مزید خبریں

منڈی تحصیل میں کھیل کا میدان تعمیر نہیں | کھلاڑی نا ہمور جگہوں و کھیتو ںمیں کھیلنے پر مجبور 

عشرت حسین بٹ
منڈی//ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں نوجوانوں کو کھیل کودکیلئے کوئی بھی میدان میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ کھیل کود کا میدان نہ ہونے کی وجہ سے انہیں عوامی کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے لیکن نہ ہی سرکار اور نہ ہی محکمہ کھیل کود کی طرف سے اس معاملے میں سنجیدہ اقدام اٹھائے جا رہے ہیں۔منڈی کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان کو مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کیلئے نہ تو بنیادی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی ا ن کیلئے کوئی بڑا کھیل کا میدان تعمیر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔نوجوانوں نے بتایا کہ وہ مختلف کھیلوں کی جانب راغب ہیں لیکن جہاں دیگر بنیادی سہولیات نہیں ہیں وہائیں کھیل کا کوئی میدان ہی تعمیر نہیں ہے ۔منڈی کے ایک کرکٹر میثم میر نے بتایا کہ اسے بچپن سے ہی کرکٹ کھلنے کا شوق ہے اور وہ عالمی شہرت یافتہ کرکٹ کھیلنے والے لوگوں سے کافی متاثر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کرکٹ بھی کھیلتے ہیں مگر منڈی تحصیل میں کھیل کا میدان نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہفتہ میں چار دن پونچھ قصبہ جانا پڑتا ہے اور وہ وہاں کے گرونڈ میں کرکٹ کھیلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈی تحصیل میں اگر چہ کھیل کے میدان کیلئے جگہیں بھی ہیں مگر انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا گیا ۔نوجوان کھلاڑیوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اور جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرسے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ کھلاڑیوں کی سہولیت کیلئے منڈی میں ایک کھیل کا میدان تعمیر کروایا جائے ۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

ضلع پونچھ عوام بنیادی سہولیات سے محروم | قصبہ میں تعمیر قدیم قلعہ کی مرمت کا مطالبہ 

حسین محتشم
پونچھ//جموں وکشمیر پیپلز فورم نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سرحدی ضلع پونچھ لگ بھگ سبھی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ۔پارٹی کے ضلع صدر ایڈووکیٹ سجے رینہ نے کہا کہ پونچھ کی شان کہلائی جانے والی عمارت پونچھ قلعہ خستہ حال ہے۔ آثار قدیمہ کے اس شاہکار کو اپنے آنے والی نسلوں تک منتقل کئے جانے کیلئے پونچھ کی عوام اکثر اس قلعہ کی مرمتی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ موصوف نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں اقدامات اٹھا کر اس تاریخ ساز عمارت کی مرمتی کروائیں۔انہوں نے پونچھ کی عوامی کو درپیش دیگر مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل پر تیزی سے کام کریں ۔سنجے رینہ نے کہا ضلع انتظامیہ کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بیتاڑ نالہ پر بنائے گئے مادر مہربام پل اور درنگلی نالہ پل کی بھی فوری مرمتی کا مطالبہ کیا۔ صدر پیپلز فورم نے یہ بھی کہا کہ پونچھ قصبہ اور شیر کشمیر پل کو ملانے والی سڑک پر بھی مقامی انتظامیہ کی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ تالاب کے گردونواح کی ترقی اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت کیلئے دونوں طرف سڑک کی صفائی کی جائے۔ پیپلز فورم نے سڑک کے دونوں طرف کھڑی گاڑیوں کو ہٹا کر پولیس لائن سے ایئر فیلڈ تک سڑک کو خوبصورت بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ آٹو بس اسٹینڈ کو شہر سے بیرونی مقامات پر منتقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا پولیس کو کھڑی گاڑیوں کو اٹھانے کیلئے کرین فراہم کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس این ایل پونچھ کو درست کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ مرکزی حکومت کی غیر فعال اکائی بن چکی ہے۔ اس کے ملازمین حکومت پر بوجھ ہیں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جن اوشدی کیندر کیلئے مرکز کھولا جائے جو پونچھ کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ ہے، اس کے علاوہ ضلع اسپتال پونچھ میں ڈاکٹروں کی کمی بدستور برقرار ہے، آج تک کوئی ماہر امراض چشم، کوئی ریڈیولوجسٹ، کوئی ENT ماہر تعینات نہیں ہے۔ انہوں نے مذکورہ بالا تمام مسائل پر ضلع انتظامیہ اور ایل جی انتظامیہ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس دور افتادہ ضلع کے لوگوں کو راحت فراہم کی جا سکے۔
 
 
 

پونچھ میں جانوروں کا غیر قانونی شکار  | ایک گرفتار، تین مفرور، اسلحہ اور دیگر سامان برآمد

 
 
