مزید خبریں

 

بھاجپا کی حمایت دیہی علاقوں کی بااختیاری:وبودھ 

راجوری//بھاجپا کے سینئر لیڈر و ممبرقانون ساز کونسل وبودھ گپتا نے کہاہے کہ آئندہ پنچایتی چنائو میں بھاجپا کو ووٹ دے کر دیہی علاقوں کی ترقی و بااختیاری کو یقینی بنایاجائے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں انہوں نے کالاکوٹ کے کھرسو ، تریرو ، برواری ، ملوریاں ، کھینو اور میتکا علاقوں میں مقامی لوگوں کے ساتھ میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ پنچایتی چنائو میں بھاجپا کو ووٹ دے کر دیہی علاقوں کی ترقی و بااختیاری کو یقینی بنایاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ ان کا مقصد دورافتادہ علاقوں کے لوگوں تک رسائی ہے تاکہ ہر ایک کو اس کا حق ملے اور دیہی علاقوں کی ترقی کا خواب پورا ہو۔ انہوں نے کہاکہ اس مقصد کیلئے وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی طرف سے متعدد سکیمیں شروع کی گئی ہیں جن میں سوبھاگیا بھی ایک اہم سکیم ہے جس کا مقصدبرقی رو سے محروم علاقوں میں بجلی کی سہولت کی فراہمی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھاجپا کی اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہندکی قیادت میں ملک دنیا بھر میں اہم طاقت کے طور پر ابھر رہاہے اورہندوستان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کی ترقی بھی بھاجپا کی قیادت میں ہی ہوسکتی ہے کیونکہ دیگر جماعتوں نے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا اور ان کے مسائل حل نہیں کئے ۔ان کے ہمراہ راکیش رینہ ، لیکھ راج ، آنچل سنگھ ، سبھاش چندر، وجے کمار ، روہت کمار، گورو سیٹھ ، دیپک سنگھ ،راکیش کمار وغیرہ بھی تھے ۔
 

ADCاورBDOکی کرسیاں خالی 

کوٹرنکہ کے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا

کوٹرنکہ//ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر و بلاک ڈیولپمنٹ افسران کوٹرنکہ کی کرسیاں پچھلے کئی دنوں سے خالی پڑی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو خالی ہاتھ واپس لوٹ کر جاناپڑتاہے ۔حال ہی میں حکام کی طرف سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسران کا تبادلہ عمل میں لایاگیاتاہم تبدیل ہونے والے افسران کی جگہ نئے افسران کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی جس کا خمیازہ عام لوگ بھگت رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ پہلے سے ہی یہ علاقہ پسماندہ ہے جہاں افسران کی عدم موجودگی سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ فوری طور پر افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ ان کو مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے ۔ا ن کاکہناہے کہ حکومت صرف افسران کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اسے عوامی مسائل کے حل کی کوئی پرواہ نہیں ۔کئی لوگوں نے بتایاکہ وہ صبح دور دراز علاقوں سے چل کر کوٹرنکہ پہنچتے ہیں جہاں یہ پتہ چلتاہے کہ افسران ہی نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ان کے کام رکے پڑے ہیں اور مزدوروں کو اجرتیں بھی نہیں مل رہی۔
 

ڈپٹی کمشنر راجوری نے سپیشل سمری ریویژن کا جائزہ لیا 

راجوری //ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد نے افسرا ن کی ایک میٹنگ منعقد کرکے سپیشل سمری ریویژن کاجائزہ لیا جس دوران ضلع بھر میں سویپ سرگرمیوں کے انعقاد پر زور دیاگیا۔اس موقعہ پر میونسپل چنائو کے اندراج کے کئی معاملات بھی حل کئے گئے ۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکمہ جات کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ افرادی قوت اور مشینری کواپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے تیار رکھیں تاکہ میونسپل چنائو کو صاف و شفاف طرز پر منعقد کیاجاسکے ۔انہوں نے اس دوران بارہ نوڈل افسران کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیااور ان کو ان کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں ۔
 

