مزید خبرں

رام بن کے اہم قصبوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان

ایم ایم پرویز 
رام بن //ضلع کے تمام اہم قصبوں میںلوگوں کو دیگر عام مسائل کے علاوہ بجلی، پانی اورسڑک رابطوں کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔شاہراہ پر قائم بانہال اور بٹوت ،ضلع صد رمقام رام بن اور گول کے لوگوں نے مبینہ شکایت کی ہے کہ مکینوں کو شاہراہ پر ٹریفک کی بحرانی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سرکار اس مسلہ سے نمٹنے میں کوئی روڈ میپ تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ چملواس سے   نیل مگر کوٹ سے اکھڑال ،نچلانہ سے کھاری ،رام بن سے گول، چندر کوٹ راج باغ، کرول ہالہ وغیرہ کے لنک روڈزپر لوگوں کو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور حُکام اس کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ا ن لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ضلع کے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے کیونکہ وہ مسائل حل کرنے میں تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ لگاتار سڑک بند ہونے کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سول انتظامیہ لوگوں کو راحت دلانے میں ناکام رہی ہے۔لوگوں نے کہا ہے کہ ضلع میں سکول اور کاج 5مارچ کو کھولے جائیں گے لیکن ایسامعلوم پڑتا ہے کہ اگر قومی شاہراہ کی صورتحال ایسی ہی رہی ،تو بچوں کا اپنے اپنے سکولوں میں پہنچنا  نا ممکن لگتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثرین ملازم اور مریض ہیں ،جن کو ضلع میں پسیاں گر آنے کا علاقہ پیدل طے کرنا پڑتا ہیں،کیونکہ لنک روڈوں کو ابھی تک صاف نہیں کیا گیا ہے۔انہوںنے کہا کہ ضلع کے ہر ایک قصبہ میں بد رو نظام وجود میں ہی نہیں ہے۔میونسپل کمیٹیاں کوڑا کرکٹ اور ردی دریا ئے چناب کے کناروں پر ذخیرہ کر رہے ہیں کیونکہ ذخیرہ کرنے کے مقامات کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔
 
 

بانہال کی تاجر برادری کاجذبہ ایثار

 درماندہ مسافروں کیلئے مفت لنگر کا اہتمام جاری

محمد تسکین                                                                                                          
بانہال // شاہراہ پر درماندہ مسافروں کیلئے شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال کی تاجر برادری کی طرف سے پچھلے بیس روز سے چلایا جارہا مفت لنگر اتوار کو بھی جاری رہا اور آج بھی پانچ سو سے زائد درماندہ مسافروں کو یہاں سے کھانا کھلایا گیا اور کھانا مہیا کیا گیا۔ بیوپارمنڈل بانہال سے وابسطہ دکانداروں کی طرف سے چلائے جارہے اس لنگر سے ہزاروں کی تعداد میں درماندہ مسافر مستفید ہوئے ہیں اور عوامی سطح پر اس مفت لنگر کی سراہنا کی گئی ہے – لنگر کے انچارج تاجر مختیار نبی نے بتایا کہ پچھلے ایک مہینے سے  شاہراہ پر روانہ مسافر درماندہ ہورہے ہیں اور اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بانہال کی تاجر برادری نے قصبہ کے بیچوں بیچ میں لنگر کا اہتمام رکھا ہے جہاں موقع پر کھانے پینے کے علاؤہ شاہراہ کے سنسان مقامات  پر درماندہ پڑے بھوکے مسافروں تک بھی پیک کھانا پہنچانے کا نظم ہے اور شاہراہ پر اس صورتحال کے جاری رہنے تک قصبہ بانہال کی تاجر برادری کی طرف سے یہ مفت لنگر چلتا رہے گا۔ 
 
 

