مزید خبرں

بیک ٹو وِلیج پروگرام | بنیادی مقصد نچلی سطح پر عوام تک پہنچنا :بھٹناگر

سری نگر//بیک ٹو وِلیج پروگرام کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر عوام تک پہنچنا او رانہیں یکسان ترقی کے مشن میں شامل کرنا ہے۔ اِس کا اِظہار لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹنا گر نے ایک پریس بیان میں کیا۔اُنہوں نے کہا کہ پروگرام کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی کامیابی سے حوصلہ پاکر پروگرام کا تیسرا مرحلہ 2اکتوبر سے 12اکتوبر تک 2020ء تک لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں منعقد کیا جارہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ بیک ٹو وِلیج مرحلہ سوم پروگرام کے تحت زمینی سطح پر ترقیاتی سکیموں کی عمل آوری اور عوامی شکایات نظام کو مستحکم بنانے کی طرف توجہ مرکوز کی جائے گی ۔مشیر نے کہا کہ بیک ٹو وِلیج پروگراموں کا مقصد عوام کی شمولیت کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے اور تعمیراتی کاموں کی عمل آوری میں نہ صر ف ایک ایجنڈا بلکہ پورے پروگرام کا مقصد ہے۔بیک ٹو وِلیج پروگرام سے قبل منعقد ہونے والے جن ابھیان پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے مشیر بھٹناگر نے کہا کہ بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم کو شروع کرنے سے قبل تین ہفتہ طویل جن ابھیان پروگرام 10 ستمبر سے یکم  اکتوبر تک شروع کیا ئے گا جس کے تحت عوامی شکایات کے ازالہ جن سنوائی عوامی خدمات کی فراہمی، ادھیکار ابھیان اور گرام پنچایت سطح پر ترقیاتی عمل ( انت گرام ابھیان ) پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔مشیر نے مزید کہا کہ آنے والے دِنوں میں پور ے کشمیر میں ترقی او رخوشحالی آئے گی اور یہ پروگرام اِنتظامی مشینری کو ہر دہلیز تک لے جائے گی اور ترقیاتی عمل میں فعالیت او رسرعت یقینی بنائے گی۔مشیر بھٹناگر نے لوگوں کو جن ابھیان میں ذوق و شوق سے شرکت کر کے ترقی کے اس مشن کا حصہ بننے کے لئے کہا۔ 
 
 

