مزید خبریں

ڈاکٹر قاسم اور آسیہ اندرابی جیل میں طبی سہولیات سے محروم:مسلم دینی محاذ

سرینگر//مسلم دینی محاذ نے ڈاکٹر محمدقاسم اورآسیہ اندرابی کو بالترتیب ادھمپوراورتہار جیلوں میں قیدتنہائی کے دوران طبی سہولیات سے محروم رکھنے کی شدیدمذمت کی ہے۔ ایک بیان میں محاذ نے کہا کہ ڈاکٹرمحمدقاسم آنکھوں کے شدیدمرض گلاکوما میں مبتلا ہیں اوراُن کی بینائی مسلسل ختم ہورہی ہے ،جبکہ وہ کمردردکابھی شکار ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجودانہیں جیل حکام نے تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہے۔آسیہ اندرابی کوبھی ناہیدہ نسرین اورفہمیدہ صوفی کے ہمراہ تہارجیل میں قیدتنہائی میں طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔محاذ کے ترجمان نے عالمی اداروں سے اس کانوٹس لینے کی اپیل کی ہے،تاکہ حکومت کو سیاسی انتقام گیری سے بازرکھا جائے۔
 

فاروق شاہ کی کٹھوعہ جیل منتقلی بلاجواز:صحرائی

سرینگر//  تحریک حریت کے چیرمین محمد اشرف صحرائی نے فاروق احمد شاہ کولگام کو  PSAکے تحت مٹن جیل سے کٹھوعہ جیل منتقل کرنے اور مسلم لیگ کے فیروز احمد خان کو خانیار تھانے میں بند رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک بنارہی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت دھونس دباؤ، ظلم وجبر، تشدد، محاصروں اور گرفتاریوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کشمیریوں سے انتقام لے رہی ہے۔ صحرائی نے کہا کہ فارق احمد شاہ 2016؁ء میں عوامی تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے اور ایک طویل عرصہ تک جیل میں رہنے کے بعد رہا کئے گئے۔ رہائی کے بعد فاروق احمد شاہ نے کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا بلکہ اپنے گھریلو کام کاج میں مصروف تھے لیکن پولیس نے اُن کو بار بار تھانے طلب کیا اور کئی کئی دن نظربند رکھا۔ اب 13اگست کو پولیس نے اُن کو احتیاطی طور 15اگست کے پیش نظر بند رکھا، مگر 15اگست گزرنے کے بعد اُن کو رہا کرنے کے بجائے مٹن جیل شفٹ کیا گیا اور اسی کے ساتھ اُن پر پی ایس اے لگاکر کل مٹن جیل سے کٹھوعہ شفٹ کیا گیا۔ صحرائی نے کہا پولیس کی طرف سے اُن پر پی ایس اے لگانا بلاجواز بھی ہے ۔
 

جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک بحال

بانہال //محمدتسکین//سرینگر جموں شاہراہ پر منگلوار کو مسافر گاڑیوں کو دوطرفہ چلنے کی اجازت دی گئی تاہم مال بردارگاڑیوں کو صرف جموں سے سرینگر کی طرف چلنے کی اجازت تھی۔اس دوران رامسو،بانہال،ادھمپوراورناشری سیکٹروں میں ٹریفک جام کا سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کی وجہ سے ضلع رام بن کے لوگوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بھاری ٹریفک کی بناپر بار بار جام ہونے سے رام بن ضلع کے ملازمین،سکولی بچوں اور کالج طلباء کے علاوہ مریضوں کو دوسرے دن بھی اپنی منزل کی طرف جانے کے بجائے واپس گھروں کارُخ کرنا پڑا۔ ٹریفک حکام کے مطابق چھوٹی مسافر گاڑیوں کی اندھا دھند اور ٹیکنگ اور رامسو کے علاقے میں شاہراہ کی تنگی کی وجہ سے بھاری ٹریفک کی آمدورفت سست رہی اور کئی مقامات پر ٹریفک جام بھی رہا ،تاہم  بعد دوپہر بعد ٹریفک جام پر قابو پایا گیا اور معمول کا ٹریفک آگے بڑھتا رہا۔ 
 
 

شجاعت بخاری قتل معاملہ

قومی انسانی حقوق کمیشن کی ریاستی چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ کو نوٹس

