مزید خبرں

انتخابات میں عدم شرکت |  عام آدمی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا : تاریگامی

کولگام //سی پی آئی (ایم) کی طرف سے کولگام میں یک روزہ کنونشن کا انعقاد کیا جس کی صدارت پارٹی کے ضلع سیکریٹری محمد افضل نے کی۔ کنونشن میں سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور سابق ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ جموں و کشمیر انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے۔ان کاکہناتھاکہ ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات کا اعلان غیر یقینی صورتحال اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے درمیان کیا گیا لیکن اس کے باوجود ڈی ڈی سی انتخابات میں عدم شرکت سے عام آدمی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔تاریگامی نے کہا’’ووٹ دینا یا نہ دینا کشمیر میں کئی سال سے بحث کا موضوع ہے، تاریخ اور تجربے سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو ووٹنگ اور نہ ہی بائیکاٹ نے کشمیر کے سیاسی انداز کو تبدیل کیا ،یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے اچانک اعلان ہونے کے باوجود ان انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا‘‘۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ دو سال کے زیادہ عرصہ سے جموں و کشمیر میں کسی بھی جمہوری ڈھانچے کی عدم موجودگی میں لوگ بے بس اور لاچار محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے بنیادی مسائل اور مشکلات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں، ایک ایسی صورتحال ہے جہاں بیوروکریسی ، جو عام آدمی کے دکھوں کے بارے میں بالکل بھی حساس نہیں ،سرکار چلارہی ہے، یہ بدقسمتی کی صورتحال عملی طور پر لوگوں کے معاملات حل کرنے کے لئے پریشانی کاباعث ہے۔عارضی ملازمین اورروزگار کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آشاورکرز ، آنگن واڑی کارکنان، مڈ ڈے میل ورکرز ، سی پی ڈبلیوز ، منریگا ملازمین ، ٹھیکیداروں ، تعمیراتی کارکنوں اور دیگر عارضی ملازمین کو مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی جبکہ تعلیم یافتہ نوجوان نظرانداز اور ملازمت کے مواقع  نہ ہونے کے برابر ہیں۔انہوں نے کہاکہ پچھلے اگست سے ہزاروں کاریگربے کار بیٹھے ہوئے ہیں اوراس مشکل صورتحال میں ان کی مدد کوکوئی نہیں آیا۔تاریگامی نے مزید کہاکہ گذشتہ اگست میں عائد مواصلاتی لاک ڈاون کچھ نرمی کے باوجود جاری ہے، یہاں صرف 2 جی انٹرنیٹ دستیاب ہے ، جو بھی بعض اوقات بند ہوجاتاہے ، اس سے نہ صرف بینکاری ، تجارت ، کاروبار اور صحت کی دیکھ بھال بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں،انہوں نے کہا پچھلے اگست سے اس خطے میں صرف ترقی یہ ہوئی ہے کہ پولیس اسٹیشن اور جیلیں بھری ہوئی ہیں، یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ناگوار قوانین کو بلا امتیاز استعمال کیا جارہا ہے جبکہ سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں عام لوگوں کو ہراساں کرنا معمول ہے یہ تاثر بھی موجود ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں کو بی جے پی حکومت متعصبانہ مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔
 
 
 
 

مشیر بھٹناگرسے متعدد وَفود اور اَفراد ملاقی

جموں// لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے آج یہاں سول سیکرٹریٹ میں متعدد وَفود اور اَفراد سے ملاقات کی۔وفود اور اَفراد نے مشیر کو اپنے مسائل اور مشکلات گوش گزار کئے اور ان کے جلد ازالے کی مانگ کی۔ایسوسی ایشن آف پیرا میڈیکل کالجز کے وفد نے بچی ہوئی نشستوں کو پیرامیڈیکل کورسز میں داخلے کی اجازت اور اہلیت کے معیار میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ سکول ایجوکیشن کے اَساتذہ کے ایک وفد نے سکول کے نصاب میں یوگا متعارف کرانے کے علاوہ محکمہ میں مناسب ٹرانسفر پالیس کی مانگ کی۔اِسی طرح جے کے اِنچارج لیکچررز رابطہ کمیٹی کے وفد نے دیگر مراعات کے علاوہ ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی مانگ کی۔ ایک اور وفد نے 15 سال پرانی گاڑیوں کی نامنظوری کے فیصلے پر ہمدردی کر کے نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیاہے۔اس کے علاوہ انہوں نے پرانی گاڑیوں کی مطلوبہ فٹنس کی جانچ پڑتال کے لئے ضروری آلات کی دستیابی کی بھی مانگ کی۔اِن وَفود کے علاوہ جموں کے مختلف علاقوں جیسے کوٹ بلوال ، سانبہ، کپواڑہ اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے افرادنے مشیربھٹناگر کو اپنے علاقوں سے متعلق مختلف امور گوش گزار کئے اور ان کے فوری ازالے کی مانگ کی۔
 
 
 

