مزید خبریں

بادل پاکستانی ریڈار سے بچنے میں مددگارثابت

بالا کوٹ فضائی حملے سے متعلق مودی کا بیان ہدف تنقید 

نئی دلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے بالاکوٹ میں انڈین فضائیہ کی سٹرائک سے پہلے کی روداد کیا سنائی سوشل میڈیا ان کے پیچھے پڑ گیا۔انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بادلوں اور بارش کی وجہ سے انڈیا کے فائٹر طیارے پاکستان کے ریڈار سے بچ جائیں گے اور اسی لیے انھوں نے ائر سٹرائک کی اجازت دے دی۔اس انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر ’انٹائر کلاؤڈ کور‘ یعنی پوری طرح بادل کے پردے میں ٹرینڈ کرنے لگا اور مرزا غالب سے مشابہ مرزا کلاؤڈی نام کا ایک شاعر بھی پیدا ہوگیا جس کا ایک شعر واٹس ایپ گروپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔نریندر مودی کا یہ انٹرویو انڈیا کے ٹیکنالوجی کے قومی دن کے موقع پر ’نیوز نیشن‘ نامی چینل پر پیش کیا گیا۔ اس انٹرویو کے بعض حصوں کو وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے ہمنوا بہت سارے اکاؤنٹس نے بھی شیئر کیا ہے۔انٹرویو کے بالاکوٹ والے حصے پر حزب اختلاف نے وزیر اعظم مودی کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔بالاکوٹ ایئر سٹرائک کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا: 'میں نے نو بجے (ایئر سٹرائک کی تیاری کے بارے میں) ریویو کیا۔۔۔ پھر 12 بجے ریویو کیا۔ ہمارے سامنے مسئلہ تھا کہ اس وقت اچانک موسم خراب ہو گیا۔۔۔ بہت بارش ہوئی، میں حیران ہوا ابھی تک ملک کے اتنے بڑے پنڈت لوگ مجھے گالیاں دیتے ہیں ان کا دماغ یہاں نہیں چلتا۔ 12 بجے، یہ بھی میں پہلی بار بول رہا ہوں، ایک پل ہمارے دل میں آیا اس موسم میں ہم کیا کریں۔ بادل ہے جا پائیں گے؟ نہیں جا پائیں گے اس وقت ایکسپرٹ کی رائے تھی کہ تاریخ بدل دیں۔'انھوں نے مزید کہا: ’اس وقت میرے ذہن دو خیال آئے۔ ایک سیکریسی، ابھی تک سب سیکرٹ (راز) تھا۔ رازداری میں اگر ڈھیل ہوئی تو ہم کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ دوسری بات۔۔۔ میں ایسا شخص نہیں ہوں جو ان سب سائنس کو جانتا ہے۔۔۔ لیکن میں نے کہا اتنا کلاؤڈ (بادل) ہے، بارش ہو رہی ہے تو ایک فائدہ ہے۔ کیا ہم ریڈار سے بچ سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ میری سوچ ہے کہ بادلوں سے فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ سب الجھن میں تھے کہ کیا کریں۔ پھر بالآخر میں نے کہا اوکے، جایے۔ پھر چل پڑے۔‘انڈیا میں مسلمانوں کے رہنما کہلانے والے اسد الدین اویسی نے پی ایم او انڈیا کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا: ’سر سر آپ تو غضب کے ایکسپرٹ ہیں، سر گذارش ہے کہ چوکیدار ہٹا دیجیے اور ایئر چیف مارشل اور پردھان (لکھیے)۔۔۔ کیا ٹونک پیتے ہیں، آپ کے بٹوے میں ہر شعبے کا فارمولا ہے سوائے جاب، معیشت، صنعتی ترقی، زراعت کے مسائل کے۔‘مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے معروف رہنما سیتا رام یچوری نے ٹویٹ کیا: ’مودی کے الفاظ صحیح معنوں میں شرمناک ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ہماری فضائیہ کی بے عزتی ہیں کہ وہ ناواقف اور غیر پیشہ ور ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ جو باتیں کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں ملک مخالف ہے۔ کوئی بھی وطن پرست ایسا نہیں کرے گا۔‘
 
 
 

بالاکوٹ حملہ | وزیراعظم کااصرار تکلیف دہ خجالت:محبوبہ مفتی

سرینگر//ریاست کی سابق وزیراعلیٰ محوبہ مفتی نے وزیراعظم نریندرمودی کے بالا کوٹ ہوائی حملے کے دوران پاکستان کے راڈاروں سے بچنے کیلئے بادلوں کے بھارتیہ فضائیہ کو مدد دینے کے تبصرے کو’’تکلیف دہ خجالت‘‘ سے تعبیر کیاہے۔محبوبہ مفتی نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزیراعظم کی طرف سے بھارتیہ فضائیہ کے مشورے کو نظراندازکرکے خراب موسم میں حملے کی اجازت دینے سے یہ اسٹرائیک مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام ہوئے۔محبوبہ نے ایک ٹوئٹ میں لکھا’یہ کوئی بھیدنہیں ہے کہ بالاکوٹ حملہ مطلوبہ ہدف کونشانہ نہیں بناسکا۔کیا یہ وزیراعظم کی وجہ سے ہوا،جنہوں نے بھارتی فضائیہ کے مشورے کو ردکیااورخراب موسم میں ہوائی حملے کی اجازت دی ؟محبوبہ نے مزیدلکھا’’بادلوں کے اوٹ کی منطق تکلیف دہ خجالت ہے ۔مجھے یاددلائوکہ کانگریس صدرراہل گاندھی کوپپوکہہ کرکیوں تمسخراُڑایاجاتا ہے؟‘‘پیپلزڈیموکریٹک پارٹی صدر نے کہا کہ دوسر بار جیت حاصل کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی’ منطق کومعطل ‘کرنے کی قابلیت احمقانہ حدتک ذہن کو مفلوج کرنے والی ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ مسلح افواج اس کے حق دار نہیں ہے ۔ بالا کوٹ حملے کی صداقت پر سوال کرنے پر مجھے انگاروں پر بٹھایاگیا لیکن پاکستانی میڈیااورصحافیوں نے جس طرح وزیراعظم کے بادلوں کی لغزش کا مذاق اُڑارہے ہیں وہ خجالت آمیزہے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے مودی پرطنزکرتے ہوئے ٹوئٹ کیا’’پاکستانی راڈربادلوں میں دیکھ نہیں سکتے ،یہ ایک اہم دفاعی اطلاع ہے جو مستقبل میں فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کے دوران کام آئے گی‘‘۔
 
