مزید خبریں

چناب ویلی جرنلسٹ ایسوسی ایشن انتظامیہ سے خفا

پیشہ وارنہ خدمات کی انجام دہی میں رخنہ اندازی کا الزام 

عظمیٰ نیوز 

ڈوڈہ// چناب ویلی جرنلسٹ ایسوسی ایشن CVJA سے وابستہ پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی ایک میٹنگ صدر مقام ڈوڈہ میں زیر صدارت ایسوسی ایشن کے صدر نصیر احمد کھوڑا منعقد ہوئی ، جس میں پنچایتی انتخابات کے دوران خطہ چناب، بالخصوص ضلع ڈوڈہ میں پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے افراد کے ساتھ الیکشن سے وابستہ افسران و ملازمین کی طرف سے  ناروا سلوک رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے اجراکئے گئے شناختی کارڈوں کا احترام نہیں کیا اور انہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دینے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ عملہ کا رول منفی رہا۔ اس معاملہ میں تمام صحافیوں نے چیف الیکشن کمشنر اور ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر ،ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صحافیوں کے ساتھ بار بار اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں۔
 
 

کانگریس کی تاریخ قربانیوں سے رقم :بھنڈاری

کشتواڑ// کانگریس کے مقامی لیڈر رندیپ بھنڈاری نے پریس کے نام جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر ریناکو کانگریس پارٹی کو قوم پرستی کا سبق پڑھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ موصوف ہندوستان اور کانگریس کی تاریخ نہیں جانتے، کانگریس کے دو وزیر وزیر اعظم اورہزاروں پارٹی ورکروں نے ملک و قوم کیلئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی اور وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔بی جے پی لیڈر کو کوئی بیان دینے سے قبل کانگریس کی تاریخ کو پڑھنا چاہئے۔انہوں نے یاد دلایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں و کشمیر کی عوام کے ساتھ دھوکا کیا ہے لوگ کانگریس کی تاریخ جانتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی نے خطہ چناب میں اپنا ووٹ بینک کھو دیا ہے آئیندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس عوامی اعتماد اور حکومت دونوں حاصل کرے گی ۔
 
 
 

تعمیرات عامہ ڈوڈہ میں الوداعی تقریب کا اہتمام 

ڈوڈہ//محکمہ تعمیرات عامہ کے مقامی دفتر میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں محکمہ کے ملازم بشیر احمد تانترے کو ان کی ملازمت سے سبکدوشی پر الوداع کہا گیا۔ پریس کے لئے جاری ریلیز کے مطابق بشیر احمد بطور درجہ چہارم ملازم 35سال تک خدمات سرانجام دینے کے بعدگزشتہ روز ریٹائر ہو گئے ۔ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ایگزیکٹو انجینئر ایشور لال بھگت نے سبکدوش ہورہے ملازم کی خدمات کی سراہنا کرتے ہوئے بتایا کہ موصوف نے اپنی پوری معیاد ملازمت کے دوران فرض شناسی ، تندہی اور لگن کے ساتھ کام کیا اور خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی دی۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کے ضلع صدر نیاز احمد راہی اور ٹریڈ یونین کشتواڑ کے صدر عبدالمجید شاہ نے بشیر احمد کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے مابعد کی پرسکون وصحتیاب زندگی کے لئے نیک تمنائیں پیش کیں۔ اس موقعہ پر غلام محمد بانڈے، سپروائزر ایسو سی ایشن کے ضلع نائب صدر عنایت اللہ میر، بشارت حسین، سریندر پریہار، رشی کٹوچ ایچ ڈی، رمیش کمار، شیخ نذیر احمد، عبدالمجید تانترے، برج لال، عاشق حیسن، عادل رشید ، سندیپ کماراور دیگران بھی موجود تھے۔
 
 

