مزید خبرں

مرکزی سیکرٹری کی ویڈیو کانفرنسنگ 

 بارہمولہ میں ٹی اے ڈی پروگراموں کی عمل آوری کا جائز ہ لیا 
سرینگر//مرکزی سیکرٹری برائے وزارت دیہی ترقی نے جمعرات کو ضلع بارہمولہ میں مرکزی معاونت والی سکیموں اپسریشنل ڈسٹرکٹ پروگرام کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔سیکرٹری نے میٹنگ کی صدارت ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کی۔اس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ نے مختلف نامزد شعبوںمیں ترقی و کارکردگی کے بارے میں تفصیل پیش کی جن میں صحت و تغذیہ ، تعلیم ، زراعت اور آبی وسائل، مالی شمولیات او ربنیادی ڈھانچہ شامل تھے۔اُنہوں نے ان اشاریات کے بارے میں مفصل جانکاری پیش کی اور کہا کہ ضلع میں ان شعبوں کے تحت بہتر کارکردگی درج کی گئی ہے ۔ڈپٹی کمشنر نے مرکزی سیکرٹری کو دیہی علاقوں میں صحت او ردیگر اہم شعبوں میں بنیادی ڈھانچہ سے متعلقہ چند رُکاوٹوں کو دُور کرنے کیلئے  ذاتی مداخلت کی اپیل کی۔اَپنے اطمینا ن کا اِظہار کرتے ہوئے جوائنٹ سیکرٹری نے ضلع انتظامی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے افسران کو تمام اشاریات کی صد فیصد کامیابی یقینی بنانے اور جس کے لئے انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کی۔اُنہوں نے یقین دلایا کہ تمام رُکاوٹوں کو مرحلہ وار طریقے سے دُور کیا جائے گا۔دریں اثنا سیکرٹری نے مختلف بہبودی پروگراموں کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو اِن پروگراموں کی زمینی سطح پر عمل آوری یقینی بنانے کے لئے کہا۔ اُنہوں نے قریبی تال میل قائم کر کے اہداف کی مقررہ مد ت کے اندر حصولیابی یقینی بنانے پر زو ردیا۔اس موقعہ پر جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ ، اے سی ڈی بارہمولہ ،چیف ایگریکلچر آفیسر کے علاوہ دیگر آفیسران موجود تھے۔ 
 

لیلم رامحال میں فلٹریشن پلانٹ چھت کے بغیر 

لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور،محکمہ جل شکتی گہری نیند میں   

اشرف چراغ 
 
کپوارہ//لیلم رامحال میں فلٹریشن پلانٹ بغیر چھت کے ہونے کے نتیجے میں مقامی آبادی گندہ پانی پینے پر مجبور ہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ جل شکتی کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد بار محکمہ کو آگاہ کرنے کے باوجود بھی اس تعلق سے کوئی بھی اقدام نہیں کئے جا رہے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ کئی سال قبل لیلم رامحال میں جل شکتی محکمہ نے لوگو ں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی غرض سے ایک فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا ،لیکن تا حال مزکورہ فلٹریشن پلانٹ بغیر چھت کے ہے جس کے نتیجے میں مزکورہ فلٹریشن پلانٹ میں گندگی جمع ہوگئی ہے اور اس میں جمع شدہ پینے کا پانی نا قابل استعمال بن گیا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ آج تک نہ اس فلٹریشن پلانٹ کی صفائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی اس کا چھت بنایا گیا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے اس فلٹریشن پلانٹ سے گندہ پانی حاصل کرتے ہیں اور لوگو ں کوخدشہ ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو لوگ مزکورہ فلٹریشن پلانٹ کے پانی سے کئی بیماریو ں میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔مقامی لوگو ں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور لیلم میں بنائے گئے فلٹریشن پلانٹ پر چھت تعمیر کریں تاکہ اس میں گندگی جمع نہ ہوسکے۔
 

