مزید خبریں

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو  کپوارہ کی استانی نے اپنی تنخواہ غریب بچو ں پر صرف کی

۔65طلبہ میں وردی ،کتابیں ،قلم ،بستہ اور دیگر ضروریات تقسیم 

اشرف چراغ 

کپوارہ//کپوارہ کی ایک استانی نے اپنے اسکول کے65 مفلوک الحال طلبہ کے تعلیمی اخراجات اپنی تنخواہ سے پور اکرکے اُن میں وردی ،کتابیں، بستے اور دیگر اسٹیشنری سامان تقسیم کیا۔سرحدی ضلع کپوارہ کے پنجواہ رامحال ویلگام میں سرکاری مڈل سکول میں تعینات ایک استانی فردوسہ ربانی نے جب سکول جوائن کیا تو انہو ں نے محسوس کیا کہ سکول میں بچے تعلیم کی طرف کم توجہ دے رہے ہیں اور اس استانی نے بچوں کی نفسیات کو پڑھ کر یہ محسوس کیا کہ یہ بچے غریبی کی وجہ سے سخت پریشان رہتے ہیں ۔فردوسہ ربانی نے اپنے والدین سے بات کر کے اپنی ماہانہ تنخواہ سکول میں زیر تعلیم 65غریب بچوں پر صرف کی اور بچو ں کے لئے اپنی تنخواہ سے اعلیٰ کپڑے کی وردی ،کتابو ں کے بستے ،کتابیں ،جوتے اور دیگر تعلیمی ضروریات کا بندوبست کیا ۔فردوسہ ربانی کا تعلق بھی پنجواہ سے ہی ہے اور اس کے والد سید غلام ربانی نے’ کشمیر عظمیٰ‘ کو بتا یا کہ انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے کہ انہو ں نے اپنی عہد جوانی میں غریب بچو ں کا خیال رکھا ۔سید فردوسہ ربانی نے’ کشمیر عظمیٰ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خدا وند کریم نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی تاکہ وہ بہتر سے بہتر فیصلہ کرسکے لیکن اس سارے عمل کے لئے اس کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے ۔فردوسہ ربانی نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے ۔پیسے کی طلب نے تدریسی عمل کو آلودہ کر دیا ہے لیکن اس سے امیر طبقے پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا ہے لیکن غریب کی پہنچ سے تعلیم دور ہوتی جارہی ہے اور غریب اب تعلیم کے خواب ہی دیکھ سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے سکول میں زیر تعلیم غریب بچو ں میں یہی محسوس بھی کیا اور مجھ سے رہا نہیں گیا، جس کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اپنی تنخواہ سے غریب بچو ں کے تعلیمی اخرجات برداشت کرو ں گی ۔منگل کو گورنمنٹ مڈل سکول پنجواہ میں ایک تقریب کے دوران 65بچو ں میں تعلیمی سامان تقسیم کیا گیا جسمیں تعلیمی زون ویلگام کے اعلیٰ آفیسران اور علاقہ کے ذی شعور لوگ موجود تھے ۔
 
 
 

کشمیر عظمیٰ کی خبر کا اثرؔ | منڈی ہسپتال کا صحن نو پارکنگ زون قرار

عشرت حسین بٹ
منڈی// کشمیر عظمیٰ میں خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی تحصیلدار منڈی جاوید چوہدری نے منڈی سب ضلع ہسپتال کے صحن کو نان پارکنگ زون قرار دیا ہے ۔واضح رہے کہ  30 اپریل کے روزنامہ کشمیر عظمیٰ میں ہسپتال کے صحن میں نجی گاڑیوں کے پارک ہونے پر ایک خبر شائع ہوئی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے تحصیلدار منڈی جاوید چوہدری نے بلاک میڈیکل افسر منڈی اور ایس ایچ او منڈی کو ایک آرڈر زیر نمبر TM/JD-35-38 30/4/2019کے ذریعہ ہدایات جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں متعدد شکایات اور ذرائع ابلاغ کی وساطت سے پتہ چلا ہے کہ سب ضلع ہسپتال منڈی کے باہر دوکاندار اور ڈاکٹروں کی نجی گاڑیوں کو پارک کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں آنے جانے والے مریضوں کو کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ہر دو افسران کو بذریعہ آرڈر کہا ہے کہ آج کے بعد ہسپتال کے صحن میں کوئی بھی نجی گاڑی نہ پارک ہونے دی جائے اور اگر ایسا ہوا تو گاڑی مالکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
 
 
 

مودی دورمیں قرض کابوجھ90لاکھ کروڑسے متجاوز:کانگریس

۔5برس میں 57فیصداضافہ، ہرشہر ی23ہزار روپے کا مقروض

نئی دہلی//کانگریس نے مودی حکومت پر ملک کو قرض میں غرق کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ پانچ برس میں اس کی اقتصادی بد نظمی کی وجہ سے شہریوں پر قرض کا بوجھ 57فیصد بڑھ کر 90لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے اور ہر شہری 23ہزار روپے سے زیادہ کا مقروض ہوگیا ہے۔کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ وزارت خزانہ کے اعدادو شمار کے مطابق مارچ2014 کے بعد 30لاکھ 28ہزار 945کروڑ روپے کا اضافی قرض لے کر ملک کے عوام کو قرض میں ڈبو دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مارچ 2014 تک ملک پر 53 لاکھ 11ہزار 81 کروڑ روپے کا قرض تھا لیکن دسمبر 2018تک یہ قرض 57فیصد بڑھ کر 83لاکھ 40ہزار 26کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ پانچ سال میں مودی حکومت نے جتنا قرض لیا ہے پہلے کسی حکومت نے اتنا قرض نہیں لیا۔ اس قرض پر سود کی بھی بڑی رقم ادا کرنی ہوگی اور اس طرح سے ملک کو کنگال بنادیا گیا ہے۔کانگریس ترجمان نے کہا کہ دسمبر 2018 سے مارچ 2019 تک کے قرض کا تفصیلی اعدادو شمار نہیں دیا گیا ہے لیکن ان کی ریسرچ ٹیم نے وزارت خزانہ کے ذریعہ چھپائے گئے اعدادو شمار کا پتہ لگالیا ہے اور تین ماہ کی مدت میں سات لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس طرح مودی حکومت نے پانچ سال کے دوران ملک کو 90لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ قرض دار بنادیا ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سرکاری محکموں میں اس مدت میں زیادہ سے زیادہ قرض لینے کی دوڑ شروع ہوگئی تھی۔ صرف نیشل ہائی وے اتھارٹی نے اس دوران ایک لاکھ 67ہزار399کروڑ روپے کا قرض لیا ہے۔ پہلے اس ادارہ نے کبھی اتنا قرض نہیں لیا تھا۔ اسی طرح سے اس حکومت نے پبلک سیکٹر کی کمپنی سیل‘ گیل‘ ایچ اے ایل وغیرہ کو بھی قرض میں ڈبو دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے گذشتہ پانچ برس کے دوران جتنا اضافی قرض لیا ہے اس کی وجہ سے ملک کے 130کروڑ شہری بھی قرض کے زبردست بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ اب ملک کا ہر شہری اوسطاَ 23ہزار 300روپے سے زیادہ کا مقروض ہوگیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس حکومت نے ایک طرح سے ملک کے ہر شہری کو قرض میں ڈبو دیا ہے اور دوسری طرف اپنے چنندہ صنعت کار دوستوں کے پانچ لاکھ 50ہزار کروڑ روپے معاف کردئے ہیں۔اس مدت میں بینکوں میں این پی اے بڑھ کر بارہ لاکھ کروڑ روپے پہنچ گیا ہے۔ سرکاری کمپنیوں کو قرض کے منہ میں دھکیل کر ایک سازش کے تحت ڈبویا یا بند کیا جارہا ہے۔
 
