بال جرالاں، منجاکوٹ، تھنہ منڈی،درہال،پیڑی،کوٹرنکہ، کالاکوٹ، موگھلا، سندربنی ،لوئرہتھل اورنوشہرہ ہدایات کی پیروی کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں وضاحتی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ق
 

سڑک حادثے میں پولیس اہلکارزخمی 

راجوری//ایک سڑک حادثے میں ایک پولیس اہلکارشدیدزخمی ہوگیاہے۔ تفصیلات کے مطابق راجوری کے سندربنی علاقہ میں موٹرسائیکل اورمنی بس کی ٹکرکے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شدیدزخمی ہوگیاہے جس کی شناخت ایس پی اوراجیش کمارجوسندربنی علاقے میں تعینات تھا۔ذرائع نے بتایاکہ ایک موٹرسائیکل مخالف سمت سے آرہی منی بس زیرنمبری JK11-2674 کے ساتھ تتاپانی کے مقام پرٹکراگیاجس کے نتیجے میں پولیس اہلکار شدیدزخمی ہوگیاجسے فوری طورپرسندربنی ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں سے اسے جموں میڈیکل کالج ریفرکیاگیا،زخمی اہلکارکی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔اس سلسلے میں پولیس نے معاملہ درج کرلیاہے۔
 

پہاڑی سے پھسل کر  نوجوان کی موت

راجوری//ایک خانہ بدوش اونچائی سے گرکرجان بحق ہوگیاہے جس کی شناخت حبی کوٹرنکہ کے عبدالعزیزکے طورپرہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق24سالہ نوجوان گھمسر ڈھوک جوکوٹرنکہ اوربدھل کے درمیان واقع ہے ،مویشیوں کوچرانے گیاتھاجہاں اس کاپائوں پھسلااوروہ بلندی سے گرکرگہری کھائی میں جاگراجس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔متوفی کی نعش کوآخری رسومات کی ادائیگی کیلئے آبائی گائوں پہنچائی گئی ہے۔
 

این ایچ ایم ملازمین کی مستقلی کیلئے پالیسی تشکیل دینے کامطالبہ

پونچھ //این ایچ ایم ایمپلائزیونین پونچھ نے ریاستی گورنرسے پرزراپیل کی ہے کہ نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز کی مستقلی کیلئے پالیسی بناکران کی جائزمانگ کوپوراکیاجائے۔اس سلسلے میں رضاگنائی نے پریس بیان میں کہاکہ محکمہ صحت میں این ایچ ایم کے تحت 10ہزارملازمین تعینات ہیں جن میں آربی ایس کے،این سی ڈی ایس ،آئی ڈی پی ایس ،آراین ٹی سی پی ،جے کے ایس اے سی ایس ،این اے سی اوشامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ این ایچ ایم کے تحت تعلیم یافتہ ملازمین تعینات ہیں لیکن دیگرڈیپارٹمنٹوں کے ملازمین کومستقل کیاجاتاہے لیکن این ایچ ایم ملازمین کی مستقلی کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے ۔
 

آتشزدگی کے نتیجے میں مکان خاکستر

راجوری//ضلع کی منجاکوٹ تحصیل کے کٹرمل گائوں میں ایک رہائشی مکان کوپراسرارطورپرآگ لگ جس کی وجہ سے وہ جل کرخاکسترہوگیا۔ذرائع کے مطابق شاہنوازولد اعظم احمد ساکن کٹرمل ،تحصیل منجاکوٹ ضلع راجوری کے کثیرمنزلہ مکان کوپراسرارطورپرآگ لگ گئی ۔محکمہ پولیس اہلکاراطلاع ملتے ہی موقعہ پرپہنچے اوربچائوکاروائیاں شروع کیں لیکن آگ بجھانے تک مکان بری طرح خاکسترہوچکاتھاتاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ کنبے کوریلیف فراہم کی جائے۔
 