 مرحلہ سوم کامیابی کی مضبوط بنیاد رکھے گا:کنسل

سرینگر// بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم سے قبل تین ہفتہ طویل عوامی مہم یا جن ابھیان کل یہاں شروع ہوا ۔ یہ پروگرام بیک ٹو ولیج پروگرام مرحلہ سوم سے قبل شروع کیا گیا ہے اور یہ تین ہفتے ترقی و خوشحالی اور عوامی شکایات کی شنوائی کے ہفتے ہوں گے ۔ اس کا اظہار پرنسپل سیکرٹری محکمہ بجلی و اطلاعات روہت کنسل نے یہاں اس اہم پہل کی عمل آوری کیلئے لائحہ عمل کی تفصیل دیتے ہوئے کیا ۔ کنسل نے کہا کہ پروگرام کے گذشتہ دو مرحلوں کو عوام کی جانب سے کافی سراہا گیا جنہوں نے انتظامیہ کے سامنے انتہائی شائستہ ماحول میں اپنے مسائل گوش گذار کئے ۔ بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم کے خدو خال کی تفصیل دیتے ہوئے ، جو 2  اکتوبر سے 12  اکتوبر 2020 تک منعقد کیا جائے گا ، پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ حکومت نے پروگرام کے مرحلہ سوم سے قبل تین ہفتہ طویل جن ابھیان یا عوامی مہم شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ کیونکہ لوگوں نے گذشتہ دو مرحلوں کے دوران متعدد مانگیں اور مسائل اٹھائے تھے جن کو اس ابھیان کے دوران نمٹایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جن ابھیان بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم کی کامیاب عمل آوری کیلئے ایک مضبوط بنیاد ڈالے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن ابھیان کے دوران بیک ٹو ولیج مرحلہ اول اور دوم کے دوران دورے پر گئے افسروں کو پیش کی گئی مانگوں اور مسائل پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ابھیان کے دوران تین مرحلوں کی عمل آوری ہو گی جن میں ہر بدھوار کو یومِ بلاک منایا جائے گا جس میں بلاک کے افسران اُن کے محکموں سے متعلق عوامی شکایات کا جائیزہ لیں گے اور اُن کا موقعہ پر ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اس کے علاوہ اس موقعہ پر مستحقین کے حق میں مختلف اسناد بھی جاری کی جائیں گی ۔ اس ضمن میں دوسرے اقدام کے طور پر ہفتہ کے ہر روز بغیر بدھوار اور ایتوار ڈپٹی کمشنر اور ایس پی صبح ساڑے دس بجے سے دن کے ساڑھے گیارہ بجے تک عوام سے ملیں گے اور اُن کی شکایات کی شنوائی کریں گے جبکہ دیگر ضلع افسران اپنے متعلقہ دفاتر میں دستیاب رہیں گے تا کہ وہ بھی عوامی شکایات کو سُن کر اُن کے ازالے میں معاونت کریں ۔ اس کے علاوہ ڈویژنل کمشنران اور آئی جیز ہر منگلوار اور جمعرات کو صبح ساڑھے دس بجے سے دن کے ساڑھے گیارہ بجے تک عوامی مسائل و شکایات کی شنوائی کریں گے ۔ کنسل نے مزید کہا کہ تین ہفتہ طویل عوامی مہم جو دس ستمبر سے شروع ہوئی ،کے دوران طلاب میں وظایف کی درخواستیں اور درجہ فہرست ذاتوں ، قبائل ، اے ایل سی اسناد مستحقین میں تقسیم کرنے کیلئے بھاری مہم شروع کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ انفرادی فلاحی سکیموں کے تحت بھی اندراجات عمل میں لائے جائیں گے اور یہ مہم مکمل طور عوامی ملاقاتوں ، ترقی ، مسائل کے حل اور عوامی شنوائی کیلئے وقف رکھا جائے گا تا کہ زیادہ سے زیادہ عوامی شکایات کی شنوائی یقینی بنائی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ تین ہفتہ طویل مہم کے دوران انتظامیہ عوامی شکایات کی شنوائی اور اُن کے ازالہ کیلئے بھر پور کوشش کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنران اور ضلع افسران اپنے متعلقہ علاقوں کا دورہ کر کے بیک ٹو ولیج مرحلہ اول و دوم کے دوران نشاندہی کئے گئے دو کام ہر پنچایت میں مکمل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ گذشتہ دو مرحلوں کے دوران جو شکایات موصول کی گئیں ڈپٹی کمشنران اُن کے ازالہ کی بھی بھر پور کوشش کریں گے ۔ کنسل نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ازالہ کیلئے اپنی شکایات انتظامیہ تک پہنچائیں ۔ انہوں نے کہا ،’’ میں اپنے ہمکاروں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اس موقعہ کا فائدہ اٹھا کر عوام کے قریب ہو کر اُن کے مسائل حل کریں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ  میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ترقی و مسائل کے ازالہ کے اس سفر کو آگے لے جا کر ایک مثبت طرزِ فکر سے جموں کشمیر کو امن ، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جائیں ۔ 
 

 

دفعہ 370 کے نام پر لوگوں کا سیاسی استحصال کیا جا رہا تھا

لیہہ//یواین آئی// مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کے نام پر جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹریز کے لوگوں کا سیاسی استحصال کیا جارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت جو پیسہ یہاں بھیجتی تھی وہ کچھ سیاست دانوں کے ذاتی خزانوں میں جمع ہوجاتا تھا۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار لداخ یونین ٹریٹری کے اپنے  دورہ کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا،’’کئی دہائیوں سے دفعہ 370 کے نام پر جموں و کشمیر اور لیہہ لداخ کے لوگوں کا سیاسی استحصال کیا جارہا تھا اور سب سے اہم بات یہ کہ جو مرکزی حکومت یہاں پیسہ بھیج رہی تھی وہ کچھ سیاست دانوں کی تجوریوں کی زینت بن جاتا تھا‘‘۔موصوف مرکزی وزیر نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ مرکزی حکومت کا پیسہ سیدھے عوام تک پہنچے۔انہوں نے کہا کہ لیہہ ہوائی اڈے پر کورونا سے متعلق تمام حفاظتی اقدام کو عملی شکل دی گئی ہے اور یاتری یہاں آسکتے ہیں اور یہاں کے سیاحتی مقامات سے بھی محظوظ ہوسکتے ہیں۔نقوی نے کہا کہ مرکزی وزارت امور داخلہ نے جموں و کشمیر اور لیہہ کرگل کی بڑے پیمانے پر تعمیر و ترقی کے لئے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے اور آنے والے دنوں میں اسکول، کالج ،آئی ٹی آئی، ہوسٹل، پالی ٹکنیک، ہنر مراکز وغیرہ کی تعمیر پر کام شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لیہہ و کرگل کے لئے علاحدہ حج کمیٹی اور وقف بورڈ کی تشکیل پر کام شروع کیا گیا ہے۔موصوف نے دورے کے دوران لیہہ میں امامیہ ماڈل ہائی اسکول کی بھی سنگ بنیاد ڈالی۔ وہ اپنے دو روزہ دورے کے دوران کئی سماجی و عوامی وفود سے بھی ملاقی ہوئے۔ 
 