 
 
 

سوپور میں ترقیاتی کمشنر بارہمولہ کا عوامی دربار 

متعدد وفوداورشہریوں نے اپنے مسائل اُبھارے

غلام محمد

بارہمولہ//عوامی شکایات کاجائزہ لینے اور اُن کے ازالہ کے لئے ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ ڈاکٹر جی این ایتو نے ڈاک بنگلہ سوپور میں ایک عوامی دربار کا انعقاد کیا۔عوامی دربار میں مختلف وفود اور علاقے کے نمائندوں کے علاوہ بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔سِول سوسائٹیوں کے ممبران،مختلف ایسوسی ایشنوں،بشمول ٹریڈرس فیڈریشن سوپور،کوارڈی نیشن کمیٹی سوپور،انڈسٹرئیل ایسٹیٹ،ٹریڈرس فیڈریشن سوپور اور بس اینڈ سومو اونرس یونین نے ترقیاتی کمشنر کو اپنی مشکلات اورمسائل سے آگاہ کیا۔اس کے علاوہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال سوپور میں افرادی قوت کی تعیناتی ،سڑکوں پر میکڈم بچھانے،بجلی اورپانی کی بلا خلل سپلائی کو یقینی بنانے اورماہ رمضان کے دورا ن لازمی سہولیات دستیاب رکھنے کے مطالبات بھی ڈپٹی کمشنر کی نوٹس میں لائے گئے۔ترقیاتی کمشنر نے یقین دہانی کرائی اُن کی جائز مشکلات اورمطالبات کے ازالہ کے لئے ترجیحی بنیادوںپر اقدامات کئے جائیں گے۔
 
 
 

بچوں پرجسمانی وجنسی تشدد

اننت ناگ میںضلع لیگل سروسز اتھارٹی کا جانکاری پروگرام 

اننت ناگ//ضلع لیگل سروسز اتھارتی اننت ناگ کی طرف سے بچوں کے خلاف جسمانی اور جنسی تشدد موضوع پر گرلز ہائر سیکنڈری سکول اننت ناگ میں ایک جانکاری پروگرام کا اہتمام کیا جس میں ادارے کی طالبات اورعملے نے شرکت کی۔اس موقعے پر اتھارٹی کی سیکریٹری رافعہ حسن خاکی نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ بدعت بڑھتی جارہی ہے ۔انہوںنے بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے اس حوالے سے بیداری پیدا کرنے پر زوردیا۔انہوںنے کہا کہ جنسی تشدد کا شکار بچوں کو مفت قانونی مدد فراہم کیاجائے گا۔اس موقعے پر ادارے کے پرنسپل اوردیگر وکلأ اورمقررین نے بھی تقاریر کیں۔
 

سائبرجرائم ڈگری کالج پانپور میں

بیداری کیمپ کا اہتمام 

پلوامہ//تحصیل لیگل سروسز اتھارٹی پانپور کی طرف سے ڈگری کالج پانپور میں سائبر کرائم اور جنسی تشدد پر ایک بیداری پروگرام کا اہتمام ہوا جس کی صدارت چیئرمین ڈسٹرکٹ سروسز اتھارٹی پلوامہ محمد ابراہیم وانی نے کی جبکہ اتھارٹی کے سیکرٹری خورشید الاسلام مہمان ذی وقار کے طور پر موجود تھے۔چیئرمین موصوف نے سائبر جرائم اور جنسی تشدد کو روکنے کے لئے بیداری مہمات چلانے پر زور دیا۔اس موقعہ پر طلباء نے ایک سکٹ بھی پیش کیا۔کمیٹی کی چیئرپرسن فوزیہ پال نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔بعد میں کالج کے طلباء نے ایک ریلی میں بھی حصہ لیا جو قصبے کے مختلف مقامات سے گزری ۔ 
 
 
 
 
 

متعدد افراد کو احتیاطی حراست میں لیاگیا 

راجوری //راجوری میں پولیس نے متعدد افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں احتیاطی طور پر حراست میں لے لیاہے ۔پولیس بیان کے مطابق محمد جاوید ولد محمد مقبول ساکن وارڈ نمبر نو راجوری اور محمد فیضان ولد محمد پرویز ساکن پنجہ چوک راجوری کو ایگزیکٹو مجسٹریٹ راجوری کے پاس پیش کرنے کے بعد ضلع جیل ڈھانگری منتقل کیاگیاہے ۔اسی طرح سے محمد رفیق ولد الف دین ساکن لمبیڑی نوشہرہ کو بھی احتیاطی طور پر حراست میںلیاگیاہے ۔ پولیس کے مطابق محمد حنیف ولد عبدالعزیز ساکن سیڑی چوہانہ پونچھ کو مشکوک نقل وحرکت کی حالت میں حراست میں لیکر ایگزیکٹو مجسٹریٹ نوشہرہ کے سامنے پیش کیاگیا ۔
 
 
 

ماہ رمضان کی آمد بانڈی پورہ میںانتظامات کوحتمی شکل دی گئی

بانڈی پورہ//اے ڈی ڈی سی بانڈی پورہ نے افسران اوربیوپار منڈل کے نمائندوں کے ساتھ منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران آنے والے ماہ رمضان کے سلسلے میں کئے جارہے انتظامات کاجائز ہ لیا۔اے سی ڈی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر خوراک رسدات وامور صارفین ،ایگزیکٹیو انجینئر صحت عامہ ،ڈپٹی ایس پی،نوڈل آفیسرآئی ایس ایم،فوڈ سیفٹی کے آفیسران اور صدر ٹریڈرس فیڈریشن بانڈی پورہ کے علاوہ دیگر متعلقہ آفیسران نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔اس موقعہ پر اے ڈی ڈی سی نے متعلقہ آفیسران پر ماہِ رمضان کے سلسلے میں مناسب انتظامات کرنے اور لازمی اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تاکہ لوگوں کو متبرک ایام کے دوران کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس دوران اے ڈی ڈی سی نے حکام پر قریبی اورباہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے پر زوردیا۔
 
 
 

گیس خارج ہونے سے لڑکی جھلسی

رامپورہ سوپور میں حادثہ

غلام محمد

سوپور//شمیر کے سوپور علاقے میں پیش آئے ایک حادثے میں ایک لڑکی جھلس گئی جسے فوری طور اسپتال پہنچایا گیا ہے۔رامپورہ سوپور میں ایک 17سالہ لڑکی سیرت سلطان دختر محمد سلطان کچن میں گیس خارج ہونے سے جھلس گئی ۔مذکورہ لڑکی کو فوری طور سوپور اسپتال پہنچایا گیا جہاں اسکی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
 