 وحید الرحمان پرہ کی گرفتاری |  مرکزی ایجنسی انتخابی عمل میں مداخلت کر رہی ہے :پی ڈی پی 

سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بی جے پی پر  وحید الرحمانپرہ کے خلاف این آئی اے کا استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ مرکزی ایجنسی کی انتخابی عمل میں مداخلت کرنے اور اس کو نئی دہلی کے حق میں کرنے کی واضح کوشش ہے۔ پی ڈی پی نے کہا ’’ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات سے قبل جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی نئی قیادت کو موقع فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا ،تاہم ، حکومت ہند نے اپنے بے رحم بریگیڈ کے ذریعے وحید رالرحمان پرہ کو اپنی ایجنسی کے ذریعے گرفتار کیا‘‘بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی پی کے نوجوان لیڈر وحید پرہ پلوامہ میں اپنے آبائی حلقے سے انتخاب لڑ رہے تھے۔انہوں نے کہا پی ڈی پی کی قیادت نے وحید الرحمان کے خلاف بہیمانہ اقدام کی مذمت کی ہے،جبکہ پرہ معاشرے میں تبدیلی کا ایک مرکز تھا اور عدم تشدد اور انہوں نے جمہوری مشغولیت کے اقدار اور اصولوں کو ہمیشہ برقرار رکھا ۔بیان میں کہا گیا’’وحید کی گرفتاری مایوسی گی کی اس سطح کی نشاندہی کرتی ہے جہاں بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور اسے نقصان پہنچانے میں لگے ہیں،تاہم۔ نئی دہلی کے ان اقدامات سے پی ڈی پی کو روک نہیں سکتی بلکہ ہماری عمل اور آوازیں بلند تر ہوجائیں گی‘‘۔پارٹی نے کہا کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک نظربندرہنے کے بعد بھی ، ان کا جمہوریت اور لوگوں کے مینڈیٹ پر یقین ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے ڈی ڈی سی انتخابات کے لئے اپنی نامزدگی داخل کرائی۔انہوں نے کہا کہ حساس علاقے میں اپنے ماضی،حال اور مستقبل کو جمہوری سرگرمیوں میں صرف کرنے پر انہیں اپنی خود کی آزادی کو قربان کرنا پڑا۔ پارٹی نے مزید کہا ’’ ہم جموں و کشمیر میں دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی کس طرح مستقل طور پرآئندہ انتخابات کیلئے اپنے ہی امیدواروں کی حفاظت کر رہی ہے اور ہماری پارٹی کے ایک بہت ہی اہم رکن صرف انتظامی غلطیوں کے خلاف اپنا موقف بلند کرنے پر کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔‘‘پی ڈی پی نے کہا کہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کا ایک حصہ ہونے کے ناطے ، پارٹی  اس بات کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ امیدواروںکو انتخابی مہم سے کیسے روکا جا رہا ہے۔پی ڈی پی کا کہنا تھابی جے پی کو ان حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا کہ انتخابات کا مقصد کسی حمائت نہیں بلکہ انتخابات کا مقصد لوگوں کو اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا ہے جسے وہ اپنے علاقے کو چلانے کے لئے مناسب سمجھتے ہیں۔پارٹی نے کہا سابق مخلوط سرکار کے دوران سابق وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے دفتروں نے انہیںکشمیری نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے کی انتھک کوششوں کے لئے سراہا تھا ۔ 
 
 
 
 

 شرپسند عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایاجائے:شیعہ فیڈریشن

جموں//شیعہ فیڈریشن نے بٹھنڈی واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ شرپسند عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایاجائے جو دہائیوں پرانے بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ۔ یہاں جاری ایک پریس بیان میں فیڈریشن صدر عاشق حسین خان نے کہاکہ کچھ فرقہ پرست عناصر بار بار بٹھنڈی پہنچ کر حالات خراب کرناچاہتے ہیں جن پر روک لگانی چاہئے ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہاکہ ان عناصر کو بٹھنڈی جانے کی کیا ضرورت ہے اور وہ کیا پیغام دیناچاہتے ہیں ؟۔عاشق حسین خان نے کہاکہ گزشتہ روز بھی یہ عناصر بٹھنڈی پہنچ گئے اور وہاں موجود لوگوں کو اشتعال دلاناچاہا۔انہوں نے کہاکہ بٹھنڈی میں ہندو ، مسلم ، سکھ سبھی طبقوں کے لوگ بستے ہیں اور ان سبھی کی طرف سے دانشمندی کا مظاہرہ کیاگیا اور ان عناصر کے خلاف وہ ایک ہوگئے ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس اور انتظامیہ کو ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جو پرامن ماحول کو خراب کرنے کے درپے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جموں میں سول سوسائٹی کی طرف سے پچھلی سات دہائیوں سے بھائی چار ے اور امن کی فضا برقرار رکھی گئی ہے اوراس کیلئے کافی کوششیں کارفرما رہی ہیں جن کو یہ عناصر ناکام بناناچاہتے ہیں جس کی بہر صورت اجازت نہیں دی جائے گی ۔عاشق حسین خان نے کہاکہ اگر کسی کو کسی سے شکایت ہے تو اس کے لئے جائز طریقہ کھلے ہیں اور عدالت یا قانون کارخ کیاجائے لیکن یہ کونسی منطق ہے کہ ہر کچھ دن کے بعد بٹھنڈی پہنچ کر نعرے بازی کی جائے اور مقامی لوگوں کو اشتعال دلایاجائے ۔
 
