مزید خبرں

فورسزامن وامان کی بحالی کیلئے کوشاں:اے پی مہیشوری

سرینگر//جموں کشمیرمیں امسال دوسوکے قریب جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل اے پی مہیشوری نے کہا ہے کہ سی آر پی ایف جموں کشمیرمیں امن وامان کی بحالی کیلئے کوشاں ہے۔سی این آئی کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سی آر پی ایف، اے پی مہیشوری نے کہا کہ بٹہ مالو سرینگر میں مسلح تصادم آرائی کے دوران زخمی ہوا سی آر پی ایف کا ڈپٹی کمانڈنٹ جلد ہی اُسی حوصلہ اور جذبے کے ساتھ ڈیوٹی پر واپس آ جائے گا ،جو اس میں پہلے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے کے باوجود سی آر پی ایف آفیسر نے جنگجوئوں کا بھر پور مقابلہ کیا تھا اور بہادری دکھا ئی اور اس جھڑ پ میں تین جنگجوئوں کو ہلاک کر دیا ۔ ڈائریکٹر جنرل سی آر پی ایف اے پی مہیشوری نے کہا کہ جہاں تک آپریشنوں کا تعلق ہے سی آر پی ایف جموں کشمیر پولیس کے ساتھ مل کر جنگجوئوں کا خاتمہ کرنے میں ساتھ ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی جموں کشمیر کوجنگجوئوں سے پاک کیا جائے گا اور آخری جنگجو کے خاتمہ تک آپریشن جاری رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امسال سیکورٹی فورسز کوجنگجوئوں مخالف آپریشنوں میں کافی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اعلیٰ کمانڈوروں سمیت دو سو کے قریب جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا ۔ سی آر پی ایف اہلکاروں پر حملوں کے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے بتایا کہ جنگجوئوں کے حملوں کو ناکام بنانے کیلئے سی آر پی ایف چوکنا ہے جبکہ اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کیلئے نئی حکمت عملی بھی مرتب کی جائے گی ۔ 
 
 
 

گاندھی جینتی تقریبات کاانعقاد | سماج کوصاف ستھرا رکھا جائے: دلباغ سنگھ 

سرینگر//ریاستی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ صحت مند سماج اور صاف ستھرا ماحول قائم کرنے کیلئے ہم سب کو ملکر کوششیں کرنی ہونگی۔وہ پولیس ہیڈ کواٹر میں گاندھی جینتی پرعہد اٹھانے کی تقریب پر پولیس اہلکاروں سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقہ پر اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹر (پی ایچ کیو) اے جی میر نے حلف اٹھانے کی تقریب کا انعقاد کیا اورجموں و کشمیر پولیس کے جانب سے منعقد کئے گئے صفائی ابھیان میں حصہ لیا۔حلف اٹھانے کی تقریب میں پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ، ائے ڈی جی پی سی آئی ڈی آر آر سوان، ائے ڈی جی پی آرمڈ ائے کے چودھری،آئی جی پی کرائم ایم کے سنہا، ایس ایس پی کرائم ، ایس ایس پی سرینگراور پولیس کے دیگر افسران موجود تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے کہا کہ ہر ایک شخص کو سماج کو صاف رکھنے کیلئے اپنے عادات میں تبدیلی لانی چاہئے تاکہ سوچھ بھارت مشن کو کامیاب بنایا جاسکے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی سطح کے علاوہ گھر، دفاتر ، آس پاس کو صاف رکھنے کے علاوہ صحت مند سماج کیلئے کام کرنا ہوگا۔ 
 
 