 
 

راجوری میں آنگن واڑی مراکز کا اچانک معائنہ 

۔40سنٹر مقفل پائے گئے ، 55ورکرڈیوٹی سے غیر حاضر 

سمت بھارگو

راجوری //آئی سی ڈی ایس سکیم ضلع راجوری میں کاغذوں تک محدود ہوتی دکھ رہی ہے ۔ضلع انتظامیہ کی طرف سے ضلع میں آنگن واڑی مراکز کا اچانک معائنہ کیاگیا جس دوران 40سنٹر مقفل پائے گئے ہیں جبکہ 55ورکر ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے ۔اس سے قبل 17مئی 2017کو بھی ایسا ہی معائنہ کروایاگیاتھاجس دوران 600مراکز مقفل پائے گئے اور 1400ملازمین /ورکر غیر حاضر تھے ۔ضلع انتظامیہ کے ترجمان نے بتایاکہ پیر کے روز ڈپٹی کمشنر راجوری کی ہدایت پر اچانک آنگن واڑی مراکز کا معائنہ کیاگیااور یہ معائنہ کاری صبح 10بج کر 30منٹ پر شر وع ہوئی ۔انہوں نے بتایاکہ مختلف ٹیموں کی طرف سے 508مراکز کا معائنہ کیاگیا جن میں سے 40مقفل پائے گئے جبکہ ان میں تعینات 55آنگن واڑی ورکر و ہیلپروں کو ڈیوٹی سے غیر حاضر پایاگیا ۔ اس کے علاوہ 35مراکز میں کم تعداد میں اندراج پایاگیا۔مقفل پائے گئے مراکز میں 05کوٹرنکہ تحصیل میں، 07منجاکوٹ میں،01سیوٹ میں، 04کالاکوٹ میں،02نوشہرہ میں، 09قلعہ درہال میں اور 04خواس تحصیل میں واقع ہیں ۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجازاسدنے مقفل پائے گئے مراکز اور ڈیوٹی سے غیر حاضر ورکروں /ہیلپروں کی کارروائی کیلئے فہرست طلب کرلی ہے۔
 
 
 
 
 

سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی سبکدوشیاں

اننت ناگ اور گاندربل میں پولیس اہلکاروں کے اعزازمیںالوداعیہ

سرینگر //اننت ناگ اور گاندربل اضلاع میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے والے پولیس افسران و جوانوں کے اعزاز میں الوداعی تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ پولیس لائنز گاندربل میں منعقد کی گئی ایک تقریب میں ایس ایس پی گاندربل خلیل احمد پسوال ، اے ایس پی گاندربل ، ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر ، ڈی ایس پی ڈی اے آر کے علاوہ دوسرے آفیسران بھی موجود رہے۔ ایس ایس پی گاندربل نے اس موقع پر سبکدوش ہوئے ملازمین کی اس بات پر سراہنا کی ہے کہ انہوں نے اپنے فرائض ایمانداری ، لگن اور تن دہی سے انجام دئے جو کہ ہر سطح پر قابل قدر ہے۔ادھراننت ناگ پولیس کی جانب سے ضلع پولیس لائنز میں ریٹائر ہوئے ملازمین کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا اہتمام ہوا ۔تقریب میں ایس ایس پی اننت ناگ الطاف احمد خان ، ایس پی آپریشنز اننت ناگ ، ایس پی ہیڈ کواٹر اننت ناگ ، ڈی ایس پی ڈی اے آر اننت ناگ بھی موجود رہے۔ اس موقع پر سبکدوش ہوئے ملازمین میں چیکیں اور تحائف پیش کئے گئے۔ ایس ایس پی اننت ناگ نے سبکدوش ہوئے ملازمین کے اُس رول کو سراہا جو انہوں نے اپنی ڈیوٹیوں کے دوران عوامی جذبے کو مد نظر رکھتے ہوئے نبھایا۔ انہوں نے اس الوداعی تقریب میں ریٹائرڈ ملازمین کو یقین دلایا کہ محکمہ پولیس اُن کی خوشحال زندگی کیلئے دعا گوں ہے اور اُنہیں ہر سطح پر اپنی معاونت بہم رکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرئے گا۔
 
 
 

پولیس ٹریننگ سنٹربارہمولہ میں تقریب

بارہمولہ //فیاض بخاری//پولیس ٹرینگ سنٹر شیر ی بارہمولہ میں منگل کو ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ آف پولیس فاروق احمد شاہ کے ا عزاز میں ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ فار وق احمد اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد سبکدوش ہوئے ۔اس موقع پر پرنسپل پولیس ٹرینگ اسکول شیر ی شوکت احمد ڈار نے ڈی ایس پی فاروق احمد کو مبارک پیش کرتے ہوئے اُن کی خدمات کا شکریہ ادا کیا ۔ اس دوران فاروق احمد کو سٹاف اور ٹرنیز کی تالیوں کے گونج کے ساتھ محکمہ سے  رخصت کیا گیا ۔
 
 
 