این سی کارکنان کی پی ڈی پی میں شمولیت کادعویٰ 

عشرت حسین بٹ
 
منڈی// منڈی کے علاقہ بیدار میں متعدد این سی کارکنان کی پی ڈی پی میں شمولیت کادعویٰ کیاگیاہے ۔ممبر اسمبلی پونچھ شاہ محمد تانترے نے اس علاقے کادورہ کیا جس دوران وارڈ نمبر چھ،سات اورآٹھ کے ورکران نے تانترے کے ذریعہ ہوئے کاموںکی سراہنا کی اور کہاکہ اس عرصہ میں وہ کام بھی سرانجام دیئے گئے جو آزادی کے بعد اب تک نہیں ہوئے تھے ۔انہوں نے پی ڈی پی میں شمولیت کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل کانفرنس کے لیڈران ووٹ لینے کے بعد بھاگ جاتے تھے اوران کا الیکشن کے بعد پتہ بھی نہیں چلتاتھاتاہم شاہ محمد تانترے نے ایم ایل اے بننے کے بعد بھی لوگوں سے رشتہ نہیں توڑااور وہ عوام سے ان کے علاقے میں جاکر ملتے رہے اور مسائل کے حل کیلئے کوشاں نظر آئے ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے عبدالاحد شیخ نے کہا کہ پچھلے اٹھارہ برسوں کے دوران لوگوں سے ان کے لیڈران کی ملاقات بھی نہیں ہوئی مگر تانترے کا اخلاق دیکھ کر وہ بے حد متاثر ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے وہ این سی چھوڑ کر پی ڈی پی میں شامل ہورہے ہیں۔پی ڈی پی بلاک صدرپیر زادہ بلال مخدومی نے پی ڈی پی کی قیادت والی حکومت نے تین سال میں ایسے کام انجام دیئے جو اس سے قبل نہیں ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ سکول کی عمارت، بجلی اور پانی کی سپلائی سے لیکر تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں ۔اپنے خطاب میںتانترے نے کہاکہ ان کی زندگی کا مقصد غریبوں تک ان کا حق پہنچاناہے اور وہ ذات پات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ۔اس موقعہ پر بشیر خاکی ،اعجازمنگرال، پیر زادہ خورشید ،مجید ٹھکر، رفیق تانترے، رشید شیخ، الطاف خواجہ، ٹھیکیدار غلام نبی نائیک،ٹھیکیدار امیر دین ،خواجہ عبدالجبار ، غلام محمد بٹ،چوہدری خادم ،اکرم نائیک ، جہانگیر احمد وغیرہ بھی موجو دتھے ۔پارٹی میں شامل ہونے والوں میں عبدالاحد ڈار اور جلال ڈار و ان کے ساتھی ہیں۔
 

دفعہ 35اے معاملہ 

آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کی سازش : پیپلز مومنٹ

راجوری// جموں کشمیر کا پورا خطہ متنازعہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے لہٰذا کشمیری قوم ریاست کی متنازعہ حیثیت کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خانی کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ یہاں جاری بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار سینئر حریت رہنما اورپیپلز مومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے ضلع راجوری کے مضافات میں منعقد 35-Aکی منسوخی کے خلاف منعقد احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ہر قسم کے حربے آزمانے کے باوجود ریاست میں جاری تحریک ِ حقِ خود ارادیت کو کچلنے میں بری طرح ناکامی ہوئی ہے لہٰذا اب غیر قانونی قبضے کو دوام بخشنے کے لئے نت نئے حربے اور طریقے اپنا نے کی کوشش کی جارہی ہے اور دفعہ 370اور 35-A کو منسوخ کرنا بھی اس گھناؤنی سازش کا ایک حصہ ہے۔حریت رہنما نے کہا کہ دفعہ 35-Aکو منسوخ کر کے جموں کشمیر کے متنازعہ خطے میں آبادی کا تناسب یکسر بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ طور استصوابِ رائے کے نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جموں کشمیر کے عوام ایسی کسی بھی سازش کو ہر گز کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی متنازعہ حیثیت کے سا تھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے نہایت تباہ کن نتائج بر آمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری نئی دلی پر عائد ہو گی۔پیپلز مومنٹ کے چیئرمین نے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جس طریقہ سے پوری ریاست سراپا احتجاج ہے اور لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر آکر نئی دلی کو یہ پیغام بھیجا ہے وہ ریاست کی متنازعہ اور خصوصی حیثیت کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ نوشتہ دیوار پڑھ کر جموں کشمیر کے اصل مسئلے کے حل کی خاطر راستہ ہموار کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہاکہ جموںکشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جو آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈا پرموجود ہے۔
 

