مزید خبرں

رسوئی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات 

خورشید گنائی نے ذخیرہ کرنے کی پوزیشن کا جائزہ لیا

جموں//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے محکمہ خوراک و رسدات کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی جس میں ریاست میں رسوئی گیس ، ڈیزل ، تیل خاکی اور پیٹرولیم مصنوعات کی سٹاک و سپلائی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی کمشنر کشمیر نے میٹنگ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔کمشنر سیکرٹری خوراک و رسدات ، ڈائریکٹر خوراک و رسدات کشمیر ، ڈائریکٹر خوراک و رسدات جموں ، کنٹرولر ایل ایم ڈی ، انڈین آئیل کارپوریشن ، بھارت پیٹرولیم ، ہندوستان پیٹرولیم کے نمائندوں کے علاوہ متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔وادیٔ کشمیر کے دور درا ز علاقوںمیں موسم سرما کے سلسلے میں اشیائے خوردنی و دیگر مصنوعات کے ذخیرہ کرنے سے متعلق تفصیلات دیتے ہوئے محکمہ کے افسروں نے بتایا کہ کل 245844 رسوئی گیس کے سلنڈر ،3019 کلولیٹر تیل خاکی،10079 کلولیٹر ایچ ایس ڈی اور 4683 کلولیٹر ایس کے او سٹاک کئے گئے ہیں۔اسی طرح یہ اشیائے ضروریہ جموں صوبے میں بھی سٹاک کئے گئے ہیں۔مشیر موصوف نے اِن تمام اشیاء کی موجودہ سٹاک وسپلائی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہوئے افسران پر زور دیا کہ وہ ریاست کے برف کے ڈھکے علاقوں میں وافر مقدار میں اشیائے ضروریہ دستیاب رکھیں۔ انہوں نے متعلقہ کمپنی کو ہدایت دی کہ وہ لگ بھگ 21دِنوں کے لئے رسوئی گیس کا سٹاک برقرار رکھیں تاکہ مقامی آبادی کو کسی بھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔مشیر موصوف نے ڈائریکٹر خوراک و رسدات کشمیر سے کہا کہ وہ تیل خاکی سپلائی سے متعلق یوٹیلائزیشن سر  ٹیفکیٹ پیش کریں تاکہ صارفین کو صحیح وقت پر تیل خاکی کا کوٹا واگزار کیا جاسکے ۔مشیر موصوف نے کنٹرولر ایل ایم ڈی کو ہدایت دی کہ وہ گوشت ، چوزے و بیکری جیسے اشیائے خوردنی کی صحت و صفائی یقینی بنانے سے متعلق ضروری اقدامات عمل میں لائیں ۔
 

گاندھی نگر کالج میں بیداری پروگرام 

جموں //گور نمنٹ وومن کالج گاند ھی نگر کے کیرئیر کونسلنگ سیل اور ’دی سہارہ ‘نامی تنظیم کے اشتراک سے بیداری پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔’ذہنی تندروستی ‘پر منعقدہ شدہ اس پروگرام میں گاندھی نگر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر کوشل سموترہ بطور مہمان خصوصی شامل ہوئے جبکہ ان کے علا وہ ٹائمز نو کے پردیپ دتا،شگن سنگھ ،ڈاکٹر رمیندر جیت سنگھ ودیگران نے بھی شرکت کی ۔اس موقعہ پر اراکین نے مذکورہ موضوع کے تحت اپنے خیالات کا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ جسمانی صحت کیساتھ ساتھ ذہنی تندرستی بھی ضروری ہے ۔اس بیداری پروگرام میں تمام شعبوں کے پروفیسروں و سٹاف ممبران نے بھی شرکت کی ۔
 
 