 کیئریرکونسلرس ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس

بیرو ن ریاست کشمیر یوں طلباء کی سلامتی یقینی بنانے کا عزم

 سرینگر// بیرو نی ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیر ی طلباء کی سلامتی یقینی بنانے کا عزم دہراتے ہوئے کشمیر کیر ئیر کونسلرس ایسو سی ایشن(کے سی سی اے) نے بیرون ریاست میں پڑھائی کے خواہشمند کشمیر ی طلباء کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو بیرونی ریاستوں میں داخلہ کرانے سے پہلے ہمار ے ساتھ مشاورت کریں تاکہ بیرون ریاستوں میں موجود ان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے کشمیر یوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور سلامتی کی ضما نت حاصل کی جاسکے ۔ بیرو نی ریاستوں میں زیر تعلیم طلبا ء کی سلامتی کو یقینی بنانے سے متعلق تشکیل دی گئی کشمیر کیر ئیر کونسلرس ایسو سی ایشن نے سر ینگر کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشا ف کیا کہ بیرون ریاستوں میں قائم کا لجوں اور یونیورسٹیوںسے وابستہ عہدہ دار وادی میںکچھ دیر مقیم رہنے کے بعد کشمیر ی طلباء کو اپنے اداروں میں داخلہ لینے کیلئے مجبور کرتے ہیں اور جب بھا رت یا جموں وکشمیر میں کو ئی ناساز گار واقع پیش آ تا ہے تو اس وقت وہ اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑا کر ان کی سلامتی کو خطر ے میں ڈال دیتے ہیں ،جسکی مثا ل پلوامہ حملہ کے بعد دیکھنے کو ملی  کیونکہ اس حملہ کے بعد شر پسندوں نے نہ صرف  بیرونی ریاستوں میں زیرتعلیم کشمیریوںکو شہرچھوڑ نے کی دھمکیاں دیں بلکہ ان کوہرا ساں کرنے کے علاوہ تشدد کا نشا نہ بھی بنایا۔ایسو سی ایشن کے عہدداروںنے دعویٰ کیا کہ کشمیر کیر ئیر کونسلرس ایسو سی ایشن کا قیام اسی لئے عمل میں لایا گیا تاکہ بیرون ریاستوں میں زیر تعلیم طلبا کی سلامتی کو یقینی بنا یا جاسکے۔ انہوں  نے بیرون ریاست میں داخلہ کے خواہشمند طلباء کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کا وہاں داخلہ کرانے سے قبل ہمار ے ساتھ مشاورت کریں تاکہ وہ ان ادار وں میں کشمیریوں کو دی جانے والی عام سہولیات اور سلامتی کے حوالے سے ضما نت لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ریاستوں میں موجود کالج اور یونیور سٹی کے عہدہ دار سر ینگر آ کر یہاں کے طلبا کو اپنے ان ادروں میں بہترین تعلیم فراہم کرنے کاجھا نسہ دیتے ہیں  اور یہاں کے طلباء دھو کے میں آ کر ان ادروں میں داخلہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں بعد از اں اُن کی سلامتی کی کوئی گارنٹی نظر نہیں آ تی ہے اورنا ساز گار حالات کے مو قع پر وہ عتاب کا شکار بن رہے ہیں یہاں تک کہ بعض ادارے تسلیم شدہ بھی نہیں ہوتے ۔لہذ ا وقت کی اہم ضرور ت ہے کہ بیرون ریاست کے ان کالجوں اور یونیورسٹی کئے منتظمین کو سرینگر میں عارضی دفتر کھولنے کی اجاز ت نہ دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ حملہ کے بعد کشمیر ی طلبا کو تشدد کا نشا نہ بنا یا گیا تاہم کشمیر کیر ئیر کونسلرس ایسو سی ایشن ریاستی گورنر، پنجاب پولیس ، ایس ایس پی دہردون،  خالصہ ایڈ انٹر نیشنل اور سابق آ ئی جی کشمیر بسنت رتھ کے شکر گذا ر ہیں جنہوںنے اس مصیبت کی گھڑ ی میں کشمیر ی طلبا ء کی بھر پور مدد کی اور جگہ جگہ کشمیر یوںکے قیام وطعام کیلئے مفت لنگر اور کیمپ قائم کئے۔ پر یس کانفرنس میںکشمیر کیر ئیر کونسلرس ایسو سی ایشن کے ترجمان منیب باسبط بٹ، چیر مین اشفاق زہگیر پرزیڈ نٹ ایاز علی کے علاوہ دیگرعہددار بھی موجودتھے۔(سی این ایس)
 
 
 

’سالڈ ویسٹ منیجمنٹ‘

میو نسپل کمیٹی ترال کے جانکاری کیمپ میں مکالے پیش

سید اعجا ز

ترال//میو نسپل کمیٹی ترال کی جانب سے ’سالڈ ویسٹ منیجمنٹ‘کے موضوع پر ایک روزہ جانکاری پروگرام منعقد کیا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ترال،سول سوسائٹی ،معزز شہریوں اور سکولی بچوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے مکالے پیش کئے جس دوران بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا میں انعامات تقسیم کئے گئے  ۔میونسپل کمیٹی ترال کے اہتمام سے’سالڈ ویسٹ منیجمنٹ‘ موضوع پر سوموار کو ایک روزہ جانکاری پروگرام منعقدہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ترال شبیر احمد رینہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔اس دوران موجود حاضرین کومنعقدہ تقریب کے حوالے سے مقررین نے بہتر انداز میں جانکاری فراہم کی۔ تقریب میںاور لوگوںکے علاوہ تحصیلدار ترال ،مختلف سکولی بچوں ،ایگزیکٹو آفسر میونسپل کمیٹی ترال منظور احمد بٹ کے علاوہ ضلع پلوامہ کے تمام میونسپل کمیٹیوں کے ممبران کے علاوہ سیول سوسائٹی ترال ،سٹیزنزکونسل ترال ، تاجر انجمنوں کے ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی اداروں کے بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
 
 
 

چیف میڈیکل آفیسربانڈی پورہ ڈاکٹر بلقیس رخصت

عازم جان 

بانڈی پورہ//چترنار بانڈی پورہ میں سبکدوش سی ایم او بانڈی پورہ ڈاکٹر بلقیس کے اعزاز میں شاندار الوداعی تقریب منعقد کی ۔  الوداعی تقریب کی صدارت چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر تجمل نے کی جبکہ مہمان خصوصی بی ایم او بانڈی پورہ ڈاکٹر سعیدالرحمان ، سینئر فزیشن ڈاکٹر پرویز ،ڈاکٹر مظفر ،ڈاکٹر بلقیس کے شوہر نامدار فردوس رسول ناز تھے۔ تقریب میں سی ایم او دفتر کے تمام سٹاف نے حصہ لیا ہے اور سبکدوش سی ایم او ڈاکٹر بلقیس کو تحائف پیش کئے۔
 
 
 

 پرنسپل ڈگری کالج ترال سبکدوش

سید اعجاز 

ترال// پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ترال نوکری سے سبگدوش ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں کالج میں ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں اعلیٰ تعلیم کے حکام اور جنوبی کشمیرکے مختلف ڈگری کالجوں سے تعلق رکھنے پرنسپلوں نے شرکت کی ۔پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ترال پرفیسر عبد المجید صوفی نوکری سے سبگدوش ہوئے۔ اس سلسلے میں کالج میں ایک پر وقار الوداعی تقریب منعقد ہوئی جس میں کالج کے تمام تدریسی و غیر تدرسی عملے کے علاوہ ناظم کالج کشمیر محمد یاسین شاہ،ڈین سوشل سائنز کلسٹر یونیورسٹی کشمیر  ڈاکٹر جی ایم تبت بقال،رجسٹرارشیخ عبد الحمید،سابق پرنسپل ڈاکٹر اے آر کندن گر،پروفیسرمشتاق علی میر،پرنسپل ڈگری کالج ڈی ایچ پورہ،پرنسپل ڈگری کالج بجبہاڑہ کے علاوہ کالج سے فارغ شدہ طلاب نے شرکت کرکے کالج کی بہتری میں ہر وقت پیش پیش رہنے کا عہد کیا۔دیگر کئی کالجوں کے پرنسپلوں نے بھی تقریب میں شرکت کر کے عبد المجید صوفی کی خدمات کو سراہتے ہوئے اُنہیں رخصت کیا۔ 
 
 
 

محکمہ اطلاعات کے ریٹائر ہوئے ملازمین کو الوداع 

سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی طرف سے ایک پُر وقار تقریب منعقد ہوئی جس میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے فوٹو آفیسر محمد یاسین اور دیگر ملازمین کو الوداع کیا گیا ۔سبکدوش ہوئے ملازمین میں اِنفارمیشن اسسٹنٹ سرجیت پال اور کیمرہ مین قاضی ظہور احمد بھی شامل ہیں۔الوداعیہ تقریب پر ناظم اطلاعات گلزار شبنم ، جوائنٹ ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹرس نریش کمار ، ڈپٹی ڈائریکٹر اِنفارمیشن (آڈیو ویژول ) راکیش دُوبے اور محکمہ کے دیگر سینئر افسران اور ملازمین بھی موجود تھے۔محکمہ کے افسران اور عملے نے سبکدوش ہوئے ملازمین کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات پیش کیں ۔ناظم اطلاعات اور دیگر افسران نے سبکدوش ہوئے ملازمین کو شال ، مومنٹو اور گلد ستے پیش کئے ۔
 