پی ڈی پی کا مینڈھر میں اجلاس منعقد 

مینڈھر//پی ڈی پی کی ڈاک بنگلہ مینڈھر میں ایک میٹنگ زیر صدارت محمد اعظم ساگر زونل صدرمنعقد ہوئی جس میں شامل کارکنان نے ایڈووکیٹ محمد معروف خان کو پی ڈی پی کا ریاستی سکریٹری نامزد کرنے پر تنظیم کی صدر محبوبہ مفتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔اس دوران معروف خان کا استقبال کیاگیا ۔یہاں جاری بیان کے مطابق اس موقعہ پر بولتے ہوئے ماسٹر محمد دین پسوال نے کہا کہ معروف خان ایک اعلیٰ سیاست دان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مینڈھر کی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کیا اور کبھی اقتدار کے لئے نہیں دوڑے ۔چوہدری محمد صادق نے کہا کہ پی ڈی پی کی صدر نے بہترین فیصلہ لیتے ہوئے معروف خان کوریاستی سکریٹری نامزدکیاہے اور انہیں یقین ہے کہ اس فیصلے سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی ۔اپنے خطاب میں معروف خان نے تمام کارکنان کاشکریہ اد اکرتے ہوئے کہاکہ وہ عوام کے حقوق کیلئے ہمیشہ لڑتے رہیں گے۔انہوںنے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک سپاہی کے طور پرپارٹی کی مضبوطی کیلئے ہر ممکنہ اقدام کرنے کیلئے تیار ہیں اور دی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنے بھرپور کوشش کریں گے ۔انہوں نے کارکنان پر زور دیاکہ وہ پارٹی کو مضبوط کریں ۔انہوں نے بتایاکہ پارٹی صدر محبوبہ مفتی5ستمبر کو پونچھ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کریں گی جس میں تمام کارکنان شرکت کو یقینی بنائیں۔اعظم ساگر نے بھی معروف خان کی نامزدگی کاخیر مقدم کیا ۔اجلاس سے زاہدہ چوہدری ،ماسٹر اخلاق خان،ریٹائرڈ ایس پی رزاق خان،شاہ محمد خان،تنویر،ظفر ،حبیب اللہ خان،خورشید احمد خان،محمد معروف مغل،صوفی مشتاق ،ایڈووکیٹ محمد شوکت چوہدری،حاجی محمد سلیم،راجہ نسیم خان،محمد شمیم،شاہ محمد خان،محمد اعظم فانی ،ایڈووکیٹ مختار احمد قریشی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
 

راجوری یونیورسٹی میں BSCنرسنگ انٹرنس ٹیسٹ کا انعقاد 

سمت بھارگو
 
راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں تین سالہ کورس کیلئے بی ایس سی نرسنگ کے کامن انٹرنس ٹیسٹ کا انعقاد کیاگیا ۔یونیورسٹی کے میڈیا ایڈوائزر دانش اقبال کے مطابق اس ٹیسٹ میں ضلع کے تمام بائیس اضلاع سے امیدواروں نے حصہ لیا جن کیلئے راجوری ، سرینگر ، جموں اور کشتواڑ میں امتحانی مراکز قائم کئے گئے تھے ۔دانش اقبال کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت نے راجوری کیمپس میں امتحان کا خود معائنہ کیا اور انتظامات کا جائزہ بھی لیا ۔یہ امتحان یونیورسٹی کے ڈین اکیڈمک افیئرس پروفیسرپرویز اقبال کی نگرانی میں انعقاد ہوا۔دانش اقبال نے بتایاکہ تمام چاروں مراکز میں امیدواروں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی گئیں اور یہ امتحانات بحسن خوبی انجام پائے ۔انہوں نے بتایاکہ امتحانات کو صاف و شفاف بنانے کے مقصد سے یونیورسٹی کی طرف سے غیر جانبدارآبزرور تعینات رکھے گئے تھے ۔
 