پردیش کانگریس ہیڈکوارٹر پر تقریب منعقد 

سرینگر//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے سرینگر پارٹی کے دفتر میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے جنم کوجوش و خروش سے منایا ۔تقریب میں لیڈان نے زراعت کے بلوں کے خلاف سخت احتجاج درج کرتے ہوئے، انہیںفوری طورواپس لینے کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں پردیش کانگریس کے صدر جی اے میر اور دیگر سینئرلیڈران اور کارکنان نے شرکت کی ہے۔ اس دوران اس دن کو کسان مزدور بچاؤ دیوس کے طور منایاگیا ہے ۔یہاں موجود لیڈران نے راہل گاندھی کو یو پی میں عصمت دری متاثرین کے کنبوں سے نہ ملنے پر یوپی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنالیا ہے ۔انہوں نے زراعت کے بلوں کے خلاف سخت احتجاج درج کرتے ہوئے ان سے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ تقریب میںسینئر لیڈر حاجی عبد الرشید ڈار،رمن مٹو،گلزار احمد وانی ،سرندر سنگھ چنی،بشیر احمد ماگرے محمد مظفر پرے،نثار احمدمنڈو،شمیم اقبال ،شمیم رینہ،کے علاوہ باقی لیڈران کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اس دوران غلام احمد میر نے مہا تما گاندھی کی خدمات اور قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا مہاتما گاندھی نے قوم اور اس کے تنوع اور سیکولر شناخت کے لئے اپنی زندگی دی ، لوگوں کو متحد کرتا رہے گا۔ صدر نے سابق وزیراعظم لال بہادری شاستری کی خدمات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔
 
 

ایل جی نے راج بھون اور سول سیکرٹریٹ میں افسران اور ملازمین کو سوچھتا عہد دلایا 

سرینگر //بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 151 ویں یومِ پیدائش پر لفٹینٹ گورنر نے آج راج بھون اور سول سیکرٹریٹ میں افسران ، ملازمین اور عملے کے ارکان کو سوچھتا کا عہد دلایا ۔ لفٹینٹ گورنر کے مشیران ، چیف سیکرٹری ، فائنانشل کمشنران ، انتظامی سیکریٹریز ، مختلف محکموں کے سربراہان ، اعلیٰ افسران ، ملازمین اور عملے کے ارکان سوچھتا عہد کی تقاریب میں موجود تھے ۔ یہ عہد جموں کشمیر حکومت کے بابائے قوم کے نظریات کو تقویت دینے کا عزم ہے جن میں اُن کا سوچھتا سے والہانہ لگاؤ تھا ۔ تمام شرکاء نے ذاتی اپنے اہلِ خانہ ، اپنی بستی اور کام کاج کی جگہ میں صفائی ستھرائی پر خاص دھیان دینے کیلئے اقدامات اٹھانے کا عہد کیا اور ساتھ ہی سوچھ بھارت مشن کے پیغام کو عام کرنے کی بھی قسم کھائی گئی ۔ واضح رہے جموں کشمیر حکومت نے جموں کشمیر یونین ٹیر ٹری کے تمام دفاتر میں سوچھتا عہد تقریبات کے انعقاد کا گاندھی جینتی کے موقعہ پر فیصلہ لیا ہے ۔ 
 
 

مشیر شرما کامہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت 

جموں//لفٹینٹ گورنر کے مشیر کے کے شرما نے مہاتما گاندھی کے151 ویں یومِ پیدائش پر گلوبل گاندھی فیملی جموں کشمیر کی جانب سے دیوانِ عام مبارک منڈی جموں میں منعقدہ تقریب پر عقیدت کے پھول پیش کئے ۔ اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشیر نے تمام گرام پنچائتوں کو بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم پروگرام میں عملی شرکت کرنے کیلئے کہا ۔ شرما نے کہا کہ بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم کے دوران عوامی شکایات کے ازالہ ، خدمات کی تیز تر فراہمی اور گرام پنچائت سطح پر ترقیاتی عمل شروع کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے ۔ مشیر شرما نے اپنے گردو نواح کو صاف رکھنے اور روز مرہ زندگی میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنے پر زور دیا جو کہ کووڈ 19 وباء کے پیش نظر ایک لازمی امر بن گیا ہے ۔ صدر گاندھی گلوبل فیملی نے حاضرین کو جانکاری دی کہ قریباً 150 امدادی کیمپ جی جی ایف نے  حالیہ بحران کے دوران منعقد کئے ہیں جس سے 30000 نفوس مستفید ہوئے ہیں ۔ بعد میں مشیر نے پنچائت گھر جندرا کا دورہ کیا جہاں امدادی کیمپ منعقد کیا گیا تھا جس کے دوران 100 مقامی ضرورتمند کنبوں میں روز مرہ کی اشیائے ضروریہ اور حفظانِ صحت کٹس تقسیم کئے گئے ۔ انہوں نے جی جی ایف کو جموں کشمیر میں کووڈ وباء کے دوران امدادی کیمپ منعقد کرنے کیلئے سراہا ۔ بابائے قوم کو عقیدت کے پھول پیش کرنے والوں میں جی جی ایف کے ایگزیکٹو ممبر ایم ایم جوشی ، سرپنچ جندرا انل شرما اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ۔ 
 
