مزید خبریں

پنچایت گول B کا نائب سرپنچ اتفاق رائے سے منتخب 

زاہد بشیر

گول//گزشتہ روز گول کے پنچایتBکے سرپنچ روشن دین لوہار کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پنچایت ہذا کے تمام منتخب شدہ پنچوں کے علاوہ معزز شہریوں نے بھی شرکت کی۔ معزز شہری نظام الدین زوہد ، عبدالرشید منہاس و دیگران کی موجودگی میں بااتفاق رائے حافظ عبدالطیف ملک کو با اتفاق رائے نائب سرپنچ چنا گیا۔ اس موقعہ پر سرپنچ نے پنچایت ہذا کے تمام پنچوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی پات اور سیاست بازی سے اوپر اٹھ کر ایک عوامی خدمات کیلئے اپنے آپ کو وقف کریں اور جن لوگوں نے ہمیں اپنا اعتماد دیکر کامیابی سے ہمکنار کرایا ہے ا±ن لوگوں کے مسائل کا ازالہ کرنے کے لئے بے پناہ تگ و دو کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بغیر کسی تفرقہ کے ایک ٹیم ورک کرنا چاہیے تاکہ ہم ا±س مقصد کو باآسانی حاصل کر سکیں جس مقصد کیلئے عوام نے ہمیں اعتماد دیا ہے۔ لہٰذا عوامی خواہشات کا احترام ہم سب کیلئے لازمی ہے۔اس موقعہ پر عبدالطیف ملک نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ عوامی اعتماد کے بعد ان پر مزید ذمہ داری ڈال کر عوامی خدمات کا موقعہ فراہم کیاہے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے عوامی مسائل کو حکام بالا تک پہنچاکر مسائل کاازالہ کرنے کی بے حد کوشش کریںگے اور آگے بھی لوگوں کا تعاﺅن حاصل رہے گا۔
 
 
 

ٹھاٹھری کے پی ڈی پی کارکنوںکا اجلاس

ڈار محسن 

اندروال// اسمبلی حلقہ اندروال کے علاقہ ٹھاٹھری میںپی ڈی پی کارکنوں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت پی ڈی پی ضلع صدر ایڈوکیٹ شیخ ناصر نے کی۔ انہوں نے پارٹی کے تمام کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کےلئے اپنا اپنا تعاون دیں تاکہ آنے والے انتخابات میں پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو سکے۔ شیخ ناصر نے پارٹی ورکران سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی پی واحد ایک ایسی جماعت ہے جو ریاست میں ترقی، خوشحالی اور امن و بھائی چارہ برقرار رکھنے کی مسلسل کوشش کررہی ہے تاکہ عوام خوشحالی و ترقی کی زندگی بسر کرسکے لیکن کچھ غیر سماجی عناصر ان کوششوں میں لگاتار رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں لہذا ان عناصر کو شکست دینا لازمی ہے تاکہ ریاست میں مذہبی بھائی چارہ، امن وامان، ترقی و خوشحالی برقرار رہے۔ انہوں نے پارٹی ورکروں کو حلقہ اندروال میں عوامی مسائل پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے اور کہا کہ سابقہ ایم ایل اے اندروال نے کافی مدت سے نظرانداز کیا ہے۔ مزید انہوں نے تمام ورکران کو پنچایتی حلقوں کا خصوصی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔اس موقعہ پر پارٹی کے ورکران میں زونل صدر عبدالرحمان کشمیری، شبیر احمد، عبدالراشد، صدام حسین، محمد صدیق، عبدالقیوم نائیک ، وسیم ٹاک، عاشق حسین وغیرہ موجود رہے جنہوں ضلع صدر کی قیادت میں پارٹی کو مضبوط کرنے کا عہد لیا۔
 
 

