مزید خبریں

 اندرجیت کیسریا، رحمن عباس اورمشتاق کشمیری سمیت 24 مصنفین کوساہتیہ اکیڈمی ایوارڈعطا

یواین آئی

نئی دہلی//اردو ادیب رحمن عباس سمیت 24 مصنفین کو منگل کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اکیڈمی کے صدر اور کنڑ کے نامور ڈرامہ نگار چندرشیکھر کمار نے ایک پروقار تقریب میں ان مصنفین کو سال 2018 کے لئے یہ ایوارڈ پیش کیا۔ ایوارڈ ایک لاکھ روپے کی نقدی رقم ، توصیفی سند ،مومنٹو اور شال پرمشتمل ہے۔ڈوگری میں یہ ایوارڈ اندرجیت کیسریاجبکہ کشمیری میں مشتاق احمدمشتاق کشمیری کوعطاکیاگیاہے۔انگریزی کے مصنف انیس سلیم اور اوڑیا مصنف داشرتھی داس کی غیر موجودگی میں یہ ایوارڈ ان کے نمائندوں نے حاصل کئے۔65 سالہ چترا مدگل کو یہ ایوارڈ ’پوسٹ باکس 203 چینل سوپارا ‘پر دیا گیا جوایک خواجہ سرا کی زندگی پر مبنی ہے۔ گذشتہ 45 برسوں سے ادب میں سرگرم مسز مدگل کی پہلی کہانی 1964 میں’ سفید سینارا‘ نام سے’ اکنامک ٹائمز‘ میں شائع ہوئی تھی۔کمبار نے راجستھانی زبان کے لئے راجیش کمار ویاس، اردو کے لئے رحمان عباس، میتھلی کے لئے وینا ٹھاکر، سنسکرت کے لئے رماکانت شکلا اور پنجابی کے لئے موہن جیت کو یہ ایوارڈ پیش کیا۔ایوارڈ حاصل کرنے والے دیگر مصنفین میں- سنجیو چٹواپادھیائے بنگلہ، سنت تانت آسامی، رتوراج بسومتاری بوڈو، اندرجیت کیسریا ڈوگری، شریفہ بجلی والا گجراتی، کے جی ناگراجپا کنڑ، مشتاق احمد مشتاق کشمیری، پریش نریندر کانت کونکینی، ایس رامیشن نائر ملیالم، بدھی چندر ییسنابا منی پوری، ایم ایس پاٹل مراٹھی، لوکناتھ اپادھیائے چاپگائی نیپالی، شیام بیسرا سنتھالی، کھیمن یو ملانی سندھی، ایس رام کرشنن تمل اورکولایرکانا، تیلگو شامل ہیں۔تقریب کے مہمان خصوصی منوج داس، مہمان ذی وقار اور سری لنکا کے مشہور مصنف سنتان ایا تورے نے بھی خطاب کیا۔ اکیڈمی کے سکریٹری کے شری نواس راو¿ نے مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ اظہار تشکرمادھو کوشک نے کیا۔
 
 
 

