مزید خبرں

کھڑی کے آرم ڈھکہ میں پینے کے پانی کی کمی

 عوام کو پریشانی کا سامنا، شاہراہ پر احتجاج کا انتباہ 

محمد تسکین 
بانہال // بانہال کے آرم ڈھکہ علاقے میں پینے کے پانی کی قلت کے خلاف لوگوں سراپا احتجاج ہیں اور اور گرمی کی شدت میں پینے کے پانی کی قیمت کی وجہ سے انسانوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانور بھی پانی کی بوند بوند کے محتاج ہوکررہ گئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سب ڈویژن بانہال کے ملازمین عوام کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے بجائے سرکاری رقومات سے اپنی جیبوں کو بھرنے کے فراق میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے پچھلے چھ سال سے پائپ لائن آرم ڈھکہ نہیں پہنچائیں جا سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای کے کھڑی مہو منگت میں تعینات جونیئر انجینئر اور فیلڈ عملے نے اپنے افسروں کے ساتھ ملکر نلوں کی مرمت ، تجدید اور دیگر کاموں کے نام لاکھوں روپئے کی رقم مبینہ طور ہڑپ کی ہے اور مرمت کا کام عام لوگ انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کو تعمیر کرنے والی ارکان انٹرنیشنل کی طرف سے ریلوے ٹنلوں سے متاثرہ کھڑی تحصیل میں پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے واگذار کی گئی  تقریباً چار کروڑ روپئے کی رقم کا حساب بھی محکمہ پی ایچ سی سب ڈویژن بانہال اور پی ایچ ای ڈویڑن رام بن سے لیا جائے اور اس کی تحقیقات کیلئے کیس کو کرائم برانچ کے سپرد کیا جائے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پنچایت منگت کا آرم ڈھکہ علاقہ ایک پہاڑی پر واقع ہے اور یہاں پینے کے پانی کی کمی کے خلاف مقامی لوگوں نے کئی بار احتجاجی مظاہرے کرکے انصاف کی اپیل کی ہے مگر تاحال محکمہ پی ایچ ای کے حکام گہری نیند سے بیدار نہیں ہوئے ہیں اور اب تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق لوگ شاہراہ ہر دھرنا دیکر اپنے ساتھ ہورہی زیادتی اور محکمہ صحت عامہ کی عدم توجہی کے خلاف آواز بلند کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا محکمہ صحت عامہ پر کوئی اثر نہیں ہورہا اور لوگ  پینے کے پانی کی قلت وجہ سے مسلسل مصائب سے دوچار ہیں۔ 
 

امرناتھ یاترا کے دوران شاہراہ پرپابندی

نیشنل کانفرنس عام لوگوں کی نقل وحرکت پر قدغن سے نالاں

محمدتسکین 
بانہال // نیشنل کانفرنس لیڈر اور مقامی مذہبی شخصیت عطا محمد کٹوچ نے شری امرناتھ یاترا کے دوران عام لوگوں کیلئے شاہراہ پر عائد  پابندیوں کو غلط اور سرکاری کی عامرانہ سوچ قرار دیتے ہوئے ان پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر اور رامسو کی مذہبی شخصیت مولانا عطا محمد نے کہا کہ پہلے جب امرناتھ یاترا چلتی تھی تو شاہراہ پر واقع عام لوگ اور دکاندار خوش ہوتے تھے کہ کمائی کرینگے اور باہر سے آنیو الے مہمانوں کا حال چال پوچھیں گے لیکن اب گورنز انتظامیہ اور مرکزی سرکار کی طرف سے عائد بندشوں اور پابندیوں کے نتیجے سے لوگ یاترا سے تنگ ائے ہیں اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ یاترا کب آئے گی اور کب نکل جائے گی تاکہ لوگ راحت کی سانس لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمالیائی پہاڑی سلسلے میں شو لنگم کے درشن کیلئے ریاست کے لاکھوں لوگوں پر اس قسم کی پابندیاں لگانا صیحح نہیں ہے  اور ناہی اس مقدس یاترا کیلئے یاتری سرکار کے اس عامرانہ فیصلے سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر تھا کہ شولنگم کو ہی کسی سردخانے میں دہلی منتقل کیا جاتا اور وہاں ہی کسی تکلیف کے بغیر ہی امرناتھ یاتری درشن کرتے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ پر اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے تاکہ امرناتھ یاتری زمینی سطح پر ریاست کی مہمان نوازی ، انسان دوستی اور مذہبی بھائی چارہ کا از خود مشاہدہ کرسکیں۔     
 
 
       

رام بن میں سیلف ہیلپ گروپوں کے کام کاج کا جائزہ لیاگیا

رام بن //ڈپٹی کمشنر رام بن شوکت اعجاز بٹ کی قیادت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران انجینئرزسکیم کے سیلف ہیلپ گروپوں کی عمل آوری کاجائزہ لیاگیا۔میٹنگ میں ان گروپوں کے نمائندگان اور ضلع انتظامیہ و متعلقہ محکمہ جات کے افسران بھی موجو دتھے ۔اس دوران ڈپٹی کمشنر نے تمام محکمہ جات کو ہدایت دی کہ وہ حکومت کی طرف سے وضع کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق عمل کرتے ہوئے مقرر کئے گئے اہداف کو پورا کریں ۔انہوں نے ان سیلف ہیلپ گروپوں کے نمائندگان کو ہدایت دی کہ وہ کام کے معیار کویقینی بنائیں اور پروجیکٹ مقررہ مدت میں مکمل کئے جائیں ۔دریں اثناء پردھان منتری شرم یوگی ماندھن کے تحت غیر منظم ورکروں کی رجسٹریشن کے عمل کاجائزہ بھی لیاگیا اور ڈپٹی کمشنر نے اس کام میں تیزی لانے پر زور دیا ۔