اکھنور میں فوج نے نمائش کا اہتمام کیا 

جموں //فوج کی جانب سے اکھنور میں سکولی طلباء کیلئے ہتھیاروں کی نمائش کیلئے ایک پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔اس نمائش کے دوران فوج کی طرف سے کئی طرح کے آلات اور دیگر ہتھیاروں کی نمائش کرکے بچوں اور مقامی لوگوں کو ان ہتھیاروں کی صلاحیتوں کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی ۔اس نمائشی میلے کے دوران8سکولوں اور 2ڈگری کالجوں کے 15سو سے زائد طلباء اور بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی ۔میلے کے دوران ایس ڈی ایم اکھنور اور ایس ڈی پی او کے علاوہ سیول انتظامیہ کے دیگر ملازمین نے بھی شر کت کی ۔
 

نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کا احتجاج جاری

جموں //نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین نے اپنی مانگوں کو لے کر شروع کردہ احتجاج 6ویں روز بھی جاری رہا ۔ملازمین کی مستقلی ،ساتویں پے کمیشن کی سہولیات ،سوشل سیکورٹی ودیگر مانگوں کو لے کر ملازمین نے جموں پریس کلب میں اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ملازمین نے ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ان کی مانگوں کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو مجبور ہو کر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی عرصہ سے ملازمین اپنی جائز مانگوں کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں لیکن ریاستی انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کو ئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔ جو ائنٹ کو آر ڈنیشن کمیٹی کے بینر تلے اپنی مانگوں کو لے کر ملازمین نے جموں پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر امتیازی سلوک روارکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مارچ 2017میں ان کی پندرہ روز ہڑتال کے بعد حکومت کی طرف سے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرناتھی تاہم آج دو سال ہونے کوہیں مگر یہ رپورٹ پیش نہیں ہوسکی ۔ان کاکہناتھاکہ اس کمیٹی نے ان کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے تاخیری حربے اپنائے اور کوئی مثبت کام نہیں کیا ۔ این ایچ ایم ملازمین نے مزید بتایاکہ بیس دسمبر 2017سے پھر سے انہوں نے ریاست گیر ہڑتال شروع کی جو 22جنوری کو اس وقت کے وزیر صحت اور شعبہ صحت کے پرنسپل سیکریٹری کی اس یقین دہانی پر ختم کی گئی کہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے لیکن ابھی تک ریاستی انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں بدھ کو ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے ملازمین کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کی جائز مانگوں کو جلداز جلد حل کیا جائے گا لیکن اس کے بعد ملازمین نے کسی بھی عملی کارروائی تک اپنی ہڑتال کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہڑتال کو 20جنوری تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
 

وادی میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم 

سردی شروع ہو تے ہی انتظامیہ پوری طرح مفلوج :نظام الدین بٹ 

جموں //پی ڈی پی سنیئر لیڈر نظام الدین بٹ نے کہا کہ موسم سرما کے شروع ہو تے ہی وادی میں عوام تمام طرح کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں ۔انہوں نے ریاستی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس وقت عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔پی ڈی پی دفتر جموں میں منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کشمیر میں عوامی مشکلات کا جائزہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حاملہ خاتون کو ہسپتال میں سہولیات فراہم نہیں کی گئی اور ایسے واقعات سے ریاستی گورنر انتظامیہ کی جانب سے کئے جارہے دعوئوں کی قلعی کھل جاتی ہے ۔پی ڈی پی لیڈر نے کہاکہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں عوام تمام طرح بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے کو ئی دھیان نہیں دیا جا رہا۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ضلع میں گریڈ اسٹیشن پتو ساہی کو جلداز جلد شروع کر نے کے علا وہ ،کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ میں آنے والے زمینوں کے مالکان کو نوکری کی فراہمی ،زیر تعمیر پروجیکٹوں کو جلداز جلد مکمل کرنے ،پی ایم جی ایس وائی کے تحت زیر تعمیر سڑکوں کو بھی جلداز جلد مکمل کرنے کے علا وہ عوام کو دیگر سہولیات فراہم کی جائیں ۔
 
 