بھاجپا کی حمایت دیہی علاقوں کی بااختیاری:وبودھ 

راجوری//بھاجپا کے سینئر لیڈر و ممبرقانون ساز کونسل وبودھ گپتا نے کہاہے کہ آئندہ پنچایتی چنائو میں بھاجپا کو ووٹ دے کر دیہی علاقوں کی ترقی و بااختیاری کو یقینی بنایاجائے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں انہوں نے کالاکوٹ کے کھرسو ، تریرو ، برواری ، ملوریاں ، کھینو اور میتکا علاقوں میں مقامی لوگوں کے ساتھ میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ پنچایتی چنائو میں بھاجپا کو ووٹ دے کر دیہی علاقوں کی ترقی و بااختیاری کو یقینی بنایاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ ان کا مقصد دورافتادہ علاقوں کے لوگوں تک رسائی ہے تاکہ ہر ایک کو اس کا حق ملے اور دیہی علاقوں کی ترقی کا خواب پورا ہو۔ انہوں نے کہاکہ اس مقصد کیلئے وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی طرف سے متعدد سکیمیں شروع کی گئی ہیں جن میں سوبھاگیا بھی ایک اہم سکیم ہے جس کا مقصدبرقی رو سے محروم علاقوں میں بجلی کی سہولت کی فراہمی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھاجپا کی اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہندکی قیادت میں ملک دنیا بھر میں اہم طاقت کے طور پر ابھر رہاہے اورہندوستان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کی ترقی بھی بھاجپا کی قیادت میں ہی ہوسکتی ہے کیونکہ دیگر جماعتوں نے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا اور ان کے مسائل حل نہیں کئے ۔ان کے ہمراہ راکیش رینہ ، لیکھ راج ، آنچل سنگھ ، سبھاش چندر، وجے کمار ، روہت کمار، گورو سیٹھ ، دیپک سنگھ ،راکیش کمار وغیرہ بھی تھے ۔
 

ADCاورBDOکی کرسیاں خالی 

کوٹرنکہ کے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا

کوٹرنکہ//ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر و بلاک ڈیولپمنٹ افسران کوٹرنکہ کی کرسیاں پچھلے کئی دنوں سے خالی پڑی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو خالی ہاتھ واپس لوٹ کر جاناپڑتاہے ۔حال ہی میں حکام کی طرف سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسران کا تبادلہ عمل میں لایاگیاتاہم تبدیل ہونے والے افسران کی جگہ نئے افسران کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی جس کا خمیازہ عام لوگ بھگت رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ پہلے سے ہی یہ علاقہ پسماندہ ہے جہاں افسران کی عدم موجودگی سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ فوری طور پر افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ ان کو مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے ۔ا ن کاکہناہے کہ حکومت صرف افسران کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اسے عوامی مسائل کے حل کی کوئی پرواہ نہیں ۔کئی لوگوں نے بتایاکہ وہ صبح دور دراز علاقوں سے چل کر کوٹرنکہ پہنچتے ہیں جہاں یہ پتہ چلتاہے کہ افسران ہی نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ان کے کام رکے پڑے ہیں اور مزدوروں کو اجرتیں بھی نہیں مل رہی۔
 

ڈپٹی کمشنر راجوری نے سپیشل سمری ریویژن کا جائزہ لیا 

راجوری //ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد نے افسرا ن کی ایک میٹنگ منعقد کرکے سپیشل سمری ریویژن کاجائزہ لیا جس دوران ضلع بھر میں سویپ سرگرمیوں کے انعقاد پر زور دیاگیا۔اس موقعہ پر میونسپل چنائو کے اندراج کے کئی معاملات بھی حل کئے گئے ۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکمہ جات کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ افرادی قوت اور مشینری کواپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے تیار رکھیں تاکہ میونسپل چنائو کو صاف و شفاف طرز پر منعقد کیاجاسکے ۔انہوں نے اس دوران بارہ نوڈل افسران کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیااور ان کو ان کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں ۔
 

