مزید خبریں

محکمہ تعلیم کاجونیئراسسٹنٹ سبکدوش

جموں//محکمہ تعلیم کے جونیئراسسٹنٹ مدن لال کی سبکدوشی کے سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے الوداعی تقریب کااہتمام کیاگیا۔اس دوران مقررین نے مدن لال کی محکمہ تعلیم کیلئے انجام دی گئی 35سالہ خدمات کوسراہا۔اس دوران ڈائریکٹراسکول ایجوکیشن راکیش کمارسنگرال نے مدن لال کومومنٹوپیش کرکے ان کی عزت افزائی کی۔
 
 

کٹھوعہ کے طلاب کاوفدڈاکٹرجتندرسنگھ سے ملاقی 

نئی دہلی //ضلع کٹھوعہ سے طلاب کے ایک وفد نے مرکزی وزیر مملکت اور وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ 50طلاب پر مشتمل یہ وفد ان دنوں بھارت درشن کے ٹور پر ہے جس دوران انہوں نے دیگر اہم شخصیات کے علاوہ مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹرجتندرسنگھ  کے ساتھ ملاقات کرکے ان کے ساتھ بات چیت کی اوراپنے تجربات ان کے ساتھ سانجھا کئے۔ انہوں نے قومی راجدھانی میں دیکھی گئی جگہوں کے بارے میں وزیر کو بتایا جب کہ جتندرسنگھسنگھ نے طلباء کو ملک کے تکثریتی کردار کے بارے میں بتایا جہاں مختلف مذاہب اور فرقوں کے لوگ آپس میں اتفاق و اتحاد اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ جتیندر سنگھ نے کہا کہ وہ کٹھوعہ جاکر ملک کی تعمیر وترقی کے بارے میں لوگوں کو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے کٹھوعہ میں کئی بڑی بڑی اسکیمیں تعمیر کی جا رہی ہیں جس میں اٹل سیتو کی تعمیر، بائیو ٹیک پارک ، میڈیکل و انجینئرنگ کالج وغیرہ شامل ہیں۔ بچوں نے وزیر داخلہ کیساتھ ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس دوران طلاب نے جومانگیں مرکزی وزیر مملکت کے سامنے رکھیں ان میں جموں یونیورسٹی کے کٹھوعہ کیمپس کی توسیع اورادھم پورمیں اسی طرح کایونیورسٹی کیمپس کاقیام عمل میں لاناشامل ہے۔ڈاکٹرجتندرسنگھ نے طلاب کی مانگوں کوبغورسنااوریقین دہانی کرائی ۔
 
 

طالب حسین کی ضمانتی عرضی پربحث 

سنوائی کی اگلی تاریخ 4 ستمبرطے

جموں//کٹھوعہ واقعہ کے متاثرین کوانصاف دلانے کی جدوجہد پیش پیش رہنے والے اورکیس کے اہم گواہ سماجی کارکن طالب حسین کی ضمانتی عرضی کی سنوائی سانبہ سیشن کورٹ میں ہوئی۔اس دورن ملزم کی طرف سے ایڈوکیٹ انورچوہدری اورایڈوکیٹ اکرم چوہدری پیش ہوئے ۔اس سے پہلے پولیس کی طرف سے ملزم کے خلاف الزامات کاچالان سانبہ سیشن کورٹ میں پیش کرنے کے بعد20 اگست کو چالان میں طالب حسین پرلگائے گئے الزامات پربحث کی تھی ۔طرفین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعدعدالت ہذانے کیس کی تاریخ 31اگست 2018 طے کی تھی ۔گذشتہ روزسنوائی کے دوران ملزم اوراستغاثہ کے وکلاء کے مابین کافی بحث ہوئی ،تاہم عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے اس کی اگلی سنوائی 4ستمبرکومقررکی۔ بعدازاں میڈیاسے بات کرتے ہوئے ملزم طالب حسین کے وکلاء ایڈوکیٹ انورچوہدری اورایڈوکیٹ محمداکرم نے کہاکہ طالب حسین پرلگائے گئے الزامات بے بنیادہیں کیونکہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک کمزورکیس ہے اورتوقع ہے کہ موکل کی ضمانت ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہ کورٹ نے اگلی تاریخ 4ستمبرمقررکی ہے۔انہوں نے کہاکہ طالب حسین کے خلاف کیس ایک سازش کے تحت دائرکروایاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں عدلیہ پربھرپوراعتمادہے اوریقین ہے کہ سچائی سامنے آئے گی۔
 