ڈوڈہ میں’ فوج کو جانو‘ مہم کا اہتمام 

ڈوڈہ //70ویں یوم جمہوریہ کے موقعہ پر ڈوڈہ میں 25اور26جنوری کو ”اپنی فوج کا جانو “ مہم کا اہتمام کیا گیا ، جس کا مقصد یوم جمہوریہ عوم کے ساتھ منانے اور بھائی چارے کو مستحکم بنانا تھا۔مہم میں ضلع بھر کے متعدد سکولوں کے طلاب نے جوش و خروش سے شرکت کی۔ایسے پروگراموں سے طلاب کو انڈین آرمی میں جوائن کرنے کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ قوم کی تعمیر میں شرکت کرنے کا موقعہ ملتاہے۔ پروگرام میں ڈوڈہ و ملحقہ دیہات کے تقریباً 480 لوگوں اور طلاب نے شرکت کی۔مقامی لوگوں اور ضلع انتظامیہ نے فوج کی جانب سے ایسا پروگرام منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔
 
 

مسلمانان جموں کی بے باک آوازخاموش ہوگئی 

آہ !چوہدری اخترحسین کھٹانہ

۳۲ جنوری ۹۱۰۲ کی صبح بھی عام صبحوں کی طرح ہی تھی لیکن یہ صبح مسلمانان جموںبالخصوص گوجربکروال طبقہ کی نامورسماجی شخصیت کی اچانک موت کی خبرکے ساتھ نمودارہوئی ۔حسب معمول صبح صبح واٹس ایپ پرنظردوڑائی تو معلوم ہواکہ جموں کے مظلوم مسلمانوں اورگوجربکروال طبقہ کے مسائل کواُجاگرکرنے میں پیش پیش رہنے والے سرگرم سماجی لیڈرچوہدری اخترحسین کھٹانہ انتقال فرماگئے ہیں۔اناللّہ واناالہِ راجعون ۔خبرپڑھتے ہوئے یہ یقین ہی نہیں ہورہاتھا لیکن موت ایک اٹل سچائی ہے جسے چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی تسلیم کرنے کے سواانسان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔موت کا کوئی موسم نہیں ،موت برحق ہے۔موت سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ہرشخص کادُنیاسے جانا موت کے آنے کے ساتھ وابستہ ہے ۔موت نہ دوست کونہ دشمن کو چھوڑتی ہے۔موت دبے پاوں چلی آتی ہے اور پھُرتی سے اپنام کام کرکے چلی جاتی ہے ۔بقول شاعر 
یہ نہیں آتی ہے بلانے سے 
موت آتی ہے بہانے سے 
چوہدری اخترحسین نے زندگی کی ستربہاریں ہی دیکھی تھیں کہ وہ بحکم ربی دُنیافانی سے کوچ کرگئے۔سچائی،ایثار،محبت وہمدردی ،شرافت ،سادگی واخلاص کی دولت سے مالامال چوہدری اخترحسین جس محفل میں بھی جاتے تھے تووہ جموں کے مظلوم مسلمان بالخصوص گوجربکروالوں کی آوازبے باکی کے ساتھ بلندکرکے ہرکس وناکس کی توجہ اس اہم نوعیت کے مسئلے کی طرف دلاتے تھے اورسدباب کےلئے جدوجہدنہ صرف خودجدوجہدکرتے تھے بلکہ دیگرلوگوں کی حمایت بھی حاصل کرکے ارباب اقتدارتک مسلمانان جموں کی مظلومیت اوران کے ساتھ ہورہی زیادتیوں کوپہنچاتے تھے۔