 
 
 
 

دریائے چناب میں گری سومو نکالی گئی | 2افراد کے پانی میں بہہ جانے کا اندیشہ

بانہال// رام بن کے نزدیک 2 افراد سمیت چناب برد ہوئی ٹاٹا سومو کوبدھ کے روز پولیس اور کیو آر ٹی رضاکار وںکی مدد سے چناب سے باہر کھینچ نکالا گیا، لیکن اس میں سوار 2افراد کے بہہ جانے کا اندیشہ ہے ۔دو میں سے کسی بھی شخص کی لاش نہیں ملی ہے جس سے اس اندیشے کو تقویت ملی ہے کہ اس کے دونوں سوار دریائے چناب میں بہہ گئے ہیں۔
 
 
 

روشنی گھوٹالوں اور اراضی پر قبضہ کرنے والے  | نئے زمینی قانون کی مخالفت کررہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر

چنینی// مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ روشنی گھوٹالوں اور اراضی پر قبضہ کرنے والے جموں و کشمیر کے نئے اراضی قانون کی مخالفت کررہے ہیں ۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نیا اراضی قانون عام آدمی یا غریب کے خلاف نہیں ہے بلکہ مافیا کے اراکین کے خلاف ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے چنینی کے علاقے میں ضلع ترقیاتی کونسل کی انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا’’ نیا زمینی قانون مستقبل میں روشنی گھوٹالوں اور غیرقانونی اراضی پر قبضہ جیسے معاملات کی جانچ کرے گا، زمینوں پر غیرقانونی قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کے زیادہ تر معاملات نیشنل کانفرنس ،کانگریس اور پی ڈی پی، کانگریس حکومتوں کے دوران انجام پائے تھے اور اس کے مستفید ہونے والوں میں کشمیر کے ہائی پروفائل وزراء اور بیوروکریٹس شامل ہیں‘‘۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ان میں سے کچھ سابق وزرا ہمیشہ ہی غیر معمولی معاملات کے باوجود بھی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کرتے رہے تھے، لیکن جب سی بی آئی نے زمین پر قبضہ، غیر قانونی طور پر زمین کے استعمال اور غیر قانونی طور پر اس کی خریداری کے معاملات ان کے خلاف تحقیقات شروع کی توانہی افرادنے تفتیش پر اعتراض کرنا شروع کردیا ۔ انہوں نے کہاکہ بحیثیت سابق وزراء، وزرائے اعلیٰ اور اعلی عہدیدار اپنی ساکھ اور ملکیت کو قائم رکھنے کیلئے کم سے کم وہ سی بی آئی سے تعاون کرسکتے ہیں تاکہ اپنی بے گناہی ثابت دے سکیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منریگا کی ادائیگی بند ہونے کی اطلاعات کو غلط پروپیگنڈے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا’’ حقیقت یہ ہے کہ ان ایجنٹوں کی ادائیگی روک دی گئی ہے جو مڈل مین کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور منریگا کے تمام فنڈز چھین رہے تھے، وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات پرمنریگا کارکنوں کے بینک کھاتوں میں ایک فول پروف طریقہ تیار کیا گیا ہے تاکہ ثالث ان کا استحصال نہ کریں، یہ تبدیلی ادائیگی کے نئے انداز میں ہے جس میں منریگا کارکنوں میں سے کچھ کیلئے بینک اکاؤنٹ کھولنے میں بھی کچھ تاخیر ہوسکتی ہے لیکن مڈل مین اور ایجنٹوں کو منریگا کی رقم سے ایک پائی تک لینے کی اجازت نہیں ہوگی‘‘۔
 
 
 

عبداللہ اور مفتی خاندانوںنے عوام کو وسائل سے محروم رکھا:چُگ | جعلسازی اور تجاوزات کا مقدمہ درج کیا جائے: انوراگ ٹھاکر