خصوصی دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا تقصان جموں خطہ کو ہوگا:مولانا قاسمی

سرینگر//علماء دیوبند کے متحدہ فورم جمعیت علماء اہل السنۃ والجماعۃ جموں وکشمیر نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت آرٹیکل 35Aکی تاریخ کو جنوری2019 تک مؤخر کرناکشمیریوں کیلئے ذہنی کوفت کا باعث ہے، جمعیت علماء کے سکریٹری مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی مہتمم دارالعلوم شیری نے کہا کہ تاریخوں پر تاریخیں بدلنا مسئلہ کا حل بالکل نہیں ہے آپ نے کہا کہ جب مسئلہ واضح ہے اور سپریم کورٹ کئی مرتبہ اس سلسلے میں رٹ پٹیشنوں کو خارج کرچکی ہے کیونکہ عدالت عظمیٰ کو اچھی طرح اس دفعہ کی حیثیت معلوم ہے اور اگرارباب حل وعقد وقانونی ماہرین بنظر انصاف اس مسئلہ پر غور کریں تو ہر کوئی یہی کہے گا کہ اس دفعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ انصاف کا قتل ہوگاآپ کا مزید کہنا ہیکہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہیکہ اس رٹ پٹیشن کو دائمی طور خارج کیا جائے اور آئندہ کیلئے اس دفعہ کے خلاف کسی بھی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیدیا جائے جمعیت کے سکریٹری نے واضح کیاکہ دفعہ 35Aیا اس جیسی دیگر دفعات کا تحفظ ہر کشمیری کیلئے بلا تفریق مذہب وملت ضروری ولازم ہے اور اس دفعہ کا بقاکشمیریوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ آئینی اور تاریخی حق کشمیریوں کو تب سے حاصل ہے جب ابھی ہند وپاک آزاد بھی نہیں ہوئے تھے ان دفعات کے تحفظ کیلئے پوری ریاست جموں وکشمیر مع خطۂ لداخ میںسو فیصد اتفاق واتحاد ہے اور یہاں کا ہر باشندہ ان کے تحفظ کیلئے ہر کوئی قربانی دینے کیلئے نہ صرف تیار ہے بلکہ ان کے واسطے قربانی کو اپنا سرمایۂ افتخار سمجھتا ہے آپ نے ان کشمیر دشمن طاقتوں کی بھی مذمت کی جو جموں کے ہماری چند ہندو بھائیوں کو اکسا کر انہیں ان دفعات کے تحفظ کے خلاف بڑھکاتے ہیں آپ نے واضح کیا کہ ان خصوصی دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سب سے زیادہ تقصان جموں خطہ کوہی ہوگالہٰذا باشندگان جموں کوبھی 35Aاور اس جیسی دیگر دفعات کے تحفظ کیلئے بلاتفریق مذہب وملت اپنے ہم وطن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہنا چاہئے۔ 
 
 

مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر سرکاری چھٹی کی مانگ

ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن نے کٹھوعہ میں موٹرسائیکل ریلی نکالی 