افغانستان میں دہشت گردانہ حملے پرسکھ تنظیموں کی مذمت 

حسین محتشم 
 
پونچھ// افغانستان میں دہشت گردوں کی طرف سے سکھوں پر کئے گئے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے پونچھ کی متعدد سکھ تنظیموں نے شدید ناراضگی کا اظہارکیا ہے۔سکھ نوجوانوں کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں انہوں نے اس سانحہ کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سکھ اس کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔احتجاجی مظاہر کے دوران سکھ نوجوانوں نے کہا کہ جن سکھوں پر حملہ ہوا ہے یہ افغانستان کے صدر سے ملاقات کرنے جارہے وفد کا حصہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ طبقہ کے لوگ اترانچل، نیپال، اڑی، مظفراباد، میں امن کی اور بھائی چارے کی فضا قائم کئے ہوئے ہیں نہ جانے کیوں ان پر اس قدر کا حملہ کیا گیا جو انسانیت سوز ہے۔ اس موقع پر جن تنظیموں نے حصہ لیا ان میں اے ائی ایس ایس ایف مشنری کالج، سکھ انٹریکچول فورم کے اور دیگر تنظیموں کے ہرچرن سنگھ خالصہ، منموہن سنگھ، ہارا سنگھ، موہن سنگھ، یربخش سنگھ، ہرمندر سنگھ، ہر۔مہندر سنگھ کے علاوہ پنجاب سے آئے ہوئے سکھ موجود تھے ۔ جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیقات کروانے کے لئے حقوق انسانی کی تنظیموں سے مداخلت کی اپیل کی۔
 

پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں کے استعمال پرپابندی کاحکمنامہ جاری 

BGSBUیونیورسٹی عہدیداران کوآرڈر کی پاسداری کی ہدایت

نیوز ڈیسک
 
راجوری//باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو) راجوری انتظامیہ نے یونیورسٹی کیمپس میں معدنیاتی پانی کی پلاسٹک بوتلوں کوتقریبات کے دوران استعمال کرنے پرپابندی عائد کردی ہے۔یہاں جاری ایک حکمنامہ جسے وائس چانسلرکے پرائیویٹ سیکریٹری کے دفترسے جاری کیاگیاہے کے مطابق تجزیہ کاروں نے پایاہے کہ اوسطاً 325پلاسٹک پارٹیکل فی لیٹرپانی کی بوتل جوبازارمیں فروخت ہوتی ہے میں ہوتے ہیں اورمنرل واٹربوتلیں جونان ڈی گریڈیبل ہوتی ہیں ،ماحولیات کونقصان پہنچانے کاسبب بنتی ہیں۔آرڈرمیں محکمہ ایکالوجی اینڈریموٹ سنسنگ کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری کابھی حوالہ دیاہے کہ کس طرح پلاسٹک ماحولیات کیلئے نقصان دہ ہے۔جاری حکمنامے میں تمام ڈینز ، ڈائریکٹروں،ایچ اوڈیز ،کنٹرولنگ آفیسرس، یونیورسٹی پالی ٹیکنک پرنسپلوں ،بی جی ایس بی یو نرسنگ کالج آف جموں اورکشتواڑاورانچارج کیمپ آفس جموں،سرینگرریجنل آفس اورکشتواڑ سب آفس انچارج سے کہاگیاہے کہ وہ کانفرنسوں،میٹنگوں،ورکشاپوں ،سیمیناروں اوردیگرتقریبات میں پلاسٹک کی بوتلوں کااستعمال نہ کریں۔
 
