مزید خبریں

برف باری کی قہر سامانیاں جاری 

خطہ چناب میں بحرانی صورتحال بپا

تباہ کن اوربھاری برف باری کے بعد محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق موسم میں بہتری تو ضروری آئی لیکن دھوپ کھلنے کے بعد برف برفشار کے پگھلنے کی وجہ سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔دن میں کھلی دھوپ کے دوران برف سے نکلنے والا پانی راتوں کو منفی درجہ حرات کے باعث منجمد ہور ہا ہے جس کے نتیجے میں بیشتر علاقوں میں رابطہ سڑکیں بھی ابھی تک ناقابل آمد رفت ہیں ۔ خطہ چناب کے مختلف علاقہ جات میں شدید برف باری کے بعد موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی برف پگھلنے لگی ہے جس دوران مکانات کا گرنا اور پہاڑیوں سے مٹی کے تودے گرآنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ،جس وجہ سے خطہ بھر میں ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو چکی ہے ۔ خطہ چنابکے دور دراز علاقے جیسے ضلع ڈوڈہ کے علاقہ بھیسلہ ، بھدرواہ، ٹھاٹھری پاروتی، شیوا، گھٹ ، بھبور، بگلہ، بھرت ، ہانچھ وغیرہ اور ضلع کشتواڑ کے دور دراز علاقے سگدی، پہلگام ، بھاٹہ ،چھاترو، چنگام ، سنگھپور، مغل میدان ، ڈڈپیٹھ ، پلماڑ اور پاڈر ، دچھن مڑواہ جیسے دور دراز علاقوں کا باہری دنیاسے ہنوز کٹا ہوا ہے۔ اسی طرح سے ضلع رام کے دور دراز علاقہ جات جیسے رام سو، پوگل پرستان، نیل،کھڑی ،مگر کوٹ ،چملواس ،اکھڑال ، بانہال ، کسکوٹ ، لامبر، کراواہ، چریل ، بھیمدسہ ، گاگرہ، ہارا، گوئی ، داڑم ، آستان مرگ ، چھچھواہ ، اندہ، ڈھیڈہ، چرلی ، اشمار، سنگلدان  جیسے دور افتادہ علاقوں میں بھاری برف باری کی وجہ سے پانی ،بجلی ، راشن اور طبی جیسی بنیادی سہولیات نایاب ہیں جس وجہ سے لوگوں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔
برف باری کی وجہ سے جہاں لوگ گھروں میں محصور ہو چکے ہیں وہیں رابطہ سڑکوں پر آمدو رفت کی بحالی نہ ہونے کی وجہ سے ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ پیدل سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ایک طرف سے جہاں اِس قدرتی آفت کی وجہ سے لوگ شدید مشکلات سے دو چار ہیں وہیں دوسری جانب انتظامیہ کی غیر سنجیدگی نے عوامی حلقوں میں شدید قسم کی ناراضگی برپا کر دی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کسی بھی علاقہ میںکوئی سہولیت فراہم نہیں کی گئی ہے۔ طبی سہولیات کی عدم دستیابی، راشن گھاٹوں پر راشن کی نایاب ، بجلی اور پانی کی بند پڑی سپلائی کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں رہ رہے لوگوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جب کہ انتظامیہ کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھانے کے لئے مکمل طور سے غیر سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ اِدھر ضلع رام بن کے علاقہ گول سے ملی اطلاعات کے مطابق گول کا ضلع صدر مقام سے رابطہ ابھی بھی منقطع ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں مکانات منہدم ہونے اور پسیاں گر آنے کا خوفناک سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ روز مہاکنڈکے غلام محمد لوہار نامی ایک غریب شخص کا مکان برف باری کی قہر سامانیوں کی نذر ہو گیا جس وجہ سے علاقہ میں ایک بحرانی صورتحال نے جنم لیا ہے ۔ مہاکنڈ کی طرح ہی گول کے دیگر علاقوں میں لوگوں کے مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک انتظامیہ نے اِ ن علاقوں میں جا کر متاثرین کی کوئی خبر گیری لینی کی زحمت گوارہ نہیں کی بلکہ خطرناک موسمی صورتحال کے ہوتے ہوئے انتظامیہ فئیرویل تقریب منانے میں مشغول ہیں اور عوامی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔جنوبی کشمیر کے پانپور قصبہ میںاسپتال سے سرینگر جموں شاہراہ تک منجمد ہونے کے بعد تحصیل انتظامیہ نے میونسپل کمیٹی پانپور کے ساتھ مل کر آمد ورفت کو بحال کرنے سڑک پر نمک کے کئی بیگ چھڑ ک لئے جس کے بعد مزکورہ سڑک کو آمد رفت کے لئے بحال کیا گیا ہے لیکن ادھر خطہ چناب میں انتظامیہ نے سٹرکوں پر نمک چھڑکنے کے بجائے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی روش اپنا رکھی ہے۔ لوگوں ذرائع ابلاغ اور شوشل میڈیا کے ذریعہ حکومت ِ وقت سے مطالبات کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ بھاری برف باری کی وجہ سے پیدا شدہ بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری اقدمات اٹھائے جائیں اور خطہ کے دور اُفتادہ علاقوں میں ہوائی دورہ کیا جائے اور وہاں کے لوگوں کو اس مشکل حالات سے باہر نکالنے کی فوری امداد کو یقینی بنایا جائے ۔
 
 
ایم شفیع میر
7780918848

توہم پرستی کے چراغ بجھتے نہیں اب بھی

انسان اول ابھی اپنے جسد خاکی کے جمود میں بے حرکت تھا اور روح کا ورود ابھی مشیت ایزدی میں موخر تھا، طاوس ملائکہ ابلیس زمین و آسمان کی وسعتوں کو جبین نیاز کے سجدوں سے بھر رہا تھا کہ نیازمندی اور بندگی کے مراحل طے کرتے کرتے آدم کے پتلے پے نگاہ حرص ٹکرائی تو ایک وسوسہ قلب نا پاک میں پیوست ہوا کہ کہیں اللہ کی یہ دستکاری میرے رتبے کے زوال کا سبب نہ بنے۔پہلا حملہ شروع کردیا۔آدم کے پتلے کو تذلیل و تحقیر کا ہدف بناتے ہوئے چالیس شب و روز تک تھوکتا اور لتاڑتا رہا۔چالیس کا یہ عدد میرے علم ناقص کے مطابق اسی اعتبار سیاور یہیں سے شروع ہوا ورنہ قرآن مقدس کے مطالعے سے سات کا عدد سب تعدادوں سے اول آیا ہے جس میں زمین و آسمان کو مکمل کرنے کی تصریح غیر مبہم ہے اور پھر چالیس دنوں کا ذکر کوہ طور کے واقعے کے سلسلے میں بھی آیا ہے لیکن اس واقعے میں اصل میں موسی علیہ الصلوات واسلام کو تیس ایام کے لئے کوہ طور پے بلایا گیا تھا لیکن مسواک نہ کرنے کی وجہ سے دس روز کی مدت کا اضافہ ہو گیا اسطرح سے یہ دس دن اصافی ہیں نہ کہ بنیادی۔آگے چل کر پھر اس مدت کا تعین نفاس کے معاملے میں صنف نازک کے طہر کا زمانہ مقرر ہوا۔خیرالقرون کے بعد چالیس کے عدد کو کہاں کہاں جوڑا گیا ہے اسکی تفصیل کوئی راز سر بستہ نہیں لیکن جہاں اسے نبی اکرم نے جوڑا وہاں آج امت مسلمہ کی اکثریت نے اسے توڑا بھی اور چھوڑا بھی ہے یعنی اگر کوئی مسلمان کسی نجومی یا رمال سے غیب کا کوئی معاملہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسکی چالیس دن کی مقبول نمازیں ضائع ہو جاتیں ہیں۔