تھائیرائیڈ ۔پی سی اوایس سے متعلق طبی سیمینارکاانعقاد

بازاری کھانوں سے پرہیزاورمقوی غذاکااستعمال ضروری :ڈاکٹرمصطفےٰ کمال 
جموں//پروفیسرانڈوکرائنولوجی ،سکمزسورہ ڈاکٹرمحمداشرف گنائی کی جانب سے یہاں جموں میں ”تھائیرائیڈ ۔پی سی اوایس )پالی اویئرین سنڈروم اینڈماڈرن ٹرینڈس اِن ڈائبٹیز ملیٹس “کے موضوع پرایک طبی سیمینارکاانعقاد کیاگیا ۔اس دوران ایڈیشنل جنرل سیکریٹری نیشنل کانفرنس ڈاکٹرمصطفےٰ کمال مہمان خصوصی جبکہ ڈاکٹرعبدالماجدسراج مہمان ذی وقارتھے۔اس موقعہ پراپنے خطاب میں ڈاکٹرمصطفےٰ کمال نے 1963سے 1985تک کے بطورسرکاری ڈاکٹرکے اپنے تجربات بیان کئے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ایم اوٹنگمرگ اورگلمرگ، بی ایم اوماگام، میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ایس ڈی ایچ ٹنگمرگ کے طورپرخدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہاکہ 1963میں جب میں نے ڈاکٹرکے طورپرجوائن کیاتو اس وقت ریاست میں اسسٹنٹ سرجنوں کی 400آسامیاں خالی تھیں اورمیڈیکل سپلائزبھی ناکافی تھی اورماہرین توانگلیوں پرگنے جاسکتے تھے لیکن 1975سے 1985 کے درمیان نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمدعبداللہ نے میڈیکل شعبے میں انقلاب لایا۔انہوں نے کہاکہ شیخ عبداللہ کی پالیسیوں کوعملانے میں ڈاکٹرولیم روبیروجواس وقت ڈائریکٹرہیلتھ سروسزتھے نے کلیدی رول اداکیا۔انہوں نے کہاکہ شیخ محمدعبداللہ کی کاوشوں سے سکمزصورہ اورگورنمنٹ میڈیکل کالج بخشی نگرکاقیام عمل میں لایاگیااورلوگوں کوطبی تعلیم اورصحت خدمات دستیاب ہوں ۔اس موقعہ پرڈاکٹرمصطفےٰ کمال نے اُن ڈاکٹروں کوخراج عقیدت بھی پیش کیاجنھوں نے شیخ عبداللہ کاہاتھ بٹایا ان میں ڈاکٹرعلی جان ،ڈاکٹرعلاقہ بند ،ڈاکٹرنصیر احمد،ڈاکٹرشیخ جرال ،ڈاکٹرولیم روبیرو، ڈاکٹربجاج، ڈاکٹرآتم پرکاش، ڈاکٹرناگپال شامل تھے۔اس موقعہ پر ڈاکٹرکمال نے نوجوانوں سے تلقین کی کہ وہ بازاری چیزوں بالخصوص ینک فوڈسے پرہیزکریں۔انہوں نے کہاکہ شوگرکی روکتھام کےلئے ہرشخص کومقوی غذاکااستعمال کرناچاہیئے۔انہوں نے ڈاکٹراشرف گنائی کااہمیت کے حامل موضوع پرسیمینارکے انعقادکےلئے شکریہ اداکیا۔اس موقعہ پر ڈاکٹرعبدالماجدسراج نے برطانیہ میں انڈوکرائن سرجری اورریڑھ کی ہڈی ۔سپینگ کی سرجری ودیگرامورات کے بارے میںخیالات بھی اظہارکیا ۔
 
 

ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی کااجلاس 

کلرکل ملازمین کی تنخواہوں سے تفاوت دورکرنے کامطالبہ 

جموں//ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی (آر) کاایک اجلاس بابوحسین ملک کی صدارت میں منعقدہواجس میں تنظیم کے دیگرعہدیداران بشمول سیوارام راٹھور،کلونت سنگھ سمبیال، رحمت اللہ ،یش پال شرما، نریش کمار،انل سلاتھیہ ،وکاس چندر، اویس ،عامر وانی ،منیش شرما ،اشوک سنگھ ،انسویاگپتا، ادھے سنگھ پٹھانیہ، جاوید انتخاب ،محمدرفیق ،بشیرملک،پرمجیت سنگھ نے شرکت کی۔اس دوران کلریکل کیڈرکی تنخواہوں میں تفاوت ،ایس آراو 333 میں ترمیم اورملازمین کے دیگرمسائل پرتبادلہ خیال کیاگیا۔اس دوران زوردیاگیاکہ کلرل کیڈرکی تنخواہوں سے تفاوت ،ایس آراو333 میں ترمیم، قومیت فوائد 01/1996 سے اورمونیٹری فوائد 02/2003سے متعلق ریاستی ہائی کورٹ کی ہدایات کوعملی جامہ پہنایاجائے ، 2010 کے بعدتعینات ہوئے این پی ایس ملازمین کی پنشن کی پرانی سکیم ،ایس آراو222کوکالعدم کرنے ،سیکرٹریٹ سے باہرکے ملازمین کےلئے سنیچروارکوچھٹی کرنے کامطالبہ کیا۔ اس موقعہ پر حکومت سے اپیل کی گئی کہ تمام زمروں کے ملازمین کے مطالبات کوپوراکیاجائے تاکہ انہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کےلئے سڑکوں پرنہ آناپڑے۔
 

