مزید خبریں

اپرموڑابچھائی کے لوگوں کے الزامات بے بنیاد:سابق ممبراسمبلی سرنکوٹ 

بختیار حسین

سرنکوٹ// سابق ممبر اسمبلی اور کانگریس لیڈر چوہدری محمد اکرم نے پریس بیا ن میں کہا ہے کہ عوام پنچایت اپر موڑا بچھائی کی جانب سے جو بھی الزامات مجھ پر لگائے گئے میں ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں کیونکہ  وہ بے بنیاد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہاں جو بھی ہیرا پھیری ہوئی گنتی کے دوران ہوئی اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں کیونکہ اس کے متعلق انتخابی عملہ بہتر جانتا ہے میں اس پر کچھ بحث نہیں کروں گا۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ ہمارے پاس دونوں پارٹیوں کے لوگ آئے اور میں نے دونوں خاتون امیدوارں کے لیے اپنی حمایت رکھی تھی اب ان کو اگر کوئی شک و شبہات ہیں تووہ قانونی کاروائی عمل میں لائیں یا ایڈیشنل ڈی سی کے پاس ایپل کریں تاکہ ان کا معاملہ حل ہو سکے۔ اگر چیف الیکٹرول آفیسر جموں دوبارہ سے الیکشن کروائیںیا گنتی کی تاریخ مقرر کریں تو مجھے اس میں کوئی عتراض نہیں ہے کیونکہ وہاں کے سارے لوگ اپنے ہیں۔ انھوں نے یہ بتایا کہ جو ہمارا ذاتی منشور تھا وہ یہ تھا کہ اگر نیشنل کانفرنس پی ڈی پی اپنا کوئی امیدوار کھڑا کرتی  تو وہاں ہم نے بھی اپنے امیدوار کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ جہاں کانگریس کے دو امیدوار میدان میں اترے وہاں پر ہم نے خاموشی رکھی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اپر پنچایت موڑا بچھائی کے لوگوں کی طرف سے جو احتجاج میں الزام عائد کیا کہ سابق ممبر اسمبلی اور کانگریس لیڈر نے آر او کو فون کال کی یہ بالکل درست ہے ۔میں نے فون کال کی جب مجھے یہ خبر ملی کے وہاں پر حریف خاتون امیدوار کی جانب سے گنتی پر اعتراض جتایا گیا ہے تب میں نے آر او کو فون کیا کہ کیا معاملہ ہے تو انھوں نے جواب میں کہا کہ گنتی دوبارہ نہیں کریں گے۔ آخر میں انھوں نے کہاکہ اگر وہاں کے  لوگوں کو شک ہے یا ان کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو ان کو چاہیئے کہ وہ بالکل اپنے حق کے لیے لڑیں۔
 

شعبہ علوم عصریہ جامعہ ضیاء العلوم پونچھ میں نعتیہ مقابلہ کااہتمام

حسین محتشم

پونچھ//ضلع پونچھ کے مشہور و معروف تعلیمی ادارہ جامعہ ضیاء العلوم پونچھ کے شعبہ علوم عصریہ کی جانب سے مکالمہ حُسن نعت النبیؐ کے عنوان سے مسجد محمود اسکول کمکس کامسرکے طلاب میں نعتیہ مقابلہ منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت جامعہ کے روح رواں مولانا غلام قادر نے کی۔اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے سابق ضلع ترقیاتی کمشنر مطلوب الرحمٰن خان نے کی جبکہ مہما ن اعزازی کی حیثیت سے عبدالرشید حامی اس محفل نعت میں شریک ہوئے ۔محفل میں علمائے کرام اور بچوں کے والدین کے علاوہ مختلف اداروں کے عہدیدار جن میں اسد نعمانی،نجم جعفری، شہزاد احمدشامل ہیں موجود تھے۔محفل کا آغاز تلاوت کلام الٰہی سے کیا گیا جس کے بعد جامع کے طلبہ نے حمد باری تعالیٰ پیش کی۔ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے جامع کے پرنسپل مولانا وحید احمدبانڈے نے کہا کہ سرکار دوعالم کی ولادت کے ایام کے دوران ہر سال جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے بچوں میں نعتیہ مقابلہ صرف اور صرف اس لئے کروائے جاتے ہیں تاکہ بچوں میں نعت پڑھنے کی لگن پیدا ہو۔انہوں نے کہا کہ اس بار بھی یہ کوشش کی گئی ہے کہ جامعہ کے طلبہ کو اچھی نعت گوئی کے لئے تیار کیا جائے۔انہوں نے اس موقع پر موجود تمام مہمانوں کا طلبہ کے والدین کا استقبال کیا۔بعد از آں باضابطہ طور پر نعتیہ مقابلے ہوئے جہاں 10طلبہ نے بہترین نعتیں اپنے بہترین انداز و آواز میں پڑھ کے شرکاء سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔اس موقع پر  گوجر ایڈ بکروال ایسوسیشن کے چیرمیں اسد نعمامی،احتشام حسین بٹ اور معروف شاعر حافظ ریاض احمد کو جج بنایا گیا تھا جن کے نمبرات کو جمع کر کے شامل نعت خواں حضرات کو پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن کے لئے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔اس دوران کچھ بچوں نے تقاریر کر کے بھی سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔انتظامیہ کی جانب سے اس دوران تمام مہمانوں کو یاد گاری مومنٹوز دیئے گئے۔جب مقابلے میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو بھی میڈلس سے نوازا گیا۔تقریب کے دوران تمام مہمانوں نے اپنے اپنے تأثرات پیش کرتے ہوئے جامع ضیاء العلوم کی سراہناکی اور کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ اللہ جامع کو مزید ترقی
 دے۔
 
