مزید خبریں

گوجر بکروال طبقہ قبائلی شناخت کی بقاء کیلئے کوشاں 

 جموں// طبقہ گوجر اوربکروال طبقہ نے قبائلی شناخت کی حفاظت کیلئے سماجی ۔سیاسی اور ثقافتی حقوق سلب نہ کئے جانے کامطالبہ کیاہے ۔یہاں پر طبقہ کی جانب سے جاری بیان میں طبقہ نے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح قبائلی طبقہ کی شناخت کوبدستور جاری وساری رکھنے کیلئے دئیے جارہے حقوق کی فراہمی کو نہ بھولیں۔شرکاء نے طبقہ کی باقیماندہ ساکھ کو بچانے کیلئے فوری طورپر جامع اقدامات کرنے کا پرزور مطالبہ کیاہے۔ ڈاکٹر جاوید راہی کی قیادت میں یہاں ٹرائبل ریسرچ گروپ اینڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے خصوصی پروگرام کااہتمام کیاگیا ، طبقہ سے وابستہ کئی نامور شخصیات نے حصہ لیا۔مقررین نے کہا کہ قبائلی طبقہ کافی پسماندہ اورتاریخی طورپر قدیم ہے لہذا اس  طبقہ سے وابستہ قوم کو بچانے کیلئے ریاستی سرکار کو ملک کے دوسرے ریاستوں کی طرح اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس پسماندہ طبقہ کو نظرانداز کئے جانے سے طبقہ پوری طرح ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ پارٹی کے ترجمان نے اس موقع پر بتایا ہے کہ پسماندہ طبقہ کی شناخت کی حفاظت کیلئے کسی بھی برسراقتدار والی سرکاروں نے آج تک کوئی قانون نہیں بنایا ہے جوکہ باعث تشویش اورقابل افسوس ہے۔ انہوںنے واضح طورپرحوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ قبائلی شناخت کے بچاؤ کیلئے پہلے سے ہی سیاسی  نمائندگی کیلئے دفعہ334 جبکہ جنگلاتی حقوق ایکٹ 2006 کے علاوہ ایس سی ایس ٹی  بازآباد کاری ایکٹ 2013 اورظلم وامان کی روکتھا کیلئے1989 ایکٹ موجود ہے لیکن افسوس کاعالم یہ ہے کہ ریاست جمو ں وکشمیر کے قبائلی طبقہ ان قوانین کو لاگو کرنے کیلئے ابھی منتظر ہیں۔ انہوں نے مزید کہاہے کہ درجہ فہرست ذاتوں کیلئے ریاستی ایوان میں7سیٹیں مخصوص ہیں لیکن ان میں قبائلی طبقہ کو نمائندگی سے محروم رکھاگیاہے ۔ اس موقع پربولنے والوں میں قمرچودھری کے علاوہ اشتیاق ‘شبنم احمد‘ علی حسین‘خواجہ بشیر بجاد‘حنیف لودھا اوردیگران شامل تھے۔
 

ائور لوڈ گاڑیوں میں سفر نہ کریں 

 ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی عوام سے اپیل

سرینگر//جے اینڈ کے سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اؤر لوڈڈ گاڑیوں میں سفر نہ کریں۔ اس حوالے سے آج یہاں جاری کئے گئے ایک بیان میں ایس ڈی ایم اے نے عوام بالخصوص مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اؤر لوڈڈ گاڑی میں سفر کرنے کے بجائے دوسری خالی گاڑی کا انتظار کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اؤر لوڈڈ گاڑی کہیں پر بھی دیکھتا ہے تو وہ فوری طور پر اس معاملہ کو رپورٹ کرے اور نامزد نمبرات یا تو کال کرے یا پھر اس کی تصویر وٹس اپ کرے تا ہم لازمی ہے کہ اس تصویر میں گاڑی کا رجسٹریشن نمبر پلیٹ واضح طور عیاں ہونا چاہئے۔علاوہ ازیں جگہ اور وقت کا ذکر کیا جانا چاہئے۔فوٹو گراف ان وٹس اپ نمبرات پر بھیجے جاسکتے ہیں۔9419993745 ( ٹی سی یورام بن)،9419147732 ( ٹی سی جموں)،9469807526 ( ٹی سی یو سرینگر) یا ان نمبرات پر عوام کال بھی کرسکتے ہیں۔ٹی سی یو سرینگر01942450022 ،2485396 ، ٹی سی یو جموں01912459048 ،پی سی آر جموں01912544581 ،2542000 ،2542001 ،2560401 ،1091 ، پی سی آر سرینگر01942506504 ، ای او سی سرینگر1070 ،ایس ایس پی ٹریفک رورل کشمیر9419007686 ، ایس ایس پی ٹریفک این ایچ ڈبلیو9419795568 ، ڈی ایس پی ٹریفک اودہمپور/ ریاسی9419150589 ،رام بن9419160806 ، بانہال7006640663  اور ڈی ایس پی ٹریفک کُلگام/ قاضی گنڈ9697009080 ۔ ایس ڈی ایم اے نے یقین دلایا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی کال کرنے والے یا فوٹو بھیجنے والے کی شناخت راز میں رکھی جائے گی۔
 