جموں// بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چُگ نے کہاہے کہ جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ مرکزی زیر انتظام علاقہ میں دفعہ 370 کی بحالی پاکستان کی مدد سے چاہتے ہیں۔سانبہ کے قریب رام گڑھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چُگ نے کہا کہ جہاں فاروق عبد اللہ پاکستان سے 370کی بحالی کی مدد طلب کررہے ہیں، وہیں پاکستانی فوج کے میزائلوں اور بموں سے سرحدی علاقوں کے لوگ مستقل خوف اور عدم اعتماد میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’عبداللہ خاندان نے خوش قسمتی سے ایک خودمختاری کی زندگی بسر کی ہے جبکہ جموں و کشمیر کی پوری آبادی کو خطرہ میں ڈال دیا ہے، عبداللہ خاندان کو عام آدمی اور اس کی پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے‘‘۔ان کاکہناتھا کہ پچھلے 50 سال میں عبداللہ اور مفتی خانوادوں نے خطے کے لوگوں کو بے وقوف بنایا ۔ انہوں نے مزید کہا’’تمام قوانین اور انتظامی احکامات عام آدمی کے لئے نہیں بلکہ ان کے خاندانی مفادات کے لئے بنائے گئے ، دونوں خاندانوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے بھیج دیا لیکن عام لوگوں کے بچوں کو اسکولوں کے بغیررکھا‘‘۔بھاجپا قومی سیکریٹری کاکہناتھا’’اگر ان دونوں خاندانوں نے انصاف کے مطابق مرکزی حکومت کے فنڈز کا استعمال کیا ہوتاتو آج جموں و کشمیر کی پوری آبادی ایک جنت میں زندگی گزار رہی ہوتی،دریں اثنا مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ اور الیکشن انچارج جموں وکشمیر انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ فاروق عبد اللہ پر دھوکہ دہی، جعلسازی اور تجاوزات کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔انوراگ ٹھاکر نے این سی، کانگریس اور پی ڈی پی پر تنقیدکرتے ہوئے کہا’’جموں و کشمیر میں قیمتی وسائل اور عوامی اراضی کے وسیع علاقوں کو لوٹنے کے لئے انہیں مجرم کے طور پر ٹھہرایا جانا چاہئے‘‘۔انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’روشنی گھوٹالے کے مستفیدکنندگان گپکار گینگ اور کانگریس کے سابق وزراء اور ان کے رشتہ دار، سینئر بیوروکریٹس، کاروباری افراد اور سیاسی رہنما تھے جو ان پارٹیوں کو مالی اعانت فراہم کررہے تھے‘‘۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے ساتھ ہی مودی سرکار نے تعلیم، صحت، سیاحت، کاروبار اور دیگر شعبوں میں بلاتعطل ترقی کی راہ کھول دی ہے جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ جموں و کشمیر میں رہنے والے ہر فرد کو یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔
 
 
 

سی بی آئی کوروشنی اسکیم کی تہہ تک جانا چاہئے:اپنی پارٹی | طاقتور سیاستدانوں، بیروکریٹس سے زمین واپس لی جائے:محمد دلاور میر

سرینگر///اپنی پارٹی سنیئرلیڈر اور سابقہ وزیر محمد دلاور میر نے مطالبہ کیا ہے کہ روشنی اسکیم کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایاجائے اور عہدے اور اثر رسوخ کا لحاظ کئے بغیر جانچ پڑتال ہواور کوئی بھی غیرقانونی مستفیدکسی بھی صورت میں بچنا نہیں چاہئے۔ میر نے البتہ کہا ہے کہ اسکیم کے تحت وہ جائز مستفیدین جنہوں نے حکومت کی طرف سے نوٹیفائی قیمتیں دیکر چھوٹی سی اراضی لی ہے کہ اُن کی پراپرٹی اراضی کا تبادلہ کیا ہے ، اُن کو اِس تحقیقات کے دوران ہراساں نہ کیاجائے اور اِس بات کو یقینی بنایاجائے کہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اپنی پارٹی سنیئرلیڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تر سیاسی ونظریاتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر چاہئے وہ سابقہ وزرا ہوں، اراکین پارلیمان ، بیروکریٹس، اعلیٰ سول اور پولیس افسران ، اُن کے رشتہ دار یا دیگر تاجر روں، سی بی آئی اُن کی طرف سے کی گئی لوٹ کی طے تک جائے اور معیاد بند طریقہ سے تحقیقات ہو۔ میر نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں اور سرینگر شہرؤں یا دیگر مقامات پر اہم اراضی جس کی قیمت کروڑوں اربوں میں ہے ، جس کو قانون کا غلط استعمال کر کے قبضہ کیاگیاہے، کو بلا کسی تاخیر بازیاب کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں روشنی اسکیم کی عمل آوری سے وقتافوقتاً حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کا قیمتی سرکاری زمین کی لوٹ میں اہم رول رہا ہے ،اُن کی بھی شناخت ہونی چاہئے اور اُن سے حساب لیاجائے۔ میر نے کہاکہ ’کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (کیگ) مبارک بادی کی مستحق ہے جس کے ایماندار آفسران نے روشنی اسکیم کے تحت الاٹمنٹ میں ہوئی بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کا آڈٹ کے دوران پردہ فعاش کیا، جس سے انکشاف ہوا کہ جموں وکشمیر کے وی وی آئی پیز کی سہولت کاری کیلئے اعلیٰ بیروکریٹس نے بے ضابطگیاں کیں‘۔انہوں نے کہاکہ سی بی آئی کو اِس بات پر خاص طور سے توجہ دینی چاہئے کہ جنہوں نے قواعد بنائے اور پھر اِس میں قانون سازیہ کی تصدیق کے بغیر ترمیم کی جس کی وجہ سے ریاستی خزانہ عامرہ کو بھی مالی نقصان ہوا۔ انہوں نے کہاکہ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کون سا قانون اختیار تھا جس کے ذریعے آفیسران نے اراضی استعمال اور اِس کی قسم کو تبدیل کیا، زرعی زمین قابضین کو مفت تحفے کی صورت میں دی گئی اور تجارتی زمرہ میں بھاری چھوٹ دی گئی، کس طرح اسٹامپ ڈیوٹی چھوڑی گئی اور اِس قانونی حیثیت سے؟۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ روشنی اسکیم گھوٹالہ کے ہرپہلو کو سامنے لانے کی ضرورت ہے اور صرف اُن مستفید افراد جنہوں نے خزانہ عامرہ کو نقصان پہنچانے اور قبضہ کرنے کی نیت کے بغیر قانونی ضابطے مکمل کر کے زمین لی، انہیں تنازعہ میں غیر ضروری نہ گھسیٹاجائے ، ہر زاویے سے تحقیقات ہو اور کوشش کی جائے کہ عام لوگوں کو اِس سے نقصان نہ اُٹھانا پڑے۔ یہ بھی دھیان رکھاجائے کہ چھوٹے چھوٹے معاملات کی طرف تحقیقات کارُخ موڑ کر بڑے مگر مچھ بچ نہ جائیں۔
 