ہمارے مسلم معاشرے میں اس خباثت کا زور اب بھی بدستور رائج ہے۔اور تو اور امت مسلمہ کی ایک کثیر تعداد جو عصری علوم کی بدولت حکومت کی مہار تھمائے ہیں یا عظیم عہدوں پے فائز ہیں وہ بھی ایمانی کیفیت سے ایسے معذور نظر آرہے ہیں گویا وہ خیالوں کی دنیا میں اتباع سنت کے مدعی ہیں مگر اصل میں وہ اتنے ہی قابل رحم ہیں جنتے وہ لوگ جو طاغوتی مزاج میں پختہ ہیں۔ایمان اور صالحات یعنی عقیدہ اور اعمال دو ایسی حقائق ہیں جنکے تسلسل اور ربط کے بغیر کسی بھی مسلمان کو اصل منزل اور نجات ملنا ایسا ہی محال ہے جیسا کہ ایک شتر کو سوئی کے ناکے سے گزارنا۔اس صورتحال سے آزردہ ہونا اور اس کیفیت سے نکالنا امت کے ایک طبقے کی ذمہ داری بنتی ہے جسے خیر امت کا شرف حاصل ہو۔گزشتہ روز کے اخبار کے مطالعہ کے دوران ایک واقعہ مطالعہ کرنے کو ملا۔واقعہ گو انوکھا نہیں البتہ اپنی کم مائیگی کے باوجود دل کے غبار کو راہ دینے کے لئے محرک ثابت ہوا۔یہیں کہیں اپنی ارض جنتی وادی گلپوش میں ایک اونچے اور با اختیار اعلی مسلمان حاکم کو اپنے حقیقی اقارب کو ہمراہ لئے ایک قبر کی گردش کرتے اور ضیافتیں تقسیم کرتے دیکھا۔میرے اس شبہے کو اور تقویت مل گئی کہ زمانہ ترقی کر کے آگے بڑھا لیکن امت مسلمہ کا ایمان ترقی کے لئے پیچھے کی طرف بڑھنے کا محتاج ہے۔اس ملت کے اسقدر سرکردہ افراد اگر اب بھی استخوان بوسیدہ سے معجزات اور کرامات کی توقع رکھیں تو پھر خلیفتہ الارض کے مقام پے پہنچنا ایک خواب ہے ایک خیال ہے اور وبال بھی تو زوال بھی ہے۔جس بات کی دلیل نہ عقل سے اور نہ نقل سے ملتی ہو اس پر عمل پیرا ہونا  صریح زیادتی ہے، مگر اپنے نفس پر۔جب انسان کا اعتقاد اتنا ہی ضعیف ہو تو پھر قدم قدم پے ایک نیا خدا ہے اور پھر ہر خدا کی چوکٹ پے جبیں سائی کے لئے زندگی کے گنے چنے سارے ایام ہی کم پڑ جاتے ہیں۔ابلیس کے پھیلائے ہوئے اس دام فریب کی تاریں ہماری بے حسی کی بدولت مضبوط سے مضبوط تر ہو رہیں ہیں۔تاریخ اور سائنس دونوں اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ سارے انسانوں کے جد اعلی آدم علیہ الصلوات والسلام ہیں لیکن آدم کا نا یوم وصال اور نہ یوم پیدایش منایا جاتا ہے۔پھر آدم ثانی حضرت نوح علیہ الصلوات والسلام، مگر کوئی تقریب نہیں رقص نہیں ، خوشی نہیں تعزیت نہیں۔اور پھر پیغبروں کی ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد پھر اس پے صحابہ کی ایک لاکھ چونتالیس کی تعداد اور پھر بعد میں آنے والے ان گنت اولیاء￿óکس کو چھوڑیں اور کس کو جوڑیں۔یہاں تو ایک انسان کی پوری زندگی دس ہزار ایام کی حدکو بھی عبور نہیں کر پاتی۔بتائے لاکھوں پیغبروں ، صحابہ اور پھر اولیاء￿  کا میلاد اور وصال کیونکر منایا جا سکتا ہے۔کس کا منائیں کس کاچھڑائیں، کوئی دلیل، کوئی ثبوت، کوئی جوازیت ؟ کچھ بھی نہیں۔اسی لئے رب نے فرمایا " میں کسی جان کو بھی اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا" کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ اس موٹی سی بات کو بھی سمجھ نہ پائیں۔