سنڈے بازار ڈوڈہ کی رونق بحال 

نصیر کھوڑا

ڈوڈہ//ڈوڈہ خطہ کے صدر مقام فرید آباد ڈوڈہ کے سول لائن علاقہ میں لگنے والا خصوصی سنڈے بازار کی رونق آج چودہ دن بعد دوبارہ بحال ہوئی۔ گذشتہ اتوار کو ڈوڈہ میں تبلیغی جماعت کے دو روزہ اجتماع کے باعث یہ بازار بند رہا تھا۔ ڈوڈہ میں ہر اتوار کو لگنے والا خصوصی بازار جوکہ Sunday Marketکے نام سے مشہور ہے ۔ اس بازار میں مختلف گھریلو اشیاء ، ملبوسات، کھلونے، کھانے پینے کی اشیاء روایتی نرخوں کے مقابلہ کم اور واجب داموں پر دستیاب ہوتی ہے اور ڈوڈہ خطہ کے تینوں اضلاع سے صارفین یہاں خرید وفروخت کے لئے آتے ہیں جبکہ اتوار بازار سے قصبہ میں خوب رونق ہوتی ہے اور بالخصوص سول لائن علاقوں میں کافی چہل پہل ہونے کی وجہ سے لوگ بالخصوص خواتین اور بچے تفریح کے لئے بھی آتے ہیں۔
 
 