۔4ہفتوں کے اندررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

سرینگر//بلال فرقانی//سرینگر کی پریس کالونی میںامسال14جون کو انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر کے مدیر اعلیٰ شجاعت بخاری کے قتل سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے قومی بشری حقوق کمیشن نے ریاستی پولیس کے سربراہ اور چیف سیکریٹری کے نام نوٹسیں جاری کی ہیں،جبکہ ریاستی سرکار سے گزشتہ2برسوں کے دوران صحافیوں پر ہوئے حملوں کے علاوہ جان بحق اور زخمی ہوئے صحافیوں کے بارے میں بھی تفصیلات فرہم کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ معروف صحافی شجاعت بخاری پر14جون کو پریس کالونی میں حملہ کیا گیا تھا،جس کے دوران وہ اپنے2 ذاتی محافظوں سمیت جان بحق ہوئے تھے۔اس دوران مقامی بشری حقوق پاسداری کی تنظیم سینٹر فار پیس اینڈ پروٹکشن آف ہیومن رائٹس کے علاوہ غیر ملکی بشری حقوق تنظیموں نے بھی نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے دروازے پر دستک دیکر اس معاملے کی تحقیقات اور صحافیوں کو تحفظ فرہم کرنے سے متعلق عرضی دائر کی تھی۔ بشری حقوق کے قومی کمیشن نے معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی چیف سیکٰریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو 4ہفتوں کے اندررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔کمیشن نے بتایا’’جس طرح شجاعت بخاری کو شرپسند عناصر نے ہلاک کیا،وہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صحافی،حتیٰ کہ وہ جنہیں ریاستی سرکار نے پولیس کا تحفظ دیا ہے،وادی میں محفوظ نہیں‘‘۔کمیشن نے مزید کہا کہ یہ متاثر ہوئے شخص کی حق حیات کی پامالی ہے،جبکہ اس واقعہ سے ریاست میںاظہار رائے کی آزادی اور آزادی صحافت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ کمیشن نے اس واقعے کی نوعیت کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور انتظامی سربراہ سے رپورٹ طلب کی۔کمیشن نے مزید ریاستی حکومت سے صحافیوں پر ہوئے حملوں اور ان حملوں میں جان بحق ہوئے صحافیوں اور زخمیوں کے علاوہ متاثرین کے اہل خانہ کی باز آبادکاری اور انہیں ریلیف دینے سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی ہے۔قوامی انسانی حقوق کمیشن نے مزید کہا ہے’’کمیشن اس بات کو جاننے کا خواہشمند ہے کہ ریاستی سرکار کی طرف سے جموں کشمیر میں اس طرح کے واقعات کو آئندہ روکنے کیلئے کیا خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ تمام متعلقین سے کہا گیا ہے کہ4 ہفتوں کے اندر وہ کمیشن کو اپنا ردعمل پیش کریں۔ اس سے قبل کمیشن نے کہا کہ قومی بشری حقوق کمیشن عام طور اس طرح کے معاملوں میں مداخلت نہیں کرتی جو کہ ریاستوں کے دائرہ اختیار میں ہو،تاہم ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں30جون  تک گرمائی تعطیل کی وجہ سے اس وقت تک وہ اس کیس کا نوٹس نہیں لے سکتے۔کمیشن نے مزید کہا ہے کہ اس ضمن میں’’ فرنٹ لائن ڈیفنڈرس ‘‘کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اندرو انڈرسن کی طرف سے کمیشن میں عرضی دائر کی گئی،جبکہ کمیشن نے مقامی انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر میں چھپی اس خبر’سمدن( صحافیوں اور میڈیا کے نیٹ ورک) نے قومی اور مقامی بشری حقوق کمیشن سے اس کیس کی متحرک جانچ کا مطالبہ کیا ہے‘‘ کا از خود نوٹس لیا۔ اس سے قبل کشمیر نشین صحافی اور بشری حقوق کارکن ایم ایم شجاع نے قومی بشری حقوق کمیشن میںدرخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اگرچہ انسانی حقوق کمیشن ہے،تاہم یکم جولائی سے گرمائی تعطیلات کی وجہ سے فی الوقت ریاستی انسانی حقوق کمیشن غیر سرگرم ہے اور تعطیلات کے دوران اہم نوعیت کے کیسوں کو نپٹانے کیلئے کوئی بھی بینچ قائم نہیں کیا گیا۔ عرضی میں سوالیہ انداز میں کہا گیا کہ پریس کالونی اور اس کے گرد نواح میں اس وقت سیکورٹی کے کیا انتظامات تھے،جب شجاع بخاری کو ہلاک کیا گیا۔ درخواست گزار نے اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے بشری حقوق کے قومی کمیشن سے اس معاملے میں مداخلت کر کے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،جبکہ مہلوک صحافی سمیت دیگر2اہلکاروں کے کنبوں کی باز آبادکاری کی بھی درخواست کی ہے۔
 