نیشنل سوشل گروپ نے یوم تاسیس منایا

جموں//نیشنل سوشل گروپ (این ایس جی ) چھنی ہمت جموں نے جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کے ساتھ تنظیم کایوم تاسیس منایا۔اس دوران پروگرام کی صدارت ڈی ایف اواینوائرنمنٹ اینڈ ریموٹ سنسنگ جموں کلدیپ کماراورصدرروٹری کلب نے کی ۔اس کے علاوہ تنظیم کے ایگزیکٹیوممبران بھی موجودتھے۔تقریب کے دوران بچوں میں سٹیشنری سامان تقسیم کیاگیا۔ این ایس جی کے بانی چیئرمین ابھیشک پادھا، نائب چیئرمین اشیش شرما،سیکریٹری ابھی نندشرماودیگرممبران بھی موجودتھے۔
 
 
 

 ملازمین کی ہڑتال میں 3دنوں کی توسیع 

جموں //محکمہ صحت میں کام کررہے نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی طرف سے جاری ریاست گیرہڑتال کومزید72گھنٹوں کےلئے بڑھانے کااعلان کیاہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ملازمت کی باقاعدگی کے مطالبہ کولے کراحتجاج کررہے این ایچ ایم ملازمین نے کہاکہ حکومت کی طرف سے ہماری مانگوں کے تئیں کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جوکہ باعث افسوس ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی عدم توجہی کے پیش نظرہمیں مزیدتین دنوں کےلئے ہڑتال کال کوبڑھاناپڑرہاہے۔۔اس دوران این ایچ ایم ملازمین نے پریس کلب جموںکے باہرمانگوں کے حق میں نعرے بلندکئے اورسیکرٹریٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اس کوشش کوناکام بنادیا۔اس دوران این ایچ ایم ملازمین نے حکومت سے امتیازی سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مارچ 2017میں ان کی پندرہ روز ہڑتال کے بعد حکومت کی طرف سے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرناتھی تاہم آج دو سال ہونے کوہیں مگر یہ رپورٹ پیش نہیں ہوسکی ۔ان کاکہناتھاکہ اس کمیٹی نے ان کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے تاخیری حربے اپنائے اور کوئی مثبت کام نہیں کیا ۔ این ایچ ایم ملازمین نے مزید بتایاکہ بیس دسمبر 2017سے پھر سے انہوں نے ریاست گیر ہڑتال شروع کی جو 22جنوری کو اس وقت کے وزیر صحت اور شعبہ صحت کے پرنسپل سیکریٹری کی اس یقین دہانی پر ختم کی گئی کہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے جبکہ وزیر صحت نے اسمبلی میں بھی یہی یقین دہانی دلائی جس کے بعد ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی مگر یہ کمیٹی بھی سونپے گئے کام کو انجام دینے میںناکام ثابت ہوئی ۔ احتجاجی ملازمین نے کہاکہ ان کی تنخواہوں میں بیس فیصد اضافہ کرنے ، خواتین ملازمین کو چھ ماہ کی میٹرنٹی چھٹی دینے ،اوڑیسہ کی طر ز پر ملازمین کو ایک ماہ کی تعطیل دینے جیسے مطالبات کو پورا کرنے کا یقین بھی دیاگیا مگر اس پر عمل درآمد کرنے کے بجائے بعد میں یہ معاملہ ’گروپ آف آفیسرزکمیٹی ‘کو سونپ دیاگیا جس سے اس سے کوئی غرض نہیںہونی چاہئے تھی ۔ ان کاکہناتھاکہ انہیںہر سطح پر حراساں ہوناپڑتاہے اور تنخواہیں بھی وقت پر نہیں دی جاتی ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے مستقبل کومحفوظ بنایاجائے اورمستقل ملازمت کی ان کی دیرینہ مانگ پوری کی جائے ۔ان کا مزید کہناتھاکہ ایس ایس اے اساتذہ کی طرزپر ان کو بھی ساتویں تنخواہ کمیشن کا فائدہ دیاجائے اور دیگر جائز مطالبات بھی پورے کئے جائیں ۔ نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی تنظیم کے صوبہ جموں کے صدر روہت سیٹھ نے کہاکہ حکومت نے انہیں یہ احتجاج کرنے کیلئے مجبور کیاہے اور وہ اپنے حقوق کی خاطریہ جدوجہد جاری رکھیںگے ۔ان کاکہناہے کہ انہیں طفل تسلیاں دی جاتی ہیں مگر حقیقی معنوں میں کوئی اقدام نہیں کیاجارہا۔
 
