مزید خبریں

راجیو گاندھی کیخلاف ریمارکس نا قابل تسلیم  : بھیم سنگھ 

نئی دہلی//جموں و کشمیر نیشنل پینتھر ز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر بھیم سنگھ نے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے سابقہ وزیر اعظم راجیو گاندھی کے خلاف بو فورس سیکنڈل کے خلاف جاری تبصرے کو بدقسمتی اور ناقابل تسلیم قرار دیا ۔بھیم سنگھ نے گورنر کے نام تحریر ایک مکتوب میں کہا ہے کہ ریاست کے گورنر نے راجیو گاندھی کے خلاف بو فورس سیکنڈل سے متعلق تبصرہ کرنے سے اس مرحلہ پر وہ اپنے منصب کی ذمہ واری انجام دینے سے پھسل گئے ہیں۔این پی پی سپریمو نے مکتوب مین کہا ہے کہ میرے راجیو گاندھی کے ساتھ مئی مدعوں پر اختلاف تھے جسے تب کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 1988 میں گمراہ کیا تھا ،جب انہوں نے (پروفیسر بھیم سنگھ ) نے اودہمپور پارلیمانی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن اسے نکام قرار دیا گیا۔کیونکہ تب کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ راجیو گاندھی کو اس بات پر مطمئن کر گئے تھے کہ پروفیسر بھیم سنگھ کو لوک سبھا میں داخل نہ ہونے دیں ۔انہوں نے مبینہ الزام لگایا کہ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ نئی دہلی کے چند مفاد خصوصی گورنر کا استعمال کرکے راجیو گاندھی کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہیں جو کہ کسی بھی صورت میں قابل وقبول نہیں ہے۔مکتوب میں بھیم سنگھ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ گورنر موصوف ایک نوجوان سیاست دان ہو کر اس پریس بیان کو واپس لیں گے۔
 

 گورنر کی راجیو گاندھی کیخلاف تبصرے پر کانگریس کی مذمت 

جموں// پردیش کانگریس کمیٹی کے وچار وبھاگ جموں و کشمیر نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے سابقہ وزیر اعظم کے خلاف جاری بیان کی نکتہ چینی کی ہے۔پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وچار وبھاگ کے صدرکیپٹن للت شرما کی قیادت میں منعقدہ  ایک اجلاس میں کہا گیا کہ اعلیٰ آیئنی شخصیت کو چاہیے کہ وہ سیاسی بیان جاری نہ کریں۔اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ دہلی ہاء کورٹ نے پہلے ہی راجیو گاندھی ک بو فورس کے الزام سے بری کیا ہے،یہاں تک کہ سی بی آئی کے پاس دائر اپیل کو بھی عدالت اعظمیٰ نے خارج کر دیا ہے۔شرما نے مزید کہا کہ ہمارے جمہوری نظام میں عدلیہ کو جمہوریت کا ایک ستون واضع کیا گیا ہے اور عدالتوں کو ملک بھر میں قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون سازیہ کو عدلیہ کی جانب سے جاری کئے گئے فیصلوںپر کوئی رائے زنی نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے ایک شہید ہوئے وزیر اعظم کے خلاف ایسے تبصرے کرنے سے عام لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔دریں اثنا ،کانگریس نے گورنر کی جانب سے ایسے غیر ذمہ وارانہ تبصرے پرسخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور ہفتہ کے روز اس سلسلہ میںایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی کے ترجمان اعلیٰ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفتہ کے روز پارٹی کی جانب سے شہیدی چوک میں احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی نے ملک کے مفاد کیلئے28برس قبل اپنی قربانی پیش کی تھی اور اس مدت تک بی جے پی نے اسکے خلاف کاروائی کرنے کیلئے بہت کوشش کی لیکن وہ راجیو گاندھی کے خلاف کُچھ بھی نہیں ثابت کر سکے ۔ 
 

 شیو سینا کا امرناتھ شرائن بورڈ کیخلاف احتجاج

جموں//شیو سینا بالا صاحب ٹھاکرے کے جموں کشمیر یونٹ نے جمعہ کے روز یہاں شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جموں کشمیر کی تمام ہندو تنظیموں کا امرناتھ شرائن بورڈ کمیٹی میں ایک ایک ممبر ہونا چاہئے۔یونٹ کے ایک لیڈر نے میڈیا کو بتایا کہ شرائن بورڈ سال 2016 سے لگاتار تغلقی فرمان جاری کررہا ہے جو شیوسینا کو قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نجی طور پر لوگوں سے پیسہ وصول کرنے کے بعد جو مفت لنگر لگانے والوں سے بیس ہزار روپیہ نقدی مانگے جارہے ہیں اور ان پر پچیس مزید شرطیں لگائی گئی ہیں۔شیو سینا لیڈر نے کہا کہ شرائن بورڈ کو چاہئے کہ وہ اپنے بلبوتے پر جگہ جگہ لنگر لگائے اور بیس کیمپ کے اندر کسی کو بھی لنگر لگانے کی اجازت نہیں ہونے چاہئے اور لنگر سہولیات کو باہر رکھا جانا چاہئے۔انہوں نے شرائن بورڈ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے شرائن بورڈ کو چاہئے کہ وہ جموں کشمیر کی تمام ہندو تنظیموں کے ساتھ صلح مشور کرے اور ہر تنظیم کے ایک ایک رکن کو شرائن بورڈ کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبوں کو 30 تاریخ تک پورا نہیں کیا گیا تو ہم ملک بھر میں سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔
 