این سی کارکنان کی پی ڈی پی میں شمولیت کادعویٰ 

عشرت حسین بٹ
 
منڈی// منڈی کے علاقہ بیدار میں متعدد این سی کارکنان کی پی ڈی پی میں شمولیت کادعویٰ کیاگیاہے ۔ممبر اسمبلی پونچھ شاہ محمد تانترے نے اس علاقے کادورہ کیا جس دوران وارڈ نمبر چھ،سات اورآٹھ کے ورکران نے تانترے کے ذریعہ ہوئے کاموںکی سراہنا کی اور کہاکہ اس عرصہ میں وہ کام بھی سرانجام دیئے گئے جو آزادی کے بعد اب تک نہیں ہوئے تھے ۔انہوں نے پی ڈی پی میں شمولیت کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل کانفرنس کے لیڈران ووٹ لینے کے بعد بھاگ جاتے تھے اوران کا الیکشن کے بعد پتہ بھی نہیں چلتاتھاتاہم شاہ محمد تانترے نے ایم ایل اے بننے کے بعد بھی لوگوں سے رشتہ نہیں توڑااور وہ عوام سے ان کے علاقے میں جاکر ملتے رہے اور مسائل کے حل کیلئے کوشاں نظر آئے ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے عبدالاحد شیخ نے کہا کہ پچھلے اٹھارہ برسوں کے دوران لوگوں سے ان کے لیڈران کی ملاقات بھی نہیں ہوئی مگر تانترے کا اخلاق دیکھ کر وہ بے حد متاثر ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے وہ این سی چھوڑ کر پی ڈی پی میں شامل ہورہے ہیں۔پی ڈی پی بلاک صدرپیر زادہ بلال مخدومی نے پی ڈی پی کی قیادت والی حکومت نے تین سال میں ایسے کام انجام دیئے جو اس سے قبل نہیں ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ سکول کی عمارت، بجلی اور پانی کی سپلائی سے لیکر تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں ۔اپنے خطاب میںتانترے نے کہاکہ ان کی زندگی کا مقصد غریبوں تک ان کا حق پہنچاناہے اور وہ ذات پات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ۔اس موقعہ پر بشیر خاکی ،اعجازمنگرال، پیر زادہ خورشید ،مجید ٹھکر، رفیق تانترے، رشید شیخ، الطاف خواجہ، ٹھیکیدار غلام نبی نائیک،ٹھیکیدار امیر دین ،خواجہ عبدالجبار ، غلام محمد بٹ،چوہدری خادم ،اکرم نائیک ، جہانگیر احمد وغیرہ بھی موجو دتھے ۔پارٹی میں شامل ہونے والوں میں عبدالاحد ڈار اور جلال ڈار و ان کے ساتھی ہیں۔
 

دفعہ 35اے معاملہ 

آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کی سازش : پیپلز مومنٹ

راجوری// جموں کشمیر کا پورا خطہ متنازعہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے لہٰذا کشمیری قوم ریاست کی متنازعہ حیثیت کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خانی کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ یہاں جاری بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار سینئر حریت رہنما اورپیپلز مومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے ضلع راجوری کے مضافات میں منعقد 35-Aکی منسوخی کے خلاف منعقد احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ہر قسم کے حربے آزمانے کے باوجود ریاست میں جاری تحریک ِ حقِ خود ارادیت کو کچلنے میں بری طرح ناکامی ہوئی ہے لہٰذا اب غیر قانونی قبضے کو دوام بخشنے کے لئے نت نئے حربے اور طریقے اپنا نے کی کوشش کی جارہی ہے اور دفعہ 370اور 35-A کو منسوخ کرنا بھی اس گھناؤنی سازش کا ایک حصہ ہے۔حریت رہنما نے کہا کہ دفعہ 35-Aکو منسوخ کر کے جموں کشمیر کے متنازعہ خطے میں آبادی کا تناسب یکسر بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ طور استصوابِ رائے کے نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جموں کشمیر کے عوام ایسی کسی بھی سازش کو ہر گز کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی متنازعہ حیثیت کے سا تھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے نہایت تباہ کن نتائج بر آمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری نئی دلی پر عائد ہو گی۔پیپلز مومنٹ کے چیئرمین نے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جس طریقہ سے پوری ریاست سراپا احتجاج ہے اور لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر آکر نئی دلی کو یہ پیغام بھیجا ہے وہ ریاست کی متنازعہ اور خصوصی حیثیت کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ نوشتہ دیوار پڑھ کر جموں کشمیر کے اصل مسئلے کے حل کی خاطر راستہ ہموار کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہاکہ جموںکشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جو آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈا پرموجود ہے۔
 