  ! بابری مسجد کی تحقیقات اور بے خبری کا عالم

 مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی صورت گری کرنے والے جملہ امور مسجد میں طے پاتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کی زندگی میں معنویت کو داخل کرنے کا کام مسجد ہی سے انجام پاتا ہے۔ احادیث میں مسجد سے دل لگانے والے اور مسجد کی نگہبانی اور خدمت کرنے والے کے ایمان کے بارے میں بڑی بشارتوںکا تذکرہ ملتا ہے۔ اس لئے گویا یہ تقاضائے ایمانی ہے کہ ہر مسلمان مسجد سے اپنے آپ کو جوڑے رکھے۔مسجد کی یہ حیثیت کے علی الرغم یہ بات شریعت پورے زور و شور سے کہتی ہے کہ اصل چیز انصاف ہے۔ اس لئے غصب شدہ زمین پراور ناجائز مال سے مسجد کی تعمیر درست نہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر شریعت کا حکم ہے کہ اگر کوئی مسجد غصب شدہ زمین پر تعمیر کی جاتی ہے تو اسے گرا دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں سے اہل ثروت ہوں یا فقراء ، انہوں نے مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں شریعت کی اس تعلیم کا بجا طور پر لحاظ رکھا ہے۔ خود اللہ کے رسولﷺنے مسجد نبوی کی زمین کو ہدیہ میں قبول کرنے کے بجائے قیمت ادا کی جوکہ ہمارے  لئے بہترین مثال ہے۔ان دونوں باتوں سے ہٹ کر یہ بات ہم جانتے ہیں ہندوستان میں دیگر کئی علاقوں میں بہت سے مندر اور گرجے آج مسجد کی صورت میں موجود ہیں۔ ہندو، یہودی اور عیسائی عوام نے جب جوق در جوق اسلام قبول کیا تو ان کی عبادت گاہیں بھی اسلام کے دامن میں گر گئیں اور شرک کے مراکز کی جگہ اللہ کی کبریائی بیان کرنے والی مساجد نے لے لی۔ چھوٹے چھوٹے گاوں میں آپ کو کئی ایسی مساجد مل جائیں گی، جن میں  ہندوی طرز تعمیر کے نقوش ملتے ہیں۔ کئی ایسے بوڑھے مل جائیں گے جنہوں نے مندروں اور پجاریوں کو مسجد وں اور اماموں میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسی تبدیلی ہے جو کہ جبر و کراہت کے ساتھ نہیں لائی جا سکتی۔ اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان مسجدوں کی تعمیر غصب کی زمین پر نہیں بلکہ پجاریوں اور عوام کی مرضی کے تحت عمل میں لائی گئی۔ایک افسانوی کردار ، اس کا پیدا ہونا بھی ایک افسانہ ہے، اس کی جائے پیدائش بھی ایک افسانہ ہی ہونی چاہئے۔ لیکن مَت ماری گئی ان بت پرستوں کی جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک افسانوی کردار بالحقیقت پیدا بھی ہوسکتا ہے۔ تخیل سے سفر کرتے ہوئے حقیقت کی دنیا میں بھی واقع ہوسکتا ہے۔ اگر ان کی بات درست ہے تو ہیری پاٹر کا گھر4،پرائیویٹ ڈرائیو، سَرّی میں اور شرلاک ہومس کا گھر221B بیکر اسٹریٹ لنڈن میں ہے۔کیا ہوگا اگر ہیری پاٹر کے ماننے والے اور شرلاک ہومس کے پیروکار عدالت میں مقدمہ دائر کردیں کہ ان گھروں کے اصل مالکان کو نکال باہر کرکے انہیں ان کی آستھا کی بنیاد پر ان علاقوں کی ملکیت دے دی جائے؟ بالکل اسی طرح بھکتوں کا یہ مطالبہ کہ ان کی آستھا کی بنیاد پر فیصلہ کر دیاجائے۔کسی صورت میں یہ مطالبہ معقول نہیں ہے اور نہ ہی حق و انصاف پر مبنی ہے۔ہندوستان کی عدالت عظمیٰ گوکہ ایک قابل عزت ادارہ ہے لیکن عجب نہیں کہ تعصبات اور میڈیا و حکومت کے دباو کے تحت فیصلے ہوں۔ جہاں عدالت عظمیٰ سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ درست فیصلہ سنائے گی وہیں اس بات کا امکان بھی ہے ،اس لئے ہمیں بہر حال ہر قسم کے فیصلہ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اس امید پر کہ سارے شواہد مسجد ہی کے حق میں ہیںاس لئے مسجدوہیں قائم رہے گی، یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے۔