 

اسلامک یونیورسٹی میں سوچھتاکا عہد دلایا گیا

اونتی پورہ// باپوکا 151واں جنم دن منانے کے موقعہ پراسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ تیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسرمشتاق احمد صدیقی نے یونیورسٹی کے حکام اور ملازمین کو سوچھتاکاحلف دلایا۔اس موقعہ پر یونیوسٹی کے سبھی شعبوں کے سربراہ اورڈین موجودتھے۔یہ عہدنامہ جموں کشمیر حکومت کا گاندھی جی کے خیالات کوزندہ کرنے کاعزم ہے جس میں سوچھتا کواہم مقام حاصل ہے۔سبھی شرکاء نے اس موقعہ پر صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھنے اور اپنے کنبے کو بھی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی ترغیب دینے کا عہد کیااور سوچھتاکے پیغام کو عام کرنے کابھی عزم کیا۔
 

گاندربل میں پکڑا گیا ریچھ داچھی گام منتقل 

گاندربل//ارشاد احمد//گاندربل میں اُدھم مچانے والے ریچھ کو قابو کرکے داچھی گام پارک منتقل کیاگیا۔جمعہ کو صبح8بجے رام پورہ میں ایک بھاری بھرکم ریچھ نمودار ہواجسکے نتیجہ میں لوگوں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی۔ ریچھ کودیکھنے کیلئے لوگوںکی بھیڑ جمع ہوئی جس کے بعد ریچھ بوغو،پتی رام پور، بابا گنڈ کی طرف بھاگ گیا۔ اس موقعہ پر لوگوں نے محکمہ وائلڈ لایف اور پولیس کو اطلاع دی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر ریچھ کو وحید پورہ میں انجکشن لگاکر بے ہوش کردیا ۔ محکمہ وائلڈ لایف کے انچارج فیروز احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ریچھ کو داچھی گام پارک میں چھوڑ دیا گیا۔ 
 

کپوارہ میں مہلوک فوجی اہلکاروںکو ایل جی کا خراج عقیدت 

 
سرینگر //لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کونوگام سیکٹر کپواڑہ میں بلا اشتعال گولہ باری میں مارے گئے 8 جے اینڈ کے آر آئی ایف کے رائفل مین شبم شرما کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ رائفل مین شبم شرما نے قوم کی خدمت میں اپنی جان نچھاور کی اور پوری قوم اُن کی اس قربانی کی رہین منت رہے گی ۔ایل جی نے کہاکہ ’ہمیں اپنے فوجی دستوں پر فخر ہے اور ہم اُن کی مدد کیلئے مضبوطی سے کھڑے ہیں‘ ۔ لفٹینٹ گورنر نے نوجوان فوجی جوان کو یاد کیا جس کا جسدِ خاکی آبائی قصبہ آر ایس پورہ جموں پہنچا ۔ لفٹینٹ گورنر نے سکھ ایل آئی یونٹ 15 کے حوالدار کلدیپ سنگھ کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جو اسی حادثے میں ماراگیا ۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہوئے دیگر چار جوانوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ۔ 
 