 
 

پاکستانی زیر خارجہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط |  بھارت پر کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی سازش کاالزام

سرینگر //پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں سے کیا وعدہ پورا کر کے استصوا ب رائے کرائے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی اقدامات سے کشمیری اپنی سیاسی ،تہذیبی اور علاقائی اور ثقافتی شناخت کھورہے ہیں ۔اور بھارت مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی پر اشتعال انگیزی کر رہا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیامانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی سازش پر توجہ مبذول کرانے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھا ہے۔وزیر خارجہ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ بھارت نے خطے کے امن و سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے، بھارت زیر تسلط علاقے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی سازش کر رہا ہے، بھارت اقوام متحدہ چارٹر، بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے،’’ بھارت کشمیری نسل کشی اورکشمیر میں اکثریت کو اقلیت میں بدل رہا ہے‘‘، کشمیریوں کی اراضی چھینی اور غیر کشمیریوں کو لا کر آباد کیا جا رہا ہے،بھارت کے اقدامات سے کشمیری اپنی سیاسی اور ثقافتی شناخت کھو رہے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی پر اشتعال انگیزی کر رہا ہے،بھارت رواں سال ایل او سی پر 2700 خلاف ورزیاں، 25 شہری جاںبحق، 200 زخمی کر چکا، اقوام متحدہ چارٹر اور قراردادوں کے تحت سلامتی کونسل کی کچھ اہم ذمہ داریاں ہیں،’’بھارت کو اس منصوبے ‘‘سے روکنا بھی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے،کشمیریوں کو انکا کا حق خودارادیت دیا جائے، اقوام متحدہ کشمیریوں سے کیا وعدہ پورا کر کے استصواب رائے کرائے۔دوسری جانب پاک وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نائجرمیں منعقد ہونے والی اوآئی سی کونسل آف فارن منسٹرز (CFM) کے سہ روزہ اجلاس میں شرکت کے حوالے سے اہم ویڈیو پیغام میں کہا کہ اوآئی سی کے وزرائے خارجہ کے اس سہ روزہ اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ، مجھے بہت سے ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کرنے اوراہم امورپرپاکستان کا موقف پیش کرنے کا موقع بھی میسرآئے گا۔ پاکستان نے کچھ قراردادیں مرتب کی ہیں جنہیں اس اجلاس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
 
 
 

باغبانی پیداوار کیلئے کوئی حد نہیں | خطے کا موسمی اور جغرافیائی ماحول میوہ جات کی پیداوار کیلئے موزون : نوین چودھری