 
 

 ہندوارہ میں نئے اے ڈی سی نے عہدہ سنبھالا 

ہندوارہ/اشرف چراغ / ہندوارہ میں منگل کو نئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی ایک میٹنگ طلب کی ۔انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیں ۔انہو ں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے محکمو ں کے ماتحت عملہ کو ہدایت دیں کہ وہ اپنا کام کاج خوش اسلوبی سے انجام دیں اور لوگو ں کو پینے کا صاف پانی ،سڑکو ں کی مرمت اور بلا خلل بجلی فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔انہو ں نے محکمہ صحت سے متعلق جانکاری حاصل کر کے زور دیا کہ لوگوں کو بہتر طبی سہولیات میسر کی جائیں ۔گلزار احمد نے تحصیلدار ہندوارہ اور مختلف محکمو ں کے افسران پر زور دیا کہ وہ ملازمین کی حاضری کو یقینی بنائیں ۔
 

کوکرناگ متاثرین سے تحریک حریت کا اظہار ہمدردی

سرینگر// تحریک حریت کے محمد یوسف مکرو، شیخ غلام محی الدین، مظفر احمد، عاشق حسین نارژور اور سبزار احمد پر مشتمل وفد نے گڈول کوکرناگ جاکر حالیہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں محمد اسمائیل چوپان اور دیگر لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ وفد کو لوگوں نے بتایا کہ فوج نے محمد اسمائیل کے گھر کو بارودی مواد سے زمین بوس کیا جبکہ اُن کے مکّی کے کھیت بھی بالکل تباہ وبرباد کئے۔ وفد نے اس موقع پر لوگوں سے اپیل کی کہ ان متاثرہ گھرانوں کی بازآباد کاری کے لیے آگے آکر دل کھول کر مدد کریں۔
 

حریت (گ)کا اظہار تعزیت

سرینگر//حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی کی ہدایت پر محمد یٰسین عطائی ، سید امتیاز حیدر، بشیر احمد بٹ اور عبدالاحد پر مشتمل ایک وفد نے  بڈگام جاکر نذیر احمد صوفی کے والد خواجہ لالہ صوفی کے انتقال پر غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کی اور ان کی مغفرت و بلندی درجات کیلئے دُعا کی۔
 

فرنٹ کاپارٹی اراکین کی برسی پر خراج عقیدت 

سرینگر//لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے بشیر احمدبٹ بوگامی،منظور احمد ،نذیر احمد خان شیخ پورہ،ثاقب رفیق ملک پمپوش کالونی،محمد یاسین راوتھ پورہ باغات،،منیر احمد کرفلی محلہ،عبدالمجید راوتھ پورہ باغات،فاروق احمد بٹ اومپورہ اور عبدالحمیدخان گلوان پورہ کوبرسی پرخراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں نے آزادی کے سفر کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عظیم قربانیاں دی اور لبریشن فرنٹ کا کاروان انہی جیسے جوانوں کے مقدس لہو سے آراستہ ہے ،جنہوں نے جموں کشمیر کی آزادی کیلئے اپنے گرم گرم لہو کا نذرانہ پیش کیا۔ محمد یوسف وازہ کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ موصوف ایک جری انسان اور بہترین شخصیت تھے جنہوں نے آزادی کیلئے اپنی جان کی بازی تک لگادی۔
 

اثرخبر کا

گاندربل میںآلودہ پانی سے دست و قے

ضلع انتظامیہ نے جونئر انجینئر کو منسلک کردیا

ارشاد احمد
 
گاندربل//گاندربل کے 2دیہات میں ناصاف پانی کی وجہ سے 600 افراد بیمار ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے محکمہ پی ایچ ای میں تعینات جونیئر انجینئر کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ڈیوژن دفتر گاندربل کے ساتھ منسلک کیا ہے۔واضح رہے کہ اس سلسلے میں کشمیر عظمیٰ کے پیر کے شمارے میں ایک خبر شائع ہوئی تھی۔15 اگست 2018 سے گاندربل کے ریشی پورہ اور شاہ پورہ کو سپلائی کیا جانے والا پینے کا پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں 600 سے زائد افراد دست و قے میں مبتلا ہوگئے ہیں جنہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل ڈاکٹر پیوش شنگلا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شاہ پورہ اور ریشی پورہ کو فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی ابھی تک مکمل طور پر قابل استعمال نہیں ہے جس کے لئے محکمہ پی ایچ ای پینے کا پانی گاڑیوں کے ذریعے فراہم کررہی ہے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک علاقے میںپینے کا پانی مکمل طور قابل استعمال نہ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں تعینات جونیئر انجینئر کو منسلک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
 