 

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کی قربانیاں بے شمار | کورونا سے نمٹنے میں بیجنگ ہرطرح سے مدد کریگا:زیائولیجن 

بیجنگ// بھارت اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کو اپنی سرزمین دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے استعمال نہ کرنے پر زور دینے کے دوران چین نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی پاکستانی کوششوں کاجمعہ کوزبردست دفاع کیااورکہا کہ اُس کے ہرحال کے ساتھی نے بے شمار قربانیاں دیکر زبردست کوششیں کی ہیں ۔نئی دہلی اور واشنگٹن نے بھارت امریکہ مشترکہ کاونٹر ٹیررازم گروپ کی سترہوں میٹنگ میں اسلام آباد پرزوردیا تھا کہ وہ ممبئی حملوں اورپٹھانکوٹ فضائی اسٹیشن پرحملہ کے منصوبہ سازوں کو کیفرکردار تک پہنچائے ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زیائو لجین نے اس سے متعلق ردعمل کااظہار کرنے پر بتایا کہ دہشت گردی کی مشکل سے تمام ممالک نبردآزما ہیں اورپاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے دوران زبردست کوششیں اور قربانیاں پیش کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسے تسلیم کرنا چاہیے اور اس کااحترام کرناچاہیے ۔انہوں نے کہا کہ چین ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔تمام ممالک کو باہمی احترام،برابری اور فائدے کیلئے دہشت گرد مخالف بین الاقوامی تعاون میں شرکت کرنی چاہیے تاکہ مشترکہ طوربین الاقوامی امن وسلامتی کی حفاظت کی جائے۔ 9/11کے 19سال مکمل ہونے کے موقعہ پرزیائو نے کہا کہ دہشت گرد حملے نے عالمی سلامتی کیلئے کئی مشکلات پیدا کیں ۔انہوں نے کہا اب دہشت گردی مخالف صورتحال اب بھی نازک ہے اور اس سے تمام ممالک کوخطرہ ہے ۔انہوں نے مزیدکہا کہ چین تمام قسم کی دہشت گردی کا مخالف ہے اور ہماراماننا ہے کہ اقوام متحدہ کواس میں اہم رول ادا کرنا ہے اور ہم دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے دوہرے معیار کی مخالفت کرتے ہیںاورہم اس بات کے بھی خلاف ہے کہ دہشت گردی کو کسی مخصوص ملک کے ساتھ جوڑا جائے۔زیائونے اس بات پرزوردیا کہ تمام ممالک کواکٹھے ہوکر دہشت گردی کا مقابلہ کرناچاہیے اوردنیا کے امن وسلامتی کومحفوظ اور مستحکم بنانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اس خاص موقعہ پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ امریکہ دہشت گردی اورکووِڈ- 19کو نہیں بھلائے گاجو بنی نوع انسان کے دشمن ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان امریکہ کے دشمن نہیں ہیں ۔ ماسکو میں پاک وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر زیائو نے کہا کہ چین نے پاکستان کو یقین دلایا کہ وہ کووِڈ- 19کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کی ہر طور مدد کرے گاتاکہ پاکستان مکمل طور اس پر قابو پالے۔زیائو نے کہا کہ چین اور پاکستان ’چین پاکستاناقتصادی راہداری‘کی تعمیر پر کام جاری رکھیں گے اور زراعت کے شعبے میں بھی تعاون کیاجائے گا تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ 
 
 