 
 
 

پیرپنچال کی ترقی سے متعلق عمرعبداللہ کابیان بے بنیاد:وبودھ گپتا

کہاراجوری وپونچھ اضلاع ترقی وخوشحالی کی راہ پرگامزن 

راجوری//سینئرلیڈربی جے پی اوررکن قانون سازکونسل وبودھ گپتانے عمرعبداللہ کے اس بیان کی شدیدمذمت کی ہے جس میں انہوں نے پی ڈی پی ۔بی جے پی حکومت پرالزام لگایاتھاکہ ان جماعتوں نے  اپنے دوراقتدارمیں خطہ پیرپنچال کوتعمیروترقی سے محروم رکھا۔اپنے بیان میں وبودھ گپتانے کہاکہ عمرعبداللہ کابیان بے بنیاداورحقیقت سے بعیدہے۔انہوں نے کہاکہ ایسابیان جاری کرکے عمرعبداللہ کی منشا سیاسی مفاد حاصل کرناہے۔وبودھ گپتانے کہاکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ہمیشہ راجوری پونچھ اضلاع کوتعمیروترقی کے سلسلے میں نظرانداز کیا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے اقتدارمیں آنے کے بعد راجوری پونچھ کی تعمیروترقی کے لئے متعددمنصوبے تشکیل دیئے اورمغل شاہراہ کوہرموسم کیلئے کھلارکھنے کااعلان کیااس کے علاوہ پچھلے چاربرسوں میں پانی کی سپلائی میں بہتری لائی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں پونچھ ہائی وے کی فورلینگ کیلئے 5100کروڑ روپے منظور کیے اوریہاں کے طلباء کیلئے مختلف شعبوں میں روزگارکے مواقعے دیئے گئے۔انہوں نے کہاکہ عمرعبداللہ کابیان حقیقت سے بعیدہے۔
 

 عالمی ایڈزڈے 

متعددسکولوں میںبیداری لیکچرمنعقد

فوج نے عالمی یوم ایڈز کے موقعہ پر راجوری وپونچھ اضلاع کے مختلف سکولوں بشمول یونیورسل ہائرسکینڈری سکول درابہ، آرمی گڈول سکول پوٹھہ ، یوتھ سنٹرسرنکوٹ ،سلی دھارا اورگورنمنٹ ہائرسکینڈری سکول جھلاس میں بیداری لیکچروں کااہتمام کیا۔اس دوران لیکچرفوج سے منسلک ڈاکٹروں نے دیئے۔مقررین نے خیالات کااظہارکرتے ہوئے ایڈز کومہلک بیماری قراردیااوراس کے بچائوکیلئے احتیاطی تدابیراپنانے پرزوردیاگیا۔ ڈاکٹروں نے کہاکہ یہ بیماری ہیومن ایمیون ڈیفی شنسی وائری سے ہوتی ہے۔بیداری پروگراموں میں طلباء،نوجوانوں اورسول سوسائٹی ممبران کی کثیرتعدادنے جوش وجذبے کے ساتھ شرکت کی اورفوج کااس اقدا م کیلئے شکریہ کااظہارکیا۔
 

پلمامیں طبی کیمپ کاانعقاد

راجوری /ضلع راجوری کے دوردرازعلاقوں میں معیاری طبی خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں یوتھ سنٹر پلمامیں ایک میڈیکل کیمپ کاانعقادکیاگیا جس میں فوج اورمحکمہ صحت کے ڈاکٹروں نے لوگوں کی طبی جانچ کی اوران میں ادویات تقسیم کیں۔اس دوران متعددبیداری سٹال بھی لگائے تھے جوکہ لپروسی ، ایچ آئی وی ،ہائی جین اورسینی ٹیشن ،ایمونائزیشن پروگرام سے متعلق تھے تاکہ گائوں کے لوگ مستفیدہوسکیں۔کیمپ میں لوگوں نے جوش وجذبے کامظاہرہ کیاجس کے نتیجے میں ڈاکٹروں نے سینکڑوں مریضوں کی تشخیص کی اورپلمااورگردونواح علاقہ جات کے لوگوں کوطبی سہولیات دی گئیں۔میجرجنرل پی ایس باجوا، جی اوسی ،رومیوفورس نے کہاکہ لوگوں کوصحت مندطرززندگی اپنانے کی ضرورت ہے اورخاص کرنوجوانوں کوڈرائیونگ کرتے وقت احتیاطی تدابیراپنانی چاہیئں۔
 