امید سکیم کے کا رڈی نیٹر فہرست میں بے ضابطگیوں کا الزام

تارت پورہ رامحال میں خواتین کا احتجاج ،تحقیقات کا مطالبہ 

اشرف چراغ 
 
کپوارہ//رامحال کے تارت پورہ علاقہ میں امید سکیم میں مبینہ طور بے ضابطگیوں کے پیش نظر منگل کو خواتین نے زور دار احتجاج کیا گیا۔احتجاجی خواتین کا کہنا تھا کہ رامحال میں مستحق کنبو ں کو اس سکیم کے تحت نظر انداز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اس سکیم کا مقصد فوت ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مشہتر ہوئے کوارڈی نیٹر لسٹ میں ویلگام بلاک سے ہی4امیدوارو ں کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ تارت پورہ بلاک کو مکمل طورنظر انداز کیا گیا جوبے روز گار نوجوانوں سے نا انصافی ہے ۔ایک خاتون امیدوار مبینہ فردوس نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ کچھ عرصہ قبل بلاک ویلگام اور تارت پورہ کے لئے ایک اشتہار شائع کیا گیا تاہم جب فہرست کو شائع کیا گیا تو اس میں تارت پورہ بلاک سے کسی بھی بے روز امیدوار کو منتخب نہیں کیا گیا تھا۔اس دوران نائب تحصیلدار تارت پورہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ کے بھروسے پر امیدوارو ں کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات عمل میں لائیں گے ۔
 

گجربستی بانڈی پورہ بنیادی سہولیات سے محروم

عازم جان 
 
بانڈی پورہ// گجر بستی سریندر بانڈی پورہ کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کی بنا پرکئی مشکلات سے دوچار ہیں ۔اس بستی کو سرکار کی طرف سے ملنے والی سولر لائٹس سے بھی محروم رکھا گیا ہے اور 140 کنبوں پر مشتمل گجر بستی شام ہوتے ہی گھپ اندھیرے میں ڈوبی رہتی ہے۔ مقامی افرادغلام ربانی پسوال اور نظام الدین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پینے کا پانی، بجلی اور رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے اس گجر بستی کو زبردست تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل بستی میں ایک ہیلتھ سنٹر تعمیر کیا گیا لیکن طبی عملہ دستیاب نہ رکھنے کی وجہ سے وہ بھی ویران پڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے کھمبے تو نصب کئے گئے ہیں لیکن ان کھمبوں پرترسیلی لائین نہیں بچھائی گئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائمری اسکول میںپچاس طلاب کو پڑھانے کیلئے دواساتذہ تعینات ہیں ۔انہوں نے انتظامیہ سے اس گجر بستی کی طرف توجہ مبذول کرنے کی اپیل کی۔
 

جنگجوئوں کے اہل خانہ کو ستانا بزدلانہ حرکت :فریڈم پارٹی

سرینگر// ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کوپولیس اور فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں ہراساں کرنے کے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو بزدلانہ اقدامات سے تعبیر کیا ہے ۔ایک بیان میںپارٹی ترجمان نے عسکریت پسندوں کے گھروں پر چھاپوں اور اُن کی جائدادوں کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی۔ ترجمان نے کہا کہ فورسز اورایس او جی کو چاہئے کہ وہ عسکریت پسندوں کے گھروالوں کے بجائے براہ راست عسکریت پسندوں کے ساتھ نپٹ لیں کیونکہ عام اور نہتے شہریوں کومظالم کا شکار بنانا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی حرکت بھی ہے۔ترجمان نے حقوق البشر کی انجمنوں پر زور دیا کہ جنوبی کشمیر خاص کر عسکریت پسندوں کے گھروں پر فورسز کے حالیہ چھاپوں کا سنجیدہ نوٹس لیکر عام لوگوں کوعذاب و عتاب سے بچانے کیلئے عملی اقدامات کریں۔
 