سرینگر//پرنسپل سیکرٹری باغبانی نوین کمار چودھر ی نے کہا کہ کشمیر میں باغبانی پیداوار کیلئے کوئی حد نہیں ہے ۔پرنسپل سیکرٹری شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی شالیمار کشمیر کی جانب سے زراعت اور اس سے منسلک دیگر شعبوں کی سکیموں سے متعلق جانکاری و تبادلہ خیال کے اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔جانکاری پروگرام میں ناظمین زراعت ، باغبانی پشو وپالن ، وائس چانسلر سکاسٹ ، صنعتی انجمنوں ، صنعت کاروں اور کسان اور طلاب نے شر کت کی۔ اجلاس کے دوران پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ کشمیر کے جی ڈی پی میں باغبانی شعبے کا ایک بڑاحصہ ہے اور اس شعبے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر باغبانی پیداوار میں اِضافہ کیا جاسکتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ باغبانی پیداوار کیلئے کوئی حد نہیں ہے کیوں کہ خطے کی جغرافیائی اور موسمی ماحول میوہ جات کی پیداوار کیلئے موزون ہے۔انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ باغبانی، زراعت ، پشو و بھیڑ پالن اور ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے کام کرکے مائیکرو پروسسنگ انٹر پرینیور یونٹوں کو باقاعدہ بنائیں۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ ڈیری یونٹ ، ملک پروسسنگ سہولیت ، ملک چلنگ سہولیات کو توسیع دینے ، مویشیوں کیلئے چارہ تیار کرنے کے پلانٹ تیار کرنے وغیرہ پر توجہ مرکوز کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی تجارت کشمیر کا مستقبل ہے ۔انہوں نے صنعتکاروں کو قومی اور بین الاقوامی بازاروں کے موافق اس شعبے کو بنانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کیلئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی آمدن دوگنی کرنے کیلئے کھیت میں مشینوں سے کام لے کر مزدوروں میں کمی لانا لازمی ہے ۔پرنسپل سیکرٹری نے کشمیر کی مصنوعات کی برینڈنگ ، ڈبہ بندی اور مارکیٹنگ پر زور دیا تاکہ انہیں مقامی اور یوٹی کے باہر بازاروں کے موافق بنایا جاسکے۔انہوں نے سکاسٹ پر زور دیا کہ وہ سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کریں جس سے صنعت کار وں کو کامیاب اور منافع بخش یونٹوں کے قیام میں مدد ملے ۔پروگرام کے دوران نوین چودھری نے خواہش مند صنعتکاروں ، کشمیر انڈسٹریل اینڈ کامرس چیمبر کے ارکان اور طالب علموں کے سوالات کا جوابات دیا۔
 
 
 
 

آئی سی ڈی ایس کی جانب سے پوشن ابھیان پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد 

جموں// انٹگریٹیڈ چائیلڈ ڈیولپمنٹ سروسزجے اینڈ کے کی جانب سے آج یہاں بینکٹ ہال سری نگر میں ایک روزہ طویل کپسٹی بلڈنگ ورکشاپ پوشن ابھیان پر منعقد ہوا۔پرنسپل سیکرٹری سماجی بہبود جموںوکشمیر اس موقعہ پر مہمان خصوصی تھی جبکہ ڈائریکٹر جنرل برائے ترقی خواتین و اطفال اس موقعہ پر اعزازی مہمان تھے۔دیگر شخصیات جنہوں نے ورکشاپ میں شرکت کی میں مشن ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس جے اینڈ کے ، ڈی پی او سری نگر ، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس کشمیر ، ڈویژنل نوڈل آفیسر این ایچ ایم اور سی ڈی پی اوزاور دیگر اَفسران موجود تھے۔آئی سی ڈی ایس محکمہ کو پوشن ماہ کی کامیاب تکمیل پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری سماجی بہبود نے کہا کہ ایک صحت مند سماج کے لئے ہر فرد کو خون کی کمی اور اس سے منسلک دیگر کمزوریوں کو دور کرنا لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر نومولود کو آدھار اندراج سکیم میں درج کیا جانا چاہئے تاکہ حکومت ولادتوں کا معقول ریکارڈ قائم کرسکے اور مختلف سکیموں کے فوائد سماج کے ہرفرد تک پہنچ سکے ۔
 
 
 

 درماندہ  8, 39,170شہریوں کی گھر واپسی 

جموں// جموںوکشمیر حکومت نے براستہ لکھن پور اَب تک بیرون یوٹی درماندہ 8,39,170شہریو ں کو کووِڈ۔19 وَبا سے متعلق تمام اَحتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر واپس لایا گیا۔سرکاری اَعداد و شما ر کے مطابق جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع کی اِنتظامیہ نے ملک کی مختلف رِیاستوں اور یوٹیز سے براستہ لکھن پور8,39,170اَفراد اور  بیرون ملک سے948مسافرو ں کو جموں وکشمیر واپس لایا ہے ۔تفصیلات کے مطابق 24نومبر سے 25نومبر 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے     9,060درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے۔
 
 
 

جموں وکشمیر بینک PO  اسامیوں کیلئے امتحان | پہلے روز 6 ہزار کے آس پاس امیدواروں کی شرکت 

