مزید خبریں

جموںمائیگرنٹ کیمپوں کامعائنہ

 صفائی ستھرائی اور اشیائے ضروریہ یقینی بنانے پر زور

 جموں//ریلیف اور باز آباد کاری کمشنر( مائیگرنٹ) جموں و کشمیرکے ٹی کے بھٹ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلاننگ رجنیش کپور نے متعدد مائیگرنٹ کیمپوں کا دورہ کر کے وہاں سہولیات کا جائزہ لیا۔ریلیف کمشنر نے پُرکھو ، مٹھی ،بُوٹانگر اور جگتی ٹاون شپ میں کیمپوں کا دورہ کر کے وہاں صفائی ستھرائی ، پانی ، بجلی ، طبی سہولیات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی دستیابی کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے اِس دوران سماجی دُوری کو برقرار رکھنے پر بھی زورددیا۔انہوں نے کیمپ کمانڈنٹس پر زور دیا کہ وہ چوکسی برتیں تاکہ لاک ڈاون کے دوران لوگوں کو کسی بھی قسم کی دِقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اِس دوران جانکاری دی گئی کہ مائیگرنٹوں کی سہولیت کے لئے ریلیف آرگنائزیشن کی ویب سائٹ قائم کی گئی ہے جس پر لوگ راشن ، نقد اِمداد ، صفائی ستھرائی اور بجلی سے متعلق شکایات درج کراسکتے ہیں۔ریلیف کمشنر کو بتایا گیا کہ اِن کیمپوںمیں اپریل اور مئی مہینوں کی راشن تقسیم کی جاچکی ہے۔اُنہوں نے وہاں طبی مراکز کا بھی معائینہ کیا اور ان کے کام کاج پر اِطمینا ن کا اِظہار کیا۔ مٹھی کیمپ میں اُنہوں نے ضرورت مند کنبوں میں راشن کے پیکٹ تقسیم کئے ۔ 
 
 
 

کالجوں کے عارضی لیکچرر آٹھ ماہ کی تنخواہوں سے محروم

سرینگر// کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارضی کالج لیکچراروں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے آٹھ ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے حکمنامہ جاری ہونے کے باوجود بھی ہائر ایجوکیشن محکمہ اُن کی اجرتیں واگزار نہیں کررہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اُنہیں ذہنی عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف ننگرواور وحید احمد نامی عارضی لیکچراروںنے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے وہ مسلسل تنخواہیں حاصل کرتے تھے لیکن جب سے جموں و کشمیر کو مرکز کازیر اہتمام علاقہ قرار دیا گیا اُن کی تنخواہیں روک دی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میںوہ لیفٹننٹ گورنر کے صلاحکار کے کے شرما سے بھی ملاقی ہوئے اور انہین اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور اُنہوں نے تنخواہوں کی واگزاری کی یقین دہانی بھی کی تاہم ابھی تک اُن کی تنخواہیں واگزار نہیں گی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر اُن کی اُجرتیں فوری طور واگزار نہیں کی گئیں تووہ اپنے اہل خانہ سمیت سڑکوں پر آنے کیلئے مجبورہوجائیں گے۔
 
 

پی ڈی پی لیڈر کایاسین خان کی رہائی کا خیر مقدم

سرینگر//پی ڈی پی لیڈر رئوف بٹ نے کشمیر اکنامک الائنس کے صدرحاجی محمد یاسین خان کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان اور کورونا وائرس کے پھیلائو کے مد نظر سبھی سیاسی و غیر سیاسی لیڈروں کی رہائی بھی عمل میں لائی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کچھ نظر بند عمر رسیدہ ہیںجن میں نعیم اختر،سرتاج مدنی،علی محمد ساگر اور بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم شامل ہیںجبکہ یہ لوگ مختلف عارضوں میں بھی مبتلا ہیں۔
 