چوہدری اخترحسین گوجربکروال طبقہ کے مسائل اورجموں کے مسلمانوں کی پریشانیوں کومیڈیاکے ذریعے اُجاگرکرنے اوراسلامی مدرسوں کی بہبودکے کم کاج میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔گوجربکروال طبقہ کےلئے چوہدری اخترحسین کی شخصیت اس لیے بھی اہمیت کی حامل رہی ہے اوران کی خدمات ہمیشہ گوجرقوم یادرکھے گی کیونکہ اس مظلوم قوم کوایس ٹی کادرجہ دلانے کی تحریک میں چوہدری اخترحسین نے دیگربزرگ ساتھیوں کے ہمراہ پیش پیش رہ کرنمایاں رول اداکیاتھا۔الغرض اہم بات یہ ہے کہ موصوف کی شخصیت مختلف خصوصیات کامجموعہ تھی ۔جہاں وہ غریب وپسماندہ عوام کے حقوق کےلئے جدوجہدمیں شامل رہتے تھے وہیں وہ گوجری زبان کے ناول نگاربھی تھے ۔ان کے گوجری ناول ”گلابو “نے ہندو پاک کے گوجری حلقوں میں کافی شہرت حاصل کی تھی۔اس کے علاوہ مرحوم نے کئی افسانے بھی لکھے ہیں۔انھوں نے دوردرشن اوردیگرچینلوں کےلئے ٹی وی سیریل بھی لکھے۔چوہدری اخترحسین کی ادبی خدمات کےلئے ریاستی کلچرل اکادمی اورکئی دوسری گوجری تنظیموں کی طرف سے بھی کئی بار اعزازات سے نوازیاجاچکاہے۔اس کے علاوہ ریڈیوکشمیرجموں سے بھی موصوف گوجر ی پروگرام میں ٹاک کے ذریعے گوجروں کی تاریخ وثقافت کواُجاگرکرتے رہے ۔اتناہی نہیں آل جموں وکشمیرگجربکروال اصلاحی کمیٹی کے صدراور جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے مرحوم کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔اس کے علاوہ وہ سیاسی طورپرشیخ عبداللہ سے متاثرتھے اورہمیشہ ان کی گوجربکروال طبقہ کےلئے خدمات کااعتراف کرتے تھے اورنیشنل کانفرنس کوزمینی سطح پرمضبوط کرنے میں بھی گزشتہ تین دہائیوں سے سرگرم عمل تھے جس کااعتراف نیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹرفاروق عبداللہ اورنائب صدرعمرعبداللہ نے تعزیتی پیغام میں کیا۔نیشنل کانفرنس کے دیگرلیڈران کے ہمراہ عمرعبداللہ بھی نمازجنازہ میں شامل ہوئے اوران کی وفات کوگوجربکروال طبقہ کے ساتھ نیشنل کانفرنس کےلئے ناتلافی نقصان قراردیا۔مسلمانان جموں بالعموم اورگوجربکروال طبقہ بالخصوص کی پریشانیوں کے تئیں چوہدری اخترحسین کس قدرسنجیدہ اورفکرمندتھے کااندازہ گلستان چینل پرچوہدری جاویدراہی کے ساتھ کیے گئے انٹرویوکے اقتباسات سے بخوبی ہوجاتاہے ۔جاویدراہی ،اخترچوہدری سے سوال پوچھتے ہیں کہ گوجربکروال طبقہ کے لوگ جموں سے پنچاب یادوسری پڑوسی ریاستوں میںہجرت کیوںکررہے ہیں جس کے جواب میں اخترچوہدری کہتے ہیں کہ جموں میں اتنی پریشانیاں ہیں کیابتائیں،ہرکوئی گوجروں کونظراندازکرتے ہیں، چارہ کےلئے مشکلیں جھیلنی پڑتی ہیں،رہنے کےلئے مشقت کرنی پڑتی ہیں،ہرسال کتنے کلے جل کرراکھ ہوجاتے ہیں،ہزاروں بھینیسں مرجاتی ہیں،کئی گوجرمرجاتے ہیںلیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی،لیڈردورے کرتے ہیں،فوٹوکھنچواتے ہیں لیکن کوئی امدادنہیں کرتا۔جاویدراہی پوچھتے ہیں کہ گوجربکروال اصلاحی کمیٹی گوجروں کےلئے کیاکررہی ہیں ۔