 
نیشنل کانفرنس میں پی ڈی پی ورکرکی شمولیت کادعوی بے بنیاد:رشیدقریشی 
پونچھ //پی ڈی پی لیڈر ایڈوکیٹ محمدرشیدقریشی نے دعویٰ کیاہے کہ لوہر گا  ہنی پنچاہت حلقہ سے کسی بھی پی ڈی پی کے ورکر نے نیشنل کانفرنس مہیں شمولیت نہیں اختیار کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس کادعویٰ بے بنیاداورجھوٹ کاپلندہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جن اشخاص کا نیشنل کانفرنس میں شامل ہونے کیلئے کہاگیاوہ تمام  پہلے سے ہی نیشنل کانفرنس کے ورکر تھے ،کوئی بھی پی ڈی پی کا ورکر اس میٹنگ میں موجود نہ تھا۔انہوں نے کہاکہ مقامی لوگوں نے ناراضگی کے سبب اس میٹنگ میں شرکت نہ کی تھی۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے اس میٹنگ کوکامیاب بنانے کیلئے اس میں سرکاری ملازم بلائے تھے۔انہوں نے کہاکہ گاہنی گاوں دو پنچائتوں پر مبنی دور دراز باڈر علاقہ ہے جہاں کوئی تعمیروترقی نہ کے برابر ہے۔انہوں نے کہاکہ میٹنگ حاجی منشی, چوہدری منیر, محمد اظم, حنیف , ارشاد, لطیف, شفیق, شریف, شفیق, اسلم حوالدار, کالو, نجف علی, یوسف , وغیرہ تمامپہلے ہی نیشنل کانفرنس کے ورکر تھے جبکہ چوہدری رشید اور فاروق اور شکیل و شفیق سرکاری ملازم ہیں۔
 
غرقاب نوجوان کی ناگہانی موت پرصدمے کااظہار
بختیار حسین
 
سرنکوٹ// موڑا بھچائی کے سابق سرپنچ  بشیر خٹک نے گذشتہ روز پانی میں غرقاب ہوئے نوجوان نزاکت علی کی اچانک ناگہانی موت پرگہرے صدمے کااظہارکیاہے ۔تفصیلات کے مطابق اتوارکے روز تقریبا گیارہ بجے قبل دوپہر ایک نہایت ہی دل دہلا دینا والا واقعہ گاؤں موڑا بھچائی لوہر میں پیش آیا جس میں ایک نوجوان  اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھاتھا۔بشیرکھٹک نے نزاکت علی کی موت پرگہرے  دکھ کا  اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا ایک بہت پیارا نوجوان الطاف علی ولد محمد اعظم ساکنہ ٹاپ کرشنا گھاٹی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ اپنے دوست بشارت خان کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے موڑا بچھائی آئے تھے۔ بوقت تقریبا گیارہ بجے الطاف علی کا حقیقی بھائی نزاکت علی اور دو چچا زاد  بھائی عارف علی و ساجد علی جو مہ ساتھیوں نالے پنہالی پر نہانے گئے۔ نالہ پنہالی کی ایک ڈاب میں ساجد علی اور نزاکت علی نے جوں ہی چھلانگ لگائی اور چلانگ لگاتے ہی نزاکت علی ڈوب گیالیکن ساتھیوں نے کوشش کی کہ اسکو نکالا جائے لیکن وہ گہرے ڈاب میں ڈوب چکا تھا لیکن بے بس ساتھیوں نے شور مچایا۔جس کے بعدمقامی لوگ جمع ہو گئے لیکن نالے کا پانی گندہ ہونے کی وجہ سے نزاکت علی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا اور مقامی لوگوں نے بڑی  کوششوںسے نوجوان کو نکالا جو بالکل بے ہوش تھا۔ پھرفوراًاسے گاڑی میں ڈال کر سب ضلع ہسپتال سرنکوٹ میں پہنچایا  جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ سابق سر پنچ بشیر خٹک نے گاؤں والوں کی طرف سے  اس ہونہار اور قیمتی نوجوان کی موت کا گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محمد اعظم اور ان کے سبھی کنبہ کے لوگوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔اور اس دکھ کی گھڑی میں ہم سب ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالہ سے دعا گو ہیں کہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت اور بخشش سے نوازے اور مرحوم کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
 