 
 
 
 
 
 

گرمیوں کے دوران جموں شہرمیں بجلی کٹوتی نہیں ہوگی

جموں//گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران جے کے پی ڈی ڈی کی طرف سے موسم گرما کے دوران لوگوں کو بلاخلل بجلی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے کی جارہی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی ، چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولہ ، سیکرٹری جے کے پی ڈی ڈی ہردیش کمار ، ڈویژنل کمشنر جموں سنجیو ورما اور کئی دیگر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ہردیش کمار نے اس موقعہ پر پچھلے برس گرما کے دوران محکمہ کو درپیش آئے مشکلات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں موسم گرما کے دوران صارفین کو بجلی بہتر سہولیات کو دستیاب کرانے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔اس موقعہ پر جانکاری دی گئی کہ ریاست کو دستیاب ہونے والی بجلی کی صورت حال میں پچھلے برس کے مقابلے میں کافی بہتری آئی ہے تاہم بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اضافی بجلی پی پی اے ، یوآر ایس ، آئی ای ایکس اور دیگر موزون ذرائع سے حاصل کی جائے گی۔سیکرٹری پی ڈی ڈی نے کئے جارہے اقدامات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ کی طرف سے ہاتھ میں لئے گئے کاموں کو مئی مہینے کے آخیر تک مکمل کیاجائے گا۔ علاوہ ازیں بجلی کی تقسیم کاری اور ترسیل کے نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹرانسفامروں کی صلاحیتوں کو بڑھاواد یا جارہا ہے کہ ڈی ٹی سطح پر نئے بجلی ٹرانسفارمر وجود میں لائے جارہے ہیں جس کی بدولت 167ایم وی اے بجلی دستیاب ہوگی ۔اس موقعہ پر بتایاگیا کہ رواں موسم گرما کے دوران جموں شہر ، ادھمپور ،ریاسی اور رام بن قصبوں کو چوبیسویں گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ سانبہ ، کٹھوعہ ، راجوری ، پونچھ ، ڈوڈہ اور کشتواڑ جیسے شہری علاقوں میں بجلی کٹوتی ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوگی ۔ اس کے علاوہ محکمہ دیہی علاقوں میں بھی بجلی کٹوتی میں کمی لانے کے لئے اقدامات کر رہا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو دِقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ 60,000ڈی ٹی ایس نظام میں بروئے کار لائے جارہے ہیں اور اس نظام میں خلل پڑنے سے عوام کو دقتوںکا سامنا کرناپڑ رہا ہے اور اس تناظر میں گورنر نے اوور لوڈ بچانے کے آلات نصب کرنے کی ہدایات دی ہیں تاکہ بجلی ڈھانچے کو نقصان نہ پہنچے ۔گورنر نے ہدایات دیں کہ شہری علاقوں میں ڈی ٹی کو 12گھنٹے سے کم وقت میں تبدیل کیا جانا چاہیئے ۔جبکہ دیہی علاقوں میں یہ کام صرف تین دِن میں عملایا جانا چاہیئے ۔ گورنر نے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ بفر سٹاک کمپلیکسوں میں آگ پر قابو پانے کے آلات نصب کریں۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ صارفین کی سہولیت کے لئے ایک ٹول فری ہیلپ لائن قائم کی جارہی ہے ۔علاوہ ازیں صوبائی سطح پر چوبیسووں گھنٹے کام کرنے والے شکایتی سینٹر قائم کئے جارہے جہاں صارفین اپنی شکایات درج کراسکتے ہیں۔گورنر نے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ بجلی چوری پر قابو پانے کے لئے سخت اقدامات کریں ۔انہوں نے کہاکہ بجلی میٹر اُن علاقوں میں موزون جگہ پر نصب کئے جانے چاہئیں جہاں بجلی چوری کے زیادہ واقعات پیش آتے ہوں ۔گورنر نے محکمہ کو مزید ہدایات دیں کہ وہ لائن عملے کو سیفٹی آلات سے لیس کریں ۔اُنہوں نے کہاکہ محکمہ کے فیلڈ عملے کو مختلف سکیموں کے تحت زندگی بیمہ کور دینا جاناچاہیئے جس کے لئے پریمیم محکمہ ادا کرے گا۔
 
 
 

پانی کی دستیابی کیلئے گورنر نے افسران کو مناسب اقدامات کی ہدایت دی

جموں//گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں یہاں ایک جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں جموں صوبے میں موسم گرما کے دوران پانی کی سپلائی کی صورت حال اور دیگر تیاریوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی ، چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، گورنر کے پرنسپل سیکرٹر ی امنگ نرولہ ، سیکرٹری پی ایچ ای اجیت کمار ساہو اور کئی دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے ۔ گورنر کو اس موقعہ پر جانکاری دی گئی کہ ہاتھ میں لی گئی واٹر سپلائی سکیموں کو مکمل کرنے سے 25فیصد کی کمی کو دور کیا جارہا ہے اور رواں برس کے دسمبر مہینے تک 18ایم جی ڈی اضافی پانی دستیاب ہوگا۔ پی ایچ ای محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ پانی کی قلت والے علاقوں کی میپنگ کر کے صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کریں ۔ اس موقعہ پر فیصلہ لیا گیا کہ واٹر ٹینکر سپلائی کے نظام میں مزید بہتری لائی جانی چاہئیں اور اس برس مئیء مہینے کے آخر تک صوبے میں مشینری اور ٹرانسفارمر بینک قائم کئے جائیں گے تاکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹا جاسکے ۔محکمہ سے کہا گیا ہے کہ وہ واٹر ٹینکروں پر جی پی ایس نظام نصب کرنے کے لئے ایک منصوبہ تیار کریں۔اس موقعہ پر تجویز رکھی گئی کہ پی ڈی ڈی اور پی ایچ ای محکمہ باہمی تال میل کے ساتھ کا م کرکے اہم سٹیشنوں کے لئے بجلی سپلائی دستیاب کرائیں گے تاکہ پانی سپلائی میں کمی نہ آسکے۔پی ایچ ای محکمہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ٹرانسفارمروں کی مرمت کے لئے مناسب انتظامات کریں اور چیف انجینئر پی ایچ ای جموں صوبے میں پانی کی سپلائی کی صورتحال کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لینے کے ذمہ دار ہوں گے ۔میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ پی ایچ ای محکمہ عام لوگوں میں پانی کو بچانے کے تعلق سے جامع بیداری پیدا کرے گا اور بارشوں کے پانی کو بروئے کار لانے کے لئے رہنما خطوط وضع کرے گا۔ محکمہ سے کہا گیا ہے کہ وہ چوبیسووں گھنٹے کام کرنے والا ایک کال سینٹر قائم کریں تاکہ لوگوں کی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے ۔ میٹنگ میں اہم کاموں کے لئے رقومات کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا ان میں دریائے توی ، چناب اور بسنتر کے علاوہ جموں صوبے کے بڑے ندی نالوں میں سیلاب سے تحفظ سے متعلق کام بھی شامل ہیں۔
 