جی ضرور سمجھ سکتے ہیں مگر یہ کہ ہم اپنا رشتہ قرآن اور حدیث سے جوڑیں۔ہم مساجد میں ہر طبقہ فکر کے عالم سے سنتیبھی ہیں اور صحاح ستہ کی کتب میں پڑھتے بھی ہیں کہ جب ایک مسلمان مرتا ہے اور قبر میں دفن ہو جاتا ہے تو دو فرشتے منکر اور نکیر آکے سوال کرتے ہیں کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا جانتے ہیں جسکا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو جس نے زندگی میں جاننے کی کوشش کہ ہو وہ جواب دے گا کہ وہ اللہ کے بندے اور نبی ہیں اور اسکو جنت میں اپنی جگہ دکھا دی جائیگی اور جس نے زندگی میں جاننے کی کوشش نہ کی ہوگی وہ جواب دے گا مجھے معلوم نہیں محمد کون ہیں؟ لوگ جو کہتے تھے میں بھی وہی کہتا تھا۔فرشتے اس کو بتائنگے" لا تلیت ولا دریت" یعنی نہ خود جاننے کی کوشش کی اور نہ جاننے والوں سے پوچھا اور لوہے کے ہتھوڑے سے اسکے سر کو پیٹینگے اور جہنم کا ٹھکانا دکھا دینگے۔اللہ ہم سب کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے۔آمین کیا کسی کو شک ہے کہ نبی کے کسی بھی امتی، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لے کر قیامت کی صبح تک ہر امتی سیقبر میں اسکے علاوہ دوسرا کوئی سوال ہوگا؟ بلکل نہیں یہی سوال ہر کسی سے ہوگا اور نبی کی اتباع میں ہی مقام شرف اور نجات ابدی مضمر ہیاور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے بھی مسلمان آئے اور آئنگے وہ سبھی نبی کے امتی ہیں اور حدیث کا مفہوم ہے ہر انسان اپنے اعمال میں گروی ہے۔ اب جب ہم اپنے گرد نواح میں نظر دوڑاتے ہیں تو دور دور تک ہمارا معاشرہ خرافات اور بدعات کی بھٹی میں جھلس رہا ہے۔کوئی کہیں شعر وشاعری کی مجلسوں کو سجانے کی فکر میں دن رات کروٹیں بدلتا ہے۔لوگوں کی واہ واہ نے اسکی سخنوری کو اسکا خدا بنا دیاہے۔کوئی موسیقی اور ناچ نغموں کو شادی بیاہ کے لوازمات میں شامل کر رہا ہے۔
آج تجھکو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سںنان اول طاوس و رباب آخر
(اقبال رح)
ہمارے آقا کا فرمان ہے گانا زنا کا دروازہ کھولتا ہے اور اب اس دور میں اس خباثت کے بڑے دروازے کھل چکے ہیں۔تہذیب کا غازہ صنف نازک کے رخسار کی زینت بن چکا ہے۔مہین لباس نے عورت کی انگ شماری کو آسان اور انسانی بہیمیت کو جوان بنا دیا ہے۔زلف اور رخسار کے جادو نے عفت و عصمت کو سر عام نیلام کرنا شروع کردیا ہے۔عطر گلاب جواں سال دوشیزاوں کی زلفوں میں گھس کر گلیوں میں ہوس کے اڑ دھوں کو بے چین کر رہی ہے۔حدیث کا مفہوم بتا رہا ہے کہ جو خاتون عطر لگا کر بیرون خانہ قدم رکھتی ہے جب تک واپس نہں آتی تب تک فرشتے اسکا شمار زانیہ خواتین میں لکھتے ہیں۔کوئی فرق نہںیں نماز پڑھکے ہی کیوں نہ نکلی ہو۔ادھر باپ کی غیرت اتنی مر چکی ہے کہ بیٹی کی عصمت کی فکر کریکہ کہیں یہی اسباب اسکے دامن عفت کو تار تار ہونے کے ذمہ دار نا بنیں۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو لگی ہے آگ گھر کے چراغ سے