 

رہبر تعلیم اساتذہ کی ٹیچرز فورم کو حمایت 

جموں // ریاست کے اکتالیس ہزاراساتذہ کے حق میں ساتویں پے کمیشن کے اطلاق اور تنخواوں کی ڈی لنکنگ کو لیکر جاری احتجاج کو لیکر جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم نے فی الحال اپنا کوئی احتجاجی پروگرام  نہ دے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ٹیچرز فورم کے صدر عبدالقیوم وانی کو حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق گذشتہ ہفتے صوبہ جموں میں ضلعی سطحی  ایک ہفتے کی چین ہنگر سڑائیک کے بعد جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم نیچیرمین فاروق احمد تانترے کی قیادت میں اتوار کو سرینگر میں ایک میٹنگ طلب کی تھی جس میں سٹیٹ ایگزکیٹیو ممبران کے علاوہ فورم کے ضلع صدور و دیگر عہداران نے شرکت کی۔پریس کے نام جاری بیان میں رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کے چیرمین فاروق احمد تانترے نے اس موقع پر کہا ہے کہ وہ لیڈر شپ کی دوڑ میں نہیں بلکہ مسائل کے حل کے ساتھ ہیں -اْنہوں نے کہا ہے کہ ٹیچرز فورم کے صدر عبدل القیوم وانی کے پرتاپ پارک میں شروع کی گئی بھوک ہڑتال کے بعد رہبر تعلیم ٹیچرز فورم نے با اتفاق رائے سرینگر میں اپنے ایک ہفتے کی ضلعی سطحی بھوک ہڑتال کا احتجاجی پروگرام موخر کیا تھا -اْنہوں نے کہا کہ آج بھی فورم عہداران کی اتفاق رائے کے بعد فورم نے اپنی اگلی  میٹنگ منعقد کرنے  تک کوئی بھی پروگرام نہ دے کر ٹیچرز فورم کے صدر کی بھوک ہڑتال کی کال کواپنی حمایت فی الحال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے – اْنہوں نے کہا کہ فورم ایک ہفتے کی بعد  پھر سے ایگزیکیٹیو کا اجلاس طلب کر کے  ایک جائزہ میٹنگ منعقد کر نیکے مستقبل کے پروگرام کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کرے گی – اْنہوں نے گونر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اساتذہ کے ساتویں پیے کمشن کے واگذار کر کے اساتذہ کی بند پڑی تنخواؤں کو واگذار کریں اور تنخواوں کو مرکز سے کاٹ کر ریاستی بجٹ کے ساتھ منسلک کریں – فورم چیرمین نے مزید کہا ہے کہ جب تک نہ اساتذہ کو اْن کے جائز حقوق دیئے  جاتے ہیں رہبر تعلیم ٹیچرز فورم اپنی جدو جہد جاری رکھے گی اور اس کے لئے فورم کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گی – اْنہوں نے کہا ہے کہ وہ کوئی اضافی مانگ نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کے واگذاری کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
 
 

 ایسکان ادہم پور میںمفت طبی کیمپ

اودہم پور// زندگی کوہرپہلو سے آخرد یکھاجاتاہے مدد ‘فکسنگ اورخدمات  تین مختلف طریقے ہیں جب ہم مدد کرتے ہیں تو  ہم دیکھتے ہیں زندگی ضعیف ہے جب ہم فکس کرتے ہیں تو ہم زندگی کوٹوٹا ہوا دیکھتے ہیں اورجب ہم خدمت کرتے ہیں توہم پوری زندگی کو دیکھتے ہیں ۔ان باتوں کااظہار آج یہاں ڈاکٹر سشیل نے اودھمپورکے ایسکان میںلگائے گئے طبی کیمپ کے دوران کیا۔ روحانی خدمات کیلئے  شخصیت کوجذباتی ‘سماجی اورروحانی طورپردیکھاجاسکتاہے ۔ طبی معائنہ کے دوران ڈاکٹر سشیل نے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مریضوںسے کہاہے کہ صحت مند و تندرستی کیلئے مقوی غذا لینے کی ضرورت ہے جس میں پھل اورمیوہ جات شامل ہے انہوںنے مزید کہاہے کہ پھل اورمیوجات کھانے سے کئی بیماریاں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اورجیسے کہ مہلک بیماریوںمیں کینسر ہائی پرٹینشن اورسٹروکس و موٹاپن سے بھی نجات ملتی ہے۔ تاہم انہوںنے ضرورت کے مطابق غذا لینے کی ضرورتوں پرزوردیاہے۔ انہوںنے مزید کہاہے کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کئی مذہبی رہنما ٖؤں کو صحت مند اغذ کے اہم خصوصیات کے بارے میں جانکاری ضرور ہے پھلوں اورسبزیوں کی باقاعدگی طورپر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے مذاہب انسان کو انسانی جسم کو مقدس طور پر غیر معتبر طرز عمل کے خلاف مخصوص ممنوع قرار دیتے ہیں، جو غیر معقول اور نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ روحانی طور پر بھی نقصان دہ ہیں۔ انہوںنے مزید کہا ہے کہ ایک نقطہ نظر  یہ بھی ہے پھل اورسبزیوں کے استعمال سے، صحت مند زندگی صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینے اور صحت کے تحفظ کے طرز عمل کو بہتر بنانے، صحت کی حیثیت کو بہتر بنانے، اور صحت کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کی طرف سے صحت کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ انہوںنے شراب اورسگریٹ نوشی کے علاوہ نشہ آورادویات سے عادات میںنہ ڈالنے کی بھی اپیل کی ہے۔ انہوںنے مینجمنٹ کمیٹی آف اسکان مندر سریلا نوا یوگیندرا سوامی مہاراج اورماتا کنتی جی کی کاوشوں کی بھی سراہناکی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر موہی ٌ ڈاکٹر کیول شرما‘ ڈاکٹر دھنیشور کپور کے علاوہ رضاکارانہ طورپر خدمات انجام دینے والوں میں گورمیت سنگھ‘ کمال شرما ‘وکاس کمار‘راجندر سنگھ‘بانو پرتاپ سنگھ‘ہویندرسنگھ وغیرہ موجودرہے
 