محکمہ ٓاثار قدیمہ نے بابری مسجد کے نیچے جو کھدائی کی ہے اور’شواہد‘ فراہم کئے ہیں وہ تمام شواہد جھوٹے ہیں۔ کئی ذریعوں سے اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ عدالت جب فیصلہ سنائے گی تو ان ہی شواہد کی بنیاد پر سنائے گی۔ اسی لئے متعصب ذمہ داران اور ’ماہرین‘ کا استعمال کرکے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فی الاصل بابری مسجد کے نیچے کوئی مندر تھا۔ لیکن ان جھوٹے ثبوتوں کو جھوٹا ثابت کرنا اب ایک مشکل کام ہوگیا ہے۔ اس پوری صورت حال کو سمجھنا اور آئندہ پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال کا محاکمہ کرنا بے حد ضروری ہے۔اس شمارہ میں ہم نے ایک تحقیق کو پیش کیا ہے جو کہ ان ثبوتوں کے جھوٹ اور ملاوٹ کو ثابت کرتی ہے۔ جہاں ایسی مزید تحقیقات درکار ہیں وہیں موجودہ تحقیقات کی بنیاد پر ایک مضبوط تحریک کھڑی کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے عدالت کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ گھڑ دئے جانے والے ثبوتوں کو رد کرے اور از سر نو غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے۔مسلم قیادتیں ماضی کی طرح اب بھی توڑ جوڑ کی سیاست میںسرگرم ہیں۔ اور نہ ہی کوئی ادارہ، نہ کوئی جماعت ، نہ کوئی نیتا اور نہ ہی کوئی خود ساختہ نمائندہ اس اہم مسئلہ پر کوئی نظر رکھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس معاملہ کو بڑی آسانی کے ساتھ ثبوتوں اور شہادتوں کی بنیاد پر حل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن مسلمانوں کی کوئی جماعت اس قسم کا کوئی ٹھوس ریسرچ کرنے کے موقف میں نظر نہیں آتی۔ اس لئے اگر بابری مسجد سے متعلق کوئی ظالمانہ فیصلہ سامنے آ جائے تو ہمیں براہ راست مسلم جماعتوں ، اداروں اور علما ء کو اس کا ذمہ دار ٹہرانا چاہیے۔
          ولایت حسین مصباحی
 جموں
معذورافرادتوجہ وشفقت کے مستحق !
اسلام آفاقی دین ہے اوردنیوی واخروی زندگی میں سرخروئی اورفلاح اسی دین کی پیروی میں مضمرہے ۔اسلامی تعلیمات سے عیاںہوجاتاہے کہ اسلام بنی نوع انسان کیلئے سراپارحمت ہے ۔دین اسلام میں انسان کوتلقین کی گئی کہ وہ دوسرے فردکی دِل آزاری نہ کرے ۔میں نے جس موضوع پرلکھنے کیلئے قلم کوجنبش دی ہے وہ معذوروں کی دِل آزاری اورصحتمندوتواناانسان اورحکومت کی معذوروں کے تئیں بے رُخی اورعدم توجہی ہے۔اللہ تعالیٰ کاقرآن میںفرمان ہے ''اور آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگائو اور نہ ہی کسی کو برے لقب دو'' (سورۃالحجرات)۔ اس آیت کریمہ کے مفہوم سے ظاہرہوتاہے کہ کسی شخص پرنہ ہی عیب لگانے چاہیئے اورنہ ہی کسی شخص کوبُرے لقب سے پکارناچاہیئے۔آج کے معاشرے میں معذورافرادکونہ صرف حقیرسمجھاجاتاہے بلکہ اسے لولا،لنگڑا،کانا(اندھا) وغیرہ کے لقب سے پکارکران کی کھلے عام تذلیل اوردِل آزاری کی جاتی ہے۔معذورافرادکویہ باورکرادوں کہ اللہ تعالیٰ پربھروسہ رکھیں ،اوراس کے دین کوسمجھنے کی کوشش کریں ۔ دین اسلام کی تعلیمات کاجائزہ لینے کے بعدہمیں یہ پتہ چلتاہے کہ اسلام نے یہ باورکرایاہے کہ معذورمحتاج لوگ نہیں بلکہ اس کے (اللہ تعالیٰ) کے پسندیدہ بندے ہیں جن کواللہ تعالیٰ نے امتحان کیلئے منتخب کیااورانسانوں کوتلقین کی کہ وہ معذورافرادکی عزت نفس کادھیان رکھیں اورانہیں حقیرنہ جانیں ۔