 
 

 رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کاوفد سیکریٹری محکمہ تعلیم سے ملاقی 

تنخواہوں کی واگزاری سمیت مانگوں پرمیمورنڈم پیش کیا

جموں // جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرس فورم کے ایک وفدنے محکمہ تعلیم کے سیکریٹری اجیت کمار ساہو سے ا±ن کے دفتر سول سیکریٹریٹ میں ملاقات کرکے انہیں تحریری یادداشت پیش کرکے مطالبات زیربحث لائے۔اس دوران وفد کی قیادت فورم کے ریاستی چیرمین فاروق احمد تانترے کر رہے تھے – فورم چیرمین نے ایجوکیشن سیکریٹری کو اساتذہ کی بند پڑی تنخواو¿ں کی جلد واگذاری، انڈرگدیجویٹ اساتذہ کو ساتویں پیے کمیشن کے دائرے میں لانے، غیرمستقل اساتذہ کی مستقلی، اور ساتویں پے کمیشن کو 2016 سے لاگو کرانے کی مانگ کی – تفصیلی ملاقات کے دوران فورم وفد نے سیکریٹری کو بتایا کہ اساتذہ فاقہ کشی کے شکار ہیں اور گذشتہ پانچ ماہ سے تنخواوں کے بغیر ہیں – سیکریٹری ایجوکیشن نے وفد کو غور س±نے کے بعد یقین دلایا کہ اساتذہ کی بند پڑی پا نچ ماہ کی تنخواو¿ں کو پرنسپل سیکریٹری فائنانس سے ملنے کے بعد فروری کے مہینے میں واگذار کرنے کی کوشش کی جائے گی – ا±نہوں نے کہا کہ تنخواو¿ں کی فیگزیشن میں وقت لگ سکتا ہے اس لئے تنخواو¿ں کو فی الحال پرانی سکیل کے مطابق ہی واگذار کیا جائے گا اور بعد میں فیگزیشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ستمبر سے ساتویں پے کمیشن کے ایرئریز ادا کئے جائیں گئے – ا±نہوں نے فورم چیرمین کو یقین دلایا کہ اس میں اساتذہ کس گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ اساتذہ کی تنگ دستی کو دیکھ کر ا±ٹھانے کوشش کی جائے گی اور موجود رقومات بھی لیپس نہ ہوں – ا±نہوں نے کہا کہ انڈر گدیجویٹ اساتذہ کے حوالے سے دروازے بند نہیں ہے اور سلسلے میں مزید آپ کی ددخواست پر غور کیا جائے گا -سیکریٹری ایجوکیشن نے نان ریگولر اساتذہ کے حوالے سے یقین دہانی کرائی کہ اس عمل کو بھی بہت جلد شروع کیا جائے گا- وفد میں فورم چیرمین کے علاوہ فورم کی ریاستی کنوینئر و سینئر لیڈر نینو لتا، ریاستی میڈیا سیکریٹری مظفر وانی، فورم کے ریاستی جوائنٹ کواڈینیٹر طارق حسین، صو بائی سیکر یٹری آفتاب ملک، ضلع صدر ڈوڈہ اسحاق الرشید، نائب صدر ڈوڈہ ششی کمار کے علاوہ دیگران شامل تھے –
 
 
 