ریاسی میں سیلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ پروگرام اختتام پذیر

زاہد ملک
ریاسی//سٹیٹ بنک آف انڈیا دیہی خود روزگار کی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے جاری کاروباری ترقیاتی مہارت ٹریننگ پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔پروگرام میں ارناس،گڑھی،مہور،دھر ماڑی،تلواڑہ،سوجندھار اور ریاسی سے 28تربیت پانے والوں نے رہائشی تربیتی پروگرا م میں شرکت کی۔ا س موقعہ پر وریندر کمار فنکشنل منیجر ڈی آئی سی ریاسی،بی کے شرما ایل ڈی ایم ریاسی،بنسی لال کوتوال ایف ایل سی ریاسی اور ڈائریکٹر آر ایس ای ٹی آئی موجود تھے۔وریندر کمار نے تربیت پانے والوں میں اسناد تقسیم کیں۔انہوں نے شرکاء کے ساتھ بھی بات چیت کی۔مکیش کمار بنسل ڈائریکٹر سٹیٹ بنک آف انڈیا دیہی خود روزگار کی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو تربیت پانے والوں کو آر ایس ای ٹی آئی کے سفیر کے طور سے متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی الیکٹریشن،پلمبر اور درزی وغیرہ کے نئے بیچ شروع کر رہے ہیں۔اس موقعہ پر ممتا شرما،پوجا دیوی ،راہول ڈوگرہ،اکشے کمار اور ونود مینیا بھی موجود تھے۔
 

رفیوجیوں کیلئے لی گئی زمین ،کرایہ کی ادائیگی کا مطالبہ 

جموں//تحصیل اکھنور کے گائوں جیال، گکھرال اور سدروان کے مکینوں نے اپنی زمینوں کے کرائے واگذار کرنے کی مانگ ہے جس پر 1965کی ہند پاک جنگ کے دوران بے گھر ہوئے چھمپ کے رفیوجیوں کو بسایا گیا تھا۔ گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ان لوگوں نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے1965میں رفیوجیوں کو عارضی طور پر ان کی زمینوں پر بسایا تھا اور اس کے عوض کرایہ مقرر کیا گیا جو کہ 1999تک ادا کیا گیا، لیکن اس کے بعد انہوں نے حکومت سے مسلسل رجوع کیا لیکن ان کی فریاد نہیں سنی گئی۔ 
 
 

 این ایس ایس یونٹ کی جانب سے شجرکاری مہم کااہتمام

جموں// نیشنل سروس سکیم( این ایس ایس) گورنمنٹ کالج یونٹ نے گلوبل پیس آرگنائزیشن کے اشتراک سے یہاںکالج کیمپس میں حوصلہ افزائی لیکچر اورشجرکاری مہم کااہتمام کیاہے۔پروگرام کاافتتاح پروفیسر سونیتا دیوی کے افتتاحی تقریب سے شروع کیاگیا جنہوںنے سامعین کو دن کی کارکردگی کے بارے میںمطلع کیا۔ بعداازاں الطاف شیخ چیئرمین گلوبل پیس آرگنائزیشن کے علاوہ رفیق احمد جرال چیف کنوینر جی پی او گوہرحفیظ فانی پروفیسر اکاسا را’ شریشٹا کٹوچ نے شجرکاری مہم کے بارے میں تفاصیل بتائیں ۔ اس موقع پرپرنسپل جی سی او ای نے جی پی او اور این اایس ایس رضا کار تنظیموں کے کاوشوں کی سر اہنا کی۔ عملائے گئے حوصلہ افرائی لیکچرروںکے بعد کیمپس کے حدود میں شجرکاری کی گئی۔ شجرکاری مہم کے دوران  پروفیسرراج سنگھ‘ کوارڈنیٹر‘ پروفیسر سومن چاڑک سٹاف سیکرٹری ‘پروفیسر شیلپا‘پروفیسر سیما موجود رہیں بعد میں سنیتا دیوی نے تحریک شکریہ پیش کی۔