ملان دیسہ طبی مرکز میں ڈاکٹر و ادویات کی قلت ،عوام پریشان

نصیر احمد کھوڑا
ڈوڈہ//ضلع ڈوڈہ کے پنچایت حلقہ ملان میں ایک طبی مرکز اگر چہ سرکار نے قائم کیا ہے مگر اس طبی مرکز کا شیرازہ روز بروز بگڑتا جا رہا ہے اور اس کا پر سان حال کوئی نہیں ہے ،یہاں کے عمر رسیدہ،بزرگوں،خواتین اور بچوں کو اپنی بیماری کے علاج معالجہ کیلئے ڈوڈہ ، جموں یا سرینگر کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پرتا ہے جو کہ یہاں کے غریب اور نادار مریضوں کی قوت خرید سے باہر ہے بتایا جاتا ہے علاقہ ملان میں واقع ایک طبی مرکز کسی حد تک اپنے فرائض انجام دے رہا ہے لیکن اس میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹر ،پیرا میڈیکل عملہ موجود نہ رہنے کی وجہ سے یہاں کے مریضوں کو دقتوں کا سامنا ہے ۔تفصیلات کے مطابق دیسہ کا بھاٹہ ،پنجان ،گرامڈی،زرتون ،موٹلہ ملان،شغلی،چکوا،گوجر بستی کنڈا کی کثیر آبادی کے اس طبی مرکز میں ڈاکٹروں کی 3پوسٹین ہیںجس میں ایک ڈاکٹر جو کہ گائوں کے لوگوں کے مطابق وہ یہاں کے طبی مرکز کی پوسٹ سے تنخواہ لے رہا ہے لیکن ابھی تک مذکورہ ڈاکٹر نے اس علاقہ کا دورہ نہیں کیا ہے ۔لوگوں کا الزام ہے کہ اس طبی ISMڈسپنسری میں فوراً انتظام کیا جائے دیگر یہ اس طبی مرکز کی عمارت بھی خستہ ہے  یہاں کی عوام نے اس سلسلہ میں ڈی سی ڈوڈہ سے ملاقات کی اور صورت حال سے آگاہ کیا۔
 

جماعت اسلامی پر پابندی ،پی ڈی پی کی مذمت

ڈوڈہ//جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر حکومت کی طرف سے پابندی کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر ضلع ڈوڈہ شہاب الحق بٹ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے زیر اثر ادارے غریب بیواؤں کی مدد کے علاوہ آپسی بھائی چارہ کے بھی علمبردار ہیں اور خاص کر شعبہ تعلیم میں فلاح عام ٹرسٹ نے انقلابی کام کئے ہیں۔ اور ان اداروں سے نکلنے والے فارغ طالب علم اس وقت نہ صرف ریاست بلکہ ملک اور بین الاقوامی سطح پر انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ایسے حالات میں تعلیمی اداروں پر سیاسی اختلافات کی بنا پر پابندی لگانا تعصب تنگ نظری جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور کوئی بھی مذہب امن پسند جمہوری سماج ایسے اقدامات کو ناپسند کرے گی اور نہ ہی برداشت کرے گی۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس غیر جمہوری غیر قانونی غیر سیاسی اقدام کو واپس لے کر عوامی حلقوں میں پیدا ہونے والے تحفظات کو دور کرے۔ شہاب الحق بٹ نے مزید کہا کہ محبوبہ مفتی نے جماعت اسلامی پر پابندی کے حوالے سے جو صاف واضح نظریہ اور موقف اختیارکیا ہے ہم سب اس پر کاربند ہیں اور اگر جلد از جلد حکومت نے یہ ظالمانہ اقدام واپس نہ لیا تو ہم اس نا انصافی کے خلاف پھر سڑک پر آنے کے لئے مجبور ہو جائیں گے اور جماعت اسلامی پر پابندی سے ریاستی عوام میں ایک غلط پیغام پہنچا ہے کیونکہ گزشتہ ماہ سے ریاستی گورنر انتظامیہ اور مرکزی حکومت کی طرف سے یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات ہونے اور پھر پلوامہ واقعے کے بعد پورے ملک میں ریاستی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم اور جموں کشمیر میں مخصوص طبقہ کے لوگ کو نشانہ بناتے وقت حکومت کی خاموشی سے پہلے ہی ریاست جموں کشمیر کافی دور چلی گئی ہے اور محض انتخابات جیتنے اور اقتدار کے لیے منفی، غلط، بے بنیاد، من گھڑت بنیادوں پر کسی تنظیم یا سیاسی نظریہ کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے کی کوشش کرنا ملک کو نقصان کرنے کے مترادف ہے اور ہم بار بار یہ بات کہتے ہیں اور آج بھی کہتے ہیں کہ طاقت آزمائی کے بجائے بات چیت، پرامن طریقہ سے ہی تمام مسائل کا حل ہوگا اور دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے
 
 
 

 کشتواڑچیر جی میں ’ اپنی فوج کو جانو‘پر سیمینار منعقد

کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے علاقہ چیرجی میں فوج نے’اپنی فوج کو جانو‘ پر ایک توسیعی لیکچر کا اہتمام کیا۔لیکچر کا مقصد علاقہ کے نوجوانوں کو بھارتی فوج ،پیرا ملٹری اور جموں کشمیر پولیس میں بھرتی ہونے کیلئے راغب کرنا تھا۔اس موقعہ پر چیرجی کے 35نوجوان لیکچر سننے کیلئے  موجود تھے ۔نوجوانوں کو بھرتی ہونے کیلئے جسمانی،طبی اور تعلیمی ضروریات کے بارے میں بتایا گیا ۔طلاب اور اساتذہ نے فوج کی اس پہل کو کافی سراہا ۔