مختلف وفود اورشخصیات نے ریاستی گورنر سے ملاقات کی 

جموں//لداخ مسلم کاڈی نیشن کمیٹی لیہہ کا ایک وفدصدر انجمن معین الاسلام لیہہ ڈاکٹر عبدالقیو م کی قیادت میں گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقی ہوا۔وفد نے مطالبات کا ایک چارٹر گورنر کو سونپا جن میں لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کی نشستوں کی از سر نو حد بندی کرنا ، لیہہ او رکرگل ضلع کے اقلیتیوں کے لئے ایم ایل سی نشستیں مخصوص رکھنا اور کئی دیگر مطالبات شامل تھے۔گورنر نے مطالبات غور سے سنے اور یقین دلایا کہ ان پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔اسی دوران سری نگر میونسپل کارپوریشن کی کارپوریٹروں کا ایک وفد ڈپٹی میئر ایس ایم سی شیخ محمد عمران کی قیادت میںایک وفد گورنر کیساتھ ملاقی ہوا ۔وفد نے گورنر کو ایس ایم سی کے ترقیاتی معاملات سے جڑے امور اور عوامی اہمیت کے کئی مطالبات گورنر کی نوٹس میں لائے ۔وفد نے کارپوریٹروں کو رہائشی سہولیت اور سیکورٹی فراہم کرنا ، ماہانہ مشاہرے میں اضافہ کرنا ، ڈل جھیل کے اطراف کو خوبصورت بنانا اور شہر سری نگر میں پی یو بی جی گیم پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔ گورنر نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پر غور کیا جائے گااور انہیں پورا کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔اسی طرح شیر کشمیر یونیور سٹی آف ایگریکلچر سائنسزاینڈ ٹیکنالوجی ٹیچنگ ایسو سی ایشن جموں کا ایک وفد اس  کے صدر ڈاکٹر وکاس شرما کی قیادت میںگورنر ستیہ پال ملک کے ساتھ ملاقی ہوا۔ وفدنے یونیورسٹی میں مشتہر کی گئی مختلف اسامیوں کے لئے سلیکشن عمل جلد از جلد مکمل کرنے ، سکاسٹ جے کے لئے نئی فیکلٹی منظور کرانے ، یونیورسٹی میں سی اے ایس کی عمل آوری ، یونیورسٹی قوانین کے مطابق ایڈہاک ازم کو دور کرنے ، تدریسی و غیر تدریسی اسامیوں کو جلد پُر کرنے اور یونیورسٹی میں سریکلچر ڈویژن کی بحالی جیسے مطالبات گورنر کے سامنے رکھے ۔گورنر جو سکاسٹ جموں کے چانسلر بھی ہیں نے کہا کہ ان معاملات کا جائزہ لیا جائے گااور ان پر ضروری کارروائی عمل میںلائی جائے گی۔ڈاکٹر وویک آریہ ، ڈاکٹر پی کے رائے ،ڈاکٹر ہریش شرما اور ڈاکٹر اشوک کمار بھی وفد میںشامل تھے۔درین اثنائکرگل ضلع سے تعلق رکھنے والا ایک وفد ایم ایل سی وکر م رندھا وا کی قیاد ت میں گورنرسے ملاقی ہوا۔وفد نے مطالبات کی ایک فہرست گورنر کو پیش کی جن میں لداخ کو ڈویژنل سٹیٹس دینا ، زوجیلہ ٹنل کی از سر نو ٹینڈرنگ ، کرگل ہوائے اڈے کے توسیعی کام کو جلد ازجلد مکمل کرنا ، کرگل میں سینٹرل یونیورسٹی قائم کرنا ، کئی سڑک پروجیکٹ جلد از جلد مکمل کرنا ، سرکاری سکولوںکو بڑھاوا دینا اور کئی مطالبات شامل تھے۔گورنر نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی طرف سے اجاگر کئے گئے مطالبات پر کارروائی عمل میںلائی جائے گی ۔انہون نے وکرم رندھا وا پر زور دیا کی وہ عوامی بہبودی کے کام جاری رکھیں۔جے اینڈ کے سکھ یوتھ آرگنائزیشن کا ایک وفد جس کے چیئرمین ایس امن جیت سنگھ کی قیادت میں گورنرکیساتھ ملاقات کر کے سکھ برادری کے کئی معاملات کو اُجاگر کیا جن میں کنجونی چوک میں بابا بنڈا سنگھ بہادر کا مجسمہ نصب کرنا ، گول گجرال میں ہاکی سٹیڈیم تعمیر کرنا ،گول گجرال کو ماڈل ولیج کے طور پر مکمل طور سے ترقی دینا ، سکولوں میں پنجابی زبان متعارف کرنا ، کشمیر صوبے میں پنچوں اور سرپنچوں کو سیکورٹی فراہم کرنا اور سکھ طبقے کو فیصلے سازی کے اداروں میں مناسب نمائندگی دینا جیسے مطالبات شامل تھے۔گورنر نے وفد کو یقین دلایاکہ ان کے جائزہ مطالبات پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔
 