 
 
 
 
 

مغل شاہراہ یکطرفہ ٹریفک کیلئے بحال 

آج گاڑیوں کوپونچھ سے شوپیاں جانے کی اجازت 

جاوید اقبال +سمت بھارگو

مینڈھر +راجوری//خطہ پرپنجال کو کشمیر سے ملانے والی واحد مغل شاہراہ 5 ماہ کے بعد آج سے یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھولی جارہی ہے ۔یہ شاہراہ دسمبر 2018میں برف باری کے بعد ٹریفک کیلئے بند کردی گئی تھی ۔ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ راہل یادو کا کہنا ہے کہ بدھوار کو مغل شاہراہ گاڑیوں کی آمد ورفت کے لئے کھولی جارہی ہے اور ابتدائی کچھ دنوں میں ٹریفک یکطرفہ طور پر چلے گا۔انہوں نے بتایاکہ آج بفلیا ز سے شوپیاں کی طرف گاڑیوں کو چھوڑا جائے گا کیوں کہ سڑک کی حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے جس کو دیکھتے دوطرفہ ٹریفک نہیں چلایاجاسکتا۔انکا کہنا تھاکہ موسم خو شگوار رہنے کی صورت میں گاڑیوں کو مغل شاہراہ پر چھوڑا جائے گا اور اگر برف باری ہوئی تو پھر گاڑیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ ابھی خطرات برقرار ہیں۔اس سے قبل میکینکل انجینئرنگ محکمہ اور ٹریفک پولیس کی ٹیم نے مشترکہ طور پر مغل روڈ کا معائنہ کیا ۔اس ٹیم میں چیف انجینئر مغل روڈ پروجیکٹ محمد اشرف بٹ ، سپرانٹنڈنٹ انجینئر مغل روڈاور شوپیان اور پونچھ سے ایگزیکٹو انجینئر و دیگر افسران جبکہ ٹریفک اہلکار بھی موجو دتھے ۔معائنہ کے دوران یہ دیکھاگیاکہ اگر موسم سازگار رہتاہے تو سڑک فی الحال یکطرفہ ٹریفک کیلئے ہی کھولی جاسکتی ہے ۔ ڈی وائی ایس پی ٹریفک راجوری پونچھ محمد رفیق چوہدری جو خود بھی اس ٹیم کے ہمراہ تھے ،نے بتایاکہ روڈ کا معائنہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ لیاگیاہے کہ سڑک کو یکطرفہ طور پر ٹریفک کیلئے کھولاجائے گا۔انہوں نے بتایاکہ اگر موسم صاف رہاتو بدھ کے روز پونچھ سے شوپیاں کی طرف گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہوگی اور اس کے اگلے روز گاڑیاں شوپیاں سے پونچھ کی طرف آئیں گی ۔دریں اثناء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر شوپیاں محمد سلیم ملک نے بتایاکہ شوپیاں کی طرف سے بھی سڑک کو کھولاجارہاہے ۔انہوں نے بتایاکہ بدھ کے روز شاہراہ کو یکطرفہ طور پر ٹریفک کیلئے کھولاجارہاہے ۔
 
 
 
 
 
 

پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نالاں،انتظامیہ کیخلاف احتجاج

سرینگر// جموں وکشمیرکے نجی اسکولوں کی انجمن نے ریاستی حکومت کے اِس حکمنامے جس کی رو سے اسکولوں خصوصاًشہرمیںصبح سویرے کے اوقات کار نافذ کئے گئے،کیخلاف سخت احتجاج کیا ہے۔انجمن نے کہا کہ تازہ حکمنامے کے مطابق شہرسرینگرمیں اسکولوں کے اوقات کارصبح8.30بجے سے دن کے2.30تک مقررکئے گئے۔ نجی اسکولوں کی انجمن کے چیئرمین جی این وار نے کہا کہ چھوٹے بچوں کیلئے صبح8.30بجے اسکول پہنچنے کیلئے اسکول بس میں صبح7بجے سوار ہونا ہے اور اس سے پہلے بیدار ہوناہے۔اندازہ کیجئے چار سال کے ایک بچے کو اس اذیت سے ہرروزوالدین سمیت گزرنا ہوگا۔انہوں نے مزیدکہا کہ اکثر اوقات بچے بسوں اورحتی کہ کلاسزمیں بھی سوئے ہوتے ہیں ،کیونکہ اُنہیں سونے کیلئے کافی وقت نہیں ملتا۔وہ اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے ،یہاں تک کہ اُن کی صحت کوبھی خطرہ ہے۔ انجمن نے اس اوقات کار کو طلباء کے صبح سویرے کے کریک ڈائون سے تشبیہ دی۔وارنے کہا کہ ہم والدین سے برابررابطے میں ہیں اوراُن کا کہنا ہے کہ بچوں کو دل پر پتھررکھ کرزبردستی بستر سے باہر کھینچنا پڑتا ہے تاکہ وہ اسکول پہنچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ صبح سویرے کے اوقات کار گرم خطے کیلئے موزوں ہوسکتے ہیں لیکن ہم معتدل خطے میں رہ رہے ہیں۔حکام کو یہ بات سمجھنی چاہیے ۔انجمن نے کہا کہ یہ بات سائنسی طور ثابت ہوچکی ہے کہ بچے صبح 10بجے کے بعدہی پوری طرح سرگرم اور مکمل باہوش ہوتے ہیںاورانہیں پڑھانے کا یہ بہترین وقت ہے ۔انجمن نے کہا کہ بچوں پر جواوقات کارٹھونس دیئے گئے ہیںاُس سے ان کے سیکھنے کی صلاحیت ختم ہوگی ۔وارنے کہا کہ پہلے متعلقہ محکمہ کے ساتھ یہ طے پایا تھا کہ اسکولی اوقات کار میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے نجی اسکولوں کی انجمن اور والدین سے مشاورت کی جائے گی،لیکن انہوں نے یکطرفہ طوریہ سخت فیصلہ لیااورہم اس کیخلاف سخت احتجاج کرتے ہیں ۔انجمن نے الزام عائدکیاکہ یہ سب کچھ اسلئے کیاجاتا ہے کہ کچھ افسر اور سیکریٹریٹ کے ملازم آرام سے دفتر پہنچ جائیں اوراُنہیں سڑکوں پر اسکول بسوں کے ساتھ نہ چلناپڑے۔مہذب دنیا میں طالب علموں کوترجیح دی جاتی ہے لیکن یہاں اس کے برعکس ہورہا ہے ۔وار نے کہا کہ حکومت اپنے آرام کاسوچ رہی ہے اور کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فکرمندوالدین سے روزانہ سینکڑوں پیغامات موصول ہورہے ہیںاوراگر حکومت نے اپنافیصلہ واپس نہیں لیا تو ہم احتجاج کے طور مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے۔ 
 
 
 