ریجنل ڈائریکٹرنےDILRMP کی پیش رفت کاجائزہ لیا

حسین محتشم
 
پونچھ//ریجنل ڈائریکٹر سروے اینڈ لینڈ ریکارڈ پیر پنچال رینج سید شوکت حسین کاظمی نے پونچھ ضلع میں ڈیجیٹل بھارت کے تحت آن لائین کئے جانے والے لینڈ ریکارڈ کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقعہ پر شہزاد لطیف خان تحصیلدار حویلی، محمد رشید چوہان نائب تحصیلدار لسانہ، محمد افضل نائب تحصیلدار گل پور، مشتاق احمد، کفایت حسین صوفی ممبران محافظ خانہ اور دیگر عملہ موجودتھا۔اس دوران ریجنل ڈائریکٹر شوکت کاظمی نے ضلع پونچھ میں ڈی آئی ایل ایم پی پر عمل درآمد کے معاملات کے بارے تبادلہ خیال کیا اور اس منصوبے کے بروقت تکمیل کیلئے کچھ اہم فیصلے بھی لئے۔انہوں نے اس سلسلہ میں کام کر رہے افسران اور دیگر عملہ کی کار کردگی کی سراہنا کرتے ہوئے اسی طرح کی تیز رفتاری کی ہدایت کی۔جہاں تحصیلدارحویلی نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ کم از کم وقت پر اس سلسلہ کو پایہ تکمیل پہنچایا جائے گا۔اس دوران ریجنل ڈائریکٹر نے آمدنی کے دستاویزات کا سکیننگ اور معیار کی جانچ پڑتال بھی کی جہاں سکیننگ سینٹر کے انچارج نے زمین کے ریکارڈ کے ڈھانچے کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اسکین کے بارے میں 5 لاکھ آمدنی کے دستاویزات میں سے اب تک 2 لاکھوں دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی ہے اور محکمہ کی طرف سے کئے گئے 3760 مساوس کی کیفیت کی جانچ پڑتال 1100 مساوس کی ہے۔
 

ماڈل ولیج حبی کاپرائمری ہیلتھ سنٹربندرہنے سے لوگ پریشان 

ملازمین غائب،مریض پی ایچ سی سے مایوس لوٹ آتے ہیں

شوکت پوسوال
 
کوٹرنکہ// سب ڈسٹرکٹ کوٹرنکہ میں ماڈل ولیج حبی کے پرائمری ہیلتھ سینٹر میں گذشتہ کئی مہینوں سے تالا لگا ہوا ہے جس سے اس پی ایچ سی کوقائم کرنے کامقصد فوت ہورہاہے۔ذرائع کے مطابق پرائمری ہیلتھ سینٹر کی عمارت کو دوبارہ مرمت کے لئے خالی کیاگیا تھا اور ادویات ودیگرسازوسامان کوکسی کے گھر میں رکھا گیا تھا لیکن ہیلتھ سینٹر کی مرمت ہوئے کئی ماہ گزر گئے ہیں لیکن ابھی تک اس کاتالا نہیں کھولا گیاہے اور جہاں جس گھر میں دوائیاں وغیرہ رکھی ہیں وہاں پر بھی تالا ہی لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے لوگ طبی سہولیات حاصل کرنے سے محروم ہیں ۔لوگوں کاکہناہے کوئی بھی ملازم پی ایچ سی میں  نہیں پہنچتا ہے جبکہ مریض ہر روز آ کر واپس چلے جاتے ہیں اورکوئی بھی ملازم سینٹر میں موجود نہیں ہونے سے مایوس ہوجاتے ہیں  لیکن محکمہ کو خبر ہی نہیں کہ ملازمین کہاں ہیں ؟لوگوں نے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہاں کسی کو کوئی اچانک تکلیف ہوجائے تو جب تک مریض کو یہاں سے کندھوں پر اٹھا کر کوٹرنکہ پہنچنے تب تک راستے میں ہی اس کی موت ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟لوگوں نے کہا کہ یہ ماڈل ولیج ہیڈکوارٹر سے صرف  پانچ سات کلو میٹر کی دوری پر ہے یہاں پر یہ حالت ہے یہاں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تو دور دراز علاقوں کا کیا حال ہوگا ؟اور پھر ماڈل ولیج کی یہ حالت ہے۔ عوام نے ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ شفیق احمد چوہدری سے گذارش کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کاروائی کی جائے اور جو ملازم یہاں لگائے گئے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