یو این آئی
جموں// جموں میں مہاراجہ ہری سنگھ کے یومِ پیدائش پر سرکاری تعطیل کا اعلان کرنے کے لئے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے متعدد سیاسی ، سماجی لیڈران کے بیانات آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے جارہے ۔بھاجپا کے سابقہ وزیر اور ایم ایل اے بسوہلی چوہدری لال سنگھ کی تشکیل کردہ ’ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن‘کے بینر تلے مہاراجہ ہری سنگھ کے یومِ پیدائش پر سرکاری تعطیل قرار دینے کے لئے احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ جمعہ کو جموں میںلال سنگھ کی قیادت میں سنگٹھن کی طرف سے بڑی موٹرسائیکل ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے حصہ لیا ، موٹرسائیکل سواروں نے ہاتھوں میں قومی جھنڈے بھی اٹھارکھے تھے۔گذشتہ روز سنگٹھن نے کٹھوعہ میں موٹرسائیکل ریلی نکالی تھی جوکہ راجباغ سے شروع ہوئی اور ہیرا نگر کے متعدد سرحدی گاؤں سے ہوتے ہوئے واپس ہیرا نگر میں اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں شامل نوجوانوں نے جموں وکشمیر کے آخری ڈوگرہ حکمران کے جنم دن پر سرکاری تعطیل قرار دینے کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ ایک عرصہ سے مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن کو سرکاری تعطیل قرار دینے کا مطالبہ کیاجارہاہے۔ اس حوالہ سے گذشتہ برس بی جے پی۔ پی ڈی پی مخلوط حکومت کے دوران قانون ساز کونسل کے اندر قرار داد بھی پاس کی گئی تھی لیکن تعطیل کا سرکاری اعلان نہ کئے جانے پر بطور احتجاج ہری سنگھ کے پوتے اور جموں وکشمیر کے پہلے صدرِ ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ کے فرزند وکرم آدیتہ نے ایم ایل سی سے استعفیٰ بھی دیاتھا۔ بتادیں کہ ڈاکٹر کرن سنگھ مہاراجہ ہری سنگھ کے فرزند ہیں جن کا شمار کانگریس کے سرکردہ لیڈران میں ہوتا ہے جوکہ کئی دہائیوں تک راجیہ سبھا ممبر رہے ہیں۔ ان کے فرزند اجات شاترو سنگھ نیشنل کانفرنس دور حکومت میں وزیر بھی رہے،سال2014کے اسمبلی انتخابات سے قبل انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جنہیں پارٹی نے ایم ایل سی بنایاہے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ کے دوسرے فرزند جوکہ پیشہ سے ہوٹل اور ریستواران کا کاروبار کرتے ہیں، نے بھی سال2014کو پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کر کے اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کیاتھا، اس وقت انتخابی مہم میں بھی شرکت کی تھی،بعد ازاں انہیں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی لیکن دادا کے جنم دن پرسرکاری چھٹی ڈکلیر نہ کرنے پر احتجاج کے طور استعفیٰ دے دیاتھا۔ڈوگرہ صدر سبھا، راجپوت سبھا،نیشنل پینتھرز پارٹی ، جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ساتھ ساتھ جموں نشین کئی دیگر تنظیموں کی طرف سے ہربرس ستمبر ماہ آتے ہی اس مطالبہ کی حصولی کے لئے مہم شروع کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ستمبر23کو مہاراجہ ہری سنگھ کا یومِ پیدائش ہے۔آنے والے دنوں میں اس پر سیاست مزید تیز ہوگی۔یو این آئی
 
 

یکم ستمبر سے جموں وکشمیر میں 8پوسٹل پے منٹ بینک کام کرنا شروع کریں گے

یو این آئی
جموں// ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر ریاست میں کل یعنی یکم ستمبر2018سے8پوسٹل پے منٹ بینک ’ڈاکخانہ ادائیگی بینک‘کام کرنا شروع کریں گے۔جموں ریجن کے پوسٹ ماسٹر جنرل دبیتورو چیٹرجی نے بتایاکہ پوسٹ پے منٹ بینک کی آٹھ شاخیں جموں، کٹھوعہ، اودھم پور، راجوری، سری نگر ، اننت ناگ، بارہمولہ اور لیہہ میں قائم ہوں گی جن میں باقاعدہ طور یکم ستمبر سے کام کاج شروع ہوگا۔ ان آٹھ شاخوں کے لئے جموں وکشمیر میں40رسائی پوائنٹ بھی اپنا کام شروع کریں گے۔ چیٹرجی نے بتایاکہ انڈین پوسٹل پے منٹ بینکوں کاملک بھر میں1.55لاکھ دفاتر کا نیٹ ورک ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو ملک بھر میں گھروں کی دہلیز تک مالی خدمات پہنچانا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ یکم ستمبر سے وزیر اعظم نریندر مودی تلکوترہ اسٹیڈیم نئی دہلی سے باقاعدہ طور آئی پی پی بی کی شروعات کریں گے۔ ملک بھر میں بیک وقت650شاخیں اور3250رسائی پوائنٹس کو شروع کیاجائے گاکہ جبکہ دستمبر2018کے آخیر تک یہ تعداد1.5لاکھ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔یو این آئی
 
 

 