شہر میں پینے کے پانی کی قلت

اپنی پارٹی کا اظہار تشویش،حکام سے مداخلت کی اپیل

سرینگر// سرینگر میں ماہ رمضان کے دوران پینے کے پانی قلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر اپنی پارٹی نے انتظامیہ کو فوری طور پر لوگوں کے مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ پارٹی بیان میں سرینگر کے آلوچی باغ، باغ علی مرداں،عمرکالونی،باغوان پورہ،احمدا کدل،زونی مر بٹہ کدل،بٹہ شاہ محلہ،بٹوارہ،شیوپورہ، مغل محلہ، گنز باغ اور دیگر نواحی و مضافاتی علاقوں میں انتظامیہ کو فوری طور پر متحرک ہوکر پانی کی سپلائی کو بحال کرنا چاہئے۔ پارٹی لیڈر عرفان نقیب نے کہا کہ پائین شہر میں پانی کی قلت سے لوگوں کو افطار اور سحری کے وقت سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب حکام اور محکمہ صحت کی جانب سے ہاتھوں کو بار بار صاف رکھنے اور صفائی کا اہتمام کرنے کی ایڈوئزریاں جاری کی جا رہی ہے لوگوں کو کھانے پینے کیلئے بھی پانی میسر نہیں۔ان کا کہناتھا کہ جب تک ملہ شاہی باغ کنال گاندربل کو بحال نہیں کیا جاتا لوگوں تک پانی پہنچانے کیلئے متبادل راستوں کا ستعمال عمل میں لایا جانا چاہئے۔
 
 
 

کھادیں اور جراثیم کش ادویات کو دستیاب رکھا جائے:انجینئر ایتو

سرینگر// پی ڈی پی لیڈر انجینئر نذیر احمد اتیو نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ کسانوں کو کھادیں اور جراثیم کش ادویات دستیاب رکھنے کیلئے اقدامات کریں ۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے کشمیر میں کھاد یںاور جراثیم کش ادویات کی سپلائی متاثر ہے جس کی وجہ سے باغ مالکان پریشان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اگرچہ زرعی اور باغبانی شعبوں کو لاک ڈائون میں معمول کے مطابق کام کرنے کی ہدایت دی ہے تاہم کشمیر میںان دکانوں کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔
 

خاتون جنتؓ کا یوم وصال 

 مولاناریاض ہمدانی کا خراج عقیدت

 سرینگر//خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کے یوم وصال پر جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ملت کی خواتین سے   حضرت فاطمہؓ کی سیرت پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
 
 

گاندربل میں نریگا سرگرمیوں کی دوبارہ شروعات

گاندر بل//ترقیاتی کمشنر گاندر بل شفقت اقبال نے ضلع کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے ایم جی نریگا کے تحت دوبارہ شروع ہوئی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ ترقیاتی کمشنر نے ایم جی نریگا کے تحت مختلف کاموں بشمول نہروں اور کوہلوں کی ڈی سلٹنگ کے کام کا جائزہ لیااور متعلقہ بی ڈی اوز کو ڈی سلٹنگ کا کام مقررہ وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت دی۔
 
 

کرناہ میں تاجروں سے 8ہزار روپے کاجرمانہ وصول 

سرینگر //کرناہ انتظامیہ نے مارکٹ چیکنگ کے دوران ناجائز منافع خوروں سے 8ہزار روپے کا جرمانہ وصول کیا ہے ۔محکمہ مال ، خوراک اور پولیس کی ایک ٹیم نے ایس ڈی ایم کرناہ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ کی ہدایت پر ٹنگڈار ، چھمکوٹ ، کنڈی دلدار ، بٹ پورہ ، کھوڑپارہ ، چھمکوٹ، گبرہ اور دیگر بازاروں کا معائنہ کیا۔اس دوران کوڈ 19کیلئے تعینات نوڈل افسر توحید احمد نے بتایا کہ گلی سڑی سبزیوں کو ضائع کیا گیا۔
 
 

تھیٹر آرٹسٹ شفیق قریشی کو صدمہ ، اہلیہ انتقال کر گئیں

تمدنی اداروں کا اظہار تعزیت

سرینگر// مختلف سماجی ،ادبی اور ثقافتی تنظیموں نے سابق ٹورازم افسر حفیظ النسا کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔وہ مختصر علالت کے بعد اپنے گھر رحمت نگر ہمہامہ میں انتقال کرگئیں ۔مرحومہ نامور تھیٹر ادکاراور محکمہ اطلاعات کے سابق کلچرل اسسٹنٹ شفیق قریشی کی اہلیہ اور معروف کہانی کار شمس الدین شمیم کی بہن تھیں ۔جموں کشمیر کلچرل کونسل کے صدر حسرت گڈا اور جنرل سیکرٹری نثار نسیم نے غمزدہ کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

  کووِڈ۔19کی روکتھام

 ویڈیو نغمہ ’’ وِشواس ‘‘ کی خاتون اول کے ہاتھوں اجرائی 

 جموں//یونین ٹریٹری جموں وکشمیر کی خاتون اوّل سمیتا مرمو نے کووِڈ ۔19کی روکتھام سے متعلق یہاں راج بھون میں ایک ویڈیو نغمہ’’ وشواس ‘‘کا اجرأ کیا۔خاتون اوّل نے اس ویڈیو کے بنانے اور تشکیل دینے والوں کی کوششوںکو سراہا ۔اُنہوںنے کہاکہ اس طرح کی کوششیں اس مہلک بیماری سے تحفظ اور احتیاطی تدابیر اپنانے کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔یہ ویڈیو نغمہ کو سنیل شرما نے تحریر ،کمپوز اور آواز دی تھی ۔ اس موقعہ پر بریگیڈئیر ( ر) ڈ ائریکٹر سینک ویلفیئر بورڈ ہر چرن سنگھ بھی موجو دتھے۔
 