بھارت دھمکی دینے کے بجائے تصفیہ طلب مسائل کے حل پر توجہ دے

سرینگر//پاکستان نے بھارت کے چیف آف ڈیفینس اسٹاف جنرل بپن راوت کے اُس بیان، جس میں انہوں نے پاکستان کو ہندچین کشیدگی کافائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنے پرنقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی،پر برہمی کااظہار کیا ہے۔ کے این ٹی کے مطابق پاکستانی دفترخارجہ نے ایک بیان میں  جنرل بپن راوت سے کہا کہ اشتعال انگیزبیان دینااوراپنے ہمسائیوں پرالزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں ۔جنرل راوت نے گزشتہ روز بھارت امریکہ اسٹریٹجک  پارٹنر شپ فورم کی جانب سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھاکہ پاکستان اور چین کی افواج سے بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر مشترکہ کارروائی کاخطرہ ہے ۔چیف آف ڈیفینس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان پراکسی وار کیلئے تیار ہوگا لیکن ہماری شمالی سرحدپرخطرہ بڑھا توپاکستان اس کافائدہ اُٹھا سکتاہے اور ہمارے لئے مغربی سرحد پر مشکلات پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو بھاری نقصان کاسامنا کرناپڑے گااگر اُس نے کسی مہم جوئی کامظاہرہ کیا۔پاکستانی دفترخارجہ نے اس کے جواب میں کہا بھارت کی سینئرفوجی قیادت کی جانب سے اس طرح کے اشتعال انگیزبیانات سے بھاجپااور آر ایس ایس کا رویہ آشکار ہورہا ہے ،جوبقول پاکستان کے خطرناک ،انتہا پسند نظریات سے بھر پور ،بالادستی کے ارادے اور پاکستان کے خلاف جنون کامجموعہ ہے اوریہ نظریہ بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کرگیا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت ہر جغرافیائی سیاسی یا فوجی دھچکے پر غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے بے بنیاد اور اشتعال انگیزی کو مزید ہوا دیتی ہے۔پاکستانی دفترخارجہ نے کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستان مخالف رائے عامہ ہموار کرنے کے بجائے تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل نکالنے پر توجہ دینی چاہیے۔مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ بھارت کو خاص کر مسئلہ جموں و کشمیر کو بین الاقومی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔چین اور پاکستان کے درمیان تعاون پر بات کرتے ہوئے دفترخارجہ پاکستان نے کہا کہ ہم سدابہار باہمی تعاون کے شراکت دار ہیں اور خطے میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
 
 

اوڑی میں خاتون بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہلاک

ظفراقبال

اوڑی //اوڑی میں ایک خاتون بجلی کی کرنٹ لگنے سے جاںبحق ہوئی۔ سرحدی قصبہ اْوڑی میں جمعہ کو ایک35سالہ خاتون بجلی کرنٹ لگنے سے لقمہ اجل بن گئی۔حکام کے مطابق مذکورہ خاتون اپنے ہی گھر میں  جہاں کوئی تعمیری کام چل رہا تھا،بجلی کی کرنٹ لگنے سے بیہوش ہوگئی جس کے بعد اْسے سب ضلع اسپتال اْوڑی منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اْسے مردہ قرار دیا۔جاں بحق خاتون کی شناخت خالدہ بیگم زوجہ محمد اشرف شیخ ساکنہ اْوڑی کے طور ہوئی
 
 

اسٹارٹ اَپ پروگراموں میں بہتری | کوششوں میں مزید تیزی لانے پر شرماکازور

سرینگر//لیفٹینٹ گورنر کے مشیر کے کے شرما نے جموں کشمیر میں سٹارٹ اپ پروگراموں کو اونچائی تک لے جانے کیلئے ایک موافق ماحول کے قیام کیلئے کوششوں میں مزید بہتری لانے پر زور دیا ۔ مشیر مرکزی وزارت برائے صنعت و حرفت کی جانب سے سٹارٹ اپس اور انٹر پرنیور شپ کیلئے ریاستی درجوں کے نتایج کے اعلان کے سلسلے میں منعقدہ پروگرام کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے جو ورچول طریقہ کار پر منعقد ہوااور اس میں مشیر شرما جموں کشمیر کی نمائندگی کر رہے تھے ۔ اس تہنیتی تقریب کی صدارت مرکزی وزیر برائے صنعت و حرفت پیوش گوئیل کر رہے تھے ۔ مختلف ریاستوں اور یوٹیز کے متعلقہ وزراء نے بھی اپنے سینئر افسران اور اہلکاروں کے ذریعے اس میں شرکت کی ۔ اس دوران بتایا گیا کہ اس پہل کا اہم مقصد ریاستوں اور یو ٹیز کو بہترین طریقہ کار کی نشاندہی کرنے اور سٹارٹ اپس کو مستحکم بنانے کیلئے اپنے حدِ اختیار میں موافق ماحول قائم کرنے کی جانب فعال اقدامات اٹھانے پر راغب کرنا ہے ۔ اس درجہ بندی کے دوسرے باب کا2019 میں آغاز کیا گیا جس میں 22 ریاستوں اور تین یو ٹیز نے شرکت کی ۔
 
 