ادھر ان غفلتوں کی بدولت سماج میں ہیجان کی کیفیت سے معمر بھی اور نوجوان بھی ،مختلف نشہ آور  اشیاے کی بدولت حق و باطل کی تمیز کرنے سے عاری، نفس امارہ کی تسکین کے لئے ماہی گیروں کی طرح ،کسی کی جان اور کسی کی آبرو اور کہیں کسی کا مال لوٹنے کے لئے نتائج سے بے پروا، سر راہ سینے تانے نہ جانے کس کس گھر کو مصیبت کا پیغام دے رہے ہیں۔ان سنگن حالات نے امت مسلمہ کو چہار دانگ عالم میں قعر ذلت کی طرف دھکیلنا شروع کردیا ہے اور مسلمان اتنا ذلیل ہو چکا ہے اسکی عقل پے اسقدر تالے پڑے ہیں اور دل پے زنگ لگ چکا ہے کہ تیرہ سو سال پہلے وفات پائے شخص کے ساتھ موبائل نمبر پے رابطہ جوڑنے کا دعوی کر رہا ہے۔میدان حرب و ضرب میں تیر و تفنگ نہیں گلے میں تعویزلٹکا کے جا رہا ہے۔بھول گیا پیارے نبی کے شمشیر و سناں کو، بھول گیا سفینہ نوح کو، بھول گیا طارق بن ولید کے گھوڑوں کو اور بھول گیا خالد بن ولید کے خطاب، سیف من سیوف اللہ کو اور لگ گیا چالیس کے عد دکے پیچھے اور الجھ رہا ہے قبروں میں استراحت فرما صاحب قبور کے پیچھے۔فراموش کر دیا سورت الحدید کو جہاں اعلان ہوتا ہے لوہے کے استعمالات سیکھو اس میں کثیر فوائد ہیں۔اور پھر ہم یہ بھی بھول گئے کہ رب قرآن میں فرماتا ہے" جسکو حکمت عطا ہوئی اسے خیر کثیر عطا ہوا" ارے جنہوں نے حکمت سیکھی ، جنہوں نے لوہے کے استعمالات سیکھے وہ چاند پر بس رہے ہیں ، وہ مریخ کو اپنی آما جگاہ بنا رہے ہیں۔میرے بھائیو اس توہم پرستی سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔دنیا توہمات میں گھری تھی، مشکلات کے سیلاب میں بہہ رہی تھی، لڑکیاں زندہ در گور ہو رہیں تھی، عورت کے وجود کو منہو س سمجھا جا رہا تھا۔معمولی عداوتیں طول پکڑتیں تھیں تو سات نسلوں تک جنگ جاری رہتی تھی۔اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اعلان ہوا" اور البتہ میں نے مومنین پے احسان کیا اور انہی میں سے ایک نبی مبعوث کیا۔۔۔۔۔ الخ"آفتاب رسالت نمودار ہوا۔دنیا پے چھائی ظلمت کی چادر کا دامن چاک ہونے لگا۔عورت کو عزت کا مقام ملنے لگا۔امن و امان اور زندگی کا مقصد اور اللہ کی پہچان آئی۔دنیا کی حقیر ترین قوم معزز ترین قوم بن گئی۔اللہ کی امانت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے، من و عن آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ہم نے اسے ترک کیا- مسلمانی در کتاب اور مسلمانان در گور کا گہن لگ چکا ہے۔شریعت خرافات میں بدلی ہے۔ہم خود کو امن نہیں دے پا رہے ہیں اورں کو کیا امن دینگے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے پیغام کو سمجھا جائے اور اسلام کے پیغام کو اورں تک پہنچایا جائے۔ہماری وجہ سے پوری انسانیت کو تکلیف نہ پہنچے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی اصلیت سے باخبر ہوں اور ہم باخبر ہو سکتے ہیں جب ہم خرافات اور توہمات کی دنیا سے نکل کر اس آفاقی پیغام کے ساتھ رشتہ جوڑے جسکو اللہ نے معیار عزت قرار دیا۔فرمایا" ساری کی ساری عزت میرے لئے اور میرے نبی کے لئے ہے اور ان لوگوں کے لئے جو متقی ہیں۔
 
زمانے کی گردش ہے جاودانہ
حقیقت ایک تو، باقی فسانہ
کسی نے دوش دیکھا نہ فردا 
فقط امروز ہے تیرا زمانہ !