بی جے پی ڈیلی گیشن کی گورنر سے ملاقات

مجوزہ پنچایتی وبلدیاتی انتخابات اورجموں کے پراجیکٹوں کوزیربحث لایا

سرینگر //بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر رینہ کی قیادت میں پارٹی کے ایک وفد نے یہاں راج بھون میں گورنر ستیہ پال ملک کے ساتھ ملاقات کی۔ڈیلی گیشن نے ریاست کا گورنر مقرر کئے جانے پر ستیہ پال کو مبارک باد دی اور اُمید ظاہر کی کہ اُن کے دور میں ریاست میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہونے کے ساتھ ساتھ قیام امن کو یقینی بنایا جائے گا۔وفد نے ریاست جموں وکشمیر میں پنچائتوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کو احسن طریقے پر منعقد کرانے کے لئے پارٹی کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ڈیلی گیشن نے گورنر سے التواء میں پڑے مختلف سڑک پروجیکٹوں بشمول جموں رِنگ روڈ، جموں۔ پونچھ شاہراہ وغیرہ کے کام میں سرعت لانے کی استدعا کی۔ڈیلی گیشن کے ممبران نے جموں میں ایمز اورہوائی اڈے کی تعمیر کے علاوہ دیگر کئی پروجیکٹوں سے جڑے معاملات گورنر کی نوٹس میں لائے۔گورنر نے تمام معاملات پر ہمدردانہ اور مناسب غور کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے وفد سے تلقین کی کہ وہ ریاست میں جمہوری اداروں کو زمینی سطح پر مستحکم کرنے کے لئے لوگوں میں جانکاری عام کریں۔وفد میں جگل کشور شرما، کویندر گپتا، ست پال شرما،چودھری سکھ نندن، عبدالغنی کوہلی، بالی بھگت، سنیل شرما، چندر پرکاش گنگا، صوفی یوسف، اشوک کھجوریہ اور نریندر سنگھ شامل تھے۔ 
 
 

سانبہ میں 5 گیس ایجنسیوں کے خلاف معاملہ درج ،50ہزارروپے جرمانہ وصول 

سانبہ //لیگل میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ نے 5گیس ایجنسیوں کے خلاف معاملہ درج کرکے ان کے مالکان سے قواعدکی خلاف ورزی کرنے کے سلسلے میں 50ہزارروپے جرمانہ بھی وصول کیا۔ضلع انتظامیہ کو شکایات موصول ہونے کے بعد لیگل میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ نے کاروائی عمل میں لاتے ہوئے تمام گیس ایجنسیوں جوضلع سانبہ میں چل رہی ہیں کامعائینہ کیااورپایاکہ کچھ ڈیلر صارفین سے اضافی رقم وصول کررہے تھے اوروزن کیے بغیرہی سلینڈروں کوبیچ رہے تھے۔ایل ایم ڈی ٹیم نے ایل پی جی ڈیلروں کے خلاف قوانین کے سلسلے میں معاملہ درج کیااوران سے 50ہزارروپے جرمانہ وصول کیا۔علاوہ ازیں اسسٹنٹ کنٹرولر نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ اپنے مسائل کے ازالہ کیلئے ان کے دفترسے رابطہ کریں تاکہ تاجرقواعدکی خلاف ورزی نہ کرسکیں۔
 
 
 

دفعہ 35اے کے ساتھ چھیڑچھاڑناقابل برداشت

راجوری//سماجی کارکن چوہدری محمد آصف لودھی نے ریاست جموں کشمیر کو خصوصی درجہ فراہم کرنے والی آئین کی دفعہ 35 اے کے ساتھ چھیڑ کو نا قابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ہٹانے کے متعلق دائر عرضی کو کالعد م کیاگیا تو اس کے سنگین نتایج برامد ہوں گے کیوں کہ ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کر کے فرقہ پرست طاقتیں ریاست میں فرقہ پرستی کو مضبوط بنا کر غنڈا راج قائم کرنا چاہتی ہے۔ آصف لودھی نے کہا ہے کہ ریاست کے تمام بچوں۔بزرگوں۔نوجوانوں یعنی  ہر طبقہ کی نظریں 31اگست کو عدالت عظمیٰ میںدفعہ 35 کی سنوائی پر مرکوزہیں کہ عدالت کا فیصلہ ھماری ریاست کو بچانے کے حق میں ہے یا اس کو برباد کرنے کہ حق میں ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر عدالت نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف فیصلہ سنایا تو ریاستی عوام اسے برداشت نہ کرتے ہوے اپنی جانوں کی قربانیاں دینے سے گریز نہیں کریں گے کیوں کہ آئین کے دفعہ ہماری سانس کی مانندہے، ہمارے سر کا تاج ہے۔ ریاستی عوام کی عزت ہے اور ہم اس عزت کو بچانے کے لیے جانیں قربان کرنے سے بھی گریزنہیں کریں گے۔