جموں خطہ کے بارہویں جماعت کے سالانہ امتحان کے نتائج شائع 

جموں //جموں خطہ کے گرمائی زون کے بارہویں جماعت کے ریگولر امید واروں کے سالانہ نتائج شائع کئے گئے ہیں۔امتحان میں کل ملا کر 38964۔ امیدوار شامل ہوئے تھے ،جن میں سے 24045امیدوار پاس ہوگئے ہیں، 62فیصد امیدوارپاس ہوئے ہیں ،جن میں سے طلاب کا فیصد 57رہا ہے ،جبکہ طالبات کا پاس فیصد 67%رہا ہے۔امسال بھی پرائویٹ سکولوں کی کارکردگی شاندار رہی ہے جن کا پاس فیصد 73.07رہا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں پاس فیصد فقط 55.70فیصد رہا ہے۔
 

۔PTTI وجے پور میں ایک لیکچر کا اہتمام 

نیوز ڈیسک
 
سانبہ//پولیس افسروں/اہلکاروںکو متعدد مدوں سے واقف کرنے کیلئے پویس ٹینکل ٹریننگ انسٹیچوٹ وجے پور میں "Accounts Procedure adopted in the Govt. Offices" کے موضوع پر ایک لیکچر کا اہتمام کیا گیا ۔PTTI کے پرنسپل ایس ایس پی اشوک کمار نے ریٹائرڈ ڈائریکٹر فائنانس اوپی گپتا کا خیر مقدم کیا ،جنھیں اس موقعہ پر ایک گیسٹ سپیکر کے طور مدعو کیا گیا تھا۔اپنے افتتاحی خطاب میںاو پی گپتا نے پولیس افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاانکے ساتھ بیش قیمتی تجربہ بانٹا ۔انہوں نے اس موقعہ پر شرکا کی جانب سے پوچھے گئے متعدد سوالات کا جواب بھی دیا ۔پروگرام کے اختتام پر پرنسپل اشوک کمار اور وائس پرنسپل شریمتی منجیت کور نے گیسٹ سپیکر کو مومینٹو پیش کیا اور انہیں اپنا قیمتی وقت بچا کر پروگرام میں شرکت کرنے پر انکا شکریہ ادا کیا۔اس موقعہ پر موجود دیگران میں  ڈی ایس پی رام سنگھ جموال،ڈی ایس پی کرن جیت سنگھ ،ڈی ایس پی راکیش سمبیال، ڈی ایس پی پرتھپال سنگھ ، ڈی ایس پی اجے پنجابی، انسپکٹر ہمانشو سنیل مہاجن ، انسپکٹر جتیندر سنگھ ،انسپکٹر اشوک سنگھ ،انسپکٹر یش پال سنگھ ،انسپکٹر کلونت سنگھ ،انسپکٹر منوج بالی، نسپکٹر سنیل کمار و دیگران بھی شامل تھے۔ 
 
 

کلا کیندر کی خستہ حالی پر ڈاکٹر کرن سنگھ کا گورنر کے نام مکتوب

جموں //کانگریس کے ایک سینئر لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ کا کلاکیندر کی خستہ حالی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ایک پریس بیان کے مطابق انہوں نے گورنر کے نام مکتوب میں لکھا ہے کہ انہوں نے کئی برسوں سے وقت کی سرکاروں کو کلا کیندر کی خستہ حالی کے بارے میںلکھا تھا،جس کی شاندار عمارت توی پُل کے پار فقط 2004 میں تعمیر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسے جموں خطہ میں آرٹ و کلچر کا ایک اہم مرکز دیکھا گیا تھا ، جس میں ایک عجائب گھر، آرٹ گیلری  اور کلچرل پروگراموں کے لئے جگہ شامل تھا لیکن بد قسمتی ہے کہ جس مقصد کے لئے اسے تعمیر کیا گیا تھا ،اسے فراموش کیا گیا ہے۔انہوں نے مکتوب میں تحریر کیا ہے کہ ایک دفعہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس عمارت کو لیکر محکمہ سیاحت اور کلچر کے درمیان بین ۔محکمانہ کشمکش تھی۔ انہوںنے کہا کہ وجہ کوئی بھی ہو لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک شاندار عمارت کو تباہ ہو نے کیلئے چھوڑا گیا ہے۔انہوں نے اس سلسلہ میں گورنر کے نام ایک آرٹیک بھی بھیجا ہے جو جموںکے ایک انگریزی روزنامہ میں مورخہ 5 مئی2019  کو شائع ہوا ہے ،جس میں اس عمارت سے متعلق تمام تفصیل دی گئی ہے ۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے گورنر سے اس عمارت کو ایک ہی محکمہ کو سونپنے کیلئے واضع ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی ہے،تاکہ یہ ڈوگرہ کلچر کیلئے دوبارہ چالو ہوسکے۔