سرینگر //جموں و کشمیر بینک میںپروبیشنری آ فیسر(PO) اسامیوں کی بھرتی کیلئے آن لائن پری لیمنری امتحان بدھ سے جموں و کشمیر وبیرون ریاست کے39 امتحانی مراکز پر منعقد کرائے گئے۔ اس آن لائن امتحان میں مجموعی طور 56ہزار سے زائد امیدوار شرکت کر رہے ہیں۔پانچ دنوں تک جاری اس امتحان میں آج پہلے روز تقریباًچھ ہزار امیدواروں نے شرکت کی۔ ملک کی ایک سرکردہ اور باوقار نوڈل ایجنسی انسٹی چیوٹ آف بینکنگ پرسنل سلیکشن (IBPS) کے ذریعے یہ امتحان ٹیکنکل مشاورت میں ماہر ایجنسی ٹاٹا کنسلٹنسی سروس(TCS)کے اشتراک سے لئے جا رہے ہیں۔ جموں و کشمیر بینک نے کووڈ19کے چلتے تمام امتحانی مراکز میں سرکاری ہدایات کو عملانے میں مکمل اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہ امتحان پانچ دنوں تک ہر روز چار شفٹوں میں لئے جا رہے ہیں جس کیلئے29امتحانی مراکز جموں و کشمیر یو ٹی میں اور 10مراکزملک کی دیگرمختلف جگہوں پرقائم ہیں۔ جموں و کشمیر بینک کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر راجیش کمار چھبر نے امیدواروں کے تئیں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ19کی وجہ سے اس امتحان میں دیری ضرور ہوئی ہے لیکن ہم نے اپنی طور سے ان امتحانات کو جلد از جلدمنعقد کرانے میں بھر پور کوشش کی جس وجہ سے ہم آج سے ہم یہ عمل شروع کر رہے ہیں۔ امیدواروں کی کثیر تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں امتحانی مراکز کے انتخاب  اور وہاں نصب کمپیوٹر نظام کی بلا خلل رسائی کے عمل کو بغور دیکھنا پڑا جو کسی چلینج سے کم نہ تھا۔امتحانی سینٹروں پر ضوابط اور کووڈ احتیاط کی نگرانی کیلئے زونل افسوں اور ہیڈ آفس سے اعلیٰ افسروں نے سینٹروں کا دورہ کیا اور اسکے علاوہ بینک کے انسانی وسائل محکمے کے سینئر افسراں امتحان کی پوری کاروائی کا جائزہ کارپوریٹ آفس لے رہے تھے۔ بینک کے ایگزیکٹو پریزیڈنٹ سنیل گُپتا نے شہر سرینگر اور اسکے آس پاس کئی امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سنیل گُپتا نے کہا کہ امیدواروں کا جوش و خروش دیکھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہاں کے قابل نو جوان جموں و کشمیر بینک میں کام کرنے کے کتنے مشتاق ہیں۔انہوں نے کہا کہ بینک نے اپنے طور بھر پور کوشش کی ہے کہ امتحان کے دوران امیدواروں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دریں اثناء امتحان میں شامل امیدواروں نے جے کے بینک کی طرف سے فراہم سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امتحان منعقد کرانے کیلئے ایک اچھا  ماحول اور نظم و نسق موجود تھا، جس کیلئے ہم بینک انتظامیہ کا شکریہ اداکرتے ہیں۔ایک امیدوار بسمہ جان نے کہا کہ حصولِ روزگار کیلئے یہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی امیدیں جموں و کشمیر بینک کے ساتھ جڑی ہوئی ہیںاور اس بینک میں نوکری کرناہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ کئی مراکز پر والدین کی بھیڑ دیکھی گئی جو اپنے بچوں کو امتحانی مرکز تک ساتھ آئے تھے۔ ایک امیدوار کے والد پی پی سنگھ نے کہا کہ ایک سنہرے مستقبل کیلئے میں اپنی بیٹی کو جموں و کشمیر بینک میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

منشیات مخالف مہم | کولگام میں8افراد40کلوگرام چرس سمیت گرفتار

کولگام//منشیات مخالف مہم کے دوران کولگام پولیس نے 8افراد کوگرفتار کر کے اُن کے قبضے سے 40کلو چرس برآمد کیا ۔24اور25نومبر کی درمیانی شب دلوچ کراسنگ قاضی گنڈ پر قائم ایک چیک پوائنٹ پر موجودپولیس کی ٹیم نے دو گاڑیوں زیر نمبرات JK17-6970اورJK02BE-6782 سے تلاشی کے دوران 39کلو 70گرام چرس برآمد کیا۔ دونوں گا ڑیوں میں 8 افراد سوار تھے جن کی شناخت ثاقب علی زرگر ساکن زیارت گلی کشتواڑ ، وسیم محمد تراگ ساکن ملی پیڈ کشتواڑ ، عبدالمجید کھانڈساکن سراگاوادی ٹکری کشتواڑ ، عبدالاحد ملک اور عبد الرشید ملک ساکنان چیکی بدوانی اور دانش فیاض مخہومی ، توحید فیاض مخہومی ، نذیر احمد ڈار ساکنان شودا گلی قاضی گنڈ کے کے طور پر ہوئی ہے۔انہیں گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن قاضی گنڈ منتقل کردیا گیا ہے ۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر307/2020پولیس تھانہ قاضی گنڈ میں درج کیا ہے۔جے کے این ایس
 
 
 