پالی ٹیکنیک کالجوں کی عمارات کی تعمیر | سامون نے پیش رفت کاجائزہ لیا

سرینگر//پرنسپل سیکرٹری سکل ڈیولپمنٹ و تعلیم ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے التوا میں پڑے پروجیکٹ سکیم کے تحت پالی ٹیکنک کالج عمارات کی تکمیل سے متعلق معاملات پر غور و خوض کیا ۔ کیمپس عمارتوں کی تعمیر کیلئے جے کے پی سی سی تعمیراتی ایجنسی ہے ۔ منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی سی ، ڈیولپمنٹ کمشنر ورکس ، ڈائریکٹر سکل ڈیولپمنٹ ، آر اینڈ بی جموں /کشمیر کے چیف انجینئران ، ایگزیکٹو ڈایریکٹر جے کے پی سی سی ، ڈائریکٹر فائنانس سکل ڈیولپمنٹ اور دیگر متعلقہ افسران میٹنگ میں موجود تھے ۔ میٹنگ کے انعقاد کا مقصد نامکمل پالی ٹیکنک کالج عمارات کی تکمیل میں سرعت لانا اور اس مقصد کیلئے لازمی رقومات کا انتظام کرنا تھا ۔ دوران میٹنگ ہر پالی ٹیکنک کالج پر جاری کام کا مفصل جائیزہ لیا گیا ۔ سامون نے متعلقہ حکام کو طلبا کی سہولت کیلئے ان عمارات کی فوری تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں التوا میں پڑے پروجیکٹ سکیم کے تحت جے کے آئی ڈی ایف سی کے ذریعے رقومات کا انتظام کیا جائے گا ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ ریاسی ، کٹھوعہ اور سانبہ میں پہلے ہی پالی ٹیکنک کالجوں کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور عوام کے نام وقف بھی کی جا چکی ہیں ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ بڈگام ، اننت ناگ ، کلگام اور گاندر بل کے پالی ٹیکنک کالج بھی نئے کیمپسوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالج بارہمولہ اکتوبر 2020 آخیر تک مکمل ہونے کی توقع ہے ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ بانڈی پورہ اور شوپیاں کے پالی ٹیکنک کالجوں کی عمارات دسمبر 2020 تک تیار ہوں گی ۔  
 
 

مشکلات میں جی رہے سیاحت سے جڑے لوگوں کی مدد کی جائے :مشتاق احمدچایا

سری نگر//گزشتہ برس دفعہ370کی تنسیخ کے بعد کشمیر سیاحت جہاں کی اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی مانی جاتی تھی ،میں صرف500سیاح آئے ہیں۔ مرکزی زیرانتظام علاقہ جموں کشمیرحکومت کی طرف سے سیاحتی سرگرمیوں پر پابندی ہٹانے کے بعد سے500ملکی سیاحوں نے کشمیرکی سیر کی ۔اس سے قبل3اگست2019کو مرکزی حکومت نے دفعہ370کی تنسیخ سے قبل تمام ملکی اور غیرملکی سیاحوں کو کشمیر چھوڑ کر چلے جانے کو کہا ۔ذرائع کے مطابق سیاحت سے وابستہ لوگ جوبہترین کمائی کرنے کے علاوہ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتے تھے،اب اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں ۔5اگست 2019کے بعدکشمیرکاسیاحتی شعبہ مکمل طور تباہ ہوچکا ہے۔جب حکومت نے یہاں سے سیاحوں کو چلے جانے کاحکم دیا توغیریقینی کے حالات سال بھررہے لیکن کووِڈ- 19کی دباء نے تو کشمیرکی سیاحت کی صنعت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔سیاحت سے وابستہ لوگوں کے مطابق یکے بعد دیگر ان واقعات سے سیاحت کا شعبہ متاثر ہوا۔ان کے مطابق گزشتہ سال5اگست کے بعدلگ بھگ تین لاکھ لوگوں نے اپنا روزگار کھو دیاہے۔سیاحتی ہوٹل اور ادارے تیرہ ماہ سے خالی ہیں ۔ذرائع کے مطابق دفعہ 370کی تنسیخ کے بعداور کووِڈ- 19وباپھوٹ پڑنے کے بعد جموں وکشمیرمیں سیاحت کی صنعت کو1168کروڑ روپے کا نقصان ہواہے جبکہ2019میں سیاحوں کی آمدمیں 34فیصدکمی درج ہوئی۔ا س دوران ہوٹلیرس کلب کے چیئرمین مشتاق احمد چایا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاحت سے وابستہ متعلقین کوامداد دی جائے تاکہ وہ ان مشکل حالات میں بچ جائیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاحت سے جڑے لوگ سیاحوں کو وادی کی سیر کی جانب راغب کرنے کیلئے جی توڑ کوششیں کررہے ہیں ۔ کووِڈ کی وجہ سے ملکی سیاح یہاں آنے سے کترارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سیاحتی شعبے سے وابستہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سیاحت کی بحالی پرغور کرناچاہیے.۔
 
 