ڈاکٹر جتند ر سنگھ نے ہائی وے ولیج کا سنگ بنیاد رکھا 

۔ 20 کروڑ روپے کی لاگت سے 18ماہ میں مکمل ہوگا

کٹھوعہ/نارتھ ایسٹ خطے کے وزیر مملکت اور عوامی شکایات ، پنشنز اور وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے لوگیٹ موڑ کٹھوعہ میں این ایچ 44 پر ہائی وے ولیج کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اس موقعہ پر ای ڈی سی ، اے سی ڈی ، اے سی آر ، آر ٹی او اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے قومی شاہراہوں کے اطراف 183 جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پارکنگ سہولیات ، ریسٹورانٹ، فوڈ کوٹ ، ڈھابے ، ٹیلی فون بوتھ ، اے ٹی ایم ، ریسٹ روم ، بیت الخلاءاور دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی۔ہائی وے ولیج کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ ریاست میں اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ ہے اور پہلے مرحلے کے تحت اس پروجیکٹ کے لئے 20 کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں جو 18ماہ میں مکمل ہوگا۔اُنہوں نے کیریاں گنڈیال کا پل ، میڈیکل اینڈ انجینئر نگ کالج ، بائیو ٹیک پارک اور جتھانہ پل سمیت کئی دیگر اہم پروجیکٹوں کا بھی تذکرہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہیرا نگر علاقے میں 400بیت الخلاءتعمیر کئے گئے ہیں جبکہ بنکروں کا تعمیراتی کام جلد مکمل کیا جائے گا۔شاہ پور کنڈی پروجیکٹ کو ایک اہم حصولیابی قرار دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی بروقت مداخلت سے چالیس سال سے زیرِ اِلتوا ¿اس پروجیکٹ کو منظوری دی گئی ہے۔اس سے قبل ڈی سی کٹھوعہ نے ہائی وے ولیج پروجیکٹ کی خاصیت کے بارے میں مدلل جانکاری دی۔
 
 

گورنر کا جارج فرینڈیز کے اِنتقال پر اظہاردکھ

جموں/گورنر ستیہ پال ملک نے سابق وزیر دفاع اور سرکردہ سماجی لیڈر جارج فرینڈیز کے اِنتقال پر رنج وغم کا اِظہار کیا ہے ۔آنجہانی کے ساتھ اپنے تعلقات کو یاد کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ سماج کے پسماندہ طبقوں اور قوم کی خدمت کے لئے آنجہانی کی خدمات لافانی ہے۔اُنہوں نے آنجہانی کی روح کے ابدی سکون کے لئے دعا کی۔
 

نیشنل ڈیفنس کالج کاعملہ گورنر سے ملاقی 

جموں/نیشنل ڈیفنس کالج کے فیکلٹی اور کورس ممبران کے ایک وفد نے ٹور کاڈی نیٹر بنیتادیوی کی قیادت میں یہاں راج بھون میں گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کی ۔ یہ گروپ ریاست کے تعلیمی دورے پر ہے۔گورنر نے کشمیر معاملے اور لوگوں کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اِنتظامیہ کی طرف سے زیرِعمل اقدامات ، سرمایہ کاری کے ماحول ، سیاحتی گنجائشوں ، تعلیمی منظرنامے اور جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں گروپ ممبران سے اپنے خیالات بانٹیں۔گورنر نے ریاست کے نوجوانوں کی مشکلات کے ازالے اور اُنہیں کھیل کود ، آرٹ اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت بھی اُجاگر کی۔ اُنہوں نے سماج کے ہرطبقے خاص کر نوجوان نسل کواپنے مسائل اور ضروریا ت کے بارے میں بات کرنے کے لئے حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا۔گورنر نے افسران کو جھیل ڈل اور جھیل ولر کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات کے بارے میںجانکاری دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ریاست سیاحوں کو ریاست آکر یہاں کی خوبصورتی ، فن و تمدن اور مہمان نوازی سے محظوظ ہونا چاہیئے۔افسران نے ان کے اِستقبال کے لئے گورنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مختلف اہم امور پر اپنے خیالات پیش کئے۔ اُنہوں نے مستقبل میں بھی ریاست کے دورے پر آنے کی خواہش ظاہر کی۔
 
 