 

سول سیکرٹریٹ سرینگرمیں دفاتر کھلنے کے اِنتظامات 

ملازمین کیلئے ٹرانسپورٹ سہولیات اور ادویات کی دستیابی یقینی بنانے پر زور 

 سر ی نگر//سیکرٹری یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس سرمد حفیظ اورکمشنر سیکرٹری محکمہ فلوری کلچر،گارڈنز اینڈپارکس شیخ فیاض احمد نے  ایک مشترکہ میٹنگ کے دوران سری نگر میں 4مئی کوکھلنے والے سول سیکرٹریٹ دفاتر کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں مختلف محکموں کے کئی اَفسران بھی موجود تھے۔سرمد حفیظ جو ایسٹیٹس محکمہ کے اِنچارج بھی ہیں، نے سول سیکرٹریٹ کے مختلف شعبو ں کا دورہ کیا اور اِنتظامات پر اطمینان کا اِظہار کیا۔اُنہوں نے ڈسپنسری میں سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقین کو ہدایات دیں کہ وہاں معقول مقدار میں اَدویات دستیاب رکھیں۔اُنہوں نے ملازمین کے لئے ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اُنہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ میں کووِڈ۔19 کے تناظر میں صفائی ستھرائی اور سنٹیشن کی طر ف خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے۔سرمد حفیظ نے متعلقہ اَفسروں کو ہدایت دی کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ ملازمین کو کسی بھی قسم کی دِقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اُنہیں ہرطرح کی سہولیات دستیاب رکھی جانی چاہیئے ۔ اِس موقعہ پر اَفسروں نے ملازمین کے لئے کئے جارہے اِنتظامات کا ایک تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ 
 
 
 

لینڈ ریکارڈس کی تجدید کاری

 پون کوتوال کی ممکنہ بولی دہندگان کے ساتھ ویڈ یو کانفرنس  

 جموں//محکمہ مال کے فائنانشل کمشنر ڈاکٹر پون کوتوال نے ممکنہ بولی دہندگان کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس منعقد کی۔جس میں اُنہوں نے ڈی آئی ایل آر ایم پی کے تحت جموںوکشمیر یونین ٹریٹری میں لینڈ ریکارڈس کی تجدید کاری کے لئے 5 مارچ 2020ء کو جاری کئے گئے آر ای پی پر تبادلہ خیال کیا اور اِس سلسلے میں اُٹھائے گئے سوالات کی وضاحت پر غور کیا گیا ۔ پری بِڈ کانفرنس این آئی سی جے اینڈ کے کی طرف سے عمل میں لائے گئے موبائیل ایپ کی استعمال سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کی گئی ۔پراسپیکٹیو بڈرس اور سروے ایکسپارٹ / کنسلٹنٹ ٹی ایل شرما ( سابق ڈائریکٹر سروے آف اِنڈیا) کے ساتھ میٹنگ کے دوران پراسپیکٹیو بِڈرس کے مسائل پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا ۔ اِن کمپنیوں کے نمائندوں نے کچھ تجاویز پیش کیں اور آر ای پی میں ترامیم عمل میں لانے کی درخواست کی۔فائنانشل کمشنر نے کمپنیوں کے نمائندوں کو یقین دِلایا کہ اُن کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔جن کمپنیوں نے ویڈیو کانفرنسنگ میں حصہ لیا اُن میں رام ٹیک ، ہیکساگن ، جیو ، سسٹم ، جی آئی ایس کنسورشیم ، جیو وستا پرائیویٹ لمیٹیڈ اور ایم نیکس انفو ٹیکنالوجز پرائیویٹ لمٹیڈ شامل ہیں۔کمیٹی نے آر ای پی میں چند ترامیم کو منظوری دی ۔اِس موقعہ پر بتایا گیا کہ کمیٹی کی طرف سے منظور کی گئی ترامیم کو jktenders.gov.in پر اَپ لوڈ کیا جائے گا۔دیگر لوگوںمیں ریجنل ڈائریکٹر سروے اینڈ لینڈ ریکارڈس ڈاکٹر مشتاق احمد ،کمشنر سروے اینڈ ایل آر جے اینڈ کے شہنواز بخاری ، ڈائریکٹر فائنانس سیما بھسین اور کنسلٹنٹ جے اے کے ایل اے آر ایم اے ترسیم چند نے ویڈیو کانفرنسنگ میں حصہ لیا۔
 