اسلحہ کی منتقلی پر تفتیش،گرفتار افراد سانبہ لائے گئے

جموں//سید امجد شاہ//کولگام ضلع میں جواہر ٹنل کے قریب جمعہ کے روز دو افراد کو اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جن سے تفتیش کے سلسلہ میں سانبہ ضلع لایا گیا۔کوگام پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ہتھکڑی پہنے دو افراد کو جموں۔ پٹھانکوٹ ہائی وے پر پل کے ساتھ ساتھ دریائے بسنترپر لایا۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ دونوں کو دریا کے کنارے لے جایا گیا جہاں انہوں نے کچھ جگہوں کی نشاندہی کی۔ اسی طرح انہیں سانبہ ضلع کے مانسر موڑ لے جایا گیا جہاں ٹرک اسلحہ لے جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتار افراد کو کل تفتیش اور مقامات کی شناخت کے لئے سانبہ لایا گیا تھا۔ دو دن پہلے پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جواہر ٹنل کے قریب ٹرک کو روکااور تلاشی کے دوران اس کے اندر سے اسلحہ برآمد ہوا۔
 
 
 
 
 
 
 

جموں سرینگر شاہراہ پر بدترین ٹریفک جام

گاڑیوں کی روانی بری طرح سے متاثر ، مسافرذہنی تکلیف میں مبتلا
رام بن//ایم ایم پرویز//جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت جام کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے لئے معطل رہی جس کی وجہ بدترین ٹریفک جام لگے رہے۔شاہراہ پر رامسو اوررام بن کے درمیان مختلف مقامات پر ٹریفک جام لگارہاجس سے مسافروں کو شدید مشکلات کاسامناکرناپڑا۔گاڑی چلانے والے شکایت کررہے ہیں کہ ٹریفک جام کی وجہ سے وہ وقت پر اپنی اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ شاہراہ پر بغیر کسی رکاوٹ کے ٹریفک کی روانی کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ گاڑی چلانے والے مسافروں کو اس پریشانی سے راحت مل سکے۔ڈی وائی ایس پی ٹریفک اجے آنند نے بتایاکہ یہ صورتحال مخالف سمت سے ا?نے والی گاڑیوں کی وجہ سے پیش ا?ئی تاہم اب گاڑیاں اپنی اپنی منزل کی طرف جارہی ہیں۔

گاندربل میں کوروناوائرس میں مبتلاء دکاندار | پولیس نے گرفتار کرکے کیس درج کرلیا 

 سرینگر//پولیس نے گاندربل میں کوروناوائرس میں مبتلاء دکاندار کو ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے اور اپنے گھرمیں قرنطین میں نہ رہنے اور کوروناوائرس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرکے اس کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرلیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ضلع گاندربل میں ایک دکاندار جلال الدین نجار ولد محمد صدیق نجار ساکن گیراج گاندربل کا کووڈ ٹسٹ پازیٹو آنے کے بعد حکام نے اس کو اپنے گھرمیں قرنطین میں رہنے کی صلاح دی تھی تاہم مذکورہ شخص نے بیہامہ کے کمپلکس میں قائم اپنی دکان کو کھول دیا جس کی وجہ سے اس کے ذریعے ضلع میں کوروناوائرس مزید پھیلنے کا امکان پیدا ہوا ہے ۔اس دوران پولیس نے مذکورہ دکاندار کو ایس او پیز پر عمل نہ کرنے اور سرکاری رہنماخطوط نہ ماننے اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں گرفتار کرکے اس کے خلاف متعلقہ دفعات  کے تحت کیس زیرنمبر196/2020 درج کرلیا ہے ۔ اس دوران انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کی کسی بھی کوشش سے باز رہے جس سے ضلع میں کوروناوائرس پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس میں مبتلاء کسی بھی شخص کو باہر آزاد گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے اور جوبھی سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔  

جموں میںسول ایوی ایشن سیکورٹی افسر رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

جموں//یواین آئی//سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے اہلکاروں نے یہاں سول ایوی ایشن سیکورٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔سی بی آئی کے ایک عہدیدار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا،’’سی بی آئی کی ایک ٹیم نے بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی کے اسسٹننٹ ڈائریکریٹر اومیش کمار شرما کو ایک شکایت کنندہ سے پانچ ہزار رپے بطور رشوت لینے پر گرفتار کیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا موصوف ڈائریکٹر کے خلاف ایک کیس درج ہوا تھا جس میں شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈائریکٹر نے جموں ہوائی اڈے پر اس کے تحت کام کرنے والے مزدورں کے لئے داخلہ پاس حاصل کرنے کے لئے دس ہزار روپے رشوت دینے کا مطالبہ کیا۔موصوف عہدیدار نے بتایا کہ ڈائریکٹر شکایت کنندہ کو مبینہ طور پر ہراساں کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے جمعرات کی شام کو ڈائریکٹر کو رنگے ہاتھوں پانچ ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے پکڑ لیا۔موصوف نے بتایا کہ ملزم کی سری نگر کی سرکاری رہائش پر تلاشی کی جا رہی ہے اور اتر پردیش کے شاہ جہاں پور علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بھی چھاپے ڈالے جا رہے ہیں۔