بادامی باغ میں تقریب کا انعقاد 

سرینگر//یو این آئی// شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول پر جمعرات کو پاکستانی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 2 فوجی اہلکاروں کو جمعے کے روز یہاں بادامی باغ فوجی چھاونی میں ایک تقریب کے دوران خراج عقیدت پیش کیا گیا۔تقریب میں فوج کی پندرہویں کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو اور دوسرے اعلیٰ افسروں نے حصہ لیا۔دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حوالدار کلدیپ سنگھ اور رائفل مین شبم شرما نے کپوارہ میں ایل و سی پر پاکستانی فوج کی طرف سے جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔بیان میں کہا گیا کہ پنجاب کے ہوشیارپور سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ حوالدار کلدیپ سنگھ نے 6 اگست 2002 کو فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ راجوندر کور کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔جموں سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ شبم شرما نے 17 ستمبر 2016 میں آرمی جوائن کی تھی۔ ان کے پسماندگان میں والد شری وجے کمار شامل ہیں۔
 

کورپشن اور اقرباء پروری کے  گراف میں اضافہ تشویشناک: شاہین 

سرینگر/بلال فرقانی//جنتا دل یونائٹڈ جموںوکشمیر کے صدر جی این شاہین نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا ہے کہ بدعنوان افسران کو ملازمت سے بے دخل کیاجائے۔ اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جی این شاہین نے کہاکہ اگر کورپشن میں غرق افسران کو نوکریوںسے برخواست نہیں کیاگیا توہ وہ سڑکوں پر آکراحتجاج کرینگے۔ انہوںنے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چند اعلیٰ بیروکریٹوں کی غفلت شعاری کی وجہ سے کشمیری عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا’’ کچھ بیروکریٹ سالہا سال سے ایک ہی جگہ اور عہدے پر براجمان ہیں اور اس سلسلے پر فوری طور پر روک لگا دینی چاہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کی سیول سیکریٹریٹ تک رسائی کومحدود بنایاگیا ہے اور کورپشن و اقربا پروری کے گراف میں اضافہ ہو رہا ہے اور لیفٹنٹ گورنر کو چاہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔
 
 

کریشر پلانٹ کومنتقل کرنے کی مانگ  دوارن اوڑی میں بیکن دفتر کے سامنے احتجاج

اوڑی/ظفر اقبال//دوارن اوڑی میں لوگوں نے بیک ٹو ولیج3کا بائیکاٹ کیا۔ بیکن دفتر مہورہ کے دفتر کے سامنے لوگ جمع ہوئے اور الزام عائد کیا کہ بیک ٹو ولیج 2میں اجاگر کئے گئے مسائل کو ابھی تک حل نہیں کیاگیا۔دوارن اوڑی کی سرپنچ راشدہ بیگم نے کہاکہ بیکن کی طرف سے ان کے گاوں کے نزدیک کریشر پلانٹ قائم کیا گیا ہے جسکی وجہ سے علاقے میں آلودگی پھیل رہی ہے اور بار بارحکام کی نوٹس میں معاملہ لانے کے باوجود کریشر پلانٹ کو وہاں سے منتقل نہیں کیاگیا۔ مذکورہ سرپنچ نے کہاکہ علاقے کے بیشتر لوگ پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ایس ڈی ایم اوڑی نے کہاکہ کریشر پلانٹ کا معاملہ بیکن افسران کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
 

پروفیسر مشعل سلطان پوری کو خراج عقیدت 

سرینگر//ادبی مرکزکمراز اور حقانی میموریل ٹرسٹ نے پروفیسر مشعل سلطان پوری کے انتقال پر رنج و غم کااظہار کیا ہے۔ ادبی مرکز کمراز کے صدر فاروق رفیع آبادی کی صدارت میں کا ایک تعزیتی اجلاس خواجہ باغ بارہمولہ میں منعقد ہوا جس میں مقررین نے پروفیسر مشعل سلطان پوری کے ادبی، لسانی اور ثقافتی کارناموں کو اجاگر کرتے ہوئے اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیااور انہیں برصغیر کی ادبی شخصیت قرار دیتے ہوئے اُنہیں کشمیری زبان و ادب کا مایہ ناز لسانی کارکُن گرداناگیا۔ اس موقعہ پر شرکاء نے اس موقف کی یقین دہانی کرائی کہ وہ مرحوم مشعل سلطانپوری کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک لے جانے کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے۔ادھر حقانی میموریل ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری بشیر احمد ڈار اوردیگرممبران نے مرحوم کی جنت نشینی اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی۔ 
 
