مزید خبریں

عوامی رابطہ پروگرام 

بی بی ویاس کی متعددوفودسے ملاقات

جموں//گورنر کے مشیر بی بی ویاس نے گذشتہ روز جموں میں جے کے گورنرس گریوینس سیل کے تحت ایک عوامی دربار کا انعقاد کیا جس میں65 وفود سمیت900 سے زائد لوگوں نے اپنے اپنے مسائل اُن کی نوٹس میں لائے۔کٹھوعہ، راجوری، ریاسی، ڈوڈہ، سانبہ اور اودہمپور سے تعلق رکھنے والے وفود نے سڑک رابطوں، پانی، بجلی، صحت، صفائی ستھرائی، کراس بارڈر فائیرنگ سے متاثرہ کنبوں کو معاوضہ دینے اور دیگر معاملات کو اُجاگر کیا۔سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے وفود نے بھی بنیادی ڈھانچے کو بڑھاوا دینے سے متعلق معاملات سامنے رکھے۔مشیر موصوف نے بجلی محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ سرحدی علاقوں میں زیر زمین بجلی تاریں بچھائیں تا کہ وہاں کے لوگوں کو بلا خلل بجلی کی سہولیات مہیا ہوسکیں۔سابق وزیر ہرش دیو سنگھ کی قیادت میں ایک وفد نے رام نگر کے ترقیاتی مسائل کو اُجاگر کیا۔روپ نگر سے تعلق رکھنے والے نیشنل فیڈریشن فار بلائنڈس نے بھی اپنے مسائل مشیر موصوف کی نوٹس میں لائے۔جن دیگر وفود نے بی بی ویاس کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے مسائل حل کرنے میں ان کی مداخلت طلب کی اُن میں بڑی براہمناں اور سانبہ کے صنعتی یونٹ مالکان کا وفد، مغربی پاکستانی رفیوجی، مائیگرینٹس، پنچائتی راج اداروں، ایس او ایس انٹرنیشنل، ڈوگرہ صدر سبھا، لگو ادھیوگ بھارتی، سکرالہ ماتا مندر ، جے اینڈ کے شرنارتھی ایکشن کمیٹی، ڈوڈہ مائیگرینٹس، ڈپلومہ انجنئیرس ایسوسی ایشن اور کئی محکموں کے ملازمین کے وفود شامل ہیں۔مشیر نے ان وفود کے مسائل غور سے سنے اور ان کے جائیز مطالبات پر کاروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
 
 

رہبرِتعلیم اساتذہ کا ٹیچرزڈے یومِ سیاہ کے طورپرمنانے کااعلان

یو این آئی
جموں// جموں وکشمیر میں رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے دیرینہ مطالبات پورا نہ کئے جانے پر بطور احتجاج 5ستمبر ’یوم اساتذہ ‘کو یوم سیاہ کے طور منانے کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت کل یعنی5ستمبر کو سرکاری ونجی سطح پر اساتذہ کے اعزاز میں منعقد ہونے والی کسی بھی تقریب میں اساتذہ شرکت نہ کریں گے اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیاجائے گا۔ جموںو کشمیر سے تعلق رکھنے والے 40ہزار سے زائد اساتذ ہ ساتویں تنخواہ کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں جوتاحال سرکار کی جانب سے منظور نہیں کیا گیا ہے۔رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے مطالبات کو لے کر مسلسل پانچ روز تک احتجاجی مظاہرے اور دھرنا دیا بھی دیا ہے۔فورم چیئرمین فاروق احمد تانترے کا کہنا ہے کہ وہ سرکار سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم ساتویں تنخواہ کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں جو پہلے ہی دیگر ریاستی ملازمین کو ملا ہے اور یہاں کوئی وجہ نہیںہے کہ سرکار ساتویں تنخواہ کمیشن کو روک لے۔ SSAاور RMSAکے تحت اساتذہ ، ہیڈ ٹیچرس اور ماسٹرس کے حق میں 7thپے کمیشن کا اطلاق کرنے، اْن کی تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ منسلک کرنے کے حق میں ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی جموں اور سرینگر میں غیر معینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیئرمین عبدالقیوام وانی کا کہنا ہے کہ ریاستی سرکار اساتذہ کو احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کر رہی ہے کیونکہ 7thپے کمیشن کا اطلاق اساتذہ کا قانونی ، آئینی اور جمہوری حق ہے جسکو ریاستی سرکار نے بلا وجہ روک کے رکھا ہے۔اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے اپنے مطالبات کو مبینہ طور پر نظر انداز کئے جانے کے خلاف آئندہ 5ستمبر کو یوم اساتذہ کی جگہ یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے جن کی دلیل ہے کہ جہاں انہیں دیگر ریاستی ملازمین کی طرز پر تمام تر مراعات دی جا رہی ہیں، پانچواں اور چھٹا پے کمیشن بھی نافذ کر دیا گیا ہے تو ساتویں پے کمیشن کے اطلاق میں کیا اڑچن ہے۔ بتادیں کہ گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی ،جو محکمہ تعلیم کے انچارج بھی ہیں، نے اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھوک ہڑتال جیسے انتہائی اقدامات نہ کریں کیوں کہ حکومت نے اْن کے مسائل کا جائیزہ لینے کے لئے پرنسپل سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔مشیر موصوف نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود ریاستی حکومت اساتذہ کے جائیز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ سماج کا ایک بیش قیمت اثاثہ ہیں اور اْن کی فلاح و بہبود حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ خورشید احمد گنائی نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے فرائض ادا کریں تا کہ سکولوں کے روزانہ کام کاج پر کوئی اثر نہ پڑے اور طالب علموں کو نقصانات کا سامنا نہ ہو لیکن فی الحال اساتذہ نے اپنے احتجاجی سلسلہ کو بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہ کیاہے۔یو این آئی
 