حکومت کو4جی انٹرنیٹ پر پابندی سے خوشی حاصل ہورہی ہے

تیزرفتار انٹرنیٹ بحال کرنے کی لیفٹینٹ گورنر سے اپنی پارٹی کی اپیل 

سرینگر//اپنی پارٹی صوبائی نائب صدر کشمیر جگموہن سنگھ رینہ نے کہا ہے کہ فور جی تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ سروسز پر لگاتار پابندی جموں وکشمیر میں عوامی مسائل کے ازالہ کے تئیں حکومت کے سنجیدہ پن کی نفی ہے۔ ایک بیان میں رینہ نے کہاکہ ایک ایسے وقت جب کووِڈ وباء کی وجہ سے جموں وکشمیر کے لوگ گونا گوں مشکلات کا شکار ہیں، حکومت بدقسمتی سے کرئہ ارض کے اِس حصہ پر انٹرنیٹ سروسز پر غیر انسانی پابندیوں کی توسیع کر کے خوش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے سیکورٹی خدشات کچھ حد تک درست ہوسکتے ہیں لیکن لگاتار 4فوجی انٹرنیٹ خدمات کی معطلی مکمل طور بلاجواز ہے۔ یہ وقت صحت بحران کا ہے، جموں وکشمیر کے نوجوان ٹوجی انٹرنیٹ سروسز کی وجہ سے آن لائن کلاسز سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔ جموں وکشمیر میں محدود فکسڈ لائن انٹرنیٹ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید تشویش ناک ہے۔ اپنی پارٹی نے کہاکہ ملک یا بیرون ملک سے بڑی تعداد میں طلبا کووِڈ وباء کی وجہ سے اپنے گھر واپس لوٹے تھے، جوکہ انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں ذاتی طور بہت سارے نوجوانوں کو جانتا ہوں جس میں پڑوسی اور قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں، جنہیں مجبوراً کووِڈ وباء میں اپنا گھر چھوڑنا کرجانا پڑا کیونکہ وہ اپنے کالجوں اور یونیورسٹی کی آن لائن کلاسز کا گھروں سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے تھے‘‘۔اپنی پارٹی رہنما نے کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ حکومت نے گاندربل اور ادھم پور اضلاع میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت شروع کی اور جموں و کشمیر کے باقی حصوں کے ساتھ الگ رویہ اختیار کیاجارہاہے ‘‘۔اگرچہ یہ قابل ستائش ہے کہ آزمائشی بنیاد کے بعد گاندربل اور ادھم پور میں 4 جی انٹرنیٹ بند نہیں کیاگیا لیکن دیگر اضلاع میں اس سہولت کو معطل کرنا لوگوں کے ساتھ ایک بھدامذاق ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے درخواست کی ہے کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایات کے پیش نظر پورے جموں وکشمیر میں فورجی انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا فیصلہ لیاجائے۔ْ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
وادی میں چوری کی بڑھتی وارداتیں
گاندربل میں مسجد اورآستانہ سے سیف توڑ کر نقدی اُڑالی 
گاندربل//ارشاد احمد//گاندربل میں چوروں نے مسجد اور زیارت کو لو ٹ لیا ۔وائل گاندربل سے ملحقہ مومن آباد میں مقامی زیارت اور 2 مساجد میں نقب زنوں نے سیف کا تالہ توڑ کر ہزاروں روپے نقدی لوٹ لئے۔بتایا جا تا ہے کہ سہ پورہ مومن آباد میں دوران شب نقب زنوں نے مقامی زیارت الشیخ جمال صاحب اور دو مساجد میں موجود سیف کا تالہ توڑ کر ہزاروں روپے نقدی لوٹ لئے ۔مقامی لوگوں نے چوری کی ان وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس میں ملوث افراد کی فوری طور گرفتاری عمل میں لائیں ۔انہوں نے کہا کہ ضلع میں عام لوگوں کے گھروں پر ڈاکہ ڈالنے والوں نے اب مساجد اور زیارت شریف میں بھی نقب زنی کی واردات کو انجام دیا ہے ۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کے تحقیقات شروع کر دی ہے جبکہ اس میں ملوث افراد کی تلاش بھی بڑے پیمانے پر شروع کر دی ہے ۔
 