جواب میں اخترچوہدری کہتے ہیں کہ ہم احتجاج کرتے ہیں،آوازبلندکرتے ہیں ،گوجرقوم کی بدقسمتی ہے کہ اس کاکوئی والی وارث نہیں بنتا۔جوبھی لیڈربنتاہے صرف اقتدارکےلئے ووٹ کےلئے بنتاہے ۔حاجی بلندخان اوربابامیاں بشیرصاحب نے کام کیاان کوقوم آج بھی یادکرتی ہے۔ ہرجگہ گوجرقوم دربدرہے ، خانہ بدوشوں کی آبادکاری نہیں کی جاتی ،اگرہندوستان کی دیگر16ریاستوں میں خانہ بدوشوں کابازآبادکاری ہوسکتی ہے توجموں وکشمیرکے خانہ بدوش گوجربکروالوں کی بازآبادکاری کیوں نہیں ہوسکتی ۔سروال،ریہاڑی ،گاندھی نگر،ٹرانسپورٹ نگر، سینک کالونی ،چھنی راماکئی علاقے گوجروں کے تھے لیکن حکومت نے چھین کرکالونیاں بنادیں ۔گوجربکروال ریاست میں دودھ اورگوشت کی صنعت کوچلارہے ہین لیکن اس کے باوجودحکومت گوجربکروالوں کوکوئی توجہ نہیں دیتی ،جموں میں 5-6کالونیاں گوجروں کےلئے بنائی جانی چاہیئں تاکہ دودھ اورگوشت کی صنعت کوفروغ مل سکے۔گوجرنگرکب بنا؟۔1953-1954 میں بسایاگیا،میراجنم 1952 کاہے۔پہلے توادھرلوگ آتے ہی نہیں تھے کہتے تھے یہاں سے بھینسوں کے گوبرکی بدبوآتی ہے لیکن بعدمیں آہستہ آہستہ گوجرنگربھینسوں سے خالی ہوگیااوردوسرے لوگ آکرکثیرتعدادمیں بس گئے ۔مجموعی طورپریہ کہاجاسکتاہے کہ چوہدری اخترحسین نے اپنی زندگی جموں کے مسلمانوں کےلئے وقف کررکھی تھی اوراسی مقصدکے پیش نظر وہ ہرہفتے اُردواخبارات کےلئے پریس ریلیزجاری کرکے اپنی بے باک تحریروں سے مسلمانان جموںکے مسلمانوں کی حالت زار،ناانصافی اورحکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسلم طبقہ کے تئیں بے توجہی کےلئے ہدف تنقیدبناتے تھے اورساتھ ہی گوجربکروالوں میں بیداری بھی پیداکرتے تھے اورانہیں جگاتے تھے کہ وہ اپنے حقو ق کےلئے متحدہوکرآگے آئیں۔موصوف جموں میں فرقہ پرستوں کی ناپاک سازشوں کی وجہ سے کافی پریشان تھے اورہمیشہ انہیں ناکام بنانے کےلئے سرگرم رہتے تھے۔وہ شیخ محمدعبداللہ کے نعرے ہندومسلم سکھ اتحاد کے قائل تھے اورآخری دم تک سماج میں آپسی بھائی چارے اورروداری کوفروغ دینے کےلئے کوشاں رہے۔مرحوم کی نمازجنازہ گجرنگرقبرستان میں اداکی گئی اورانہیں ہزاروں پرنم آنکھوں کے سامنے دفنایا گیا۔ نماز جنازہ میں سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ، صوبائی صدرنیشنل کانفرنس دویندرسنگھ رانا، گجرلیڈر بشمول ڈاکٹرمسعودچوہدری ،چوہدری عبدالحمید،ڈاکٹرجاویدراہی ، حسین علی وفا،ارشدچوہدری ،غلام رسول ایکس ای این ،شوکت گوجر سمیت کثیر تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی۔اللہ تعالیٰ سے دعاگوہوں کہ مرحوم چوہدری اخترحسین کی مغفرت فرماکرانہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اورلواحقین کوصبر ِجمیل عطافرمائے ۔آمین۔
طارق ابرار،جموں
رابطہ نمبر۔9107868150
 
