مزید خبرں

گول رام بن اور رام بن بانہال تک سومو گاڑیوں کی لوٹ

من مانے کرائے سے لوگ ہو رہے ہیں پریشان، حکام بھی خاموش

زاہد بشیر
گول//گول سے رام بن اور رام بن سے بانہال و دوسری شاہراہوںپر دوڑ رہی گاڑیوں نے لوگوں سے من مانے کرایہ وصول کر رہے ہیں ۔ کوڈ19کا غلط استعمال کر ہے جہاں گاڑیوں میں سواریاں کھچا کچھ ہوتی ہیں وہیں دوسری جانب کرایہ میں من مانے اضافہ سے لوگ کافی پریشان ہیں ۔ سب ڈویژن میں مختلف سڑکوں پر دوڑ رہی ٹاٹا سومو گاڑیوں کی جانب سے من مانی کرایہ کی وجہ سے عام لوگ شدید پریشان ہیں جس وجہ سے لوگوں میں کافی تشویش پائی جا رہی ہے ۔ گول سے رام بن جو کہ52کلو میٹر ہے اور سرکار نے یہاں پر 72روپے کرایہ مقرر کیا ہے جبکہ ڈرائیور لوگ دو سو سے زیاد ہ کرایہ لیتے ہیں اس طرح سے اگر رام بن سے بانہال کی بات کی جائے تو جوکہ43کلو میٹر ہے یہاں سرکار نے 126وپے کرایہ مقرر کیا ہے لیکن یہاں پر دو سو روپے سے کم ڈرائیور بات بھی نہیں کرتے ہیں ۔ اس طرح سے باقی روٹوں پر بھی ڈرائیوروں کی جانب سے من مانے کرائے سے عوام کافی پریشان ہیں ۔ اگر چہ رام بن بانہال شاہراہ پر جموںو کشمیر پولیس اور ٹریفک حکام بھی اس بارے میں با خبر ہیں لیکن اس کے با وجود پولیس کچھ کرنے سے قاصر ہیں ۔ پولیس ڈرائیوروں کو صرف چالان کاٹتے ہیں جبکہ گاڑیوں میں کھچا کچھ سواریوں و زیادہ کرایہ لینے بارے کوئی قدم اٹھایا نہیں جا رہا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ رام بن سے بانہال جاتے ہوئے ایک ڈرائیور کو دو مرتبہ چالان ہوا جس کے جرم میں ڈرائیور نے700روپے بھرے لیکن اس کے با وجود ڈرائیور بلا خوف کے سڑک پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوڑتا رہا جہاں ایک طرف سے سواریوں سے زیادہ کرایہ وصولہ گیا وہیں دوسری جانب جہاں سومو گاڑی میں7سواریاں ہی بھرنی ہیں وہیں دس یا اس سے زیادہ سواریاں ان گاڑیوں میں ہوتی ہیں لیکن پولیس صرف چالان کاٹتی ہے ڈرائیوروں کو احتیاط برتنے بارے کچھ نہیں کہا جا رہا ہے ۔ اس شاہراہ پر اگر چہ ایک دو مرتبہ سواریوں نے ٹریفک حکام اور پولیس سے کہا کہ ڈرائیور ان سے زیادہ کرایہ لے رہا ہے لیکن اس کے با وجود پولیس کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے اور سواریوں نے الزام لگایا کہ پولیس اور ڈرائیوروں کے بیچ تال میل کی وجہ سے عام لوگ پسے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ ڈرائیوروں کی جانب سے روٹوں پر زیادہ کرایہ لینے اور پولیس کی خاموشی کے خلاف کاروائی کی جائے تا کہ پولیس اور ڈرائیوروں کے بیچ تال میل میں عام لوگ نہ پسا جائے ۔
 
 
 

 بجلی ،سڑک ،طبی مرکز نہ پانی کی سہولیات دستیاب

مہور اڑبیس گائوں دورِ جدید میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم

زاہد ملک
مہور//ریاسی ضلع کے سب ڈویژن مہور کے گائوں اڑبیس کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ وہ اس جدید دور میں بھی بنیادی سہولیت سے محروم ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے انہیں ابھی تک بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔لوگوں کے مطابق اس گائوں میں نا تو سڑک جیسی سہولت ملی ہے،نا ہی کوئی طبی مرکز موجود ہے اور ناہی ابھی تک پورے گائوں میں بجلی فرہم کی گئی ہے۔لوگوں نے بتایا اگرچہ الیکشن کے دوران لیڈران ووٹ مانگنے کیلئے آتے ہیں ا وربلندو بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن الیکشن ختم ہونے کے ساتھ ساتھ لیڈران اپنا وعدہ بھول جاتے ہیں اور لوگوں کو اسی حالات میں رکھا جاتا ہے جیسے وہ ہوتے ہیں۔مقامی باشندوں کے مطابق اس گائوں میں تقریباً200سے زائد گھر رہتے ہیں جنہیں چھوٹی سی بیماری کیلئے بھی ہیڈکوارٹر کا رخ کرنا پڑتا ہے کیوں کہ علاقہ میں کوئی بھی طبی مرکز نہیں ہے۔یہاں کے ایک مقامی نوجوان اعجاز احمدنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگرچہ سوبھاگیہ سکیم کے تحت جموں و کشمیر کو سو فیصد بجلی فرہم کرنے کیلئے ایواڈ سے نوازا گیا لیکن زمینی سطح یوں ہے کہ آج بھی درجنوں گائوں بجلی کا بلب دیکھنے کو ترس رہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ سڑک جیسی سہولیت سے بھی محروم ہیں اور انہیں کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کرکے سڑک تک پہنچنا پڑتا ہے۔مقامی لوگ انتظامیہ سے مانگ کرتے ہیں کہ انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
 

این پی ایس میں کام کررہے ملازمین کو پنشن زمرے میں لایا جائے 

لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کی ایل جی انتظامیہ سے مانگ، محکمہ تعلیم میں ہوئی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن نے ایل جی انتظامیہ سے این پی ایس اسکیم کے تحت کام کر رہے سرکاری ملازمین کے حق میں پنشن لاگو کرنے و ڈوڈہ ضلع میں اساتذہ ٹرانسفر پالیسی کے حوالے سے ہوئے بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ڈوڈہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضلع صدر نیاز احمد راہی، لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کے بزرگ رہنما غلام حسن پانپوری و شکیل احمد دیو نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں ٹرانسفر پالیسی کے حوالے سے بے ضابطگیاں ہوئیں ہیں اور اس معاملے کو پہلے بھی ڈپٹی کمشنر کی نوٹس میں لایا گیا تھا لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن نے این پی ایس اسکیم کے تحت کام کر رہے سرکاری ملازمین کے حق پنشن لاگو کرنے، مختلف سرکاری محکموں میں تعیناتی عارضی ملازمین کو مستقل بنانے و آنگن واڑی ورکروں کے ماہانہ تنخواہ میں اضافہ کرنے کا لیفٹیننٹ گورنر و یوٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے سرکاری ملازمین کے حق میں 11 فیصد مہنگائی الانس کو منظوری دینے پر یوٹی و مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
 

ڈوڈہ میں کورونا وائرس کے 15نئے مثبت معاملات 

۔4 مریض صحتیاب ،220012 ٹیکے لگائے گئے 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں آج کورونا وائرس کے 15 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور 4 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق جمعہ کو ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری،گندوہ و عسر میں ہوئی کوڈ جانچ کے دوران پندرہ افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور چار مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اسطرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 130 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 7067 پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک کورونا وائرس سے 127 اموات ہوئیں ہیں اور 220012 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
 
 
 

رام گڑھ میں لوگوں کا محکمہ بجلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ 

غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی نے کسانوں کی زندگی اجیرن بنا دی :منجیت سنگھ

رام گڑھ//رام گڑھ میں لوگوں نے غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی پر محکمہ برقیات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کا اہتمام مقامی لوگوں نے کیاتھا جس میں اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے منجیت سنگھ نے کہاکہ محکمہ بجلی لوگوں کو 24×7گھنٹے بجلی سپلائی کرنے میں ناکام رہا ہے جو کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایات کے متضاد ہے۔ انہوں نے کہاکہ کئی بار لوگوں نے محکمہ سے رجوع کیاکہ شدت کی گرمی اور امس کے بیچ بجلی کٹوتی نہ کی جائے لیکن محکمہ ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’لگاتار بجلی کٹوتی سے گاؤں والوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے، کسان اپنے کھیتوں میں پانی کے پمپ نہیں چلاسکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ ایل جی موصوف کی ہدایات کے مطابق بجلی سپلائی یقینی بنائی جائے بصورت دیگر لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ بعد ازاں ایگزیکٹیو انجینئر پی ڈی ڈی موقع پر پہنچے اور یقین دلایاکہ وہ اِس معاملہ میں دیکھیں گے اور جلد سپلائی یقینی بنائی جائے گی ، جس کے بعد لوگوں نے پر امن طور احتجاج ختم کیا۔