 

.3آئی اے ایس افسران کے تبادلے 

جموں //حکومت نے 3آئی اے ایس افسران کے تبادلے عمل میں لائے ہیں ۔محکمہ عمومی انتظامی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک حکمنامہ کے مطابق سیکریٹری کوآپریٹو ز محکمہ عبدالمجید بٹ جن کے پاس قبائلی امور محکمہ کا چارج بھی تھا، کو تبدیل کرکے جموں وکشمیر سپیشل ٹریبونل کے چیئرمین کے طور پر تعینات کیاگیاہے ۔وہ یہ عہدہ 30اپریل کے بعد اس وقت ٹریبونل کی چیئرمین سلمہ حمید کی سبکدوشی کے بعد سنبھالیں گے ۔حکومت نے پرنسپل سیکریٹری اینمل و شیپ ہسبنڈری نوین چوہدری کو کوآپریٹو ز محکمہ کا اضافی چارج بھی دیاہے ۔اسی طرح سے پرنسپل سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود شیلندرا کمار کو محکمہ قبائلی امور کا اضافی عہدہ دیاگیاہے ۔
 
 

محکمہ تیکنیکی تعلیم کے کیپکس بجٹ کو حتمی شکل

نوین چودھری کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں خدوخال پرغور

 جموں//محکمہ تکنیکی تعلیم کے پرنسپل سیکرٹری نوین کمار چودھری نے  اَفسروں پر زور دیا کہ وہ کیپکس بجٹ کے تحت محکمہ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کے لئے ہر ممکن اِقدامات کریں۔ پرنسپل سیکرٹری نے اِن باتوں کا اِظہار یہاں ایک میٹنگ کی صدارت کرنے کے دورا ن کیا جس میں تکنیکی تعلیم محکمہ کے کیپکس بجٹ برائے سال 2020-21ء کو حتمی شکل دی گئی۔ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایجوکیشن سجاد حسین گنائی کے علاوہ محکمہ کے کئی دیگر اعلیٰ اَفسران بھی میٹنگ میںموجود تھے۔ اِس دوران کیپکس بجٹ کے مختلف امور کے ساتھ ساتھ کیپکس بجٹ کے تحت ہاتھ میں لئے جانے والے نئے کاموںپر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ بنیادی ڈھانچے کو بڑھاوا دینے کے لئے کپکس بجٹ کے تحت 49.58کروڑمختص رکھے گئے ہیں ۔میٹنگ میں کہا گیا ہے کہ پالی تکنیک سیکٹر کوبڑھاوا دینے کیلئے 20.50کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں ۔ علاوہ ازیں آئی ٹی آئی سیکٹر کو بڑھاوا دینے کے لئے 29.08کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں۔آئی ٹی آئی سیکٹر کے تحت مشینری اور سازو سامان حاصل کرنے کے لئے 26.58کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں۔ا ِس سے قبل تکنیکی تعلیم محکمہ کے اعلیٰ اَفسروں نے میٹنگ میں مختلف سکیموں اور پروجیکٹوں کی تفاصیل پیش کیں۔پرنسپل سیکرٹری نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ باہمی تال میل کے ساتھ کام کر کے تمام پروجیکٹوں کی معیاد بند مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ جموںوکشمیر کے طلاب کو بہتر بنیاد ی ڈھانچہ فراہم ہوسکے۔
 
 

 جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں

 اسلام آباد میںبھارت کے ناظم الامور دفتر خارجہ طلب 

اسلام آباد//پاکستان نے سوموار کو بھارتی ہائی کمیشن کے سینئرسفارتکارکودفترخارجہ طلب کرکے بھارتی فوج کی طرف سے حدمتارکہ پر جنگ بندی معاہدے کی مبینہ کلاف ورزیوں پر احتجاج درج کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق جنوب ایشیاء کے ڈائریکٹر جنرل زاہدحفیظ نے بھارت کے ناظم الامورگورواہلووالیا کوطلب کیااورجندروٹ اورکھوریٹیاں سیکٹروں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پراحتجاج درج کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے جندروٹ سیکٹر میں ایک36برس کی خاتون ہلاک ہوئی جبکہ ایک 9برس کا بچہ کھوریٹیاں سیکٹرمیں شدیدزخمی ہوا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کی فوج حدماترکہ اوربین الاقوامی سرحد پرشہری آبادی کومسلسل نشانہ بنارہی ہے ۔اس سے قبل دن کو سرینگر میں بھارتی حکام نے کہا کہ پاکستان نے اوڑی سیکٹر میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بلااشتعال فائرنگ کی ۔پاکستانی فوج نے بھارت کی چوکیوں پر ہلکے اور بھاری مشین گنوں سے گولہ باری کی۔
 