 

لفٹینٹ گورنر کا صحافی جاوید احمد کی وفات پر اظہار تعزیت 

سرینگر//لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوان صحافی جاویس احمد کی وفات پر اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے ایک تعزیتی پیغام میں لفٹینٹ گورنر نے مرحوم کی روح کے دائمی سکون اور سوگوار خاندان کیلئے حمت و استکامت کی دعا کی ۔ ادھر عوامی اتحاد پارٹی کے ورکنگ جنرل سیکریٹری پرویز شیخ ، سینئر لیڈران سیبان عشائی، فردوس احمد بابا نے بھی جاوید احمد کی وفات پر رنج و غم کااظہارکرتے ہوئے لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی ہے۔ 
 

اپنی پارٹی کااظہار تعزیت 

سرینگر//اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے ہاردی بنی کنزر ٹنگمرگ کے حاجی عبدالرحمن کھانڈے کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔غلام حسن میر نے موصوف کو شریف النفس اور مخلص شخص قرار دیا جنہوں نے پوری زندگی عوامی بہبود کیلئے وقف کر دی۔ انہوں نے کہاکہ موصوف عوامی مشکلات کا ازالہ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے اور اپنی پارٹی نے ایک سیاسی وسماجی کارکن کھودیا ۔انہوںنے مرحوم کی جنت نشینی کی دعا کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی۔ 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

آغاحسن کی خانہ نظربندی ختم | 14ماہ بعد نمازجمعہ کی پیشوائی کی

سرینگر//ریاستی انتظامیہ نے جموں و کشمیر انجمن شرعی شعیان کے صدر آغا سید حسن کی 14ماہ سے جاری خانہ نظر بندی ختم کی اور موصوف نے 14ماہ کے طویل عرصے کے بعد مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیشوائی کی ۔آغا حسن کو گزشتہ سال ماہ اگست کے اوائل میں اس وقت خانہ نظر بند کیا گیا تھا جب دفعہ 370اور35Aکو منسوخ کر کے ریاست کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کیا گیا تھا ۔14ماہ سے متواتر خانہ نظر بندی کی وجہ سے آغا  حسن کسی بھی دینی تبلیغی اور سماجی تقریب میں شرکت نہ کرسکے اور نہ ہی بحثیت امام جمعہ مرکزی امام باڑہ بڈگام اپنے فرائض منصبی ادا کرسکے۔ انجمن شرعی شیعیان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے حال ہی میں موصوف کی مسلسل خانہ نظر بندی کے حوالے سے عدلیہ سے رجوع کیا اور جب عدالت نے ریاستی انتظامیہ سے وضاحت طلب کی، تو انتظامیہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ حکومت کی طرف سے آغا کی خانہ نظر بندی کے حوالے سے پولیس کو کوئی حکم نامہ صادر نہیں کیا گیا ہے اور آغاحسن خانہ نظر بند نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آج تک نہ صرف ریاستی انتظامیہ بلکہ مرکزی سرکار بھی کشمیری سیاسی و دینی رہنماوں کی خانہ نظر بندی کے حوالے سے دروغ گوئی کا مظاہر کرتی رہی ۔ اس طویل خانہ نظر بندی کے دوران آغا حسن سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرنے والے عوام بالخصوص تنظیمی کارکنوں اور خیر خواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان لوگوں نے بھی آغا حسن کی خانہ نظر بندی سے رہائی کے لئے حتی الامکان کوششیں کیں۔ 
 
 