 
 

جموں یونیورسٹی میں’صلاحیتوں میں اضافہ ‘سے متعلق ورکشاپ کااہتمام

جموں//انڈین نیشنل ٹرسٹ فارآرٹ اینڈکلچرل ہیری ٹیچ (آئی این ٹی اے سی ایچ ) جموں چیپٹرنے سنٹرفاروومنز سٹڈیز (سی ڈبلیوایس ) جموں یونیورسٹی ،سنٹرفارہسٹری اینڈکلچرآف جموں اینڈ لداخ ریجنس (سی ایچ سی جے آر)جموں یونیورسٹی اورڈیپارٹمنٹ آف ہینڈی کرافٹ جموں وکشمیرکے اشتراک سے’’ سکل انہاسمنٹ فارکالیکو پرنٹنگ ‘‘کے موضوع پردوہفتوں کے ورکشاپ کااہتمام کیاجس میں ہینڈی کرافٹ کے 20 تربیت کاروں نے حصہ لیاجوغیرہنرمندخواتین جوپہلے سے کالیکوپرنٹنگ جسے عرف عام میں سانبہ پرنٹس آف جموں کہاجاتاہے کی جانکاری رکھتی ہیں کوتربیت دی جائے گی۔اس موقعہ پر ڈائریکٹر سنٹرفاروومن سٹڈیز جموں یونیورسٹی سمن جموال نے شرکاء کااستقبال کیا جبکہ احمدآبادسے تعلق رکھنے والی ٹرینرانجوگپتاکے اے ایس ،جوائنٹ ڈائریکٹر ڈیپارٹمنٹ آف ہینڈی کرافٹ جموں،پروفیسر انیتابلاوریہ ڈائریکٹرسی ایچ سی جے ایل آرجموں یونیورسٹی اورایس ایم ساہنی کنوینر آئی این ٹی اے سی ایچ جموں چیپٹربطورتربیت کارموجودتھیںکااستقبال کیا۔انہوں نے خواتین کوہندوستان میں کالیکوپرنٹنگ کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔اس موقعہ پر انجوگپتانے شرکاء کوہینڈی کرافٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کالیکوپرنٹنگ کرافٹ آف سانبہ جموں کوفروغ دینے کیلئے اقدامات کی جانکاری دی۔انہوں نے کہاکہ محکمہ ہینڈی کرافٹ اس کرافٹ کی تربیت دینے کیلئے کوشاں ہے۔انہوں نے آئی این ٹی اے سی ایچ جموں چیپٹراورتربیت کاروںبالخصوص سجادبھائی ادھے پوری اورسجادچیپا کاشکریہ اداکیا۔پروفیسرانیتابلاوریہ نے کالیکوکرافٹ آف سانبہ کی تاریخی وسماجی پس منظرکوبیان کیا۔ایس ایم ساہنی کنوینرآئی این ٹی اے سی ایچ جموں چیپٹرنے سانبہ پرنٹس کوجموں کی ہیری ٹیج کاحصہ بتایا۔اس موقعہ پر کلدیپ واہی، کوکنوینر ۔آئی این ٹی اے سی ایچ جموں چیپٹر ،سندیپ سنگھ پٹھانیہ، پروگرام کوآرڈی نیٹر، آئی این ٹی اے سی ایچ جموں چیپٹر، ڈاکٹر پریانکاکٹوچ، سرنجیت کور، فیکلٹی آف دی سنٹرفاروومن سٹڈیز ابھی منیو دیوسنگھ بلاوریہ اورایس ایس رسم بھی موجودتھے۔
 