 

وادی کشمیر،نامساعد حالات اورنوجوان نسل !

کشمیر کے پچھلے تین دہایوں کے حالات نے ماوزے کے اس قول کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ ”انقلاب اپنے ہی بچوں کو کھا جاتا ہے“۔۹۸۹۱ءکے بعد جن حالات سے کشمیر اور کشمیری عوام گزررہی ہے، اس سے شائد ہی کوئی قومی و بین الاقوامی سطح پر ذی شعور انسان ناآشنا ہو گا۔ وہ جنت بے نظیر(کشمیر) جس کو دنیا کے چند خوبصورت مقامات میںشامل کیا جاتا تھا،آج بد قسمتی سے اس کو دنیائے عالم میں دہشت گردی ،خون ریزیوں اورمعصوم بچیوں کی عصمت دریوںسے تعبیر کیا جا رہا ہے۔اس سے پہلے افغانستان اور سری لنکابھی اس جدو جہد کی زندہ مثالیں آپ کے سامنے ہیں اور اب کشمیر اس کی ایک تازہ مثال پیش کر رہا ہے۔ پچھلی تین دہایوںکا یہ مسلح جدو جہداب اس موڑ پر پہنچ چکا ہے کہ اس خوبصورت آبادی میں خون کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ذرّہ بھر عسکریت پسند جماعت دُنیا کی چوتھی بڑی فوج کے مقابلے میںکھڑے ہیں اورنہتے عوام ان کے شانہ بشانہ انسانی قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ یہاںہر جنازے کے پیچھے ایک نیا جنازہ ہوتا ہے،ہر احتجاجی اور ماتمی ہڑتال کا اختتام نئی ہڑتال کا اعلان کرتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ معصوم بچے دیوانہ وار مرنے کے لئے خود کو گولی کے آگے پیش کر رہے ہیں؟کیا اس کے پیچھے آلودہ و غلیظ قومی سیاست کا ہاتھ ہے یا بین الاقوامی سیاست کا پروپیگنڈہ ؟حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کیوں کشمیر کا یہ خون دیکھنے کے لئے عالمِ انسانی حقوق کے ادارے ،علاقائی اتحاد اور اقوامِ متحدہ کو یہ بڑاانسانی مسئلہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ایساکیوںہے ؟ اس سوال کا جواب ابھی تک کسی کے پاس نہیںہے۔اس سے بڑھ کر حیرت کی بات یہ ہے کہ کشمیر میں بھی اس کی کسی کو پرواہ نہیں کہ جانیں جارہی ہیں، تو آخر کیوں یہ ہو رہا ہے۔کیوں یہ آگ کے شعلے کشمیر میں تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں؟کیوںپتھر باز اسکول کی گاڑیوں اور سیاحوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں ۔کیوں نابالغ اور معصوم بچے اپنی پڑھائی اور مستقبل کی خوشیوںکو دھکیل کر بے خوف و خطر موت کے منھ میں جارہے ہیں ؟کیوںکشمیر کی ماﺅں بہنوں کی عزتیں شہر عام لوٹی جارہی ہیں؟ اس طرح کے ہزاروں سوال آج مسئلہ کشمیر کے نام پرچھاتی تان کر کھڑے ہیں۔نا معلوم مسلح افراد گھروں کے اندر گھس کر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔اور کئی کو سر راہ موت کی نیند سُلادیا جاتا ہے۔ اس طرح کی کئی مثالیںہمارے سامنے مقبول بٹ سے لے کر تازہ حادثے میں ہوئے شہیدعادل احمد تک کی تصویریںرقص کر رہی ہیں۔عادل احمد جس کو ایک فوجی گاڑی سر راہ کُچل دیتی ہے ۔اس طرح کا واقع کشمیر میں پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے، جس سے ہر آدمی کا دل زخم زخم ہوا ہے۔کیوں فوج کی اس بربریت کو کھلے عام دبایا جا رہا ہے؟ ۔کیوں فوج کے ہاتھوں قتل و غارد گری اور ریپ کو سیاسی سازش کے ذریعے دبایا جارہا ہے۔آخر کب تک یہ وادی خون میں نہاتی رہے گی ۔کیا اس کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے؟