ملک فرقہ پرستی کی لپیٹ میں :کمال

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے گاندھی جینتی پر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنجہانی نے آزاد، سیکولر ،جمہوری ہندوستان کیلئے جدوجہد کی اور قربانیاں پیش کیں لیکن موجودہ دور میں اُن کے ان سنہری اصولوں اور بیش بہا قربانیوں کی مٹی پلید کی جارہی ہے۔ پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے سیکولرازم ، ہم آہنگی اور امن کے علم بردار مہاتما گاندھی کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے  ایک بیان میںکہا کہ آنجہانی تمام مذاہب اور طبقوں کا احترام کرتے تھے اور ہمیشہ مساوات ، ہم آہنگی اور بھائی چارے میں یقین رکھتے تھے۔ آنجہانی کو سب سے بڑا خراج عقیدت بھارت کو اُنہی اصولوں  پرلانا ہوگا جن کے تحت تمام مذاہب اور طبقوں کے لوگوںکو برابر حقوق حاصل تھے اور تمام خطوں کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری مقدم تھی۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بدقسمتی سے آج پورا بھارت فرقہ پرستی کی لپیٹ میں آچکا ہے ، اقلیتوں کی بدحالی، اُن پر طرح طرح کے ظلم و ستم اور اُن کے مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت روزکا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آنجہانی گاندھی سامراج انگریز کیخلاف ہندوستان کی آزادی کیلئے جنگ لڑ رہے تھے ، اُس وقت جو لوگ درپردہ طور پر انگریز سامراج کیساتھ ملے ہوئے تھے ،بدقسمتی سے اُنہی لوگوں کے ہاتھ میں آج ملک کی کمان آگئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کی حکمران جماعت سے وابستہ لیڈران گاندھی جینتی پر گاندھی کے قاتل کا دن مناتے ہیں اور اُسے ہیرو جتلا رہے ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں کس حد تک نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کیس میں تمام ملزمین کی بریت کا جشن منانا، یو پی کے ہاتراس میں خوفناک عصمت اور قتل کے ملوثین کو بچانے کیلئے احتجاجی ریلی نکالنا اور گاندھی جینتی پر گوڈسے کا دن مناناجیسے واقعات کسی بھی صورت میں ملک کے مستقبل کیلئے سود مند نہیں۔ بدترین ،گھناونی اور شرمناک کارروائیوں کی پشت پناہی کرنا اور جشن منانا نئے بھارت کا نیامعمول بن کر رہ گیا ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ گاندھی جی کو آزادی کے وقت صرف کشمیر میں روشنی کی کرن نظر آئی تھی لیکن نئی دلی میں بیٹھے حکمرانوں نے یہاں بھی لوگوں اور خطوں کو مذہبی، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کشمیر شخصی راج کیخلاف برسر جنگ تھے اُس وقت گاندھی جی ، نہرو ، مولانا آزاد، خان عبدالغفار خان اور دیگر لیڈران نے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ اور کشمیریوں کی حمایت کی اور ہم اُن کے اُس تعاون کو نہیں بھلاسکتے۔
 
 