روزانہ سری نگراوربنگلورو کیلئے پروازیں

خورشید گنائی نے فیصلے کا خیرمقد م کیا

جموں/ گورنر کے صلاح کار خورشید احمد گنائی نے اِنڈگو کی طرف سے15 فروری سے روزانہ سری نگر اور بنگلورو کے لئے پروازیں چلانے کے فیصلے کا خیر مقد م کیا ہے۔اپنے پیغام میں خورشید احمد گنائی ، جن کے پاس محکمہ سیاحت کا قلمدان بھی ہے ،نے کہاکہ اس کی بدولت ریاست میں جنوبی بھارت کے سیاحوں کی آمد میں کافی اضافہ ہوگا ۔اُنہوںنے کہا کہ سیاحت کے فروغ کےلئے ہوا بازی صنعت کا اہم رول ہے اور سرکار نجی ائیر لائینوں کو سری نگر اور جموں سے چننی ، حید ر آباد اور کولکتہ کے درمیان براہِ راستہ پروازیں چلانے میں بھرپور تعاون دے گی۔صلاح کار نے کہاکہ گورنر اِنتظامیہ ریاست کو ملک کی معروف سیاحتی جگہ کے طور فروغ دینے کے لئے تمام اقدامات کر رہی ہے اور محکمہ سیاحت ملک کے مختلف حصوں میں روڑ شوز منعقد کر رہا ہے تاکہ سیاحوں خاص کر ملک کے جنوبی علاقوں کے سیاحوں کو راغب کیا جاسکے۔
 
 

حکومت ہر ضلع میں ایمرجنسی اوپریشن سینٹر قائم کرے گی: فاروق شاہ

جموں/گورنر اِنتظامیہ ریاست کے ہر ضلع میں آفاتِ سماوی سے نمٹنے کے لئے جدید سازو سامان سے لیس ایمرجنسی اوپریشن سینٹر قائم کرنے پر غور کر رہی ہے ۔ یہ جانکاری ڈیزاسٹر منیجمنٹ محکمہ کے سیکرٹری فاروق احمد شاہ نے ایک جائزہ میٹنگ میں دی۔اُنہوں نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر قدرتی آفات کے حوالے سے ایک حساس ریاست ہے ۔اس لئے ان سینٹروں کا قیام بے حد ضروری ہے تاکہ آفاتِ سماوی کے وقت جان و مال کا تحفظ کیا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ ان مراکز میں جدید سازو سامان بشمول کشتیاں ، پانی کے نکاسی کے پمپ ، جے سی بی ، فسٹ ایڈ اور سیٹلائیٹ فون بھی دستیاب کرائے جائیں گے۔اُنہوں نے اس حوالے سے فوری طور ضلع منتظمین کو ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی۔میٹنگ میں محکمہ کے ایڈیشنل سیکرٹری ، ڈائریکٹر فائناس اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔
 
 
 
 

پسماندہ طبقوں کی بہبودکےلئے آئی سی ڈی ایس سکیمیں اہم:گنائی

جموں/گورنر کے صلاح کار خورشید احمدگنائی نے سماجی بہبود محکمہ کے افسران کو ریاست میں آئی سی ڈی ایس سکیموں کی مو¿ثر عمل آوری پر زور دیا ہے تاکہ سماجی کے کمزور اور پسماندہ طبقوں کو ان سکیموں سے بھرپور فائدہ ملے ۔اُنہوں نے آئی سی ڈی ایس سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے بلائی گئی ایک جائز ہ میٹنگ میں ان خیالات کا اِظہار کیا۔ میٹنگ میں سیکرٹری سماجی بہبود ڈاکٹر فاروق احمد لون ، مشن ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس ویر جی ہانگلو ، ڈائریکٹر فائنانس سماجی بہبود اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔صلاح کار نے مختلف بہبودی سکیموں کی مو¿ثر عمل آوری کے لئے منظم لائحہ عمل اپنانے اور تمام سطحوں پر بھی بہتر تال میل کے لئے ضابطہ عمل وضع کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے آنگن واڑی ورکروں کو مختلف سکیموں کے بارے میں جانکاری دینے پر بھی زور دیا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ پوشن ابھیان کا مقصد تمام تغذیہ سے متعلق سکیموں کو ضم کر کے متعلقہ آبادی کو مقوی تغذیہ فراہم کرنا ہے۔صلاح کار نے صحت ، تعلیم اور صفائی ستھرائی کے بارے میں عوام میں جانکاری پیدا کرنے پر بھی زور دیا تاکہ اقتصادی ترقی یقینی بن سکے۔انہوں نے پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا کے تحت اہداف کو حاصل کرنے اور بچوں کو مقوی غذا فراہم کرنے کے بارے میں بیداری کرنے پر بھی زور دیا۔ 
 