فوج کی اس بربریت کا منظر تو یہ ہے کہ فاروق احمد ڈار نامی شخص کو سرعام فوجی گاڑی کے ساتھ باندھ کر گاﺅں گاﺅں،گلی گلی گھمایا جاتاہے۔ فوج کی اس چیرہ دستی سے نہ صرف کشمیر بلکہ ہر اس انسان کا دل مجروح ہوا،جو زندہ دل کا مالک ہے۔پچھلے چندماہ سے وادی کے شمال و جنوب میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں جنگجوﺅں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں۔ان حادثوں اور ہلاکتوں نے کشمیری عوام کے سینوںکو چیر کر رکھ دیا ہے ۔لیکن اس کے باوجود بھی حکومت اپنی غلطیوں اور ناکام پالیسیوں کا الزام کشمیری عوام کے سر تھوپ رہی ہے۔تعجب کا مقام ہے کہ جہاں اس صورتحال سے حکومت کو سیاسی بالغ نظر ی ،کشمیری عوام کے تحفظ ،ان کے جزبات اور امن و امان اختیار کرنا چائیے تھا ، وہاں بدقسمتی سے فوج کی سفاکانہ اور بربریت کے ہر حادثے اور مظاہرے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کا ہر واقع ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے؟ عسکریت پسندوں اور فوج کی معرکہ آرائیوںمیں کیوں نوجوان،بچے اور بوڑھے جانوں کی پرواہ کئے بغیر دو بندوقوں کے درمیان کھڑے ہو جاتے ہیں؟۔بچے فوجی گاڑیوں کے سامنے پتھر لے کر کیوں موت کو دعوت دیتے ہیں ۔کیوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بندوق اٹھانے پر راضی بہ رضا ہو تے ہیں۔کیوں کشمیر یونیورسٹی کا اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیع بندوق اٹھا کر اپناکرئیر اور اپنی جان کھو دیتا ہے؟ ۔ان سب سوالوں کے جواب ماوزے کے اس قول کی تصدیق کرتے ہیں کہ ۔ انقلاب اپنے ہی بچوں کو کھاتا ہے ۔جدو جہد کو جہاد کی شکل دینے کے بعد مسئلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔اقوامِ متحدہ میں ایک سیاسی مسئلہ کی حیثیت سے پیش ہوا اور اس کو سیاسی حل حق اور خودارادیت قرار دیا گیا ۔ہر قرار داد میں یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ نہیں ،بلکہ ریاست کے باشندوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔اور تب تک قرار دادں پر مباحث ہوتے رہے جب تک اس کی حیثیت قائم رہی۔جب یہ مسئلہ دو ملکوں کا تنازعہ بن گیا قراردادوں سے بھی نظر ہٹا دی گئی ۔آج کشمیر کے ہر امن ،حق اور انصاف کے protest کو پر تشدد تحریک سے منسوب کیا جاتا ہے،اور فورسز کی طاقت سے احتجاجیوں کو زیر کیا جاتا ہے۔فوج کہیں بھی عام آدمی کو جنگجو سمجھ کر شک کی بنیاد پر شہر عام گولی ما ر دیتی ہے ۔ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہی فرائض ہیں دنیا کی چوتھی بڑی طاقت کے؟ اور ہمیں یہ بھی جاننا چائیے کہ ۹۸۹۱ءکے بعد سے اب تک لگ بھگ ۰۰۰۰۰۱civilianc کی جانیں تلف ہو چکی ہیں۔جن میں ۰۰۰۷۴civilians آرمی فورسز کے ذریعے مارے گے ہیں ۔جن میں۰۰۰۸ عورتیں اور بچیاں عصمت دری اور زنا بالجبر سے ہلاک ہوئیں ہیں۔لگ بھگ ۰۰۰۷۱ عورتوں نے اس دہشت زدہ ماحول اور فوج کے ڈر سے خود کی عزت و عصمت کو بچانے کے لئے خود کشیاں کر کے اپنی جانیں گنوائیں ہیں۔جہاں تک صوبہ جموں کا تعلق ہے یہ صوبہ سیکولرزم کی مثال پیش کرتا تھا ۔