 
 

ادویات کی خریداری میں تاخیر 

میڈیکل کارپوریشن نے وضاحت کی

سرینگر// جموں کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹیڈ نے ا دویات کی خریداری میں تاخیر کے متعلق خبروں کو مسترد کیا ہے۔ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ فی الوقت949ادویات سے متعلق قیمتوں کے معاہدے ہیںجبکہ154مشین اوازاروں کا معاہدہ بھی ہے،جن میں اسپتال فرنیچر کی اشیاء بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹیڈ میزانیہ تقسیم کے تحت مجموعی بجٹ کے75  فیصد کی خریداری کرسکتا ہے،جبکہ باقی25 فیصد طبی اداروں کے سربراہاں کے پاس دستیاب رہتے ہیں تاکہ ائمرجنسی کے اوقات میں استعمال میں  لایا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹینڈروں کی عدم دستیابی کے نتیجے میں میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹیڈ کسی دوا کی خریداری نہیں کر سکتا،تو اس کیلئے این ائو سی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹیڈ کا کہنا ہے کہ ماضی میں رقومات کی واگزاری میں تاخیر کے نتیجے میں بروقت خریداری نہیں ہوسکی تاہم موجودہ مالی سال کے دوران اعلیٰ حکام کی مداخلت کے بعد رقومات کی واگزاری کے نظام کو درست کیا گیا،جس کے نتیجے میں معیاری ادویات معقول قیمتوں میں لاکر طبی اداروں  میں دستاب رکھی گئی۔
 
 
 

سرینگر۔لیہہ شاہراہ پر ٹریفک جاری

غلام نبی رینہ

کنگن//شدید بارشوں کے باوجود سرینگر لداخ شاہراہ پر ہلکی گاڑیوں کی آمد رفت جاری ہے۔سوموار اور منگل کی درمیانی رات کو سونہ مرگ، زوجیلا، گنڈ اور اسکے ملحقہ علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو منگل کے روز بھی جاری رہا۔اس دوران منکل کی شام سے دراس میں ہلکی برف باری کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آخری اطلاع ملنے تک جاری تھا۔ ایس ایچ او پولیس سٹیشن دراس منظور حسین میر نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ شاہراہ پر ہلکی گاڑیوں کی آمد رفت جاری ہے تاہم شام چھ بجے سے شروع ہوئی ہلکی برفباری کی وجہ سے دراس سے سونہ مرگ کی طرف جانے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا ادھر انتظامیہ کی طرف سے لداخ شاہراہ پر مال بردار گاڑیوں کو ابھی چلنے کی اجازت نہیں دی گئی ھے کیونکہ زوجیلا کے مختلف مقامات پر سڑک پر پھسلن ھے جس کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں کو مشکلات پیش آسکتے ہیں ادھر سرینگر سونہ مرگ شاہراہ کے گنڈ میں ایک سو کے قریب مال بردار گاڈیاں درماندہ ہیں جن کو سونہ مرگ تک جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ھے
 
 
 

جواہر ٹنل کے آر پاشدیدٹریفک جام

 محمد تسکین

بانہال// جموں ۔سرینگر شاہراہ پر منگل کے روز دو دن بعد وادی کشمیر سے جموں کی طرف ٹریفک کو چلنے کی اجازت تھی جو صبح سے ہی جواہر ٹنل کے آر پار ٹریفک جام کا شکار ہوا اور کئی بار کے گرتے پتھروں کی وجہ سے یہ سلسلہ رام بن سیکٹر کے کئی مقامات پر بھی ٹریفک جام جاری رہا۔ منگل کے روز وادی کشمیر سے جموں کی طرف جانے والا ٹریفک قاضی گنڈ اور جواہر ٹنل کے درمیان درماندہ ہوگیا اور اس کیلئے فورسز کی طرف سے ٹرکوں کو نکالنے کی کوشش کے دوران ٹریفک خاص کر ٹرک اور مسافر گاڑیاں گڈ مڈ گئیں اور آگے بڑھنے کا منتظر ٹریفک بھاری ٹریفک جام کی صورت اختیار کر گیا اور ٹریفک جام کا سلسلہ منگل کی رات ساڑھے نو بجے تک بھی جواہر اور قاضی گنڈ کے درمیان جاری تھا اور منگل کی صبح سے قاضی گنڈ اور جواہر ٹنل کے درمیان پھنسی مسافروں گاڑیوں نے رات نو بجے واپسی کی راہ لی۔ پرسار بھارتی براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے وابسطہ ایک عہدیدار منظور احمد نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ منگل کی صبح سرینگر سے بھدرواہ کیلئے نکلے ہوئے ہیں لیکن منگل کی رات نو بجے بھی وہ جواہر ٹنل سے پانچ کلومیٹر پہلے لور منڈاہ کے قریب ہی تھے اور شاہراہ پر جواہر ٹنل کے علاقوں تک بھاری ٹریفک جام اور شاہراہ کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھ کر منگل کی رات نو بجے واپس سرینگر کی راہ لینا پڑی ہے اور ان کے ساتھ اہل خانہ کے افراد بھی ہیں ، لیکن واپس سرینگر کی طرف جانے کیلئے بھی بھاری ٹریفک جام حاوی تھا اور ٹریفک سست رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اسی طرح کئی مسافروں نے بتایا کہ سرینگر سے جموں جانے والا ٹریفک فورسز کی گاڑیوں کی وجہ سے سے صبح سے ہی ٹریفک جام کی نذر ہوگیا اور دن بھر یہ سلسلہ جواہر ٹنل کے آر پار بنا رہا۔ اس دوران بکروال قبیلے کے کئی کنبوں نے بھیڑ بکری سمیت ٹنل کے راستے وادی میں داخل ہونے کیلئے کی جارہی تاخیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور بعد میں ٹنل کی ایک ٹیوب سے تیس سے زائد خانہ بدوش بکرالوں کے ریوڑوں کو چلنے کی اجازت دی گئی۔ منگل کی شام تک ٹریفک آگے بڑھ رہا تھا اور ٹریفک جام کے جھمیلوں سے آزاد ہونے والی سینکڑوں گاڑیوں نے منگل شام تک جواہر ٹنل پار کیا تھا۔ ادھر گرتے پتھروں کی وجہ سے شاہراہ کے رامبن کے سیکٹر میں بھی ڈگڈول اورمنکی موڑ کی پسی پر ہتگر گرنے سے ٹریفک جام رہا۔ جواہر ٹنل کے کشمیر والی طرف منگل کی رات دیر تک ٹریفک جام جاری تھا اور ٹریفک نہایت ہی سست رفتاری سے حرکت کر رہا تھا۔ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائے وے رامبن سریش شرما نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ منگل کے روز وادی سے جموں کی طرف ٹریفک کو چلنے کی اجازت تھی اور اس دوران دن میں کئی بار شاہراہ کے سیکٹر میں ہلکی ہلکی بارشیں بھی ہوئیں اور کئی بار پتھر بھی گرے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ رامبن بانہال سیکٹر میں مال بردار ٹرکوں کے خراب ہونے ، پسیوں اور پتھروں کے گرنے اور خانہ بدوش بکروالوں کی مال سمیت نقل وحرکت نے شاہراہ پر ٹریفک کیلئے مزید مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح جواہر ٹنل کے پار فورسز گاڑیوں کی وجہ سے ٹریفک بے ترتیبی کا شکار ہوا اور کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام رہا۔ انہوں نے کہا کہ آج کم از کم دس گاڑیوں کو رامبن سیکٹر میں تیکنیکی خرابی پیش آئی جس کی وجہ سے کئی مقامات پر سڑک پر ٹریفک جام رہا تاہم بعد میں اسے صاف کیا گیا اور سینکڑوں گاڑیوں نے منگل کی شام تک رامبن سیکٹر پار کرکے جموں کی راہ لی تھی ۔ واضح رہے کہ آج بدھ کیلئے فورسز کانوائے کیلئے شاہراہ مخصوص رہے گی اسی وجہ سے منگل کے روز وادی میں دو تین روز سے پھنسا ٹریفک جموں کی طرف نکلا تھا لیکن بھاری ٹریفک جام کی وجہ سے سینکڑوں مسافروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ 
 