زراعت سے منسلک شعبوں پرتوجہ دینے پرزور

نوین چودھری کی صدارت میںاعلیٰ اختیاری کمیٹی کااجلاس

جموں/سرکار نے رورل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ سکیم کے تحت زراعت اور منسلک شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔اعلیٰ اختیاری کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری فائنانس اور پینل کے چیئرمین نوین چودھری نے کشمیر اور جموں صوبوں کے لئے سکیم کے تحت فی کس 50بور ویل کھودنے کے لئے منصوبہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے سکیم کے تحت زراعت اور منسلک شعبوں کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے نبارڈ کو انیمل ہسبنڈری اور منسلک شعبوں کی ایولویشن کرنے کےلئے کہا ہے تا کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جاسکے اور مستقبل کے لئے منصوبے تشکیل دئیے جاسکے ۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری صحت عامہ ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول فاروق احمد شاہ ، کمشنر سیکرٹری تعمیرات عامہ خورشید احمد ، کمشنر سیکرٹری زراعت منظور احمد لون اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔دیہی علاقوںمیں پیداواریت میں اضافہ کے لئے پرنسپل سیکرٹری نے باغبانی شعبے میں بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی کو فرو غ دینے سمیت کنڈی علاقوں میں بانس کی شجرکاری کرنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے دونوں صوبوں میں کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں جان کاری دینے کے لئے تربیتی مراکز کے قیام کے منصوبے کی سراہنا کی۔شہری علاقوںمیں باغبانی سے متعلق سکیم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے اسے دیگر علاقوں میں بھی وسعت دینے پر بھی زور دیا۔اس سے قبل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت جاری 221 پروجیکٹوں کے علاوہ نئے منصوبوں کا بھی جائزہ لیاگیا۔
 
 
 
 
 
 

۔ 11 ویں ٹرائبل یوتھ ایکسچینج پروگرام کا افتتاح 

جموں//گورنر کے صلاحکار خورشید احمد گنائی نے یہاں نہرو یووا کیندر جموں اور مرکزی وزارت داخلہ کے اشتراک سے منعقدہ11 ویں ٹرائبل یوتھ ایکسچینج پروگرام کا افتتاح کیا۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے مشیر موصوف نے ملک بھر سے آئے ہوئے شرکاءکا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں خطے کے کلچر، ثقافت اور سیاحت سے ہم آہنگ ہونے پرز ور دیا۔انہوں نے متعلقہ افسران کو شرکاءکی سہولیت کے لئے تمام انتظامات دستیاب رکھنے پر زور دیا۔قبائلی نوجوانوں کی خدمات کو اُجاگر کرتے ہوئے صلاحکار نے انہیں تعلیم اور غیر نصابی سرگرمیو ں پر توجہ دینے پر زور دیا۔اس موقعہ پر صلاحکار نے قومی سطح کے پروگرام میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے نواز حُسین کی عزت افزائی کی۔ انہوں نے ریڈ کراس سوسائٹی جموں وکشمیر کی صدر روما وانی اور سنیئر صحافی سہیل کاظمی کے عزت افزائی کی۔اس موقعہ پر امور نوجوان و کھیل کود کے سیکرٹری سرمد حفیظ نے کہا کہ ایسے پروگراموں کی بدولت نوجوانوں کو فن اور ثقافت، تمدنی و مذاہب کی گوناں گونیت کے بارے میں ہم آہنگ کرنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے شرکاءکو مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نوجوانوں سے تجربات حاصل کرنے اور اپنی شخصیت کے نکھارکے لئے پروگرام سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا۔