اُردو یونیورسٹی کے انٹرنس ٹیسٹ  ملتوی

میرٹ پر داخلے جاری، آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر 

حیدآباد//مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے داخلوں کے انٹرنس ٹسٹ کو ملتوی کردیا ہے۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج کی اطلاع کے مطابق کویڈ 19 وباء کے پیش نظر انٹرنس ٹسٹ جو 19 اور 20؍ ستمبر کو مقرر تھے ملتوی کردیئے گئے ہیں۔نئے آن لائن شیڈیول کی متعاقب اطلاع دی جائے گی جو یونیورسٹی ویب سائٹ manuu.edu.in پر بھی دستیاب ہوگی۔ واضح رہے کہ میرٹ کی اساس پر داخلے جاری ہیں۔ اس میں آن لائن فارم داخل کرنے کی توسیع شدہ آخری تاریخ 30؍ ستمبر ہے۔ یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام ( اردو، انگریزی، ہندی، عربی،مطالعات ترجمہ ،فارسی ؛ مطالعات نسواں، نظم و نسق عامہ، سیاسیات،سوشل ورک، اسلامک اسٹڈیز، تاریخ، معاشیات، سماجیات؛ صحافت و ترسیل عامہ؛ ایم کام اور ایم ایس سی،ریاضی) ؛ انڈر گریجویٹ پروگرامس میں بی اے، بی اے(آنرس) جے ایم سی،بی کام،بی ایس سی (ریاضی،طبیعات،کیمیا۔ایم پی سی)، بی ایس سی(ریاضی،طبیعات،کمپیوٹر سائنس،ایم پی سی ایس) اور بی ایس سی (حیاتی علوم – زیڈ بی سی)؛ بیچلر آف ووکیشنل کورسس کے تحت میڈیکل امیجنگ ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور میڈیکل لیبارٹری ٹکنالوجی (ایم ایل ٹی)؛ مدارس کے فارغ طلبہ کے لیے برائے داخلہ انڈر گریجویٹ (بی کام/ بی ایس سی) اور پالی ٹیکنک پروگرامس کے لیے برج (رابطہ) کورسز میں داخلے دیئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں لیٹرل انٹری کے تحت بی ٹیک اور پالی ٹیکنیک میں اہل طلبہ کو راست داخلے اور پی جی ڈپلوما ان ریٹیل مینجمنٹ اور جزوقتی ڈپلوما پروگراموں میں اردو ، ہندی، عربی، فارسی اور اسلامک اسٹڈیز،تحسین غزل و اردو میں سرٹیفکیٹ کورس بھی دستیاب ہیں۔ 
 

اننت ناگ میں ’آپریشن ڈریمز‘ شروع

ہر اتوار کو ضلع کے طلبا کو دو دو کلاسز دیں گے :ایس ایس پی 

سرینگر// پولیس نے اننت ناگ ضلع میں آپریشن ڈریمز شروع کیا ہے جس دوران مختلف جماعتوں کے طلباء کو دو دو کلاسز کے ذریعے سے تعلیم فراہم کی جائے گی ۔ایس ایس پی اننت ناگ سندیپ چودھری نے جمعرات کو بتایا کہ ضلع اننت سے تعلق رکھنے والے بچوں کو وہ از خود اتوار کے روز دودو کلاسز لے کر انہیں تعلیم دیں گے ۔ایس ایس پی نے بتایا مزید جانکاری کیلئے اور طریقہ کار پولیس کے ٹیوٹر ہنڈل اور فیس بک کے ذریعے سے فراہم کیا جائے گا۔ ایس ایس پی نے بتایا وہ اسے قبل جموں میں بھی اس طرح کے کلاسز دے رہے تھے تاہم یہاں کورونا کی وجہ سے پہلے ایسا ممکن نہیں ہوا ۔انہوں نے بتایا اب بہت جلد یہاں بھی یہ سلسلے شروع کیا جائے گا ۔
 

شوپیاں کے نوجوان کی وائرل تصویر جعلی 

بیٹے نے کسی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار نہیں کی: اہل خانہ

سرینگریو این آئی// شوپیاں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے اہل خانہ نے سوشل میڈیا کی ان رپورٹس کو رد کیا ہے جن کے مطابق ان کے بیٹے نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہمارا بیٹا ہمارے ساتھ بہ نفس نفیس موجود ہے ،اس  نے کسی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔بتادیں کہ سوشل میڈیا پر زاہد احمد میر ولد غلام حسن میر ساکنہ پیر پورہ شوپیاں نامی نوجوان کی تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا س نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔تصویر میں زاہد احمد میر کا عرف زاہد بھائی بھی لکھا ہوا تھا اور جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کرنے کی تاریخ بھی لکھی گئی تھی جو 2  ستمبر 2020 بتائی گئی تھی۔شوپیاں پولیس نے اس ضمن میں ایک ٹویٹ میں کہا: 'زاہد احمد میر ولد غلام حسن ساکنہ پیر پورہ شوپیاں جس کی سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہوئی ہے کہ اس نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے، بے بنیاد ہے۔شوپیاں پولیس کے اس ٹویٹ کو بعد میں کشمیر زون پولیس نے بھی اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ری ٹویٹ کیا ہے۔
 

چر سو اونتی پورہ کالاپتہ نوجوان 

گھروالوں کی واپس لوٹنے کی اپیل 

 سرینگر//سی این ایس//پانچ روز قبل لاپتہ ہوئے چر سو اونتی پورہ کے نوجوان کے والدین اور رشتہ داروں نے اسے گھرواپس لوٹ آنے کی جذ باتی اپیل کی ہے۔ 19 سالہ محسن امین بٹ ولد محمد امین 29اگست کو گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگیا۔محسن کے والدین اور رشتہ داروںنے کہا کہ جب سے وہ گھر سے لاپتہ ہوا ہے تب سے ہم پرقیامت ٹوٹ پڑ ی ہے اور سب پریشان ہیں’’۔گھروالوں نے اپنے بیٹے سے جذباتی طو رپراس کی واپسی کیلئے روتے بلکتے ہو ئے کہا’’ کہ لوٹ آو اور ہماری جان لے لو، اس کے بعد چلے جانا، تم مجھے کس کے سہارے چھوڑ گئے ہم دونوں میاں بیوی بری طرح سے ٹوٹ چکے ہیں آ پ ہمارے بڑ ھا پے کے واحد سہارا ہو ،وہ تم سے بچھڑنا برداشت نہیں کرپائیں گے ہم سب تمہیں بہت پیار کرتے ہیں اب میر ی گود میں واپس آ جاوں میں تیر ے سر پر ہاتھ رکھ کر مرنا چاہتی ہوں‘‘۔نوجوان کی والدہ ،جو دل کی مریضہ ہے ،نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اوربیٹے کے واپس آنے تک بھوکی رہے گی‘‘۔
 