 

نوشہرہ ہسپتال میں بچوں کے علاج کیلئے ڈاکٹرنہ دارد

۔2سالہ بچہ لقمہ اجل ،لواحقین کامحکمہ صحت کیخلاف احتجاج 

نوشہرہ//نوشہرہ ہسپتال میں بچوں کی بیماریوں کاڈاکٹردستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کوسخت مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دوبرسوں سے نوشہرہ ہسپتال میں بچوں کی بیماری کاماہر ڈاکٹرنہ ہے جس کی وجہ سے بچوں کے والدین کوبیماربچوں کاعلاج کرانے کیلئے دربدر بھٹکناپڑتاہے ۔شام کوجب دوسال کابچہ علاج معالجہ کے لیے ہسپتال لایاگیاتووہاں پرڈاکٹر دستیاب نہ ہونے سے اس کے رشتہ داروں نے محکمہ صحت کے حکام کے خلاف احتجاج کیااورانتباہ دیاکہ اگرآنے والے پانچ دسمبرتک بچوں کی بیماری کاڈاکٹرنوشہرہ میں تعینات نہ کیاگیا تواس کے سنگین نتائج برآمدہوں گے۔دریں اثناسردی کی وجہ سے بیمارہونے والے بچوں کے لیے مواقعہ پر ڈاکٹرنہ ہونے کی وجہ سے والدین جن کے بچے زیرعلاج ہیں نے محکمہ صحت کے خلاف سوموار کوسڑک پراترکراحتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے۔قبل ازیں نوشہرہ میں دومختلف واقعات میں حرکت قلب بندہونے سے دوافرادکی موت واقع ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق نوشہرہ ہسپتال میں اُس وقت افراتفری کاماحول پیداہوگیاجب نوشہرہ کے گائوں چک زرالاں کے رہنے والے للت کمار(42) ولد اندرسین اوروشوچودھری (2)ولدوکی چودھری سکنہ نونیال کواچانک طبیعت خراب ہونے پردونوں کوجب ہسپتال میں علاج کیلئے لایاگیاتووہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑبیٹھے تھے۔ڈاکٹروں نے جب دونوں کومردہ قراردیاگیا۔
 
 
 
 
 

روہنگیا پناہ گزینوں کو جموں سے نکالنا بی جے پی کے ایجنڈے کا اہم نکتہ : بی جے پی

 یو این آئی

جموں// بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں وکشمیر کے سینئر لیڈراور ممبر پارلیمنٹ جوگل کشور شرمانے کہاکہ روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست سے نکالنا بی جے پی کے ایجنڈے کا اہم نکتہ ہے۔ انہوں نے ہفتہ کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا ’یہ ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے کہ جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو ریاست سے باہر نکالنا چاہیے ، روہنگیا کی شناخت بھی ہونی چاہیے اور ان کو ریاست سے باہر نکالنا چاہئے‘ ۔یہ پوچھے جانے پر کہ 2019 لوک سبھاانتخابات میں دفعہ 370اور دفعہ 35 اے پر بھارتیہ جنتاپارٹی کا کیاموقف رہے گا توانہوں نے کہا ’بی جے پی کا جو نظریہ ہے وہ اُسی پر آگے بڑھ رہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ،اس سے ہم پیچھے نہیں ہٹے ہیں ،ہم چاہتے ہیںدفعہ 370 ہٹے ،لیکن اس کے لئے مطلوبہ طاقت چاہئے پھر دیکھنا‘۔ جگل کشور شرما نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کونسل کی طرف سے جموں و کشمیر بینک کوپبلک سیکٹرانڈرٹیکنگ(پی ایس یو) بنایا جانا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا ’جموں و کشمیر بینک کو پی ایس یو کے تحت لانے پر کچھ لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے کہ اس ادارے کے اندر کیا ہورہاہے اب وہ سامنے آرہا ہے ،اب تو عام آدمی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھ سکتے ہیں بتائیے کیا ہو رہاہے ۔اس سے بینک آفیسران اور ملازمین کو پریشانی تو ہو رہی ہو گی۔سب کو اس قسم کے فیصلہ سب کو اچھے نہیں لگتے ہیں لیکن یہ ایک اچھا فیصلہ تھا ‘۔