 

 جموں توی اور رائیل سپرنگ گالف کورس کوترقی دی جارہی ہے: سیکرٹری سیاحت

جموں//محکمہ ابریشم اور محکمہ سیاحت مشترکہ حکمت عملی کے تحت ریاست میں سری۔سیاحت متعارف کررہے ہیں۔ جس سے دونوں شعبوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ روزگار کے وسائل پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں جموں توی اور رائیل سپرنگس گالف کورس سری نگر میں ماڈل ملبری گارڈن قائم کئے جارہے ہیں اور کورسوں کے راستوں کے کناروں اور مناسب جگہوں پر اعلیٰ اقسام کے خوشنما توت کے پیڑ لگائے جائیں گے۔اِن باتوں کا اِظہار سیکرٹری سیاحت ریگزن سمفل کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں کیاگیا جس میں ناظم ابریشم گلزار احمد شبنم ؔ ، سیکرٹری جموں توی گالف کورس کے علاوہ محکمہ ابریشم اور سیاحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈائریکٹر سریکلچر نے بتایا کہ جموں توی گالف کورس 6کنال اراضی پر ایک ماڈل ملبری گارڈن قائم کیا جائے گا جس کے لئے نمائش اور خوشنما توت کے پیڑ بہم رکھے گئے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں شجرکاری کی جائے گی جبکہ رائیل سپرنگس گالف کورس سری نگر میں آئندہ مارچ میں یہ کام شروع کیا جائے گا۔اُنہوں نے کہاکہ محکمہ ابریشم توت کے اعلیٰ اقسام کے پیڑوں کے علاوہ محکمہ سیاحت کو عام ترتکنیکی جانکاری اور بہتر نشو نما اور رکھ رکھائو کے لئے مناسب تعاون بہم رکھے گا۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سیاحت نے کہا کہ ریاست میں دیگر سیاحتی مقامات کو بھی سری۔ سیاحت کے تحت مرحلہ وار طریقے پر لائے جائے گا۔ اُنہوں نے دونوں محکموں پر زور دیا کہ اس کے لئے ایک مکمل سروے کی جائے تاکہ حسب ضرورت ایک جامع منصوبہ کے تحت سری۔ سیاحت کو فروغ دیا جائے ۔ اُنہوں نے اس ضمن میں اراضی کے بہتر استعمال کے ساتھ ساتھ کم لاگت والے پروجیکٹوں کی عمل آوری پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سری۔ سیاحت کو سیاحوں کی دلچسپی کے ساتھ ساتھ معاشی اعتبار سے بھی کافی اہمیت ہے ۔ اُنہوں نے محکمہ سریکلچر کی طرف سے مختلف محکموں کے ساتھ مل کر ایک ہمہ رُخی حکمت عملی کے تحت منصوبے ترتیب دینے اور عملانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ سیاحت کو بھی ان کوششوں سے کافی فائدہ ملے گا۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ سری۔ سیاحت کے پروجیکٹوں کو عملانے کے لئے حسبِ ضرورت ماہرانہ مشوروں سے اِستفادہ کیاجا نا چاہیئے۔
 

