مزید خبرں

ایس ٹی و پہاڑی طلاب کے جائز سکالرشپ کو واگزار کرنے کا مطالبہ 

جموں// ایک نامور دانشور و سماجی کارکُن ڈاکٹر شہزاد ملک نے ایس ٹی و پہاڑی طلاب کے جائز سکالرشپ کو واگُذار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک بیان میںانہوںنے متعلقہ افسروں سے کہا ہے کہ وہ شیڈولڈ ٹرائب اور پہاڑی طبقہ کے طلاب کے سکالرشپ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔انہوں نے مرکزی و ریاستی سرکار سے ایس ٹی و پہاڑی طلاب کا سکالرشپ بر وقت واگذار کرنے کا مطالبہ کیا ہے،تاکہ سماج کے اس کمزور طبقہ کے طلاب کو کئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔انہوں نے کہا کہ اس طبقہ کے طلاب کا سرکاری سکالر شپ پر ہی انحصار ہے لیکن انتظامیہ انہیںبر وقت سکالرشپ واگُذار کرنے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہے ہیں ،جسکی وجہ سے ان طلاب کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے سرکاری افسروں پر مبینہ الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سکالرشپ کی رقم واگُذار کرنے میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ گُذشتہ اکیڈمک سیشن میں ریاستی پہاڑی مشاورتی بورڈ نے طلاب کو انکے فیس ڈھانچے کے تحت سکالرشپ جاری کیا تھا لیکن رواں سیشن میںفندذ کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر فی طلاب3000 روپے سکالرشپ واگُذار کیا جا تا ہے۔انہوں نے کہا کہ طبقہ کے طلاب کا مبینہ الزام ہے کہ پہاڑی مشاورتی بورڈ نے بغیر کسی صلاح و مشورہ کے طلاب کے فیس ڈھانچے میں بدلاﺅ لایا ہے اور سکلار شپ کی رقم فی طلاب تین ہزار روپیہ مقرر کیا ہے جو کہ طبقہ کے ساتھ ایک مذاق ہے۔انہوں نے گورنر اور اسکے صلاحکاروں سے اس مسلہ میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے،تاکہ طبقہ کے طلاب کو پریشانیاں نہ ہوں۔
 
 

آرینز نے جموں و کشمیر طلاب کےلئے 100سکالرشپ کا اعلان کیا 

جموں//آرینز گروپ آف کالجز ،رائے پور ،نزدیک چندی گڑھ نے سال رواں کے لئے جموں و کشمیر کے طلاب کےلئے ایک سو سکالرشپ کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کے روز یہاں پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کرتے ہوئے آرئینز گروپ کے چیر مین ڈاکٹر انشو کٹاریہ نے کہا کہ یہ سکالر شپ 50: 50فی صد کی شرح پر طلاب اور طالبات میں فراہم کیا جائے گا، جسکے لئے 50فی صد کی رقم آرئینز گروپ آف کالجز فراہم کرے گی جبکہ باقی ماندہ 50فی صد کی رقم بصورت تعلیمی قرضہ فراہم کیا جائے گا۔پریس کانفرنس میں خواہشمند طلاب سے اس سلسلہ میں رابطہ کرنے کےلئے مفت ہیلپ نمبر 1800-123-3633 پر مسڈ کال دینے یا آرئینز کی ویبسائٹ : www.aryans.edu پر ویذٹ کر نے کی صلاح دی گئی ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ یہ سکالرشپ میرٹ و آمدنی کی بنیاد پر آرئینز گروپ کی جانب سے چلئے جارہے متعدد کورسوں پرفراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گروپ نے پہلے ہی 13ویں بیچ کے متعدد کورسوں جیسے کہ : بی ٹیک، ایل ای ای ٹی، پالی ٹیکنیک ڈپلومہ، ایل ایل بی، بی اے۔ایل ایل بی،بی۔کام ایل ایل بی، ایم بی اے، بی بی اے، بی سی اے، بی کام ،بی ایس سی(آنرس) اگریکلچر، ڈپلومہ اگریکلچر، بی اے ،بی ایڈ، جی این ایم ،اے این ایم ، ایم اے(ایجوکیشن ) ،بی فارمیسی، وغیرہ کےلئے داخلہ شروع کیا ہے۔پریس کانفرنس سے ہیڈ ایڈمشن جسویندر سنگھ ، ایڈمشن کارڈی نیٹر جے اینڈ کے نشانت نے بھی خطاب کیا۔
 
 