 
 
 
 

کولڈ اسٹوروں میں ذخیرہ30 لاکھ سیب کی پیٹیاں

بیرونی ریاستوںمیں لے جانے کیلئے محفوظ راہداری یقینی بنانے کا مطالبہ 

سرینگر//وادی کے میوہ تاجروں کو توقع ہے کہ ماہ رمضان کے دوران سیب کی خرید وفروخت میں اضافہ ہوگااورحکام بھی اس میوہ کی خریدوفروخت کی اجازت دیں گے۔ گزشتہ برس ہڑتال اور نامساعد حالات کے بیچ میوہ تاجروں نے وادی کے قریب22کولڈ اسٹوروں میں قریب350کروڑ روپے  مالیت کے اعلیٰ معیار والے قریب ایک لاکھ ٹن کا میوہ ان توقعات کے ساتھ ذخیرہ کیا تھا کہ امسال مارچ ،اپریل میں بیرون ریاستوں کے بازاروں میں اچھی خریداری ہوگی۔ بھارت بھر میں تاہم گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری لاک ڈائون کے نتیجے میں یہ میوہ کولڈ اسٹوروں میں رہا اور بیرون ریاست کی منڈیوں تک پہنچ نہ سکا۔ میوہ تاجروں کا کہنا ہے کہ عنقریب ہی حالات ٹھیک ہونے کی توقع نہیں ہے اور یہ میوہ تاجروں کیلئے سفید ہاتھی ثابت ہو رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کولڈ اسٹوروں میں فی پیٹی وہ ہر ماہ30سے35روپے کا کرایہ بھی ادا کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاجروں کی توقع تاہم مقامی طور پر اس میوہ کو فروخت کرنے پر ہے تاہم اس کیلئے حکام کو سہولیات کار بننا پڑے گا۔ میوہ تاجروں کا کہنا تھا کہ ان اعلیٰ معیاری سیبوں کو عام طور پر پرچون کمپنیوں ،ریلائنس فریش اور بگ باسکٹ کو فروخت کیا جاتا ہے اور ان کی ا چھی قیمت بھی وصول ہوتی ہے۔ میوہ تاجروں کا ماننا ہے کہ مقامی طور پر جس مقدار میں بھی وہ اس میوہ کو فروخت کریں گے کم از کم اس سے ان کے نقصانات کم ہوںگے،ورنہ امسال وہ میوے کا تجارت نہیں کر پائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کے کولڈ اسٹوروں میں30لاکھ سے زائد سیب کی پیٹیاں ذخیرہ کی گئی ہیں۔ ان تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہے کہ وہ سیب کی ٹرکوں کو بیرون ریاستوں میں جانے کیلئے محفوظ راہداری فراہم کریں اور حکام کو بھی مطلع کیا جائے کہ غیر ضروری طور پر ان گاڑیوں کو روکا نہ جائے۔
 
 

مختلف ریاستوں میں درماندہ کشمیریوں کوواپس لایا جائے:حکیم

 سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی مختلف ریاستوں میں درماندہ کشمیری مزدوروں ،تاجروں ،شال پھیری والوں اور طلباء کی حالت زار پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو سے اپیل کی ہے کہ انہیں دیگر ریاستوں کی طرح ، گھر واپس لانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جانے چاہیے۔ حکیم یاسین نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی اکثر ریاستوں میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیری مزدور ، میوہ تاجر ، شال پھیری والے اور طالب علم درماندہ ہیں، جو کسمپرسی کی حالت دن گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ انکے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ باقی بچا ہے ،نہ انہیں سرچھپانے کیلئے جگہ میسر ہے۔ حکیم یاسین نے حکومت سے پر زور مانگ کی ہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے درماندہ کشمیر ی مزدوروں اور طلباء کو واپس لانے کے لئے فوری طور انتظامات کیے جا ئیں۔
 
 