 
 
 

بالائی و میدانی علاقوں میں بارشیں  درجہ حرارت میں کمی

 سرینگر// وادی میں منگل کو وقفے وقفے سے موسلادھار بارشوںکا سلسلہ جار ی رہا۔ موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی پوری وادی سردی کی لپیٹ میں آ گئی ہے ۔وادی کے طول و عرض میں منگل کی علی الصبح مطلع ابر آلود رہنے کے بعدموسم نے کروٹ بدلی اور بالائی ومیدانی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔سرینگر شہر کے اطراف و اکناف میں موسلا دھار بارشیں شروع ہوئیں جو وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہیں۔موسم کی اس کروٹ سے موسم سرد ہو گیا ہے اور پوری وادی سردی کی شدید لپیٹ میں آ گئی ہے۔پہاری علاقوں میںبارشوں کا سلسلہ ہر گذرتے لمحے کیساتھ شدت اختیار کرگیا جو وقفے وقفے سے شام تک جاری رہیں۔کپوارہ اور بارہمولہ اضلاع میں کنٹرول لائن کے نزدیک واقع بالائی علاقوں میں شام دیر گئے تیز بارشوں کی اطلاع موصول ہو ئی ہے۔ادھر جنوبی کشمیرکے اننت ناگ اور شوپیان اضلاع کے بالائی علاقہ جات سے بارشوںکی اطلاع ملی ہے۔پہلگام سے امر ناتھ گپھا کی طرف جانے والے راستے پر بھی تیز بارشیں ہوئیں ۔مجموعی طور پر وادی کے کم و بیش تمام اضلاع اور قصبہ جات جن میں سرینگر کیساتھ ساتھ بارہمولہ، کپوارہ، بانڈی پورہ، سوپور، ٹنگمرگ، پٹن، بڈگام، بیروہ، خانصاحب، گاندربل، کنگن، پلوامہ، پانپور، شوپیان، کولگام، اننت ناگ، مٹن، بجبہاڑہ قاضی گنڈ، ترال اور اونتی پورہ شامل ہیں، میں ہلکی سے درمیانہ اور بعض مقامات پر بارشیں ہوئیں اور موسم میں اس تبدیلی کے پیش نظر درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔ جواہر ٹنل کے اْس پار جموں کے مختلف علاقوں میں بھی منگل کی صبح سے موسلا دھار بارشوں کا آغاز ہوا جو دن بھر جاری رہا ۔سرینگر جموں شاہراہ کے مختلف علاقوں میں رات بھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تاہم صبح سویرے جموں اور سرینگر سے سینکڑوں کی تعداد میں مسافر اور مال بردار گاڑیاں اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہوئیں ۔
 
 
 

پی ڈی پی کا بی جے پی کے سامنے سرنڈر: میر

 پلوامہ اور شوپیان میںپیلٹ قہر کاباعث

پلوامہ//سال2016کے زخموں کے نشان کشمیری لوگوں کے دلوں اور جسم پر دہائیوں تک موجود رہیں گے جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی )کا بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے سرنڈر پلوامہ اور شوپیان میں پیلٹ قہر کا نتیجہ ہے ، ان باتو کا اظہار یردیش کانگریس کے صدر اور پارلیمانی نشت اننت ناگ کے امیدوار غلام احمد میر نے کیا ۔جموں کشمیر پردیش کانگریس کے صدر اور پارلیمانی نشت اننت ناگ کے امیدوار غلام احمد میر نے بتایا کہ وادی کشمیر میں سال 2016 کے انتہائی خراب حالات کے زخموں کے نشان کشمیریوں کے جسم اور دلوں پر دہائیوں تک قائم رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ اور شوپیان میں پیلٹ کا قہر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی )کا بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے سرنڈرکا نتیجہ ہے ۔ میر نے کہا کہ پلوامہ اور شوپیان کے لوگ پی ڈی پی پر پھر ایک بار بھروسہ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی موقعہ پرست اوردھوکہ بازوں کی حکومت ہے جو پلوامہ اور شوپیان کے عوام کو مزید گمراہ نہیں کر سکیں گے ۔ میر پلوامہ میں پارٹی ورکران کی میٹنگ کے دوران خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ مزکورہ پارٹی پھر ایک بار انتخابات اور ووٹ بٹورنے کیلئے عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔ پردیش کانگریس صدر نے اس دوران پانپور اور راجپورہ ٹاون ہال میں موجود پارٹی لیڈران اور ورکران کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کیا ۔ میر نے بتایا کہ پی ڈی پی ، این سی اور بی جے پی جیسی دھوکہ باز پارٹیوں سے لڑنا مسئلے کا حل ہے ۔ میر نے کہا مجھے امید ہے پلوامہ اور شوپیان کے لوگ پی ڈی پی کے خون خرابے والے دور کو یاد کر کے این سی اور مذکورہ موقعہ پرست پارٹی کو آنے والے انتخابات میں شکست دیں گے اور کسی بھی انتخابی چال کے جال میں لوگ نہیں آئیں گے ۔ انہوں نے مزید بتایا پہاڑی ضلع شوپیان میں پی ڈی پی ، بی جے پی کے مس رول اور مس گورننس کے نتیجے میں لوگوں کو مالی اور جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور پی ڈی پی نے دونوں اضلاع میں انسانی جانوں کے زیاں کے روپ میںتباہی مچائی ہے جو پی ڈی پی کاآر ایس ایس کے سامنے ایننڈا ٓف الائنس کے سرنڈر کرنے کا نتیجہ ہے ۔
 
 
 

صوبائی کمشنر کی صدار ت میں میٹنگ

 وادی میں ایل پی جی کی دستیابی کاجائزہ

سرینگر//صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے آفیسران کی ایک میٹنگ میں وادی میں ایل پی جی کی دستیابی کاجائزہ لیا۔انہوںنے متعلقہ آفیسران پر ایل پی جی کا مناسب سٹاک یقینی بنانے کی ہدایت دی تاکہ وادی میں صارفین کو رسوئی گیس کی قلت کا سامنا نہ ک?