طالب حسین معاملہ : کیس کی اگلی تاریخ 8 ستمبر

جموں//کٹھوعہ واقعہ کے متاثرین کوانصاف دلانے کی جدوجہد پیش پیش رہنے والے اورکیس کے اہم گواہ سماجی کارکن طالب حسین کی ضمانتی عرضی کی سنوائی سانبہ سیشن کورٹ میں ہوئی۔اس دورن ملزم کی طرف سے ایڈوکیٹ انورچوہدری اورایڈوکیٹ اکرم چوہدری پیش ہوئے ۔اس سے پہلے پولیس کی طرف سے ملزم کے خلاف الزامات کاچالان سانبہ سیشن کورٹ میں پیش کرنے کے بعد20 اگست کو چالان میں طالب حسین پرلگائے گئے الزامات پربحث کی تھی ۔طرفین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعدعدالت ہذانے کیس کی تاریخ 31اگست 2018 طے کی تھی اوربحث کے بعداگلی تاریخ 4 ستمبرمقررکی گئی تھی۔ گذشتہ روزسنوائی کے دوران ملزم اوراستغاثہ کے وکلاء کے مابین کافی بحث ہوئی ،تاہم عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے اس کی اگلی سنوائی 8ستمبرکوطے کی۔ بعدازاں میڈیاسے بات کرتے ہوئے ملزم طالب حسین کے وکلاء ایڈوکیٹ انورچوہدری اورایڈوکیٹ محمداکرم نے کہاکہ طالب حسین پرلگائے گئے الزامات بے بنیادہیں کیونکہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک کمزورکیس ہے اورتوقع ہے کہ موکل کی ضمانت ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہ کورٹ نے اگلی تاریخ 8ستمبرمقررکی ہے۔انہوں نے کہاکہ طالب حسین کے خلاف کیس ایک سازش کے تحت دائرکروایاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں عدلیہ پربھرپوراعتمادہے اوریقین ہے کہ سچائی سامنے آئے گی۔
 
 
 

لکھن پورٹول پوسٹ  پرٹیکس چوری کی روکتھام 

بلال کرائپاک ہفتے کے بیسٹ پرفارمرقرار

جموں//ایکسائز کمشنر جموں وکشمیرنے اپنے لکھن پورٹول پوسٹ کے دورہ کے دوران ڈی سی لکھن پورنے حاصل کردہ ٹیکس کی رپورٹ، مویشی سمگلنگ کی کوششیں ناکام بنانے، پالی تھین اوربھکی جیسی پابندی شدہ چیزوں کی ضبطگی کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔اس سے پہلے ڈی سی لکھن پورکوٹیکس چوری پرقابوپانے اورعملے کی عزت افزائی کیلئے ’بیسٹ پرفارمرآف دی ویک‘ شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ایکسائزکمشنر نے ڈی سی لکھن پوراوراس کے عملے کی شاندارکارکردگی کی ستائش کی اوراس موقعہ پر سینئر ایکسائزافسربلاک اے کرائپاک کوبیسٹ پرفارمرآف دی ویک قراردیاگیا۔ایکسائزکمشنرنے بلال اوردیگرافسران کومبارکبادپیش کی اورتوقع کی کہ وہ آئندہ بھی اپنی بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرتے رہیں گے۔
 
 
 