سمت بھارگو
راجوری//پونچھ ضلع کے سرنکوٹ سب ڈویژن کے کچھ بالائی علاقوں میں جاری جنگلی جانوروں کے غیر قانونی شکار کا پتہ چلنے کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے ایک شخص کو گرفتار کر کے ایک گاڑی، ہتھیار اور گاڑی سے کچھ گوشت قبضے میں لے لیا جبکہ دیگر تین افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے ۔محکمہ نے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جس کوپولیس لاک اپ میں رکھا گیا ہے اور مقامی عدالت نے عدالتی تحویل میں بھیجا ہے۔محکمہ وائلڈ لائف حکام نے بتایا کہ وائلڈ لائف کنٹرول روم سرنکوٹ کی ایک ٹیم نے 17 فروری کو مغل روڈ پر پنار پل پر ایک کار کو روکاکر تلاشی لی ۔انہوں نے بتایا کہ کار میں سفر کرنے والے تین افراد موقع سے فرار ہو گئے جبکہ ڈرائیور کو روک کر قابو کر لیا گیا جو سرنکوٹ کے سانگلہ گاؤں کا رہائشی ہے ۔حکام نے بتایا کہ تلاشی کے دوران گاڑی سے 2.5 کلوگرام جنگلی جانور کا گوشت، مردہ حالت میں ہمالیائی مونال ،12 بور رائفل، تین رائفل کارتوس ضبط کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملزم کو سرنکوٹ پولیس سٹیشن میں زیر حراست رکھاگیا ہے تاہم اس کو سب جج کے سامنے پیش کیا گی اتھا جہاں سے اسے 24 فروری تک ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔وائلڈ لائف وارڈن راجوری پونچھ، مشتاق چوہدری نے کہا کہ اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات بھی جاری ہیں۔
 
 
 

بجلی کی زد میں آکرعارضی ملازم کے زخمی ہو نے کا معاملہ 

موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلاملازم کے رشتہ داروں کا احتجاج ،انصاف کی مانگ

 
سمت بھارگو
راجوری//راجوری قصبہ کے علاقہ میں مقامی لوگوں و نوجوانوں نے محکمہ بجلی میں عارضی بنیادوں پر خدمات انجام دینے کے دوران زخمی ہوئے ملازم کے حق میں احتجاج کر کے اس کو انصاف فراہم کر نے کا مطالبہ کیا گیا ۔محکمہ کا عارضی ملازم کچھ دنوں قبل بجلی کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد وہ موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہو گیا ہے ۔اہل خانہ و دیگر رشتہ داروں او ر مظاہرین نے راجوری قصبہ کے جواہر نگر سے کھانڈلی پل کو جوڑنے والی سڑک پر دھر نا دے کر محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ٹریفک کو بلاک کردیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ 24 جنوری کو پی ڈی ڈی ڈیلی ویجر محمد سلیم بجلی کی بحالی کیلئے کام کر رہا تھا اور ہائی ٹینشن پاور تار کی مرمت کر رہا تھا جب اسے بجلی کا جھٹکا لگا اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔زخمی کا ابتدائی طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں علاج کیا گیا جس کے بعد اسے خصوصی نگہداشت کیلئے ریفر کیا گیا اور وہ اس وقت جموں و کشمیر سے باہر کے ہسپتال میں زیر علاج ہے اور زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ یومیہ مزدوری کرنے والے متاثر شخص کے متاثر ہونے والے اعضا کاٹ دئیے گئے ہیں جبکہ کئی دیگر اعضا ء بیہوش بھی ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ عارضی ملازم ایک غریب کنبہ سے ہے جبکہ اہل خانہ اب اس کے مزید علاج معالجے کا خرچہ برداشت نہیں کرپارہا ہے ۔احتجاج کی وجہ سے لگ بھگ دو گھنٹوں تک گاڑیوں کی آمد ورفت بند رہی ۔اس احتجاج میں ضلع ترقیاتی کونسل کے چیئرمین نسیم لیاقت، پی ڈی پی کے ضلع صدر تعظیم ڈار، سماجی کارکن شیراز ملک اور کئی دیگر سیاسی رہنما بھی شامل ہوئے اور متاثرہ شخص کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا تاہم اس کے بعد ایس ایچ او راجوری موقعہ پر پہنچے اور انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا جس کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا ۔
 

محکمہ تعمیرات عامہ کیخلاف

 نوشہرہ میں احتجاج 

رمیش کیسر 
نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژن کے جابہ علاقہ میں مقامی لوگوں نے محکمہ تعمیرات عامہ کیخلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ محکمہ کی جانب سے سڑک پر انتہائی غیر معیاری تار کول بچھائی گئی تھی جو کہ کچھ ہی عرصہ میں اکھڑ کر خراب ہو گئی ۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے انتہائی غیر معیاری کام کیا گیا لیکن متعلقہ محکمہ کے ملازمین کی جانب سے اس غیر معیاری کام کی جانچ ہی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے سڑک کچھ ہی ماہ کے اندر کھڈوں میں تبدیل ہو گئی ۔انہوں نے کہاکہ سڑک کو دوبارہ سے معیاری بنانے کیلئے متعلقہ حکام سے کئی مرتبہ رجوع کیا گیا لیکن ابھی تک اس جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ غیر معیاری کام کے سلسلہ میں کاروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ٹھیکیدار کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ سڑک پر دوبارہ سے تار کول بچھائی جاسکے ۔متعلقہ محکمہ نے بتایا کہ ٹھیکیدار کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ دوبارہ سے تار کول بچھائی جائے تاہم ٹھیکیدار کی ادائیگی بھی روک دی گئی ہے ۔