 
 
بانڈی پورہ پولیس نے چوری کا معاملہ حل کیا 
سرینگر //بانڈی پورہ پولیس نے چوری کا معاملہ حل کرکے اس میں ملوث سارق کو مال مسروقہ سمیت گرفتارکیا ۔6 ستمبر 2020  کو تھانہ پولیس الوسہ کو مشتاق احمد خان ولد حبیب اللہ خان ساکن بنلی پورہ الوسہ سے شکایت ملی کہ غلام احمد شاہ ولد قدوس شاہ ساکن بیرو کنی گنڈ نے اس کے رہائشی مکان میں چوری کی ہے اور وہاں سے لاکھوں کی مالیت کے زیورات لوٹ لئے ہیں ۔اطلاع موصول ہوتے ہی تھانہ پولیس الوسہ بانڈی پورہ نے اس سلسلے میں کیس زیر ایف آئی آرنمبر99/2020 کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی۔دوران تحقیقات پولیس نے اس شخص کو گرفتار کرلیا ، اور اس سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر کے اس کے انکشاف پر ماگام علاقے میںمختلف جگہوں سے سونے کی 3  انگوٹھی اور 2 رینگ برآمدکئے ۔ مذکورہ ملزم نے مزید دو افراد کی ملوث ہونے کا انکشاف کیا جو گروہ کے طور پر کام کرتے تھے اور اس گروہ کے طریقہ کار یہ تھے کہ وہ عورتوں کو دھوکہ دہی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ مزید یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ وادی کے مختلف علاقوں میں اسی نوعیت کی مختلف کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ انہیں گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے جہاں وہ زیر حراست ہیں۔ مزید تفتیش جاری ہے ۔
 
 
 
فیروز پورہ ٹنگمرگ میں2گائیں اور 3 بچھڑے چرائے گئے 
ٹنگمرگ/مشتاق الحسن/فیروزپورہ ٹنگمرگ میں نامعلوم مویشی چوروں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو 2 گائو خانوں سے دو گائیں اور تین بچھڑے چرا لئے۔تفصیلات کے مطابق نامعلوم مویشی چوروں نے 10 اور 11ستمبر کی درمیانی رات کو غلام محیٰ الدین لون ولد غلام محمد لون کے گاو خانے سے ایک گائے اور دو بچھڑے جبکہ غلام محمد بٹ ولد عبدل صمد بٹ کے گاو خانے سے ایک گائے اور ایک بچھڑا چرالئے ہیں ۔عینی شاہدین کے مطابق جب یہ لوگ اپنے گائو خانوں میں مویشیوں کو چارہ ڈالنے گئے تو وہاں مویشیوں کو نہ پاکر حیران رہ گئے۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔
 
 
 
 
 
 
18ویں برسی پر مشتاق لون کو این سی کا خراج 
لولاب میں مزار پر فاتحہ خوانی اور گلباری تقریب منعقد
سرینگر//لولاب سوگام میں مشتاق احمد لون کی 18برسی پر مرحوم کے قبرستان پر گلباری اور فاتحہ خوانی انجام دی گئی۔ کووڈ19کے امسال تقریب مختصر رہی ہے۔ فاتحہ خوانی میں نیشنل کانفرنس کے مقامی عہدیداران اور کارکنوں کے علاوہ معزز شہریوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت اور کلمات ادا کئے گئے اور مرحوم کی جنت نشینی کی اور بلند درجات کیلئے دعا کی گئی اور مرحوم کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور مرحوم کی ملی ، سیاسی اور سماجی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ادھر پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس پر بھی ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں مرحوم لون کی پارٹی خدمات کو یاد کیا گیا۔ صدر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم لون ایک ماہرِ قانون ، شریف النفس اور کم گو شخصیت کے مالک تھے۔ مرحوم نے اپنے فرایض اور عوامی خدمات نہایت ایمانداری سے انجام دیں۔ آج ہی مرحوم کے برادرِ اکبر خواجہ محی الدین لون کی بھی برسی منائی جارہی ہے اور اُن کے مقبرہ پر بھی فاتحہ خوانی اور گلباری ہوگی۔دریں اثناء نیشنل کانفرنس نے پارٹی لیڈران کو مشتاق احمد لون کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں شرکت کرنے کیلئے کپوارہ جانے سے روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈران میر سیف اللہ ، قیصر جمشید لون اور دیگر لیڈران نے اگرچہ کپوارہ جانے کی کوشش کی تاہم انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے پہلے8ستمبر کو شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی برسی کے موقعے پر بھی ان لیڈران کو کپوارہ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کرنے سے روکا گیا۔