ریتلے پن بجلی منصوبہ  | پی ڈی سی کی شراکت باعث اطمینان : اپنی پارٹی 

سرینگر// اپنی پارٹی صوبائی نائب صدر جموںسعید اصغر علی نے 850میگاواٹ ریٹلی پن بجلی پروجیکٹ کو حکومت ِ جموں وکشمیر اور نیشنل ہائیڈرو الیکٹریک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی)کی طرف سے مشترکہ طور تعمیر کی منظوری دینے کیلئے مرکزی حکومت ِ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک بیان میں اصغر نے کہاکہ جموں و کشمیر حکومت کے اشتراک سے اس اہم ترین بجلی منصوبے کی تعمیر کی حکومت ِ ہند کی طرف سے منظوری  اپنی پارٹی کی طرف سے کئے گئے ایک اور وعدے کی ریکارڈ مدت میں تکمیل ہے۔انہوں نے کہا،’’ میں حکومت ِ ہند کی تعریف کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخار ی کو یہ اعزاز بخشا جنہوں نے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے پہلی ملاقات میں ہی مطالبہ کیاتھاکہ ریٹلی پن بجلی پروجیکٹ این ایچ پی سی کو نہ دیاجائے اور اِس کے بجائے جموں وکشمیر پاور ڈولپمنٹ کارپوریشن کو بھی اِس میں شراکت دار بنایاجائے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی کو فخر ہے کہ اُس نے ملک کی اعلیٰ قیادت کو پیش کی گئی یادداشت میں اِس مطالبہ کو شامل کیاتھا اور اُس کے بعد مرکزی حکومت سے ہوئی ملاقاتوں میں بھی پرزور طریقہ سے یہ مانگ اُجاگر کی گئی۔ اصغر نے کہاکہ اب مرکزی وزارت خزانہ نے اِس اہم منصوبہ جس کی تخمینہ لاگت 5281.94کروڑ ہے، کو منظوری دے دی ہے جس میں اب جموں وکشمیر حکومت بھی برابر کی حصہ دار ہے ۔انہوں نے کہا چونکہ اب ریٹلی پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں، جموں وکشمیر حکومت اس سے 2500میگاوٹ بجلی پید ا کرنے کے اہل ہوگی ، علاوہ ازیں مقامی نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا۔ اِس پروجیکٹ کی تکمیل سے نہ صرف جموں وکشمیر حکومت بجلی کی ضرورت کوپورا کرنے کے اہل ہوگی بلکہ اِس سے مجموعی طور معاشی ترقی بھی ہوگی۔ اپنی پارٹی صوبائی نائب صدر نے اُمید ظاہر کی ہے کہ چونکہ اب سبھی رکاوٹیں ختم ہوگئی ہیں، این ایچ پی سی اور جے کے پی ڈی سی حکام جلد کام شروع کریں گے اور مقررہ مدت کے اندر اِس کی تکمیل یقینی بنائی جائے گی۔
 
 

کولگام میں مزدور لقمہ اجل

کولگام//کھارپورہ سرندوکولگام میں ایک مزدور اس وقت لقمہ اجل بن گیا جب سڑک پر پھسل کر وہ ایک ڈرین میں جاگرا۔ذرائع کے مطابق منظوراحمد چوہان ولد محمدعبداللہ چوہان ساکن ہالن کولگام سڑک پر اس وقت پھسل کر ڈرین میں جاگرا،جب وہ سیمنٹ سے لدے ایک ریڑے کودھکا دے کر چلارہاتھا۔اس کے سرکو شدید چوٹ آنے کے باعث وہ موقعہ پر ہی جاں بحق ہوا۔اس سلسلے میں پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
 
 
 

جموں کشمیر اردو کونسل کے اہتمام سے اردو مضمون نویسی مقابلے |  غیر معمولی پذیرائی ،اب تک 200 سے زائد مضامین موصول 