 بچوں کے تحفظ اور حقوق پر ورکشاپ کا اہتمام 

جموں//جموں کشمیر انٹگریٹیڈ چائیلڈ پروٹیکشن سروسز ( جے کے آئی سی پی ایس) اور جموں کشمیر چائیلڈ ریسورس سینٹر ( جے کے سی آر سی )نے جموں صوبے کے چائیلڈ ویلفیئر کمیٹیوں کے لئے ایک روزہ ورکشاپ منعقد کیا۔ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد سی ڈبلیو سیز کو بچوں کی تحفظ سے متعلق خاص تربیت فراہم کرنی تھی۔اس موقعہ پر بچوں کو ادارہ یاتی و غیر ادارہ یاتی تحفظ فراہم کرنے میں سی ڈبلیو سیز کے رول کو اُجاگر کیا گیا۔ بچوں کے حقوق کو حقیقت کا جامہ پہنانے کے سلسلے میں اس موقعہ پر بچوں کے موافق ماحول پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔ چیئرپرسن سلیکشن کم اوور سائیٹ کمیٹی جسٹس حسنین مسعودی اس موقعہ پر مہمان خصوصی تھے جنہوںنے چائیلڈ ویلفیئر کمیٹیوں کی کارکردگی میں بہتری لانے پر زور دیا۔ اُنہوں نے بچوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنے میں تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔سٹیٹ مشن ڈائریکٹر آئی سی پی ایس جی اے صوفی اور جے کے سی آر سی کے چیئرمین نے اس موقعہ پر بچوں کے حقوق محفوظ رکھنے میں سی ڈبلیو سیز کے رول کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے جے اینڈ کے جوینائل جسٹس ایکٹ کی تمام شراکت داروں کی طرف سے مؤثر عمل آوری یقینی بنانے پر بھی زوردیا۔ ریسورس پرسن نہاگندوترا ، راہل شرما ، ڈاکٹر روف محی الدین ملک اور جنید الاسلام نے سی ڈبلیو سی و دیگر شراکت داروں کی طر ف سے بچوں کی تحفظ کے لئے کئے جارہے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔
 