احمد پٹیل کی وفات پرلیفٹیننٹ گورنر ،میر،سوزاورڈاکٹرفاروق کااِظہارِ رنج

جموں//لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا نے ممبر پارلیمنٹ احمد پٹیل کی وَفات پر گہرے رنج و غم کا اِظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے انہیں ایک تجربہ کار سیاسی رہنما قرار دیا جنہوںنے ہندوستانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے انتھک کوششیں کیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مرحوم کی روح کے اَبدی سکون کے لئے دعا کی اور سوگوار کنبے کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔ادھرجموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے سرکردہ پارٹی لیڈر احمد پٹیل کے انتقال پررنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف کی موت پارٹی کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔جے کے پی سی سی صدر جی اے میر نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبے سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احمد پٹیل کے ارد گرد ہمیشہ لوگوں کا ہجوم ہو تا تھا اور وہ ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے اور مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ احمد پٹیل کی موت کل ہند کانگریس اور ملک کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔ ادھر نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اس سانحہ ارتحال پر سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ پٹیل بھائی ایک منجھے ہوئے اور دور اندیش سیاستدان تھے جنہوں نے پوری زندگی عوام کی فلاح و بہبود میں صرف کی۔ پارٹی کے اراکین پارلیمان محمد اکبر لون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے بھی اس سانحہ ارتحال پر سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
 
 
 

کانگریس لیڈر کئی کارکنوں کے ہمراہ اپنی پارٹی میں شامل 

سرینگر//سینئر کانگریس لیڈر غلام حسن خان کے علاوہ وادی کشمیر کے مختلف محکمہ جات کے کئی سیاسی کارکنوںنے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ نئے شامل ہونے والوں کا پارٹی صدرسید محمد الطاف بخاری،سینئرلیڈر محمد دلاو ر میر، نائب صدر ظفر اقبال منہاس، ریاستی سیکریٹری اور ضلع صدر بڈگام منتظر محی الدین، صوبائی سیکریٹری نذیر احمد وانی دیالگامی، عبدالرشید ہارون، ضلع صدر سرینگر نور محمد شیخ، انچارج زیڈی بل حلقہ عرفان نقیب اور جاوید جنید نے خیر مقدم کیا۔ غلام حسین خان نے اپنے ساتھیوں جن میں طاہر احمد میر، امتیاز احمدبٹ، پیرزادہ عمر اقبال، غلام حسن میر، سلیم حسن شیخ کے علاوہ پیپلز کانفرنس کے سابق یوتھ صدر سید تابش بخاری، سرینگر ضلع سے پی ڈی پی لیڈر فاروق احمد ڈار اور اُن کے ساتھی مختار احمد، شہزاد احمد، عبدالحمید، معراج احمد وانی، مشتاق احمد وانی، نذیر احمد وانی، مشتاق احمد وازہ ، فیاض احمد ڈار اور محمد یوسف  نے شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر غلام حسن میر نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کا حصہ بن رہے ہیں، جوبقول ان کے جموں وکشمیر میں واحد سیاسی پلیٹ فارم ہے جوصداقت پر مبنی سیاست یقین رکھتا ہے۔ الطاف بخاری نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ اُس کی پارٹی کا اصل مقصد عوامی خدمت ہے، ہم سب یہاں بغیر کس عہدے کی لالچ میں لوگوں کی خدمت کے لئے ہیں، مجھے اُمید ہے کہ غلام حسن میر کی شمولیت سے جنوبی کشمیر خاص کر شوپیان ضلع میں پارٹی مضبوط ہوگی۔
 
 
 

مولانا قلبِ صادق کے اِنتقال پر تعزیت | لیفٹیننٹ گورنر، شرعی شیعیان اور پیروان ولایت کا خراج عقیدت

جموں// بزرگ شیعہ عالم دین مولانا قلب صادق کے انتقال پر اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا ، انجمن شرعی شیعیان اور پیروان ولایت نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مولانا، جو آل اِنڈیا مسلم پرسنل لأ بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے نائب صدر بھی تھے کے اچانک اِنتقال پر بہت دُکھ ہوا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وہ ایک معروف اِسلامی سکالر ، ممتاز ماہر تعلیم ، مبلغ ،فرقہ وارانہ اتحاد اور ترقی پسند سوچ کے داعی تھے۔اپنے پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے مرحوم کی روح کے اَبدی سکون کیلئے دعا کی اور سوگوار کنبے کے ساتھ ہمدردی او ریکجہتی کا اِظہار کیا ہے۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان اور پیروان ولایت نے لکھنو کے بزرگ عالم دین و معروف خطیب مولانا سید کلب صادق نقوی کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے صدرآغا سید حسن الموسوی نے سوگوار خانوادے بالخصوص مرحوم کے پسماندگان سے تعزیت کی۔انہوںنے مرحوم کی دینی خدمات، علمی صلاحیتوں اور اوصاف حمیدہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلب صادق اپنے مخصوص اور دلنشین انداز خطابت کے حوالے سے ایک منفرد عالم دین تھے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی دینی خدمات اور مسلمانان ہند کے حقوق کی باز یابی کی کا وشوں میں صرف کی۔ادھرپیروان ولایت کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولاناکی رحلت ایک بہت بڑا نقصان ہے۔انہوں نے غمزدہ کنبے سے تعزیت کا اظار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی۔