(اقبال)
طارق ابراہیم سوہل
  نیل چدوس تحصیل،بانہال
فون نمبر 84 93 990216
 

گول گلابگڑھ کو ہل ڈیویلپمنٹ کونسل کا درجہ دیا جائے

 موجودہ ڈیجیٹل دور میں سرکار دور دراز اور پسماندہ علاقہ جات کی ترقی کا دعویٰ کرتی ہے۔لیکن گول گلابگڑھ یعنی سب ڈویژن گول، مہور، گلابگڑھ،ٹھاکراکوٹ،درماڑی وغیرہ تمام علاقہ جات کو دیگر ان حکومتی داعووں کی پول کھلتی ہے۔کیونکہ یہ علاقہ جات اس ترقی پزیر دور میں بھی تعلیمی،سماجی،اقتصادی اور معاشی لحاظ سے ریاست کے دوسرے حِصوں کی نِسبت اَز حَد بچھڑے اور پسماندگی کے شکار ہیں۔اور حکومت کی خصوصی توجہ کے حقدار ہیں۔مگر تا حال محرومی ہی ہاتھ لگی ہے۔یہ ایک مصْدقہ حقیقت ہے۔کہ یہاں کی عوام غْربت اَفلاس اور مَصائب و آلام کی زندگی گزاری ہے۔یہاں کہ بچے ابھی بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔یہاں بہتر طبی سہولیات کا فقدان ہے۔یہاں کی تعمیر و ترقی کیلئے جو خصوصی رقومات میسر ہونے چاہئے تھے وہ نہیں ہیں۔گویا کہ یہاں کی عوام ہر شعبہ میں خصوصی مْراعات کی حقدار ہے۔اگرچہ اس علاقے کی افرادی آمدن یعنی فی کَس آمدن لداخ کی فی کَس آمدن سے کم ہے۔مگر ان حقائق کو حکومت نظرانداز کرتی نظر آرہی ہے ۔ آزادی کے بعد صرف ایک بار پلانگ کمیشن نے اس علاقہ کو کھولی آنکھ سے دیکھا تھا۔اور ایسے (بیک وورڈ ایریا) قرار دیا تھا مگر یہاں کی حالتِ زَار کو دیکھتے ہوے۔اتنا ہی کافی نہیں تھا۔چونکہ یہ علاقہ ریاست کا سب سے زیادہ بچھڑاہوا علاقہ ہے۔یہاں کی عوام انتہائی غربت اور افلاس کی جھیلنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی،سماجی اقتصادی ،اور معاشی طور کافی پسماندہ ہے۔ایسے ہیل ڈیویلپمنٹ کونسل کا درجہ دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔تاکہ غربت کی مار جھیل رہی ہیں کی عوام ریاست کے دوسرے حصوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھ سکے۔اس ترقی پزیر دور میں  اْمید کی جا سکتی ہے کہ حکومت اس علاقہ یعنی سب ڈویڑن گول، مہور، گلابگڑھ، ٹھاکراکوٹ، اور درماڑی وغیرہ کو فوری طور پر ڈویلپمنٹ کونسل کا درجہ دے کر یہاں کی ہیمہ گیر ترقی کو یقینی بنائے۔جو کہ اس علاقے کی ترقی کیلئے وقت کی اہم ضروت ہے۔تاکہ یہاں کی عوام کو ریاست کے دوسرے حصوں کے ساتھ ساتھ متوازن تعمیروترقی اور زندگی کی بہتر سہولیات نصیب ہوں۔
 
 
گلزار احمد شان
ریٹائرڈ زونل ایجوکیشن آفیسر
گول ضلع رام بن
موبائل نمبر 9419837983