غیرکورونامریضوں کا علاج معالجہ 

ہسپتالوں میں مشکلات درپیش :ڈاک

سرینگر//کوروناوائرس پرزیادہ توجہ مرکوزکئے جانے کی وجہ سے دیگربیماریوں میں مبتلاء مریضوں کوبروقت علاج نہیں مل رہا ہے ۔اس بات کااظہار ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نثارالحسن نے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کے بغیر دیگر بیماریوں میں مبتلاء مریضوں کوسخت مشکلات درپیش ہیں ۔لوگوں کو اُن کے طبی مسائل کامداوانہیں مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دائمی امراض میں مبتلاء مریضوں جنہیں مسلسل ڈاکٹری ملاحظہ ومشورہ کی ضرورت ہوتی ہے،کیلئے بھی یہ ممکن نہیں رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف خوف کی وجہ سے لوگ اسپتالوں کارُخ کرنے سے گریز کرتے ہیں،بلکہ یہ تاثر بھی ہے کہ اسپتال کووِڈ19کے بغیر دیگر مریضوں کیلئے بند ہیں ۔انہوں نے مزیدکہا کہ مریضوں سے کہا جارہا ہے کہ کووِڈ کے بغیر کسی دوسری بیماری میں مبتلاء مریضوں کیلئے نہ ہی افرادی قوت ہے اور نہ ہی وسائل۔  ڈاکٹرنثار نے کہا کہ ہم نے بہت سارے لوگوں کودیکھاجوہنگامی حالات میں بھی اسپتال نہیں جاتے،لوگ گھروں میں مررہے ہیں اوراُن میں سے کچھ کی حالت قابل علاج ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عارضہ قلب یا اسٹروک کے مریض دیر سے علاج کیلئے آتے ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اوران کی حالت بھی غیر ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن مریضوں کو پیٹ میں درد ہو،جیسے زائدآنت کی سوزش،جگرمیں پتھری وغیرہ جیسی طبی ہنگامی حالات ہو،انہیں بھی بروقت اسپتال پہنچنا لازمی ہے اور کسی تاخیر کی وجہ سے انہیں آئی سی یو میں کافی دیر تک پھرانہیں رہناپڑسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ذیابیطس،بلندفشار خون میں بھی مریضوں کوطبی مشوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کینسر کی جراحیاں موخر کئے جانے کی وجہ سے کینسر کے مریضوں میں بیماری پھیل جاتی ہے ۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وباء کے باوجود بھی لوگوں کو دل کادورہ پڑسکتا ہے یااُن کے دماغ کی نس پھٹ سکتی ہے ،بچے جنم لیتے ہیں اورآنتیں بھی پھٹ رہی ہیں ۔صحت عامہ کے حاکموں کو یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ اسپتالوں میں کوروناوائرس کے علاوہ بھی بیماریوں کا علاج ہوتا ہے ۔
 
 

فرضی نیوز کی تشہیر

ادھمپور میں نیوز پورٹل کے خلاف کیس درج

یو این آئی

جموں// جموں وکشمیر پولیس نے ضلع ادھم پور میں ایک نیوز پورٹل کے خلاف فرضی نیوز مشتہر کرنے کے پاداش میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ایس ایس پی ادھم پور راجیو پانڈے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا،’’'سوشل میڈیا کی سائٹس جیسے فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، وٹس ایپ وغیرہ کی مسلسل اور باریک بین نگرانی کے دوران ہم نے دیکھا کہ’’ادھم پور ڈوگری لنک نیوز‘‘نامی ایک نیوز پورٹل نے اپنے فیس بک پیج پر ایک فرضی نیوز اپ لوڈ کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ادھم پور کے اسکان مندر کے نزدیک چارجنگجوئوں کو دیکھا گیا اور انہوں نے ایک جگہ فائرنگ بھی کی۔ پولیس نے ان میں سے دو جنگجوئوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ پولیس اس نیوز پورٹل کے چلانے والے کو تلاش کررہی ہے جس نے یہ فرضی نیوز اپ لوڈ کی ہے۔ ایس ایس پی موصوف نے بتایا کہ  اس سلسلے میں ایک کیس درج کرکے تحقیقاتی شروع کی گئی ہیں۔انہوں نے لوگوں سے تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے بنیاد خبریں پھیلانے والوں کے بارے میں پولیس کو اطلاعات فراہم کریں۔
 
 

گاندربل میں ایم جی نریگا سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز

ترقیاتی کمشنر نے ضلع میں کاموں کا جائزہ لیا

گاندر بل//ترقیاتی کمشنر گاندر بل شفقت اقبال نے ضلع کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے ایم جی نریگا کے تحت دوبارہ شروع ہوئی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اے ڈی سی ،ڈسٹرکٹ پنچایت آفیسر اور بی ڈی اوکے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی ترقیاتی کمشنر کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ترقیاتی کمشنر نے ایم جی نریگا کے تحت مختلف کاموں بشمول نہروں اور کوہلوں کی ڈی سلٹنگ کے کام کا جائزہ لیااور متعلقہ بی ڈی اوز کو ڈی سلٹنگ کا کام مقررہ وقت میں پائیہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت دی۔ضلع میں بیشتر زرعی سرگرمیاں پہلے ہی شروع کی جاچکی ہیں۔اس موقعہ پر ترقیاتی کمشنر نے کامگاروں کے ساتھ بات چیت کی جنہوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے ایم جی نریگا کے کاموں کی شروعات کرنے کی اجازت دینے پر سراہنا کی ۔ترقیاتی کمشنر نے کامگاروں پر سماجی دوُری برقرار رکھنے پر زور دیا۔
 