پی ڈی پی کا مینڈھر میں اجلاس منعقد 

مینڈھر//پی ڈی پی کی ڈاک بنگلہ مینڈھر میں ایک میٹنگ زیر صدارت محمد اعظم ساگر زونل صدرمنعقد ہوئی جس میں شامل کارکنان نے ایڈووکیٹ محمد معروف خان کو پی ڈی پی کا ریاستی سکریٹری نامزد کرنے پر تنظیم کی صدر محبوبہ مفتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔اس دوران معروف خان کا استقبال کیاگیا ۔یہاں جاری بیان کے مطابق اس موقعہ پر بولتے ہوئے ماسٹر محمد دین پسوال نے کہا کہ معروف خان ایک اعلیٰ سیاست دان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مینڈھر کی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کیا اور کبھی اقتدار کے لئے نہیں دوڑے ۔چوہدری محمد صادق نے کہا کہ پی ڈی پی کی صدر نے بہترین فیصلہ لیتے ہوئے معروف خان کوریاستی سکریٹری نامزدکیاہے اور انہیں یقین ہے کہ اس فیصلے سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی ۔اپنے خطاب میں معروف خان نے تمام کارکنان کاشکریہ اد اکرتے ہوئے کہاکہ وہ عوام کے حقوق کیلئے ہمیشہ لڑتے رہیں گے۔انہوںنے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک سپاہی کے طور پرپارٹی کی مضبوطی کیلئے ہر ممکنہ اقدام کرنے کیلئے تیار ہیں اور دی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنے بھرپور کوشش کریں گے ۔انہوں نے کارکنان پر زور دیاکہ وہ پارٹی کو مضبوط کریں ۔انہوں نے بتایاکہ پارٹی صدر محبوبہ مفتی5ستمبر کو پونچھ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کریں گی جس میں تمام کارکنان شرکت کو یقینی بنائیں۔اعظم ساگر نے بھی معروف خان کی نامزدگی کاخیر مقدم کیا ۔اجلاس سے زاہدہ چوہدری ،ماسٹر اخلاق خان،ریٹائرڈ ایس پی رزاق خان،شاہ محمد خان،تنویر،ظفر ،حبیب اللہ خان،خورشید احمد خان،محمد معروف مغل،صوفی مشتاق ،ایڈووکیٹ محمد شوکت چوہدری،حاجی محمد سلیم،راجہ نسیم خان،محمد شمیم،شاہ محمد خان،محمد اعظم فانی ،ایڈووکیٹ مختار احمد قریشی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
 

راجوری یونیورسٹی میں BSCنرسنگ انٹرنس ٹیسٹ کا انعقاد 

سمت بھارگو
 
راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں تین سالہ کورس کیلئے بی ایس سی نرسنگ کے کامن انٹرنس ٹیسٹ کا انعقاد کیاگیا ۔یونیورسٹی کے میڈیا ایڈوائزر دانش اقبال کے مطابق اس ٹیسٹ میں ضلع کے تمام بائیس اضلاع سے امیدواروں نے حصہ لیا جن کیلئے راجوری ، سرینگر ، جموں اور کشتواڑ میں امتحانی مراکز قائم کئے گئے تھے ۔دانش اقبال کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت نے راجوری کیمپس میں امتحان کا خود معائنہ کیا اور انتظامات کا جائزہ بھی لیا ۔یہ امتحان یونیورسٹی کے ڈین اکیڈمک افیئرس پروفیسرپرویز اقبال کی نگرانی میں انعقاد ہوا۔دانش اقبال نے بتایاکہ تمام چاروں مراکز میں امیدواروں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی گئیں اور یہ امتحانات بحسن خوبی انجام پائے ۔انہوں نے بتایاکہ امتحانات کو صاف و شفاف بنانے کے مقصد سے یونیورسٹی کی طرف سے غیر جانبدارآبزرور تعینات رکھے گئے تھے ۔