محکمہ باغبانی نے ہارٹی ویژن ۔2019 کا انعقاد کیا 

جموں//محکمہ باغبانی نے گلشن گرائونڈ جموں میں صوبائی سطح کے ہارٹی ویژن ۔2019ء کا انعقاد کیا جس کا مقصد کسانوں کو مختلف باغبانی شعبے سے متعلق پیداوار میں بہتری لانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں جانکاری فراہم کرنی تھی ۔سیکرٹری ہارٹیکلچر منظور احمد لون نے ہارٹی ویژن میلے کا افتتاح کیا جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنر جموں رومیش کمار ، آئی جی پی ، سی آئی وی  پی ایچ کیو ، ڈاکٹر ایس ڈی سنگھ ، ڈائریکٹر ہارٹیکلچر راکیشن کمار سرنگل، سیکرٹری صحت عامہ فاروق احمد شاہ ، ڈائریکٹر ایگریکلچر ایچ کے راز دان ، ڈائریکٹر سریکلچر گلزار احمد ڈار اور باغبانی محکمہ کے ضلع افسران اس موقعہ پر موجود تھے۔ریاست و مرکز کے تما م منسلک محکموں نے اس موقعہ پر میوئوں کے مختلف اقسام کی نمائش کی تھی ۔اس کے علاوہ کسانوں کو مختلف سکیموں کے بارے میں جانکاری دی گئی جن میں مشینری کے سٹال بھی شامل تھے۔ اس ایونٹ کے انعقاد کا بنیادی مقصد صوبہ جموں کے میوہ اُگانے والوں کوباغبانی کے ماہرین و سائنسدانوں کے ساتھ ملاقات کرانے اور باغبانی سے متعلق جانکاری حاصل کرنا تھا۔ضلع سطح کے افسران نے سیکرٹری موصوف کو مختلف علاقوں میں اُگائے جارہے میوئوں کے اقسام کے بارے میں جانکاری دی۔دریں اثنا سیکرٹری نے اس موقعہ پر نمائش میں رکھے گئے تمام میوئوں کے سٹالوں کاجائزہ لیا۔بعدمیں آڈیٹوریم میں ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں صوبہ جموں کے تمام اضلاع کے کسانوں نے شرکت کی ۔سیکرٹری موصوف نے کسانوں اور محکمہ کے آپسی اشتراک اور تال میل کو قائم رکھنے کے لئے ایک ٹول فری ہیلپ لائن نمبر جاری کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ اس نمبر کو جاری کرنے کا مقصد روزانہ بنیادوں پر کسانوں کے مسائل کی جانکاری حاصل کرتے ہوئے انہیں موقعہ پر ہی حل کرنا ہے ۔ایک وال کیلنڈر بھی اس موقعہ پر جاری کیا گیا ۔مختلف باغبانی سکیموں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے اس موقعہ پر ایک ڈرامہ بھی پیش کیا گیا ۔سیکرٹری نے اس موقعہ پر کہا کہ محکمہ کسانوں کو پودے لگانے اور ان کی دیکھ ریکھ سے متعلق مکمل تعاون دینے کے لئے اقدامات کررہا ہے اور اُنہیں مختلف سکیموں کے تحت پودے حاصل کرنے کے لئے سبسڈی بھی فراہم کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مشینیں خریدنے کے لئے بھی کسانوں کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔محکمہ کے ناظم نے صوبے کے تمام کسانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی بدولت کسانوں میں بیداری پیدا کرنا اور انہیں میوئوں کی پیداوار میں بہتری لانے کے لئے نئی تکنیک کا استعمال کرنے کے بارے میں بھی جانکاری فراہم کی جارہی ہے تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔
 

۔33دکانداروں کیخلاف کیس درج

۔ 45100روپے بطورجرمانہ وصول 

جموں//لیگل میٹرولوجی محکمہ کی ایک ٹیم نے جموں کے مختلف بازاروں کا معائینہ کیا اور کئی اشیائے خوردنی کی چیزوں کی فروخت کا جائزہ لیا۔ٹیم نے چھنی ہمت ، ٹرکوٹا نگر ، ماربل مارکیٹ و دیگر ملحقہ علاقوں میں بیچے جارہے اشیائے خوردنی کا معائینہ کیا جن میں بیکری ، مٹھائیاں و دیگر پرویژنل سٹور شامل تھے ۔اس سلسلے میں لیگل میٹرولوجی ایکٹ کے تحت 33دکانداروں کے خلاف کیس رجسٹر کئے گئے جو ایکٹ اور قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے ۔45,100 روپے کی رقم ان دکانداروں سے جرمانے کے طور پر وصول کی گئی۔
 
 

 شرما نے ترقیاتی پروجیکٹوں کا جائزہ لیا

جموں//گورنر کے مشیر کیول کمار شرما نے کٹھو عہ میں کیڈیان ۔ گنڈیال پل کی سائیٹ کا دورہ کیا۔صحافی برداری سے بات چیت کرتے ہوئے مشیر موصوف نے کہا کہ ضلع کٹھوعہ میں دریائے راوی کے کیڈیان ۔ گنڈیال پل کی تعمیر سے دو ریاستوں کے بیچ رابطے میں استحکام آئے گااور ملحقہ علاقوںمیں رہنے والے لوگوں کی سماجی و اقتصادی ترقی یقین بنے گی۔اس سے قبل مشیر موصوف نے وِجے پور میں اے آئی آئی ایم ایس کی سائیٹ کا معائینہ کیا اور وزیر اعظم کے دورے کے سلسلے میں کئے جارہے انتظامات کا جائزہ لیا۔ڈی سی کٹھوعہ ، ڈی سی سانبہ ، چیف انجینئر پی ڈبلیو ڈی و دیگر متعلقہ افسران مشیر موصوف کے ہمراہ تھے۔