 

ایس ایس پی اننت ناگ کی طلاب کے ساتھ بات چیت

سرینگر// ایس ایس پی اننت ناگ الطاف احمد خان نے بھارت دورے پر جانے والے طلاب کے ساتھ گفت وشنید کی۔ اس موقع پر ایس ایس پی اننت ناگ نے طلاب کو بتایا کہ دورے کے دوران انہیں تاریخی مقامات پر جانے کا موقع ملے گا لہذا اس نادرموقع کا بھر پور فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ایسے دوروں سے بہت کچھ سیکھنے کے ساتھ ساتھ تجربہ اور خود اعتمادی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ایس ایس پی نے کہاکہ یہ ایک تعلیمی دورہ ہے کیونکہ تاریخی مقامات کی سیر وتفریح کے نتیجے میں آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔اس موقعے پر دورے پر جانے والے طلاب میں جوش اور ولولہ دیکھنے کو ملا۔
 
 

بارہمولہ اورگاندربل میں 

۔8ستمبر کو لوک عدالتوں کاانعقاد ہوگا

سرینگر//چیئرمین ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی گاندربل کے مطابق ضلع میں 8ستمبر2018ء کو قومی لوک عدالت کاانعقادہوگا جس میں سول ،کریمنل معاملات،بنک رکوری معاملات،اورازدواجی تنازعات کے علاوہ حصول اراضی معاملات باہمی افہام وتفہیم سے نمٹائے جائیں گے۔جو افراد اس لوک عدالت میں معاملات اور تنازعات کو حل کرانا چاہتے ہیں اُن سے کہا گیا ہے کہ وہ 6ستمبر یا اس سے قبل کورٹ حکام سے رابطہ قائم کریں۔اُدھر ضلع بارہمولہ میں بھی 8ستمبر کو ہی قومی لوک عدالت کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں مختلف نوعیت کے معاملات کے علاوہ سیکشن 138کے تحت معاملات اورپبلک یوٹلٹی سروسز جیسے معاملات اُٹھائے جائیں گے۔خواہشمند افراد سے 5ستمبر یا اس سے قبل چیرمین ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی سے رابطہ قائم کرنے کے لئے کہا گیا ہے تاکہ اُن کے معاملات مقررہ تاریخ کو اُٹھائے جاسکیں۔
 

معیاری خدمات کی انجام دہی اورسکیموں کی عمل آوری

 سیکریٹری سماجی بہبود نے باہمی تال میل پر زوردیا

بارہمولہ//سیکریٹری سماجی بہبود فاروق احمد لون نے ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں منعقدہ آفیسران کی ایک میٹنگ میں مختلف سکیموں اور فلیگ شِپ پروگراموں کی عمل آوری کاجائزہ لیا جو کہ مرکزی معاونت کے تحت ای جی ایس اے پروگرام کے طور پر عملائے جارہے ہیں۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ ڈاکٹر ناصر احمد نقاش اوراے ڈی سی بارہمولہ فاروق احمد بابا کے علاوہ ڈائریکٹر پلاننگ اور دیگر آفیسران بھی موجود تھے۔اس موقعہ پر ترقیاتی کمشنر نے سیکریٹری کو مختلف سکیموں اور پروگراموں کی عمل آوری اورپیش رفت کے بارے میں جانکاری دی۔انہوںنے ان سکیموں کے تحت حصولیابیوں کو بھی اجاگر کیا۔انہوںنے کہا کہ ضلع بارہمولہ میں اہم پروگراموں کے تحت صدفیصد نتائج حاصل کئے ہیں۔میٹنگ کے دوران اجولا یوجنا،سوبھاگیہ سکیم،اندردھنش ایمونزیشن پروگرام اور دیگر سکیموں کی عمل آوری کے بارے میں بھی تفصیلی جانکاری فراہم کی گئی۔فاروق احمدلون نے معیاری خدمات کی انجام دہی اورسکیموں اور پروگراموں کی موثر عمل آوری کے لئے آفیسران کو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے پر زوردیا۔بعدمیں فاروق احمد لون نے محکمہ سماجی بہبود کے آفیسران کے ساتھ منعقد ہ ایک میٹنگ میںمحکمہ کے کام کاج اور سکیموںکی موثر عمل آوری کویقینی بنانے کی تلقین کی۔