آج جولوگ معذوروں کومحتاج اورحقیرسمجھتے ہیں وہ دین اسلام کی تعلیمات کی فراموشی اوراخلاقی قدروں سے ناواقف ہونے کاثبوت دے کراللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔کیونکہ ایک حدیث مبارکہ کامفہوم ہے کہ '' بنی آدم کی دل آزاری گناہِ کبیرہ ہے''۔لہذاجولوگ معذورافرادکے مختلف القابات مثلاً اگر کوئی شخص لنگڑا کر چلتا ہے تواس کو لنگڑ ا ،ایک آنکھ سے محروم شخص کو کانا، چھوٹے قد والے کو بونا، توتلا کر بولنے والے کو توتلا اور ذہنی طور پر کمزور یا معذور شخص کو للّووغیرہ سے پکارکراس کی کی دِل آزاری کرتے ہیں وہ گناہ کبیرکرتے ہیں۔ معذورافرادکویہ الفاظ کسی گالی سے کم نہیں لگتے ہیں لیکن پھربھی معذورافرادبے حس معاشرے کی بے رحمی کامردانہ وارمقابلہ کرتے ہیں ۔غوروفکرکامقام ہے کہ معذوروں کے ساتھ ایسا غیر مہذب رویہ کیوں رکھا جاتاہے کیا ہم معذوروں کو انسان نہیں سمجھتے بلکہ یہ تو وہ خاص لوگ ہیں جو ہماری خاص توجہ، شفقت اور خاص اہمیت کے مستحق ہیں۔کیونکہ معذوری اور محتاجی کسی کو بھی اچھی نہیں لگتی۔اور کوئی بھی شخص نہیں چاہتا کہ اس کی ذات میں کسی قسم کی کوئی کمی رہے۔اور اسی طرح معذور افراد کی بھی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح نارمل زندگی گزاریں۔لیکن بات ہے ساری بے بسی کی۔جیسے ٹانگوں سے معذور ایک شخص جب دوسرے لوگوں کو چلتا پھرتا یا دوڑتا دیکھتا ہے تو یقینا اس کی بھی تمنا ہوتی ہے کہ وہ بھی ان کی طرح بھاگے دوڑے اورزندگی کی دوڑ میں شامل ہو سکے۔اکثرلوگ صرف اپنے فائدے کی ہی بات کرتے رہتے ہیں کسی کی چاہے جان چلی جائے یاعزت ۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑتاجوکہ سماجی تنزلی کی بڑی وجہ بھی ثابت ہورہی ہے۔انہیں یہ نہیںبھولناچاہیئے اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی انصاف پسندہے وہ آ پ کی ایک ایک سوچ اورعمل کودیکھ رہی ہے اورفرشتے نوٹ کررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جیسے آپ کوعزت بخشی ہے وہ واپس ہی لے سکتاہے۔ذات ،برادری ،خاندان ،کیٹگری جیسی چیزوں نے انسانوں کے دِلوں میں کدورتیں بھری ہیں لیکن ابھی بھی بہت سے لوگ ایسے ہیںجواپنافرض نبھارہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کے جذبہ انسان دوستی کوسلامت رکھے اورسماج میں پھیل رہی برائیوں کاازالہ بھی ہوتارہے۔سماج کی ترقی بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنا،یاکے اے ایس ،آئی اے ایس یاپھردیگربڑے امتحانات پاس کرنے میں نہیں بلکہ سماجی اقدارکی سربلندی میں ہے۔انسان دوستی کے جذبے کے فروغ میں ہے ۔انسانیت کی بقامیں ہے۔کتابی کیڑابن کربڑاآفیسرکوئی بن بھی جائے اورسماج کے سدھارمیں اپناکردارنہ نبھائے تووہ ان پڑھ سے بھی بدترہوتاہے ۔ان پڑھ کوتواپناکردارنبھانے کاشعورنہیں مگراعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کاکردارتوسماج کوترقی کے زینوں کوعبورکراسکتاہے ۔صدافسوس ! ۔ہمارے آفیسران اپنے ہی لوگوں کے دردسے ناآشناہیں۔یہ کیساستم ہے۔جوضلع کے آفیسرہیں وہ اپنی تحصیل یاگائوں میں جھانک کرکیوں نہیں دیکھتے کہ ہمارے گائوں یاتحصیل میںلوگوں کے پاس کیاسہولیات ہیں؟ ۔کیاخامیاں ہیں ؟ اورکیاسہولیات مل رہی ہیں۔کون پریشان حال ہے ۔کون خوشحال ہے تاکہ وہ سماج کے مسائل سرکارکے سامنے رکھ کراپنے علاقہ کی تعمیروترقی اوراس کی خوشحالی کاذریعہ بن سکیں۔