لیکن بد قسمتی سے 2014کی مخلوط سرکار کے بعد یہاں بھی بد امنی اور بے چینی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔یہاں پہ کچھ تنظیموں نے مل کر آپسی بھائی چارے اور اتحاد کی دیوار کو توڑ کر ضلع کٹھوعہ میں ایک غریب و خانہ بدوش گھر کی بچی کے ساتھ عصمت دری کی اور پھر اسے موت کے منہ سلا دیا۔اس واقعہ سے صوبہ جموں کے لوگوں میں بھی ایک دوسرے کے تئیں پیار و محبت میں رخنہ پڑ گیا اس واقع کے پیچھے اس دہشت گرد اور غنڈہ گردتنظیم کا ہاتھ تھا، جو اِن خانہ بدوش لوگوں کو یہاں سے ڈرا دھمکا کے نکالنا چاہتے تھے۔ان تمام تر واقعات کی ذمہ دار مرکزی سرکار سے لے کر ریاست جموں و کشمیر کی مخلوط سرکار بی جے پی اور پی ڈی پی ہیں۔جن کے کانوں پران روزمرہ حادثات،واقعات اور خونریزیوں سے جوں تک نہیں رینگتی ہے۔وادی کے ہر حادثے،ہر واقعے ،ہر جنازے،ہر تحریک اور ہر امن کے مظاہرے کو سیاسی نظر سے دیکھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔آخر کب تک معصوم بچوں کی زندگیوں پر سیاست چلے گی ۔کیا کشمیر کی ہر ماں اور ہر بچے کے لئے یہ دیکھنا واجب ہو گیا ہے؟کیا کشمیر کو بچانے کے لئے ہر کشمیری کو قربانی دینی ہو گی؟آخرکیوں عالمی طاقتوں کو بھی ایک بڑا انسانی مسئلہ نظر نہیں آ رہا ہے۔کیوں وہ اپنے دیش کے ہر بچے کو کشمیری بچہ نہیں سمجھ رہے ؟UNOدنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے لیکن مسئلہ کشمیر کو یہ بڑی طاقت بھی سنی ان سنی کر کے نظر انداز کر رہی ہے۔آج مسئلہ کشمیر پر کیوں نیشنل میڈیا خاموش ہے ۔کیا اس طرح کا عمل کوئی سیاسی ایجنڈہ کا حصہ ہے۔جس کی پیروی فورسز یہاں کے معصوموں پر کر رہی ہے ۔آخر حکومت کا یہ ظالمانہ رویہ کب تک کشمیریوں پر حاوی رہے گا؟ کیا حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ فورسز کے ان سفاکانہ طرزِ عمل کا احتساب اور قانونی کاروائی عمل میں لاسکے ۔ آج بھارت کشمیر کی صورتحال سے پریشان بھی ہے اور بے قرار بھی، لیکن اسے بدقسمتی سے یہ اطمینان بھی حاصل ہے کہ اس پر کوئی عالمی دباﺅ نہیں ۔وہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو برداشت کرنے کے لئے تیار توہے، لیکن عالمی دباﺅ اسکے لئے نا قابلِ برداشت ہے۔اسی لئے وہ اپنے سخت موقف اورجارحانہ حکمت عملی کی کسی بھی تبدیلی یا نرمی کے لئے تیار نہیں۔ کاش حکومت ،ریاست جموں و کشمیر میں امن و امان کے لئے ایسا منصوبہ اختیار کرتی کہ کشمیر کی معصوم کلیاں قبرستانوں کے بجائے امن و امان کے شہر میںہوتیں۔اس طرح یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر میں اب عالمی مداخلت کی گنجائش بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔اب ہمارے پاس صرف ایک ہی اختیار باقی ہے ،وہ براہ راست ہندوستان اور پاکستان کی کشمکش ہے۔دونوں میں کون کشمیر پر قبضہ کر پاتا ہے وہی فیصلہ کا دن ہو گا۔ لیکن اس دن کے لئے کشمیر کو بے پناہ درد ،بے انتہا نقصان اورنہ جانے کتنی ماﺅں کو بچوںسے اور بچوں کو ماﺅں سے جدائی دیکھنی ہو گی،کتنی خونریزیاں اور کتنی جانیں تلف ہوں گیں،اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔انجام خواہ کچھ بھی ہو ،جیت چاہے اس طرف کی ہو یا اُس طرف کی انقلاب کشمیر کے بچوں کوہی نگلے گا ۔
لیاقت علی
 ریسرچ اسکالرساکن ریاسی
9682345875
 جواہر لال نہرو یونیو رسٹی نئی دہلی۷۶۰۰۱۱