سرینگر//جموں کشمیر اردو کونسل کے اہتمام سے منعقد کروائے جارہے مڈل، ہائی اور ہائر سکینڈری سطح کے بچوں کے مابین اردو مضمون نویسی مقابلے کو پورے جموں کشمیر میں غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ اب تک کونسل کو دو سو سے زائد مضامین موصول ہوئے ہیں جو سب کے سب ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ہیں ۔کے این ایس  کے مطابق  دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقابلے میں جہاں سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں نے یکساں دلچسپی دکھائی ہے، وہیں کئی دینی مدارس میں زیر تعلیم بچے بھی شامل مقابلہ ہوچکے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اردو کونسل کو ملنے والے مضامین میں بہت سارے مضامین جموں، پونچھ، راجوری، رام بن اور جموں صوبے کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کے کپوارہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، سرینگر، بڈگام، اسلام آباد، پلوامہ، کولگام اور شوپیان اضلاع سے بھی موصول ہوئے ہیں۔ اس اردو مقابلے میں جموں کشمیر کے اطراف واکناف سے بچوں کی شمولیت اس بات کی غماز ہے کہ سرکاری اور انتظامی سطح پر حوصلہ شکنی کے باوجود عوامی سطح پر اردو کے تعلق سے لوگوں میں خاصی بیداری پائی جاتی ہے۔ اردو کونسل کی طرف سے مقابلہ کے احسن انعقاد کے لئے جو پروگرام کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اس نے اپنی کئی نشستوں میں پروگرام کے حوالے سے آ گے کے خدوخال طے کر لئے ہیں۔ چنانچہ یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ کونسل کی طرف سے مقرر کردہ موضوع "اردو زبان۔۔۔۔ہماری ضرورت"پر بچوں کی طرف سے  موصول شدہ مضامین کی کونسل سے باہر تعلیم و اردو زبان کے مستند اور قابل ماہرین کی ایک ٹیم سے جانچ پڑتال کروائی جائے گی اور ہر مضمون تین تین اساتذہ دیکھیں گے اور پھر تینوں کے الگ الگ نمبرات کو ملاکر پوزیشنوں کا تعین کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ پوزیشن ہولڈروں کو زبانی جانچ کے ایک اور مرحلے سے گزارا جائے گا جس کے بعد ہی حتمی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ مقابلے میں اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلاب کو نقد انعامات کے علاوہ کتابیں اور اسناد دی جائیں گی۔ جبکہ مقابلہ کے سبھی شرکاء  میں کونسل کی طرف سے توصیفی اسناد بھی تقسیم کی جائیں گی۔ انعامی تقریب کا اہتمام حالات کے تناظر میں الگ سے کیا جائے گا جس کے لئے پرنسپل سیکریٹری اسکولی تعلیم  اصغر حسن سامون اور محکمہ کے دیگر افسران کو مدعو کیا جائے گا۔ اردو کونسل اس تحریری مقابلے میں بڑے پیمانے پر شرکت کے لئے طلاب، ان کے والدین، اساتذہ اور سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتاہے۔ دریں اثنا جموں کشمیر اردو کونسل نے معروف ماہر تعلیم اور نجی اسکولوں کی تنظیم کے ایک اعلیٰ ذمہ دار الطاف گوہر اور سرکردہ اردو شاعر و ادیب فدا راجوری کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کو اردو زبان کے ان دو اہم مداحوں کے بیک وقت بچھڑ جانے کا افسوس ہے ۔اردو کونسل دونوں کی اردو کے تیئں خدمات کو خراج پیش کرتے ہوئے ان کی جنت نشینی کے لئے دعاگو ہے۔
 
 

شالین کابرا وفود سے ملاقی 

پلوامہ //پرنسپل سیکرٹری شالین کابرا نے ضلع پلوامہ کے بلاک اونتی پورہ کے لیتہ پورہ پنچائت حلقے کا دورہ کیا اور  لیتہ پورہ پنچائت حلقہ میں 23.789 لاکھ روپے مالیت کے دو کھیل میدانوں کا سنگِ بنیاد رکھا ۔ دورے کے دوران انہوں نے لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اُن کے مسائل اور شکایات کوسُنا ۔ اس موقعہ پر انہوں نے سکولی بچوں میں سپورٹس کٹس ، آمدن اور حقِ شہریت اسناد تقسیم کیں ۔ بی بی بی پی کے تحت نومولود بچیوں کیلئے بیبی کٹس فراہم کیں اور لاڈلی بیٹی سکیم کے تحت اجازت نامے تقسیم کئے ۔ انہوں نے جسمانی طور معذور افراد میں وہیل چئیر ، آلات سماعت ، واکنگ سٹک بھی تقسیم کیں ۔ اس موقعہ پر سکولی بچوں نے مارشل آرٹ ، چیس اور پگآف وار کھیل پیش کئے ۔ بیک ٹو ولیج پروگرام ضلع کے 11 بلاکوں میں منعقد ہوا جس کے دوران مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں پر غور ہوا اور مختلف پنچائتوں کے عام لوگوں کو درپیش مسائل پر بھی غور ہوا ۔ جو افسران دورے کیلئے نامزد کئے گئے تھے اُن میں اے ڈی سی پلوامہ ، اے ڈی سی ترال ، اے ڈی سی اونتی پورہ اور دیگر ضلع و سیکٹورل افسران شامل تھے ۔ انہوں نے دوروں کے دوران عوامی شکایات اور اُن کی ترقیاتی ضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