ڈی سی کٹھوعہ سے متعددوفودملاقی

مسائل کے ازالہ کیلئے انتظامیہ کوہدایات دیں

کٹھوعہ//ضلع ترقیاتی کمشنر روہت کھجوریہ نے لوگوں کے مسائل سننے کیلئے ڈی سردفترکمپلیکس میںایک عوامی مسائل ازالہ کیمپ کاانعقاد کیا۔اس دوران ڈی سی نے ضلع کے دوردرازعلاقہ جات سے آئے ہوئے لوگوں کے مسائل سنے۔اس موقعہ پر متعددوفودڈی سی سے ملاقی ہوئے ۔اس دوران لوگوں نے سڑکوں کی خستہ حالی، بجلی اورپانی کی عدم دستیابی ،بجلی کی کم وولٹیج اورریونیوسے متعلق مسائل کوپیش کیا۔ڈی ڈی سی نے مسائل کواطمینان سے سنااوران کے ازالہ کیلئے متعلقہ افسران کوہدایات دیں۔ڈپٹی کمشنرنے افسران سے کہاکہ وہ لوگوں کے مسائل کوترجیحی بنیادوں پرحل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔اس دوران جن علاقوں کے وفودنے ڈی سی کٹھوعہ سے ملاقات کی ان میں بروال، ننان، کیریاں،پڑیاری،جھکبار،خان پور،ہیرانگراورکٹھوعہ کے مختلف وارڈشامل تھے۔اس موقعہ پر ایڈیشنل ڈی سی گھنیشام سنگھ ،تحصیلدار کٹھوعہ اوراے ڈی ایف سی ایس اینڈسی اے بھی موجودتھے۔
 
 
 

سانبہ میں پیشہ ورملزم پرپی ایس اے عائد

سانبہ //جموں وکشمیرپولیس نے سانبہ ضلع میںایک مبینہ پیشہ ور ملزم کوگرفتارکرکے اس پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت عائدکردیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کی شناخت یوگیشورسنگھ عرف جیبوساکن ادھ منڈی ،وجے پورکے طورپرہوئی ہے جسے سوموارکے روزپولیس ٹیم نے گرفتارکیاتھا اوراس کے بعد پی ایس اے کے تحت وارنٹ جاری ہونے کے بعدکٹھوعہ جیل منتقل کیاتھا۔پولیس کے مطابق یہ جرائم کاعادی ملزم ہے اوراس نے نہ صرف لوگوں میں خوف پیداکیاہے بلکہ امن وامان کیلئے بھی خطرات پیداکیے ہیں۔ترجمان کے مطابق پولیس نے ریکارڈکاجائزہ لینے کے بعدڈویزرتیارکیاجس کے بعدڈپٹی کمشنرسانبہ نے اس پرڈی سی سانبہ نے پی ایس اے عائد کردیا۔اس سے پہلے بھی مذکورہ ملزم مختلف معاملات میں ملوث پایاگیاہے۔متعددبارٹیمیں تشکیل دی گئیں لیکن وہ پولیس سے فراررہا۔
 
 

حکیم محمدیاسین اورسجادغنی لون گورنرسے ملاقی

سری نگر /ایم ایل اے خانصاحب حکیم محمد یٰسین نے آج یہاں راج بھون میں گورنر ستیہ پال ملک کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں گورنر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ایم ایل اے موصوف نے گورنر کو اپنے حلقے کی مشکلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ سکولوں میں اساتذہ کی کمی اور کمزور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے تعلیمی نظام متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے ریاست میں اس سال میونسپلٹی اور بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کے گورنر کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔گورنر نے ایم ایل اے سے تلقین کی کہ وہ پنچائتوں اور میونسپل انتخابات کی افادیت کے بارے میں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے میں اپنا بھرپور رول ادا کریں۔علاوہ ازیںہنداڑہ حلقہ انتخاب کے اسمبلی ممبر اور سابق ریاستی وزیر سجاد غنی لون نے راج بھو ن میں گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کر کے ریاست کا گورنر مقرر کئے جانے پر انہیں مبارک باددی۔سجاد غنی لون نے ہندواڑہ میں جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں گورنر کو جانکاری دیتے ہوئے کچھ پروجیکٹوں کی راہ میں حائل رُکاوٹوں کے بارے میں انہیں بتایا۔گورنر اور سجاد غنی لون نے آنے والے بلدیاتی اور میونسپل انتخابات کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔گورنر نر نے سجاد غنی لون کی جانب سے دی گئی کئی تجاویز پر مناسب غور کا یقین دلایا کہ انہیں تلقین کی کہ وہ لوگوں کو ان انتخابات کی اہمیت کے بارے میں جانکاری دیں تاکہ ریاست میں زمینی سطح پر جمہوری اداروں کو مزید مستحکم بنایاجاسکے۔