 درماندہ 3,89,213شہری یوٹی لوٹے 

جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے  3,89,213شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا رہ کر یوٹی واپس لایا۔سرکاری اَعداد و شما ر کے مطابق جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع کی اِنتظامیہ نے ملک کی مختلف ریاستوں اور یوٹیز سے1,17,115درماندہ مسافروں کو لے کر جبکہ براستہ لکھن پور2,72,098اَفراد کو حکومت نے134 کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوںکے ذریعے اودھمپو ر اور جموں ریلوے سٹیشنوں پر خیرمقدم کیا ۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اَب تک بیرون ملک سے934مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اَب تک 134کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اَب تک بیرون یوٹی درماندہ 3,89,213شہریو ں کو کووڈِ۔19 وَبا سے متعلق تمام اَحتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر واپس لایا گیا۔تفصیلات کے مطابق یک02؍ ستمبرسے3 0؍ ستمبر 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے3809  درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے جبکہ1072مسافر آج 113ویں دلّی کووِڈ خصوصی ریل گاڑی سے جموں پہنچے ۔اَب تک 113ریل گاڑیاں یوٹی کے مختلف اَضلاع سے تعلق رکھنے والے101,419درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔
 

منڈی میں دلدوز حادثہ ،موٹر سائیکل سوار از جان

عشرت حسین بٹ
 
منڈی//منڈی میں ایک موٹر سائیکل سڑک حادثے کا شکار ہوگیاجس کے نتیجہ میں نوجوان از جان ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق تحصیل منڈی کے بیدار علاقہ میں جمعرات کو ایک موٹر سائیکل حادثے کا شکار ہوا جس کی وجہ سے ایک سوار موقعہ پر ہی لقمہ اجل بنا۔ہلاک ہونے والے کی شناخت ارشاد احمد ولدعبدا لمجید ساکن بیدار کے طور پر ہوئی ہے۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ نوجوان بیدار ڈنوں گام سڑک پر موٹرسائیکل چلا رہا تھا اور شدید بارش کی وجہ سے سڑک پر پھسلن کے سبب موٹرسائیکل اس کے قابو میں نہ رہا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ بعد ازآں مقامی لوگوں کی مدد سے اس کی نعش کو سب ضلع ہسپتال منڈی لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔ ضلع ہسپتال کے میڈیکل افسر ڈاکٹر قیوم چوہدری نے کشمیر عظمیٰ کو جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو بعد دوپہر بیدار سے ایک 17 سالہ نوجوان کو ہسپتال لایا گیا جو سڑک حادثے کا شکار ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ نوجوان کی موقعہ پر ہی موت واقع ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری قانونی لوازمات کے بعد نعش کو آخری رسومات کے لئے اہلِ خانہ کو سونپ دیا گیاہے۔ 
 

ادبی تنظیم کے زیر اہتمام

 آن لائن حسینی مشاعرہ کا انعقاد 

سرینگر//معروف ادبی تنظیم عبدالرحمٰن آزاد میموریل فاونڈیشن کی جانب سے سوشل میڈیاپر ایک آن لائن حسینی مشاعرے کا اہتمام ہوا۔ مشاعرے میں وادی بھر سے تعلق رکھنے والے شعراء کرام نے حضرتِ امام حسین ؑ اور انکے رفقاء کی کربلا میں دی گئی عظیم شہادت کویاد کر کے شہدا کو خراجِ پیش کیا۔ مجلس میں جن شعراء کرام نے اپنا ہدیہ عقیدت امام حسین ؑ اور انکے رفقا ء کے تئیں پیش کیا ان میں علی شیدا ، فیاض تلگامی، عبدالرحمن فدا ، غلام محمد نو سوز ، غلام مصطفی امید ، مشتاق کولگامی ، شکیل آزاد ، گلشن بدرنی ، غلام نبی ساحل ، ریاض پروانہ ، غلام نبی پروانہ ، ظرینہ غازی ، عاشق حسین عاشق ، ارشاد ماگامی ، محمد عبداللہ منتظر اور جہانگیر احمد خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ادبی تنظیم نے لاک ڈائون کے دوران تمام تر ادبی پروگرام آن لائن منعقد کئے اور وادی بھر کے شاعروں ، ادیبوں اور قلمکاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