 

کووِڈ-  19سے زیادہ خطرناک نفسیاتی امراض:ماہرین

 کورونا وائرس لاک ڈائون کے باعث ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ

یو این آئی

سری نگر// کورونا وائرس کے خوف اور اس کے پیش نظر نافذ لاک ڈاؤن سے وادی کشمیر میں ذہنی صحت کی حالت بد سے بدتر ہورہی ہے جس کے باعث جہاں ایک طرف گھروں کا چین وسکون برباد ہورہا ہے وہیں یہ وبا کورونا وبا سے بھی بھیانک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔ادھر وادی میں بعض تنظیمیں سرگرم ہوگئی ہیں جو لاک ڈاؤن کے بیچ ذہنی مریضوں کو ضروری سہولیات بہم پہنچانے میں مصروف عمل ہیں۔ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ وادی میں پہلے ہی ہر پانچ افراد میں سے تین افراد ذہنی مریض ہیں اور کورونا وبا اور اس کے پیش نظر لاک ڈاؤن سے صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے۔ماہر نفسیات ڈاکٹر عارف مغربی خان نے کہا کہ کورونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے تمام لوگوں کی روز مرہ کی زندگی کے معمولات متاثر ہوئے ہیں اور نتیجتاً ذہنی مسائل نے جنم لیا ہے۔انہوں نے کہا،’’کشمیر میں ذہنی صحت کے زیادہ متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو گذشتہ برس پانچ اگست کے بعد لاک ڈائون کے ساتھ ساتھ ایک عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت بھی غیر یقنی صورتحال سایہ فگن ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ لاک ڈائون اگر کھلے گا تو کب کھلے گا‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا،’’کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں بہت زیادہ ڈر بھی ہے۔ اب جو پہلے سے ذہنی صحت کے متعلق امراض میں مبتلا تھے یا ٹھیک ہوچکے تھے ان کی حالت زیادہ ہی خراب ہے۔ ایسے افراد نے ذہنی مسائل سے باہر نکلنے کے لئے مختلف کام شروع کئے تھے لیکن اب وہ سب متاثر ہوچکا ہے‘‘۔ڈاکٹر عارف نے کہا کہ جن افراد کو ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے انہیں ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے۔ تاہم ان کا ساتھ ہی کہنا تھا،’’ڈاکٹروں کے پاس جاتے وقت انہیں سماجی دوری کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ زیادہ بہتر یہ ہوتا اگر یہاں ایسے مریضوں کی آن لائن کونسلنگ ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہمارا سست رفتار انٹرنیٹ اس کی اجازت دیتا ہے‘‘۔ذہنی مریضوں کو مدد بہم پہنچانے والے ایک ادارہ 'اتفاق، یونائیٹڈ وی سٹینڈ' سے وابستہ اور انسٹی چیوٹ آف منٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنسز کشمیر کی ریسرچ اسکالر نادیہ اشفاق کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ خوف کو دور کرنے کے متعلق ہم سے کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خوف کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ کورونا وائرس کے متعلق اپ ٹو ڈیٹ رہیں اور سوشل میڈیا پر آنے والے ہر پوسٹ کو پڑھیں  اورنہ شیئر کریں۔موصوفہ کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ ذہنی مریضوں کو اس مشکل گھڑی میں ماہرین نفسیات کی سہولیات فراہم کرتے ہیں اور انہیں دیگر ضروری مشورے دینے کے لئے اقدام کررہا ہے۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ وادی میں پانچ اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے باعث ذہنی مرض ایک وبا کی شکل اختیار کرگیا تھا لیکن اب کورونا وبا نے اس کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وادی میں مختلف شعبہ ہائے حیات جیسے سیاحت، ٹرانسپورٹ سے جڑے لوگوں اور دیگر تجارت پیشہ لوگ بالخصوص مزدور طبقے میں ذرائع معاش مفقود ہونے کے باعث ذہنی مرض نہ صرف مزید سنگین ہوگیا ہے بلکہ اس نے مزید لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے اور صحت یاب ہوئے مریضوں میں بھی یہ بیماری دوبارہ زندہ ہوگئی ہے۔محمد علی نامی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری نے کہا کہ کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے ذہنی مرض میں اضافہ ہوا ہے اور وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن سے لوگوں خاص کر ٹرانسپورٹ اور سیاحت سے جڑے لوگوں، دکانداروں، مزدروں، ریڈہ بانوں کا روز گار متاثر ہونے سے وہ ایسی پریشانیوں میں گرفتار ہوئے ہیں جو ذہنی صحت پر اثر انداز ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں سے نہ صرف ان کے خاندان کا امن وسکون درہم و برہم ہوگا بلکہ معاشرے پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔سینئر ذہنی صحت تھراپسٹ نازیہ رشید کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خوف سے ہمارے تمام کام متاثر ہوجاتے ہیں لہٰذا اپنی ذہنی صحت کو صحت مند رکھنے کے لئے ہمیں لاک ڈاؤن کو معمولات کا حصہ بنالینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ذہنی صحت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو بھی وقت دیں اور گھر والوں کے ساتھ بھی ٹھیک وقت گذاریں۔موصوفہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی خوراک کی طرف خاص توجہ دینے اور کورونا کے بارے میں جاری کی جارہی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے تاکہ ہم اس وبا سے بھی محفوظ رہ سکیں اور ہمارا ذہنی صحت بھی برقرار رہ سکے۔قابل ذکر ہے کہ سن 2015 میں ڈاکٹرس ودآوٹ بارڈرس اور انسٹی چیوٹ آف منٹل ہیلتھ اور نیورو سائنسز سری نگر نے کشمیر میں ذہنی صحت پر ایک جامع سروے کیا جس میں یہ پایا گیا ہے کہ یہاں ذہنی صحت کے مسائل وباء کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔متذکرہ سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ 18 لاکھ کشمیری، جو یہاں کی آبادی کا 45 فیصد حصہ بنتا ہے، میں ذہنی امراض کی علامتیں موجود ہیں۔ سروے میں پایا گیا تھا کہ وادی میں 16 لاکھ بالغان میں ڈپریشن کی واضح علامتیں موجود ہیں۔ دس لاکھ ایسے ہیں جن میں اینگزائٹی (ذہنی دبائو) کی علامتیں موجود ہیں۔ 93 فیصد کشمیری وہ ہیں جنہیں وادی میں جاری شورش کے متعلق ٹراما کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
 