اے بی سی کا سابقہ زیڈ ای او کے انتقال پر دکھ کا اظہار 

جموں //ایک سماجی تنظیم آدرش بھارتیہ سماج نے سابقہ زیڈ ای او ساوتری دیوی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔ایک بیان کے مطابق اس سلسلہ میں منعقدہ ایک تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین کرنل(ریٹائرڈ) آر کے شرما نے مرحومہ کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ ایک محنتی، اصلاحی، ذہین دانشور اور سماجی کارکن کے علاوہ ایک ایماندار شخصیت تھیں۔تنظیم کے صدر دلجیت سنگھ نے مرحومہ کے انتقال کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ،مرحومہ نے اے بی ایس کے ساتھ سماجی خدمت کے لئے جوائن بھی کیا تھا،جنھیں متعدد انعامات اور ایوارڈوں سے نواازا گیا ہے۔اجلاس میں مرحومہ کی شانتی کے لئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔اجلاس میں ڈاکٹر این پی شرما ، ڈاکٹر چرنجیت شرما ،ڈاکٹر تیجندر شرما ،دوارکا ناتھ کھجوریہ، وملا کماری، اوم پرکاش، گلزار سنگھ و دیگران نے بھی شرکت کی۔
 
 

وشو ہندو پریشد نے چیف الیکشن کمیشن کو مراسلہ بھیجا 

 ملک کی خود مختاری ،وحدت کو چیلنج کرنے والی سیاسی پارٹیوں کےخلاف ضابطہ اخلاق کے تحت کارروائی کرنےکا مطالبہ 

نئی دہلی// وشو ہندو پریشد نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے بھارت کی خودمختاری اور وحدت کو چلینج کرنے والی سیاسی پارٹیوں پر تحت قوانین کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پریشد کی جانب سے جاری ایک اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کوملک میں صاف و شفاف طریقہ سے انتخابات منعقد کرنے کی ذمہ واری بشمول اُن سیاسی پارٹیوں پر تحت قوانین کاروئی کرنے کی ذژمہ واری سونپی گئی ہے جو ملک کی وحدت اور یکجہتی کو چلینج کرنے کے لئے غداری پروپگنڈا میں ملوث ہیں ۔مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوران ریاست کے ادغام کے متعلق غداری بیان دئے گئے ہیں،جس سے ملک کی وحدت اور یکجہتی کو خطرہ لاحق ہے۔مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست کے سابق وزرائے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے ریاست سے دفعہ 370اور 35-Aہٹانے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کرکے عوام کو ملک کے خلاف اکسایا ہے۔ اور اس طرح سے وہ غداری جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں/ لوگوں کے بیانات پر پاکستان کے بدیشی معاملات کے ترجمان محمد فضل کے بیان کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے،جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ” پاکستان کبھی بھی آئین ہند کے دفعہ 370 کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دے گی ،جو جموں و کشمیر کے عوام کو خصوصی درجہ کی ضمانت دیتی ہے۔ علاوہ ازیں،کشمیریوں کے حقوق کی پامالی یو این قرار دادوںکے برعکس ہوگی“ ۔ مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ درج بالا بیان سے یہ عیاں ہے کہ یہ پارٹیاں اور لیڈران پاکستان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں،جس نے لگاتار بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے یہ لیڈراں ریاست کی مسلم اکثریتی طبقہ اور دیگر اقلیتوںکے درمیان دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح سے یہ عیاںہے کہ ان پارٹیوں کا آئین ہند پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور ملک کو مسلمان مذہب کی بنیادوں پر بانٹنے کےلئے لوگوں کو غداری کےلئے اکساتے ہیں،جو کھلے عام آئین ہند پر حملہ ہے ۔ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ایسے من گھڑت بیانات کی جمہوری ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ضابطہ اخلاق کے پیرا گراف 4.3.3 کے تحت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ یہ لازمی ہے کہ کمیشن درج بالا تقاریر کا سخت نوٹس لیکر ان لیڈروں سے وضاحت طلب کرے اور حکام کو ان کے خلاف ایف ٓئی آر درج کرنے اور معاملہ کی پیروی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مراسلہ میں فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے خلاف درج بالا بیانات کے پس منظر میں کاروائی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔مراسلے پر وشو ہندو پریشد کے دہلی کے کارگُزار صدر وگیش ایسر،ترجمان ونود بنسل اور بین االاقوامی کار گُذار صدر ایڈوکیٹ آلوک کمار کے دستخط ثبت ہیں۔