مزید خبریں

بیرون وادی کشمیریوں پر تشدد تشویشناک: تاریگامی

سرینگر//سی پی آئی( ایم )کے سینئر لیڈر و سابق ممبراسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے جموں میں مخصوص طبقہ کی گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے بعد بیرون ریاست کشمیری طلاب اور تاجروں کی مار پیٹ اور انہیں حراساں کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے ۔سی پی آئی( ایم )کے سینئر لیڈر و سابق ممبراسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہاکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ دیرا دون میں طلباء کی پٹائی کی گئی اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی طلباء اور تاجروں کو حراساں کیاگیا اور انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں میں صورتحال خراب ہے اور کرفیو کے باوجود کشمیرسے تعلق رکھنے والے افرا د کو نشانہ بنایاگیا۔انہوں نے کہاکہ پلوامہ میں چالیس سے زائد سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت پر غم وغصہ کا اظہار فطرتی عمل ہے لیکن اس موقعہ کو بغیر کسی جوازیت کے بے گناہ کشمیریوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیاجانا معنی خیز ہے ۔انہوں نے مانگ کی کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں تمام تراقدامات کرکے کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ان کے خلاف تشدد اور نفرت کی مہم کو بند کیاجائے ۔
 
 
 

کشمیریوں پر حملے ناقابل قبول:میر

سرینگر//جموں کشمیر پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے وادی سے تعلق رکھنے والے طلبا اور کار باری افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے مرکزی سرکار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ریاست کشمیریوں کی حفاظت کے حوالے سے کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہے۔انہوںنے بتایا کہ چند مٹھی بھر شر پسند عناصر نے ملک کے مختلف حصوں میںخوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے کشمیریوں کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والی آبادی کے قلب و ذہن میں ملکی عوام کے تئیں ایک غلط تصویر سامنے آئی ہے۔انہوں نے بتایا بھائی چار گی کے ماحول اور امن کی فضا کو بگاڑ نے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میر نے بتایا یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ چند تقسیمی عناصر حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیریوں پر تشدد کا راستہ ہموار کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پورے ملک کا امن داو پر لگ چکا ہے ۔ انہوں نے بیرون ریاست کشمیری طلبا ء کو تعلیمی اداروں اور عارضی رہائش گاہوں سے بے دخل کرنے کی کارروائیوں پر سخت تشویش ظاہر کی۔
 
 
 

جموں کے حالات پر جمعیت ہمدانیہ اور محاذ آزادی کو تشویش 

سرینگر//جموں وکشمیر ہمدانیہ کے سربراہ میر واعظ کشمیر مولانا مولوی ریاض احمد ہمدانی نے جموں میں تباہ کن تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے فرقہ پرست عناصر ریاست کے عوام کو پریشان کرنے کے ہمیشہ درپے رہے ہیں اور ریاست کے لوگوں میں مذہبی منافرت کے ساتھ ساتھ تعصب سے کام لے کر مذہبی جنون میں آکر اپنے اقلیتی بھائیوں کو ستانا پریشان کرنا ان کا معمول بن گیا ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ۔ مسلمانان ریاست نے ہمیشہ اپنے اقلیتی بھائیوں کی مال وجان کا تحفظ بنانا زندگی کا شعار بنا رکھا ہے اور اسلام نے ہمیشہ انسانیت اور انسانی قدروں کی عزت واحترا م کرنے کا درس دیا ہے اور ساتھ ساتھ ظلم وستم سختی اور طاقت کا بے تحاشا استعمال کی مخالفت کی ہے ۔ مظلوم اور محکوم سمجھ کر لوگوں کو پریشان کرنا کسی مذہب میں اندراج نہیںاور اجازت نہیں۔ مولانا ہمدانی آج جمعیت ہمدانیہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان باتوں کا اظہار کیا۔ انہوںنے کہا کہ ریاست میں امن لوٹ آنے کی اور حالات پٹری پرلانے کی واحد صورت مسئلہ کشمیر کو جلد از جلد حل کیا جائیں او ر ہندوستان اورپاکستان کو مل کر اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنا ہی ہے کیونکہ اسی کے حل میں ہندوستان اور پاکستان کی آزادی اور سالمیت بر قرار اور کشمیری عوام کی خوشحالی کا راز مضمر ہے ۔ادھر محاذآزادی کے صدر محمد اقبال میر نے جموں میں شرپسند بلوائیوں کی جانب سے کشمیری اور مقامی مسلمانوں کے خلاف پر تشدد حملوں اور گاڑیوں کو جلانے، مکانوں اور املاک کو شدید نقصان پہنچانے اور ہندوستان کے کچھ ریاستوں میں کشمیریوں کو ڈرانے اور دھمکانے اور ذدوکوب کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ کچھ آر ایس ایس ذہنیت کے مالک شر پسند جموں میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت  1947جیسے فرقہ وارانہ حالات برپا کرنا چاہتے ہیںتاکہ جموں کو پھر ایک بار مسلمانوں سے خالی کرا یا جائے ۔انہوں نے کہا یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ جموں میں امن وامان قائم کرنے والا فورس جس میں جموں کا پولیس بھی شامل ہے دور بیٹھ کر بلوائوں کی ہلڑبازی سے لطف اٹھارہے تھے اور انکو جلائو گھیراو کے لئے کھلی چھوٹ دی گئی۔جموں میں ملازمت اور کسی وجہ سے وہاں رہ رہے کشمیری مسلمانوں کا تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہے ۔ اور لگتا ہے کہ جموں کی ایڈمنسٹریشن میں بیٹھے کچھ لوگ بھی ان بلوائوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔جموں کشمیر محاذآزادی مطالبہ کرتی ہے کہ ان شرپسندوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اورجموں اور دیگر ریاستوں میںرہ رہے کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔
 
 
 

میاں الطاف کی کاوشوں کی بدولت کئی درماندہ شہری واپس گھر پہنچے

گاندربل//سابق رکن اسمبلی کنگن اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما میاں الطاف احمد کی ذاتی مداخلت اور کاوشوں کی بدولت سینکڑوں افراد جموں سے بحفاظت اپنے اپنے گھروں کو واپس پہنچ پائے۔جموں میں جاری کشیدگی اور کرفیو کے باعث ہزاروں کی تعداد میں کشمیری درماندہ ہوکر رہ گئے ہیں جن کو واپس اپنے گھروں تک بحفاظت پہنچانے کے لئے میاں الطاف احمد نے ذاتی مداخلت کی ۔جس میں انہوں نے گورنر انتظامیہ،ڈویڑنل کمشنر جموں،اور پولیس کے اعلی حکام سے گفت شنید کرکے جموں کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں افرادکو نکال کر کشمیر اپنے اپنے گھروں تک بحفاظت پہچانا یقینی بنایا۔ادھر نیشنل کانفرنس کے یوتھ لیڈر فردوس احمد ڈار نے میاں الطاف احمد کی اس کے لئے سرہنا کی ۔