لہذامیری سرکاراورذی شعورحضرات اورعلاقہ کے آفیسران سے یہی درخواست ہے کہ ان سارے مسائل کاتدارک کیاجائے اوریہ جومعذورلوگ ہیں ،ان کی بددعائیں نہ لیں بلکہ ان کی فلاح وبہبودکیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں ۔معذورافرادکیلئے ایسے مراکزقائم کئے جانے چاہئیں جہاں وہ کوئی ہنرسیکھ سکیں ۔جوکام معذورسیکھ سکتے ہیں انہیں وہ کام اس مرکزمیں سکھایاجائے مثلاًاگرکسی شخص کے بازونہیں تواسے پائوں سے لکھناسکھایاجائے یاپھراگرکوئی بول نہیں سکتاتووہ کوئی نہ کوئی اورحرکت ضرورکرتاہے ۔اورجونہ بول سکتاہے اورنہ سُن سکتاہے لیکن اُسے ہم ایسابھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتا۔کیونکہ اُس میں کوئی نہ کوئی خوبی ضروراللہ تعالیٰ نے عطاکی ہوئی ہے ۔وہ صرف اپنی خوبی کسی کودکھانہیں سکتا۔کیونکہ وہ مجبورہوتاہے ۔اپنی معذوری کی وجہ سے معذوافراد بس یہی سوچتے رہتے ہیںمیں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔لیکن حقیقت میںاسے بہت کچھ کرنے کی چاہت ہوتی ہے  لیکن اسے موقع نہیں دیاجاتا۔جس کی وجہ سے اُس کے جذبات دفن ہوکررہ جاتے ہیں۔اگرریاستی سرکاراورممبران اسمبلی معذورافرادکے لئے متعلقہ اسمبلی حلقہ یاعلاقہ میں کوئی سنٹرکھولنے کیلئے اقدام اُٹھائے تومعذوروں کو اپنے جذبات اوراپنی خوبیوں وصلاحیتوںکابھرپورمظاہرہ کرنے کاموقعہ ملے گا۔اس مرکزمیں معذوروں میں پیداہوئی مایوسی کاخاتمہ کیاجاسکتاہے ۔جوبالکل کچھ نہیں کرسکتااُسے ہم دوسرے کی مثال یاحقیقی کہانی بتا کراس کے اندربھی کچھ کرنے کاجذبہ پیداکرسکتے ہیں۔معذورافراد کی معذوری جوسماج کے صحت منداشخاص ہیں کا اصل میں امتحان ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کوامتحان میں ڈالاہواہے جوصحیح سلامت ،صحت منداورتواناہیں۔ہمیں اپنے ضمیرسے پوچھناچاہیئے کہ ہم نے کبھی ان معذوروں کی بہبودکاسوچا۔ان کی ترقی کیلئے سوچا۔ہم کتنے خودغرض ہوں گے کہ ہم صرف اپنی ترقی اوربہبودکیلئے 24 گھنٹے فکرمندرہتے ہیں۔کیاہماراکوئی ان معذوروں کے تئیں فرض وذمہ داری نہیں۔کیاہماراضمیرمردہ ہوگیاہے؟۔کیاہم زندہ ہیں ۔؟اگرہمارا ضمیرزندہ ہے توہی ہم زندہ ہیں ورنہ یہ سمجھوکہ ہم زندہ لاشیں ہیں۔ریاست کی سابقہ حکومتیں جتنی بھی آئیں وہ ابن الوقت آئیں۔تاناشاہی رویہ حکمرانوں کاوطیرہ رہا۔آج کے موجودہ حکومت کے سیاستدان ہردم عوام کی بہبودکاڈھنڈورہ پیٹنے والے ذرہ اپنے ضمیرکے اندرجھانکیں دیکھیں اورپتہ لگائیں کہ ان کاضمیرزندہ ہے یاپھرمردہ ہوچکاہے۔ بعض دفعہ اسمبلی میں لاتیں،گھونسے چلتے ہیں اورمیزیں اورکرسیاں توڑی جاتی ہیں۔درندگی کی تمام ترحدودپارہوتی ہیں۔ریاستی قانون سازممبران کوایسی غیرمہذبانہ حرکتوں کودیکھ کرکیاہم یقین کرلیں کہ یہ حکمران عوام کے ہمدردہیں۔کیایہ حکمران ترقی چاہتے ہیں؟۔ان کوتوبس اپنی کرسی کی فکرہے۔موجودہ بگڑے ہوئے سیاسی نظام پرمعروف شاعر صفدرہمدانی کا شعر ملاحظہ فرمائیں۔
جس میں عوام کیڑوں سے کم ترشمارہوں صفدرؔخُداکی لعنت ہوایسے نظام پر
ایسے نظام میں بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کے نظام عدل پریقین رکھ کراسلامی تعلیمات پرکامل بھروسہ واعتمادرکھناچاہیئے اوربطورایک شہری ہمیں معذوروں کیلئے اپنے حصے عائدذمہ داری کوخوش اسلوبی سے نبھاکرمہذب شہری کاکردارنبھاناچاہیئے تاکہ سماج خوشحال ہوسکے۔
ایڈوکیٹ محمداکرم …7051111852
تھوروریاسی حال پیرکھوہ جموں