 
 

امیت شاہ کا بیان اندھے پن کاعکاس:سوز

ڈاکٹرمن موہن سنگھ کے دورمیں ملک کوخوش آئندقانون ملے

سرینگر//سینئرکانگریس رہنمااورسابق مرکزی وزیرپروفیسرسیف الدین سوز نے بھاجپا صدر امیت شاہ کے اس بیان کواندھے پن سے تعبیرکیا ہے جس میں بھاجپاصدر نے کہاتھاکہ اگر بی جے پی اقتدارمیں نہیں آئی توملک کوہردن نیاوزیراعظم مقررکرناپڑے گا۔پروفیسرسوزنے ایک بیان میں  سوال کیا کہ کیا امیت شاہ کو معلوم نہیں کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے دس سال تک سونیاگاندھی کی حمایت سے وزیراعظم کے طورکام کیا اوران کے دور میں ملک کو کتنے ہی خوش آئندقانون ملے جن میں حق اطلاعات کاقانون،صحیح خوراک حاصل کرنے کاقانون،لوک پال،لوک آیُکت وغیرہ شامل ہیں۔پروفیسر سوزنے کہا کہ بھاجپاصدرامیت شاہ  جان بوجھ کراپنے جھوٹ کوسچ کے طور پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں کیونکہ اُنہیں جرمنی کے گوبیل کی سیاست پر مکمل اعتماد ہے ۔انہوں نے کہا چونکہ بہت سارے دانشوروں کا اندازہ یہی ہے کہ مودی پھر سے اقتدار میں نہیں آسکتے ہیں ، اسلئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ اُن کا جانشین جو ہوگا اُن کیلئے مودی جی نے بہت ہی مشکل اور روح فرسا میراث چھوڑی ہوگی۔
 
 
 
 
 

 اسمبلی حلقوں کی حدبندی کی مانگ | صدر ہند مداخلت کریں: بھیم سنگھ 

جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے بھارت کے صدر رامناتھ کووند سے جموں وکشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی حدبندی کرانے کی مانگ کی جو گزشتہ 25برسوں سے ریاست میں نہیں ہوئی ہے۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے رائے دہندگان کے ساتھ جموں وکشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی تقسیم میں امتیاز کے لئے کانگریس اور بی جے پی سمیت قومی جماعتوںکو مورد الزام ٹھہرایا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں صوبہ میں کشمیر کے مقابلہ زیادہ ووٹر ہیں اورجموں میں 37اسمبلی سیٹیں ہیں جبکہ وادی کشمیر میں 46 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے گورنرکو صدر راج کے دوران اس بات کا اختیارحاصل ہے کہ وہ جموں وکشمیر آئین کے سیکشن 47کے اصل مواد کو نافذ کریں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے صدر کو بتایا کہ جموں وکشمیر ریاست میں 2003میں حد بندی ضروری ہوگئی تھی لیکن آج 2019تک اسمبلی حلقوں کی حد بندی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ مکمل طورپر غیرآئینی اور تینوں خطوں لداخ، کشمیر اور جموں کے رائے دہندگان کے بنیادی حقوق کی روح کے منافی ہے۔  انہوں نے صدر پر زور دیا کہ وہ ہندستانی آئین کی دفعہ 370کے تحت اس معاملہ میں مداخلت کریں جو صدر کو اس کا اختیار دیتا ہے کہ جب انہیں لگے کہ یہ لوگوں اور جموں وکشمیر ریاست کی جمہوری اقدار کے مفاد میں ہے۔انہوں نے صدر سے مانگ کی کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل بلا تاخیر اسمبلی حلقوں کی بندی کرائی جائے۔
 
 
 

کھنہ بل میں 3سالہ بچی کی لاش جہلم سے برآمد

سرینگر//جنوبی کشمیر کے کھنہ بل اسلام آباد(اننت ناگ) میں اتوار کو ایک 3سالہ بچی کی نعش کو دریائے جہلم سے برآمد کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے کھنہ بل کے نزدیک دریائے جہلم میں پانی کی سطح پر ایک نعش تیرتی ہوئی پائی،جس کے بعد پولیس کو مطلع کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران پولیس کی ایک ٹیم وہاں پر پہنچی اور انہوں نے نعش کو دریائے جہلم سے باہر نکالا،جس کی شناخت نصرت جان دختر عبدالواحد بجاڑ ساکن میر دانتر اسلام آباد۰اننت ناگ) کے بطور ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بچی 3مئی سے لاپتہ تھی۔اس دوران نعش کو ضلع اسپتال اسلام آباد(اننت ناگ) قانوی طور پر طبی لوازمات بشمول پوسٹ مارٹم پورا کرنے کیلئے پہنچایا گیا،جس کے بعد نعش کو اہل خانہ کے سپرد کیا گیا۔