 
 

محکمہ اطلاعات کے تعاون سے ٹیلی کلاسز کی سراہنا

 جموں//طلباء کو اُن کی دہلیز پر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے ایک حصے کے طور پر ڈائریکٹوریٹ آف اِنفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ( ڈی آئی پی آر) کے تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے کے تعاون سے ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر نے کووِڈ 19کے پیش نظر جموں وکشمیر کے لاکھوں طلباء کو سکولوں کے بند ہونے کے باوجود تعلیمی سہولیات سے مستفید کیا ۔یہ پروگرام جسے 25مارچ 2020ء سے شروع کیا گیا اور اب تک کے لاک ڈاون مدت کے دوران جاری رکھا گیاکی بدولت ساتویں جماعت سے دسویں جماعت کے نصاب میں سے ٹرم۔I پڑھانے کے لئے ٹیلی کلاسز کا اہتمام کیا گیا ۔ اِن اقدامات کی بدولت عالمی سطح پر وباکے پیش نظر طلباء کو اُن کی تعلیمی سرگرمیو ںمیں نقصان نہ ہونے دیا گیا۔آدھے گھنٹے کی مدت کے ٹیلی کلاسز ڈی ڈی کاشر پر کسی خاص مضمون پر روزانہ ساڑھے پانچ شام نشر کئے جاتے ہیں اور اگلے دِن چار بجے شام یہی پروگرام دوبار نشر ہوتا ہے ۔ہر دِن ایک نیا لیکچر نشر کیا جاتا ہے جسے مکمل ہونے کے لئے کئی بار دو لیکچروں پر توسیع دی جاتی ہے۔ان کلاسوں کے انعقاد کے لئے سرکاری سکولوں کے ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل کئے گئے ہیں اور ریکارڈنگ ڈی آئی پی آر کے سٹیڈیو میں عمل میںلائی جاتی ہے ۔ محکمہ اطلاعات ان پروگراموں کو ماہر عملے کے تعاون سے مزید دلکش اور مفید بنانے کا عمل جارے رکھے ہوئے ہیں۔ان لیکچروں میں کووِڈ۔19کے پھیلائو کے روکنے سے متعلق بیداری کے اہم احتیاطی تدابیر بھی شامل کئے جاتے ہیں۔محکمہ اطلاعات اور محکمہ تعلیم کی طرف سے شروع کی گئی اِن کاوشوں کی طلباء اور والدین نے بڑے پیمانے پر سراہنا کی ہے۔